15 دسمبر 2018

مودی کو ہرانا مشکل نہیں اگر اپوزیشن میں اتحاد ہو

2019کے لوک سبھا چناﺅ کے لئے مودی کے خلاف مہا گٹھ بندھن کی کوشش ابھی تک پروان نہ چڑھنے کی ایک بڑی وجہ تھی حال ہی میں ہوئے پانچ ریاستوں کے نتائج ۔ اپوزیشن پارٹیاں یہ دیکھ رہی تھیں کہ ان ریاستوں میں کانگریس کتنی مضبوط ہو کر نکلتی ہے ؟دراصل سبھی اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے کی طاقت دیکھنے میں لگی ہوئی تھیں ۔ لوک سبھا چناﺅ سے ٹھیک پہلے پانچ ریاستوں کے چناﺅ نتیجوں کا انتظار ایک وجہ بھی تھی کہ اس سے مہا گٹھ بندھن کی طرف بڑھنے کا راستہ کھلتا نظر آئے ۔مانا جا رہا تھا کہ ان پانچ ریاستوں کے فیصلے کی معرفت سبھی پارٹیوں کو زمینی حقیقت کا اندازہ لگ جائے گا اور اس کے بعد جب وہ بات چیت کے لئے بیٹھیں گے تو کسی غلط فہمی میں نہیں ہوں گی کانگریس جس طرح سے ایک کے بعد ایک ریاستوں میں بے دخل ہو رہی تھی اس کے بعد بڑی اپوزیشن پارٹیوں میں مہا گٹھ بندھن کی قیادت پر سوالیہ نشان لگا گیا تھا ۔لیکن مدھیہ پردیش ،راجستھان،چھتیس گڑھ میں کانگریس کی شاندار پرفارمینس سے ان پارٹیوں کا کانگریس کے تئیں نظریہ بدلے گا ۔اب یہ سوال شاید ہی کوئی پوچھے کہ کانگریس کی لیڈر شپ کیوں ؟ان تین ریاستوں میں جیت کے بعد کانگریس دوسری بڑی پارٹی دیش بھر میں بن گئی ہے اب اس کی پانچ ریاستوں میں ٹکر ہے تین ریاستوں میں بی جے پی کو سیدھی ٹکر میں ہرانے کے بعد کانگریس نے قومی پارٹی کے اپنے وجود کو ثابت کر دیا ہے ۔یہ کیا ہو گیا ہے کہ اب جو بھی مہا گٹھ بندھن بنے گا وہ کانگریس کی ہی لیڈر شپ میں بنے گا اس جیت کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ بی جے پی مودی ،شاہ کی جوڑی کو سیدھی ٹکر میں ہرایا جا سکتا ہے ۔کانگریس کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ بی جے پی کو سیدھی ٹکر دینے کے لئے اسے علاقائی پارٹیوں کی ہمایت کی ضرورت ہوگی ۔کرناٹک میں بی ایس پی جے ڈی ایس کی طاقت سمجھنے میں اس کو زیادہ بھول ہوئی تھی ویسے ہی غلطی مدھیہ پردیش،راجستھان،اور چھتیس گڑھ میں بی ایس پی کے ساتھ تال میل پر ہوئی ۔پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ میں بی ایس پی نے کل دس سیٹیں جیتیں ہیں مایا وتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کانگریس کی ہمایت کرئے گی اسمبلی چناﺅ نتائج دکھاتے ہیں کہ لوگوں نے بھاجپا لیڈر شپ والی سرکار کی پالیسیو ں کو مسترد کر دیا ہے ۔راسٹروادی کانگریس پارٹی چیف شردپوار نے نتائج کے بعد پردھان منتری نریندر مودی کو ان کے گاندھی خاندان پر ذاتی حملوں کے لئے کٹاش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اونچے عہدے پر بیٹھے شخص کو ایسے الفاظ کااستعمال کر نا زیب نہیں دیتا ۔بدھوار کو پوار نے کہا کہ ان کی پارٹی کانگریس کو ہمایت دے گی اور صلاح دی کہ سپا اور بسپا کو بھی راہل کی قیادت کو منظور کر لینا چاہیے ۔مراٹھا لیڈر نے کہا کہ جنتا کو یہ بات پسند نہیں آئی کہ مودی کے ذریعہ کانگریس صدر کا مذاق اُڑایا جائے لوگوں نے راہل گاندھی کو بطور کانگریس صدر قبول کر لیا ہے ۔اور مودی سرکار کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ہے اور اسمبلی چناﺅ نتائج تبدیلی کی شروعات ہے ۔لوگوں نے کسان مخالف ،تاجر مخالف پالیسی کو مسترد کر دیا ہے ۔کیا مودی کو ہرانا مشکل ہے؟جب یہ سوال صحافی اور مصنف اور ماہر اقتصادیات و سابق مرکزی وزیر اروند کوری سے پوچھا گیا تو ان کا جواب کچھ ایسا تھا ؟ہرانا مشکل تو ہے ،کیونکہ ان کے پاس اوزار ہے ان کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے ۔ہر اوزار وقت کے حساب سے حملے میں استعمال کرتے ہیں ۔جیسے پیسہ ،نیٹ ورک دوسری پارٹیوں کے امیدواروں کو چھین لینا ،سوشل میڈیا کا غلط استعمال ،جھوٹ پھیلانا ،جھوٹے وعدے کرنا میڈیا کو کنٹرول کرنا وغیرہ وغیرہ ۔اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے پاس آر ایس ایس کا مضبوط کیڈر بھی ہے مگر ہرانا مشکل نہیں ہوگا ۔ان کی مقبولیت کی وجہ سے بھی صرف 31فیصد ووٹ ملے تھے ۔مگر اگر مہا گٹھ بندھن ہوتا ہے تو 69فیصد سے تو اپوزیشن شروع ہوتی ہے ۔آج مودی کی مقبولیت کا گراف 2014کے مقابلے گرا ہے ۔اپوزیشن میں دو تین شخص ڈرتے بہت ہیں اس لئے مودی،شاہ ایجنسیوں کا استعمال کرکے ،ڈرا کر اور جو فیکٹر ان کے پاس ہے اسے دکھا کر مہا گٹھ بندھن توڑنے کی کوشش کریں گے ۔گٹھ بندھن ہوتے ہوتے ریاستوں میں ٹوٹ جاتے ہیں ۔اپوزیشن میں رہ کر چناﺅ جیتنا آسان اور اقتدار کے ساتھ سرکار بچانے کی چنوتی بڑی ہوتی ہے ۔بھاجپا سمجھ گئی ہوگی ۔لوک سبھا چناﺅ آج ہوں تو ان پانچ ریاستوں میں بھاجپا کو 40لوک سبھا سیٹوں کا گھاٹا ہے ۔2014کے لوک سبھا چناﺅ کی روشنی میں دیکھیں تو بھاجپا کو ان میں نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ان ریاستوں میں لوک سبھا کی 83سیٹیں ہیں ان میں بھاجپا کے پاس موجودہ 63سیٹیں ہیں ۔اپوزیشن اتحاد لوک سبھا چناﺅ کے لئے کتنا کامیاب ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا ابھی تک بھاجپا کے خلاف جو اپوزیشن پارٹیاں اتحاد کی کوشش میں شامل ہیں ،وہ قریب 12ریاستوں کی 275سے زیادہ لوک سبھا سیٹ پر اثر ڈال سکتی ہیں ۔بہر حال پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے اپوزیشن کا اتحاد کچھ حد تک ثابت ہوا ہے ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ سبھی پارٹیوں میں یہ رضا مندی بنتی جا رہی ہے کہ اگر مودی کو 2019کے لوک سبھا چناﺅ میں ہرانا ہے تو سب کو اپنے اختلافات بھلا کر مہا گٹھ بندھن میں سچے دل سے شامل ہونا پڑے گا ۔اگر ہم سب مل کر 2019کا لوک سبھا چناﺅ لڑیں گے تو ہم سب بھاجپا کو ہرا سکتے ہیں ۔

