Translater

31 مارچ 2017

کسانوں کی خودکشیاں : مجرمانہ لاپرواہی

کسانوں کی خودکشی کو بیحد سنگین معاملہ بتاتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے اسے روکنے کیلئے فوراً کمت عملی اسکیم بنانے کو کہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس کے لئے چار ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ چیف جسٹس جے۔ ایس۔ کھیرکی سربراہی والی تین نفری بنچ نے حکومت کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی ۔ایس ۔نرسمہا سے کہا کہ سرکار کو ایسی پالیسی لے کر آنا چاہئے جس میں کسانوں کی خودکشی کے بنیادی اسباب کو ٹھیک کیا جاسکے۔ بنچ نے کہا یہ بیحد سنگین معاملہ ہے۔ مرکزی حکومت کو روڈ میپ تیار کرنا ہوگا اور وہ یہ بھی بتائے کہ کسانوں کی خودکشی روکنے کیلئے ریاستوں کوکیا قدم اٹھانے چاہئیں۔ پیر کو سماعت کے دوران پی۔ ایس۔ نرسمہا نے کہا کہ سرکار اس کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ وہ سیدھے کسانوں سے فصل لینا اور بیمہ رقم بڑھانے، قرض دینے، فصل کا نقصان ہونے پر معاوضے کی رقم بڑھانے سمیت کئی مثبت قدم اٹھارہی ہے۔ بتادیں کہ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے ،2015ء میں 8007 کسانوں نے خودکشی کی تھی۔جان دینے والے کسانوں میں سے 73 فیصدی 2 ایکڑ یا اس سے کم زمین کے مالک تھے۔ خودکشی کے واقعات کے پیچھے قرض اور دیوالیہ پن کو اہم وجہ بتایا گیا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار کے مطابق کسانوں کے ذریعے خودکشی کرنے کے سب سے زیادہ واقعات مہاراشٹر، تلنگانہ، کرناٹک اور تاملناڈو میں ہوئے۔ سال2014ء میں 5450 کسانوں سے خودکشی کی تھی۔ ایک سال میں یہ خودکشی کا سلسلہ 5650 سے بڑھ کر 8007 تک پہنچ گیا۔ یعنی یہ لگاتار بڑھ رہا ہے۔ ویسے تو کسانوں کے ذریعے خودکشی کرنے کے لئے کئی وجہ ہیں لیکن ہندوستانی کسان بہت حدتک مانسون پر منحصر رہتا ہے۔ اس کی ناکامی کے سبب فصلیں تباہ ہونا اور خودکشیوں کی اہم وجہ مانی جاتی رہی ہے۔ مانسون کے نہ آنے اور خشک سالی، قیمتوں میں اضافہ اور قرض کا بوجھ وغیرہ مسائل کی شروعات کرتی ہیں۔ بینکوں، مہاجنوں، بچولیوں وغیرہ کے چکر میں پھنس کر ہندوستان کے مختلف حصوں کے کسانوں نے خودکشیاں کی ہیں ۔ انتہائی تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ژالہ باری اور بارش سے فصل کو ہوئے نقصان کی تکمیل کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتیں دونوں ہی ابتدائی تکرار کے بعد کسانوں کو معاوضے کا اعلان کیا تھا مگر اترپردیش سرکار کے ذریعے اس برس دئے گئے 1700 کروڑ روپے میں سے صرف 480 کروڑ روپے ہی ضرورتمند کسانوں تک پہنچ سکے ہیں۔ اب مختلف اضلاع کے کسان باقی کے1200 کروڑ روپے سرکاری خزانے میں لوٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر حکومتیں اور مختلف ادارے اپنی جوابدہی کو ٹھیک سے سمجھتیں تو کسانوں کی اتنی دردشا نہ ہوتی جو آج ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)

