14 مارچ 2015

منموہن سنگھ جی اپنی خاموشی توڑیں اور دیش کو سچ بتائیں

کول بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے میں دہلی میں واقع خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بطور ملزم سمن جاری کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں منموہن سنگھ کے علاوہ صنعتکار کمارمنگلم برلا اور سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پاریکھ کو بھی سمن جاری کرانہیں8 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ2005ء میں برلا گروپ کی کمپنی ہنڈالکو کو اڑیسہ میں تالپیرا۔2 اور3 کول بلاک کے الاٹمنٹ کا ہے۔ ملزم کے طور پر سمن جاری کرنے سے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وہ ایماندار شبیہ کم و بیش خراب ہوتی نظر آرہی ہے جو یوپی اے سرکار کے عہد کے دوران ہوئے گھوٹالے کے درمیان ایک مثال کی طرح تھی۔وزیر اعظم کی کرسی سے رخصت لیتے ہوئے منموہن سنگھ نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ تاریخ ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔ لیکن عدالت کے اس سمن میں تو ان کے حال میں ہی انتشار پھیلا دیا ہے۔ کوئلہ گھوٹالے میں مجرمانہ سازش رچنے اور جن سیوک کے ذریعے جنتا کا بھروسہ توڑنے جیسے سنگین الزامات میں بدعنوانی مخالف قانون کے تحت منموہن سنگھ کا مجرم بنایا جانا ایک معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اس سمن سے ڈاکٹر سنگھ حالانکہ فکر مند ہیں لیکن اسے وہ زندگی کا ایک سلسلہ مان کر شاید خود کو اطمینان کا احساس کرا رہے ہیں۔ انہیں دیش کے قانونی انتظام کے ساتھ اپنی سچائی پر بھی یقین ہے۔ چلئے بحث کے لئے یہ مان بھی لیا جائے کہ منموہن سنگھ بیشک ایماندار ہیں اور ان کی ایمانداری پر سوال نہیں کیا جاتا پر یہ سوال تو بنتا ہی ہے کہ جس شخص کو وزیر خزانہ کے طور سے دیش کی معاشیات کو لال فیتا شاہی کے جال سے آزاد کرانے والا مسیحا مانا جاتا ہے آج خود اس کے در تک کوئلہ گھوٹالے کی آنچ کیسے پہنچ گئی؟ کانگریس کا ترک حالانکہ غلط نہیں ہے کہ سمن جاری کردینے بھر سے کوئی مجرم نہیں ہوجاتا۔لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ گھوٹالے کے دوران کوئلہ منترالیہ کی ذمہ داری منموہن سنگھ کے پاس تھی اور سی بی آئی نے ان سے پوچھ تاچھ بغیر ہی اس کی کلوزر رپورٹ داخل کردی تھی۔ اس کے بھی ثبوت ہیں کہ کوششوں کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم کو جواب طلبی سے دور رکھا گیا تھا۔خصوصی عدالت کے نوٹس دینے پر ہی منموہن سنگھ سے پہلے اس معاملے میں پوچھ تاچھ کی گئی اور اب دوسرے کچھ لوگوں کے ساتھ انہیں مجرم بنایا گیا ہے۔عدالت نے ان تمام لوگوں کو یوں ہی نہیں بلایا ہے بلکہ اسے کئی واقعاتی ثبوت ملے ہیں جن سے انہیں بلانا اسے ضروری لگا ہے۔وزیر اعظم ہونے کے ساتھ ساتھ منموہن سنگھ اس وقت کوئلہ منترالیہ بھی دیکھ رہے تھے جبکہ پاریکھ کوئلہ سکریٹری تھے۔ لیکن عدالت کو سب سے زیادہ کھٹکا اس بات پر لگا ہے کہ ہنڈالکو کو کان الاٹ کرنے کے معاملے میں پی ایم دفتر اتنا بیتاب کیوں تھا کہ وہ اس کے لئے لگاتار دباؤ بنا رہا تھا۔ پی ایم او اور کوئلہ وزارت کی ذمہ داری سنبھالنے والے منموہن سنگھ کو اس کا خلاصہ تو کرنا ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ کیگ کے سابق چیف ونود رائے اپنی کتاب میں یہ صاف کرچکے ہیں کہ نہ صرف کوئلہ بلکہ اسپیکٹرم بٹوارے جیسے تمام معاملوں کی فائلیں پردھان منتری کی میز پر پہنچتی تھیں اور متعلقہ وزیر بھی انہیں پوری جانکاری پہنچایا کرتے تھے۔بیشک یہ ثابت کرنا ٹیڑھی کھیر ہوگا کہ برلا کی چٹھیوں کی بنیاد پر آخری وقت ہنڈالکو کو تالپیرا۔2 کوئلہ بلاک الاٹ کرنے کے پیچھے سابق وزیر اعظم کا شخصی مفاد تھا۔ ایسے میں یہ بالکل ہوسکتا ہے کہ اس گھوٹالے میں منموہن سنگھ پر لگے الزام عدالت میں نہ ٹکیں۔ اس کے باوجود اس کو روک پانے میں ناکام ہونے کے الزام تو ہیں ہی یہ سوال تو پوچھا ہی جائے گا کہ جس وزیر اعظم نے امریکہ کے ساتھ نیوکلیائی سمجھوتے کو آخری شکل دینے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگادیا تھا وہ کول بلاک نیلامی کے پروسیس کو شفاف بنانے میں ویسی ذمہ داری کا مظاہرہ آخر کیوں نہیں کر پایا؟اپنی صاف ستھری شبیہ کے باوجود منموہن سنگھ اگر جمہوری بھارت میں سورگیہ نرسمہا راؤ کے بعد ملزم بنائے گئے دوسرے وزیر اعظم ہیں تو اس سے ان کی چپی اورسستی نے ہی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ اب وقت کی مجبوری ہے کہ آپ اپنی خاموشی توڑیں اور دیش کو سچ بات بتائیں۔آپ کو اپنی چپی توڑنی ہی ہوگی۔
(انل نریندر)

ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے عبدالکریم ٹنڈا بری

26/11 کے حملے کے بعد جاری کی گئی 20 اہم آتنکیوں کی فہرست میں شامل رہے عبدالکریم ٹنڈا کو عدالت کے ذریعے الزام سے بری کرنا دہلی پولیس اور ہماری دیگر سلامتی ایجنسیوں کے لئے کرارا جھٹکا ہے۔ آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے بم ماہر ٹنڈا کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے آتنک وادی اور ایکسپلوزیو ایکٹ (ٹاڈا) کے ایک معاملے میں بری کردیا ہے۔ حالانکہ اسے ابھی جیل میں ہی رہنا پڑے گا کیونکہ اس کے خلاف کئی معاملے عدالت میں زیر التوا ہیں۔پولیس کی اسپیشل سیل نے16 اگست 2013ء کو ٹنڈا کو بھارت ۔ نیپال سرحد سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے لشکر طیبہ کے بم ماہر کو پکڑا ہے لیکن جب عدالت میں ثبوت پیش کرنے کی باری آئی تو جانچ ایجنسی کے ہاتھ میں مقدمہ چلانے لائق ثبوت بھی نہیں ملے۔ پٹیالہ ہاؤس واقع ایڈیشنل سیشن جج نینا بنسل کرشن کی عدالت نے پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بچاؤ فریق کے ترک استغاثہ کی دلیل پر بھاری پڑ گئے۔ ایسا کوئی ثبوت ہی نہیں ہے جس کی بنیاد پر عبدالکریم ٹنڈا کے خلاف اس معاملے میں مقدمہ چلایا جا سکے۔ پولیس کے سارے دعوے کمزور پڑ گئے جس میں پولیس نے اسے سلسلہ وار بم دھماکے کی سازش کا ماسٹر مائنڈ بتایا تھا۔ دہلی پولیس نے ٹنڈا کے خلاف 33 معاملے درج کئے تھے لیکن ابھی تک اس کی گرفتاری صرف4 معاملوں میں ہی ہے جن میں سے ایک میں وہ بری ہوگیا ہے جبکہ تین معاملوں میں چارج شیٹ پر بحث پوری ہوچکی ہے۔ فیصلہ آنا باقی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹنڈا کی گرفتاری کے ایک سال سات مہینے بعد بھی پولیس نے اسے 29 معاملوں میں گرفتار نہیں کیا ہے۔جس طرح ٹنڈا جیسے خطرناک آتنکی کے خلاف بھی پولیس مناسب ثبوت پیش نہیں کرسکی وہ فکر کا موضوع ہے۔کیا اسی طریقے سے ہم آتنک وادیوں سے لڑیں گے۔ خانہ پوری کرنے کے لئے لگتا ہے آتنکیوں کو گرفتار تو کر لیتے ہیں لیکن ان کے خلاف کیس صحیح طریقے سے تیار کرنے میں کوتاہی برتی جاتی ہے اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ خونخوار آتنکیوں کی رہائی ہوجاتی ہے۔ پھر اس سے پولیس کی قابلیت پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے کہ وہ اپنے کام کے تئیں کتنی سنجیدہ ہے۔
(انل نریندر)

13 مارچ 2015

مسرت عالم کی رہائی کس نے اور کیوں کی؟

علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کو لیکر تنازعہ تو بڑھ ہی رہا ہے لیکن ساتھ ساتھ کنفیوژن بھی بڑھ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی رہائی کے احکامات کس نے اور کب دئے؟ اس پورے معاملے میں سنسنی خیز موڑ تب آیا جب ایسی جانکاری ملی کہ مفتی سرکار کی تشکیل سے پہلے گورنر راج کے دوران ہی مسرت پر فیصلہ ہوگیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کارروائی 4 فروری کو ہی شروع ہوگئی تھی اور اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ نے ہوم منسٹری کو بھی خط لکھا تھا۔ خط کے مطابق پورے معاملے کی جانکاری جموں وکشمیر کے گورنر ایم۔ این ۔ ووہرا کو بھی دی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے مسرت کو ریاستی اسمبلی چناؤ سے پہلے ہی رہا کیا جانا تھا لیکن چناؤ عمل میں خلل پڑنے کے اندیشے کے چلتے اس فیصلے کوروک لیا گیا۔ چناؤ کے بعد یہاں گورنر رول ختم ہوا اور جیسے ہی سرکار بنی تو مسرت کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسرت عالم کی رہائی کے پیچھے پی ڈی پی لیڈر سپریم کورٹ کے جس حکم کا حوالہ دے رہے ہیں حقیقت میں وہ سیدھے طور پر رہائی کا کوئی حکم نہیں تھا۔ہاں ۔۔۔یہ ضروری ہے کہ بڑی عدالت نے مسرت پر پبلک سکیورٹی قانون (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ منسوخ کرنے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے حکم کو صحیح ٹھہرایا تھا۔ مارچ2013ء میں سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر حکومت سے کہا تھا کہ پرانی بنیاد پر پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کر مسرت کو احتیاطاً حراست میں لینے سے پہلے ایک ہفتے کا وقت دینا ہوگا۔ حقیقت میں یہ وقت مسرت کو قانونی اڑچن دور کرنے کے لئے دئے گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس حکم میں مسرت عالم کو رہا کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔قانونی واقف کاروں کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو صحیح ٹھہرایا تھا جس میں مسرت کو پی ایس اے کے تحت بار بار حراست میں لینے کو غلط قرار دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مسرت کو پی ایس اے کے تحت درج کئے گئے پانچ مقدمات کو منسوخ کردیا تھا۔ اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ مسرت کی رہائی نہ تو مفتی سرکار نے کی ہے اور نہ ہی مرکزی سرکار نے۔ پی ڈی پی مسرت عالم کی رہائی سے پیدا تنازعے سے متاثر ہوئی ہے اور پارٹی کے سینئر لیڈر و وزیر کھیل عمران رضا انصاری نے منگل کے روز اخبار نویسوں سے کہا کہ سپریم کورٹ اور عدالتیں مستقبل میں سیاسی قیدیوں کی رہائی پر ہمیں جو کہیں گی ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ کٹرعلیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی سے پی ڈی پی۔ بھاجپا اتحاد میں کشیدگی پیدا ہونے اور پارلیمنٹ میں زور دار طریقے سے اس موضوع کے اٹھنے کے بعد جموں و کشمیر حکومت نے کہا کہ وہ اب اور سیاسی قیدیوں یا انتہا پسندوں کو رہا نہیں کرے گی۔ جب جموں و کشمیر کے داخلہ سکریٹری سریش کمار سے پوچھا گیا کہ کیا سرکار اور بھی انتہا پسندوں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی جاری رکھے گی تو انہوں نے کہا اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے۔ مسرت عالم کے خلاف پبلک سکیورٹی قانون کے تحت دوبارہ کوئی معاملہ نہیں بنتااس لئے اسے رہا کیا جائے۔
(انل نریندر)