(انل نریندر)


14 دسمبر 2018

2019میں برانڈ مودی کا سخت امتحان

ان پانچ ریاستوں کے اسمبلی نتائج کا اگر کوئی پیغام ہے تو وہ یہ ہے کہ دیش کی عوام وزیر اعظم نریندر مودی کے کام کاج سے خوش نہیں ہے ۔ان کے غرور اور ان کی ہٹلر شاہی سے پریشان جنتا ناراض ہے اتنا ہی نہیں دیش کا کسان ،اور نوجوان طبقہ اب سرکارپر بھروسہ نہیں کرتا یہ دعوی راہل گاندھی نے منگلوار کو شام اپنی پریس کانفرنس میں کیا ایک اخبار نے تو سرخی بنائی مودی کی نوٹ بندی کے بعد جنتا کی ووٹ بندی ۔نومبر سے ہی گرم کئے گئے رام مندر اشو کا نہ تو کوئی اثر ہوا اور نہ ہی سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف ایس سی /ایس ٹی ایکٹ لانے کا فائدہ ہوا ۔نوٹبندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے پہلے سے ہی ناراض سخت کٹر ووٹر ہاتھ سے نکل گئے ۔یہی نہیں بلکہ انہوںنے بھاجپا کے خلاف ووٹ بھی ڈالا ۔تینوں ہی ریاستوں میں لگ رہا تھا کہ بسپا ،سپا ،اور دیگر کئی اقدامات کا اثر نہیں ہوا ۔اُلٹا عوام نے اسے برا مانا۔بی جے پی کی یہ غلط فہمی بھی دور ہو جانی چاہئیے کہ مودی ،شاہ کی جوڑی ان کی نیا پار کرا دے گی ۔راجستھان ،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں مودی و شاہ کی تابڑ توڑ چناﺅ مہم پر راہل گاندھی کی 82ریلیاں و سات روڈ شو بھی بھاری پڑے ۔ان ریاستوں کے چناﺅ نتائج نے کانگریس کے لئے سنجیونی کا کام کیا وہیں راہل گاندھی کو سیاست میں نیا باب لکھنے کا موقع دیا ۔نتیجوں نے انہیں دیش کی سیاست کی پچ پر منجھے سیاست داں کی شکل میں قائم کرنے میں اہم ترین کردار نبھایا ۔رافیل،نوٹ بندی،جی ایس ٹی ،سی بی آئی ،آر بی آئی ،روزگار،کسان ونوجوان کو لے کر جہاں راہل گاندھی تلخ دکھائی دئیے وہیں بھاجپا بیک فٹ پر آگئی اتنا ہی نہیں اب تک پپو کہنے والی بھاجپا مودی ،شاہ کی ٹیم پر راہل نے اپنا جارحانہ طریقہ سے تین ریاستوں میں چناﺅی ایجنڈا سیٹ کیا ۔مودی سے لے کر امت شاہ و بڑے بھاجپا نیتا اس میں پھنستے چلے گئے ۔کہیں نہ کہیں و نوجوانوں کسانوں کو یہ پیغام دینے میںبھی کامیاب رہے کہ مودی کے وعدہ کھوکھلے ہیں اور جملے بازی سے لوگوں کا بھلا نہیں ہونے والا ہے انہوں نے جھوٹے وعدے اور نفرت کی سیاست پر مودی شاہ کو گھیرا ،نتیجے گواہ ہیں کہ راہل کا یہ نیا ماڈل مودی میجک کو پھیکا کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہا بی جے پی کو اس غلط فہمی سے نکلنا ہوگا کہ صرف مودی کے چہرے کو آگے کر سبھی چناﺅ جیتے جا سکتے ہیں ۔2014میں مودی کا جو آبھا منڈل دکھائی دیا تھا 2019کے آتے آتے بر قرار رہنے کے امکانات پر روک لگتی دکھائی دے رہی ہے ۔ووٹر صرف بھاشن کے ذریعہ تسلی پانے کے موڑ میں نہیں ہیں وہ اپنی مفاد کے اشوز پر ٹھوس کام دیکھنا چاہتے ہیں ۔بی جے پی کو وکاس کے ایجنڈے پر لوٹنا ہی پڑئے گا ۔

(انل نریندر)

