Translater

01 دسمبر 2012

زی نیوز کے مدیروں کی گرفتاری نے کھڑے کئے کئی سوال

زی نیوز کے سینئر مدیر سدھیر چودھری اور زی بزنس کے مدیر ثمیر اہلووالیہ کی گرفتاری کے ساتھ ہی کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ کیا جمہوریت کے دو ستون اپنی اپنی حیثیت اور اختیارات کا بیجا استعمال تو نہیں کررہے ہیں۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے طویل چھان بین کے بعد یہ گرفتاریاں کی ہیں۔ کاروباری جندل گروپ کے چیئرمین و کانگریسی ایم پی نوین جندل نے الزام لگایا تھا کہ کوئلہ گھوٹالے کی کوریج دبانے کے لئے ان مدیروں نے ان کی کمپنی سے100 کروڑ روپے کی مانگ کی تھی ۔ اس سے تنگ آکر جندل نے اس بات چیت کا اسٹنگ آپریشن کروالیا تھا۔ اس معاملے میں جانچ پڑتال کرنے والی پولیس ٹیم کا دعوی ہے کہ اس نے سی ڈی کی فورنسک جانچ کرا لی ہے۔ دوسری طرف زی نیوز نے جندل کے الزامات کی تردید کی ہے۔ زی نیوز کے سی ای او آلوک اگروال نے الزام لگایا کہ یوپی اے سرکارII اپنی غلطیوں کے چلتے میڈیا کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ اگروال اور زی گروپ کے وکیل آر کے ہانڈو نے گرفتاری اور اس کے وقت پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر چھٹی والے دن سے پہلے گرفتاری کی گئی تاکہ انہیں ضمانت نہ مل سکے۔ ہانڈو نے کہا گرفتاری اس دفعہ کے تحت کی گئی ہے جو غیر ضمانتی جرائم پر لاگو ہوتی ہے نہ کے ضمانتی کے لئے۔ آلوک اگروال کا کہنا ہے دیش کی آزادی کے بعد 65 سال میں یہ دوسرا واقعہ ہے جب میڈیا پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی۔ حال ہی میں یہ وزیر نے انڈیا ٹو ڈے گروپ کو جم کر گالیاں دی ہیں اور عدالت میں گھسیٹا ہے۔ سوال یہ اٹھتاہے کہ کیا کانگریس اور منموہن سنگھ سرکار اپنے کالے کارناموں ک و دبانے کے لئے اب میڈیا کو ڈرا دھمکا رہی ہے یا پھر الیکٹرونک چینلوں سے سودے بازی کرکے کوئی بریکنگ نیوز پر روک لگوانا چاہتی ہے؟ یہ تو کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کچھ کانگریسیوں کو تو اتنا غرور ہے کہ وہ کسی اور کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ یہاں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ کچھ الیکٹرونک چینل والے بھی سیاسی پارٹیوں سے سودے بازی کرتے ہیں۔ہم تو یہ بھی دیکھ رہے ہیں کے زی نیوز کے دوسرے چینل ، پرنٹ میڈیا نیشنل براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن و پریس کونسل آف انڈیا ان کی حمایت نہیں کررہے ہیں کیا اس کا مطلب یہ ہے جندل کے الزامات میں دم ہے یا پھر زی چینل سے اتنی نفرت و جلن ہے؟ پریس کونسل آف انڈیا کے چیف جسٹس ایم کاٹجو نے کہا تحقیقات ہونے تک اس کا لائسنس منسوخ کردیا جانا چاہئے کیونکہ اس معاملے سے صحافیوں کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ اس شے مات کے کھیل میں فی الحال پہلا راؤنڈ نوین جندل نے جیت لیا ہے۔ دہلی پولیس نے ساری کارروائی سی ایف ایس ایل کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر کی ہے۔ یہ دہلی ہے یہاں صحافی کی حیثیت کو کم کرکے دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ پولیس کو یہ بات اچھی طرح پتہ ہے کہ وہ کسی گٹکھا یا اس سے متعلقہ کمپنیوں اور ان کے اخبار کے مدیر کے خلاف کارروائی نہیں کررہی ہے وہ ایک خاص چینل کے خلاف کارروائی کررہی ہے جو اپنے محافظ مدیروں کو بچانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ ویسے بھی جب پارلیمنٹ کا اجلاس چل رہا ہو اتنے بڑے میڈیا گروپ پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے دس بار سوچے گی۔ گرفتار مدیروں کو اس بات کا یقین ضرور ہوگا کہ زی مالکوں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ان کے بچاؤ میں لگے ہوئے ہیں۔ بچاؤ کی بات سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ زی نیوز نے اپنے بچاؤ میں کیا ثبوت پیش کئے ہیں؟ کیا زی نے جندل کے سینئر افسروں سے بات چیت کو ٹیپ نہیں کیا؟ زی والے دعوی کررہے ہیں کہ گھنٹوں کی بات چیت میں کچھ منٹوں کا ہی ٹیپ جندل گروپ نے پیش کیا ہے باقی ٹیپ کہاں ہے؟ تین چار گھنٹوں میں ہوئی بات چیت میں 12-14 منٹ کا ٹیپ نکال کر پیش کرنے سے پوری کہانی واضح نہیں ہوتی۔ پھر اتنا بھی طے ہے بات چیت میں سودے بازی دونوں فریقوں کے درمیان ہوئی ہوگی۔پولیس نے ایک طرف کارروائی کیوں کی؟ کیا پھر اتنی سخت دفعات لگانا کیا ضروری تھا؟ یہ بھی سوال مناسب ہے کہ پیسے کا کوئی لین دین نہیں ہوا صرف باتیں ہی ہوئی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے سے صحافیوں کی ساکھ پر آنچ آئی ہے لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ کوئلہ گھوٹالے سے شروع گھوٹالوں کے خلاف سرکار نے اتنی پھرتی کیوں نہیں دکھائی؟ ایسے میں سرکار کی نیت پر سوال کھڑا ہونا فطری ہے۔
(انل نریندر)

