30 مارچ 2019

دیش سے بغاوت جیسی تھی نوٹ بندی ؟

کانگریس سمیت کچھ اپوزیشن پارٹیوں نے منگل کو ایک بار پھر سے نوٹ بندی پر سرکار کی گھیرا بندی کرتے ہوئے اسے سب سے بڑا گھوٹالہ قرار دیا ہے ۔تیس منٹ کا ایک ویڈیو جاری کر الزام لگایا کہ نوٹ بندی کے دوران وسیع پیمانے پر کمیشن لے کر نوٹ بدلے گئے اس کام میں بھاجپا کے نیتا بھی شامل تھے دعوی کیا گیا کہ نوٹ بندی کے بعد بھی چالیس فیصدی کمیشن کے بدلے نوٹ بدلے گئے اور اس گھوٹالے کے ذریعہ دیش کی عام جنتا کا پیسہ لوٹا گیا ۔جو دیش سے بغاوت ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں نے ایک مشترکہ کانفرنس میں جو ویڈیو جاری کیا ہے اس میں یہ مبنیہ طور پر دکھایا گیا ہے نوٹ بندی کے بعد احمد آباد کے قریب بھاجپا کے ایک ورکر نے پانچ کروڑ روپئے کی مالیت کے چلن سے باہر ہو چکے نوٹ بدلے اور اس کے لئے چالیس فیصدی کمیشن لیا گیا ۔کانگریس لیڈر کپل سبل نے اس ویڈو کی ذمہ داری لینے کے علاوہ اس کی تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو ایک نیوز پورٹل سے لوڈ کیا گیا ہے ۔ٹیپ میں بھاجپا کے احمدآباد دفتر میں کچھ لوگوں کو پانچ لاکھ روپئے کے پرانے نوٹوں کو چالیس فیصد کمیشن کے ساتھ بدلتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔نیوز کانفرنس میں کانگریس کے سئنیر لیڈر غلام نبی آزاد ،کپل سبل،ملیکا ارجن،اور رندیپ سورجیوالا ،شرد یادو اور منوج جھا اور دیگر پارٹیوں کے نیتا موجود تھے انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آٹھ نومبر 2016کو پانچ سو اور ہزار روپئے کے نوٹوں کو بند کر دیا تھا اور پرانے نوٹوں کو بدلنے کا وقت 31دسمبر 2018طے کیا گیا تھا ۔کپل سبل نے کہا کہ یہ تب ہوا جب نوٹیفیکیشن کے ذریعہ نوٹ جمع کرنے اور بدلنے کی اعلان شدہ تاریخ گزر چکی تھی سبل کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو سوال اُٹھاتا ہے کہ جب دیش کی عام جنتا کچھ ہزار روپئے کے لئے پریشانیوں کا سامنا کر رہی تھی تو اس وقت گجرات میں بھاجپا ورکروں کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے انہوںنے کہا کہ دیش کو فیصلہ کرنا ہے کہ چوکیدار کون ہے اور چو رکون ہے ؟ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ دیش سے بغاوت کی گئی غلام نبی آزاد نے دیش کا سب سے بڑا گھوٹالہ بتایا اور وعدہ کیا کہ ہماری سرکار بنی تو اس کی جانچ کرائیں گے ۔کانگریس سمیت اپوزیشن کے اس دعوی پر وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ یو پی اے کی جعلسازی کا کارواں بڑھتا جا رہا ہے ۔بی ایس وائی کی ڈائری کے بعد ایک فرضی اسٹنگ چلایا گیا جب اصلی مدے نہیں ہوتے تو جعلسازی پر بھروسہ کریں جیٹلی نے کہا کہ لندن میں ای وی ایم پر خلاصہ کرانے کی نہ کام کوشش کرنے والا اور یو پی اے کے آج کے فرضی اسٹنگ کے پیچھے کیا ایک ہی شخص ہے ۔انہوںنے کہا کہ ای وی ایم کو لے کر کپل سبل بیرون ملک جا کر من گڑھت کہانی کی بنیاد پر ہندوستان کی جمہوریت کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی بعد میں وہی خبر فرضی ثابت ہوئی ۔سوال یہ ہے کہ یہ اسٹنگ ویڈیو فرضی ہے کیا ؟دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے اگر اس کی اصلیت کی جانچ ہو ۔

(انل نریندر)

مشن شکتی تجربے کے بعد چھڑی سیاسی جنگ

ہندوستان کے لئے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ ہم نے خلا میں ہی دشمن کے سیٹیلائٹ کو تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے ۔ڈی آر ڈی او کے ذریعہ تیار اینٹی سیٹلائٹ (اے-سیٹ)میزائل کے کامیاب تجربے کے ساتھ بھارت اس طاقت سے آراستہ روس،امریکہ،اور چین کے بعد چوتھا ملک بن گیا ہے ۔بھارت نے اس تجربے کو مشن شکتی کا نام دیا ہے ۔یہ محض تین منٹ میں پورا ہو گیا تجربے کے دوران سیٹلائٹ سے باہر ہونے کے باوجود ایک لائیو سیٹلائٹ کو 300کلو میٹر اوپر زمین کے نچلے مدار میں مار گرایا گیا۔ڈی آر ڈی او چیف جی ستیش ریڈی نے کہا کہ میزائل سے لیپٹ لائٹ کو گرانا دکھاتا ہے بھارت سیٹی میٹرس تک کی پختگی کے لئے اور زیادہ سمجھدار ہو چکا ہے ہم سائنسدانوں کو ،تکنیشینوں کو اس شاندار و اہم ترین کارنامے پر بدھائی دیتے ہیں ۔اس سے آسمان میں سیکورٹی یقینی ہوگی ۔کوئی بھی مشتبہ سیٹلائٹ ہندوستانی خلائی حد میں داخل نہیں ہو سکے گا ۔دشمن سیٹلائٹ جاسوسی بھی نہیں کر پائے گا ۔حالانکہ تجربے کے وقت کو لے کر سیاسی جنگ ضرور چھڑ گئی ہے ۔بدھوار کی دوپہر وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خلا میں بڑا کارنامہ حاصل کر لیا ہے اینٹی سیٹلائٹ میزائل کا کامیاب تجربہ دیش کی ترقی کا دفائی پہلو ہے ۔وزیر اعظم کا ٹوئٹ آنے کے بعد ٹوئٹ وار شروع ہو گئی ۔کانگریس سیکریٹر ی جنرل احمد پٹیل نے اس کا سہرا منموہن سنگھ سرکار کو دیا ۔مرکزی وزیر خرانہ ارون جیٹلی نے ثبوت سمیت یاد دلایا کہ منموہن سنگھ سرکار نے سائنس دانوں کو چھوٹ نہیں دی تھی ورنہ بھارت یہ صلاحیت کچھ سال پہلے ہی حاصل کر لیتا ۔کانگریس نے دعوی کیا کہ یہ سیٹ میزائل کا کارنامہ کا سہرا سابق وزاءاعظم جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کو جاتا ہے چونکہ ان کے وقت میں ڈی آر ڈی او بنا تھا ۔ممتا بنرجی ،مایا وتی نے مودی کے اعلان کو چناﺅ ی ضابطے کی خلاف ورزی بتایا ۔ممتا نے تجربے کو لے کر سوال کھڑا کیا جبکہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے درپردہ طور پر وزیر اعظم کے خطاب کو ڈرامہ قرار دیا ۔مشن شکتی کو کانگریس کے ذریعہ پرانا پروگرام بتائے جانے پر اڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بھاجپا نے کہا کہ کانگریس کی لیڈر شپ والی سرکار نے 2012,13میں اس کے لئے اجازت اور پیسے دینے سے انکار کر دیا تھا ارون جیٹلی نے آگے کہا کہ بہت وقت پہلے سے ہمارے سائنسدانوں کی خواہش تھی کہ بھارت اس سمت میں آگے بڑھے 21اپریل 2012کی ایک میڈیا رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب اگنی 5کا تجربہ ہو ا تھا تب ڈی آر ڈی او کے چیف ڈاکٹر وی کے سرسوت نے کہا تھا کہ ان کے پاس سیٹلائٹ کو تلاش کرنے کی صلاحیت ہے لیکن سرکار اس کے تجربے کی سمت میں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔بھارت نے اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار کا تجربہ کر کے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف مستقبل کی دفاع چنوتیوں کے لئے تیار ہے بلکہ اس کے لئے خلا کا ایک ایسا سیکٹر ہے نہ اس کے لئے اب کوئی چنوتی نہیں ہے ۔یہ مانا جاتا ہے کہ مستقبل میں جنگ زمین آگ یا آسمان میں نہیں بلکہ خلا میں بھی لڑی جائے گی ،سائنسدانوں کو بدھائی ۔