راہل گاندھی مین آف دی سریز

بی جے پی کا کانگریس مکت بھارت کا سپنا پورا ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے بلکہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس طاقتور طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے ۔5ریاستوں میں ہوئے اسمبلی چناﺅ کے نتیجے بتاتے ہیں کہ مرکز حکمراں بھاجپا کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔نریندر مودی کے 2014میں پی ایم بننے کے بعد بی جے پی کی یہ سب سے بڑی ہار ہے یہ اسمبلی چناﺅ 2019کے لوک سبھا چناﺅ کے لئے سیمی فائنل سمجھے جا رہے ہیں ۔اگر ان انتخابات میں کوئی ہیرو ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں ان کے ایک سال کی قیادت میں کانگریس کی واپسی ہوئی ہے جو پارٹی کے لئے سنجیونی سے کم نہیں ہے۔ان انتخابات نے جہاں راہل گاندھی کو بطور لیڈر ثابت کیا ہے ۔وہیں اپوزیشن کو بھی وہ یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ وہ اب ان کے بھی لیڈر ہیں بھاجپا کے کانگریس مکت بھارت مہم کا رتھ پانچ سال پہلے جہاں سے چلا تھا وہیں آکر تھم گیا ہے ۔کانگریس نے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ اور راجستھان تینوں ہندی زبان والی ریاستوں میں بھاجپا کو بے دخل کر دیا ہے ۔مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں تو بھاجپا 15سال سے اقتدار میں تھی سب سے چونکانے والا نتیجہ چھتیس گڑھ کا رہا ۔وہاں کانگریس نے 76فیصد ووٹ حاصل کئے بھاجپا صرف 15سیٹیوں پر سمٹ گئی ہے ۔2014میں مودی سرکار کے مرکز میں بر سر اقتدار ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس نے بھاجپا سے اقتدار چھینا ہے اس سے اب کانگریس کی پانچ ریاستوں میں جن میں پنجاب راجستھان ،کرناٹک،پوڈو چیری،چھتیس گڑھ،شامل ہیں ۔وہاں سرکاریں ہیں ۔بھاجپا کی 12ریاستوں میں حکومتیں بچی ہیں کافی عرصہ سے بڑی جیت کے لئے ترس رہی کانگریس کو پانچ ریاستوں میں سے تین میں جیت ایک نئی طاقت کی طرح ابھر کر آئی ہے اس جیت کا زیادہ سہرا کانگریس گاندھی کے سر جاتا ہے ۔آخر کار راہل کی سخت محنت ۔اب ان نتیجوں کے بعد کوئی بھی راہل گاندھی کو پپو کہنے کی ہمت نہیں کر سکے گا ان نتیجوں کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ اب اس جیت کے بعد عوام کو یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ بی جے پی سے سیدھی ٹکر لے سکتی ہے ۔مدھیہ پردیش راجستھان اور چھیس گڑھ میں ہوئی ایک طرفہ جیت سے کہیں نہ کہیں کانگریس کے ورکروں کا ٹوٹا حوصلہ اور بکھرا بھروسہ لوٹے گا اور بڑھے گا۔دراصل اس جیت نے کہیں نہ کہیں کانگریس ورکروں کو بھی یقین دلایا ہے کہ بھاجپا سے سیدھی ٹکر میں نہ صرف سخت چنوتی دے سکتی ہے بلکہ اسے ہرا بھی سکتی ہے ۔اب راہل گاندھی مودی کے سامنے زیادہ مضبوطی سے کھڑے ہو پائےں گے ۔اس جیت کے بعد مانا جا رہا ہے کہ کانگریس کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی ۔دراصل اگر ان تین ریاستوں میں کانگریس کی پرفارمینس نہیں سدھرتی تو کانگریس تنظیم کے بکھرنے کے پورے امکانات تھے ۔لگاتار ہار کا منھ دیکھ رہے ورکر خوشی سے جھوم اُٹھے ہیں اس شاندرار جیت پر راہل گاندھی و کانگریس کو بندھائی

(انل نریندر)

13 دسمبر 2018

برطانیوی عدالت کی مالیا کو ارب پتی پلے بوائے سے تشبیح

برطانیہ کی ایک عدالت نے بھگوڑے ہندوستانی کاروباری وجے مالیا کو بھارت کو سونپنے کا حکم دیتے ہوئے مانا کہ مالیا کہ چمک دمک کے آگے ہندوستانی بینکوںنے اپنا ضمیر کھو دیا اور غلط شخص کو قرض دے بیٹھے بتا دیں کہ مالیا کو ہندوستانی بینکوں کا 9ہزار کروڑ روپئے دینا ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ویسٹ منسٹر ضلع کورٹ کی جج نے پیر کو فیصلہ دیتے وقت کہا تھا کہ ممکن ہے ہندوستانی بینکوں کو اس گلیمر ،چمک دمک اور مشہور باڈی گارڈ کے ساتھ گھومنے والے ارب پتی پلے بوائے نے بے وقوف بنا دیا اس نے بینکوں کے سامنے ایسی امیج پیش کی کہ وہ اسے دیکھ کر اپنا ضمیر کھو بیٹھے جب کہ سچائی یہ تھی کہ مالیا کی کمپنیاں مالی طور پر خاسا خالی کے دور میں تھیں اور اس بات کو بینکوں سے پوری طرح چھپایا گیا مقدمے کے دوران بھی عدالت نے مانا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ بینکوں نے کچھ معاملوں میں اپنی گائڈ لائنس کو نظر انداز کر کے مالیا کی کمپنی کو قرض دیا ۔برطانیہ کی عدالت نے مالیا کے وکیل یہ دلیل دیتے رہے کہ کنگ فشر ائر لائنس کے سبب بینکوں کا جو پیسہ ڈوبا و ہ بجنس میں نا کامی کے سبب ہوا تھا اور عالمی مندی بھی اس کے لئے ذمہ دار ہے ۔اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹروں کی خرید میں دلالی کے ملزم کرشن مشیل کو بھارت لائے جانے کے بعد مالیا کی حوالگی کو لے کر آیا یہ فیصلہ ہندوستانی جانچ ایجنسیوں کی بڑی کامیابی تو ہے ہی اس سے مودی سرکار کو اپوزیشن کے حملوں کے خلاف بڑا ہتھیا رمل گیا ہے ۔مالیا کے پاس ابھی بالائی عدالت میں اپیل کرنے کا موقع ہے لیکن نچلی عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی جس طرح انہوںنے اصل رقم لوٹانے کی پیش کش کی ہے لگتا ہے ان پر دباﺅ بڑھ گیا ہے ۔در اصل جرائم پیشہ کو بھارت لا کر ان کے خلاف مقدمہ چلانے میں سب سے بڑی رکاوٹ حوالگی کا مسئلہ آتا ہے حال ہی میں ارجنٹائنا میں ہوئی جی بیس چوٹی کانفرنس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھگوڑے مالیوی ڈیفالٹروں کو پکڑنے کے لئے مختلف ملکوں کے درمیان وسیع تال میل کے پیش نظر نو نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا تھا ۔مالیا کی حوالگی کی خبر نے تنازعوں میں گھرے سی بی آئی کے اسپیشل ڈائیرکٹر راکیش استھانا کو جشن منانے کا بھی موقعی دے دیا ہے برطانیوی عدالت نے کہا مالیا کے بچاﺅ میں ہندوستانی حکام پر کرپٹ طریقہ سے کام کرنے کا الزام لگایا تھا ۔جبکہ ایسا نہیں ہے ۔استھانا نے مالیا کو 2016میں بھارت سے بھاگنے کے بعد سی بی آئی کے اسپیشل جانچ دل کی قیادت کی تھی ۔برطانیوی کورٹ نے کہا کہ انہیں کوئی ثبوت نہیں ملا مدعی کرپٹ یا سیاست پر مبنی تھا ۔