کیا بیٹے کو جج باپ کے سامنے پیش ہونا چاہئے؟

سپریم کورٹ میں تو یہ روایت رہی ہے اگر کسی وکیل کا والد سپریم کورٹ میں جج ہے تو وہ وہاں سے پریکٹس چھوڑدیتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس جسٹس اے ایم احمدی اور بی۔ این کھرے اس کی مثال ہیں۔ ان دونوں کے بیٹوں نے والدین کے سپریم کورٹ میں رہتے ہوئے بڑی عدالت میں آنا چھوڑدیا تھا لیکن اب بڑی عدالت میں مقرر 8 ججوں کے بچے یہاں وکالت کرتے ہیں۔ ایک جج جسٹس سے ۔ کے پرساد کے لڑکے تین ریاستوں کے اے آر آئی پینل میں ہیں۔ جن کے مقدمے ان کے والد کے سامنے پیش ہوتے رہتے ہیں لیکن وہ ان مقدموں میں پیش نہیں ہوتے۔ ذرائع کے مطابق مفادات کے ٹکراؤ کے اس مسئلے سے بچنے کے لئے سپریم کورٹ نے اپنے ماتحت افسر کو باقاعدہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مقدموں کو ججوں کے سامنے نہ لگائیں جن میں ان کے بچے وکیل ہیں۔ کم و بیش اس حکم کی تعمیل ہورہی ہے اور ابھی تک اس بارے میں کوئی خاص شکایت نہیں ملی ہے۔ سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق ایک بار ایک جج کے لڑکے کے بارے میں شکایت آئی تھی کہ وہ اپنے والد کا حوالہ دیکر لوگوں کو اثر انداز کررہا ہے۔ اس شکایت پر چیف جسٹس (اب ریٹائرڈ) نے متعلقہ جج کو آگاہ کردیا۔ جس کے بعد معاملہ سلجھ گیا۔ اس بارے میں سپریم کورٹ اے او آر ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ یہ وکالت غلط ہے۔ بچوں کو اس عدالت میں وکالت نہیں کرنی چاہئے جس میں ان کے والد جج ہوں۔ سپریم کورٹ کے ایک غیر سابق جج نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا کہ بچوں کا سوال ہے تو فی الحال اس مسئلے پر کوئی واضح قانون نہیں ہے لیکن عدلیہ میں کرپشن کو روکنے کے لئے بنائے جارہے جج جوابدہی بل میں بھی ایسی شقیں رکھی جائیں جس میں ججوں کو اپنے لڑکوں کو باپ کے سامنے کورٹ میں وکالت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں التوا میں ہے۔ رشتے داروں کے وکالت کرنے کا مسئلے سے نمٹنے کے لئے سپریم کورٹ1997ء میں ری اسٹیٹمینٹ آف ویلیو بنائی تھی جنہیں 1999ء نے چیف جسٹس کی کانفرنس نے اتفاق رائے سے اپنایا تھا۔ اس میں شق شامل تھی کے ایسے معاملوں کی سماعت اور فیصلہ نہیں کریں گے جس میں ان کے خاندان کے قریبی دوست یا اولاد جڑے ہوئے ہیں۔ جج کا کوئی لڑکا اگر ممبر ہے تو وہ اپنے سامنے پیش نہیں ہونے دیں گے۔ میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق کورٹ کے ججوں کے بچے وکالت کررہے ہیں وہ ہیں جسٹس ڈی ۔کے جین، جسٹس سوتنترکمار، جسٹس اے۔کے پٹنائک، جسٹس اے ۔ کے رادھا کرشن، جسٹس سی۔ کے پرساد، جسٹس ٹی ۔ایس ٹھاکر، جسٹس اے۔ ایس نجرو رنجنا پرکاش ڈیسائی، جسٹس ثمیر (اب ریٹائر) شامل ہیں یہ بات تو کورٹ کی ہے لیکن نچلی عدالتوں اور ریاستوں کی عدالتوں میں تو یہ مسئلہ اور بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔
(انل نریندر)

30 نومبر 2012

اور آخر کارحکومت کو اپوزیشن کے آگے جھکنا ہی پڑا!

یوپی اے کے سپہ سالاروں نے اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ایف بی آئی ایک ایسا اشو ثابت ہوا کہ آخر کار منموہن سرکار کو اس کے آگے جھکنا پڑا۔ اپوزیشن اتحاد اور عظم رنگ لیا۔ مسلسل چار دنوں تک پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے والی بھاجپا اور لیفٹ پارٹیوں کے اڑیل رویئے کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا۔ منگل کو اتحادی پارٹیوں کی میٹنگ میں اتحاد سے مطمئن ہو جانے کے بعد کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت نے خوردہ بازار میں 51فیصد غیرملکی سرمایہ کاری کے فیصلے پر مہر لگانے کے لئے بحث کے ساتھ ووٹنگ کرانے کا فیصلہ لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین پر چھوڑدیا ہے۔ سرکار قاعدہ184 کے تحت لوک سبھا میں اور قاعدہ167 کے تحت راجیہ سبھا میں بحث کو تبھی تیار ہوئی جب اس کو ایسا لگنے لگاکہ ووٹنگ میں اس کے پاس درکار نمبرپورے ہوگئے ہیں۔ ڈی ایم کے پارٹی نے اپنی کڑواہٹ کو درکنار کرتے ہوئے اسے گرنے سے روکنے کا وعدہ کیا جبکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس ووٹنگ پر زور نہ دینے پر مان گئیں۔ یہ ہی ممتا ایف ڈی آئی سمیت کئی مسئلوں پر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں تھیں۔ سپا اور بسپا کو آخر کار سرکار کے ساتھ رہنا ہی تھا۔ بھلے ہی وہ کتنے بھی ناٹک کرلے اس لئے وزیر اعظم کا بیان کے ہمارے پاس نمبر ہیں، یہ ہی حساب کتاب بول رہا ہے۔ اب حکومت مطمئن ہوگئی ہے لیکن سرکار کو گرنے میں تو شاید کسی بھی اپوزیشن پارٹی کی خواہش نہ رہی ہو وہ تو اس مسئلے پر سنجیدہ بحث چاہتی تھی اور ووٹنگ سے پتہ چلے گا کہ کونسی پارٹی اس مسئلے پر کہاں کھڑی ہے۔ دراصل سرکار کو سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ کہیں اس کی ساتھی پارٹیاں اس کے خلاف ووٹ نہ کردیں۔ چونکہ ڈی ایم کے کھل کر سرکار کے فیصلے کی مخالفت کررہی تھی۔ بھاجپا اور لیفٹ پارٹیاں بحث کے ساتھ ساتھ ووٹنگ پر بھی اڑی تھیں۔ پارلیمنٹ کی کارروائی پوری طرح جام تھی۔ اپوزیشن اپنی بات منوا کر جیت محسوس کررہی ہے۔
بھاجپا اور لیفٹ پارٹیوں کا مقصد سرکار کے علاوہ اسے حمایت دینے والی ان پارٹیوں کو بھی بے نقاب کرنا ہے جو خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملے پر سرکار کے خلاف آگ تو اگلتی ہیں لیکن ایوان میں اسے حمایت دینے کی دوہری چال بھی چلتی ہیں۔ بھاجپا کا نشانہ خاص کر سپا ،بسپا اور ڈی ایم کے ہے جو جنتا کے درمیان صرف باتوں کا بم پھوڑتی نظر آتی ہیں لیکن ایوان میں سرکار کی حمایت بھی کرتی ہیں۔ فلور مینجمنٹ کی ابتدائی ذمہ داری اپوزیشن سے سرکار کی ہوتی ہے اور اس کام میں وہ اس اجلاس میں کامیاب رہی۔ کیا اس حق کا استعمال نمبر جٹانے میں ہی کیا جانا چاہئے۔ ایوان چلانے کے لئے اخلاقیات اور عظم نہیں ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو سرکار پچھلے سال 7 ستمبر کو سرمائی اجلاس میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرتی۔ تب حکومت نے کہا تھا کہ ایف ڈی آئی پر آخری فیصلہ لینے سے پہلے سرکار اس ایوان کو و سیاسی پارٹیوں و دیگر اتحادیوں کو اپنے بھروسے میں لے گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سرکار کا پلٹی کھانا اور اس کا اڑیل رویہ پارلیمنٹ کے ٹھپ ہونے کی اہم وجہ ہے۔ دراصل یہ مغرور سرکار سمجھتی ہے کہ اسے پارلیمنٹ کی مہر کی ضرورت نہیں۔ تبھی تو وہ کہتی ہے کہ یہ فیصلہ کیبنٹ کو کرنا ہے اور کیبنٹ کے فیصلوں پر ایوان میں ووٹنگ نہیں کرائی جاتی۔ یہ عدلیہ کا اختیار ہے۔ پارلیمانی نظیر اس کی اس دلیل کو غلط مانتی ہے۔ ایم ڈی اے کے عہد میں بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کو بالکومیں سرمایہ کاری کے فیصلے پر ووٹنگ کرانے والے تقاضے کے تحت بحث کے ریزولوشن کی کانگریس نے بھی حمایت کی تھی۔ تب اس کے نیتا پریہ رنجن داس منشی نے کہا تھا کہ سرمایہ کاری اور نجی کرن دو الگ مسئلے ہیں۔ اگر معاہدے کے تقاضے میں شیئر51 فیصد ہے تو یہ سرمایہ کاری نہیں نجی کرن ہے۔ اس نظریئے سے ایف ڈی آئی پر ووٹنگ کے تحت پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے لیکن اقتدار میں موقف اور ہوتا ہے اور اپوزیشن میں اور۔ خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی کے مسئلے پر پہلے ہی بھاجپا اور لیفٹ پارٹیوں سمیت مختلف تنظیموں کے ذریعے ملک گیر تحریک چھیڑی جاچکی ہے لیکن سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔ دونوں حکمراں فریق اور اپوزیشن 2014ء کے عام چناؤ کو ذہن میں رکھ کر تانا بانا بن رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کون کتنا کامیاب ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

