01 فروری 2014

اقلیتوں کی نظر اندازی پر پی ایم کے اجلاس میں ہنگامہ

وزیراعظم منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی موجودگی میں بدھوار کوحکومت کی ہائی پروفائل اقلیتی کانفرنس میں جم کر ہنگامہ ہوگیا جب ایک شخص نے کھڑے ہو کر حکومت پر اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کے الزام لگایا اپنی تقریر میں جب وزیراعظم اقلیتوں کے 15نکاتی پروگرام کے تحت کئے گئے کاموں کو لے کراپنی سرکار کی پیٹھ تھپتھپا رہے تھے جب ہی ایک شخص نے اسکیموں کو زمین پر نہ اتارنے کا الزام جڑ دیا۔ وگیان بھون میں وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن پروگرام کے دوران تقریر کے پیچ میں مشرقی دہلی سے تعلق رکھنے والے شخص ڈاکٹر فہیم بیگ نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ کی ایک بھی اسکیم حقیقی طور پر نافذ نہیں ہوئی ہے حالات یہ تھی کہ ایک طرف وزیراعظم اپنی تقریر فرما رہے تھے تو دوسری طرف یہ شخص یوپی اے سرکار کے دعوؤں کو چلا چلا کر جھوٹا قرار دے رہا تھا افراتفری کے درمیان سونیاگاندھی نے اس سے بات کرنی چاہی لیکن تب تک سیکورٹی عملہ اسے ہال کے باہر لے جاچکا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اقلیتی امور کے وزیر رحمان خاں کو احتجاج ظاہر کررہے شخص کی شکایت سننے کی ہدایت دی وزیر موصوف نے ڈاکٹر فہیم بیگ سے بات کرنے کے بعد صفائی پیش کی انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر فہیم بیگ مشرقی دہلی کے ایک سماجی کارکن ہے اورجعفرآباد میں رہتے ہیں اور ان کا کہناتھا ان کے علاقے میں اقلیتوں کے لئے اعلان کردہ اسکیمیں نافذ نہیں ہوپائیں اس شخص نے بعد میں پریس سے کہا کہ اس نے اقلیتوں کو لے کر چلائے جارہے پروگراموں کے بارے میں وزیراعظم کو 150 سے زائد بار خط لکھیں ہے لیکن ایک خط کابھی جواب نہیں ملا۔ کانگریس کے ترجمان م۔ افضل نے مانا ہے کہ دہلی میں اقلیتوں کی اسکیموں کو نافذ کرنے میں کچھ دقتیں آرہی ہے اترپردیش اور بہار میں بھی اس طرح کی شکایتیں ملتی رہی ہیں اس بارے میں اقلیتی امور وزارت جلد ہی ریاستی حکومت سے بار کرے گی اس کے ساتھ ہی کانگریس نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ بارہویں پانچ سالہ منصوبے میں اقلیتیوں کی بے بہود کے لئے17555 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ڈاکٹر فہیم بیگ اس طرح وزیراعظم کے پروگرام میں یوں ہنگامہ کرنا شاید ٹھیک طریقہ نہیں تھا ۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب 150 خطوط میں سے ایک کا بھی جواب نہ ملے تو فہیم نے یہ راستہ اپنایا تھا چونکہ وہ مجبور تھے اور کوئی راستہ بچا نہیں تھاڈاکٹر فہیم بیگ کے احتجاج سے کانگریس اور منموہن سرکار دونوں سکتے میں آگئی ہے پچھلے دس برسوں میں حکومت نے اقلیتوں کے لئے تمام کام کرنے کادعوی کیا ہے لیکن بنیادی سطح پر کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا ہے کانگریس سیاست میں مسلم اقلتیں بد حال ہے۔ پروگرام میں موجود ایک اور مسلم لڑکے نے کہا کہ احتجاج کو ایک علامتی ہے ایک مسلم نوجوان کے احتجاج کے بعد اس کی پریشانی سن لینے سے کام نہیں چلے گا حقیقت یہ ہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جتنے بھی کمیشن اور کمیٹیاں بنی ان کی رپورٹ کانگریس سرکار نے ابھی تک لاگو نہیں کی۔مرکزی سرکار محض اخباروں اور ٹی وی پر اقلیتوں کی ترقی کا پروپیگنڈہ کررہی ہے لیکن اصلیت میں مسلم اقلیتوں کی بہبودی نہیں ہوپارہی ہے آج بھی مسلمان ناخواندہ ہے روزگار کے لئے انہیں در در بھٹکنا پڑرہا ہے ایسے میں جب لوک سبھا چناؤ سر پر ہو تو اس طرح کھلے عام احتجاج کانگریس پارٹی کو بھاری پڑسکتا ہے ووٹ بینک سیاست میں حاوی ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

دہلی میں دن دہاڑے سب سے بڑی لوٹکتنا لوٹا کس نے لوٹا پتہ نہیں!