(انل نریندر)

سیمی فائنل سے پہلے گرا ارجت اپٹیل کا وکٹ

2019کے فائنل سے ٹھیک پہلے سیمی فائنل میں مودی سرکار کا پہلا وکٹ گر گیا ۔میں بات کر رہا ہوں ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل کے استعفی کی جنہوںنے آخر کار پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا ۔ریزرو بینک اور سرکار کے درمیان ٹکراﺅ کی خبروں کے درمیان ارجت پٹیل کے استعفی کے آثار کئی دنوں سے جتائے جا رہے تھے ۔پٹیل کی تین سالہ عہدہ معیاد ستمبر 2019تک تھی انہوںنے اپنے استعفی کی وجہ شخصی مصلحت بتایا ہے ۔مودی سرکار کے عہد میں مالی اداروں سے یہ تیسرا استعفی ہے اس سے پہلے نیتی آیوگ کے وائس چئیرمین اروند پنگڑیا اور چیف اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم بھی اپنے عہدوں سے وقت سے پہلے ہی استعفی دے چکے ہیں ۔ارجت پٹیل کو آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن کی جگہ لایا گیا تھا ۔راجن کی جارحیت کا مودی سرکار کو پسند نہیں آئی تھی اس کے ٹھیک اُلٹ ارجت پٹیل مودی حکومت کے قریبیوں میں دیکھے گئے ۔نوٹ بندی کے دوران ان کی خاموشی نے سرکار کا کام آسان کیا تھا لیکن گذشتہ کچھ مہینوںسے ایسا لگنے لگا کہ پٹیل کئی معاملوں میں راجن سے زیادہ اپنی بات کہنے اور رکھنے والے گورنر ہیں ارجت کے استعفی سے پہلے سابق گورنر رگھو رام راجن نے کہا کہ آر بی آئی میں جو کچھ چل رہا ہے اس پر سبھی ہندوستانیوں کو چنتا ہونی چاہئیے ۔بیشک ارجت پٹیل نے استعفی کے سبب ذاتی بتائے ہوں لیکن یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ان کا سرکار سے ٹکراﺅ بڑھ رہا تھا ۔کچھ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سرکار آر بی آئی کے ریزرو میں پڑے خزانے میں جمع رقم میں سے 3لاکھ کروڑ روپئے سے اوپر کی رقم میں سے بڑا حصہ چاہتی تھی ۔کچھ دن پہلے ہی ارجت پٹیل نے بینکوں میں ہوئی جعلسازی پر گہر ا دکھ جتاتے ہوئے کہا تھا کہ سینٹرل بینک نیل کنٹھ کی طرح بن جائے گا اور اپنے اوپر پھینکے جا رہے پتھروں کا سامنا کرئے گا ،لیکن ہر بار پہلے سے بہتر ہونے کی امید کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اسی مہینے کی شروعات میں جب آر بی آئی نے سود کی شرحوںکا جائزہ لیا تھا تو اس میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ لیا تھا تب مودی سرکار کے ساتھ چل رہے تعطل سے متعلق سوال پوچھے جانے پر پٹیل نے اس پر کوئی جواب دینے سے منع کر دیا تھا ۔وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے الزام لگایا تھا کہ ریزرو بینک نے قرض بانٹنے کے کام میں لا پرواہی برتی ساتھ ہی پی این بی گھوٹالے میں بھی سرکار نے آر بی آئی کو کٹھ گہرے میں کھڑا کر دیا تھا ۔سرکار نے الزام لگایا تھا کہ آر بی آئی کی ٹال مٹولی کے سبب ایم پی اے کا مسئلہ بڑھا ۔سرکار کے سامنے بڑی مشکل یہ ہوگی کہ بھارت کی اقتصادی گروتھ اسٹوری سے غیر ملکی سرمایا کاروں کا اعتماد ہٹ سکتا ہے ۔ویسے بھی ریٹنگ ایجنسیاں بھارت کو لے کر بہت ہی مثبت رائے نہیں رکھتی ہیں اس واقعہ کے بعد حالات اور بد تر ہوں گے ۔

(انل نریندر)

12 دسمبر 2018

ہار سے توجہ ہٹانے کے لئے بدلے کی کارروائی ؟

کانگریس لیڈر شپ کی مشکلیں لگاتار بڑھتی جا رہی ہیں ۔نیشنل ہیرلڈ کا کیس پہلے ہی چل رہا ہے اب رہی سہی کسر اس معاملے میں انکم ٹیکس کی جانچ روکنے کی سپریم کورٹ کے ذریعہ انکار سے پوری ہو گئی اس کے ساتھ ہی سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا پر چھاپے پڑنے شروع ہو گئے ہیں ۔اس لئے ایک طرح سے سونیا گاندھی ،راہل گاندھی،پرینکا گاندھی وغیرہ سبھی مشکل میں آگئے ہیں ۔نیشنل ہیرلڈ کیس میں انکم ٹیکس کی جانچ جاری رکھنا کانگریس صدر راہل گاندھی اور ان کی ماں سونیا گاندھی کے لئے بہت بڑا دھکا ہے عدالت نے حالانکہ کہا ہے کہ معاملہ لٹکا ہونے تک انکم ٹیکس کوئی کارروائی نہیں کرئے گا۔ لیکن وہ 2011.12کے مقرر ٹیکس معاملوں کو پھر سے کھول سکتا ہے اسے روکنے کے لئے ہی سپریم کورٹ میں پارٹی گئی تھی بے شک عدالت کے اگلے حکم سے پہلے انکم ٹیکس محکمہ پر ٹیکس متعین سے متعلق حکم پر عمل نہیں کرئے گا ۔لیکن باقی کارروائی پوری کر سکتا ہے ۔عدالت نے اگلی تاریخ 8جنوری طے کی ہے اور اس دن دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ دیتی ہے ؟نیشنل ہیرلڈ معاملے میں راہل گاندھی ،سونیا گاندھی سمیت دوسرے ملزم یعنی آسکر فرنانڈیز ،موتی لال ورا وغیرہ کو عدالت سے ابھی تک مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے ۔عدالت نے انہیں صرف ضمانت دی ہے راہل اور سونیا کو عدالت نے 19دسمبر 2015کو ضمانت دی تھی ۔واضح ہو کہ بھاجپا نیتا سبرامنیم سوامی کی عرضی پر نیشنل ہیرلڈ معاملے میں کانگریس لیڈروں کے خلاف فوجداری کی کاروائی چل رہی ہے ۔سوامی نے وزیر خزانہ کو بھی ٹیکس چوری کے بارے میں عرضی دی تھی اس میں عام سرمائے سے ایک نئی کمپنی بنا کر دھوکہ دھڑئی و سازش کے تحت کروڑوں روپئے کا غبن کا الزام ہے ۔اس میں پچاس لاکھ روپئے سے نومبر 2010میں ینگ انڈیا نام کی کمپنی بنائی گئی اور اس نے نیشنل ہیرلڈ اخبار چلانے والی اے جی ایل کے تقریبا سارے شئیر نا جائز طریقہ سے لے لئے تھے ۔محکمہ انکم ٹیکس کا کہنا تھا کہ ینگ انڈیا میں راہل گاندھی کے تو جو شئیر ہیں ان کے مطابق 154کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی ۔محکمہ انکم ٹیکس پہلے ہی ینگ انڈیا کو سال 2011.12کے لئے 249کروڑ روپئے کی مانگ کا نوٹس جاری کر چکا ہے جہاں تک رابرٹ واڈرا پر چھاپوں کا سوال ہے گانگریس پارٹی کھل کر ان کے بچاﺅ میں آگئی ہے ۔اس نے واڈرا کی کمپنیوں سے جڑے تین لوگوں کے گھروں اور دفتروں پر انفورسمینٹ ڈائرکٹریٹ کی چھاپہ ماری کو کانگریس نے بدلے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ڈیفنس سودوں میں کچھ مشتبہ افراد کے ذریعہ مبینہ طور پر کمیشن لئے جانے کی جانچ سے متعلق پارٹی نے کہا تھا پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ میں بھاجپا کی ہار طے دیکھ کر مرکز کی این ڈی اے سرکار لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے بدلے کی کارروائی کر رہی ہے۔