ساتھی کو بچانا تو دور رہا ،بدمعاشوں کو فرار ہونے کا موقعہ دیا

واردات رات میں قریب2.10 بجے کی ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل رام کرشن اپنے ساتھی سپاہی جے کے سنگھ کے ساتھ جوں ہی بارڈرپر گاڑیوں کی چیکنگ کررہا تھا اسی بیچ نائٹ پیٹرولنگ پر آئے ایس آئی خزان سنگھ اور ہیڈ کانسٹیبل وجیندر بھی وہاں پہنچ گئے۔خزان سنگھ ٹکٹ پر رجسٹر کی جانچ کرنے لگا تبھی ہریانہ کی طرف سے ایک سفید رنگ کی ہونڈا سٹی کار وہاں آئی ۔ رام کرشن نے کار کو روک کر ڈرائیور سے اس کے کاغذات کی مانگ کی۔اسی بات پر دونوں کے بیچ بحث ہونی لگی۔ اسی بیچ بدمعاشوں نے رام کرشن پر گولیاں داغ دیں۔ فائرنگ کرتے ہوئے بدمعاشوں نے کار بیک کی اور فرار ہوگئے۔ یہ واردات ایتوار کی رات کی ہے۔ موقعہ واردات کے اطراف میں کھیت واقع ہیں اس وجہ سے کار کو دوری تک دوڑانے میں کافی دقت آئی۔لیکن بدمعاشوں کے پاس اتنا وقت تھا کہ ان میں سے دو نے باہر نکل کر گاڑی کودھکا دے کر اسے باہر نکالا اور اس میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔ اگر پولیس والے چاہتے تو ان بدمعاشوں کو پکڑا جاسکتا تھا۔ ان پولیس ملازمین کے پاس رائفل ،پستولیں بھی تھیں ۔ یہ اطلاع ملی ہے کہ دیوالی تہوار کے درمیان بھی ہیڈ کانسٹیبل رام کرشن نے رات میں ڈیوٹی کے وقت ایسے ہی بدمعاشوں کی مقابلہ کیا تھا۔ گاڑی کی جانچ کرتے وقت بھی ایک بدمعاش نے ان پر بندوق تان دی تھی تب بھی رام کرشن نے ہمت کا ثبوت دیا جس وجہ سے بدمعاش اپنی گاڑی ہی موقعہ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ اس پورے واقعہ کے پیش نظر پولیس کے سینئر افسر اپنوں کی حمایت لیتے ہوئے دلیل دے رہے ہیں کہ یہ واردات اتنے کم وقت میں ہوئی کہ وہ کچھ سمجھ نہیں پائے۔ ذرائع کی مانیں تو بھاگتے وقت بدمعاشوں کی پستول موقعہ واردات پر ہی گر گئی تھی۔ اس کے باوجود چوکی پر موجود دیگر پولیس والوں نے بدمعاشوں کو پکڑنے کی ہمت نہ دکھائی۔ ایسے میں رام کرشن کے رشتے دار موقعہ واردات پر موجود پولیس ملازمین کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے۔ رام کرشن کے بھائی کا کہنا ہے کہ بدمعاشوں نے ان کے بھائی پر فائرنگ کی تھی لیکن کسی پولیس والے نے ان کی مدد نہیں کی۔ یہاں تک کہ پولیس ملازمین نے بدمعاشوں کا پیچھا کرنے کی کوشش نہیں کی۔
بدمعاشوں سے مقابلہ کرتے ہوئے آپ کا ساتھی زخمی ہوجائے اور اس کے تین مسلح پولیس والے تماشائی بنے رہے؟ کیا دہلی پولیس ملازمین کو یہ سکھایا جاتا ہے؟ شہید رام کرشن وجے انکلیو ،نانگلوئی میں رہتا تھا ، اس کے گھر میں بیوی سنی دیوی اور دو بچے نیرج اور دھیرج ہیں۔ نیرج ایم ٹیک کا طالبعلم ہے جبکہ دھیرج انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا ہے۔1982 ء میں دہلی پولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہوا رام کرشن بنیادی طور سے بہادر گڑھ کے یودیان گاؤں کا رہنے والا تھا۔ ہم اس بہادر جوان کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں کہ اس دن تعینات وہاں اس کے ساتھی پولیس والوں سے جواب طلب کیا جائے نہ کے ان کی جانب سے بے تکی دلیلیں سنی جائیں۔
(انل نریندر)