(انل نریندر)

29 مارچ 2019

بھاجپا کو اپنے گڑھ بچانے کی چنوتی

2014لوک سبھا چنا و ¿ مےں بھارتی جنتا پارٹی نے آسام کی 14سےٹوں مےں سے 7پرجےت حاصل کی تھی کانگرےس کو 3سےٹےں ملی تھی اور دےگر کو 41اس مربتہ بھاجپا کے لئے 2014سے آگے بڑھ کر زےادہ سےٹےں جےتنے کی چنوتی ہوگی ۔بھاجپا نے 2019لوک سبھا چناو ¿ مےں نارتھ اےسٹ کی 8رےاستوں کی 25مےں سے 22سےٹےں جےتنے کا نشانہ رکھا ہے اسی نشانہ کے تحت آسام گن پرےشد سمےت پانچ علاقائی پارٹےوں ومورچوں کے ساتھ اتحاد کرنے کا اعلان کےا ہے ےہ معاہدہ بھاجپا اےن ڈی اے اور نارتھ اےسٹ ڈےموکرےٹک کے درمےان ہوا ہے شہریت بل کے خلاف اے جی پی نے بھاجپا سرکار سے حماےت واپس لے لی تھی خےا ل رہے کہ نارتھ اےسٹ کی ےہ سےٹےں نرےندر مودی کو دوبارہ پی اےم بنانے مےں اہم رول نبھائےں گی ۔2016کے اسمبلی چناو ¿ مےں اے جے پی پھاجپا وبی پی اےف کے درمےا ن گٹھ بندھن تھا اور تےنوں نے مل کر2001سے لگا تار کانگرےس کو ہراتی تھی اتحا دکے بعد اے جی پی کے صدراتل بورا نے کہا کانگرےس کو شکست دےنے کے لئے پرانے ساتھی اےک بار پھر متحد ہوگئے ہےں اے جی پی نے جنوری مےں شہرےت بل کی مخالفت مےں آسام مےں بھاجپا سرکار حماےت واپس لی تھی کےا اتراکھنڈ مےں 2014کی سےاسی پارٹی بدلے گی ؟ےہ کانگرےس کے سامنے 2014کے چناو ¿ کے بعد پہاڑ جےسی چنوتی ہے وہےں بھاجپا کے سامنے اپنا پچھلا ووٹ فےصد برقرار رکھنے کا بڑا سوال ہے ۔2014لوک سبھا چنا و ¿ مےں بھاجپا نے کانگرےس کے 21اشارےہ 53فےصد سے زےادہ ووٹ پاکر کانگرےس کو پچھاڑ دےا تھا 2014مےں اتراکھنڈ کی پانچوں لوک سبھا سےٹوں پر بھاجپا کامےاب ہوئی تھی جب کہ 2009مےں اس کے پاس اےک بھی سےٹ نہےں تھی کانگرےس کی ےوپی اے سرکار کے خلاف لہر پولارائزےشن چناو ¿تھا اس مےں بسپا سمےت سبھی پارٹےاں حاشےہ پر چلی گئی تھےں اور مودی لہر پر سوار بھاجپا کو پانچوں سےٹوںپر کل ووٹ ےعنی 2429698ےعنی 55عشارےہ 53فےصد ووٹ ملے تھے وہےں کانگرےس 1494440ووٹر ےعنی 34عشارےہ 40فےصد ملے تھے اس طرح دونوںپارٹےوں مےں 21عشارےہ 53فےصد ووٹ ملے تھے ۔اتراکھنڈ مےں تےسرے نمبر پر بہوجن سماج پارٹی رہی جس کو 4.78فےصد ووٹ ملے کانگرےس کے لئے اس بار اس بڑے فرق کو بھر نے کی ذمہ داری ہے ٹکٹوں کے بٹوارے کولےکر بےشک بھاجپا مےں کچھ ناراضگی ضرور ہے لےکن بھاجپا قےادت اسے ضرور سلجھالے گی دےکھنا ےہ ہے کہ 2019مےں وےسی مودی لہر نہےں ہے جےسی 2014مےں تھی پانچ سال کے بھاجپا عہد مےں مخالف فےکٹر بھی ہوگا کل ملاکر نارتھ اےسٹ اور اتراکھنڈ مےں مقابلہ دلچسپ ہوگا ۔اہم پہلو بھاجپا اور کانگرےس اتحادوں کے درمےان سخت امتحان ہوگا۔

(انل نریندر)

