Translater
20 دسمبر 2025
قومی صدر کی جگہ کارگزار صدر!
بھارتیہ جنتا پارٹی نے پٹنہ کی بانکی پور سیٹ سےممبر اسمبلی اور بہار کے وزیر نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نیا کارگزار صدر مقرر کر سب کو حیران کر دیا ہے ۔شاید ہی کسی نے امید کی ہو کہ نوین بابو کو اتنا اہم ترین عہدہ دیا جائے گا ۔پچھلے کئی ماہ سے یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ بی جے پی اپنا نیا صدر چننے والی ہے کیوں کہ شری نڈا کی میعاد بہت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی ۔اور وہ توسیع میعاد پر چل رہے تھے۔نتن نوین بھاجپا کی تاریخ میں جے پی نڈا کےبعد دوسرے نگراں صدر ہوں گے ۔پارٹی کے آئین میں نگراں صدر کا کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں ہے لیکن سال 2019 کے بعد بی جے پی میں فل فلیج صدر مقرر کرنے سے پہلے نگراں صدر تقرر کرنے کی ایک روایت شروع ہوئی ہے ۔بی جے پی میں صدر کے عہدے کے لئے چناؤ کب ہوگا ابھی صاف نہیں ہے لیکن میڈیا کی رپورٹس میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کے حوالے سے دعویٰ کیاجارہا ہے کہ اگلے سال جنوری میں یہ خانہ پوری کی جاسکتی ہے ۔موجودہ بھاجپا صدر جے پی نڈا کی میعاد جنوری تک ہی ہے ۔ایسے میں یہ سوال اٹھ رہے تھے کہ جب کچھ دنوں بعد قومی صدر کی تقرری ہونی ہے تو پارٹی نے نگراں صدر کیوں مقرر کیا ہے ؟ اس کا کوئی صاف جواب تو نہیں ہے لیکن یہ ماناجارہا ہے کہ پارٹی اپنے آئین کے حساب سے ہونے والے قومی صدر کےچناؤ کو اتفاق رائے اور بلامقابلہ طور پر چاہتی ہے۔سینئر صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ بی جے پی جنوری میں قومی صدر کے چناؤ کی کاروائی شروع کرے گی ۔پارٹی میں رسمی خانہ پوری ہے ایسے میں تو کوئی چناؤ نہیں ہورہا ہے لیکن نامزدگی تاریخ ، چناؤ تاریخ میں خانہ پوری کی کاروائیاں ہوتی ہیں۔پارٹی کو انہیں کرنا ہوتا ہے وہیں سینئر صحافی ونود شرما کے مطابق نگراں صدر اعلان کربی جے پی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ نتن نوین ہی اگلے نئے صدر ہوں گے ۔بی جے پی میں صدر چننے کا ایک لمبا پروسیس ہے۔بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ نے نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نگراں نامزد کیا ہے ۔26 سال کی عمر میں پہلی بار ممبر اسمبلی بنے جانے کے بعد نتن نوین پانچ بار مسلسل ممبر اسمبلی چلے آرہے ہیںاور بی جے پی کے پہلے نگراں صدر ہوں گے ۔45 سالہ نتن نوین کا بھاجپا کا کارگزار صدر بن جانا ضرور حیران کررہا ہے ۔لیکن تجزیہ نگار اس سے حیران نہیں ہے ۔بہار چناؤ کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے نتن نوین سے دو گھنٹے بات چیت کی تھی ۔نتن نوین پارٹی کے چھتیس گڑھ اسمبلی چناؤ کے انچار ج تھے اور بی جے پی نے یہ چنا ؤ بھاری اکثریت سے جیتا تھا یعنی نتن نوین اپنی تنظیمی صلاحیت پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں ۔سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا نتن نوین کی تقرری کے پیچھے کوئی خاص وجہ یا پارتی کی کوئی خاص حکمت عملی ہے ؟ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ پارٹی میں یہ تبدیلی کا دور ہے اور وقت کی ضرورت کےحساب سے اٹھایا گیا قدم ہے ۔