لشکرطیبہ،حزب المجاہدین کا وادی میں کشیدگی پیدا کرنے کا منصوبہ

سکیورٹی ایجنسیوں کو ملی اطلاعات کے مطابق لشکرطیبہ اور حزب المجاہدین نے کشمیر وادی کو پھر سے دہلانے کی سازش تیار کی ہے۔ دونوں ہی دہشت گرد تنظیموں نے ہاتھ ملاتے ہوئے وادی میں ضمنی چناؤ اور ٹورسٹ سیزن کے دوران بڑی وارداتیں کرنے کا پلان تیار کیا ہے۔ وادی کشمیر کے علاقے شوپیاں ، پلوامہ، کلگام، ہنڈوارہ، کپواڑہ اور اننت ناگ میں دونوں تنظیموں کے پوسٹر ملنے سے سکیورٹی ایجنسیاں چوکس ہوگئی ہیں۔ ساؤتھ کشمیر سب سے حساس مانا جاتا ہے۔ اس کا علاقہ نیشنل ہائی وے سے بالکل لگا ہوا ہے جس سے سکیورٹی فورس کے قافلے کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کے لئے آسان ہوسکتا ہے۔ برہان وانی کے مارے جانے کے بعد سب سے زیادہ 80 نوجوانوں نے اس علاقے میں دہشت گرد تنظیموں کا دامن تھاما ہے۔ بڑھے تشدد کے کئی ثبوت سامنے آنے لگے ہیں۔ وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں سکیورٹی فورس نے 10 گھنٹے سے زیادہ چلی مڈ بھیڑ میں حزب المجاہدین کے ایک دہشت گردکو ڈھیر کردیا۔ اس دوران دہشت گرد بھگانے کے مقصد سے مقامی شہریوں نے مظاہرہ کیا اور سکیورٹی فورس پر پتھراؤ بھی کیا۔ حالات پر قابو پانے کے لئے سکیورٹی فورس کو آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے اور جب اس سے بھی پتھراؤ نہیں رکا تو فائرننگ کرنی پڑی جس میں تین پتھر بازوں کی موت ہوگئی جبکہ ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ مارے گئے لڑکوں کی پہچان زاہد رشید غنی، عامر باجا اور اشفاق احمدکے طور پر ہوئی ہے ۔ کشمیر وادی میں اچانک تیز ہوئی پتھر بازی آگ زنی کو دیکھتے ہوئے وہاں سے اچھی خبر نہیں بلکہ خون خرابے اور مایوس کن خبریں ہی آسکتی ہیں۔ بڈگام کے واردات سے صاف اشارے مل رہے ہیں کہ پچھلے سال کی طرح ہی تشدد کے واقعات کی شروعات ہوچکی ہے۔ پچھلے دنوں فوج کے سربراہ جنرل راوت نے خبردار کیا تھا کہ فوج کے صبر یا کارروائی مہم میں رکاوٹ ڈالنے والوں اور دہشت گردوں کی سکیورٹی کوچ بننے والوں سے فوج سختی سے پیش آئے گی۔ علیحدگی پسند ان کے اس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے مقامی لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں۔ سرکار کو سختی کے ساتھ ساتھ بات چیت کا عمل بھی شروع کرنا چاہئے۔ لڑکوں میں بڑھتی بے روزگاری ایک بڑی وجہ ہے کہ 500 روپے یومیہ لیکر گمراہ نوجوان پتھر بازی پر اتر آتے ہیں۔روزگار دینے کی سنجیدگی سے اسکیم بننی چاہئے۔ وادی میں تفریح کا بھی کوئی اب ذریعہ نہیں بچا۔ تمام سنیما ہال بند ہیں، لڑکے شام کو کیا کریں؟ ان کی توجہ ہٹانے کے لئے سنیما ہال وغیرہ کھلنے چاہئیں۔ وادی میں پچھلے ڈھائی دہائی سے زیادہ وقت سے جاری خون خرابہ کب رکے گا یہ سبھی کے لئے تشویش کا باعث ہے۔
(انل نریندر)

30 مارچ 2017

راجدھانی اور شتابدی میں ہیں فلیکسی اسکیم ختم ہوگی

لگتا ہے کہ ریلوے کی وزارت کا وی آئی پی ٹرینوں،راجدھانی اور شتابدی ایکسپریس میں ہیں فلیکسی کرایہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو پائی. معمول سے ڈیڑھ گنا زیادہ کرایہ ہونے سے ریلوے مسافر ابھی ہوائی سفر کرنا بہتر اختیارات مان رہے ہیں. ٹرینوں میں برت خالی جا رہی ہے اور زیادہ کمائی کی جگہ ریلوے کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے. خبر ہے کہ ریلوے کے وزیر سریش پربھو نے ریلوے بورڈ کو ہیں فلیکسی کرایہ اسکیم ہٹانے کی ہدایت دی ہے. اگرچہ ریل کی وزارت کے ایک سینئر افسر نے یہ بھی کہا کہ حکام کی ایک کلاس اب بھی ہیں فلیکسی میلے کے فیصلے پر اڑا ہے. دارالحکومت اور صدی میں خالی برت بھرنے کی منصوبہ بندی کو اگر سب ٹھیک رہا تو 1 اپریل سے ہٹا دیا جا سکتا ہے. اس میں میل۔ایکسپریس ٹرینوں میں انتظار والے مسافروں کو بغیر اضافی کرایہ دیے دارالحکومت اور صدی میں سفر کرنے کا موقع دیا جائے گا. اگرچہ بکنگ فارم بھرتے وقت مسافر کو متبادل کے طور پر متعلقہ دارالحکومت۔صدی یا درتو ٹرین کا ذکر کرنا ?وگ. مسافر کا ٹکٹ ?پھرم نہیں ہوا تو اختیارات والی ٹرین میں برتھ خالی ہونے پر سفر کرنے کا موقع ملے گا. ایک مئی یا جون مہینے میں دارالحکومت۔صدی اور درتو سے ہیں فلیکسی میلے کا ہٹانا تقریبا طے ہے. بتا دیں کہ ہیں Flexi میلے منصوبہ 9 ستمبر 2015 سے لاگو ہے. 22 درتو، 25 دارالحکومت اور 38 منسلک صدی ٹرینیں چل رہی ہے. ٹکٹ بکنگ کے آغاز کے 10 برت پر عام کرایہ لیتے ہیں. ہر 10 فیصد برت بکنگ کے ساتھ 10 فیصد کرایہ اگتا ہے. مثال کے طور پر کسی ٹرین میں کل 100 برت ہیں، تو پہلی 10 برت کا کرایہ 100 روپے (جنرل) رہے گا. پھر 11 سے 20 برت کا کرایہ 110 روپے، 21 سے 30 برت کا کرایہ 120، 31 سے 40 برت کا کرایہ 130 روپے، 41 سے 50 برت کا کرایہ 140 روپے کا ہوگا. اس کے بعد 51 ویں برت کے آگے تمام برت کے لئے اصل کرائے سے 50 فیصد زیادہ قیمت دینی ہوگی. ریلوے کو ہیں Flexi میلے سے سالانہ ایک ہزار کروڑ روپے اضافی کمائی ہونے کا اندازہ تھا. لیکن ریلوے مسافروں نے اسے سرے سے خارج کر دیا. لہذا گزشتہ چھ ماہ میں محض 300 کروڑ روپے کی آمدنی ہو سکی ہے. وہیں ڈیڑھ گنا کرایہ ہونے سے ریلوے مسافروں کی تعداد میں دن بہ دن کمی آ رہی ہے. یہ ریلوے کے لئے تشویش کا باعث ہے. مسافر سہولت کے لئے ریلوے ایک اپریل سے کئی نئی تبدیلی بھی کرے گی. ریلوے بورڈ سے تمام زون میں یہ حکم بھیجا گیا ہے. اگر یہ ہیں Flexi میلے منصوبہ ختم ہوتی ہے تو سب کو فائدہ ہے، مسافروں کو بھی اور ریلوے کو بھی.
انل نریندر