غریبی ہٹاﺅ بنام غریبی مٹاﺅ

کانگرےس صدر راہل گاندھی نے ٹھےک 48سال بعد وہی ماسٹر اسٹروک کھےلا جو 1971انکی دادی اندرا گاندھی نے چلا تھا غور طلب ہے کہ اس وقت چناو ¿ مےں اندرا گاندھی نے غرےبی ہٹاو ¿ کا نعرہ دےا تھا اور دےش کے اقتدار پر حکمراں ہوئی تھی اس وقت پوری اپوزےشن ان کے خلاف کمر بستہ تھی لےکن ان کے اس نعرہ سے سارے سےاسی تجزےوں کو ٹھےنگا دکھا تے ہوئے پارٹی کی جھولی مےں عوام نے 518لوک سبھا سےٹوں مےں سے 352سےٹےں ڈال دی تھی ۔2019کے لوک سبھا چناو ¿ مےں اب اسی طرز پر بھاجپا اور نرےندر مودی کو گھےر نے کےلئے راہل گاندھی نے پےر کو دےش کے 25کروڑ غرےبوںکو رجھانے کا اےسا سےاسی داو ¿ں چلا ہے جس کی کاٹ کرنا آسان نہےں ہوگا ۔کانگرےس صدر کی کم از کم آمدنی اسکےم (نےائے )کے تحت دےش کے 20فےصد غرےبوں کو ہرسال 72ہزار روپے دےنے والی نےا ئے ےوجنا گھےم چنجر بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔پچھلے دنوں تےن رےاستوں کے چناو ¿ مےں کسانوں کی قرض معافی ےوجنا کے نتائج سے گڈ گڈ کانگرےس صدر نے اب سےاسی پچ پر غرےب کارڈ کی گگلی پھنک دی ہے راہل نے وعدہ کےا ہے کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار مےں آتی ہے تو وہ دےش کے 20فےصدی سب سے غرےب پانچ کروڑ کنبوں کو سےدھے ان کے کھاتے مےں سالانہ 72ہز ارکروڑ روپے دے گی تاکہ ان کی آمدنی 12ہزار روپے مہےنہ ہوسکے ۔کانگرےس صدر انے اس اسکےم کو تےار کرنے کےلئے ہندوستانی معےشت کی پوزےشن کا گہرائی سے جائزہ لےا ہے ۔اور معےشت اس اسکےم کا بوجھ اٹھا سکتی ہے اور ےہ اسکےم کے لئے دےش مےں درکار پےسہ ہے کانگرےس دےش کے لوگوں کو انصاف دے گی اور ان کا حق دلائے گی ۔کانگرےس صدر کی کم از کم اس کےم نےائے سے بھاجپا مےں کھلبلی مچ گئی ہے اس نے کانگرےس کے داو ¿ں کی کاٹ کرنے کےلئے وزےر خزانہ ارون جےٹلی کو مےدان مےں اتارا جنہوں نے نےائے ےوجنا مےں کئی خامےاں گنائی ہےں اور مودی سرکار موجودہ اسکےموں کا ذکرکرکے ےہ سمجھانے کی کوشش کی کہ مودی سرکار بھی ابھی براہ راست فائدہ منتقلی اسکےم کے تحت غرےبوں کے کھاتے مےں سرکار مدد ڈالی جارہی ہے جےٹلی نے دلےل دی کہ سرکار کے ذرےعہ مختلف اسکےموں ونو پروگراموں کے ذرےعہ غرےبوں کو 5.3لاکھ کروڑ دےا جارہا ہے ۔جےٹلی نے کہا کہ کانگرےس کی ےوجنا اےک دھوکہ اور چھلاواہے کانگرےس کی پالےسی رہی ہے کہ چناو ¿ جےتنے کےلئے غرےب کو دھوکہ دےنا اور وسائل نہ دےنا کانگرےس پارٹی کی تارےخ رہی ہے کہ غرےب کو نعرے دو اور سہولت مت دو کانگرےس نے ٹوےٹر پر انکی کاٹ کرنے کےلئے مہم چلائی کہ بھاجپا غرےبوں کو کم ازکم آمدنی دےنے کی مخالفت کررہی ہے جبکہ اس نے امےروں کو کروڑوں روپے کی مدد کی ہے ۔ہمارا خےال ہے راہل گاندھی کی ےہ اچھی اسکےم ہے ےہ غرےبوں کو کم ازکم آمدنی گارنٹی دےگی اصولی طور سے ممکن بھی ہے کےونکہ ےہ قرض معافی سے بہتر ہے لےکن اس مےں دوپرےشانےاں ہے پہلی غرےب آدمی کی آمدنی کی تفصےلات موجودنہےں ہے کہ کےسے طے کرےں گے کون غرےب ہے دہی علاقوں وشہری علاقوں مےں اس کا تعےن کےسے ہوگا اور کس کی آمدنی کتنی ہے ؟دوسرا پانچ کروڑ خاندانوں کو 72ہزار روپے دےں تو 3.6لاکھ کروڑ روپے لگےں گے اتنا پےسا کہاں سے آئے گا ؟سبسڈی ختم نہےں کی جاسکتی توسرکار کا خسارہ بڑھےگا دےکھےں راہل گاندھی کی اس ےوجنا کا ووٹروں پر کتنا اثر پڑ تا ہے ؟

(انل نریندر)

28 مارچ 2019

نیتاﺅں کی املاک میں بے تحاشہ اضافے کا معاملہ

سپریم کورٹ میں این جی او لوک پرہری کے ذریعہ غیر توہین عدالت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عوام کے نمائندوں کی آمدنی اور اثاثے کی نگرانی کے لئے مستقل مشینری بنانے پر اپنے فیصلے پر ابھی تک عمل نہ ہو پانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے پچھلے سال عزت معاب عدالت نے عوامی نمائندوں کی پراپرٹی پر نظر رکھنے کے لئے سرکار کو ایک قدم اُٹھانے کا حکم دیا نہ جانے کتنے ایم پی ہیں جو اپنے عہد میں ہی نا جائز طریقہ سے امیر بن جاتے ہیں تقریبا ایسی ہی پوزیشن ممبران اسمبلی کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے جب ایسے ممبر اسمبلی یا ایم پی دن دونی رات چوگنی مالی ترقی کرتے ہیں تو کہیں نہ کہیں ان پہ زیادہ شبہ ہوتا ہے جو نہ تو کاروبار کرتے ہیں اور نہ ہی سیاست کے علاوہ کوئی دھندا کرتے ہیں ۔حال میں جو تفصیلات سامنے آئیں ان کے مطابق 2014میں پھر سے منتخب ہوئے 153ایم پی کی اوسط پراپرٹی میں 142فیصد اضافہ درج کیا گیا اور فی ایم پی اوسط آمدنی 13.32کروڑ روپئے رہی بھاجپا 72ایم پی کی پراپرٹی میں 7.54اوسط سے اضافہ ہوا کانگریس کے 28ایم پی کی املاک میں اوسطا6.35کروڑ روپئے کا اضافہ ہوا کیا اسے صحیح مانا جا سکتا ہے ؟کیا یہ اعداد شمار صحیح ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے سیاست نا جائز کمائی کا ذریعہ بن گئی ہے جبکہ کچھ ایم پی ایسے ہیں جو بڑے کاروباری ،تاجر ہی یا پھر پشتینی امیر ہیں لیکن آخر اس کا کیا مطلب ہے کہ عام پس منظر میں صرف سیاست کرنے والوں کی پراپرٹی میں پانچ سال میں 203گنا اضافہ ہو جائے کیا دال میں کچھ کالا نہیں لگتا ؟نامزدگی بھرتے وقت ایک حلف نامے میں اپنی بیوی یا شوہر یا رشتہ داروں یا بچوں کے اثاثے کیا ذریعہ بتانا ہوتا ہے اور فارم 26میں ترمیم کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم جس سے عوامی نمائندوں کو عوامی نمائندگان قانون کے تحت یہ لکھا جانا کہ وہ اس قانون کی کسی تقاضے کے تحت چناﺅ لڑنے کے اہل ہیں لیکن سرکار نے نہ صرف جزوی طور پر عمل کیا بلکہ سب سے پرکھنے والی بات یہ ہے کہ عوام کے نمائندوں کی آمدنی و اثاثہ نگرانی رکھنے کی مستقل بوڈی یاا دارہ قائم کرنے میں اس نے کوئی دلچسپی نہیں لی یہ لاچاری تب ہے جب ایم پی و ممبران اسمبلی کی پراپرٹی میں اضافے کے اعداد شمار مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں یہ نہ تو کسی پارٹی خاص تک محدود ہے اور نہ ہی کسی ایک ریاست تک قریب ڈیڑھ سال پہلے انکم ٹیکس نے کچھ ایم پی اور ممبران اسمبلی کی فہرست سپریم کورٹ کو سونپی تھی جن کی آمدنی دو چناﺅ کے بعد بے تحاشہ بڑھی ہے ۔اسو شی ایشن اور ڈیموکریٹک ریفارم بتا چکی ہے کہ 16ویں لوک سبھا اب تک کی سب سے امیر تھی لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جب پارٹیاں ٹکٹ بیچنے میں لگی ہیں تو ایم پی اور ممبران اسمبلی پہلے تو اپنے چناﺅ پر خرچ ہوئی رقم کی کمائی کرتے ہیں اور پھر اگر اگلا چناﺅ ہار جائیں تو اس کے لئے بھی انتظام کرتے ہیں یہ سب پیسہ آتا کہاں سے ہے؟سیاست سے اس لئے ٹکٹوں کا بکنا ،اتنے مہنگے انتخابات پر لگام کسنی ضروری ہے سیاست کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