(انل نریندر)

بھیک نہیں مانگ رہے،قانون بنائے سرکار،مندر وہیں بنائیں گے......!

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے ٹھیک دو دن پہلے جے شری رام کے نعروں سے دہلی کا رام لیلا میدا ن اور آس پاس کا علاقہ گونج اُٹھا ۔مندر وہیں بنائیں گے...اٹل ارادے کے ساتھ رام بھگت وشیو ہندو پریشد کی جانب سے بلائی گئی دھرم سبھا میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے اکھٹے ہوئے رام لیلا میدا ن میں ریلی شروع ہوتے ہی اسٹیج سے رام مندر کی تعمیر کا اعلان نہ ہونے سے جمع لوگوں کو مایو س کر دیا ۔اسٹیج سے اعلان ہوا کہ رام لیلا میدان میں اور رام بھگت نہ آئیں یہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں باہر اسکرین لگی ہے وہیں سے پروگرام دیکھیں رام مندر تعمیر کو لیکر امڑی بھگتوں کی سڑک پر لمبی قطاریں لگی رہیں ۔عالم یہ تھا کہ رام لیلا میدا ن کی طرف جانے والے سارے راستہ میں بھگوا رنگ میں ہی لوگ نظر آئے ۔وی ایچ پی نے بھگتوں کو لانے کے لئے تیرہ ہزار بسوں کا انتظام کیا تھا ۔اور ہزاروں رام بھگت اپنی اپنی موٹر سائیکلوں سے آئے اس ریلی میں نو لاکھ بھگتوں کی شمولیت کا عوہ کیا گیا ہے لیکن پولس کا کہنا تھا کہ پونے دو لاکھ بھگت آئے ۔رام بھگتوںنے زبردست اتحاد کا مظاہرہ کیا ۔منعقدہ دھرم سبھا میں آر ایس ایس کے نگراں پردھان بھیا جی جوشی نے کہا کہ ہم رام مندر کے لئے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں سرکار اپنے ادھورے عزم کو پورا کرنے میں ٹال مٹولی چھوڑ کر جلد قانون بنائے وہیں وی ایچ پی کے نگراں صدر آلوک کمار نے کہا کہ دہائیوں سے انتظار کے بعد اب اور انتظار کرنے کے موڑ میں نہیں ہیں بڑی عدالت و سرکار عوام کے جزبات کا خیال رکھنے کی نصیحت دیتے ہوئے جوشی نے کہا کہ مندر تعمیر کی رکاوٹیں دور کرنا دونوں کا فرض ہے ۔آج جو لوگ اقتدار میں بیٹھے ہیں انہوںنے پہلے مندر وہیں بنائیں گے کا اعلان کیا تھا اس عزم کو پور ا کرنے کا وقت آگیا ہے ۔دیش رام مندر چاہتا ہے ۔1992میں ادھورے چھوڑے کام کو اب وقت ہے کہ اب پورا کیا جائے۔سادھوئی رتمبرا نے کہا کہ رام مندر کی بات کرنے والے عیش وآرام میں ہیں جب کہ رام للا ٹاٹ میں ہیں سرجو ندی پر کتنے شری دیپ جلاﺅگے رام کی مورتی بنا لو لیکن جب تک رام مندر نہیں بنے گا تب تک ساری کوششیں بے کار ہیں ۔وی ایچ پی کے ایس سنگھ وینکٹیش نے کہا کہ مندر ہی گرا کر مسجد بنائی گئی تھی اب رام مندر کو ہی چناﺅی اشو نہیں ہے دیش میں ہر چھ مہینے کہیں نہ کہیں چناﺅ ہوتے رہتے ہیں ،کیا ہم چپ بیٹھیں گے ؟یہ دھرم سبھا وی ایچ پی نے منعقد کی تھی اور اس کے اسٹیج پر آر ایس ایس کے نیتا بھی موجود تھے ۔آر ایس ایس کے چیف نے بھی دہلی میں اور پھر ناگپور میں مندر کے لئے سرکار کو قانون یا آرڈی نینس لانے کا مشورہ دیا تھا ۔اس طرح پچھلے کچھ مہینوں سے مندر بنانے کےلئے ماحول شروع ہو گیا تھا ۔دھرم سبھا میں سنت سماج اور ہندو تنظیموں نے ایک بار پھر سرکار پر دباﺅ ڈالا کہ وہ پہلے چناﺅ میں کئے وعدے کو پورا کرئے ۔اب سرکار کے سامنے سنکٹ ہے وہ اگلے عام چناﺅ سے پہلے اس مسئلہ کا حل کیسے نکالے ؟

(انل نریندر)