دہلی میونسپل چناؤ: دم دکھانے میں کوئی نہیں کم

آئندہ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں دہلی کے عوام کیا گل کھلائے گی، اس کا تو 26 اپریل کو ہی پتہ چلے گا، پر الیکشن جیتنے کے لئے تمام متعلقہ ٹیم جنگ سطح پر تیاری کر رہے ہیں اور اس کے لئے علیحدہ سے حکمت عملی بنائی جارہی ہے. دین دیال اپادھیائے راستے پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی (آپ) کے دفتر اور پنڈت گوبندبلبھ پنت راستے میں بی جے پی کے دفتر پر لگنے والی امیدواروں کی بھیڑ اب رہنماؤں کے گھروں تک پہنچنے لگی ہیں. آپ نے کارپوریشن انتخابات کے لئے اپنے تمام 272 امیدوار اعلان کر دیئے ہیں. لیکن جس طرح سے امیدوار بدلے گئے ہیں، اس سے دیگر امیدواروں کو ٹکٹ حاصل کرنے کی امید بڑھی ہے. وہیں بی جے پی اور کانگریس بھی ایک آدھ دن میں اپنے امیدوار کا اعلان کر دے گی. پہلی بار کارپوریشن الیکشن لڑنے جا رہی سوراج انڈیا پارٹی نے بھی اپنے زیادہ تر امیدوار اعلان کر دیئے ہیں. بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ بہار میں حکمران جنتا دل (ایکا) نے بھی اس بار زور شور سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے. کانگریس نے سب سے پہلے 5 مارچ کو رام لیلا میدان میں اپنے نائب صدر راہل گاندھی کے گھر کے ذریعے انتخابی مہم کا دروازے کھولے کیا تھا. اب وہ پنجاب کے انتخابی مہم کافی ود کیپٹن کی طرز پر چاٹ پر بحث سے انتخابی مہم شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے. وہیں بی جے پی صدر امت شاہ نے جمعہ کو رام لیلا میدان میں ہاؤس کرکے بی جے پی کے انتخابی مہم کا آغاز کیا. آپ کے سربراہ اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال 31 مارچ سے انتخابی مہم شروع کرنے والے ہیں. پنجاب اسمبلی انتخابات کے نتائج نے فی الحال آپ کے اعتماد کو دھکا پہنچایا ہے. وہیں ان نتائج نے کانگریس کے حوصلے بلند کئے ہیں. اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بھاری جیت درج کرنے کے بعد بی جے پی ہر حالت میں دہلی جیتنا چاہے گی. فی الحال بی جے پی کے 153 کارپوریشن کونسلر اقتدار میں قابض ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ تمام کے تمام کو ٹکٹ ملے گا. بی جے پی کو اندرونی خلفشار پہنچنے کا بڑا خطرہ ہے. جس طرح دہلی کے اقتدار میں آپ 67 ممبران اسمبلی کے جیتنے کے ساتھ ریکارڈ بنا یکطرفہ اقتدار میں قابض ہوئی تھی، اسے دیکھ کر کیا یہ سمجھا جائے کہ عوام میں خوش اقتباس برقرار ہے؟ اس نقطہ نظر سے بی جے پی کے سامنے آپ یا کانگریس کو کم نہیں لگایا جا سکتا ہے. آپ ممبر اسمبلی جرنیل سنگھ کے استعفی کے بعد راجوری گارڈن اسمبلی سیٹ پر میونسپل انتخابات سے پہلے 9 اپریل کو انتخابات ہونا ہے. اس سیٹ پر کانگریس نے غیر پنجابی میناکشی چدیلا کو اپنا امیدوار بنایا ہے. بی جے پی اور آپ نے اس سیٹ کے لئے سکھ امیدوار اتارے ہیں. میونسپل انتخابات سے ٹھیک پہلے اس انتخاب سے دہلی کے عوام کا موڈ پتہ چلے گا۔
انل نریندر