(انل نریندر)

کانگریس23ریاستوں میں 354سیٹوں پر اکیلے چناﺅ لڑنے کی تیاری میں!


پچھلے سال دسمبر میں مدھیہ پردیش،راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کامیابی کے بعد سے کانگریس فرنٹ فٹ پر کھیل رہی ہے چار مہینے پہلے تک جن ریاستوں میں اتحاد کے لئے ساتھی تلاش رہی تھی اور نمبر دو کی پارٹی بننے کو تیار تھی اب وہاں کانگریس ساتھیوں کے ساتھ سیٹ بٹوارے میں بڑے بھائی کی حیثیت یا برابری کا رتبہ چاہتی ہے ۔اس کے کم اسے قبول نہیں ہے ۔اس عوض کانگریس اکیلے چناﺅ میں جانے کو تیار ہے ۔یوپی کے بعد کانگریس نے مغربی بنگال میں اکیلے چناﺅ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے مہاراشٹر میں وہ این سی پی کے ساتھ نمبر ون کی حیثیت اور بہار میں آر جے ڈی کے ساتھ برابری چاہتی ہے ۔آندھرا پردیش میں بھی برابر سیٹ چاہتی ہے ۔صرف تمل ناڈو میں ڈی ایم کے سے کم سیٹوں پر راضی ہوئی ہے ۔ریاست میں 39سیٹیں ہیں کانگریس 8ڈی ایم کے تیس سیٹوں پر چناﺅ لڑ رہی ہے ۔بہار جموں وکشمیر آندھرا میں تو 2014میں نمبر دو پر تھی ۔حیثیت سے لڑی تھی لیکن اس مرتبہ برابر سیٹ چاہ رہی ہے ۔کانگریس نے 23 ریاستوں میں اکیلے چناﺅ لڑنے کی تیاری کر لی ہے ۔ان میں سے دو تین ریاستیں ایسی ہیں جہاں کانگریس نے کچھ چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ تال میل کیا ہے وہ ایسی پارٹیاں ہیں جن کی قومی پہچان نہیں ہے۔لیکن ان 23ریاستوں میں 354سیٹیں بنتی ہیں یعنی کانگریس قریب65فیصد سیٹوں پر اکیلے چناﺅ لڑ رہی ہے ۔اس نے ابھی سات ریاستوں میں بڑی علاقائی پارٹیوں سے تال میل کیا ہے وہ ریاستیں جہاں کانگریس تنہا چناﺅ لڑ رہی ہے ان میں یوپی،(80)بنگال(42)مدھیہ پردیش(29) راجستھان(25)گجرات (25) آندھرا پردیش (25) اڑیشہ (21) کیرل(20)تلنگانہ(17)آسام(14)پنجاب(13)ہریانہ(10)دہلی (07)جموں کشمیر(6)اتراکھنڈ(5)نارتھ ایسٹ میں چھ میں سے پانچ ریاستوں میں کانگریس اکیلے چناﺅ لڑنے جا رہی ہے ۔کیرل کی وایناڈ سیٹ سے کانگریس صدر راہل گاندھی کے چناﺅ لڑنے کے امکان کی وجہ سے نہ صرف ریاست کی سیاست گرما گئی ہے بلکہ ساﺅتھ میں اپنا قلعہ مضبوط کرنے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے ۔کیرل میں کانگریس ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے ۔لیکن لیفٹ پارٹیوں سے ٹکر میں ریاست میں اقتدار بدلتا رہتا ہے ۔کانگریس کے قلعہ کو اور مضبوط کرنا چاہتی ہے اور اس کی اگلی حکمت عملی تیار کرنے میں لگ گئی ہے 2014لوک سبھا چناﺅ میں کانگریس نے نو سیٹوں پر قبضہ کیا تھا ریاست میں کل 20سیٹیں ہیں یو ڈی اے اتحاد جس کا حصہ کانگریس تھی نے کل 12سیٹیں جیتی تھیں این ڈی اے کا 2014میں خاتہ نہیں کھل پایا تھا جہاں تک وایناڈ سیٹ کا سوال ہے یہ ہمیشہ سے کانگریس کا گڑھ رہا ہے ۔2008میں وجود میں آئی اس لوک سبھا سیٹ پر 2009میں ڈیڑھ لاکھ ووٹوں سے کانگریس کے ایم آئی شہنواز کی جیت بھی ہوئی تھی 2014میں شہنواز سیٹ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے تھے 2018نومبر میں شہنواز کے انتقال کے بعد یہ سیٹ خالی ہو گئی ہے مگر اس کے لئے وقت ہے خود اعتماد کا مظاہرہ کرنے کا راہل گاندھی کے کانگریس صدر بننے کے بعد 2019کے لوک سبھا چناﺅ ان کے لئے سب سے بڑی چنوتی ہے ۔

(انل نریندر)