29 نومبر 2012

کانگریس کا چناوی ہتھکنڈہ !کیش فار ووٹ

یوپی اے سرکار نے 2014 لوک سبھا چناؤ کی تیاری زور شور سے شروع کردی ہیں۔ وہ ایک بار پرانے آزمائے ہوئے فارمولے پر کام کرنے جارہی ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنے ووٹ پکے کرنے کے لئے غریبوں کو سیدھے پیسوں کو بانٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کو امید ہے کہ جب سیدھے لوگوں کے کھاتوں میں پیسہ جمع ہوگا تو سارے گھوٹالوں، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری، بجلی پانی و قانون و انتظام سب کو بھول جائیں گے اور کانگریس پارٹی کو2014ء کے چناؤ میں ووٹ دیں گے۔ ایسا ممکن ہوسکتا ہے اور نہیں بھی۔ یوپی اے سرکار کی اسکیم کامیاب ہوئی تو دیش میں سبسڈی کا خاکہ 2013ء کے آخر تک بدل جائے گا لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں۔ پیچیدگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ سبسڈی کے نقدی منتقلی یعنی اس کا فائدہ حاصل کرنے والوں کو براہ راست نقد مالی امداد دینے کی اسکیم میں سیاسی خطرہ بھی ہے۔ وزیر مالیات پی چدمبرم نے اعلان کیا ہے15 ریاستوں کے 57 اضلاع میں کیش ٹرانسفر کا کام 1 جنوری2013 ء سے ہوگا۔ سارے دیش میں اسے اگلے سال کے آخر تک پورا کرلیا جائے گا۔ پیر کی دیر رات ساتھی وزرا کے ساتھ ہوئی ملاقات میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے غریب لوگوں کے بینک کھاتے کھلوانے کی کارروائی آسان بنانے پر بھی زوردیا۔ وزیر اعظم نے اس اسکیم کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے پر زوردیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت رسوئی گیس، مٹی تیل، طالبہ وظیفہ، منریگا مزدوری و کمزور طبقوں کو ملنے والی دیگر امداد کو نقدی شکل میں ان تک پہنچایا جائے گا۔ سرکار کی اسکیم کے مطابق آدھار کارڈ کے ذریعے اس اسکیم کا فائدہ اٹھانے والوں کے بینک کھاتے کھولے جائیں گے جس میں ان کے حصے کی رقم ہر مہینے ٹرانسفر کردی جائے گی۔ اس یوجنا کے کامیاب ہونے میں کئی انتظامی مشکلیں آسکتی ہیں۔ صاف ہے یہ اسکیم کامیاب ہو اس کے لئے بیشک تکنیکی اہلیت و اعلی درجے کی انتظامی صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔ اسے بھارت کے بینکنگ نظام کے لئے ایک سخت آزمائش مانا جائے گا کیونکہ آدھار کارڈ تقسیم میں ابھی کئی دشواریاں اور مشکلیں آرہی ہیں اس لئے یہ سوال بدستور قائم ہے کہ کہیں امداد پانے والے حقدار بہت سے لوگ انتظامی ناکامیوں کے چلتے فائدے سے محروم تو نہیں ہوجائیں گے؟ پھر غذائی سبسڈی کا اشو بھی ہے۔ سبسڈی کا پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتی آئی سرکار کی اس معاملے میں تیزی اور ان کی طے میعاد کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس لگایا جانا فطری ہے۔ کیا اگلے چناؤ سے اس کا سیدھا تعلق ہے؟ برازیل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ کہا جانے لگا ہے کہ نقدی سبسڈی حکمراں پارٹی کو چناوی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ بہت سی سماجی تنظیموں نے نقد پیسے کو لیکر کئی اندیشے ظاہر کئے ہیں ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے غریبوں کو نقد پیسہ دینے کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ اس کا مقصد اپنی سہولت کے حساب سے استعمال کرنا ہوگا۔ بہت سے غریب ادھاراور قرض میں دبے رہتے ہیں جیسے ہی پیسہ ان کے کھاتے میں آئے گا بقایا وصولنے والے ان کے سر پر سوار ہوجائیں گے۔ ایک دوسرا اندیشہ یہ بھی ہے کہ سبسڈی کے طور پر ملنے والی نقد رقم یا دیگر دوسری مراعات دوسرے غیر ضروری خرچوں کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں؟ جبکہ سرکاری مدد کے چلتے اگر ضرورتمندوں کے گھر میں اناج آتا ہے تو یہ بھروسہ انہیں ضرور رہے گا کہ جینے کے لئے اس کے خاندان کی بنیادی ضرورت پوری ہوگئی ہے۔ آدھار کارڈ کے استعمال سے سرکار نے یہ مان لیا ہے کہ غیر یقینی کے سارے راستے بند ہوجائیں گے۔مگر جہاں تمام بی پی ایل خاندانوں کی پہچان کو لیکر بہت ساری گڑ بڑیاں چل رہی ہیں وہاں اس بارے میں کم سے کم ہم تو بے حبر نہیں ہوسکتے پھر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ابھی تک دیش کی آدھی دیہی آبادی کے پاس کوئی بینک کھاتہ نہیں ہے نہ بہت سارے دیہاتی علاقوں میں بینکنگ خدمات ہیں۔ کیا محض ڈیڑھ سال میں یہ کمی دور ہوپائے گی؟
(انل نریندر)

پلاسٹک پر پابندی کتنی کارگر ثابت ہوگی؟

راجدھانی میں پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی کا نوٹیفکیشن دہلی حکومت نے23 اکتوبر 2012ء کو جاری کیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں پابندی کو لاگو کرنے کے لئے 30 دن کی مہلت دی گئی تھی۔ جمعرات کو یہ طے میعاد ختم ہوچکی ہے اور حکومت نے بھی جمعرات سے پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی پوری طرح سے لگانے کی تیاری کرلی ہے۔ اب تو نہ پلاسٹک تھیلیوں کی پیداوار ہوگی اور نہ ان کو منگایا جاسکے گا اور نہ ہی کوئی دوکاندار اور ہول سیلریاریڑھی والا سامان بیچنے کے لئے پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال و اسٹاک رکھ سکے گا۔ یہ پابندی اخباروں کے پلاسٹک کوروں اور پلاسٹک فلموں، پلاسٹک ٹیوب پر بھی عائد ہوگی۔ اس کی خلاف ورزی کرنے پر 1 لاکھ روپے جرمانہ و پانچ سال کی سزا ہے جبکہ میڈیکل کچرا مینجمنٹ و دیگر سامان قواعد والی دفعہ1998 کے تحت استعمال ہونے والی پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی عائد نہیں ہوگی۔ ایک ماہر کے مطابق فی الحال دہلی میں پلاسٹک بیگ بنانے کے قریب400 کارخانے چل رہے ہیں۔ ان کا سالانہ کاروبار 800 کروڑ روپے سے لیکر 1000 کروڑ روپے تک کا ہے۔ دہلی سرکار نے بیشک پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی لگادی ہے۔اسے لاگو کرنا اتنا آسان نہیں۔ ماہرین کی مانیں تو سرکار کے پاس جہاں پلاسٹک کی پیداوار ہورہی ہے فیکٹریوں کا پورا ریکارڈ نہیں ہے وہیں بذریعہ ٹرین، جہاز، بس اور دوسری ریاستوں سے آرہی پلاسٹک پر بھی اس کا زیادہ زور نہیں چلے گا۔ 
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ منظم سیکٹر میں پلاسٹک کی پیداوار و اس کو سپلائی کرنے والے قریب 150 کارخانے ہیں جبکہ اس سے 10 گنا زیادہ غیر منظم سیکٹر میں بنتی ہیں۔ وہیں دوسری رپورٹ کے مطابق حضرت نظام الدین ، نئی دہلی و دہلی ریلوے اسٹیشن سے روزانہ قریب 7 ہزار کلو گرام ، وہیں انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے 3370 کلو پلاسٹک کچرا آتا ہے۔ زیادہ تر پلاسٹک کی پیداوار غیر منظم سیکٹر کی فیکٹریوں میں ہوتی ہے۔ یہاں سرکار کے پاس اس پر لگام لگانے کی کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تین برس پہلے 40 مائیکرون سے پتلی پلاسٹک پر لگائی گئی پابندی کارگر نہیں ہوسکی۔ دوبارہ اڑچن یہیں کھڑی ہوگی۔ جہاں ہم پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دہلی کو بڑھتی آلودگی سے بچانے کے لئے ٹھوس قدم مانتے ہیں وہیں حقیقت یہ بھی ہے پلاسٹک پر لگی پابندی پر عمل کر پانا آسان نہیں ہے۔ یہ روزمرہ کا حصہ بن چکی ہے جس کا سستا متبادل بھی بازار میں نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سرکار کے پہلے فیصلے کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ پابندی کو کارگر طریقے سے نافذ کرنے کے لئے پہلے سرکار کو بازار میں اس کا متبادل لانا ہوگا۔ پلاسٹک سے متعلق قاعدے قانون صاف ہیں کہ جوٹ غیرہ سے بنائی گئی تھیلیاں پلاسٹک تھیلیوں کی متبادل ہوسکتی ہیں۔ کورٹ نے پہلے ہی حکم دے رکھا ہے کہ کمپوزٹ بیگ کی پیدوار کو فروغ دینے کے لئے ٹیکس میں چھوٹ دینی چاہئے ساتھ ساتھ پلاسٹک تھیلیوں کا متبادل بھی جلد مارکیٹ میں لانا ہوگا۔ سبھی چاہتے ہیں کہ ان پلاسٹک تھیلیوں سے چھٹکارہ ملے۔
(انل نریندر)

28 نومبر 2012

رام جیٹھ ملانی، یشونت سنہا کے بعد اب شتروگھن سنہا!