11 دسمبر 2018

ای وی ایم آج کھلیں گی لیکن ایگزٹ پول میں ملے جلے اشارے

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات آج آجائیں گے ان میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا یہ پتہ چل جائے گا اور کئی دنوں کا سسپینس بھی ختم ہو جائے گا ۔لیکن ان نتائج سے آنے والے لوک سبھا چناﺅ میں مودی سرکار کی سمت اور حالت طے کرنے کے ساتھ ہی اپوزیشن پارٹیوں کی کیا حکمت عملی ہوگی ان نتائج پر منحصر کرئے گی لیکن ہمیں ان اسمبلی انتخابات سے کچھ اشارے ضرور مل رہے ہیں پہلا اشارہ تویہ مل رہا ہے کانگریس صدر راہل گاندھی کے لئے پہلی بار ایگزٹ پول میں بی جے پی کے سامنے بڑی کامیابی ملنے کے آثار ہیں اگر 11دسمبر یعنی آج ایگزٹ پول نے جو نتیجے دکھائے وہی رہے تو راہل کو عام چناﺅ سے ٹھیک پہلے کامیابی کا ٹونک ملے گا ۔جس کی انہیں اور کانگریس کو سخت ضرورت ہے اس سے 2019سے پہلے راہل ایک قد آوار نیتا کے طور پر خود کو پروجیکٹ کریں گے ۔اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان ان کی قدر بڑھے گی دوسرا اشارہ تلنگانہ میں اتحاد کی نا کامی دکھائی پڑ رہی ہے وہاں کانگریس نے ٹی آر ایس کے خلاف اتحاد بنایا اس میں چندر بابو نائیڈو کی رہنمائی والی ٹی ڈی پی بھی تھی اتحاد نے بہت ہائی اولٹیج کمپین چلائی لیکن نتیجے یہی رہے تو اتحاد کے تجربے پر سوال اُٹھیں گے 2019سے پہلے عام چناﺅ میں اس اتحاد کے مستقبل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے ۔تیسرا اشارہ یہ مل رہا ہے کہ راجستھان میں وسندھرا راجے کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے راجستھان میں وسندھرا کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے ایک بار تو انہیں کٹانے کی بات بھی آئی تھی لیکن وہ مرکزی لیڈر شپ کو چنوتی دیتے ہوئے اپنے عہدے پر جمی رہیں ۔ٹکٹ کی تقسیم میں بھی ان کی چلی لیکن جس طرح ایگزٹ پول کی پرجکشن ان کے خلاف دکھائی دیئے ہیں اگر یہ سہی ہوئے تو ان کی لیڈر شپ پر سوال اُٹھیں گے ۔راجستھان میں بھلے ہی وسندھرا کے خلاف لوگوں کی ناراضگی کھل کر دکھ رہی تھی لیکن مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی مقبولیت برقرار ہے ۔ایسا لگتا ہے ۔یہی حال رمن سنگھ کا بھی ہے ایگٹ پول کے حساب سے آئے نتیجے تو برینڈ مودی پر بھی اثر ڈالیں گے ۔پی ایم مودی نے سبھی ریاستوں میں جم کر ریلیاں راجستھان میں تو پورا زور لگا دیا تھا بھاجپا بھی اسی پر توجہ دے رہی تھی کہ 2019میں پھر سے مودی کو لانے کے لئے ان ریاستوں میں بی جے پی کی جیت ضروری ہے کانگریس اگر ان ریاستوں میں بی جے پی کومات دینے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ مودی کی اس اجے امیج کو بری طرح توڑے گی جو امیج بی جے پی دکھانے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔ایگزٹ پول کے نتیجے اپوزیشن کے لئے آکسیجن کی طرح کام کر سکتے ہیں اگر یہی نتیجہ ہے تو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اپوزیشن کے جارحانہ تیور دیکھنے کو ملیں گے ۔کانگریس پھر سے سینٹر پوائنٹ پر نظر آئے گی ۔اور اپوزیشن ایکتا کی کوشش پھر سرے چڑھے گی ۔رافیل سے لے کر کسانوں کا اشو اور نوٹ بندی جی ایس ٹی سے ہوئی پریشانیوں پر اپوزیشن سرکار کی گھیرا بندی کر سکتی ہے لیکن سب کچھ آج ای وی ایم میں کیا نتیجے چھپے ان کے سامنے آنے پر منحصر ہوگا ۔ای وی ایم سے کس کی لاٹری نکلتی ہے یہ توآج ہی پتہ چلے گا۔

(انل نریندر)

