Translater

08 اگست 2015

قصاب کے بعد پھر ایک زندہ آتنکی گرفت میں!

ممبئی بم دھماکوں کے گناہگار اجمل عامر قصاب کو دبوچنے کے 7 سال بعد جموں کے اودھمپور میں آتنکی نوید عثمان عرف قاسم خان کے زندہ پکڑے جانے سے بھارت کے ہاتھ پاکستان کو باہمی اور بین الاقوامی محاذ پر بے نقاب کرنے کا ایک برا ہتھیار مل گیا ہے یہ آتنک واد کو کرارا جواب ہے۔ پہلی بار ہے جب سکیورٹی فورس کے بجائے عام لوگوں نے ہی اس آتنکی کو زندہ پکڑ لیا۔ قصاب کے بعد یہ دوسرا موقعہ ہے جب سرحد پار سے آئے کسی آتنک وادی کو زندہ پکڑا گیا ہے۔ بدھوار کی صبح ساڑھے دس بجے جموں وکشمیر نیشنل ہائیوے پر دو آتنک وادیوں نے جی ایس ایف پر حملہ بول دیا، کچھ ہی دیر پہلے یہاں سے امرناتھ یاتریوں کا جتھہ گزرنے والا تھا۔ حملے میں دو جوان شہید ہوئے اور11 زخمی ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں محسن عرف نعمان نام کا آتنکوادی مارا گیا۔ اس نے پاس کے گاؤں کے پانچ لوگوںیرغمال بنا لیا تھا بعد میں انہی میں سے دو وکرم سنگھ اور اس کے سالے راکیش نے قابل تعریف ہمت دکھاتے ہوئے آتنک وادی کو پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ وکرم سنگھ نے بتایا کہ میں جنگل میں گھوم رہا تھا تبھی دیکھا ایک آتنک وادی تین لوگوں کو یرغمال بنا کر لے جارہا ہے۔ اس نے مجھے دیکھ کر فائرنگ کی پھر مجھے بھی ساتھ لے گیا۔ فائرنگ کی آواز سن میرا سالہ راکیش بھی آگیا۔ آتنکی نے کہا تو بھی چل، وہ ہمیں جنگل کی طرف لے گیا۔ وہ کہہ رہاتھا کہ بھاگنے کا راستہ بتا دوگے تو ماروں گا نہیں۔ وہ پنجابی اردو بول رہا تھا۔ موقعے کا فائدہ اٹھا کر تین یرغمال بھاگ گئے ہم کافی ڈرے ہوئے تھے۔ تبھی پولیس آتی دیکھی تو اس نے ہم دونوں پر بندوق تان لی۔ ہم نے سوچ لیا مرنا تو ہے ہی کیوں نہ اسے مار کرمریں۔ میں نے آتنکوادی کی بندوق کے ٹرائیگر میں انگلی پھنسادی تاکہ وہ فائر نہ کرسکے۔ میرے سالے نے اس کی گردن پکڑ لی۔ قاسم ہمارے پیر اور چہرے پر مکے مارنے لگا۔ ہم نے اس کی گردن اور ٹانگیں پکڑ لیں تبھی اس نے مجھے بری طرح دانتوں سے کاٹ لیا لیکن وہ قبضے میں پھنس گیا تھا۔ پھر گڑ گڑانے لگا۔ اتنے میں ہم نے پولیس والوں کو دیکھا اور چلانے لگے۔ ہم نے اس کو پھر پولیس کے حوالے کردیا۔ اس آتنک وادی نوید عثمان عرف قاسم خاں یا جو کچھ بھی اس کا نام ہو ، کی گرفتاری بھارت کی بڑی حکمت عملی کی کامیابی اس معنی میں ہے کیونکہ اس سے ایک بار پھر یہ سچ دنیا کے سامنے آگیا ہے کہ منظم طریقے سے آتنکی حملوں کے ذریعے بھارت کو مسلسل نشانہ بنانے کے پیچھے پاکستان ہی ہے۔ 2008ء میں زندہ پکڑے گئے اجمل قصاب کے بعد قاسم دوسرا زندہ شخص پکڑا گیا آتنکی ہے جو پاکستان کی کالی کرتوت کو دنیا کے سامنے لانے میں سچائی کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یوں تو پاکستان اتنا بے شرم ملک ہے کہ وہ نوید عرف عثمان کے پاکستانی ہونے سے بھی انکار کردے گا۔ خیال رہے کہ کارگل جنگل کر اس نے اپنے فوجیوں کی لاشیں لینے اور پہچاننے سے بھی منع کردیا تھا۔ اسی طرح 24 گھنٹے سرحد سے گھس پیٹھ کرانے کے فراق میں مارے جانے والے دراندازوں کو بھی اپنا ماننے اور لاش لینے سے انکار کرتا رہا ہے لیکن اب جب عثمان عرف قاسم کھل کر اپنے پاکستانی ہونے کی تصدیق کررہا ہے تو بھارت کو پختہ پوچھ تاچھ کے بعدمضبوط دلائل کے ساتھ پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارت سرکار کی تمام کوششوں کے باوجود پاکستان ایسی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ جیسے اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ ان حالات میں مناسب نہیں ہوگا کہ بھارت اس سوال کا کوئی ٹھوس جواب تلاش کرے کہ اگر پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تو بھارت اس سے کیسے نمٹے گا؟ وقت آگیا ہے کہ بھارت آتنک وادی حملوں سے بچنے کے لئے اقدام کے ساتھ ساتھ پاکستان کو قابو میں کرنے کے متبادل پر سنجیدگی سے غور کرے اور دوستی کا ہاتھ آگے نہ بڑھائے۔
(انل نریندر)