دودھیا سے باہوبلی بنے ڈی پی یادو کا لمبا سفر

قریب23 سال پہلے دادری کے ممبر اسمبلی مہندر سنگھ بھاٹی کے قتل کے معاملے میں منگل کے روز دہرہ دون کی سی بی آئی عدالت نے یوپی کے باہوبلی اور سابق ایم پی ڈی پی یادو سمیت چار افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔غور طلب ہے کہ غازی آباد کے دادری علاقے سے ممبر اسمبلی مہندر سنگھ بھاٹی کو 13 دسمبر 1992 ء میں دادری ریلوے کراسنگ پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ڈی پی یادو سمیت کل 7 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی تھی جس میں سے تین لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ نوئیڈا کے گاؤں سرف آباد میں تیجپال یادو کے گھر دھرمپال یادو کی پیدائش25 جولائی1950 کو ہوئی تھی۔ دھرمپال یادو(ڈی پی یادو) نے ابتدا میں دودھ بیچنے کا کام شروع کیا۔ 70 کی دہائی میں آہستہ آہستہ وہ شراب کے دھندے میں اتر گئے۔80 کی دہائی میں مغربی اترپردیش میں گینگ وار شروع ہوچکی تھی تب ڈی پی یادو کا نام بھی جرائم کی دنیا میں لیا جانے لگا۔ 1989 میں ملائم سنگھ یادو کے ساتھ جڑ کر ڈی پی یادو نے سیاست میں اپنی جڑیں جمائیں۔ دھرمپال یادو مغربی اترپردیش کے باہو بلی سیاستداں ہیں اور اترپردیش کی ایک آدھ ہی پارٹی ایسی رہی ہوگی جس میں وہ نہ رہے ہوں۔ ڈی پی یادو کا بیٹا وکاس یادو سرخیوں میں چھائے جیسیکا لال اور نتیش کٹارا قتل کانڈ میں ملزم رہا ہے اور فی الحال جیل میں بند ہے۔ ڈی پی یادو اور مہندر سنگھ بھاٹی کسی وقت میں ایک ساتھ ہوا کرتے تھے بلکہ بھاٹی نے ہی یادو کو سیاست میں اینٹری کرائی تھی۔
1989 ء میں مرکز میں وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی قیادت والی راشٹریہ مورچہ حکومت بنی تھی اور اس حکومت کے گرنے کے بعد جنتا دل کے کئی ٹکڑے ہوگئے تھے، اسی دور میں بھاٹی اور یادو الگ الگ پارٹیوں میں چلے گئے تھے۔ اور دونوں کے درمیان دشمنی ہوگئی جس کا نتیجہ بھاٹی کے قتل کی شکل میں سامنے آیا۔ کسی سنسنی خیز جرائم کی کہانی کی طرح دکھائی دینے والا یہ واقعہ کوئی انوکھا نہیں ہے دیش کے تمام حصوں میں اسی طرح کے واقعات عام ہیں۔کچھ علاقوں میں جرائمی کرن کم ہے کچھ میں بہت زیادہ۔ اترپردیش ۔ بہار میں ایسے لیڈروں کی تعدا سینکڑوں میں ہے جو ممبر اسمبلی، ایم پی یا وزیر کے عہدے تک پہنچے ہیں اور جن کی بنیادی پہچان جرائم سے وابستہ ہے۔ ایسے لوگ کسی ایک پارٹی سے نہیں جڑتے اور کوئی بھی پارٹی ان سے اچھوتی ہے، مجرم اپنی بلادستی بنائے رکھ سکے اس کیلئے یہ انتظامیہ اور قانون و نظام کو لچر بنائے رکھتے ہیں تاکہ جرائم پیشہ اپنا کاروبار بے خوف کرسکیں۔ سیاست کا اتنا جرائمی کرن ہو چکا ہے کہ پارٹیاں بھی صرف سیٹ جیتنے کے لئے ان باہو بلیوں کا سہارا لیتی ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد یہ اپنی قیمت وصولتے ہیں۔ ڈی پی یادو جیسے لوگ ان تمام پارٹیوں کا ایک اور چہرہ اجاگر کرتے ہیں جو جمہوریت میں آئی گراوٹ کا ثبوت ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہندوستانی سیاست کی یہ کڑوی تصویر بدلنے کی کوئی امید نہیں ہے۔
(انل نریندر)

12 مارچ 2015

free bing advertising coupons

Bing is the one of the biggest search engine  where you can run your ads easily with less investment you can run your affiliate ads and others ads at bing ad network, its easy to setup and great quality conversion and traffic.

choicedelhi.in is providing Bing Ads Coupon Code for all users of Bing Ads. It works with old and new bing Ads accounts, we have various kind of bing vouchers for bing advertising .

We have bing 100$ , Bing 1000$ and bing 500$ coupons (these are packs which you can use in same account ) .we will guide you how to use these without any issue or error.

Believe me you can save a lot of money. So start buying Bing Vouchers and save your money. I am a PPC ( Pay Per Click ) expert and Bing Ads professional I can help you in setting up your ads on bing.

Bing ads choicedelhi Bing Ads Coupon Code

 