27 مارچ 2019

مہاراشٹر میں مقابلہ بھاجپا شیو سینا بنام کانگریس این سی پی ہے

دیش میں اترپردیش کے بعد سب سے زیادہ 48لوک سبھا سیٹیں مہاراشٹر میں ہیں لہذا سیاسی پارٹیوں کی نظر اس اکھاڑے پر لگی ہے 2014عام چناﺅ میں کانگریس مخالف ماحول کے درمیان مہاراشٹر میں بھاجپا ،شیو سینا کا تال میل ہوا تھا حالانکہ سیاست کے سب سے پرانے ساتھیوں بھاجپا شیو سینا نے عداوت کے بعد بھی ہاتھ ملا لیا اس کے باوجود حالات ایسے نہیں ہیں جیسے پہلے تھے پلوامہ حملے کے بعد راشٹر واد کا اشو ضرور حاوی ہوا لیکن سیاسی حالات نے بڑی تبدیلی آئی ہے پہلی بار دلت مسلم ایکتا بنانے کے لئے اویسی کی اتحاد المسلیمین اور امبیڈکر پارٹی نے اتحاد ہوا ہے 2014کے لوک سبھا چناﺅ میں ریاست کی 48سیٹوں میں بھاجپا شیوسینا اتحاد کو 42سیٹیں ملی تھیں جبکہ این سی پی نے 4اور کانگریس کو دو سیٹیں ملی تھیں ۔ریزرویشن ،بھیما کورے گاﺅں تشدد کسان قرض معافی تحریک اور آدیواسی تحریک سمیت کئی بڑے اشو ہیں جو پورے پانچ سال مہاراشٹر کی سیاست میں چھائے رہے ۔تمام مخالف مظاہروں کے باوجود مہاراشٹر کی زیادہ تر مہا نگر پالیکاﺅں ،ضلع پریشدوں ،نگر پالیکاﺅں ،میں بھاجپا کا قبضہ رہا ۔ساتھ ہی دو سیٹوں پر لوک سبھا ضمنی چناﺅ میں پال گھاٹ بھاجپا نے جیتی تھی صوبے کی سیاست کے سب سے بڑی دوسری واردات عین چناﺅ پر بھاجپا شیو سینا کا پھر تال میل ہونا ساڑھے چال سال مرکز اور ریاست میں اقتدار کے ساتھ رہنے کے باوجود شیو سینا مسلسل بھاجپا پر حملہ آور رہی حالانکہ چناﺅ سے ٹھیک پہلے بھاجپا نے دوست کو منا کر ریاست میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے تال میل سے بھاجپا کو ویدھرب میں نقصان دکھائی دے رہا ہے ۔جبکہ ممبئی ،کونکم،نارتھ مہاراشٹر اور مراٹھواڑا میں فائدہ ہو سکتا ہے ۔شہروں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں بھاجپا کا مائینڈیڈ گھٹا ہے جبکہ شیو سینا کا دیہی علاقوں میں مائینڈیڈ بھی کم ہو اہے مہاراشٹر میں 2014لوک سبھا چناﺅ میں بھاجاپ شیو سینا اتحاد کی بڑی کامیابی ہوئی تھی بسپا ،آر پی آئی اور بی جے پی جیسی پارٹی ذات برادری کے بل پر تین چار بار چناﺅ میں تیسری طاقت تھی ۔اور کبھی اس کا فائدہ کانگریس کو بھی اور کبھی بھاجپا کو ملا ہے اس مرتبہ اویسی اور امبیڈکر پارٹی جوڑی کا اثر مغربی مہاراشٹر ،مراٹھواڑا ،ودھرب میں دکھائی پڑا ہے مہاراشٹر میں گذشتہ دو سالوں میں کسانوں کو بار بار سڑکوں پر اترتے دیکھا ہے۔پچھلے ماہ کسانوںنے ناسک سے ممبئی تک دو سو کلو میٹر لمبا مارچ 2شروع کیا جو سرکار سے بات چیت کے بعد 21فروری کو ملتوی ہو گیا تھا کسانوں کا بڑا اشو ہے ۔این سی پی چیف شرد پوار میں 2014چناﺅ کے بعد بھاجپا کی حمایت کا اعلان کر شیو سینا کو فیک فٹ پر لا دیا تھا تب سیاسی پنڈتوں کو بھی اس پیش کش کا مطلب سمجھ نہیں آیا حالانکہ بھاجپا نے شیو سینا کو منا لیا تھا شرد پوار نے ساڑھے چار سال تک ایسے اشو کو ہوا دی جس سے نہ صرف وزیر اعلیٰ دیوندر فرنیوس پریشان ہوئے بلکہ بھاجپا کے خلاف ماحول بنا ۔کانگریس بھی این سی پی چیف کو آگے کر مہاراشٹر میں اپنے پرانے گھڑ میں پاﺅں جمانے کی کوشش میں کل ملا کر ریاست میں بھاجپا شیو سینا اتحاد کی پوزیشن مضبوط ہے ۔
(انل نریندر) 

اتحاد نہ ہونے سے ترنمول کی امید بڑھی

مغربی بنگال میں لوک سبھا چناﺅ میں سیٹوں کے بٹوارے کے اشو پر کانگریس اور مارکسی پارٹی کی قیادت والے لیفٹ فرنٹ کے درمیان جاری بات چیت نا کا م ہونے کی وجہ سے ریاست میں ووٹروں کے پولرائزیشن کا اندیشہ تیز ہو گیا ہے ۔اب چوطرفہ مقابلے میں حکمراں ترنمول کانگریس اور بھاجپا کے لئے اپنے حق میں ووٹروں کو راغب کرنے کا موقعہ مل گیا ہے ۔مغربی بنگال کانگریس نے نہ صرف ریاست کی سبھی 42سیٹوں پر چناﺅ لڑنے کا اعلان کر دیا اور لیفٹ فرنٹ کے ذریعہ چھوڑی گئیں چار سیٹوں کو بھی ٹھکرا دیا ہے لیفٹ مورچہ نے مغربی بنگال میں لوک سبھا کی 42میں سے 38سیٹوں کے لئے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے ۔مورچہ نے فی الحال مالدا نارتھ ،مالدا ساﺅتھ جگی پور،بھرم پور ،کی ان چار سیٹوں پر کوئی امیدوار نہیں اتارا جہاں 2014میں لوک سبھا چناﺅ میں کانگریس جیتی تھی لیفٹ فرنٹ کے چیرمین بمن بسو نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ تال میل کے لئے دروازے ابھی بھی کھلے ہیں مغربی بنگال میں جیت کے ہیرو مانے جانے والے راشٹریہ کانگریس پارٹی کی قیادت والے لیفٹ فرنٹ کے لئے 2019لوک سبھا چناﺅ سب سے مشکل سیاسی اگنی پریکشا ہے جہاں اسے اپنے سیاسی و چناﺅ ی وجود کو بچانا ہوگا ۔لیفٹ فرنٹ نے 1977سے مسلسل چونتیس سال تک ریاست میں حکومت کی تھی ۔لیکن اب اس کا میائینڈیڈ تیزی سے گھٹ رہا ہے ۔وہ لیڈر قیادت کی مشکل کا سامنا کر رہا ہے ۔اس کے ورکر حکمراں ترنمول کانگریس میں یہاں تک کہ بھاجپا میں جا رہے ہیں بھگوا پارٹی اس کی جگہ لیتی جا رہی ہے اور اسے اپنی زمین بچانے کے لئے جد و جہد کرنا پڑ رہی ہے ۔مغربی بنگال میں چار بڑی پارٹیوں کی پوزیشن کو سمجھنے کے لئے 2014کا چناﺅ نتیجہ ضروری ہے ترنمول کو 39.05فیصد لیفٹ پارٹیوں کو 29.71فیصد بھاجپا کو 16.80فیصد اور کانگریس کو 9.58فیصد ووٹ ملے تھے ۔2019میں ترنمول کانگریس اور بھاجپا کا ووٹ فیصد بڑھا ہے اور لیفٹ پارٹیوں اور کانگریس کا گھٹا ہے بھاجپا کی ریاست میں سرگرمی بڑھی ہے اگر بھاجپا اور کانگریس کا ووٹ فیصد بڑھتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان ممتا کی پارٹی کو ہوگا ترنمول کانگریس کو فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور اس کے لئے فائدہ یہ ہے کہ اقلیتوں کو متحد کر کے ان سے ناراضگی کے باﺅجود ریاست کے تقریبا 80فیصدووٹر بھاجپا کو روکنے کے لئے ترنمول کانگریس کی ہی حمایت کریں گے تال میل کی صورت میں ترنمول کانگریس مخالف ووٹوں کے بٹنے کا جو امکان تھا وہ ختم ہو گیا ہے اب ایسے ووٹ بھاجپا کے پالے میں جا سکتے ہیں حال ہی میں بھاجپا میں شامل ہونے والے ترنمول کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی ارجن سنگھ کا دعوی ہے کہ ترنمول کانگریس کی خوش آمدی کی پالیسی سے ناراض ہندﺅں کا ایک بڑا طبقہ اب کی بار بھاجپا کی حمایت کرئے گا بتا دیں کہ 2014کے لوک سبھا چناﺅ میں ترنمول کانگریس نے ریاست کی کل 42سیٹوں میں 34سیٹیں جیتی تھیں جبکہ کانگریس نے چار اور بھاجپا اور کمنیوسٹوں نے 2-2سیٹیں جیتی تھیں چونکہ اس مرتبہ چار پارٹیوں میں مقابلہ ہونے کا امکان ہے ترنمول کے ایک نیتا مانتے ہیں کہ خاص کر مقابلہ ترنمول اور بھاجپا کے درمیان بنگلہ دیش سے آنے والے پناہ گزین بھائیوں سے لیفٹ فرنٹ کا ووٹ بینک رہے ہیں اب یہ ترنمول کانگریس کی طرف جھک گئے ہیں ممتا اسی وجہ سے اقلیتوں کو بڑھاوا دیتیں ہیں اقلیتی ووٹ بھاجپا کے خلاف اس بار بھی جائے گا۔