جناب آپ چائنیز گول گپے کھا رہے ہیں!

اکثر یہ اشو اٹھتا ہے کہ بھارت میں چین کے ذریعے تیار چیزوں کی سپلائی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ ایسا کوئی علاقہ نہیں بچا جہاں چینی مال ہمارے بازاروں میں نہیں دکھائی دیتا ہو۔ مجھے حیرانی اس وقت ہوئی جب میڈیا میں ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ آپ چائنیز گول گپے بھی کھا رہے ہیں۔ جناب گول گپا،پانی پوری کا نام آتے ہی کسی بھی ہندوستانی کے منہ میں پانی آجاتا ہے۔ حال ہی میں آئی فلم ’کوئن‘ میں بھی اسے دکھایا گیا ہے کہ جب ہندوستانی لڑکی اپنی دوکان یوروپ میں لگاتی ہے تو ایک انگریزی سے دوستی ہونے کی بات کہہ کر گول گپا کھلانے والے کو چاٹا مار دیتا ہے حالانکہ بعد میں وہ خود اسے کھانے پہنچ جاتا ہے۔ بھلے ہی باہر کے دیشوں میں گولہ گپا انجان ہو لیکن چین نے کئی چیزوں کی طرح بھارت کے اس روایتی کھانے پینے کے بازار کو چاول کے آٹے کے گول گپے کے ذریعے قبضانے میں بھی کچھ کامیاب کرلی ہے۔چائنیز گولہ گپا 140 روپے فی کلو کے حساب سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ صدر بازار ہو یا دہلی و این سی آر کے کئی علاقوں میں گول گپے کی دوکانیں کھل گئی ہیں۔ان میں سے بہت سے اسے منافع کا سودا مان کر بیچنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ جن گول گپے بیچنے والوں کا بڑا نام ہے وہ ابھی اپنے گول گپوں کے ساتھ ملا کر یا اسے بیچنے سے بالکل بچ رہے ہیں۔ نئی دہلی میں گول گپے کی ریڑی لگانے والے کے مطابق ایک کلو میں400 چائنیز گول گپے بنتے ہیں۔ اسے تولنے کے بعد فی گول گپا قریب30سے35 پیسے کا پڑتا ہے جبکہ خود کا تیار کیاگول گپے کی قیمت40 سے50 پیسے آتی ہے اور محنت الگ۔ ہم 20 روپے کے 8 گول گپے کھلا رہے ہیں۔ ہمارا اپنا ذائقہ گراہکوں کو ملتا رہے اس لئے ہم اپنے گول گپوں میں چائنیز گول گپے ملا کر کھلاتے ہیں۔ ادھر اسمارٹ فون کے دیوانے گراہوں کو سستے اور ڈولپ تکنیک پر مبنی اسمارٹ فون کی دستیابی میں بھی چینی کمپنیاں پیچھے نہیں ہیں۔کنسلٹنٹ کمپنی کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق روانہ برس کی دوسری سہ ماہی میں اپنی مضبوط ڈلیوری سروس کے سہارے ہی چین کی کمپنی ہوہوائی 3 کروڑ 5 لاکھ اسمارٹ فون بیچ کر مائیکروسافٹ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی بار دنیا کی تیسری سب سے بڑی کمپنی بن گئی ہے۔اس دوران اس کی عالمگیر فروخت سال2014 کی دوسری سہ ماہی میں2 کروڑ 6 لاکھ کے مقابلے 48.1 فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کی مانیں تو شاندار لک اور فیچر کے ساتھ ہی 10 ہزار روپے (150 ڈالر) سے کم کے اسمارٹ فون اتار کر چین کی ہوہوائی، شیومی، جیٹ ٹی ای اور لینیوی جیسے موبائل فون بنانے والی کمپنیاں پہلے ہی دھمال مچا چکی ہیں۔
(انل نریندر)