یہ دہلی کی سب سے بڑی لوٹ مار کی واردات ہے مسلح بدمعاشوں نے منگل کے روز دن دہاڑے دہلی کی سب سے بڑی لوٹ مار کو انجام دیا، ساتھ دہلی کے لاجپت نگر علاقے میں بدمعاش ایک فائننسر سے آٹھ منٹ میں آٹھ کروڑ روپے اور اس کی کار لوٹ کر چمپت ہوگئے کالکا جی کی باشندے راجیش کمار دوتاجروں کے مالی کام کاج کو دیکھتے ہیں منگل کی صبح 9 بجے وہ اپنی ہونڈا سٹی کار میں 4 ساتھیوں کے لاجپت نگر کی طرف جارہے تھے کہ ڈیفنس کالونی مارکیٹ کے پاس ایک ویگن آر کار ان کی کار سے ٹکرائی ان لوگوں میں جھگڑا شروع ہوگیا اور اس دوران دوسری ہونڈا سٹی کار ان کے پاس آکر رکی اس میں تین لوگ اترے اور ہتھیار دکھا کر راکیش سے کار کی چابی لی اور سبھی کو اتار کر کار سمیت فرار ہوگئے کار میں قریب8کروڑ روپے بھی لے گئے کار سے روپے نکالنے کے بعد دونوں کاروں کو موقعہ وار دات سے تھوڑی دوری پر چھوڑ گئے یہ کاریں غازی آباد دہلی سے لوٹی اور چرائی گئی تھی یہ دہلی کی سب سے بڑی مالی لوٹ ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بڑی لوٹ مار میں موڑ سسپنٹ اور تھریل کے کہانی بھی جڑ گئی ہے روز نئی باتیں سامنے آرہی ہے چونکانے والے پہلو یہ ہے کہ دہلی اب تک دہلی پولیس کے ہاتھ خالی ہے وار دات کے بعد ایف آئی آر میں لوٹ مار کی رقم 8.11کروڑ روپے درج کرائی گئی ہے جب کہ ذرائع بتا رہے ہیں کہ تھانے میں کیس درج کروانے والے ہیرا تاجر راکیش کمار کو بھی لوٹ مار کی رقم کا اندازہ نہیں ہے الگ الگ لوگوں سے پوچھ تاچھ کی رقم کاحساب کتنا گڑ بڑ ہے اندازہ اور قیاس اور دعوے کے درمیان لوٹی گئی رقم8سے 15 کروڑ روپے کے درمیان ہے ابھی اس کے بارے میں پختہ ثبوت نہیں ہے خیال یہ بھی ہے کہ اس رقم کے ساتھ غیرملکی کرنسی بھی تھی پولیس کے ذرائع کی مانیں تو ایسا پہلی بار ہوا ہے جب خود لوٹنے والوں کو اتنی بڑی نقدی کا صحیح حساب کتاب پتہ نہیں ہے یا وہ کچھ چھپا رہے ہیں لوٹی گئی رقم راکیش کالرا اور ان کے پارٹنر راہل آہوجہ کی تھی یہ وہی راکیش کالرا جو 2000 میں میچ فکسنگ کے الزام میں جیل جاچکے ہیں اس وقت پولیس کمشنر نیرج کمار نے میچ فکسنگ کیس جو چارٹ شیٹ تیار کروائی تھی اس میں راکیش کالرا کانام بھی ہے حالانکہ وہ ضمانت پر ہے اور ان کے علاوہ کئی اور بھی لوگ میچ فکسنگ میں ملزم ہے پچھلے سال آئی پی ایل میں اسپورٹ فکسنگ ریکٹ میں بھی اس کا نام اچھلا تھا اور اس کیس کے کئی کرداروں سے ان کے چلتے اور بدلتے رشتے رہے ہیں اور دلالوں سے لے کر بندودارا سنگھ تک کئی بڑے چھوٹے نام شامل ہیں۔ پولیس کو یہ بھی شبہ ہے کہ کہیں منافع کے بٹوارے میں جھگڑے کی وجہ سے اندر ورلڈ نے تو یہ واردات تو نہیں کرائی؟ یہ بھی ہے کہ کیا اتنی بڑی رقم بھارت نیوزی لینڈ سریز کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ کیا یہ رقم آنے والے آئی پی ایل کے لئے سنبھال کر رکھوائی جارہی تھی؟ کیاواقعی اس رقم کو بینک میں جمع کرانا تھا یہ لاکرز میں رکھوانا تھا یا کسی اور محفوظ جگہ پر یہ رقم لے جائی جارہی تھی یہ سب خیالی دعوے ہے ؟ اس طرح کے سوالوں میں الجھی پولیس ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔
(انل نریندر)

31 جنوری 2014

موضوع بحث بنا راہل گاندھی کا انٹرویو!

