Translater
22 مئی 2021
ہریدوار استھی وسرجن کو صرف چار لوگ ہی جاسکیں گے !
اتراکھنڈ ریاست کے باہر سے ہریدوار میں استھی وسرجن کیلئے چار سے زیادہ لوگ نہیں آپائیں گے اور وسرجن میں آنے کیلئے بھی آنے سے پہلے پورٹل پر رجسٹریشن اور 72گھنٹے پہلے آر ٹی پی سی آر نی گیٹو رپورٹ ضروری ہوگی ضلع مجسٹریٹ سی روی شنکر نے کووڈ کرفیو میں ایس او پی کے سختی سے تعمیل کرائے جانے کے سخت احکامات دیئے ہیں مڈایوں کے بعد سے ہریدوار میں کورونا کا قہر کا برپا ہے انفیکشن کا پھیلا و¿ روکنے کیلئے کوود کرفیو لگانا پڑا 28اپریل سے مرحلے وار کرفیو بڑھ رہا ہے اب 25مئی تک لاگو کرفیو میں انتظامیہ نے سختی بڑھا دی ہے ان میں استھی وسرجن کرنے والے لوگ بھی ان پابندیوں سے گزرنا پڑے گا ضلع میں آمد کے لئے گیارہ بارڈر ہے ضلع مجسٹریٹ سی روی شنکر کے مطابق باہری ریاستوں سے ہریدوار استھی وسرجن کیلئے صرف چار لوگ ہی آپائیں گے اور جن کے پاس آر ٹی پی سی آر رپورٹ نہ ہونے پر بارڈر یا رینڈیم بارڈر پر سیمپل کے بعد ہی ہریدوارمیں انٹری ملے گی سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں میں صرف پچاس فیصدی لوگ ہی آجا سکیں گے استھی وسرجن کیلئے آنے والے چار لوگ کارمیں نہیں یو ایس وی آٹھ سیٹوں والی یو ایس وی سے آنا ہوگا دیش کی کچھ ریاستوں میں یہ رواج ہے کہ لوگ کسی بھی رشتے دارکی موت کے بعد ہریداور میں استھی وسرجن کو لیکر پورے پریوار سمیت آجاتے ہیں خاص کر راجستھان کے لوگ ویسے بھی کووڈ کے سبب دیش میں موتوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے اسی بھیڑ سے کورونا انفیکشن زیادہ نہ پھیلے اس کی احتیاط کے لئے ضلع انتظامیہ کو استھی وسرجن میں شامل افراد کی تعداد میں کٹوتی کرنی پڑی ہے ۔
(انل نریندر)
حماس : فلسطینی تنظیم جو اسرائیل کو مٹا دینا چاہتی ہے !
حماس فلسطینی انتہا پسند گروپووں میں سب سے بڑ اگروپ ہے اس کا نام ایک تنظیم اسلامک ریجیمینٹ موو مینٹ کے عربی نام کے پہلے الفاظ سے مل کر بنا ہے اس کی شروعات 1987میں فلسطین کے پہلی بغاوت کے بعد ہوئی ، جب مغربی کنارہ ، غزہ پٹی میں اسرائیلی قبضے کی مخالفت شروع ہوئی تھی اس گروپ کے چارٹر میں لکھا ہے کہ وہ اسرائیل کو تباہ کرنے کیلئے عہد بند ہے حماس کی جب شروعات ہوئی تب اس کے دو مقصد تھے ایک تو اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھان جس کی ذمہ داری اس کے فوجی گروپ رجیع الدین القسام بر گریڈ پر تھی جس کے علاوہ اس کا دوسرہ گروپ سماج میں بہبودی کام کرتا ہے اس نے 2006میں فلسطینیوں کے علاقے میں ہوئے چناو¿ میں جیت حاصل کی تھی اگلے سال غزہ پٹی میں صدر محمود عبا س کے حریف گروپ فتح کو ہٹا کر وہاں کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اس کے بعد غزہ کے انتہا پسند اسرائیل کے ساتھ تین لڑائیاں لڑ چکے ہیں ۔ اسرائیل نے مصر کے ساتھ مل کر غزہ پٹی کی گھیرا بندی کی ہوئی ہے تاکہ حماس الگ الگ تھلگ پڑے اوراس پر حملے بند کرنے کا دباو¿ بڑھے حماس ملٹری گروپ کو اسرائیل ، برطانیہ امریکہ یوروپی یونین اور کئی دیگر اور دیش ایک دہشت گرد تنظیم مانتے ہیں حما س کا نام پہلے اعتقادہ کے بعد سب سے اہم فلسطینی گروپ کے طور پر ابھرا ہے جس نے0 190کے دھائی میں اسرائیل اور زیادہ تر فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے والے پی ایل او کے درمیان اوسلومیں ہوئے امن معاہدے کی مخالفت کرنا اسرائیل کے کئی آپریشنوں کے باوجود حماس نے فضائی حملے کر کے یہ جتا دیا ہے کہ اس کے پاس امن عمل کو روکنے کی صلاحیت ہے ۔ حماس کے بم خالق یحیٰ عیاس کی 1995دسمبر میں کئے گئے حملے کے جواب میں تنظیم نے 1996فروری اور مارچ میں کئی فدائی بم حملے کیے تھے حماس کے روحانی پیشوا شیخ احمد یاسین کا 2004میں ایک اسرائیل میزائل حملے میں موت ہوگئی تھی 2004مارچ اور اپریل میں حماس کے روحانی پیشوا اور ان کے جانشین عبد العزیز الرنتیشی کو بھی اسرائیل نے مار گرایا تھا اسی سال نومبر میں فتح گروپ کے لیڈر یاسر عرفات کا انتقال ہوگیا تھا پھر فلسطینی اتھارٹی کی کمان محمود عبا س کے ہاتھوں میں آگئی جو حماس کے راکیٹ حملوں سے نقصان ہورہا ہے اسرائیل حماس کو غزہ سے ہونے والے حملوں کیلئے ذمہ دار مانتا ہے ۔ اور وہاں تین بار فوجی ایکشن کر چکا ہے۔ جس کے بعد سرحد پار جا کر 2008کے دسمبر میں اسرائیل فوج نے راکیٹ حملوں کو روکنے کیلئے آپریشن کاسٹ لیڈ چلایا 22دن تک چلی اس لڑائی میں 3سو سے زیادہ اور 13اسرائیل مارے گئے تھے 2014میں جون کے وسط میں ایک بار پھر غزہ سے راکیٹ حملے تیز ہوگئے اس کے جواب میں اسرائیل نے بھی تین بار کاروائی کرتے ہوئے مغربی کنارہ میں حماس کے کئی ممبروں کو پکڑ لیا ۔ پچاس دنوں تک چلی لڑائی میں کم سے کم 2251فلسطینی مارے گئے اسرائیل کی طرف سے 67فوجیوں اور چھ شہریوں کی موت ہوئی 2014کے بعد دونوں فریقین میں مسلسل جھڑپیں ہوتی رہی ہیں مصر اور اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوتی رہی ہے گھیرا بندی کے دباو¿ کے باوجود حماس نے غزہ میں اپنا اقتدار قائم کئے ہوئے ہے اور وہ اپنے راکیٹ کے ذخیروں کو بڑھاتا اور بناتا جا رہا ہے اسی درمیان غزہ میں رہ رہے 20لاکھ فلسطینوں کی حالت دن بدن مالی طور پر خراب ہو تی جا رہی ہے اور وہاں کی معیشت ایک طرح سے چوپٹ ہوچکی ہے نہ بجلی ہے نہ پانی ہے نہ دوا سبھی ضروی چیزوں کی قلت ہوگئی ہے ۔
(انل نریندر)
ہر حالت میں تیسری لہر سے بچوں کو بچانا ضروری !
کورونا کی تیسری لہر سے بچوں کو سب سے زیادہ انفیکشن ہونے کا اندازہ جتایا جا رہا ہے اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے دہلی میں بچوں کیلئے درکار آئی سی یو اور وینٹی لیٹر بیڈ کا انتظام کرنا سخت ضروری ہے بچوںکو انفیکشن سے بچانے کیلئے گھر کے سبھی افراد خود کو ویکسین کا ٹیکہ لگوائیں اس سے انفیکشن کے پھیلنے میں روک تھام میں مدد ملے گی یہ دہلی کے الگ الگ اسپتال کے ڈاکٹروں کی رائے ہیں ۔ صفدر جنگ اسپتال کے کمیونٹی میڈیشین ڈیپارٹمینٹ کے چیف ڈاکٹر جگل کشور نے بتایا کہ بچوں کے آئی سی یو اور وینٹی لیٹر بیڈ بڑوں کے مقابلے میں الگ ہوتے ہیں بچوںکو بھرتی کرانے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کے لئے بھی پالیسی تیار کرنی ہوگی وہیں مولانا آزاد میڈیکل کے پروفیسر اور لینسر کمیشن کووڈ انڈیا ٹاسک فورس کے ممبر ڈاکٹر سنیل گرگ نے بتایا کہ اس دوران ٹیچروں کو سمجھانے کی ذمے داری ہوگی ۔ اسے دیکھتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بد ھوار کو ایمرجنسی میٹنگ بلائی جس میں بچوں کو بچانے کیلئے اسپیشل ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا افسروں کی اس ٹیم پر اسپتال میں بیڈ اور آکسیجن سے لیکر دواو¿ں تک کا انتظام کرنے کی ذمہ داری ہوگی ۔ میٹنگ میں اس بات پر غور کیا گیا کہ تیسری لہر کے دوران زیادہ سے زیادہ کیس آنے کے آثار ہیں افسروں نے ایک تجزیہ کے بنیاد پر بتایا کہ قریب 40ہزار بیڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ان میں 10ہزار آئی سی یو میں ضرورت پڑے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ہم وسیع پیمانے پر بیڈ بڑھائیں گے تو اسی حساب سے مقدار میں آکسیجن کی ضرورت ہوگی آکسیجن کی مانگ بڑھ جاتی ہے تو اسے پورا کیا جاسکے اس کے لئے تیاری کربی پڑے گی اسے دیکھتے ہوئے میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا اس کے لئے دہلی سرکار پہلے سے ہی آکسیجن ٹینکر خرید کر رکھے گی بڑی تعداد میں آکسیجن سلینڈر بھی خریدیں جائیں گے تاکہ الگ الگ اسپتالوں میں آکسیجن پہونچانے میں دقت نہ آئے۔ یہ اچھی بات ہے دہلی سرکار نے تیسری لہر میں امکانی طور پر بچوں پر کورونا سے نمٹنے کیلئے پہلے سے ہی تیاری شروع کردی ہے تاکہ مشکل گھڑی میں دقت نہ آپائے۔
(انل نریندر)
21 مئی 2021
میڈیا کے دوستوں آپ گھر بیٹھے کورٹ کی کاروائی دیکھیں !
دیش کی بڑی عدالت میں ویڈیو کانفرنس سے ہونے سماعتوں کا لنک اب میڈیا کے لئے سپریم کورٹ کے موبائل ایپ پر دستیاب ہوگا ۔دیش کے چیف جسٹس این وی رمنا نے جمعرات کو اس سہولت کا آغاز کیا ۔چیف جسٹس صاحب نے کہا میرے میڈیا کے دوستوں آپ عدالت آنے کی زحمت نہ اٹھائیں گھر بیٹھے ہی کورٹ کی کاروائی دیکھیں ۔کچھ عدالتوں کے لئے کاروائی کی لائیو اسٹریمنگ پرغور کیا جا رہا ہے بڑے فیصلوں کے اہم نکات کا فیچر بھی سپریم کورٹ کے پورٹل اور ایپ پر جلد دستیاب ہوگا لیکن اسے شروع کرنے سے پہلے ججوں سے رائے لینی ہوگی جب سپریم کورٹ اور میڈیا کے درمیان تال میل کے لئے ایک سینئر افسر کو مقرر کریں گے ۔اطلاعات کے پھیلاو¿ میں میڈیا اہم رول نبھاتا ہے اس لئے میڈیا ملازمین کو تسلیم کرنے کی کاروائی بھی آسان بنانی ہوگی ۔سی جے آئی نے کہا جوڈیشیل کاروائی میں شفافیت وقت اور سمان اصول ہے ۔افتتاحی پروگرام میں جسٹس ڈی وائی چندر چور ، اے ایم خان ولکر اور ہیمن گپتا بھی شامل تھے ۔انہوں نے کہا اس پہل سے شفافیت بڑھے گی۔ لیکن دئیے گئے لنک غیر مجازشخص کے ساتھ شیئر نہیں کی جانی چاہیے ۔جسٹس چندر چور نے کہا لنک تک پہونچ صحافیوں کی حفاظت کو یقینی کرے گی کیوں کہ وہ باقاعدہ طور سے باہری دنیا کے رابطے میں رہتے ہیں جسٹس خان ولکر نے کہا سپریم کورٹ کے ساتھ میڈیا کی اہم وابسطگی ہے ۔میڈیا ایک ضروری خدمت فراہم کرتا ہے ۔
(انل نریندر)
پکچر ابھی باقی ہے دوست ....شو مسٹ گو آن!