وجے ترویدی اور ونود شرما دونوں ہی مانتے ہیں کہ پارٹی جنریشن چینج یعنی پیڑ ی میں تبدیلی سے گزررہی ہے ۔پارٹی میں پرانی پیڑی کے لیڈروں کی جگہ نئے نیتاؤں کو آگے بڑھایاجارہا ہے ۔راجستھان ،ہریانہ ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گرھ میں وزیراعلیٰ کی شکل میں پرانے لیڈروں کو ہٹانا اور نئے چہروں کو لانا پارٹی کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے اور نتن نوین کا نگراں صدر بنایاجاناکہیں نرالا قدم ہے ۔پارٹی لیڈر نئی لیڈر شپ کو آگے لانا چاہتی ہے اور یہ تقرری بھی اسی سمت میں ہے ۔
وہیں سینئر صحافی ونود شرما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بی جے پی میں ایسے لیڈروں کو آگے لایاجارہا ہے جو کسی بھی طرح سے نریندر مودی یا امت شاہ کے لئے چیلنج نہ پیش کریں ۔ونود شرما کہتے ہیں کہ نتن نوین کی تقرری حیران اس لئے نہیں کررہی ہے کہ سہولت کے حساب سے بنایا گیا ہے ۔کسی ایسے نیتا کومضبوط عہدے پر نہیں لایاجارہا ہے جو آگے چل کر کسی بھی طرح کی سینئر لیڈر شپ کو چنوتی پیش کر سکے ۔شخص ایسا ہونا چاہیے جو بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کو ہی منظور ہو ۔تجزیہ نگار یہ بھی مان رہے ہیں کہ نتن نوین کا نام ان چنندہ لوگوں میں رہا ہوگا جنہیں آر ایس ایس سے بھی منظوری حاصل ہوئی ہے ۔
(انل نریندر)
18 دسمبر 2025
قتل عام کرنے والے باپ -بیٹا!
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اتوار کو جشن منا رہے بانڈی بیچ پر لوگوں پر دو دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ۔اس دوران 40 سالہ احمد الاحمد نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردوں سے لوہا لے لیا اور کئ لوگوں کی جانیںبچائیں ۔ہوا یوں کہ اتوار کو سڈنی کے بانڈی بیچ پر یہودیوں کے ہنووکا تہوار پر بیچ کا مزہ لے رہے تھے ۔ہنوکا یہودیوں کا سالانہ تہوار ہے ۔اس دوران دو بندوقچیوں نے اندھا دھند فائرنگ کرنی شروع کر دی ۔گولیوں کی آوازیں سن کر بیچ پر افرا تفری مچ گئی اور لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔اس اندھا دھند فائرنگ میں بتایا جاتا ہے 16 لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔دہشت گردوں کی نشاندھی ہو چکی ہے ۔اے بی وی پی کی رپورٹ کے مطابق اس دہشت گردانہ واردات کو انجام دینے والے باپ اور بیٹے ہیں جن میں سے ایک کی تو موقع پر موت ہو گئی ۔آسٹریلیا تفتیشی ایجنسیوںنے ملزم کے بیک گراؤنڈ کی جانچ شروع کردی ۔فائرنگ میں شامل والد 50 سالہ کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے ۔سڈنی حملے میں پاکستانی کنکشن سامنے آیا ہے۔آسٹریلیا کی جانچ ایجنسیاں اس واقعہ کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں ۔اور اہم بات یہ بھی ہے کہ حملہ میں شامل بیٹا بیٹے کی پہچان پاکستانی نژاد کی شکل میں ہوئی ہے ۔وہیں امریکی خفیہ ایجنسیوں نے بھی دونوں دہشت گردوں کو پاکستانی شہری بتایا ہے ۔حملہ آور پاکستانی شہری تھے اور سڈنی میں مقیم تھے ۔جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے فائرنگ کے بعد پاس کی ایک سڑک پر ایک کار سے کئی امپروائزڈ ایسکلوزو ڈیوائز یعنی دھماکوں چیزیں برآمد کی گئی ہیں ۔جس میں اندیشہ ہے کہ حملے کی سازش اس سے کافی زیادہ تباہی مچانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کی تھی ۔