Join ME on skype id SPEAKMEME Email me at ceo@SPEAKMEME.COM



Read more http://choicedelhi.in/bing-ads-coupon-code/

پرشانت بھوشن اور یوگیند یادو کو نکالنے کی تیاری

کہا تو یہ جارہا تھا کہ ہولی کے بعد عام آدمی پارٹی میں صلاح صفائی کرنے کی کوشش ہوگی اور پارٹی میں مچا گھمسان شانت ہوجائے گا، پر ہو الٹا رہا ہے۔موصول اشاروں سے تو لگ رہا ہے کہ اندرونی لڑائی بڑھتی جارہی ہے۔ خود پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال بنگلورو میں اپنا علاج کرانے کے لئے پورامنظر نامہ لکھ کر غائب ہیں۔گذشتہ ایک ہفتے سے کیجریوال بنگلورو کے نیچرکیئر سینٹر میں ہیں۔ کرانک کھانسی اور ڈائبٹیز پر قابو کرنے کے ساتھ ہی سی ایم کو یہاںیوگ اور سادھنا کے ذریعے تناؤ کم کرنے کیلئے بھی رکھا گیا ہے۔ سی ایم کا علاج کررہے ڈاکٹر نے بتایا کہ دن بھر میں صرف آدھے گھنٹے موبائل فون کا استعمال کر سکتے ہیں۔کسی طرح کا تناؤ نہ ہو اس لئے انہیں فی الحال میڈیا و سنچار کے دیگر ذرائع سے دور رکھا جارہا ہے۔ رنگوں کے تہوار کے بعد دہلی میں پارٹی میں گھمسان الٹا اور تیز ہوگیا ہے۔عام آدمی پارٹی کے چار سینئر ممبر منیش سسودیا، گوپال رائے، پنکج گپتا اور سنجے سنگھ نے ایک مشترکہ بیان جاری کر پارٹی کے سینئر لیڈر یوگیندر یادو و پرشانت بھوشن پر پارٹی کے خلاف کام کرنے کے الزام لگائے ہیں۔ بیان میں 8 وجوہات بتاتے ہوئے دونوں نیتاؤں کو حال ہی میں پارٹی کی سیاسی معاملوں کی کمیٹی (پی اے سی)سے باہر کرنے کی وجہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔یادو اور بھوشن کو پی اے سی سے باہر کرنے کی وجوہات پر ڈپٹی سی ایم سسودیا، وزیر ٹرانسپورٹ گوپال رائے، آپ نیتا پنکج گپتا اور سنجے سنگھ نے کہا کہ دہلی چناؤ کے دوران ہمارے تین بڑے نیتا پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو اور شانتی بھوشن پارٹی کو ہرانے کی کوششیں کررہے تھے۔
پرشانت بھوشن نے دوسرے راجیوں کے والینٹیروں کو فون کر دہلی میں چناؤ پرچار کرنے کیلئے آنے سے روکا۔ جو لوگ چندہ دینا چاہتے تھے انہیں بھی چندہ دینے سے روکا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چناؤ کے قریب دو ہفتے پہلے جب آشیش کھیتان نے پرشانت بھوشن کو لوک پال اور سوراج کے مدعے پر ہونے والے دہلی ڈائیلاگ کی رہنمائی کی گزارش کی تو انہوں نے کھیتان کو بولا کہ پارٹی کے لئے پرچار کرنا تو بہت دور کی بات ہے وہ دہلی کے چناؤ میں پارٹی کوہرانا چاہتے ہیں۔ صحافی سے سیاستداں بنے آشوتوش نے ایک بیان میں بتایا کہ کس طرح لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کی کراری ہار کے بعد یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کے حملوں کی وجہ سے اروند کیجریوال رونے لگے تھے اور بڑی مشکل سے انہوں نے اور انجلی دمانیا نے انہیں سنبھالا۔ ادھر دوسری جانب پارٹی کے مہاراشٹر کے انچارج مینک گاندھی بھی گھمسان میں شامل ہوگئے ہیں۔ پارٹی میں اس وقت جم کر خیمے بازی ہورہی ہے۔ پارٹی میں بنے دونوں گٹ ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوشش کررہے ہیں مگر ان سب کے بیچ کیجریوال ابھی سب پر بھاری ہیں۔موصولہ جانکاری سے لگتا ہے کہ تنازعے کا پٹارہ دوسرے گٹ کے پارٹی میں بنے رہنے تک نہیں تھمے گا۔ مانا جارہا ہے کہ سیاسی معاملوں کی کمیٹی پی اے سی سے نکالے جانے کے بعد یوگیندر یادو و پرشانت بھوشن کو پارٹی سے باہر کا راستہ بھی دکھایا جاسکتا ہے۔ مارچ کے آخر میں پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ ہونی ہے جس میں ان دونوں پر فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں رسمی طورسے کوئی بولنے کو تیار نہیں لیکن پنجاب سے ’آپ‘ ممبر پارلیمنٹ بھگوانت سنگھ مان نے صاف طور پر کہا کہ دونوں نیتاؤں کو باہر کا راستہ دکھا دینا چاہئے۔نظریاتی اختلاف اتنے گہرے ہوگئے ہیں کہ دونوں گٹ ایک ساتھ کام نہیں کرسکتے۔کیجریوال گروپ کا صاف ماننا ہے کہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں شامل لوگوں کو ، چاہے وہ پارٹی کے کتنے ہی بڑے نیتا کیوں نہ ہوفوراً باہر کا راستہ دکھانا ہوگا کیونکہ یہ پیغام جانا ضروری ہے کہ پارٹی کو توڑنے کی سازش رچنے والے کا حشر کیا ہوگا ہے۔
(انل نریندر)

سڈنی میں بھارتی نسل کی پربھا کا بے رحمی سے قتل

اور اب آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں بھارتیہ نسل کی خاتون پربھا ارون کمار کا بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔پربھا پر سڈنی کی ایک سب سٹی ویسٹ موڑمیں سنیچر وار کو اس وقت حملہ ہوا جب وہ بھارت میں اپنے پتی سے فون پر بات کررہی تھی۔ پولیس کو سی سی ٹی وی کی فٹیج ملی ہے جس میں آئی ٹی صلاحکار پربھا حملے سے ٹھیک پہلے ایک ریلوے اسٹیشن سے آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اس دوران وہ بنگلورو میں اپنے پتی سے بات کرتے ہوئے نظر آرہی ہے۔ پربھا نے پتی کو بتایا تھا کہ کچھ لوگ اس کا پیچھا کررہے ہیں۔کچھ دیر بعد انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چاقو مارا گیا ہے۔ اس کے بعد آواز آنی بند ہوگئی۔ 
سڈنی پولیس نے سوموار کو اشارہ دیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ سڈنی میں پربھا کا بے رحمی سے قتل نسل وادی سوچ کا نتیجہ ہے۔یہ اچانک کیا گیا حملہ ہوسکتا ہے لیکن سی سی ٹی وی فٹیج سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پربھا کے حملہ آور اس کا پیچھا کررہے تھے اور مارنے پر تلے ہوئے تھے۔انہیں اس بات کا بھی خوف نہیں تھا کہ حملے کے وقت وہ اپنے پتی سے بات کررہی تھی۔پربھانے راکس میں واقع آئی ٹی کمپنی آئیسٹری میں کام کرتی تھی۔ پربھا کے قتل کے بعد جانچ کیلئے جس جاسوسی دستے اسٹرائک فورس مارکو آلا کا گھٹن کیا گیا اس میں پیرامیڈا لوکل ایریا کمانڈ اور اسٹیٹ کرائم کمانڈ کے ہومی سائڈ اسکوائڈ کی پولیس شامل ہے۔وزیر خارجہ سشما سوراج نے پربھا کے قتل پر دکھ جتاتے ہوئے کہا کہ ہماری ایمبیسی پربھا کی کمپنی کے لگاتار سمپرک میں ہے۔ انہوں نے ہمیں ہر ممکن مدد کا بھروسہ دلایا ہے۔ ویسے آسٹریلیا میں بھارتیہ نسل کے لوگوں پر پہلے بھی حملے ہوچکے ہیں۔امید کی جانی چاہئے کہ سڈنی پولیس معاملے کی تہہ تک جائے گی اور بتائے گی کہ پربھا کے اس طرح بے رحمی کے ساتھ قتل کا ذمہ دار کون اور کیوں ہے؟
(انل نریندر)