بھاجپا پردھان نتن گڈکری کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں ایک طرف جہاں پارٹی میں ان کے استعفے کی مانگ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے وہیں دوسری طرف پورتی کمپنی کو لیکر نئے انکشافات سے پارٹی بیک فٹ پر آگئی ہے۔ گڈکری کی کمپنی میں سرمایہ لگانے والی کمپنیوں میں اپنے خاندان کے افراد کے شامل ہونے کی خبر کے بعد پارٹی نے پہلے کی طرح ان کا بچاؤ نہیں کیا۔ پورتی میں پیسہ لگانے والی کمپنیوں کے انکشاف سے آر ایس ایس وچارک اور اکاؤنٹنٹ ایس گورو مورتی کی نتن گڈکری کو دی گئی کلین چٹ پر بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ میڈیا میں آئی خبروں میں بتایا گیا ہے پورتی میں سرمایہ کرنے والی 18 میں سے6 کمپنیاں نتن گڈکری خاندان کے لوگوں کی ہیں۔ گورو مورتی نے بھاجپا لیڈروں کو بتایا تھا کہ18 کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کا سارا گول مال کاروباری منیش مہتہ نے کیا ہے۔ لیکن ان خلاصوں کے بعد وہ غلط ثابت ہوگئے ہیں۔ بھاجپا پردھان کے طور پر نتن گڈکری کی میعاد اگلے میں (دسمبر ) میں ختم ہورہی ہے۔ رام جیٹھ ملانی اور یشونت سنہا کی کھلی بغاوت کے بعد اب شتروگھن سنہا بھی ان کے خلاف میدان میں اتر آئے ہیں۔ نتن گڈکری کے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں میں اب بہاری بابو ’’شتروگھن سنہا ‘‘ کا نام بھی جڑ گیا ہے۔ انہوں نے پٹنہ میں جیٹھ ملانی اور یشونت سنہا کی طرف سے گڈکری کے استعفیٰ کے مطالبے کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عہدے پر بیٹھے لوگوں کو نہ صرف ایماندار ہونا چاہئے بلکہ صاف بھی دکھنا چاہئے ۔ اگلے ہی دن شتروگھن سنہا نے پٹنہ میں کہا کہ لال کرشن اڈوانی وزیر اعظم کے عہدے کے سب سے اہل امیدوارہیں۔ انہوں نے کہا اڈوانی اٹل بہاری واجپئی کی طرح اندھیری سرنگ میں روشنی کی لکیر ہیں۔ بہاری بابو نے کہا کہ وزیر اعلی نتیش کمار بھی وزیر اعظم کے عہدے کے لئے اچھے امیدوار ہیں لیکن امیدوار کا انتخاب نمبر کی تعداد کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ شترو کا کہنا ہے کہ انہیں کسی ڈسپلن شکنی کارروائی کا ڈر نہیں ہے۔ کہا میں اب سینئر ہوگیا ہوں۔ میں نے کبھی مریادا کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ سچ بولنے پر سزا نہیں ہوتی۔ بھاجپا میں اڈوانی ، یشونت سنہا، رام جیٹھ ملانی، سشما سوراج، ارون جیٹلی، نریندر مودی جیسے کئی لیڈر ہیں لیکن اڈوانی سب سے بہتر ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے وہ سب سے زیادہ اچھی ساکھ والے ہیں اور وزیراعظم عہدے کے لئے سب سے بہتر امیدوار مانتے ہیں۔ پارٹی کے لئے بہتر رہے گا کہ 2014ء کے عام چناؤ سے پہلے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کا اعلان کردیں۔ شتروگھن سنہا نے ایک طرف اشو پر پارٹی لائن سے ہٹ کر موقف اپنایا ہے ۔ سی بی آئی کے نئے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کی تقرری کو لیکر بھاجپا اعلی کمان کے موقف کے خلاف کھلی بغاوت کردی ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی، لوک سبھا میں اپوزشن کی لیڈر سشما سوراج نے نئے سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری پر اعتراض ظاہرکیا تھا اب شتروگھن سنہا کا کہنا ہے رنجیت سنہا بیحد اہل افسر ہیں اس لئے ان کی تقرری جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے رنجیت سنہا 1974 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں اور وہ بالکل اس عہدے کے لائق ہیں۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کی تقرری سی وی سی کی سفارش پر ہوئی ہے۔ یہ بالکل صحیح قدم ہے اس لئے اس کی مخالفت غلط ہے۔شتروگھن سنہا کے پہلے سے قریب رہے تینوں سنہا کا یہ تجزیہ بہار کے سلسلے میں ذات پات کے جوڑ توڑ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سی بی آئی کے نئے ڈائریکٹر رنجیت سنہا بہار کیڈر کے ہیں اس لئے ہر بہاری نیتا کھل کر بھلے ہی ان کی حمایت نہ کرے لیکن کھل کر مخالفت بھی نہیں کریں گے۔ وزیر اعلی نتیش کمار بھی شخصی بات چیت میں بہار کیڈر کے افسر کو سی بی آئی کا ڈائریکٹر بنانے کے حمایتی ہیں۔ لیکن جو بات ہم نے شروع کی تھی پردھان نتن گڈکری کے خلاف پارٹی میں بڑھ رہی بغاوت کی ۔ اب اتنا تو طے لگتا ہے کہ آر ایس ایس چاہے جتنا زور لگا لے وہ نتن گڈکری کو دوسری میعاد نہیں دلوا سکتی۔ اب جبکہ ان کے عہد میں کچھ ہی دن باقی بچے ہیں ہم سمجھتے ہیں نتن گڈکری کو اپنی مرضی سے بیان دے دینا چاہئے کہ وہ دوسری میعاد کے لئے پارٹی کے صدر کے طور پر دوبارہ نہیں کھڑے ہوں گے اور وہ اپنی مرضی سے خود ہٹ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا نتن گڈکری ایسا کریں گے یا یوں کہیں انہیں ایسا کرنے دیا جائے گا؟ (انل نریندر)