ایک انگریزی ٹی وی چینل ’ٹائمس ناؤ ‘میں راہل گاندھی کی اورنبے گوسوامی کے ساتھ ہوئی بات چیت دیکھ کر بہت دکھ اور مایوسی ہوئی۔ راہل گاندھی کے اس انٹرویو کا انتظار ہر کوئی کررہا تھا۔ پارلیمنٹ میں قدم رکھنے کے 10 سال بعد وہ پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر میڈیا کے چبھتے سوالوں سے روبرو ہوئے تھے۔ پارٹی میں بھلے ہی راہل نائب پردھان کے عہدے پر ہوں لیکن ان کی اصلی حیثیت سارا دیش جانتا ہے کے وہی کانگریس کی جانب سے پی ایم عہدے کے اکیلے دعویدار ہیں۔ مجھے اس انٹرویو سے زبردست مایوسی ہوئی اور دکھ بھی۔ گوسوامی جیسے منجھے ہوئے اینکر کے سامنے راہل کا وہ حال تھا جیسے شیر کے سامنے میمنے کا ہوتا ہے۔ ایک انگریزی تجزیہ نگار چینل کو پہلا انٹرویو دینا ہی میری رائے میں غلط تھا۔ اگر انٹرویو دینا ہی تھا تو کسی ہندی چینل وہ بھی جو تھوڑا کانگریس کے تئیں وفاداری رکھتا ہو اس کو دینا چاہئے تھا۔ انگریزی چینلوں کو دیش کے سب سے زیادہ انگریزی بولنے والے لوگ دیکھتے ہیں یہ بیشک اثر تو رکھتے ہیں لیکن کثرت سے ووٹ دینے نہیں نکلتے۔ پھرراہل نے وہی رٹی رٹائی کہانی پر بولا۔ سوال کچھ تھا جواب کچھ۔ راہل گاندھی نے سارا زور خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر دیا۔ 1984ء کے دنگوں پر راہل کو میری رائے میںیہ کبھی نہیں کہنا چاہئے تھا کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ کانگریسی ان دنگوں میں شامل رہے ہوں۔ اگر مجھے جواب دینا ہوتا تو میں یہ ہی کہتا کانگریس پارٹی ان دنگوں میں بالکل شامل نہیں تھی۔ اگر کوئی نیتا اس میں شامل تھا تو عدالت طے کرے گی اور طے کرنے کے بعد قانون اپنا کام کرے گا۔ پارٹی کے تمام لیڈر تو اندرا جی کی لاش کے ساتھ تھے ہمارا ان دنگوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ جب یہ پوچھا گیا کہ اگر اروند کیجریوال سرکار شیلا دیکشت اور ان کے وزرا کے خلاف کارروائی کرے گی تو کانگریس حمایت واپس لے سکتی ہے؟ راہل گاندھی کو جواب دینا چاہئے تھا کہ ہم پاک صاف ہے ، ہم نے کوئی کرپشن نہیں کیا اگر کیا ہوتا یا ہمارے دل میں چور ہوتا تو ہم کیجریوال جیسے دھاک کو دہلی کی گدی پر نہ بٹھاتے۔ راہل میں نریندر مودی کا خوف کتنا ہے صاف ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس حد تک کہہ ڈالا کہ2002 کے گجرات دنگوں میں شامل تھی مودی سرکار۔ انہیں اس حد تک نہیں جانا چاہئے تھا۔ عدالتوں نے مودی کو کلین چٹ دے دی ہے۔ پر بھی اگر راہل ایسی بات کرتے ہیں تو اپنے خوف زدہ ہونے کا اظہار کررہے ہیں۔ان کی امید تھی کہ وہ اپنے ویژن کو دیش کے سامنے رکھتے۔ مہنگائی پر کیسے قابو پانا چاہتے ہیں اس پر مفصل رائے رکھتے۔ گھوٹالوں کو روکنے پر بیشک انہوں نے کچھ اٹھائے گئے قدموں کا ذکر کیا لیکن اس کو زور دار ڈھنگ سے نہیں اٹھایا۔ بے روزگاری کم کرنے اور نوجوانوں میں جوش پیدا کرنے کے اقدامات پر تفصیل سے بتانا چاہئے تھا۔ خارجہ پالیسی ،اقتصادی پالیسیوں پر اپنے نظریئے کو رکھنا چاہئے تھا۔ اصل میں دقت یہ ہے کہ پچھلے 9-10برسوں سے راہل ’آن۔ آف‘ ہوتے رہے ہیں۔ انہیں سرکار کی اقتصادی پالیسیوں میں زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی۔ اگر آج کانگریس کی یہ قابل رحم حالت بنی ہے تو اس کی خاص وجہ ہے منموہن سنگھ کی اقتصادی پالیسیاں۔ راہل اس پوزیشن میں تو تھے ہی کہ وہ چاہتے تو عوام مخالف پالیسیوں کی مخالفت کرتے اور ان کو لاگو نہ ہونے دیتے۔ اب جب پانی سر سے گزر گیا ہے پچتاوے سے کیا فائدہ؟ راہل سے زیادہ میں ان کے مشیروں کو ہوم ورک کروانے والوں کو ذمہ دار مانتا ہوں۔ وہ پورے انٹرویو میں ہوم ورک کے بغیر دکھائی دئے۔ ان کے پاس دلائل پورے نہیں تھے اور کئی پرانی معلومات کے بارے میں کمی دکھائی دی۔ سیدھے سوالوں سے بچتے رہے ہیں اور کئی سوالوں پر کمزور دلائل پیش کئے۔ عام چناؤ اور موجودہ مسائل مثلاً مہنگائی۔ کرپشن کے سوال پر کوئی ردعمل نہیں۔سسٹم بدلنے کی بار بار بات راہل گاندھی کرتے دکھائی دئے لیکن ان ساتھ ساتھ وہ تضاد میں بھی پھنستے نظر آئے۔ کل ملا کر اس انٹرویو میں کچھ اچھی باتیں بھی رہیں۔ پہلی بات تو راہل کھل کر چناوی جنگل میں کودتے نظر آئے۔ ایک گھنٹے تک چلے اس انٹرویو میں راہل نے اپنے توازن کو بنائے رکھا اور ویسے سوالوں کا جواب نہیں دیا جن کا جواب وہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ راہل کے انٹرویو کے بعد نریندر مودی پر بھی سوالوں کا سامنا کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ مودی نے بھی کافی عرصے سے کوئی انٹرویو نہیں دیا ہے۔ راہل نے خود کو سسٹم سے لڑنے والے لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جسے مڈل کلاس طبقے میں پسند کیا جاتا ہے اور آخر میں اس انٹرویو کی بدولت وہ سرخیوں میں تو آئے۔
(انل نریندر)

آسمان سے گرے کھجور پہ اٹکے نتیش کمار!