07 اگست 2015

Sensational disclosure by Tariq Khosa

The entire world knows the role of Pakistan behind the terrorist attack of 26th November 2008 in Mumbai but whenever India raised this issue Pakistan had denied it. Despite all evidences Pakistan has tried to belie India, clearly denying it shamelessly. But now a senior most officer of Pakistan has himself confessed that Pak itself was the mastermind of 26/11 attacks. Retired DG of Pakistani Intelligence Agency FIA Tariq Khosa has himself exposed the role of Pakistan. Khosa has clearly said that Pakistan should confess its fault in this massacre. Blaming his own government, former Director General of Pakistani Federal Agency (FIA) and investigator in Mumbai attacks Tariq Khosa has made serious attacks on its intentions. Khosa wrote that Pakistan anyway should admit that it committed a mistake to send Pakistani terrorists to Mumbai via sea route. So it is essential to face the truth and admit own mistake. Khosa told that the entire security system of the country should ensure that the persons executing this gruesome terrorist attack and framing conspiracy should be brought before the law. He wrote that the case hanging strategy of defence, frequently changing of judges and the murder of the prosecutor of the case and changing statements by some main witnesses have proved to be a serious shock for the prosecution. This disclosure bears some facts. Ajmal Kasab was a Pak citizen having proofs of his living place, initial studies and his involvement in a banned terrorist organization. Terrorists of Lashar-e-Taiba were trained near Katta in Sind and they were sent by sea route. Investigators had identified and discovered the training camp. Covers of explosive items were recovered from this training camp and were also matched. Tariq Khosa has submitted the seven proofs in such way that Pakistan is not in a state to defend itself. He has not only exposed Pakistan but also the strings approach in Mumbai attacks hearing and made it clear that it is being done intentionally. Though he has preached the Pakistan Government to admit its mistakes alongwith facing the truth and ensure to punish the conspirators of Mumbai attacks but we do not feel Pakistan would change its attitude and it will deny the statement of Tariq Khosa with addled excuses. But surely it happened that Khosa has exposed Pakistan and the difference of sayings and doings of Pakistan. We salute the honesty of Tariq Khosa.