(انل نریندر)

26 مارچ 2019

آخر کار:بھگوڑا نیرومودی لندن میں پکڑا گیا

پنجاب نیشنل بینک کے ساتھ 14357کروڑ روپئے کی دھوکا دھڑی کر فرار نیرو مودی کو بدھ کے روز لند ن میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔وہ نیا بینک کھاتا کھولنے پہنچا تھا بینک اسٹاف کی اطلاع کے بعد پولس پہنچی اور اسے پکڑ لیا گیا ۔ویسٹ منسٹر کورٹ نے مودی کی ضمانت عرضی مسترد کرتے ہوئے 29مارچ تک پولس حراست میں بھیج دیا اس کی حوالگی کے لئے ہندوستان کی عرضی پر اسی دن سماعت ہوگی گرفتاری کے وقت نیرو مودی کا پاسپورٹ ختم ہو چکا تھا اسے ضبط کر لیا گیا ہے عدالت کی جج میری چیلن کا کہنا تھا کہ معاملہ جعلسازی کا ہے اور اس کو ملزم کے بھاگنے کا ڈر بھی ہے اس لئے ضمانت نہیں دی جا سکتی عدالت نے وکیل دفاع کی دلیلیں و پانچ لاکھ پاﺅنڈ سیکورٹی کی ضمانت بھی نا منظور کر دی ہے ۔عرضی گزار نے کہا تھا کہ اس کا موکل برطانیوی حکومت کو پورا ٹیکس دیتا ہے 18لاکھ روپئے مہینے کی تنخواہ بھی دیتا ہے اور سفری دستاویزات بھی جمع کرا دئے ہیں اس لئے ضمانت دی جائے اور عدالت نے اس کی دلیل نہیں مانی عدالت نے نیرو مودی کے بھاگنے کے اندیشے کے پیش نظر کہا کہ اسے جیل میں رکھنا ضروری ہے وہ لندن کے عالی شان علاقہ ویسٹ اینڈ 72کروڑ روپئے کے عالی شان بنگلے میں رہ رہا تھا ۔نیرو مودی کی گرفتاری کے بعد حکومت ہند اور انفورسمینٹ ڈاکٹریٹ و سی بی آئی وغیرہ ایجنسیوں کے لئے ایک راحت بھری خبر اس لئے بھی ہے کہ وہ اس کے بارے میں کسی کو بھنک نہیں تھی جیسا کہ اب دعوی کیا جا تا رہا ہے نیرو مودی آخر غائب کیسے ہو گیا ؟انٹر پول بھی اسے پکڑنے میں ناکام رہی اس کے بارے میں خبریں آتی رہیں کہ وہ سنگا پور کبھی نیو یارک میں دیکھا گیا ۔خیر اس کی یہی کہانی ہے کہ نیرو مودی تو ایک بینک ملازم کی ہوشیاری سے پکڑا گیا اب وہ جیل میں ہے عدالت نیرو مودی کو بھارت حوالے کرنے کی عرضی پر سماعت کرئے گی غور کرنے کی بات ہے عدالت کے ذریعہ جاری وارنٹ کے بعد اس کے پاس خود سپردگی کرنے کا متابادل تھا لیکن اس نے نہیں چنا وہ حلیہ بدل کر علاقہ میں رہنے اور پھر ہیرے کے کاروبار شروع کرنے کی اپنی کوششیں پہلے ہی شکنجے میں آچکا ہے ۔برطانیہ کے قانون کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ زیادہ سے زیادہ عرصے تک اپنی حوالگی کی کوششوں کو ٹالتا رہے گا ویسے بھی کسی ملزم کی حوالگی کی قانونی کارروائی میں وقت لگتا ہے مالی جرائم کر برطانیہ جانے والے ایک دوسرے بھگوڑے وجے مالیا کی مثال ہمارے سامنے ہے اس کو لانے کی کارروائی چل رہی ہے ۔نیرو مودی کی اچانک گرفتاری سے حکمراں مودی سرکار کو چناﺅ کے عین پہلے ایک اہم ترین اشو ضرور مل گیا ہے جسے وہ بھنانے کی پوری کوشش کرئے گی ۔سرکار اور جانچ ایجنسیاں جتنی سرگرمی دکھا رہی ہیں تو اگر اس وقت چوکسی برتی جاتی نیرو مودی یا پھر کوئی مالی مجرم آسانی سے دیش سے بھاگ نہیں سکتا تھا اور نہ ہی دوسرے ملک میں پناہ لیتا ۔نیرو مودی میہل چوکسی ،وجے مالیا ،اسی طرح سے دیش سے بھاگ نکلے اس سے عام آدمی کے دل میں یہی اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کوئی ملی بھگت ضرور ہوئی ہے جن کی مدد سے گھوٹالے باز اتنی آسانی سے دیش سے نکل گئے ۔

(انل نریندر)