11 مارچ 2015

کشمیر میں بری پھنسی بھاجپا: ادھر کنواں ادھر کھائی

یہ تو مانا جارہا تھا کہ متنازعہ شبیہہ کے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید کے ساتھ بھاجپا کی سانجھی سرکار کانٹوں بھری ہوگی لیکن یہ امید نہیں تھی کہ مفتی صاحب اقتدار سنبھالتے ہی ایسا قدم اٹھائیں گے جس سے تنازعہ پیدا ہوجائے گا۔ بھاجپا کے تعاون سے سرکار بنانے کے بعد پی ڈی پی کی جانب سے سب سے پہلے جموں و کشمیر اسمبلی چناؤ کے لئے الگاؤ وادیوں، آتنکیوں کا شکریہ ادا کرنا اور پھر سنسد پر حملے میں شامل آتنکی کو سزادینے کے فیصلے کی مخالفت کرنا اور اب ایک کٹر پنتھی لیڈر کو رہا کیا جانا یہی بتاتا ہے کہ ان دونوں پارٹیوں کے رشتے کتنی تیزی سے بگڑتے چلے جارہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید کے حکم پر رہا ہوئے آتنکی نیتا مسرت عالم کشمیر گھاٹی میں لوگوں کو پتھراؤ کے واقعات کیلئے اکساتا رہا ہے۔ 2010ء میں مظاہرے اور پتھراؤ کے واقعات میں مبینہ کردار کیلئے مسرت کو گرفتار کیا گیاتھا۔ ان واقعات میں 120 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ 10 لاکھ کا انعام رکھا گیا تھا راجیہ سرکار کے ذریعے مسرت عالم کے سر پر۔ بھاجپا کے ریاستی صدر جگل کشورشرما نے کہاکہ مسرت عالم کی رہائی کامن منیمم پروگرام کا حصہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر راجیہ میں گٹھ بندھن سرکار چل رہی ہے۔ہمارے اس فیصلے سے کوئی تائید نہیں ہے۔ ویسے یہ پہلی بار نہیں ہے جب پی ڈی پی اپنے فیصلوں کی وجہ سے سرخیوں میں آئی ہو بلکہ سال2002ء میں جب پی ڈی پی نے کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن کیا تھا تو مفتی نے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالنے کے ایک ہفتے کے اندر کئی آتنکیوں کو رہا کیا تھا اور کانگریس کے لئے پریشانی پیدا کی تھی۔ اور اب ایک بار پھر سعید نے وہی حکمت عملی اپنا کر بھاجپا کو پریشان کردیا ہے۔جموں و کشمیر میں بھاجپا ممبران اسمبلی اور وزیروں نے ایک آواز میں پی ڈی پی سے گٹھ بندھن توڑنے کی مانگ کی ہے۔
اس سے پہلے کے دونوں پارٹیوں کے رشتوں میں اور زیادہ نقصان ہو اور ملک کی چنتا بڑھے، بھاجپاکو پی ڈی پی کے ساتھ نہ صرف بات چیت کرنی ہوگی بلکہ کوئی سخت پیغام بھی دینا ہوگا۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ کیونکہ جموں و کشمیر میں پتھر بازی اور بھارت مخالف مہم چھیڑنے والے کٹر پنتھی مسرت عالم کی رہائی قبول نہیں کی جاسکتی۔اس لئے نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس نے جو پتھر بازی مہم شروع کی تھی اس میں قریب100 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔اچھا تو یہ ہوتا کہ مفتی مرکز کی مودی سرکار کے تعاون سے راجیہ کی جامع ترقی کرتے اور پہلی اولیت کی شکل میں گھاٹی سے مہاجرت کر چکے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ کشمیری پنڈتوں کی باز آبادکاری کی بات کرتے لیکن انہوں نے ا ن کی ترجیح صاف ہے ۔ مفتی کی کوشش دیش کے مفاد کو داؤ پر لگانے کی تو ہے ہی خود بھاجپا کے لئے تشویش اور فکر کا موضوع ہے۔بہتر ہو کہ بھاجپا یہ یقینی بنائے کہ ان حالات کی جانچ پڑتال ہو جس میں مسرت عالم کو رہا کیا گیا۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ مفتی یہیں رکنے والے نہیں ، وہ اور بھی الگاؤ وادیوں اور آتنکیوں کو رہا کرنے کے چکر میں ہیں۔ بھاجپا بری پھنسی ہے ادھر کنواں ہے تو ادھر کھائی۔
(انل نریندر)

بی ایس ایف کے ان گمنام ہیروز کو سلام

آج میں قارئین کو فوج کے دو مختلف یونٹوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن کے بارے میں اخباروں ، ٹی وی پر کم ہی چرچا ہوتی ہے۔ دیش کی 6386 کلو میٹر لمبی سرحد پر دشمن کی ہر حرکت پر پینی نظر رکھتے ہیں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے جوان۔ اسی فورس کے 220 شارپ شوٹر جیسلمیر علاقے کی پاکستان سے سٹی کشن گڑھ فیلڈ فائرنگ رینج میں موجود تھے۔ 10 ہزار جوانوں میں سے چنے گئے 220 شارپ شوٹروں نے 81 مورٹار اور ایم ایم جی سے نشانے لگائے۔پولیس کے انکاؤنٹر ماہرین اور اسپیشل فورسز پر تو فلمیں بنی ہیں لیکن بی ایس ایف کے ان شارپ شوٹروں کو کوئی نہیں جانتا۔جموں فرنٹیئر کی سپورٹ ویپن ٹیم کے جوان 1800 میٹر دور تک نشانہ لگا سکتے ہیں۔ نشانہ ایسا کہ ایک بار میں اپنا ٹریگر دبا کر چار سے پانچ راؤنڈ فائر کر دشمن کو ڈھیر کردیتے ہیں۔ اتنے زبردست شوٹر ہیں یہ کہ کچھ اندھیرے میں بھی مورٹار سے گولہ داغ کر پانچ سے دس سیکنڈ میں چار سے پانچ کلو میٹر دور دشمن کی چوکی کو نیست و نابود کردیتے ہیں۔ محض10 منٹ لگتے ہیں اور نئی جگہ مورٹار کھڑی کر اسی ٹارگیٹ کو ہٹ کرنے کی خوبی ہے ان میں۔پانچ سیکنڈ میں داغتے ہی81 ایم ایم کا گولہ۔ نشانہ سادھنے میں ماہر ہیں یہ جوان۔ تریپورہ فرنٹیئر کی ٹیم کے ایک ممبر بتاتے ہیں کہ ہم تین سال پہلے جموں و کشمیر کے کپواڑہ سیکٹر کی پوسٹ پر تعینات تھے۔ ایک رات مورچے پر کچھ گھس پیٹھیوں کو باڑ کے پاس آتے دیکھا ،وہ لشکر طیبہ کے آتنکی تھے۔ فائرنگ کی لیکن وہ نہیں رکے ، تب ہم نے گولے داغے۔ پوری رات ڈھائی سو راؤنڈ فائر کئے۔ پاکستان کے فارورڈ ایریا میں آگ لگ گئی اس میں ہی 12 گھس پیٹھئے مارے گئے۔ تین چار مہینے پہلے جموں و کشمیر کے چکن نیک علاقے میں پاکستان نے فائرنگ کردی تھی ، رات بھر فائرنگ چلی، بلٹ و اسلحہ اور منگایا گیا۔ تین رینجرز ڈھیر کردئے۔ صبح پاکستانی رینجر نے ہاتھ کھڑے کئے تبھی فائرننگ رکی۔ اسی ٹیم کے اسسٹنٹ کمانڈینٹ ماجد خان بتاتے ہیں کہ چکن نیک ایریا میں ہی دو دن لگاتار چلی فائرنگ میں آٹھ رینجرز ڈھیر کرنے کے ساتھ تیل ڈپو آرمی ٹارگیٹ کو بھی تباہ کردیا۔راجستھان فرنٹیئر کے ترجمان ڈی آئی جی روی گاندھی بتاتے ہیں کہ ایم ایم جی اور مورٹار ٹیمیں اپنے ویپن کے ساتھ جموں و کشمیر میں سیز فائر کی خلاف ورزی کا جواب دینے میں سب سے بڑا کردار ادا کررہی ہیں۔ ایک فرنٹیئر کی ٹیم کو 18 منٹ تک لگاتار فائرنگ کرنی ہوتی ہے۔مارشل پوائنٹ یعنی نشانہ لگانے کی جگہ سے ایک کلو میٹر پہلے یہ ٹیم دوڑ کر یہاں آتی ہے۔پوزیشن لے کر پورے18 منٹ میں تین سے چار ہزار راؤنڈ فائر کرتی ہے۔ اس دوران سامنے مصنوعی ٹارگیٹ کے سینے میں جتنی گولی لگتی ہے اسی سے اس کی ایکیوریسی کا پتہ چلتا ہے۔ ہم بی ایس ایف کے ان جوانوں کو سلام کرتے ہیں۔ یہ ہیں دیش کے گمنام ہیروز۔
(انل نریندر)