اروندکجریوال کی عام آدمی پارٹی

خود کو کرپشن کے خلاف کھڑا ایک عام آدمی بتانے والے اروند کجریوال نے اب اپنی پارٹی کا نام بھی طے کرلیا ہے۔ اور اپنی سیاسی پارٹی کے لئے بھی نام ’عام آدمی پارٹی‘ رکھ لیا ہے۔ ایتوار کو 300 سے زیادہ بانی ممبران کی میٹنگ میں آئین کو منظوری دی گئی۔ پارٹی نے پیر سے باقاعدہ کام بھی شروع کردیا ہے۔ کجریوال کا دعوی ہے کہ اس کے ذریعے وہ سیاست میں عام لوگوں کو خاص جگہ دلوائیں گے۔ ابھی تک تو غیر سیاسی تنظیم کی شکل میں ہلچل مچانے اور سرخیاں بٹورنے میں کامیاب رہی ٹیم کجریوال یعنی عام آدمی پارٹی کے سامنے چیلنج ا س لئے زیادہ دکھائی پڑ رہے ہیں کیونکہ اس سے توقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ان توقعات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انا ہزارے کے سپہ سالار بن کر اپنی پہچان بنانے والے کجریوال نے کچھ ایسے اشو اٹھانے کی ہمت دکھائی جو آج تک کسی سیاسی پارٹی نے نہیں اٹھائے۔ اس سے جنتا میں نہ صرف ان کی الگ پہچان بنی بلکہ توقعات بھی ان سے بڑھ گئی ہیں۔ اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی دوسری سیاسی پارٹیوں سے الگ کیسے ہے؟ اس سوال کے جواب میں کجریوال نے بتایا کہ ہم سارے چندے اور خرچ کی تفصیل یقینی طور پر عام کریں گے۔ہماری پارٹی میں ایک خاندان کے ایک ہی ممبر کو ہی ٹکٹ ملے گا یا عہدہ ۔ ہر پرائمری یونٹ کو دو کنوینروں میں ایک خاتون کا ہونا ضروری ہوگا۔ پارٹی حکام اور ورکنگ ممبران پر الزامات کی سماعت کے لئے ایک انٹرنل لوک پال ہوگا۔ کجریوال کے ذریعے بنائی گئی نئی پارٹی سے تنازعے کا شروع ہونا بھی فطری تھا۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان اور وزیر اطلاعات منیش تیواری نے کہا جمہوری دیش میں پارٹی بنانا سبھی کا حق ہے۔ دیش میں300 پارٹیاں ہیں ، ایک اور شامل ہوگئی تو جمہوریت اور مضبوط ہوگی۔ 1885 سے ہی ’عام آدمی‘ کانگریس سے ہی جڑا رہا ہے اور کوئی بھی اسے یرغمال نہیں بنا سکتا۔ ادھر بھاجپا ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا کجریوال کو ہماری نیک خواہشات۔ وہ پارٹی کا نام ’عام آدمی ‘ رکھیں یا خاص۔ چناؤ کے میدان میں آئے ہیں اب تو جو کہتے آئے ہیں اسے پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ جن اشوز کو لیکر اب تک وہ سب کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہے ہیں اگر انہیں درست کرسکیں تو ہمیں خوشی ہوگی۔ ویسے کجریوال کے حق میں یہ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی عام آدمی پارٹی میں قومی سطح پر لوک پال اور ریاستی و ضلع سطح پر لوک آیکت بنانے کی سہولت رکھی ہے۔ اس میں ریٹائرڈ جج ہوں گے۔ پارٹی کے ایگزیکٹو ممبرز کے خلاف ان سے شکایت کی جاسکے گی۔ پہلی بار کسی پارٹی میں اگر نیشنل کونسل ہو یا نیشنل ایگزیکٹو ممبروں کو واپس بلا سکے گی۔ اسٹیٹ کونسل ریاستوں میں بھی ایگزیکٹو ممبروں کو طلب کر سکے گی۔ فی الحال ان یقین دہانیوں پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن انہیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ اب انہیں بہت سے سوالوں سے مقابلہ آرا ہونا پڑے گا جن سے ابھی تک ان کا واسطہ نہیں پڑا تھا یا ان کے جواب دینے کی انہیں ضرورت نہیں پڑی۔ ابھی عام آدمی پارٹی کا پورا خاکہ اور ان کے نقطہ نظر آنا باقی ہے لیکن اس کی تشکیل جس طرح سے لیفٹ پارٹیوں کی طرز پر ہوئی ہے اور ان کے اشوز پر سماجوادی اور لیفٹ پارٹی رجحان ظاہر کیا گیا ہے اس پر کچھ شبہات کے سوالات ہونا فطری ہے۔ مثال کے طور پر ان کی نئی پارٹی کا استعمال خاص کر بڑی صنعتی پروجیکٹوں و ایف ڈی آئی جیسے اشوز پر ان کی کیا پالیسی ہوگی؟ اروند کجریوال پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اشو تو اٹھاتے ہیں لیکن انہیں آگے نہیں بڑھاتے اور انہیں آخر تک نہیں لے جا پاتے ، کیا پارٹی میں بھی یہی رخ رہے گا؟ عام جنتا کے مفادات کو عام ریلیوں میں اٹھانا اور بات ہے لیکن ان پر بنیادی طور پر عمل کرانازیادہ مشکل ہے۔ چناؤ لڑنے کے لئے ہر طرح کی مہارت کی ضرورت ہوتی دیکھنا یہ ہوگا کجریوال کو چندہ کہاں سے اور کتنا ملتا ہے؟ پورے دیش میں ورکروں کی جماعت کھڑا کرنا بھی کم چیلنج نہیں ہے۔ لیکن ان سب دقتوں کے باوجود ان کی ’عام آدمی پارٹی‘ کی اس لئے تعریف کی جائے گی کیونکہ فی الحال ان کے طور طریقے اور ارادے دیگر سیاسی پارٹیوں سے الگ دکھائی پڑتے ہیں۔ (انل نریندر)

27 نومبر 2012

آج مقدمہ ہارے گا ،کل پدم بھوشن دے دینا

اترپردیش کے دہشت گردی کے واقعات کے مسلمانوں کو بے قصور بتاکر مقدمے واپس لینے کی اترپردیش حکومت کی کوششوں کی مخالفت تیز ہوگئی ہے۔ سیاسی پارٹیوں سے لیکر عدالتوں میں اس کی مخالفت کی جارہی ہے۔آئین ساز کونسل میں کانگریس کے لیڈر نصیب پٹھان نے کہا دہشت گردی کی ملزمان پر سے مقدمے واپس لینے کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ بھاجپا پردیش پردھان ڈاکٹر لکشمی کانت باجپئی نے کہا کہ ہائی کورٹ کے تلخ تبصرے کے باوجود بھی سپا سرکار نے اقتدار میں بنے رہنے کا اخلاقی حق کھودیا ہے۔ ان کا کہنا ہے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف جہاں ایک طرف پوری دنیا لڑرہی ہے وہیں سپا حکومت دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم لڑکوں کو ووٹ کے لالچ میں چھوڑے جانے کی کارروائی کررہی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان راجندر تیواری نے کہا سپا حکومت نے ایک طبقہ خاص کو خوش کرنے کے لئے ساری حدیں پار کردی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نہ تو یہ حکومت قانون و نظم پر کوئی کنٹرول کر پارہی ہے اور نہ ہی دیش کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی سمت میں کوئی ٹھوس قدم اٹھا پا رہی ہے۔ سب سے تلخ تبصرہ الہ آباد ہائی کورٹ نے کیا ہے۔ سی آر پی ایف کیمپ پر آتنکی حملے جیسے واقعات میں ملوث لوگوں پر سے مقدمے اٹھانے کی کوشش کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوران جسٹس آر کے اگروال اور آر ایس آر موریہ کی ڈویژن بنچ نے کہا یہ کون طے کرے گا کہ دہشت گرد کون ہے جب معاملہ عدالت میں ہو تو عدالت کو ہی طے کرنے دیجئے۔ حکومت خود کیسے طے کرسکتی ہے کون آتنک وادی ہے اور آتنک وادیوں پر مقدمہ ہٹانے کی پہل کر کیا حکومت دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ آج دہشت گردوں کو چھوڑدیں کل ان کو پدم وبھوشن دیں گے؟ سنکٹ موچن مندر کینٹ اسٹیشن سمیت وارانسی کے کئی مقامات پر بم دھماکو میں شامل لوگوں پر مقدمے اٹھانے کے خلاف چیلنج کرنے والی اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالت نے یہ تبصرہ کیا۔ اس معاملے کو لیکر وارانسی کے نتیا نند چوبے اور سماجی کارکن راکیش نائک نے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے اور بتایا کہ وارانسی میں ہوئے دھماکوں کے ملزمان پر مقدمے چلا ئے جارہے ہیں اور مجرمانہ معاملے ہٹانے کے لئے پردیش کے اسپیشل سکریٹری کے ذریعے 31 اکتوبر2012 ء کو جاری آدیش کو چنوتی دی ہے۔ رضاکار تنظیم کے وکیل ایس کے گپتا اور شیو شنکر ترپاٹھی وغیرہ کی دلیل تھی ملزمان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 302.307,333 اور427 اور 120B وغیرہ دفعات کے تحت مقدمے درج ہیں۔ ان کی یہ حرکت دیش دشمنی کے دائرے میںآتی ہے۔ ایسے معاملوں میں مقدمہ واپس لینے سے اس طرح کی حرکت کرنے والوں کے حوصلے بڑھیں گے۔ عرضی میں اس سلسلے میں ریاستی حکومت کے ذریعے جاری حکم کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ہماری رائے میں اترپردیش سرکار کو عدالتوں پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اگر پولیس نے ان مقدمات میں بے قصوروں کو پھنسایا ہے تو وہ عدالت سے چھوٹ جائیں گے۔ ہم نے نئی دہلی کے لاجپت نگر بم دھماکے کے معاملے میں دیکھا کہ دہلی ہائی کورٹ نے ثبوتوں کی کمی سے دو ملزمان مرزا نثار حسین اور محمد علی کو بری کردیا۔ سماجوادی حکومت کے مفاد میں یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اس پر دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کی مہر لگے۔ یہ نہ تو اس کے لئے اچھا ہے اور نہ ہی دیش کے لئے ۔ ریاستی سرکار کو مقدمے واپس لینے کے حکم کو واپس لے لینا چاہئے۔
(انل نریندر)