اگستا سودے میں کس کس نے کتنی رشوت کھائی؟

ا س میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ اطالوی کی کمپنی فن میکنکا کی برطانیوی اتحادی کمپنی اگستا ویسلینڈ معاملے میں پچولیے کرشچن مشیل کی حوالگی کے بعد بھارت لایا جانا مودی حکومت کی بڑی ڈپومیٹک کامیابی ہے ۔یہ اس لئے بھی ایک بڑا کارنامہ ہے کہ وجے مالیہ اور نیرو مودی جیسے مالی قرض داروں کے بھاگ جانے سے حکومت کی ساکھ پر اثر پڑ رہا تھا ۔انتہائی اہم شخصیات کے لئے نئی تکنیک والے ہیلی کاپڑوں کی ضرورت تو بھاجپائی سرکار کے وقت میں ہی محسوس کر لی گئی تھی ۔لیکن 2006میں یوپی اے ون کے دور میں بارہ ہیلی کاپڑوں کے لئے ٹینڈر جاری ہوئے تھے اس کے قریب دو سال بعد انڈین ائیر فور س نے اٹلی کی فن مکینکا کی برطانیوی اتحادی کمپنی اگستا ویسٹ لینڈ کو اس سودے کے لئے چنا تھا ۔اس کے تین ہیلی کاپٹر دیش کو مل بھی گئے تھے لیکن 2012میں اٹلی کی جانچ ایجنسیوں کے ذریعہ اس سودے میں دلالی کا پتہ لگنے کے بعد کھلبلی مچ گئی ان کا کہنا تھا کہ فن مکینکا نے کچھ ہندوستانی لیڈروں اور ائیر فورس کے حکام کو کرڑوں روپئے کی رشوت دے کر یہ ٹھیکہ حاصل کیا تھا اس سے مشیل سمیت تین بچولیوں کے نام بھی بتائے تھے اٹلی کی عدالت نے اس معاملے میں سخت کارروائی کی نہ صرف فن مکینکا اور اگستا ویسٹ لینڈ کے بڑے عہدے داروں کی گرفتاری بھی ہوئی سماعت کے دوران یوپی اے کچھ نیتاﺅں کے نام بھی سامنے آئے اس درمیان منموہن سنگھ حکومت نے یہ سودا بھی منسوخ کر دیا اور اس وقت کے ائیر فورس چیف ایس پی تیاگی اور ان کے کچھ رشتہ داروں اور وکیل گوتم کھیتان کے نام اس گھوٹالے میں سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف کاروائی بھی ہوئی سودے سے پہلے منموہن سنگھ حکومت نے ایک شرط یہ بھی رکھی تھی کہ اس میں کسی بچولئے کا نام شامل نہیں کیا جائے گا ۔اگر کسی بچولئے کے اس میں شامل ہونے کی بات پتہ چلے گی تو سودا منسوخ مان لیا جائے گا ۔مگر سودا ہونے کے کچھ وقت بعد ہی اس میں رشوت دینے کی بات اُٹھی تھی اس پر فورا اٹلی کی جانچ ایجنسی نے اگستا ویسٹ لینڈ اور اس کی سسٹر کمپنی فن میکنکا کے خلاف جانچ شروع کر دی اور پایہ کہ اس میں دس فیصد یعنی 300کروڑ روپئے کی رشوت دی گئی ۔اس جانچ کی بنیاد پر یوپی اے سرکار نے فورا سودا منسوخ کر دیا اور کمپنی کی طرف سے ضمانت کے طور پر پیسے لوٹا دئے گئے ۔مگر اتنے سے ہی معاملہ رفا دفا نہیں ہو جاتا آخر یہ سوال ابھی بھی باقی ہے کہ اس سودے میں جن لوگوں نے رشوت کھائی وہ کون ہیں ؟یوں تو اس وقت کے ائیر چیف کو بھی اس میں ملزم بنایا گیا تھا ۔سودے کی منظوری دیتے وقت منموہن سنگھ سرکار کی طرف سے اس ٹھیکے میں کون لوگ شامل تھے ان میں سے کن کے ذریعہ مشیل نے اس سودے کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی اسے جاننا ضروری ہے فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ اس گھوٹالے میں کیسے کیسے راز سامنے آتے ہیں اور ان کے ذریعہ کسی کو سزا یا ساجھے دار بنایا جا سکتا ہے یا نہیں ؟یہ جانچ ایجنسیوں کے لئے چنوتی ہوگی فی الحال پٹیالہ ہاﺅ س عدالت میں اسپیشل سی بی آئی جج اروند کمار سے سی بی آئی کے وکیل ڈی پی سنگھ نے کہا کہ مشیل پر بارہ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودے میں قریب 37.7ملین یورو یعنی 225کروڑ روپئے کی رشوت کا الزام ہے ان کا کہنا ہے کہ مشیل نے کئی کمپنیوں کے ساتھ فرضی سودے کرائے تھے لیکن اس پر عمل نہیں کیا ۔ان کے سہارے دبئی میں بینک کھاتے کھولے گئے اور ان میں 225کروڑ روپئے کی رقم ٹرانسفر کی گئی تھی لیکن اس کے بعد یہ رقم کس کو دی گئی اس کا پتہ ملزم سے ہی چلے گا ۔مشیل برطانیوی شہری ہے اس کی حوالگی کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ سرکاری بینکوں سے 9ہزار کروڑ روپئے لیکر فرار ہوئے وجے مالیا بھی پیسہ لوٹانے کو تیار لگتے ہیں لگتا ہے کہ یہ اگستا ویسٹ لینڈ کا معاملہ اب بھاجپا رافیل سودے کے تنازع کے خلاف کانگریس کے خلاف استعمال کرئے گی ۔کورٹ میں سماعت سے پہلے ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے راجستھان کے سمیر پور میں چناﺅ ریلی کے دوران مشیل کا حوالہ دیتے ہوئے گاندھی خاندان پر تقطہ چینی کی تھی سونیا گاندھی کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ دلال(مشیل)کئی راز کھولے گا۔مودی نے کہا کہ 2014میں میں نے کئی ریلئیوں میں بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹر معاملے میں ہزاروں کروڑ کا گھوٹالہ ہوا تھا وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر اور وہ خط کے بارے میں معلوم ہوگا میڈم سونیا جی نے لکھی ہے ۔ساری فائلیں اور کاغذات نہ جانے کہاں چھپا دئے گئے تھے ہماری سرکار آنے کے بعد ہم ان کو مسلسل ڈھونڈتے رہے اس میں ایک رازدار ہاتھ لگ گیا ۔یہ دلالی کا کام کرتا تھا ۔نام داروں کا خیال رکھتا تھا ۔کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر جوابی وار کرتے ہوئے جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے ۔پارٹی نے دعوی کیا کہ پانچ ریاستوں کے چناﺅ میں بھاجپا کی ہار طے دیکھ کر بوکھلائے وزیر اعظم جھوٹے الزام کے سہارے بات چیت کی مریاداﺅں کو نیچے لے جارہے ہیں ۔میڈیا کے مشیل کو لے کر پوچھے گئے سوال پر راہل گاندھی نے الٹا مودی پر ہی سوال داغ دئے اور کہا کہ ان کو رافیل ڈیل پر بولنا چاہئے جو مشیل کے ذریعہ چناﺅ ی فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں وہ جھوٹی کہانیاں گھڑ رہے ہیں ۔مشیل کے وکیل نے جولائی میں کہا تھا کہ مودی سرکار اس سے سونیا گاندھی کے خلاف جھوٹے قبول نامے پر دستخط کرنے کا دباﺅ بنا رہی تھی اب امید کی جاتی ہے کہ سی بی آئی معاملے کے تہہ تک پہنچے گی اور بتائے گی کہ یہ رشوت کس کو کتنی دی گئی ہے؟اس سودے میں کن کن لوگوں نے کتنی رشوت کھائی ہے؟

(انل نریندر)