10 مارچ 2015

88 فیصد کانگریسی کارکن مانتے ہیں کہ نہرو۔ گاندھی کرشمہ ختم ہوگیا ہے

ریاستوں میں تنظیمی ڈھانچے میں بدلاؤ کی شروعات کے ساتھ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں کانگریس کی نئی پارٹی قریب قریب طے ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس اب اکثریت مخالف اپنی شبیہ کو سدھارنے میں جٹے گی۔ دراصل کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کانگریس اکائیوں سے پارٹی کو ابھارنے کیلئے اور پھر سے جیت کے راستے تلاشنے کے لئے سجھاؤ مانگے تھے۔ اسی رائے مشورے میں کئی پردیش کانگریس اکائیوں کے یہ خیالات سامنے آئے کہ پارٹی اقلیتوں کی پیروکار بن کر سامنے آرہی ہے جبکہ اکثریت کی مخالف شبہہ سے پارٹی کو نقصان ہورہا ہے۔ گجرات اکائی کی طرف سے یہ خیال بھی سامنے آیا ہے کہ پارٹی گودھر ا کانڈ کے بعد پیدا ہوئے گجرات دنگوں کے متاثرین کے درد پر مرحم لگاتی سامنے آئی جبکہ گودھرا کانڈ کے خلاف پارٹی کی طرف سے کبھی آواز بلند نہیں کی گئی۔ کانگریس کے اعلی رہنمااے کے انٹونی نے کانگریس کی ہار کی وجوہات میں پارٹی کے ضرورت سے زیادہ اقلیت پریم کوذمہ دار مانا ہے۔پارٹی کے ایک قومی جنرل سکریٹری کے مطابق اس سلسلے میں انٹونی اور جناردھن دیویدی دونوں چاہتے تھے کہ پارٹی درمیانہ طبقے کی طرف بڑھے۔ اکثریتوں میں پارٹی کے بن رہے کردار میں برابری بنائے اور ہندوتو کو لیکر توازن کرے۔ ادھر راہل گاندھی کے اچانک چھٹی پر چلے جانے سے پارٹی میں اٹھے انتشار کے بعد کیرل کانگریس کے ایک نیتا کے بیان نے پارٹی میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ کیرل کانگریس کے نائب صدر اور راہل گاندھی کے قریبی مانے جانے والے بی ڈی ستیشن نے جمعرات کو الزام لگایا کہ پارٹی میں نیتاؤں کا ایک برا گروپ راہل کے کردار کو خراب کرنے کے لئے پردے کے پیچھے کھیل کررہا ہے۔ راہل گاندھی کو ایماندار اور سنجیدہ سیاستداں بتاتے ہوئے ستیشن نے کہا کہ کانگریس جب اقتدار میں تھی تو انہوں نے کبھی بھی بھرشٹاچار کو برداشت نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان نیتاؤں کے نشانے پر آگئے ہیں جن کے کرپشن بھرے کاموں اور خراب معاشی نیتیوں کی وجہ سے لوک سبھا چناؤ میں یوپی اے کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ ستیشن نے کہا کہ پارٹی کے سینئر نیتاؤں کا ایک دھڑا جو لچھے دار انگریزی بولتا ہے اپنے ایگو کے لئے جانا جاتا ہے۔چناؤ میں ہار کے لئے ذمہ دار ہے اور اب وہ پورے سین سے بھاگنے کی کوشش کررہا ہے۔ ستیشن نے اس پر بھی سوال کیا کہ جب بی جے پی اور آر ایس ایس سوشل میڈیا اور دوسرے منچوں کے ذریعے راہل کو گھیرتے ہیں تو آخر کچھ نیتاؤں (اے۔ کے انٹونی اور دگوجے سنگھ) کو چھوڑ کر سارے سینئر نیتا چپی کیوں سادھ لیتے ہیں؟اب تک اپنی جیت کے لئے نہرو ۔ گاندھی خاندان پر ہی منحصر رہی کانگریس کو اب نئی زمینی حقیقت سے ان کے ہی کاریہ کرتاؤں کے ذریعے روبروکروانے کی رپورٹ آئی ہیں۔
پارٹی کے ضلع سطح تک کے کاریہ کرتاؤں میں اکثریت کا ماننا ہے کہ کانگریس کو اب صرف نہرو۔ گاندھی پریوار کے وارثوں کے بھروسے ہی جنتا کا سمرتھن حاصل نہیں ہوگا اس کے لئے پارٹی کو راجیوں اور ضلعوں میں بھی اپنے جوجھارو نیتاؤں کو آگے لاکر تیار کرنا ہوگا اور مرکز کی بھاجپا سرکار کی ناکامیابیوں کو سڑک سے سنسد تک پر زور طریقے سے اٹھانا ہوگا۔ ضلع سطح کے کانگریس کاریہ کرتاؤں کی یہ رائے گذشتہ دنوں پارٹی لیڈر شپ کے ذریعے دیش کے قریب450 ضلعوں کے کاریہ کرتاؤں کے درمیان کرائی گئی رائے شماری سے نکل کر سامنے آئی ہے۔یہ جانکاری دینے والے 10 جن پتھ کے قریبی ایک پارٹی نیتا کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پارٹی لیڈر شپ نے طے کیا ہے کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی، نائب صدر راہل گاندھی اور پرینکا (اگر وہ راج نیتی میں سرگرم ہوتی ہیں تو) کے ساتھ ساتھ اب راجیوں اور ضلعوں میں اپنی لیڈر شپ تیار کرکے بھاجپا کا مقابلہ کرے گی۔ راہل دور میں داخل ہورہی کانگریس کی یہی متوقعہ سیاست ہوگی۔ حال ہی میں دہلی، مہاراشٹر، ممبئی، گجرات، جموں و کشمیر اور تلنگانہ میں نوجوان چہروں کو پارٹی کمان سونپنا پارٹی لیڈر شپ کی اسی حکمت عملی کا اشارہ ہے۔اضلاع میں کرائی گئی رائے شماری میں صرف 12 فیصدی کاریہ کرتاؤں نے کہا کہ لوگ صرف نہرو۔ گاندھی پریوار کے کرشمے کے نام پر ووٹ دیں گے جبکہ88 فیصدی کی رائے ہے کہ پارٹی مستقبل میں ووٹ لینے کے لئے دیگر مدعوں پر دھیان مرکوز کرے۔
(انل نریندر)