29 مارچ 2017

بیف کے بڑے قتل خانے چلانے والے ہندو مالک

گؤ ہتیا صرف ایک اشو ہی نہیں بلکہ یہ ہماری آستھا اور ضمیرکا سوال ہے۔گائے کو ہندو دھرم کی دیوی کا درجہ حاصل ہے۔ گائے کے اندر دیوتاؤں کا واس ہمارے دھارمک گرنتھوں میں مانا گیا ہے۔ دیوالی کے دوسرے دی گووردھن پوجا کے موقعہ پر گائیوں کی خاص پوجا کی جاتی ہے اور ان کامورپنکھوں وغیرہ سے سنگار کیا جاتا ہے۔ پران کے مطابق گائے میں سبھی دیوتاؤں کا واپس مانا گیا ہے۔ گائے کو کسی بھی شکل میں ستانا زبردست پاپ مانا گیا ہے۔ اس کی ہتیا کرنا تو جہنم کے دروازے کو کھولنے کے برابر ہے۔ جہاں کئی جنموں تک دکھ جھیلنا پڑتا ہے۔ارتھ وید کے مطابق ’’دھینوسدانندرئی نام‘‘ یعنی گائے خوشحالی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ گائے سمردھی و پربھو کی زبردست علامت ہے وہ سرشٹی کے پوشن کا ذریعہ ہے۔ وہ جننی ہے۔ گائے کے دودھ سے کئی طرح کے پوڈکٹس بنتے ہیں۔ گوبر سے اندھن و کھاد ملتی ہے۔ اس کے پیشاب سے دوائیں و کھاد بنتی ہے۔ گائے اس لئے پوجنیہ نہیں ہے کہ وہ دودھ دیتی ہے اور اس کے ہونے سے ہماری سماجی ضروریات پوری ہوتی ہیں، دراصل مانیتا کے مطابق 84 لاکھ یونیوں کا سفر کرکے روح آخری یونی کی شکل میں گائے میں بنتی ہے۔ وگیانک کہتے ہیں کہ گائے واحدایسی پرانی ہے جو آکسیجن حاصل کرتی ہے اور آکسیجن کی چھوڑتی ہے جبکہ انسان سمیت سبھی پرانی آکسیجن لیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ چھوڑتے ہیں۔اس کے برعکس پیڑ پودے اس کا ٹھیک الٹ کرتے ہیں۔ گائے کا میٹ جسے بیف کہتے ہیں کھانے والے ،بیف کو بیچنے والے سبھی کو اس سے بچنا چاہئے۔ جب بیف بیچنے والے خود ہندو دھرم سے وابستہ ہوں تو کیا کریں؟ بی بی سی ’ہندی‘ میں ایک شخص شری پرمود ملک (بی بی سی ، کام ) کی ایک تفتیشی رپورٹ شائع ہوئی ہے اس کو ہم پیش کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ اترپردیش میں پچھلے دنوں بوچڑ خانے بند کرائے گئے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ وہ ناجائز طریقے سے چلائے جارہے تھے۔ بوچڑ خانوں کا ذکر آنے پر عام لوگوں کا جہاں خیال ہے کہ اس پیشے میں ایک خاص مذہب اور طبقے کے لوگ ہی کام کرتے ہیں وہیں حقیقت کیا ہے ؟ آپ کو جان کر تعجب ہوگا کہ بھارت کے 10 بڑے بیف ایکسپورٹرس کا تعلق ہندو فرقے سے ہے۔ مرکزی حکومت کے وزارت کامرس کے ادارے ایگریکلچر اینڈ فوڈ پروسسنگ و ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (اپیڈا) سے منظور دیش کے 74 بوچڑ خانوں میں سے 10 کے مالک ہندو ہیں۔ دیش کا سب سے بڑا بوچڑ خانہ تلنگانہ کے میڈک ضلع میں رودرے گاؤں میں ہے۔ تقریباً400 ایکڑ زمین میں پھیلے اس بوچڑ خانے کے مالک ستیش سبروال ہیں۔ یہ بوچڑ خانہ الکبیر ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نام سے چلتا ہے۔ ممبئی کے نریمن پوائنٹ میں واقع ہیڈ کوارٹر میں مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں کو بیف ایکسپورٹ کرتی ہے یہ بھارت کا سب سے بڑا بیف ایکسپورٹر بھی ہے اور مشرقی وسطیٰ کے کئی شہروں میں اس کے دفتر ہیں۔ دوبئی دفترسے فون پر بات چیت میں الکبیر مشرقی وسطیٰ کے چیئرمین سریش سبروال نے بی بی سی کو بتایا مذہب اور کاروبار دو بالکل الگ چیزیں ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے ملا کر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ کوئی ہندو بیف تجارت میں رہے یا مسلمان سود پر پیسے دینے کے کاروبار میں ہیں تو کیا حرج ہے؟ الکبیر نے پچھلے سال تقریباً 650 کروڑ روپے کا کل بزنس کیا تھا۔ اربین ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈکے مالک سمیر کپور ہیں۔ ان کا ہیڈ کوارٹر ممبئی کے ایشیئر میگنس میں ہے۔ کمپنی بیف کے علاوہ بھیڑ کا میٹ بھی ایکسپورٹ کرتی ہے۔ اس کے ڈائریکٹر منڈل کے ورتن ناگناتھ کٹبولے وکاس ماروتی شندے اور اشوک نارنگ ہیں۔ ایم کے آر فروزن فوڈ ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک مدن ایور ہیں۔ کمپنی کا ہیڈ کوارٹر دہلی میں ہے۔ ایور کولڈ اسٹوریج پرائیویٹ لمیٹڈ کا بوچڑ خانہ پنجاب کے موہالی ضلع کے سمگولی گاؤں میں ہے۔ اس کے ڈائریکٹر سنی ایور ہیں۔ النور ایکسپورٹرس کے مالک انل سود ہیں اس کمپنی کا دفتر دہلی میں ہے لیکن اس کا بوچڑ خانہ اور میٹ پروسسنگ پلانٹ اترپردیش کے مظفرنگر کے شیرنگر گاؤں میں ہے اس کے علاوہ میرٹھ ، ممبئی میں بھی اس کے پلانٹ ہیں ۔ اس کے دوسرے پارٹنر اجے سود ہیں۔ اس کمپنی کا قیام 1992ء میں ہوا اور یہ 35 دیشوں کو بیف ایکسپورٹ کرتی ہے۔ اے او بی ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کا بوچڑ خانہ اترپردیش کے اناؤ میں ہے اس کے ڈائریکٹر او پی اروڑہ ہیں۔ یہ کمپنی سال 2001ء سے کام کررہی ہے۔ کمپنی کا ہیڈ کوارٹر نوئیڈا میں ہے اور ابھیشیک اروڑہ اے او بی ایگرو فوڈس کے ڈائریکٹر ہیں اس کمپنی کا پلانٹ میوات کے نوح میں ہے۔ اسٹنڈرڈ فروزن فوڈز ایکسپورٹر پرائیویٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کمل ورما ہیں اور پی این پروڈکٹس ایکسپورٹرس کے ڈائریکٹر ایس کمار ہیں۔ اشونی ایگرو ایکسپورٹ کا بوچڑ خانہ تاملناڈو کے گاندھی نگر میں ہے۔ کمپنی کے ڈائریکٹر راجندرن دھرم کو کاروبار سے بالکل الگ رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں دھرم نہایت ہیں الگ چیز ہے اور اس کا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ مہاراج فوڈ پروسسنگ اینڈ کولڈ اسٹوریج کے پارٹنر سنی کھٹر کا بھی خیال ہے کہ مذہب اور کاروبار الگ الگ چیزیں ہیں، دونوں کو ملانا غلط ہے۔ وہ کہتے ہیں میں ہندو ہوں اور بیف کے کاروبار میں ہوں ،تو کیا ہوگیا؟ کسی ہندو کے اس کاروبار میں ہونے کوئی برائی نہیں ہے میں یہ کاروبار کر کوئی برا ہندو نہیں بن گیا۔ اس کے علاوہ ہندوؤں کی بہت سی ایسی کمپنیاں ہیں جو صرف بیف ایکسپورٹ کے میدان میں ہیں ان کا کوئی بوچڑ خانہ نہیں ہے لیکن وہ میٹ پروسسنگ اور پیک کرکے ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ کنک ٹریڈرز ایسی ہی کمپنی ہے ، اس کے پراپرائٹر راجیش سوامی کہتے ہیں کہ اس کاروبار میں ہندو مسلمان کا امتیاز نہیں ہے۔ دونوں مذہبوں کے لوگ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ کسی کے ہندو ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بوچڑ خانے بند ہوئے تو ہندو مسلمان دونوں کا ہی نقصان ہوگا۔ ہمارا خیال ہے چاہے وہ بیف ہو یا پورک (سور کا میٹ) ہو، نہ تو اس کو کھانا چاہئے نہ ہی اس کا دھندہ۔ زیادہ تر ہندوستانی ان دونوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ بیف پر پابندی لگانی چاہئے ، گؤ ہتیابند ہونی چاہئے ،چاہے اس میں کوئی بھی شامل ہو۔
(انل نریندر)