بغیر بھیشم پتامہ کے مہابھارت 2019

بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہولی کی شام لوک سبھا چناﺅ کے لئے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی اس کی سب سے چونکانے والی بات یہ رہی کہ بھاجپا کے بانی اور چار چناﺅں میں بھاجپا صدر رہے لال کرشن اڈوانی کا نام نہیں تھا ۔ان کی جگہ گاندھی نگر سے موجودہ پارٹی صدر امت شاہ چناﺅ لڑیں گے یہ پہلی بار ہے کہ 14سال کی عمر سے سنگھ سے وابسطہ 91سالہ اڈوانی لوک سبھا چناﺅ نہیں لڑیں گے اڈوانی کے علاوہ 75برس کی عمر پار کر چکے بی ایس کھنڈوری بھگت سنگھ کوشیاری اور بجوائے چکروتی کا بھی ٹکٹ کاٹ دیا گیا ہے ۔موجودہ بھاجپا کے اہم چہرے اڈوانی کی ہی دین ہیں قیام کے بعد سال 1984کے پہلے چناﺅ میں محض دو سیٹیں حاصل کرنے والی بھاجپا کو 182سیٹیں تک جتا کر اقتدار کا ذائقہ چکھنے کا سہرہ بھی اڈوانی جی کو ہی جاتا ہے اڈوانی جی نے سال 1990میں رام مندر تعمیر کے لئے رتھ یاترا نکال کر پارٹی کو نئی بلندیاں دیں رام مندر تحریک نے پورے دیش میں بھاجپا کو مضبوطی فراہم کی ۔کلراج مشن نے ماحول دیکھ کر ہی خود چناﺅ نہ لڑنے سے انکار کیا ہے جبکہ حکم دیو نارائن یادو اپنی سیٹ پر ٹکٹ دئے جانے سے مطمئن ہیں باقی بچے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ،شانتا کمار ،نے خود چناﺅ لڑنے سے منع کر دیا ہے ۔جوشی جی کی کانپور سیٹ سے ریاستی تنظیم نے ستیش مہانا کو اتارنے کی صلاح دی ہے ایک وقت اڈوانی کی پارٹی میں ساکھ ہندو سمراٹ کی تھی مگر 2005میں پاکستان کے دورے پر گئے اوروہاں جنّا تنازع کے سائے نے۔پارٹی میں ان کی ساکھ کمزور کر دی ۔رہی سہی کسر 2009میں پی ایم کا امیدوار بننے کی خواہش نے پوری کر دی ۔انہیں پارٹی کے مرد آہن مانا جاتا تھا اڈوانی کے ٹکٹ کٹنے پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا پچھلے پانچ سال میں پارٹی اور لوک سبھا میں ان کی سیاسی سرگرمی صفر اور ناکارہ بناتے ہوئے پارٹی نے مارگ درشک منڈل کا ممبر بنا کر سمانت کیا ان کا یہی حق تھا کہا جا رہا ہے کہ بھاجپا نے ان کی 91سالہ عمر پر غور رکرتے ہوئے انہیں اس بار ٹکٹ نہیں دیا لیکن 16ویں لوک سبھا میں ان کی حاضری اور پندرہوں لوک سبھا کے مقابلے میں زیادہ رہی ایوان کی اگلی لائن میںبیٹھنے کے باوجود کوئی تقریر نہیں سنائی دی ۔92فیصد حاضری کے بعد بھی گزشتہ پانچ برسوں میں محض 356ہی الفاظ بول سکے سچ تو یہ ہے کہ پچھلی لوک سبھا میں انہیں بولنے نہیں دیا گیا ۔بھاجپا صدر امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے دیو اتو کی جگہ دے کر ان سے بولنے کا حق بھی چھین لیا ۔سیاست میں خاص کر ہندوستانی سیاست میں کچھ ایسے لوگ ہیں جس پیڑ پر چڑھتے ہیں سب سے پہلے اس کی شاخ کو ہی کاٹتے ہیں گجرات فسادات کے بعد ایسا موقعہ آیا تھا جب وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو ہٹانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے صلاح دی تھی لیکن اس وقت یہی اڈوانی جی تھے جنہوں نے نریندر مودی کو بچایا آج مودی اس کا شکریہ کیسے ادا کرتے ہیں اور کتنے ابن الوقت ہیں تازہ واقعہ سے پتا چلتا ہے ۔ایک موقعہ ایسا بھی آیا تھا جب سبھی امید کر رہے تھے کہ شاید اڈوانی کو دیش کا صدر بنا دیا جائے لیکن اس عہدے سے بھی انہیں محروم کر دیا گیا لال کرشن اڈوانی اپنی زندگی کی سنچری لگانے سے کچھ ہی دو ر ہیں وہ اقتدار کی چوٹی پر بھلے ہی نہی پہنچے لیکن اس سے بہت دور نہیں رہے ۔ان کی گنتی کے سب سے سلجھے ہوئے لیڈروں میں ہوتی رہی ہے ۔اگر ہم سیاست میں رہنے والے یا عام زندگی جینے والے کسی مہذب شخص کو ماڈل بنائیں تو بہت ممکن ہے وہ اڈوانی جی کی شخصیت کے آس پاس ہی کہیں ہوگا ۔

(انل نریندر)