پوتن کے آلوچک نیمت سیو کا قتل

روس کے صدر ولادیمیر پوتنپر زبردست تنقید کرنے والے سابق ڈپٹی وزیر اعظم بورس نیمت سیو کے قتل نے روسی سیاست کو پھر سے جھنجھوڑ دیا ہے۔ یوکرین مسئلے میں روس کے کردار کو لیکر پوتن کی کھنچائی کرنے والے اہم حزب اختلاف کے لیڈر نیمت سیو پہلے ہی اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کرچکے تھے۔امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ہتیا کانڈ کی غیرجانبدارانہ اور شفاف جانچ کی مانگ کی ہے۔پوتن نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ہتیا کانڈ کی جانچ راشٹرپتی کی نگرانی میں کرانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایتوار کو ہونے والے مخالفین کے مظاہرے کے ٹھیک پہلے اپوزیشن لیڈر کا قتل اکسانے والی کارروائی ہے۔ نیمت سیواس کی اگوائی کرنے والے تھے۔پوتن نے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے اس کانڈ کو انجام دینے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔پوتن کے 15 سال کے اقتدار کے دوران نیمت سیو سب سے اہم سیاسی ہستی ہیں جن کا قتل کیا گیا۔پولیس کے مطابق ماسکوا ندی پر بنے پل کو پار کرتے وقت حملہ آوروں نے نیمت سیو کا قتل کردیا۔انہیں چار گولیاں ماری گئیں۔ ان کے ساتھ چل رہی یوکرین کی خاتون کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سفید کار میں آئے حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ایتوار کو بورس نیمت سیو کے قتل میں ایک خلاصہ ہوا۔واقعہ کی جگہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی گئی ۔اس فوٹیج میں صاف طور پر دکھ رہا ہے کہ حملہ آوروں نے گھات لگاکر سابق ڈپٹی پی ایم کی ہتیا کی ہے۔ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ہتیارے ماسکو برج پر چہل قدمی کررہے تھے۔ میڈیا کے مطابق فوٹیج دیکھنے سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ قاتل پہلے سے ہی ماسکو برج پر موجود تھے اور نیمت سیو کا انتظار کررہے تھے۔ایک فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر اور ان کی مہلا دوست کے پل پرجاتے ہوئے دکھنے پر قاتلوں نے کچھ سرگرمیاں کیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ نفرت ،غیر یقینی اور برداشت نہ کر سکنے نے سیاست کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ برائیاں اپنے سینئر روسی سیاستدانوں کوبھی نہیں بخشتیں۔نیمت سیو کے قتل سے جڑی ہوئی کہانیاں سامنے رکھی جاچکی ہیں۔ جب بورس نیمت سیو زندہ تھے تو انہیں بدنام کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ جیسے ان کے ٹیلی فون بات چیت کو شائع کرنا ۔ نیمت سیو کے قتل کا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا شاید ہی کوئی نتیجہ نکلے۔روس کی سیاست میں قتل کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے نومبر1995ء میں روس کی ایک ہائی پروفائل گیلینا اسٹیٹو گئی نووا کا قتل کردیا گیا تھا۔ یوکرین کے صدر پیٹروپروشکو نے نیمت سیو کے قتل کو لیکر روسی صدر ولادیمیر پوتن پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیمت سیو کے پاس یوکرین سے جاری جنگ میں روس کا ہاتھ ہونے کے ثبوت تھے اور اسی وجہ سے ان کا قتل کیا گیا ہے۔ پروشکو نے کہا کہ بورس نے کہا تھا کہ وہ یوکرین میں جاری جنگ میں روس کے کردار کو اجاگر کریں گے لیکن اجاگر کرنے سے پہلے ہی ان کا قتل ہوگیا۔
(انل نریندر)

08 مارچ 2015

اے۔ کے ہی سب کچھ ہیں ان کے خلاف آواز اٹھانا برداشت نہیں

دو دن پہلے ہی میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ ’آپ‘ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے اور کنوینر اروند کیجریوال کے خلاف بغاوتی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ بہت بڑی جیت یا بہت بڑی ہارپچانا آسان نہیں ہوتا، اور یہی ہوا۔ زبردست اکثریت کے ساتھ دہلی کے اقتدار میں آئی عام آدمی پارٹی میں جیسا گھماسان چھڑا ہے اس سے پارٹی اور لیڈرشپ پر کئی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔اقتدار میں آئے ابھی چنددن ہی ہوئے ہیں لیکن اس میں اندرونی جھگڑوں کاآتش فشاں پھوٹ پڑا ہے۔ پارٹی میں اروند کیجریوال ہی سب کچھ ہیں اور وہ کسی قسم کی نہ تو تنقید برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی لیڈر شپ کو کوئی چنوتی ہی دے سکتا ہے۔’آپ‘ کے گذشتہ28 مہینے کی تاریخ میں جن جن لوگوں نے اروند کیجریوال کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کی انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔دہلی اسمبلی چناؤ 2015 سے پہلے پارٹی سے تین اہم لیڈروں کی پارٹی سے دلچسپی ختم ہوگئی اور اپنے اپنے علاقوں کے ماسٹر لوگوں کو باہر کا راستہ دیکھنا پڑا۔ پارٹی میں سب سے پہلے لکشمی نگر سے سال2013 میں اسمبلی چناؤ جیتنے والے ممبر اسمبلی ونود کمار بنی کو پارٹی سے الگ کیا گیا۔ نتیجتاً بنی نے ناراضگی جتاتے ہوئے پارٹی سے بغاوت کردی۔ بنی کے بعد لوک سبھا چناؤ کے دوران شازیہ علمی نے پارٹی چھوڑی اور بھاجپا میں شامل ہوگئیں۔ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک اشونی اپادھیائے کا بھی یہی حشر ہوا۔ اب باری آئی جانے مانے وکیل اور بدعنوانی جیسے اہم معاملوں پر بڑے پیمانے پر پالے کھیلنے والے پرشانت بھوشن اور سماجیات کے ماہر و آپ نیتا و تھنک ٹیک کے ممبر یوگیندر یادو کی۔بدھوار کو پارٹی کی سب سے طاقتور پالیٹیکل افیئر کمیٹی (پی اے سی) سے ان دونوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔خاص بات یہ ہے کہ ان دونوں نیتاؤں سے پہلے تو استعفیٰ دینے کی پیشکش کی گئی لیکن جب دونوں نے انکارکردیا تو کمیٹی میں ووٹنگ کے ذریعے انہیں باہر کردیا گیا۔ اتنے سینئر نیتاؤں سے ایسا سلوک کیا گیا ہے جیسے دودھ سے مکھی کو باہر نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔ عام آدمی پارٹی میں پڑی دراڑکاموازنہ ہم آسام میں عرصے پہلے پرفل کمار مہنت کی سرکار سے بھی کرسکتے ہیں۔مہنت کی سرکار بھی کیجریوال سرکار کی طرز پر ہی اچانک بنی تھی اور سرکار کے قیام کے بعد پھوکن کی قیادت میں ناراض لوگوں کا ایک نیا خیمہ تیار ہوگیا تھا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی میں اس طرح من مٹاؤ کی حالت بننا حیرت خیز نہیں ہے لیکن ایک نئی پارٹی کے لئے فوری طور پر نقصان ہونے کے خدشہ سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پارٹی کے اندر ایسی اٹھا پٹخ کو ایک اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن پارٹی کے مضبوط پلر ہیں ان کو اپنے ساتھ باندھے رکھنے میں کیجریوال کامیاب نہیں رہے۔آندولن سے پیدا ہوئی اس پارٹی کا کردار بدل رہاہے اور اس بدلاؤ کے عمل کا یہ نتیجہ ہے ۔ کیجریوال کیمپ نے یہ صاف جتادیا ہے کہ یہاں کسی اور کا اثر نہیں چلے گا۔ اس کے باوجود لگتا یہ ہے کہ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن پارٹی نہیں چھوڑنا چاہیں گے وہ اس مدعے کو آپ کی نیشنل کونسل ، آل انڈیا باڈی آف لیڈرس ، ممبروں اور والنٹیئر کے سامنے اٹھائیں گے۔ ان سبھی کے ساتھ بیٹھکیں اس مہینے کے آخرمیں ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں کی یہاں اچھی پیٹ ہے۔ میٹنگ کے بعد پرشانت بھوشن نے کہا کے اکثریت سے فیصلہ لیا گیا ہے کہ ہم لوگ اب پی اے سی میں نہیں رہیں گے۔پارٹی کے اندر ہونے والے واقعات سے دہلی والوں کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ دہلی کی جنتا کو اپنے کام سے مطلب ہے وہ کیجریوال میں بھروسہ کرتی ہے اور اگر ان کا بھروسہ ٹوٹتا ہے تو اس کا خمیازہ بھی کیجریوال کو بھگتنا پڑے گا۔ بیشک عام آدمی پارٹی ایک نیا پیغام اور امید لے کر آئی ہے لیکن وہ جس طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اس سے یہ اندیشہ ہو رہا ہے کہ وہ کہیں ایک معمولی پارٹی میں نہ تبدیل ہوجائے۔اس اندیشے کو صرف کیجریوال ہی دور کرسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