28 مارچ 2017

عدالتوں میں التوا مقدموں میں 46 فیصدی حصہ داری حکومت کی ہے

ہمارے دیش میں مختلف عدالتوں میں مقدموں کا جتنا بوجھ ہے ویسا شاید ہی دنیا کے کسی دیش میں ہو۔ حکومت نے بتایا کہ دیش کی مختلف عدالتوں میں سوا تین کروڑ سے زائد مقدمات التوا میں ہیں۔ وزیر قانون و انصاف روی شنکر پرسات نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے ممبر محمد سلیم کو ضمنی سوال کے جواب میں بتایا کہ30 ستمبر 2016ء تک سپریم کورٹ میں 62 ہزار سے زیادہ ، ہائی کورٹ میں 40 لاکھ 12 ہزار اور ضلعی عدالتوں میں 2 کروڑ 85 لاکھ مقدمے التوا میں تھے۔ روی شنکر نے بتایا کہ عدالتوں میں التوا 3.14 کروڑ مقدمات میں 46 فیصدی حصے میں سرکاری فریق ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ وزارت زبردستی فریق نہ بنے اور فریق بننے سے بچے۔ اپنے کیبنٹ ساتھیوں کو لکھے خط میں روی شنکر نے کہا کہ سرکار زبردستی مقدموں میں فریق ہونا بند کرے۔ عدالت کوا ن معاملوں کے نپٹان میں زیادہ وقت خرچ کرنا پڑتا ہے جہاں سرکار فریق بنی ہوئی ہے۔ ویسے قانون وزارت کے حکام کہہ چکے ہیں کہ حکومت عدالتوں میں التوا 46 فیصدی مقدموں میں فریق ہے لیکن یہ پہلی بار ہے کے کسی وزیر قانون نے ان اعدادو شمار کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسا ہی خط سبھی ریاستوں کے وزرائے اعلی کو لکھا ہے۔ ہم شری روی شنکر کے مسئلے کی پیچیدگی کا اعتراف کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم اپنی مثال بتاتے ہیں کہ ہمارا جینا پراویڈنٹ فنڈ ڈپارٹمنٹ نے حرام کررکھا ہے۔ 20-20 سال پرانے مقدموں کو کھول کر زبرستی ڈیمانڈ نکال رہے ہیں۔ ہمارے جیسے ہزاروں کاروباریوں کو، کمپنیوں سے یہ برتاؤ ہورہا ہے۔ ایک بار ڈیمانڈ کھڑی کردیں تو یا تو آپ پورا پیسہ ڈیمیجس کا جمع کرائیں یا پھر عدالتوں میں مجبوراً جائیں۔ زیادہ تر عدالتوں میں جن برسوں میں ڈیمیجس مانگے جارہے ہیں ان کا تخمینہ بھی پورا ہوچکا ہے اور ڈیمانڈ پوری طرح سے نپٹان ہوچکی ہے لیکن آپ کوئی بھی دلیل دیں وہ ڈپارٹمنٹ کوئی بات نہیں سنتا اور ہار کر آپ کو عدالت کی پناہ میں جانے کیلئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ایسا ہی برتاؤ دیگر سرکاری محکموں میں بھی ہورہا ہے۔ مناسب ہی ہے کہ انہوں نے ہدایت دی ہے کہ حکام کو بیکار و چھوٹے موٹے معاملوں کی پہچان کر ان کی چھٹنی کر لینی چاہئے۔ انہیں آپس میں لینے یا ان کا تیزی سے نپٹان کرنے کے لئے قدم اٹھانا چاہئے۔ وزیر قانون سے پہلے وزیر اعظم اور سرکار بھی بڑھتے مقدموں پر اپنی تجویز جتا چکے ہیں۔ امید کی جانی چاہئے مقدموں کی تعداد گھٹے گی۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب سرکار سنجیدگی سے ساری وزارتوں اور محکموں کو ہدایت دے کہ بنا فیس کے بجائے مقدمہ کرنے پر مجبور نہ کریں۔
(انل نریندر)