طالبانی فرمان : شیعوں سے عقیدت کا ٹکراؤہے ،و ہ ایش نندک ہیں

پاکستان میں چاہے ہندو ہوں، عیسائی ہوں انہیں تو نشانہ بنایا ہی جاتا ہے لیکن شیعوں کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ آئے دن شیعوں کی مساجد و جلوسوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تازہ واقعہ پاکستان کے شورش زدہ خیبر پختونخواہ صوبے میں ڈیرہ اسماعیل خاں میں ہوا ہے۔ باہری علاقے میں واقعہ ایک امام باڑے سے نکلے شیعہ جلوس کو نشانہ بنا کر سڑک کے کنارے رکھے بم کو اڑا کر7 لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا جبکہ دیگر18 زخمی ہوئے ہیں۔ چشم دید گواہوں اور پولیس نے بتایا کہ بم کو ایک کوڑے کے ڈھیر میں چھپا کر رکھا گیا تھا۔ جلوس شہر کے بڑے اجتماع میں شامل ہونے جارہا تھا۔ دھماکے میں چار بچوں سمیت 7 افراد کی موت ہوگئی۔ زخمیوں میں دو بچے اور ایک پولیس ملازم شامل ہے۔ پولیس نے بتایا بم تقریباً 10 کلو گرام دھماکے کی صلاحیت کا تھا۔ اس میں بال بیرنگ اور دیگر چیزیں لگائی گئی تھیں۔ ٹی وی کے مناظر میں کئی مکانوں کی دیواریں گرتی ہوئی دکھائی گئیں۔ سن680 عیسوی میں امام حسین کی شہادت پر غم جتانے کے لئے یوم عاشورہ پر شیعہ فرقے کے لوگ جلوس نکالتے ہیں۔ تمام سکیورٹی انتظام کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری لی ہے۔ ان کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گردوں کا شیعوں کے ساتھ عقیدت کا ٹکراؤ ہے۔ ترجمان نے اقلیتوں کو بھی توہین اسلام کا موردالزام قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان ان کو بھی نشانہ بناتا رہے گا۔ اس حملے سے کچھ دن پہے جمعرات کو راولپنڈی میں ایک شیعہ جلوس کے دوران ہوئے خودکش حملے میں 23 لوگ مارے گئے تھے جبکہ60 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ خیبر پختونخواہ کے لکھوی جھاروات میں ایک شیعہ امام باڑے کے پاس حملہ آور نے خود کو اڑا لیا دھماکے میں دو افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے پاکستان کے گلگت۔ بلتستان علاقے میں نامعلوم بندوقچیوں نے شیعہ فرقے کے کم سے کم 26 لوگوں کو تین بسوں سے باہر اتار کر اور گولی مارکر ان کو قتل کردیا۔ بندوقچیوں نے بس مسافروں کے شناختی کارڈوں کی پہلے جانچ کی اور پھر گولی ماردی۔ پاک ٹی وی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں قریب 15 بندوقچی شامل تھے جسے حکام نے ذاتی حملہ قراردیا۔ پہلے بھی گلگت۔ بلتستان میں بسوں پر حملے میں اقلیتی شیعہ فرقے کے درجنوں لوگ مارے جاتے رہے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ بھارت میں چھوٹی موٹی واردات پر شیعہ فرقہ سڑکوں پر اترآتا ہے لیکن پاکستان میں ان کو چن چن کر مارا جارہا ہے اور آج تک شیعہ فرقے کے پیشواؤں اور بھارت کے شیعوں نے اس بڑھتے مظالم پر آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ پاکستان ہائی کمیشن میں اس کے خلاف مظاہرہ کیوں نہیں کیا اور اپنا احتجاج درج نہیں کرایا۔ طالبان کی نظروں میں پاکستان میں مقیم شیعہ بھی امتیازی زمرے میں آتے ہیں جس میں ہندو، سکھ و عیسائی شامل ہیں۔ طالبان نے صاف کہا ہے یہ مذہب کا ٹکراؤ اور عیش نندا کے تحت انہیں بھی نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔
(انل نریندر)