اب مہنگے دن آنے والے ہیں

بجٹ سے مایوس جنتا اب مہنگائی کی مار سے پریشان ہے۔ جس دن بجٹ آیااسی دن رات کو پیٹرول 3روپے18 پیسے اور ڈیزل3 روپے09 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔ دہلی میں پیٹرول 60.49 روپے اور ڈیزل49.71 ہوگیا۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے چار گھنٹے پہلے ہی بجٹ میں سروس ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی بھی بڑھا دی گئی۔ اس سے آنے والے دنوں میں مہنگائی اور بڑھے گی۔اس سے پہلے 6 فروری کو ہی پیٹرول82 پیسے اور ڈیزل 61 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا تھا۔ سرکار نے نومبر سے جنوری تک چار بارایکسائز ڈیوٹی بڑھائی۔پیٹرول پر 7.75 روپے اور ڈیزل پر 7.50 روپے ڈیوٹی بڑھی۔ اس سے سرکار کواس مارچ تک ہی 20 ہزار کروڑ روپے کی زیادہ کمائی ہوگی۔ عام بجٹ کی مار سے ابھی جنتا ابھری نہیں تھی کہ قدرت نے بھی جھٹکا دے دیا۔ گیہوں کی کم پیداوار کے اندیشے کے بیچ دیش کے زیادہ تر میدانی علاقوں میں ہونے والی بے موسم بارش نے کسانوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے وہیں عام جنتا کے لئے مہنگائی اور بڑھ گئی ہے۔ بے موسم برسات کی وجہ سے پالک جیسی پتے والی اور سردیوں کی دیگر سبزیوں مثلاً گاجر، گوبھی اور مٹر کی خوردہ قیمتوں میں 67 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ راجدھانیوں میں سبزیوں کے دام آسمان چھو رہے ہیں۔ پچھلے سال ان دنوں میں جو سبزیاں 10-12 روپے کلو مل رہی تھیں وہ اب30-40 روپے کلو بک رہی ہیں۔مہنگی سبزیوں سے ہر گھر کا بجٹ بگڑ رہا ہے۔ عام گھروں میں دن میں ایک بار اس پر چرچا ہوتی ہے کہ آج گھر میں سبزی بنے یا پھر دال؟ دہلی میں مہنگائی اپنے گذشتہ سبھی ریکارڈ کو توڑنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حالانکہ دہلی والے اپنی رسوئی میں اچھے دنوں کا ابھی بھی انتظار کررہے ہیں۔ لگاتار بڑھ رہے داموں سے پریوار کے ممبران کے چہروں پر فکر کی لکیریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ سبزیوں کے داموں کی طرف دیکھیں تو گھریلو خواتین کو سوچنا پڑتا ہے کہ کونسی سبزی پکائیں اور کونسی نہیں۔ راجدھانی میں ٹماٹر 40 روپے سے لیکر50 روپے کلو بک رہا ہے۔ یہی ٹماٹر گذشتہ سال 10 روپے کلو بکتا رہا ہے۔پیاز کے دام بھی30 سے35 روپے کلو پہنچ گئے ہیں۔ بھنڈی 50 روپے کلو، بیگن30 روپے سے بڑھ کر60 روپے کلو پہنچ گیا ہے۔ پالک20 روپے سے بڑھ کر30 روپے میں بک رہا ہے۔ اسی طرح کھیرا 10 روپے سے بڑھ کر30 روپے پہنچ گیا ہے۔ آلو کے دام 20 روپے فی کلو ہیں۔ شملہ مرچ ، ادرک80 روپے فی کلو پہنچ گئے ہیں۔ توری، کریلا اور اروی کہیں بھی100 روپے کلو سے کم نہیں ہے۔ چاول50 روپے کلو سے کم نہیں ہے۔ اوڑد دھولی دال 80 روپے، ارہر کی دال70 روپے سے80 روپے، مونگ کی دال100 سے120 روپے کلو مل رہی ہے۔راجما 120 روپے کلو پر پہنچ گیا ہے۔ گھروں میں استعمال ہونے والی ضروری چیزوں کے داموں پر نہ تو ریاستی سرکار اور نہ ہی مرکزی سرکار قابو کرپا رہی ہے اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اب’’ مہنگے دن آنے والے ہیں‘‘۔
(انل نریندر)