- Anil Narendra

04 اگست 2015

تعطل دور کرنے کیلئے ’’نو ورک نو پے‘‘ اصول نافذ کرنا چاہئے

پارلیمنٹ کے دو سیشن ہنگامے کی نظر ہوچکے ہیں اور آگے بھی پارلیمنٹ کے چلنے کا امکان کم ہی دکھائی پڑ رہا ہے۔جاری تعطل کو دور کرنے کے مقصد سے ایک بار پھر آل پارٹی میٹنگ بلائی گئی تھی لیکن میٹنگ سے پہلے ہی کانگریس اور بھاجپا میں تلخ زبانی کے تیر چلنے شروع ہوگئے تھے۔ کانگریس اپنے پرانے موقف پر اٹل ہے کہ جب تک مودی سرکار سشما سوراج ،وسندھرا راجے اور شیو راج سنگھ چوہان کے استعفوں پر کوئی ٹھوس ریزولیوشن سامنے نہیں لاتے تب تک کانگریس مود سرکار سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔ اس پر کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے ایتوار کو کہا کہ استعفے پر اڑیل رہ کر کانگریس اپنے ہی بنے جال میں پھنس گئی ہے۔ اس صورت سے سنمان جنک طریقے سے نکلنے کیلئے اس کے لئے یہ ہی راستہ ہوگا کہ وہ للت مودی معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لئے راضی ہوجائے۔ مرکزی وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے کانگریس پر جی ایس ٹی بل کو پاس ہونے سے روکنے میں اڑچن ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس لیڈر آنند شرما نے کہا کہ وزیر خزانہ اور بی جے پی لیڈروں کے بیانوں سے صاف ہے کہ سرکار پارلیمنٹ میں تعطل دور کرنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ کانگریسی ان کی جوترادتیہ سندھیا نے بھی دوہرایا کہ جب تک ملزم بی جے پی لیڈروں کے استعفے نہیں ہوجاتے تب تک کانگریس کسی بحث میں حصہ نہیں لے گی۔ جنتا اپنی گاڑھی کمائی سے اپنے عوامی نمائندوں کو پارلیمنٹ ٹھپ کرنے کیلئے نہیں چنتی ایک منٹ کی پارلیمنٹ کی کارروائی پر قریب ڈھائی لاکھ روپے خرچ آتے ہیں اس طرح کروڑوں روپے برباد ہوچکے ہیں۔ اس دوران پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان مرکزی وزیر مہیش شرما نے تجویز رکھی ہے کہ ممبر پارلیمنٹ کیلئے کام نہیں تو تنخواہ نہیں کی پالیسی نافذ ہونی چاہئے۔ جیسے افسروں کے سلسلے میں نافذ ہوتی ہے۔وزیر سیاحت و ثقافت مہیش شرما نے بنارس میں اخبار نویسوں سے کہا کہ سرکار کے سینئر وزیر اپوزیشن کے رابطے میں ہیں اور کام کاج کو ٹھیک ڈھنگ سے چلانے کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں کام کاج میں رخنہ ہونے کے پیش نظر ممبران کیلئے’ کام نہیں تو تنخواہ نہیں‘ سے متعلق کسی تجویز پر غور کررہی ہے۔ کیونکہ جنتا کا پیسہ برباد ہورہا ہے۔ قابل ذکر ہے 21 جولائی سے شروع پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران کارروائی ٹھیک ٹھاک طور سے نہیں چل رہی ہے۔ لگتا ہے تعطل دور کرنے کیلئے اب خود وزیر اعظم کو پہل کرنی ہوگی۔ کوئی تو راستہ نکالنا ہوگا۔ کانگریس اپنی مانگ پر اتنی بری طرح سے اڑی ہوئی ہے کہ اس کا پیچھے ہٹنا مشکل لگتا ہے اور سرکار استعفیٰ نہیں دلا سکتی، محض الزامات پر اس لئے کوئی بیچ کا راستہ ایسا نکالنا ہوگا جس سے دونوں فریقین کی بات رہ جائے اور یہ کام اب صرف پی ایم مودی ہی کرسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