25 نومبر 2012

پونٹی اور ہردیپ چڈھا کا قتل کس نے اور کیوں کیا؟معمہ برقرار

پونٹی چڈھا اور ان کے بھائی ہردیپ چڈھا کو کس نے مارا اور کیوں مارا؟ یہ اس ہائی پروفائل قتل کی واردات کے 7 دن بعد بھی واضح نہیں ہوسکا۔ شروع میں بتایا گیا کہ چھوٹے بھائی ہردیپ نے پونٹی کو مارا اور اتراکھنڈ اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین سکدیو سکھ نامدھاری کے پی ایس او نے اپنی کاربائن سے بندوق سے ہردیپ کو دو گولیاں ماردیں۔ بدھوار کو آئی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پونٹی کو 7 گولیاں لگیں ، پونٹی کو 2 گولیاں ان کی چھاتی پر لگی تھیں۔ یہ دل اور پھیپھڑوں میں پھنس گئیں جس سے دل میں پنچر ہوگیا۔ پولیس کے مطابق دو گولیاں ان کے پیر اور باقی تین جسم کے نچلے حصے میں لگیں۔ وہیں ہردیپ کو جو دو گولیاں لگیں وہ جسم سے آر پار ہوگئی تھیں۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق فارم ہاؤس کے اندر اور باہر کمپلیکس میں قریب80 راؤنڈ گولیاں چلی تھیں۔ ان سبھی کے خول مل گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب اتنی گولیاں چلیں تو یہ کیسے ہوا مرنے والے صرف پونٹی اور ہردیپ دو ہی شخص تھے؟ پونٹی کے ساتھ نامدھاری بیٹھے ہوئے تھے ان کو کوئی گولی کیوں نہیں لگی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد پولیس کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ چڈھا بھائیوں کو 9 گولیاں لگی تھیں لیکن ایک درجن سوال اب بھی ان سلجھے ہیں۔ کیا بھائیوں کا جھگڑا محض 2 فارم ہاؤسوں کو لیکر ہی تھا؟ واردات کے دوران موقعے پر کون کون موجود تھا؟ سکھدیو سنگھ نامدھاری کا پورے معاملے میں کیا کردار رہا۔ کیا سکھدیوکے کہنے پر تیاگی نے گولی ماری؟ موقعے پر کیا دیگررسوخ دار لوگ بھی موجود تھے؟ پی سی آرکو ٹیلی فون کے بعد بھی پولیس کیوں نہیں آئی اور بھنک لگی ساڑھے گیارہ بجے، یہاں گولیاں چلی ہیں؟ کیا موقعے پر جانے والے پولیس والوں کو جھگڑے کی جانکاری تھی، وہ کسی سبب چپ چاپ رہے؟ کن کن قاتلوں کی طرف سے فائرنگ ہوئی؟ راجدیو وہ شخص ہے جس نے پونٹی و ہردیپ کے درمیان ہوئے خونی کھیل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ راجدیو پونٹی کی گاڑی کا ڈرائیور ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ فارم ہاؤس نمبر21 میں تھے۔ سنیچر کو صبح قریب ساڑھے گیارہ بجے پونٹی چڈھا باہر آئے اور ان سے پوچھنے لگے کے وہ کہاں جارہا ہے۔ اس پر راجدیو نے کہا میڈم کہیں جارہی ہیں اور وہ ان کا انتظار کررہا ہے۔ تب پونٹی نے اس سے کہا میڈم بعد میں جائیں گی پہلے سینٹرل ڈرائیور فارم ہاؤس نمبر42 چلو۔ راجدیو نے بتایا کہ ان کے ساتھ منیجر نریندر اسکور پیو گاڑی میں پیچھے سے آرہا تھا۔ جب نریندر اندر سے چابی لیکر فارم ہاؤ س کا تالا کھول رہا تھا اسی وقت ہردیپ آگئے۔ ہردیپ نے نریندر کو گالی دیتے ہوئے اس کے پیر میں گولی ماری۔ جب ہردیپ کے لینڈ کروزر گاڑی کے بونٹ پر گولی لگی تو راجدیو گاڑی سے اترکر دور چلا گیا۔ ہردیپ نے پونٹی کے اوپر گولیاں چلانی شروع کردیں تو وہ موقعہ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اگر وہ بھاگنا نہیں تو مارا جاتا۔ انگریزی اخباروں میں ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ہردیپ نے پونٹی پر گولی انہیں مارنے کے لئے نہیں چلائی تھی۔ ان رپورٹوں میں دعوی کیا گیا ہے پونٹی نے ہردیپ کو زمین پر پٹخ دیا اور جب وہ گر گئے تو انہوں نے دونوں ہاتھوں میں پستول لی۔ پہلے پونٹی پر گولی ماری اور پھر انہوں نے پونٹی کو مارنے کی نیت سے گولی نہیں چلائی۔ 
پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اتنی تو تصدیق ہوتی ہے کہ پونی کی ٹانگ میں گولی لگی۔ پولیس تصدیق کرتی ہے کہ پونٹی کو دو گولیاں ان کی ٹانگ میں لگیں ۔ پھر سے سوال اٹھتا ہے کہ پونٹی پر کس نے گولیاں چلائیں اور کیوں؟ اس میں سکھدیو سنگھ نامدھاری کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ وہ باربار صرف اپنا بیان بدل رہے ہیں بلکہ کئی دنوں سے غائب تھے۔ دہلی پولیس نے اتراکھنڈ پولیس کی مدد سے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ سکھدیو کو ہردیپ کے منیجر نندلال کے ذریعے درج کرائی گئی شکایت پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں یہ آٹھویں گرفتاری ہے۔ پولیس کی گرفت میں آئے سبھی لوگ پونٹی گروپ کے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے اب سکھدیو اور سچن تیاگی (سکیورٹی گارڈ) سے پوچھ تاچھ کے بعد واردات کی تصویر صاف ہونے لگی ہے۔ سکھدیو سنگھ مجرمانہ ذہنیت رکھتے ہیں۔ اس دن وہ اپنے ساتھ غنڈے لیکر فارم ہاؤس پر زبردستی قبضہ کرنے کے لئے پونٹی کے پاس آئے تھے۔ ہم تو اب اس نتیجے پر پہنچتے جارہے ہیں اس فائرنگ میں ٹرائیگر چلانے والا کوئی اور ہی تھا۔ کبھی کبھی خیالی واقعات پر مبنی فلمیں بھی سچائی کو سامنے لانے میں کارگر ہوسکتی ہیں۔
1994ء میں فلم ساز راجیو رائے کی تھریلر فلم ’مہرہ‘ آئی تھی۔ پولیس یہ دبی زبان میں مان رہی ہے کہ کسی تیسرے فریق نے فائدہ اٹھانے کے لئے دونوں بھائیوں کو آمنے سامنے کر ان کو قتل کروادیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیصلہ لیا گیا ہے کہ معاملے کی جانچ کررہی پولیس کی21 ٹیموں کو یہ فلم دکھائی جائے گی جس سے کھیل کے اصلی مہرہ کو سامنے لایا جاسکے۔ فلم اداکار گلشن گروور اور رضا مراد کا اپنا اپنا گروپ ہوتا ہے۔ نصیر الدین شاہ ان دونوں گروپ کا خاتمہ کروا کر خود شہر پرراج کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ اداکار سنیل شیٹی کو مہرہ بناتا ہے۔ نصیر الدین شاہ کی ایک چال پر رضا مراد اور گلشن گروور کا گروہ آمنے سامنے آجاتا ہے۔ اسی دوران افواہوں سے گمراہ تیسرا گروپ دونوں کا صفایا کردیتا ہے۔ معاملے کی جانچ کررہے پولیس افسر اکشے کمار کو سارا ماجرا کافی مشقت کے بعد سمجھ میں آتا ہے اور وہ نصیر الدین شاہ کا خاتمہ کردیتا ہے۔ پونٹی سے سب سے زیادہ پریشان شرابی مافیہ تھا۔
مغربی یوپی کے 20 ضلعوں و ریاست میں پونٹی کا سکہ چلتا تھا اور ضلع کی 40 فیصد دوکانوں پر اسی کی شراب بکتی تھی جس سے دوسرے کاروباری پریشان تھے۔ پونٹی کے رسوخ کے چلتے اب تک ا س دھندے سے جڑے لوگ احتجاج کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے تھے۔ ممکن ہے اس شراب مافیہ نے یہ قتل کی سازش رچی ہو۔ اترپردیش اور اتراکھنڈ میں شراب کے کاروبار میں کئی قتل دفن ہیں۔ 16-17 برسوں کے دوران مغربی یوپی اور اتراکھنڈ میں کئی شخصیتوں کا قتل کرایا گیا تو کئی کو پولیس مڈ بھیڑ میں مار گرا دیا گیا۔ مطلب صاف ہے جن لوگوں نے شراب کے کاروبار میں اپنا سکہ پھر سے جمانا چاہا وہ اس تعطل کو دور کرسکتے ہیں۔ اس قتل کانڈ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے جس نے دونوں کو ایک جگہ پہنچادیا اور پھر دونوں کو راستے سے ہٹا دیا؟دہلی پولیس کو اس قتل کی گتھی کو سلجھانا ہوگا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...