بہار میں کانگریس نے اپنے پرانے وفادار اتحادی ساتھیوں کے ساتھ پھر سے مل کر 2014ء لوک سبھا چناؤ لڑنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ شری لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان کی پارٹیوں کے ساتھ چناوی اتحاد تقریباً طے ہے۔ صرف خانہ پوری اور اعلان باقی ہے۔ کانگریس ، آر جے ڈی، ایل جے پی کے لیڈروں کی ایک میٹنگ جلد ہونے والی ہے جس میں سیٹوں کے بٹوارے کے خاص اشو پر بات چیت ہوگی۔ وہیں آر جے ڈی سے تال میل اور کامن اشو اٹھائے جاسکتے ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کا حال ہے وہ نہ تین میں نہ تیرہ میں۔آسمان سے گرے کھجور پہ اٹکے۔ نتیش کمار نے بڑی دھوم دھام سے بھاجپا سے اپنا سالوں پرانا اتحاد نریندر مودی کی امیدواری کو لیکرتوڑا تھا۔ اس کے توڑنے کے بعد اقلیتوں کی گود میں بیٹھ گئے اور کئی دنوں تک نریندر مودی کو گالیاں دیتے رہے۔ آج نہ تو کانگریس ان کو ساتھ لے رہی ہے اور نہ ہی اقلیتیں۔ نتیش کو کانگریس سے بڑی امید تھی کہ شاید وہ انہیں بہار کے لئے خصوصی درجہ و پیکیج دے دے۔ کانگریس نے نتیش کا خوب استعمال کیا۔ ان سے آئے دن نریندر مودی کو گالیاں دلوائیں اور آخر میں بابا جی کا ٹھلو دکھا دیا۔ رہا سوال اقلیتوں کا ، ہمیں نہیں لگتا کے وہ بھی نتیش کی پارٹی جنتا دل (یو) کے ساتھ ہیں۔ سب کچھ ہونے کے باوجود بہار کا مسلم ووٹر خاص طور سے لالو کے ساتھ ہے اور کچھ کانگریس کے ساتھ۔ بچے کچے نتیش کمار کے ساتھ آ سکتے ہیں۔ یعنی مسلمان بہار میں یکمشت کسی کو ووٹ نہیں دے گا۔ اس کا الٹا فائدہ بھاجپا کو مل سکتا ہے۔ تازہ حالات سے نتیش کمار کا بوکھلانا فطری ہی ہے۔ منگلوار کو پٹنہ میں اسمبلی کیمپس میں نتیش نے کہا کانگریس بزدل ہے۔ راہل گاندھی دکھاوا ہیں۔ راہل نے بس دکھاوے کے لئے اس آرڈیننس کو پھاڑا جس سے داغی نمائندوں کو بڑی راحت ملنے والی تھی۔ اصلیت میں راہل یا کانگریس کو داغیوں سے پرہیز نہیں ہے۔ اس کا ثبوت آر جے ڈی اور کانگریس کی دوستی ہے حالانکہ اس دوران نتیش نے آر جے ڈی چیف لالو یادو کا نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ صاف طور پر ان پر ہی تھا۔نتیش نے آگے کہا ہم نے بھاجپا کی پرزور مخالفت کے باوجود علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کشن گنج برانچ کے لئے زمین دی لیکن ہمیں سنگ بنیاد تقریب میں نہیں بلایا گیا۔دعوت نہ ملنے پر جب نتیش سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا یہ (کانگریسی) کتنے بزدل لوگ ہیں پتہ نہیں کیا دکھانا چاہتے ہیں، کیوں ڈر گئے ہیں؟ شاید انہیں کسی طرح کا ڈر رہا ہوگا تبھی مجھے نہیں بلایا جبکہ ریاستی حکومت کی اس تجویز پر ہی ہم نے کشن گنج میں یونیورسٹی کا سینٹر قائم کررہے ہیں۔ کانگریس چیئرپرسن سونیا گاندھی 30 جنوری کو کشن گنج آ رہی ہیں۔علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس کے افتتاح کے بعد سونیا گاندھی کا ایک ریلی کو بھی خطاب کرنے کا پروگرام تھا اس ریلی میں سونیا کا نشانہ بھاجپا کے علاوہ نتیش سرکار پر ہی ہوگا۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ جنتا دل۔ بھاجپا کی مشترکہ سرکار ماضی گذشتہ میں رہی اس لئے پردیش میں پارٹی کے نشانے پر یقینی طور سے نتیش کمار بھی ہوں گے۔ پارٹی کو امید ہے کہ فروری کے پہلے ہفتے تک کانگریس ، آر جے ڈی اور ایل جے پی اتحاد کی تصویر صاف ہوسکتی ہے۔ نتیش تیرا کیا ہوگا؟
(انل نریندر)

29 جنوری 2014

لوک سبھاچناؤ ریس میں نریندر مودی۔ بھاجپا ابھی تک سب سے آگے!

جیسے جیسے 2014ء لوک سبھا چناؤ قریب آتے جارہے ہیں سبھی بڑی پارٹیاں اپنی چناؤ مہم تیز کرتی جارہی ہیں۔ ٹی وی چینل اپنے اپنے جائزوں میں بھی تیزی لا رہے ہیں۔ تازہ سیاسی پوزیشن کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی ریس میں اول نمبر پر چل رہی ہے۔ ’آپ‘ پارٹی کا گراف جتنی تیزی سے دہلی اسمبلی چناؤ میں بڑھا تھا وہ آہستہ آہستہ گر رہا ہے۔ جنتا کا پارٹی سے تیزی سے کریز ختم ہورہا ہے۔ جیسا کہ کچھ لوگوں کو امید تھی لوک سبھا چناؤ میں کیجریوال اینڈ کمپنی بڑا دھماکہ کرسکتی ہے، اب انہیں کا کہنا ہے کہ کیجریوال اینڈ کمپنی سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ جس ڈھنگ سے کیجریوال نے دہلی کی حکومت چلائی ہے اگر ایسی سرکار اتحاد سے مرکز میں بھی چلائیں گے تو یہ دیش کے لئے انتہائی افسوسناک ہوگا بلکہ تباہ کن ہوگا۔’آپ‘ پارٹی کی خراب کارگزاری کا سیدھا فائدہ دونوں بھاجپا اور کچھ حد تک کانگریس کو پہنچ رہا ہے۔ جنتا اب کھلے عام کہنے لگی ہے کہ ’آپ‘ پارٹی کی سرکار سے تو شیلا دیکشت سرکار بہتر تھی۔ قومی سطح پر بھی کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اب کھل کر میدان میں آگئے ہیں اور دن رات کڑی محنت میں لگے ہوئے ہیں لیکن آج کے حالات میں بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے آگے ہے۔ ادھر نیوز چینل سی این این، آئی بی این اور سی ایس ڈی ایس کی جانب سے کرائے گئے سروے کے مطابق اگر ابھی چناؤ ہوئے تو بھاجپا اپنی اب تک کی سب سے شاندار پرفارمینس پیش کرسکتی ہے۔ اس کے مطابق بی جے پی کو اکیلے 192 سے 210 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ این ڈی اے کو211 سے231 اور یوپی اے کو 107 سے 127 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ سروے کے مطابق اس چناؤ میں کانگریس کی کارکردگی مایوس کن رہنے والی ہے۔ کانگریس کو 92 سے108 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے جبکہ ترنمول کانگریس اور اے آئی ڈی ایم کے جیسی علاقائی پارٹیاں بھی کافی فائدے میں رہ سکتی ہیں۔ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو 20 سے28 سیٹیں اور جے للتا کی اے آئی اے ڈی ایم کے کو15 سے23 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ لیفٹ پارٹیوں کو15 سے23 سیٹیں اور عام آدمی پارٹی ’آپ‘ کو6سے12 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کو محض8سے14 اور بی ایس پی کو 10سے16 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ اے بی پی نیوز نیلسن اوپینین پول کے مطابق92 فیصدی لوگوں کا خیال ہے کہ مرکز میں موجودہ یوپی اے سرکار سے بہتر این ڈی اے سرکار تھی۔ یوپی اے کو صرف24 فیصدی لوگوں کی حمایت ملی ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ 61 فیصدی لوگ یوپی اے سرکار کو دوبارہ موقعہ نہیں دینا چاہتے یہ ہی نہیں 43 فیصدی لوگوں نے کانگریس کی رہنمائی والی یوپی اے سرکار کی پرفارمینس کو کافی کمزور مانا ہے۔ سروے کے مطابق وزیر اعظم کے عہدے کیلئے دیش میں نریندر مودی کی لہر ہے۔ اس سروے میں پی ایم کے عہدے کیلئے مودی پہلی پسند ہیں اور اس ریس میں سب سے آگے چل رہے ہیں ۔راہل گاندھی مودی سے پیچھے ہیں۔ یہ بات بہار، مغربی بنگال، جھارکھنڈ، اڑیسہ میں عام لوگوں سے سامنے آئی ہے۔ سروے کے تحت بھاجپا کو بہار میں زبردست فائدہ ہونے والا ہے۔ بہار میں مودی کو39 فیصدی لوگ پہلی پسند مانتے ہیں جبکہ نتیش کمار کل15فیصدی لوگوں کی پسند ہیں۔ یہ حالت آج کی ہے۔ چناؤ میں تصویر تیزی سے بدلتی رہتی ہے۔
(انل نریندر)