بڑھتی آبروریزی کی جھوٹی شکایتیں

پچھلے دو برسوں سے دیش میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کے تئیں جہاں اہمیت کی حامل حساسیت دیکھی جارہی ہے وہیں دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ خواتین اس حساسیت کا بیجا استعمال کرنے میں لگی ہیں۔ بیشک دیش میں خواتین کے تئیں آبروریزی کے واقعات پہلے کے مقابلے بہت زیادہ درج ہوئے ہیں،وہیں یہ بھی صحیح ہے کہ آبروریزی کے بہت سارے واقعات جانچ کے بعد فرضی پائے جارہے ہیں۔ دہلی خاتون کمیشن نے اپنی جانچ پڑتال میں اپریل 2013 سے جولائی 2014 تک آئی آبروریزی کی کل شکایات2757 میں سے 1466 شکایتوں کو جھوٹا پایاگیا۔ان معلومات سے لگتا ہے سماج میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو جنسی استحصال انسداد قانون کی سختی کا بیجا استعمال کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ کچھ دن پہلے سرو نیم پٹی پولیس کو خبر ملی گرلز ہاسٹل کے ایک کمرے میں 22 سال کی ایک لڑکی کے ساتھ دو لڑکوں نے آبروریزی کی ہے۔ لڑکی سے پوچھ تاچھ میں اس نے بتایا کہ خاندان کو ہونے والی شرمندگی کے سبب اس نے پولیس میں واردات کے بارے میں شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ یہاں تک کہ اس نے پولیس کو دھمکی بھی دی کہ اگر انہوں نے شکایت درج کی تووہ خودکشی کرلے گی۔ پولیس کی جانچ میں سامنے آیا کہ ایک14 سال کی عمر سے ہی لڑکی کا اس لڑکے سے پیار محبت کا رشتہ تھا جس کے ذریعے آبروریزی کرنے کا الزام لڑکی نے لگایا تھا۔ پولیس افسران کے ذریعے معاملے کی سنجیدگی کے بارے میں آگاہ کئے جانے پر لڑکی نے قبول کیا کہ اس نے آبروریزی کی جھوٹی کہانی بنائی تھی۔ اس نے پولیس کو اپنے پیار محبت کے رشتے کے بارے میں بھی بتایا۔ یہ معاملہ پوسا روڈ کا ہے۔ پولیس نے افسران کے مطابق بین برادری شادی ہونے کے سبب لڑکی کے والدین لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کرنے کو تیار نہیں تھے۔ لڑکی نے شادی سے بچنے کیلئے آبروریزی کا ڈرامہ کیا۔ زیادہ تر فرضی شکایتیں یا تو بدلہ لینے کی نیت سے یا پھر بلیک میلنگ کے مقصد سے کی جاتی ہیں۔ ان میں سے کئی شکایتیں لیو ان ریلیشن ٹوٹنے پر لڑکی کی طرف سے درج کرائی گئی ہیں جبکہ باقی میں پیسہ اینٹھنا مقصد ہے۔نربھیہ کانڈ کے بعد ایسا ماحول بن گیا ہے کہ کسی بھی خاتون کے ذریعے اس طرح کے بیان کو آخری سچائی مان لیا جاتا ہے اور مبینہ ملزم کو گرفتار کر اس کے خلاف چارج شیٹ دائر کردی جاتی ہے۔ اس کے چلتے جنسی استحصال کے جھوٹے معاملوں کا سیلاب سا آگیا ہے لیکن مہلا کمیشن کی رپورٹ کے بعد اگر کوئی اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ آبروریزی کے کافی معاملے جھوٹے ہوتے ہیں تو اسے اس کی مرد وادی فطرت سمجھی جانی چاہئے۔ ظاہر ہے فرضی معاملوں کا کچھ انتظام ضرور کرنا ہوگا لیکن جنسی استحصال کے سوال پر آ رہی بیداری میں بلی ہرگز نہیں دی جانی چاہئے۔
(انل نریندر)