09 دسمبر 2018

بلیوں کی طرح لڑتے افسروں نے سی بی آئی کا تماشہ بنا دیا

سپریم کورٹ نے آلوک ورما کو سی بی آئی کے ڈائرکٹر کے اختیارات سے محروم کر چھٹی پر بھیجنے کی سماعت جمعرات کو پوری کر لی ہے ۔عدالت اس معاملے میں فیصلہ بعد میں سنائے گی ۔عدالت نے سماعت کے دوران مرکزی حکومت سے تلخ سوال پوچھے عدالت نے جاننا چاہا کہ جب دونوں سینئر افسروں (ورما،آستھانا)کے درمیان جولائی سے سرد جنگ چلی آرہی تھی ،پھر تین ماہ بعد راتوں رات فیصلہ لینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟چیف جسٹس رنجن گگوئی جسٹس سنجے کشن کول اور جی ایم جوزف کی بینچ نے کہا تھا اداروں کو تباہ ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے ۔بینچ نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل نے خود کہا ہے کہ سی بی آئی ڈائرکڑ آلوک ورما اسپیشل ڈائرکٹر ارکیش استھانا کے درمیان جولائی سے تو تو میں میں ہو رہی تھی اور اس کی خبریں اخبار بٹور رہے تھے ۔تین ماہ تک اس حالت کو کیوں بننے دیا گیا ؟آخر ایسی حالت کیوں آئی کہ راتوں رات کارروائی کرنی پڑی ؟بینچ نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے پیچھے سرکار کا ارادہ ادارے کے مفاد میں ہونا چاہیے نہ کہ سی بی آئی کو تباہ کرنے کی نیت ہو ۔سی بی آئی کو تباہ نہیں ہونے دیا جا سکتا ۔سماعت کے دوران مرکزی وجیلنس کمیشن کی جانب سے دلیل دی گئی حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے تھے اس لئے یہ قدم اُٹھانا ضروری تھا ایسا نہیں کیا جاتا تو یہ فرض میں لاپرواہی ہوتی سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا کوئی نگراں افسر سی بی آئی ڈائرکٹر مقرر نہیں کیا جا سکتا ؟آلوک ورما کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا ۔کورٹ نے پوچھا مخصوص حالات پیدا ہو جائیں تو؟تب بتایا گیا کہ سپریم کورٹ اپنی دائرہ اختیارات کا استعمال کریں تو یہ ہو سکتا ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے سی بی آئی ڈائرکٹر اسپیشل ڈائرکٹر کے بیچ جھگڑا راتوں رات سامنے آگیا ۔جس کی وجہ سے سرکار کو سلکشن کمیٹی سے مشورے کے طور پر ڈائرکٹر کے اختیارات لینے کو مجبور ہونا پڑا سرکارکو غیر جانب داری رکھنی ہوگی اور اسے سی بی آئی ڈائرکڑ کے اختیارات و اپس لینے سے پہلے سیلکشن کمیٹی کی رائے لینے میں کیا مشکل تھی؟سی جی اونے سی وی سی سے یہ بھی پوچھا کہ کس وجہ سے انہیں کاروائی کرنی پڑئی کیوں یہ سب راتوں رات میں کیوں ہوا ؟سی بی سی کا موقوف رکھتے ہوئے سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا کہ سی بی آئی کے سنئیر افسر معاملوں کی جانچ کرنے کے بجائے بلکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف معاملوں کی تفتیش کر رہے تھے ۔سی بی سی کے دائرے اختیار میں جانچ کرنا شامل ہے ورنا وہ فرض میں لاپرواہی تھی اور قصوروار ہوگی ۔مرکزی حکومت نے عدالت سے کہا کہ ورما اور استھانا بلیوں کی طرح آپس میں لڑ رہے تھے دونوںنے ہی سی بی آئی کو تماشا بنا کر رکھ دیا تھا ۔لہذا سرکار کو مجبور ہو کر معاملے میں مداخلت کرنی پڑی۔دیکھیں سپریم کورٹ کیا فیصلہ سناتی ہے۔

(انل نریندر)

پانچ ریاستوں کے چناﺅمودی بنام راہل پر لڑے گئے ہیں

حال میں اختتام پزیر 5ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ میں کانگریس صدر راہل گاندھی کا نیا اوتار دیکھنے کو ملا یہ چناﺅ مقامی اشوز اور سرکار سے ناراضگی ،کسانوں کا مسئلہ بے روزگاری کا مسئلہ وغیرہ سے ہٹ کر مودی بنام راہل ہو گیا ہے۔مودی نے اپنی ہر ریلی میں راہل گاندھی کو نشانہ بنایاتو راہل گاندھی نے مودی سے تلخ سوال پوچھے ۔پچھلے کچھ برسوںمیں اسمبلی چناﺅ بھی عام چناﺅ کی طرح لڑے جانے لگے ہیں ۔وزیر اعظم سے لے کر تمام مرکزی وزراءپارٹی صدر امت شاہ نے تابڑ توڑ ریلیاں کیں یہ اس لئے بھی کیا گیا کیونکہ موجودہ سیاسی پس منظر میں ان انتخابات میں بھاجپا کی جیت سب سے ضروری فیکڑ ہے پارٹی اپنی ہر چناﺅ ی جیت کو اپنی پالیسیوں سے زیادہ کانگریس اور راہل گاندھی و گاندھی خاندان کو نشانہ بناتے نظر آئے اس لئے بھی اس بار بھی 5ریاستوں کے چناﺅ مودی بنام راہل گاندھی کے اشو پر لڑے گئے اور تو اور نہ تو وزیر اعظم کے لئے اور نہ ہی پارٹی صدر کے لئے رام مندر بنے یا نہ بنے اس پر زیادہ ضروری بحث کرنا ضروری سمجھا اس بار میں کانگریس بھی مقامی اشوز سے پرہیز کرتی دکھائی دی حالانکہ راہل گاندھی ویاپم گھوٹالے سے زیادہ نوٹ بندی رافیل اور جی ایس ٹی جیسے اشوز زیادہ اُٹھا رہے تھے۔ان انتخابات میں ہمیں کانگریس کے ورق کلچر میں بھاری تبدیلی دیکھنے کو ملی ہر ریاست میں کانگریس ایک ہو کر لڑی لوکل لیڈر شپ اپنے نجی اختلافات کو بھول کر کے راہل کی قیادت میں متحد ہو کر لڑے ۔جب نیتا ایک ہو گئے تو ورکر بھی کھل کر سامنے آگئے ۔ان انتخابات میں یہ بھی تقریبا لگتا ہے جو لہر مودی کی 2014میں چلی تھی وہ اب نہیں ہے اور ان کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے ان انتخابات کے نتائج کے بعد چاہے وہ کچھ بھی ہوں راہل گاندھی کو کوئی پپو کہنے کی ہمت نہیں کرئے گا ۔ان انتخابات کے نتائج بھاجپا اور اس کی قیادت کے لئے اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ کچھ ہی مہینوں بعد لوک سبھا چناﺅ ہونے ہیں ۔اگر ان انتخابات میں کانگریس کی اچھی کارکردگی رہتی ہے تو ذاتی طور پر راہل گاندھی مضبوط ہوں گے اور کانگریس کو نئی طاقت ملے گی ۔پانچ اسمبلی انتخابات کے نتیجے یہ بھی طے کریں گے کہ آگے چل کر کس طرح کے محاز بنیں گے یہ ایک طرح سے اپوزیشن اتحاد کا بھی مستقبل ان اسمبلی انتخابات کے نتائج پر منحصر کرئے گا۔دیکھیں 11دسمبر کو جب ڈبے کھلیں گے تو جنتا کیا فیصلہ سناتی ہے ان چناﺅ ایگزٹ پول پر میں زیادہ یقین نہیں کرتا اگر ان کی مانی جائے تو بھاجپا کو سخت مار پڑنے والی ہے ۔بہر حال صحیح تصویر تو منگلوار کو ہی پتہ چلے گی اورابھی پکچر باقی ہے۔

(انل نریندر)