4 کروڑ نئے ووٹر طے کریں گے 2014ء لوک سبھا چناؤ کا نتیجہ!

یہ اچھا اشارہ ہے کہ سوشل میڈیا پر وقت گزارنے والا نوجوان ووٹر اب دیش کی حالت اور سمت طے کرنے میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ حال ہی میں ختم ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں یہ ثابت ہوا ہے ان ریاستوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ پانچ فیصدی سے لیکر 14 فیصدی تک نوجوان ووٹروں میں اضافہ ہوا ہے۔ دہلی چناؤ کی اگر بات کریں تو یہاں ووٹروں نے سب سے زیادہ حق رائے دیہی کا استعمال کیا ہے۔ اکتوبر2012ء میں جہاں 18-19 سال کے ووٹروں کی تعداد50 ہزار تھی وہی نومبر2013ء میں یہ تعداد 4.05 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ہی نہیں چناؤ کے بعد 50 ہزار سے زیادہ ایسے ووٹروں کی درخواستیں آئی ہیں چناؤ کمیشن کے اعدادو شمار کے مطابق دہلی میں 66فیصدی ریکارڈ پولنگ ہوئی۔ ان میں18سے 21 برس کے ووٹروں کی ساجھیداری 73 فیصد رہی۔ پولنگ میں نوجوان لڑکوں کی ساجھیداری 78فیصدی رہی جبکہ لڑکیوں کی تعداد 67 فیصدی رہی۔ کلی طور پر پولنگ میں عورتوں کی پولنگ میں بھی 8.5فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ دہلی کے چیف الیکٹرول افسر وجے دیو کے مطابق ووٹر پہلے سے زیادہ بیدار ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ 2014ء لوک سبھا چناؤ میں نوجوانوں کا دل جیتنے والی ہی پارٹی میدان پار کرسکے گی۔ اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ دیش کے 65فیصدی ووٹروں کی عمر 31 برس سے کم ہے۔ خاص طور پر پہلی بار پولنگ کا اختیار حاصل کرنے والے قریب4 کروڑ ووٹروں کے ہاتھ میں اقتدار کی چابی ہوگی۔ ان ووٹروں میں سے 1.27 کروڑ ووٹر تو ایسے ہیں جنہوں نے کچھ مہینے پہلے ہی ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لئے ضروری 18 برس کی عمر کی شرط پوری کرلی ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے لئے ووٹروں کی فہرست کو31 جنوری تک قطعی شکل دے دی جائے گی۔ پہلے کے مقابلے میں ووٹر لسٹ میں عورتوں کی اوسطاً تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چناؤ کمیشن کا خیال ہے کہ اس بار دیش میں کل ووٹروں کی تعداد 80کروڑ پار کرجائے گی کیونکہ ووٹر لسٹ میں نوجوانوں کی بھرمار ہے اس لئے اس لوک سبھا چناؤ میں پولنگ کے سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹنے کی بھی آثار نظر آرہے ہیں۔ نوجوان ووٹروں کی تابڑ توڑ تعداد نے سبھی پارٹیوں کو اس طبقے کو لبھانے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ چناؤ کمیشن کے دائریکٹر اکشے راوت نے چوتھے قومی رائے دہندگان دوس پر دیش کے ووٹروں کی تعداد 84 کروڑ پار کئے جانے کی امید جتائی ہے۔ راوت کے مطابق چناؤ کمیشن کا نشانہ ہے کہ دیش کا ہر شہری جو18 برس کی عمر پوری کرچکا ہے اس کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہو۔ کمیشن کی دوسری کوشش ہے کہ وٹر بننے کے بعد زیادہ سے زیادہ لوگ پولنگ میں حصہ لیں۔ اگلے مرحلے میں ووٹروں کو باقاعدہ بیدار کرنے کے لئے زور رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جنوری2013ء میں جب ووٹروں کی فہرست کی تجدید کی گئی تھی تو کل 2.32 کروڑ نئے ووٹر بنے تھے۔ اس وقت قطعی فہرست میں دیش میں 78.8 کروڑ ووٹر ہوا کرتے تھے۔ اس سال یہ تعداد84 کروڑ پار کرسکتی ہے۔31 جنوری تک ووٹر فہرست قطعی طور پر تیار ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

28 جنوری 2014

لیک سے ہٹ کر صدر محترم کا چیتاونی بھرا سیاسی ایڈریس!