03 اگست 2015

Being a traitor, Yakub was really entitled to capital punishment

Facts given in the pros and cons of the hanging of Yakub Memon have forced the secular society of the country to think whether the terrorism and treason will now be included in the game of dirty politics? If the opponents of hanging oppose this on this pretext that the capital punishment should be abolished from the country, the issue could be debated but if the base of the debate is that the culprit belongs to a particular religion and therefore is being targeted, it’s absolutely wrong. Yakub Memon was a terrorist. Had his companions involved in 1993 bomb blasts seen the religions of the deceased persons while causing blasts? Yakub Memon was given legally as much chances as were not given to any other terrorist. The Supreme Court also held its hearing at midnight lest anyone could say that the accused was denied any justice.  The Supreme Court delivered its 792 pages judgement in the case on 21st March 2013. Out of these 792 pages, about 300 pages were on Yakub Memon and his involvement in these bomb blasts. The hon’ble court even said that Yakub Memon is the master mind and fully involved in this conspiracy. He hid the RDX used for first time in India. He sent money to Tiger Memon, Dawood Ibrahim and ISI through hawala. He sent 15 people to Dubai for being trained to plant bombs. On their return, he bought old vehicles to plant bombs and even decided in which places of Mumbai these were be parked. Yakub arranged the passport and visa for the people sent to Dubai. It can be debated that the capital punishment in the country should be abolished or not but nobody believes that Yakub was innocent. The 40 so called intellectuals and fake secularists pleading for life imprisonment for Yakub also believed that Yakub is guilty but is being over punished and he should be awarded life imprisonment instead of capital punishment for his offences. They also believe that Yakub is a culprit, guilty. It is also pleaded that Yakub was brought to Delhi by Indian intelligence agency RAW under an agreement. Late Raman is being referred that he narrated in an article that Memon had surrendered and he was brought on an assurance that you’ll not be given capital punishment. As per an NDTV report Yakub Memon was fed up with living in Pakistan and so he had come to Kathmandu to meet his lawyer and explore if he could return to India and can there be any compromise with the Government of India? His lawyer forbade him doing so and told you’re safe in Pakistan and can’t come back to India. Yakub was returning to Karachi while Nepalese Police arrested him and later handed him over to India. Yakub Memon neither surrendered nor had the Government of India a deal with him. The plea is wrong that he was betrayed. Late Raman himself was the secular most officer. He died of cancer. Yakub Memon was the most educated in the family. He was a chartered accountant. While Yakub was trying to raise the living standard of the family after studies, his elder brother Ibrahim Memon alias Tiger Memon was linking with the mafia leader Dawood Ibrahim. Memon family had shifted to Dubai before the Mumbai blasts and later on shifted to Pakistan. Yakub was fed up with Pakistan and he wanted to come back just after 18 months. He was arrested by CBI at Delhi Railway Station on 5th August 1994. Had there been any agreement with the Government of India, he would have been made an approver (Government witness). Why did not Dawood Ibrahim, Tiger Memon and ISI take any step in favour of Yakub within last 20 years? May be the conspiracy of Mumbai bomb blasts on 12th March 1993 was prepared by the Tiger Memon, Dawood Ibrahim and ISI but Yakub Memon had the main role in it. He himself supplied ammunition, weapons, detonators etc. to others involved in the blasts and collected Rs. 21.90 lakhs from people for blasts. Who and where was fully planned by Yakub Memon and after deciding he alongwith the family fled to Karachi. We want to ask such so called secularists had such type of incident occurred in Saudi Arabia or any other Arab countries he would have been beheaded 22 years ago. The law of our country is flexible and therefore India is becoming a pasture for terrorism. A human being is identified by his acts not by his religion. If you live like Kalam the nation will respect you with heart, if you try to be Yakub you will be called a traitor. Live like Kalam and the nation will salute you.

 