آسٹریلیائی خفیہ ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک پہلے سے سیکورٹی ایجنسیوں کی نظر میں مشتبہ تھا۔لیکن اسے فوری خطرے کی شکل میں فہرست نہیں کیا گیا تھا ۔ادھر دونوں دہشت گرد گولیاں برسا رہے تھے اُدھر 44 سالہ محمد الاحمد اپن جان کی پرواہ کئے بغیر ہمت دکھاتے ہوئے پیچھے سے آتنکی پر جھپٹ پڑا اور اس سے بندوق چھین لی ۔جس سے کئی لوگوں کو محفوظ نکالنے کا موقع مل گیا۔لوگ اب احمد کو آسٹریلیا کا نیا ہیرو کہہ رہے ہیں ۔احمد جب دہشت گرد سازش سے مڈبھیڑ کرنے جارہا تھا تب ان کے بھائی نے اسے روکا تھا ۔تب انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو پریوار کو بتانا کہ میں لوگوں کی جان بچاتے ہوئے مارا گیا ۔احمد پھل سبزی کی دوکان چلاتا ہے حالانکہ بین الاقوامی سطح پر اس حملے کی مذمت ہوئی ہے ۔آسٹریلیائی سرکار سے لے کر مسلم عرب ممالک کی جانب سے بھی دہشت گرداور تشدد کی سبھی شکلوں کو مسترد کیا گیا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نکتہ چینی اور احتجاج کے باوجود کسی فرقہ سے نفرت کے جذبہ میں ڈوبے لوگوں کو روک پانا ایک مشکل چنوتی ہے یہ فطری ہے کہ اس آتنکی حملے کی عالمی سطح پر مذمت ہوگی اور تعزیتی نظریات و خیالات ظاہر کئے جائیں گے لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے ۔دنیا بھر میں جہادی دہشت گرد ی کا خطرہ جس طرح ابھر رہا ہے اس کا مقابلہ تبھی کیا جاسکتا ہے جب پوری عالمی برادری مل کر اس خطرے کا ایمانداری سے سامنا کرے اور مل کر مقابلہ کرنے کے لئے قدم بڑھائے ۔بانڈی بیچ پر ہوئے حملے نے ایک بار پھر پاکستان کو بے نقاب کردیا ہے ۔دونوں ہی آتنکی پاکستانی نژاد نکلے۔یہ کسی سے چھپہ نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی آتنکی فیکٹری ہے ۔یہاں سال در سال ہزاروں دہشت گرد تیار کئے جاتے ہیں بھارت تو بار بار اس بات کو کہتا رہتا ہے لیکن دنیا ماننے کو تیار نہیں ہے۔پہلگام حملہ بھی اسی طرح کے آتنکیوں نے کیا تھا لیکن دنیا ماننے کو تیارنہیں تھی ۔اب تو آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں حملہ ہوا ہے اب دنیا کو اس پر کیا کہنا ہے ؟
(انل نریندر)
16 دسمبر 2025
چناؤاصلاحات پر بحث !
چناؤ اصلاحات پر سڑک سے پارلیمنٹ تک بحث چھڑی ہوئی ہے۔شاید یہ ضروری بھی تھا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ویسے بھی دیش کو 12 ریاستوں و مرکزی حکمراں پردیشوں میوں ووٹر لسٹوں کی گہری نظر ثانی تیز رفتار سے جاری ہے۔لیکن یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ اتنی تیزی سے اس پر سیاست بھی ہورہی ہے ۔لوک سبھا میں چناؤ اصلاحات کے مسئلے پر بدھ کے روز وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کے ذریعے ووٹ چوری معاملے کے جواب میں جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کا بھی نام لیا اور اپنی بات رکھی۔اور الزام لگایا کہ انہوں نے جھوٹ پھیلایا ہے اور دیش کی جنتا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔امت شاہ نے کہا ایس آئی آر ووٹر لسٹ کا شدھی کرن ہے تاکہ جن کی موت ہوگئی ان کے نام کٹ جائیں اور جو 18 سال سے بڑے ہیں ان کے نام ووٹر لسٹ میں جڑ جائیںجو دو جگہ ووٹر ہے ان کے نام ایک جگہ سے کٹ جائیں اور جو غیر ملکی شہری ہے ان کو چن چن کر ووٹر لسٹ سے ہٹایاجا ئے ۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی بھی دیش کی جمہوریت تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب دیش کا وزیراعظم اور راجیہ کا وزیراعلیٰ کون ہو یہ گھس پیٹھیے طے کریں گے ۔