صدر پرنب مکھرجی نے یوم جمہوریہ کے موقعہ پر سنیچر کو دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور ان کی سرکار کا نام لئے بغیر ’آپ‘ سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ صدر محترم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا بہتر انتظامیہ کا متبادل لوک لبھاون بد امنی نہیں ہوسکتی۔یوپی اے سرکار کے سنکٹ موچک رہے پرنب مکھرجی نے پوری طرح سے سیاست سے لبریز ماحول میں تقریر بھی سیاسی ہی کی۔صرف اسکیموں اور پالیسیوں پر مرکوز نہ ہوتے ہوئے انہوں نے دہلی اور دیش کے حالیہ واقعات پر بیباک تبصرے کئے۔ صدر نے اپنی تقریر میں کسی سیاستداں یا پارٹی کا نام تو نہیں لیا لیکن نشانے پر خاص طور پر پچھلے دنوں خوشگوار ناگزیں واقعات سے سرخیوں میں چھائی رہی عام آدمی پارٹی کی پالیسیاں اور اس کے عمل تھے۔ بھاجپا کی سیاست کو بھی انہوں نے نہیں بخشا۔ بھاجپا کے امکانی موقع پرست اتحاد سے بھی ہوشیار کیا۔ پچھلے دنوں آئے چناوی تجزیوں میں جس طرح بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کی چناؤ بعد اتحادسے سرکار بننے کے امکان دکھائی دے رہے ہیں اس سے بھی انہوں نے زوردار الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ منموجی موقعہ پرستوں کے حوالے مخلوط سرکار بننے پر اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا فرقہ وارانہ طاقتیں اور دہشت گرد اب بھی ہمارے بھائی چارے اور ہمارے ملک کی ایکتا کو کمزور کرنا چاہئیں گے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے’ پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی سیاست پر بھی خبردار کیا۔ ان کے نشانے پر بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی تھے۔ عام آدمی پارٹی کو انتباہ بھرے لہجے میں صدر محترم نے کہا چناؤ کسی شخص کو گمراہ کن توقعات کو آزمانے کی اجات نہیں دیتے۔ سرکار کوئی ایک من چاہا ادارہ نہیں ہے۔ لوک لبھاون اور بد امنی انتظامیہ کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ جھوٹے وعدوں پر لوگوں میں اس کے تئیں بھروسہ ٹوٹتا ہے جس سے غصہ بھڑکتا ہے اور اس غصے کا ایک ہی فطری نشانہ ہوتا ہے حکمراں طبقہ۔ یہ غصہ تبھی خاموش ہوگا جب سرکاریں وہ نتیجے دیں گی جن کیلئے انہیں چنا گیا تھا۔ ویسے یہ بات حکمراں یوپی اے سرکار پر بھی فٹ بیٹھتی ہے۔ لکیر سے ہٹ کر صدر نے اس بار زبردست سیاسی تقریر کی ہے۔ بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ نے رد عمل کے طور پر کہا کہ ہم صدر کے اس نظریئے کی حمایت کرتے ہیں کہ دیش کو پائیدار حکومت کی ضرورت ہے۔ بدامنی پسند سیاست پر ان کے تبصرے کا بھی ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ کانگریس کی جانب سے جے پی اگروال نے کہا کہ صدر محترم پرنب مکھرجی نے صحیح کہا ہے اور یہ بات عام آدمی پارٹی پر نافذ ہوتی ہے۔ جنتا دل (یو) کے کے ۔سی تیاگی نے کہا میں پرنب مکھرجی کے تبصرے کا احترام کرتا ہوں۔ پارٹی ووٹ پانے کے لئے لوک لبھاون اور ناممکن وعدے کرتی ہے ایسی باتوں نے ہماری جمہوریت کو کھوکھلا کردیا ہے۔ صدر کی تقریر پر عام آدمی پارٹی نے نپا تلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔عام آدمی کے نیتا بنے آشوتوش سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا صدر نے جو کہا ہم اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ دیش کے اول شہری ہیں اور اگر انہوں نے ہمارے بارے میں کچھ کہا ہے تو ہم دھیان سے سنیں گے اور اس پر غور کریں گے۔ اس سے پہلے ’آپ‘ کے نیتا یوگیندر یادو نے کہا کہ صدر کی تقریر ’آپ‘ کے بارے میں نہیں تھی۔ ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ صدر محترم کے دل میں یقینی طور سے وہی باتیں رہی ہوں۔ بدامنی کی بات انہوں نے دیش کے حالات کے پیش نظر کہی ہوگی۔
(انل نریندر)

امریکہ میں تو ہر پانچویں خاتون آبروریزی کا شکار!