اب بی جے پی کی نظریں ہماچل گجرات اور کرناٹک چناؤ پر ہیں

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ سے نمٹنے کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنا اگلا مشن شروع کردیا ہے۔ قیاس آرائیاں تو یہ بھی کی جارہی ہیں کہ گجرات میں وقت سے پہلے اسمبلی چناؤ ہوسکتے ہیں۔ پارٹی کے اندر اس طرح کے تبادلہ خیالات کے اشارے ملے ہیں کہ گجرات میں اسمبلی چناؤ سرکار مئی یا جون میں کرواسکتی ہے۔ یہ اشارہ ریاستی کانگریس صدر بھرت سنگھ سولنکی نے دیا ہے۔ سولنکی نے کہا کہ بی جے پی 31 مارچ کو اسمبلی بھنگ کرسکتی ہے اور مئی جون میں ریاست میں چناؤ ہوسکتے ہیں۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ہماچل ،گجرات اور کرناٹک کے بارے میں کئی چیزیں سامنے آئیں گی۔ ان میں دوسری پارٹی کے نیتاؤں کابی جے پی میں خیر مقدم کرنے کا سلسلہ شروع ہونا بھی شامل ہے۔ کرناٹک میں سینئر کانگریسی لیڈر ایس ایم کرشنا کے پارٹی میں آنے سے یہ آغاز ہوگیا ہے۔ ہماچل و گجرات میں اسی برس کے آخر میں چناؤ ہیں کرناٹک میں اگلے سال اسمبلی چناؤ ہیں۔ لگتا ہے کہ بی جے پی کی سینٹرل لیڈر شپ تینوں ریاستوں میں یوپی اور اتراکھنڈ دوہرانے کے ارادے سے کام کررہی ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں بھی چناؤ سے پہلے دوسری پارٹیوں کے کئی لیڈر بی جے پی میں آئے تھے۔ 
بی جے پی کے صدر امت شاہ کی پالیسی اپنی پارٹی تنظیم کو مضبوط کرنے اور دوسری پارٹیوں کو کمزور کرنے کی لگتی ہے یعنی دو نوں کی برابر کوشش ہے تنظیم کو مضبوط کرنے کے لئے دیش بھر میں 10 کروڑ سے زیادہ ممبر بنائے گئے ہیں۔ کمزوری کو دور کرنے کے لئے کئی طرح کی کوششیں ہورہی ہیں۔ جہاں اپنے نیتا مضبوط نہیں ہیں وہاں دوسری پارٹی کے نیتاؤں کو بلا کر کمی دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یوپی۔ اتراکھنڈ میں بھی یہی فارمولہ اپنایا گیا۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو ملی تاریخی کامیابی کے پس منظر میں ایک بات جو صاف ابھر کر آئی ہے وہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے نئے ہندوستان میں بھاجپا مسلمانوں کے لئے اچھوت نہیں رہی ہے۔ دیوبند، بریلی اور کئی مسلم اکثریتی سیٹوں پر بھاجپا کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ خودساختہ سیکولر پارٹیاں اب تک مسلمانوں کی ٹھیکیدار بن کر ووٹ کا سودا کیا کرتی تھیں مودی جی نے ان ٹھیکیداروں کا کاروبار بند کردیا ہے۔ اب خودساختہ سیکولر پارٹیاں شاید ہی مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرسکیں۔ تین طلاق کا اشو مسلم خواتین کو بھا گیا ہے اور گجرات ، کرناٹک میں بھی اسکا اثر دکھائی دے گا۔ آخر میں بتادیں بی جے پی کے تین ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ، منوہر پریکر اور کیشو پرساد موریہ جولائی کی آخر تک اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے کیونکہ صدارتی چناؤ میں پارٹی ان کا ووٹ کھونا نہیں چاہتی۔
(انل نریندر)

26 مارچ 2017

بخیریت وطن لوٹنے پر پیرزادہ نے سنائی آپ بیتی

اوپر والے کے رحم و کرم اور اپنے اچھے اعمال کی وجہ سے خدا کے بندے صوفی حضرت نظام الدین اولیا ؒ درگاہ کے سجادہ نشین آصف علی نظامی اور ناظم علی نظامی پیر کے روز بخیریت بھارت واپس لوٹ آئے اور واپسی کے بعد دونوں نے سب سے پہلے حضرت نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ پر چادر چڑھا کر دعا مانگی پھر گھروالوں کے ساتھ وزارت داخلہ جا کر مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج کا شکریہ ادا کیا۔ صحیح سلامت وطن واپسی کے بعد پیرزادہ آصف علی نظامی اور ان کے بھتیجے سید نظامی نے ان کی گمشدگی کو لیکر پاکستان کے ذریعے پھیلائے گئے جھوٹ کی پول کھول دی۔ آپ بیتی بیان کرتے ہوئے سید آصف نظامی نے بتایا کہ وہ ان کے بھتیجے ناظم 6 مارچ کو اپنی بہن قمر جہاں کے یہاں کراچی پہنچتے تھے۔13 مارچ کو آصف و نظام دونوں فلائٹ سے لاہور گئے۔ وہاں بابا فرید گنج کے دربار میں زیارت کرنے کے بعد اگلے دن داتا دربار میں زیارت کی۔15 مارچ کو دونوں واپس کراچی کے لئے نکلے لیکن ایئرپورٹ پر کاغذات میں کمی بتا کر خفیہ ایجنسیوں نے ناظم کو حراست میں لے لیا۔ یہاں سے انہیں منہ پر کالا کپڑا ڈال کر نامعلوم جگہ پر لے جایا گیا۔ ادھر آصف کراچی پہنچ گئے جہاں ایئرپورٹ پر انہوں ن نے اپنے گھر ٹیلی فون کر نظامی کے بارے میں گھروالوں کو اطلاع دی۔ ایئرپورٹ سے ہی آصف اور ان کے پاکستانی ساتھی حماد کوبھی یرغمال بنالیا۔ قریب تین دن تک دونوں کو نامعلوم جگہ پر رکھا گیا۔ وہاں روزانہ ان سے الگ الگ لوگ پوچھ تاچھ کرتے رہے اور ان سے بھارت۔ پاکستان آنے والے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ جمعہ کو لمبی پوچھ تاچھ کے بعد انہیں چھوڑدیا گیا۔ بعد میں انہیں پتہ چلا کہ اس پر خوب ہنگامہ ہوگا ہے۔ دونوں بولے شاید بھارت کے دباؤ میں ہی ان کو چھوڑا گیا۔ سید آصف نظامی کے بھتیجے ساجد نظامی نے بتایا کہ پاکستانی اخبار’ امت‘ میں ان کے چچا آصف و بھائی ناظم کے خلاف آرٹیکل شائع ہوا تھا۔ دونوں کو ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ بتایا گیا تھا۔ یہی نہیں اخبار میں کراچی کے پختون علاقے میں سرگرم ایم کیو ایم پارٹی کا ممبر بھی بتایا گیا۔ سجادوں نے سشما سوراج اور مودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا وزیر خارجہ کو واقعہ کی پوری جانکاری دی گئی۔ اس اردو اخبار کی کاپی بھی سونپی گئی جس میں انہیں ’را‘ کا ایجنٹ بتایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مودی سرکار اسے سنجیدگی سے نہیں لیتی تو شاید وہ ہندوستانی واپس نہ آپاتے۔ سجادوں کا قصہ ہر ہندوستانی کے لئے آنکھیں کھولنے والا ہے۔ جو لوگ پاکستان کے دن رات گن گاتے ہیں وہ اب پاکستان کی اصلیت کو سمجھ لیں گے۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ کے فیصلے سے ترنمول کانگریس سکتے میں

کولکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس کو کرارا جھٹکا دیتے ہوئے سی بی آئی سے نارد اسٹنگ معاملہ کی جانچ کرنے کے احکامات کو عزت مآب سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ ممتا بنرجی کی رہنمائی والی ریاستی حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ کے 17 مارچ کے حکم کے خلاف دائر ایک الگ اپیل میں دی گئی بنیادوں سپریم کورٹ نے بیحد افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عرضی سرے سے خارج کرنے لائق ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیر کی سربراہی والی بنچ میں اسے کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ یہ بنگال کی تاریخ میں ممکنہ طور پر پہلا موقعہ تھا جب کسی حکومت نے پارٹی کے نیتاؤں کے بچاؤ کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہو۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کسی نیتا کے بچاؤ میں سرکار کی طرف سے اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتادیں پچھلے سال ناردا اسٹنگ آپریشن کے سامنے آنے کے بعد بنگال کی سیاست میں طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ اس ویڈیو میں ترنمول کانگریس کے کئی درجن بھر ممبران پارلیمنٹ، وزرا و نیتاؤں کو رشوت کے طور پر لاکھوں کی رقم لیتے ہوئے دکھایا گیا۔ ممتا سرکار نے اسے فرضی قراردیا اور اسے اسٹنگ کرنے والے ناردا نیوز کے سی ای او میتھیوز سیمول کے خلاف معاملہ درج کرایا تھا۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے سیمول کو راحت دے دی ہے لیکن سینٹرل فارنسک لیباریٹری میں جانچ سے ویڈیو فٹیج کی سچائی بھی ثابت ہوگئی تھی لیکن تب سرکار اور پارٹی لگاتار اس ویڈیو کو فرضی بتا رہی ہے۔ممتا شروع سے ہی کہتی رہی ہیں کہ نوٹ بندی کے خلاف ان کی مہم کی وجہ سے ہی مرکزی سرکار سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ جیسی ایجنسیوں کو ترنمول کانگریس کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ پچھلے سال اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے اس ویڈیو کے سامنے آنے کے باوجود اپوزیشن اسے مضبوط چناوی اشو بنانے میں ناکام رہا تھا۔ ممتا اور ان کے نیتا اسے فرضی اور سیاسی سازش قرار دے کر چناؤ میں بھاری کامیابی حاصل کی تھی لیکن اب سی بی آئی کے ہاتھوں میں کیس جانے کے بعد اچانک ترنمول کانگریس کے کئی لیڈروں اور وزرا سے پوچھ تاچھ اور گرفتاری کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اب سپریم کورٹ میں منہ کی کھانے کے بعد ترنمول کانگریس اس معاملے سے سیاسی طور پر نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں لگی ہے۔ تازہ حکم کے بعدممتا اور مرکز کے درمیان نئے سرے سے ٹکراؤ کا اندیشہ ہے۔ شاردا اور راج ویلی چٹ فنڈ گھوٹالے کے بعد اب یہ تیسرا ایسا گھوٹالہ ہے جس میں ترنمول کانگریس کے کئی اثر دار لیڈر سی بی آئی کے شکنجے میں آسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...