02 اگست 2015

''بجرنگی بھائی جان" اور پاکستانی عوام

ویروار کو ای ٹی وی (اردو) چینل پر ایک مباحثہ میں میں نے حصہ لیا۔مدعا تھا بجرنگی بھائی جان و بھارت ۔ پاک دوستی۔مباحثے میں میں نے کہا کہ مجھے بجرنگی بھائی جان بہت اچھی لگی۔ میری رائے میں یہ سلمان خان کی سب سے اچھی فلم ہے۔ اس سے پہلے مجھے ’ایک تھا ٹائیگر ‘ بھی بہت اچھی لگی تھی۔اس فلم میں کئی باتیں ہیں جو تمام جنتا کو بہت پسند آئی ہیں تبھی تو فلم 400 کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کرنے جارہی ہے۔ حالانکہ بھارت۔ پاک رشتے ہمیشہ ایک بہت ہی مشکل موضوع ہوتا ہے پر جس خوبصورتی سے فلم کے ڈائریکٹر نے دونوں دیشوں کے عوام کی سوچ کو دکھایا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ فلم میں دونوں کو قریب لانے کی کوشش کی گئی ہے، کوئی کڑواہٹ نہیں ہونے دی۔ یہ ایسی فلم ہے جس میں سلمان خان نے اپنی قمیص اتار کر ہیروئن کے ساتھ ناچ گانا نہیں کیا ۔ بڑی میچیور ایکٹنگ کی ہے سلمان نے۔ نواز الدین صدیقی نے تو کمال کی ایکٹنگ کی ہے۔ یہ سلمان کا بڑپّن ہے کہ انہوں نے نواز الدین کا رول کاٹا نہیں اور انہیں اپنا پورا جوہر دکھانے کا موقعہ دیا۔ 6 سال کی گونگی لڑکی شاہدہ نے بھی بہت اچھی ایکٹنگ کی ہے۔یہ فلم بجرنگ بلی کے بھکت پون کمار چترویدی (سلمان) کی کہانی ہے جو 6 سال کی گونگی پاکستانی بچی کو اس کے گاؤں تک بحفاظت پہنچانے کے لئے بھارت سے پاکستان آتا ہے۔اس فلم کے پاکستان میں ریلیز ہونے پر بہت تنازعہ تھا۔ کٹر پنتھی مولویوں نے فلم کی ریلیز پر بہت اعتراض کیا تھا۔ پر سینسر بورڈ نے فلم دیکھ کر کہا کہ فلم میں کچھ بھی اعتراض والی بات نہیں ہے اور اسے ریلیز کی اجازت دے دی۔ ’بجرنگی بھائی جان‘ کا خمار پاکستان کے درشکوں پر کچھ اس طرح چھایا ہے کہ فلم کی نمائش کے 10 دن بعد بھی لوگوں کی بھیڑ اسے دیکھنے کے لئے امڑ رہی ہے۔ فلم میں بھارت۔ پاک کے لئے مثبت پیغام کی بدولت سلمان خان کی اس فلم کو شاندار رد عمل ملا ہے۔سنیما گھروں کے مالکوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے فلم دیکھنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کو نم آنکھوں کے ساتھ سنیما گھروں سے نکلتے دیکھا ہے۔ لاہور کے سنے اسٹار سنیما کے شہرام رضا نے کہا میں پچھلے 7 سالوں میں سنیماکے اس کاروبار میں ہوں لیکن میں نے کبھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو آنکھوں میں آنسو لئے ہال سے باہر آتے نہیں دیکھا۔’بجرنگی بھائی جان‘ کے ہر شو کے بعد یہاں میں نے ایسا دیکھا ہے۔ ٹکٹ کے کاؤنٹر پر کام کرنے والے رضا کہتے ہیں کہ لوگ بجرنگی بھائی جان کی ٹکٹیں خریدتے ہوئے بہت پر جوش دکھائی دیتے ہیں۔دوسری فلموں میں لوگ زور زور سے باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن ’بجرنگی بھائی جان‘میں تھیٹر سے باہر نکلتے نم آنکھوں سے سنجیدہ چہرہ لئے باہر نکلتے ہیں۔رضا بتاتے ہیں کہ فلم کی جذباتی کہانی کی وجہ سے لوگ اس فلم سے جڑاؤ محسوس کرتے ہیں۔ کچھ نوجوانوں نے فلم دو تین بار دیکھ لی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ شاید پہلی ایسی بھارتیہ فلم ہے جس میں پاکستان کو مثبت طور سے دکھایا گیا ہے۔ ایک درشک مومینہ رانا کہتی ہیں کہ وہ بالی ووڈ کے فلم کاروں کی سوچ میں آئے اس بدلاؤ کو دیکھ کر خوش ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں کی ہی عام جنتا امن پسند ہے اس لئے اس فلم کو یہاں اور بھارت دونوں ہی جگہ اتنی زیادہ سراہنا ملی ہے۔سچ کا سہارا لیکر اپنی منزل تک پہنچنے کا راستہ فلم دکھاتی ہے۔ کبیر خان کے ذریعے ہدایت کی گئی ’بجرنگی بھائی جان‘ فلم کریٹکس اور درشکوں دونوں کو پسند آئی ہے۔ فلم کی جذباتی کہانی کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام تک آپسی تعلقات سدھارنے کا مثبت پیغام بھی دیاگیا ہے۔ اگر آپ نے فلم نہیں دیکھی تو ضرور دیکھئے۔ یہ مس کرنے والی نہیں ہے۔
(انل نریندر)