پوری دنیا میں ہی آبروریزی کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے۔ ہم اپنے دیش میں اور دہلی میں آبروریز افراد کو لیکر حیران پریشان ہیں لیکن دنیا کے سب سے بڑے طاقتور اور خوشحال ملک امریکہ میں ان واقعات کے اعدادو شمار دیکھ کر تو ہم چوک گئے ہیں اوررپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر ایک پانچ میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں آبروریزی کاشکار ہوتی ہے اور آدھی سے زیادہ عورتیں 18 سال کی عمر سے پہلے ہی اس حملے کا سامنا کرتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سبھی طبقوں ،نسلوں اور دیش کی عورتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن کچھ عورتیں کو دیگر کے مقابلے زیادہ شکار ہوتی ہیں۔33.5 فیصدی کثیر نسلی عورتوں سے آبروریزی کی گئی ہے جبکہ امریکی بھارتی نژاد اور الاسکانیو 27فیصد عورتوں کا ہوس کا شکار بنایا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آبروریزی کی شکارہونے والی زیادہ تر عورتوں پر ان کے واقف کاروں نے ہی یہ حملہ کیا اور98 فیصدی حملہ آور مرد تھے۔قریب2 کروڑ 20 لاکھ امریکی عورتوں اور 16 لاکھ مردوں کو اپنی زندگی میں آبروریزی کا شکار ہونا پڑا ہے۔ وائٹ ہاؤس کونسل کی صدر براک اوبامہ کی صدارت میں ہوئی کیبنٹ سطح کی میٹنگ سے پہلے وائٹ ہاؤس نے یہ رپورٹ جاری کی ہے۔ امریکہ کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں عورتیں آبروریزی یعنی جنسی استحصال کے معاملوں میں زیادہ شکارہورہی ہیں۔ کیمپس میں جنسی اذیتوں کے واقعات کو شراب اور نشیلی چیزوں کے استعمال سے بڑھاوا ملتا ہے جو متاثرین کو کمزور بنا دیتا ہے۔ جرائم کرنے والا بھلے ہی سیریل ملزم ہوتے ہیں خود صدر اوبامہ نے امریکہ کے کالجوں میں جنسی استحصال کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ایسے معاملوں میں کالجوں ،یونیورسٹیوں اور پولیس کی ذمہ داری پختہ کرنے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے ان اداروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ساتھ ہی سینئر افسران کی ایک ٹاسک فورس بھی بنا رہے ہیں جو اس سلسلے میں سرکاری کوششوں میں تال میل بنائے گی۔ صدر اوبامہ نے ان خامیوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے جن کی وجہ سے جنسی استحصال اور آبروریزی کے واقعات اکثر گمنامی میں دبادئے جاتے ہیں۔ بدنامی کے ڈر سے کالجوں میں جنسی استحصال کی شکار طالبات سامنے نہیں آتیں۔ پولیس کو ایسے معاملوں کی جانچ کے لئے سنجیدگی سے ٹریننگ نہیں دی جاتی۔ پھر یونیورسٹی بھی اپنی ساکھ کم ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات کو دبانا ہی بہتر متبادل سمجھتی ہیں۔ کل18 معاملوں میں سے محض1 معاملہ درج ہوپاتا ہے۔ 7 فیصدی مردوں نے ہی آبروریزی کی کوشش کرنے کی بات مانی ہے۔ 2.22 کروڑ کے قریب عورتیں اپنی زندگی میں آبروریزی کا شکارہوتی ہیں۔ بیشک اوبامہ نے صاف کہا کہ ہمیں نوجوانوں ،مردوں اور عورتوں کو حوصلہ افزاکرنے کی ضرورت ہے کہ جنسی استحصال ناقابل قبول ہے۔ انہیں بہادری سے کھڑا ہونے کی ضرورت ہے خاص کر جب ان پر منہ کھولنے کے نتیجوں کا ڈر دکھاتے ہوئے چپ رہنے کا سماجی دباؤ ہو۔ باقی دنیا میں بھی یہ مسئلہ بڑھتا جارہا ہے۔ بھارت میں بھی آبروریزی اور جنسی استحصال ایک سماجی جرائم کا مسئلہ ہے۔ نربھیا کانڈ کے بعد بھارت میں کئی قانونی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ آبروریزوں کو سخت سزا دینے کے ارادے سے اینٹی ریپ بل 2013ء لایا گیا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس سے زیادہ سماج کا نظریہ بدلنا ہوگا چاہے وہ بھارت ہو یا امریکہ ہو۔
(انل نریندر)

26 جنوری 2014

گرماتا اترپردیش کا سیاسی اکھاڑا!

گورکھپور اور وارانسی میں دوری 200 کلو میٹر کی ہے لیکن جمعرات کو سپا پرمکھ ملائم سنگھ یادو و بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی نے ایک دوسرے پر تلخ الفاظوں کے تیر چلائے تو لگا کہ دونوں نیتاؤں کے منچ آمنے سامنے سجے ہیں۔ حملے ایک دوسرے کو حیثیت یاد دلانے کی حد تک پہنچ گئے۔اترپردیش کا سیاسی میدان بھاجپا بنام سپا میں تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ حالانکہ جمعرات کو مودی بنام ملائم سیاسی جنگ نظر آئی ۔دونوں نیتاؤں کی یہی کوشش رہی کہ یوپی کی چناوی جنگ میں کانگریس کو اہم مقابلے سے دور رکھا جائے۔ صرف الفاظ سے ایک دوسرے پر حملے نہیں ہوئے بلکہ ووٹوں کے انتظام کیلئے ہر بات پر نظر بھی ٹکی رہی۔ جمعرات کو ہی امیٹھی میں راہل گاندھی بھی پہنچے اور منشی گنج گیسٹ ہاؤس میں مقامی نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’میں بھونپو نہیں ہوں‘‘۔ ان کے پتا سورگیہ راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ بس کام کرنا بھونپو مت بننا۔ کانگریس دیش کے لئے ایک ویژن لیکر چل رہی ہے جو کچھ وقت بعد دکھے گا۔ دراصل دونوں ملائم سنگھ یادو اور راہل گاندھی کی چنتا اس سے بھی بڑھ گئی ہوگی کہ تمام میڈیا سرووں میں لگاتار نریندر مودی اور بھاجپا کی بڑھت دکھائی جارہی ہے۔اگر بھیڑ ہردلعزیزی ظاہر کرتی ہے تو گورکھپور کی ریلی میں ریکارڈ توڑ بھیڑ تھی۔ اس سے بڑی ریلی اترپردیش میں کسی کی نہیں ہوئی۔تازہ سرووں میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس بار یوپی میں بھاجپا کا دبدبہ بڑھنے والا ہے کیونکہ دھیرے دھیرے مودی کی لہر پھر سے بڑھنے لگی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پردیش کی 80 سیٹوں میں بھاجپا کے پاس کل 10 سیٹیں ہیں۔ 2004ء کے چناؤ میں بھی اسے اتنی ہی سیٹیں ملی تھیں اس بار2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو35 سے40 سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ سپا اور بسپا کا چناوی گراف نیچے گرے گا۔ سب سے خراب حالت کانگریس کی بتائی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس چناؤ میں کانگریس کو 21 سیٹوں کے مقابلے3-4 سیٹوں پر ہی سنتوش کرنا پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ سرووں کی وشوسنیتاپر سوال اٹھائے جاتے ہیں پر پھر بھی اندازہ تو کم سے کم نظر آتا ہی ہے۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی بنا اعلان کے پارٹی کے پی ایم ان ویٹنگ ہیں۔ امیٹھی دورہ پر انہوں نے لوگوں کو خود کہہ دیا کہ اگر چناؤ میں جیت ملتی ہے اور پارٹی کے سانسد انہیں اپنا نیتا چنتے ہیں تو وہ پردھان منتری عہدے کی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔ پہلی بار عوامی طور پر راہل نے یہ ذمہ داری سنبھالنے کی بات کی ہے۔ مظفر نگر فساد کے بعد یوپی کی اقلیت سپا سے کٹ چکی ہے۔یہ یا تو بسپا کو ووٹ دیں گے یا پھر کانگریس کو۔ سرووں کے مطابق بسپا یوپی میں دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر سکتی ہے۔اسے 24 سیٹوں پر جیتنے کا امکان دکھائی دیتا ہے۔ اے بی پی نیلسن سروے کے مطابق بھاجپا اترپردیش کے بندیل کھنڈ میں دو سیٹیں جیت کر کھاتہ کھولے گی۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی یہاں کھاتہ نہیں کھول پائی تھی۔وہیں پشچمی اترپردیش میں دبدبہ رکھنے والی چودھری اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوک دل کو محض 1 سیٹ کا نقصان ہوگا۔ پارٹی کو4 سیٹوں پر جیت ملنے کا امکان ہے وہیں عام آدمی پارٹی کا جلوہ یوپی میں زیادہ نہیں دکھائی دے رہا ہے اور سروے میں اسے محض2 سیٹوں پر جیتنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ دہلی کی گدی کا راستہ یوپی سے ہوکر جاتا ہے اور فی الحال اس ریس میں نریندر مودی سب سے آگے ہیں۔
(انل نریندر)