24 مارچ 2019

2019لوک سبھا چناﺅ کے گیم چینجر کون کون ہوں گے؟

2014کے لوک سبھا چناﺅ میں امت شاہ ،لالو پرساد یادو،کرونا ندھی ،اور جے للتا کو گیم جینجر کہا جا سکتا تھا یہ گیم چینجر کے رول میں تھے 2019میں امت شاہ کو چھوڑ کر تین نہیں ہوں گے ان کی جگہ پرینکا گاندھی،تیجسوی یادو ،ایم اسٹالین نے لے لی ہے ۔اور 2019میں ان کا امتحان ہوگا ۔جے پی آندولن سے ابھرے لالو پرساد یادو کی 2014میں اہم ترین رول تھا چارہ گھوٹالے میں سزا ہونے سے وہ چناﺅ نہیں لڑ سکے لیکن کانگریس اور آر جے ڈی کے اسٹار کمپئینر کے طور پر بہار میں آج بھی مقبول ہیں اس بار وہ جیل میں ہیں اور ان کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو پارٹی کی قیادت کررہے ہیں پارٹی 20سیٹوں پر لوک سبھا چناﺅ لڑے گی اس مرتبہ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی قیادت کرونا ندھی کے مرنے کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے اسٹالن کے پاس ہے وہ کانگریس کے ساتھ مل کر چناﺅ لڑ رہے ہیں تمل فلموں کی کامیاب اداکارہ جے للتا چھ بار وزیر اعلیٰ رہیں 2014میں ان کی پارٹی انہ ڈی ایم کے نے تمل ناڈو کی 39پوڈوچیری ایک سیٹ پر چناﺅ لڑا تھا لیکن اس مرتبہ ان کی پارٹی نے بھاجپا سے تال میل کر لیا ہے اب یہ 27سیٹوں پر چناﺅ لڑئے گی ۔انہ ڈی ایم کے نے بھی دو گروپ ہو گئے ہیں راہل گاندھی نے مشرقی اترپردیش کی 42سیٹوں کے لئے پرینکا گاندھی کو ذمہ داری سنوپی ہے اس میں امیٹھی اور رائے بریلی بھی شامل ہے ۔ٹکٹ بانٹنے اور کمپئین کرنے سے لے کر امیداوار کو جتانے کی ذمہ داری بھی ان کے پاس ہے ۔ایم اسٹالن نے مرکز میں اقتدار کی ساجھے داری کرنے کے لئے یو پی اے سے اتحاد کر لیا ہے ۔تمل ناڈو میں ڈی ایم کے 30جبکہ کانگریس 9پر چناﺅ لڑئے گی اب ساری پارٹی کو جتانے کی ساری ذمہ داری اسٹالن پر ہے اور نتیجہ آنے پر پتہ چلے گا کہ اسٹالن اپنے والد کرونا ندھی کی جگہ لے پائے ہیں یا نہیں ۔بہار میں آر جے ڈی کانگریس سے گٹھ بندھن ہے یہاں کی چالیس لوک سبھا سیٹ میں سے 20سیٹوں پر آر جے ڈی لڑئے گی لالو پرساد کے جیل میں ہونے سے پارٹی امیدواروں کو جتانے کی ساری ذمہ داری تیجسوی یادو پر آگئی ہے تیجسوی کو امیدوار طے کرنے اور گٹھ بندھن نبھانے سے لے کر این ڈی اے کو روکنے کی ذمہ داری بھی ان پر آگئی ہے ۔2014لوک سبھا چناﺅ میں جہاں تک بہار کا سوال ہے تیجسوی یادو کا رول اہم رہے گا گجرات میں سبھی کے نظر نوجوان لیڈروں پر لگی ہوئی ہے ۔یہ چناﺅ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ پاٹیدار تحریک کے نیتا اور او بی سی لیڈر الپیش ٹھاکر اور دلت لیڈر و ممبر اسمبلی جگنیش میوانی کا سیاسی مستقبل طے کریں گے ۔اسمبلی چناﺅ کی طرز پر تینوں کا لوک سبھا میں بھاجپا اور این ڈی اے سے سیٹیں چھیننے میں کامیاب ہونا سخت امتحان ہے تین سال بعد ہونے والے اسمبلی چناﺅ میں کانگریس کے لئے اقتدار کا راستہ آسان ہو جائے گا اسمبلی چناﺅ میں ان تینوں نوجوانوں کی لا بی نے بھاجپا کو 99سیٹ پر لانے میں اہم رول نبھایا تھا 2014لوک سبھا چناﺅ نے بھاجپا نے گجرات سے سبھی 26سیٹیں جیتی تھیں دیکھیں کیا یہ نوجوان لیڈر 2019لوک سبھا چناﺅ میں گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں ؟

(انل نریندر)

پہلے چائے والا اور اب چوکیدار ،دیش واقعی بدل رہا ہے؟

لوک سبھا چناﺅ کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے چناﺅ کمپین کو تیزی دیتے ہوئے میں بھی چوکیدار ابھیان شروع کیا ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر یہ ویڈیو جاری کرکے کہا کہ میں بھی چوکیدار سے چناﺅ مہم کی شروعات کی ،کانگریس صدر راہل گاندھی نے اپنی تقریروں میں کٹاش کیا اور چوکیدار چور ہے کہا تھا اب اپوزیشن کے اسی حملے کو بھاجپا نے چناﺅ ی مہم میں شامل کر لیا ہے ۔خیال رہے کہ 2014کے لوک سبھا چناﺅ میں کانگریس نیتا منی شنکر ایر کے چائے والا تبصرے کو بھی بھاجپا نے چناﺅ مہم کا حصہ بنایا تھا ۔وزیر اعظم نے ویڈیو کے ساتھ اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ آپ کا یہ چوکیدار دیش کی سیوا میں مضبوطی سے کھڑا ہے لیکن میں اکیلا نہیں ہوں ہر کوئی جو کرپشن اور گندگی ،سماجی برائیوں سے لڑ رہا ہے ۔وہ ایک چوکیدار ہے ۔مودی نے کہا کہ ہر کوئی جو ہندوستان کی ترقی کے لئے محنت کر رہا ہے وہ ایک چوکیدار ہے وزیر اعظم کی اس مہم نے اب تمام بھاجپا نیتا ﺅںنے اپنا لیا ہے ۔اور سبھی میں بھی چوکیدار ہوں اس مہم میں شامل ہو چکے ہیں اپوزیشن بھی اس کا جواب اپنے ڈھنگ سے دینے میں لگ گئی ہے بسپا چیف مایا وتی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چناﺅ میں چائے والا اور اب چوکیدار ....دیش واقعی بدل رہا ہے ۔مایا وتی نے ٹوئٹ کیا سادہ زندگی اور اونچے خیالات کے بر عکس شاہی انداز میں جینے والے جس شخص نے پچھلے لوک سبھا چناﺅ کے وقت ووٹ کے خاطر اپنے آپ کو چائے ولا پروجکٹ کیا تھا ۔اب وہ ایک ووٹ کے لئے بڑے تام جھام اور شان کے ساتھ اپنے آپ کو چوکیدار بتا رہے ہیں کانگریس سیکریٹری جنرل پرینکا گاندھی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ چوکیدار تو امیروں کے ہوتے ہیں کسان تو اپنی فصلوں کی چوکیداری خود ہی کرتے ہیں ۔سابق وزیر ایم جے اکبر نے بھی میں بھی چوکیدار ہوں ہیچ ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹ کیا جس پر بالی ووڈ اداکارہ رینوکا راہانے طنزبھرا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ بھی چوکیدار ہیں تو کوئی خاتون محفوظ نہیں ہے ۔مارکس وادی کمیونسٹ سیکریٹری جنرل سیتا رام یچوری نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی ایسے چوکیدار ہیں جو جاگ کر نہیں بلکہ سو کر نوکری کر رہا ہے ۔ایسے چوکیدار کو ہٹانے کا وقت آگیا ہے ۔مودی ایسے چوکیدار ہیں جن کے راج میں دیش کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے ہر روز سرحد پر جوانوں کی شہادت ہو رہی ہے بے روزگاری بڑھ رہی ہے عورتوں پر ظلم ہو رہے ہیں چاروں طرف فرقہ پرستی کا بول بالا ہے لیکن اگر ان سے کوئی سوال کرتا ہے تو بھارتیہ جنتا پارٹی والے انہیں دیش دروہی کہتے ہیں ایسے ہی چوکیدار ابھیان پر طنز کرتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کا کہنا تھا کہ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے چوکیدار بنیں تو انہیں وزیر اعظم مودی کو ووٹ دینا چاہیے اِدھر مرکزی وزیر روی شنکر پرشاد نے کہا کہ میں بھی چوکیدار مہم نے تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے جن کا خاندان ضمانت پر باہر ہے انہیں اس مہم سے پریشانی ہے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں چوکیدار امیروں کے ہوتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوںنے غریبوں کے 12لاکھ کروڑ روپئے لوٹے وہی اس مہم کی نقطہ چینی کر ہے ہیں ۔

(انل نریندر)