ایس آئی آر سے کچھ پارٹیوں کے سیاسی مفادات کو چوٹ ہوتی ہے۔فیصلہ کرنا پڑے گا کہ دیش کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو چننے کے لئے غیر ملکیوں کو ووٹ دینے کا حق دینا ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد راہل گاندھی کھڑے ہوئے اور امت شاہ سے پوچھا کہ ہندوستان کی تاریخ میں چناؤ کمشنروں کو پوری طرح معافی دی جائے گی اس کا جواب دیں۔ ہریانہ کی ایک مثا ل انہوں نے ’’وزیر داخلہ امت شاہ ‘ ‘ کو دی۔اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے کئی اہم سوال اٹھائے اس دوران انہوں نے ایس آئی آر کا نام لیا ۔راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ یکساں جذبہ ایس آئی آر کو دقت ہے ۔سنگھ نے پبلک اداروں پر قبضہ کرلیا ہے اس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انہوں نے ٹوکا اور کہا کہ چناؤ اصلاحات پر بحث کیجئے ۔ لیڈر آف اپوزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ بھی بولو۔راہل گاندھی نے بحث کی شروعات کھاید سے کی انہوں نے کہا ہمارا دیش ایک فیبرک کی طرح ہے کپڑا کئی دھاگوں سے بنتا ہے ویسے ہی ہمارا دیش بھی کئی طرح کے لوگوں سے مل کر بنا ہے ۔دیش کے سارے دھاگے ایک جیسے اور اہم ہیں ۔دیش کے سبھی لوگ برابر برابر ہیں۔راہل گاندھی نے کہا ووٹ کے لئے دیش کے پبلک اداروں نے حکمراں پارٹیوں نے قبضہ کر لیاہے ۔اسی جیسے سی بی آئی ،ای ڈی سب پر قبضہ کر لیا ہے ۔راہل گاندھی نے چناؤ کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ سے ملا ہوا ہے ۔ہم نے اس بات کے ثبوت بھی سرکار کو دیے ۔سرکار اسی کا استعمال کررہ ہے ۔راہل گاندھی نے کہا چناؤ کمشنر منتخب کرنے کی کاروائی کو کیوں بدلا گیا ؟ اسی کاروائی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کیوں ہٹایاگیا ؟ کیا سرکار کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر بھروسہ نہیں ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ کے اشاروں پر چلتا ہے ۔حکمراں فریق ہی چناؤ کمیشن کو چلارہا ہے ۔راہل گاندھی نے برازیل کے ماڈل کا بھی ذکر کیا انہوں نے کہا کہ برازیل کا ماڈل کا نام 22 بار ووٹر لسٹ میں آیاہے۔ایک عورت کا نام 200 بار ووٹر لسٹ میں آیا ہے ۔چنا ؤ کمیشن کو سی سی ٹی وی فوٹیج ضائع کرنے اور کنٹرول کا مطلب کیا ہے۔اور کیوں اس فوٹیج کو کچھ وقت بعد ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ؟ فوٹیج ضائع کرنے کی طاقت کیوں دی گئی ؟ چناؤ کمشنروں کو سزا کی سہولت کو کیوں ہٹایاگیا ۔ہریانہ چناؤ کا ذکرکرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہریانہ کا چناؤ ووٹ چوری سے کیا گیا ۔اورجہاں تک چناؤ کمیشن کا سوال ہے تو اسے اٹھ رہے سوالوں کا جواب دینا ترجیح ہونا چاہیے ۔شفافیت کی سب سے بڑی ذمہ داری چناؤ کمیشن پر ہے ۔چناؤ آج سے دو دہائی پہلے کیسے ہوا کرتے تھے اس سے زیادہ ضروری ہے کہ اب جو چنا ؤ ہوں سوالوں سے پرے ہوں ۔جمہوریت کے اصلی مالک و محافظ ووٹر ہیں جنتا ہے ۔اس کا چناؤ پروسیس پر پورا بھروسہ ہونا چاہیے یہی بھارت کی جمہوریت کی بنیاد ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...