اور اب پشچمی بنگال کی بربرپنچایت نے اجتماعی آبروریزی کروائی!

ایک بار پھر بربر پنچایت کا ایک شرمناک فرمان سننے کو ملا ہے۔ قصہ ہے پشچمی بنگال کے ویر بھوم ضلع کا۔ ضلع کے لامپور بلاک میں ایک آدی واسی لڑکی کو منگلوار رات دوسری ذات کے نوجوان کے ساتھ بیٹھے دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد دونوں کو پیڑ سے باندھ کر پنچایت بلائی گئی۔ پنچایت نے دونوں کے پریوار والوں سے 25-25 ہزار روپے جرمانے کی رقم دینے کو کہا۔ نوجوان کے پریوار والوں نے جرمانے کی رقم دے دی اور اسے چھوڑ دیا گیا لیکن لڑکی کے پریوار نے تین ہزار روپے دیکر باقی رقم نہیں ہونے کی بات کہی تو پنچایت کے حکم پر اس کے ساتھ 12 لوگوں نے اجتماعی زنا کیا۔ بدھوار کو وہ خون سے لت پت ایک جھونپڑی میں ملی۔ پریوار کے معاملہ درج کرانے کے بعد حکم دینے والے پنچایت پرمکھ و سبھی زانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ لڑکی کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ پڑوس کے گاؤں کے ایک غیر آدی واسی لڑکے سے پیار کرتی تھی۔ لڑکی خود آدی واسی تھی۔ سوموار رات لڑکا شادی کا پیغام لیکر اس کے گھر آیا۔ گاؤں والوں نے لڑکے کو دیکھ لیا۔ سب کے سب اس کے گھر جمع ہوگئے اس کے بعد پنچایت بیٹھی۔ پھر کیاہوا یہ اوپر میں نے بتا ہی دیا ہے۔ متاثرہ لڑکی نے بتایا گاؤں کے لوگ میرے بیہوش ہونے تک گندا کام کرتے رہے پتہ نہیں کتنے لوگوں نے کیا لیکن کم سے کم 10-12 لوگ تو تھے ہی اور یہ کچھ ایک ہی پریوار کے تھے۔ زنا کرنے والوں میں لڑکی کے چھوٹے بھائی سے لیکر اس کے پتا کی عمر تک کے لوگ شامل تھے۔ متاثرہ لڑکی کی عمر20 سال ہے۔ پشچمی بنگال کے ترقی خواتین اطفال وزیر ششی پانجا نے بتایا کہ لڑکی اسپتال میں ہے۔ پولیس کے علاوہ کمیشن بھی معاملے کی جانچ کرے گا۔ واقعہ کو لیکر زبردست مخالفت ہورہی ہے۔ گورنر ایم کے نارائنن نے بھی کارروائی کی مانگ کی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ پہلا ایسا واقعہ نہیں ہے۔ویر بھوم ضلع میں پنچایت نے2010 ء میں بھی ایسی ہی سزا سنائی تھی۔ تب ایسے ہی معاملے میں لڑکی کو ننگا کرکے گاؤں میں گھمایا گیا تھا۔واقعہ کا ویوڈیوبھی بنایا گیا تھا۔ریاست میں لگاتار ہورہے زنا کے واقعات پر حسب اختلاف نے ممتا سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس کے پردیش ادھیکش پردیپ مہا چاریہ نے 28جنوری سے پردیش بھر کے تھانوں کے سامنے ورودھ پردرشن کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھاگپا ریاستی سکریٹری ومن بوس نے کہاکہ سرکار زنا کی وارداتوں پر روک لگانے میں ناکام رہی ہے۔ یہ واقعہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی سے گزر رہے سماج میں ایک تراسدی اور غیر یقینی سی لگتی ہے لیکن پنچایت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے قریب 13 لوگوں نے اس لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی۔ ایسا کرنے والوں میں علاقے کے وہ لوگ بھی شامل تھے جنہیں وہ لڑکی کاکا، دادا اور بھائی کہہ کر بلاتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ عام جرم کے الزام میں بھی بھولے بھالے گاؤں والوں کو پریشان یا گرفتار کرکے مستعدی درج کرانے والی پولیس یا دوسرے سرکاری افسران ایسے واقعات سے کیسے انجان رہ جاتے ہیں؟ کیا یہ چکاچوند میں ڈوبے کچھ مہا نگروں کے برعکس صرف دور دراز کے پچھڑے علاقوں میں پہنچنا مشکل ہے یا پھر ان کی لاپرواہی کے چلتے لوگوں کو پنچایت بٹھاکر ایسی مجرمانہ واردات کو انجام دینے میں کوئی ہچک نہیں ہوتی۔ ہریانہ اور پشچمی اترپردیش کی کھاپ پنچایتوں کا رویہ بدلہ نہیں ہے جہاں گاؤں یا جاتی کے سوال پر بربر طریقے سے پریمی جوڑوں پر کئے گئے حملوں کے معاملے اکثر سامنے آتے ہیں۔ اب ان علاقوں میں پشچمی بنگال کی پنچایت بھی جڑ گئی ہے۔
(انل نریندر)