دہلی کی یہ جان لیوا آب و ہوا

دہلی میں پالوشن کا زہر دنوں دن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ حال ہی میں یہ معاملہ سنسد میں بھی اٹھاتھا جب انٹرنیشنل اسٹڈی کا حوالہ دیکر کہا گیا کہ راجدھانی میں روزانہ اوسطاً 80 اموت کے پیچھے کہیں نہ کہیں پردوشن ہی ذمہ دار ہے۔ یہی نہیں لمبے وقت تک پردوشن کے تعلق میں رہنے سے ڈی این اے تک میں بدلاؤ ہورہے ہیں۔ جس سے بچے کئی بیماریوں یا جسمانی گڑبڑیوں کے شکار ہورہے ہیں۔ دہلی والوں کی امیونٹی کمزور ہوئی ہے۔ پری میچیور ڈیتھ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ راجدھانی کی اس بگڑتی آب و ہوا کے تئیں دہلی ہائی کورٹ کی فکر بالکل مناسب ہے۔ عدالت نے زیادہ سے زیادہ پیڑ لگانے کی ہدایت دے کر دہلی واسیوں کو پیڑوں کی اہمیت بتائی ہے۔ساتھ ہی غیر مستقل عمارتوں کی وجہ سے ہو رہے پردوشن کے تئیں ہائی کورٹ کی فکرواجب ہے۔شہر میں بڑھ رہی گاڑیاں تو بڑھتے پردوشن کی وجہ ہیں ہی ایسے میں ان صنعتوں کا بھی بڑا حصہ ہے جو بنا مانیٹرنگ کے چل رہی ہیں۔ دہلی این سی آر میں ایسے چھوٹے بڑے یونٹوں کی تعداد2500 تک ہو سکتی ہے۔ صنعتی کچرا اور خراب سینیٹیشن بھی پردوشن کی وجہ ہے۔دہلی کے ہر علاقے میں تعمیری کام گذشتہ کچھ سال سے تیزی سے بڑھا ہے اس سے نکلنے والی دھول مٹی بھی ہوا میں زہر گھول رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ ایسی صنعتی یونٹوں کے پاس رہتے ہیں انہیں خطرہ زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پردوشن کے سمپرک میں لمبے وقت تک رہنے سے حاملہ خواتین و بچوں پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔پردوشت زرے خون میں گھل کر آکسیجن کا لیول کم کردیتے ہیں اس سے حمل میں پل رہے بچے کو بھی مناسب مقدار میں آکسیجن و تغذیہ بخش مادہ نہیں مل پاتا۔اس سے انہیں کئی طرح کی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ صرف عدالتوں اور سرکار ہی ماحول کو لیکر چنتا کیوں کرے؟ کیا دہلی واسیوں کی اپنے شہر کے تئیں کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟ کیا انہیں اپنے شہر کی آب و ہوا بہتر کرنے کے لئے کچھ کوشش نہیں کرنی چاہئے؟ حالانکہ دعوی یہ کیا جاتا ہے کہ ہر سال لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگلی علاقہ کم ہوتا جارہا ہے۔ ہم پودے لگاتے ضرور ہیں لیکن انہیں بچائے رکھنے کی کوشش قطعی نہیں کرتے۔ صرف پودے لگانے سے کام نہیں چلے گا جب تک دہلی واسی پردوشن گھٹانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے حالات بدلنے والے نہیں ہیں۔ دہلی واسیوں میں بڑھتے پردوشن کے تئیں بیداری پیدا کرنی ہوگی۔ جگہ جگہ ہوا کا معیار ناپا جانا چاہئے۔سبھی اگر سنجیدگی سے پردوشن روکنے کی کوشش کرتے ہیں تبھی دہلی کی آب و ہوا سدھرے گی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...