پکچر ابھی باقی ہے دوست ....شو مسٹ گو آن،راج کپور کے اسی جملہ کے ساتھ ڈاکٹر کے کے اگروال نے ایک لائیو شو میں بتایا تھا کہ وہ کووڈ پازیٹو ہیں ۔انہوں نے کہا تھا ان کے جیسے لوگ آکسیجن بیڈ پر ہوتے ہوئے بھی کلاس لیں گے ۔اور لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کریں گے ۔انہوں نے ایسا ہی کیا بھی انڈین میڈیکل اسوشیئشن (آئی ایم اے )کے سابق صدر رہے ڈاکٹر کے کے اگروال نے پیر کی شام آخری سانس لی انہیں میڈیکل سیکٹر میں ناقابل فراموش کام کے لئے چوتھے سپرم شہری اعجاز پدم شری سے نوازہ گیا تھا۔ وہ ڈاکٹر بی سی رائے ایوارڈ سے بھی نوازے گئے تھے ۔ہاتھ سے سی پی آر دے کر زندگی بخش تکنیکوں میں زیادہ تر لوگوں کو ٹریننگ دینے کے لئے ڈاکٹر اگروال کا نام لمکا بک آف ریکارڈ میں درج ہوا تھا ۔اپنی موت سے پہلے تک دنیا کو ہیلتھ کے بارے میں بیدار کرتے رہے انہوں نے قریب 25 سو لائیو شو کرکے کورونا کے تئیں لوگوں کو بیدار کیا ۔ان کا علاج خود بیمار ہونے کے بعد بھی انہوں نے کورونا کو لیکر لاکھوں لوگوں کو نئی نئی جانکاری دینا جاری رکھا ۔کورونا کے بارے میں وہ مسلسل اپنے ویڈیو کے ذریعے لوگوں کو جانکاری دینے والے ڈاکٹر کے کے اگروال آخری وقت تک لوگوں کی خدمت کا پیغام دیتے رہے ۔”دی شو مسٹ گو آن “ان کے اس پیغام کا مقصد تھا کہ وبا کے اس مشکل دور میں آپ (ڈاکٹر )جگاڑو او پی ڈی کے ذریعے ایک ساتھ سو سو مریضوں کو فائدہ پہونچا سکتے ہیں کورونا انفکٹ متاثر ہونے کے باوجود خود ڈاکٹر اگروال آخری وقت تک ویڈیو سے لوگوں کو چھوٹی بڑی جانکاری پہوچاتے رہے ۔اپنے آخری ویڈیو میں انہوں نے سبھی ڈاکٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا اب ایک ایک کرکے لوگوں کو او پی ڈی اور رائے دینے کا وقت نہیں رہ گیا ہے بلکہ آپ ایک ہی اثر ات والے سو مریضوں کو ایک ساتھ جگاڑ کرکے او پی ڈی میں بلا کر مشورہ دے سکتے ہیں ۔انہوں نے اپنے آخر ی ویڈیومیں دی شو مسٹ گو آن ڈائیلاگ بولتے ہوئے کہتے ہیں پکچر ابھی باقی ہے ۔میرے جیسے لوگ آکسیجن سپورٹ پر بھی لوگوں کو بچانے کی کوشش کریں گے ۔میں کے کے اگروال بننے سے پہلے ایک ڈاکٹر ہوں ۔اور وہ ٹوئیٹ پر ویڈیو ڈالتے رہے ان کے اسپتال میں بھرتی رہنے کے دوران بھی ان کی ہارٹ کیئر فاو¿نڈیشن آف انڈیا کی ٹیم مسلسل کووڈ 19 پر ویڈیو ڈالتی رہی ۔انہوں نے ہزاروں لوگوں کا علاج کیا ۔ان کے جانے سے میڈیکل سیکٹر کی ایک عظیم شخصیت کا انت ہوگیا ۔بے شک وہ چلے گئے لیکن ان کے ذریعے کئے گئے کام کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا ۔ہم شردھانجلی پیش کرتے ہیں اور اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ اس عظیم شخصیت کو اپنے چرنوں میں جگہ دے ۔
(انل نریندر)
گنگا میں اتنی لاشیںکہ گنتی مشکل !
اتر پردیش میں گنگا کنارے لاشوں کا ملنا جاری ہے ۔پریاگ راج میں اکچھینگ ویل پور دھام کے پاس بڑی تعداد میں لاشیں دفنائی گئی ہیں ۔حالت یہ ہے کہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک صرف لاشیں ہی لاشیں نظر آرہی ہیں ۔یہاں قریب ایک کلو میٹر کی دوری میں دفن لاشوں کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ بھی نہیں ہے ان لاشوں کے کنارے جھنڈے اور ڈنڈے بھی گاڑ دئیے گئے ہیں یہی نہیں کہ لاشوں کے ساتھ آنے والے کپڑوں اور دیگر سامان بھی وہیں چھوڑ دئیے گئے ہیں ایسے میں گنگاکنارے کافی گندگی بڑھ گئی ہے ۔پولیس کا پہرہ بھی بھی کوئی کام نہیں آرہا ہے ۔انتم سنسکار کا سامان بھی بہت مہنگا ہو گیا ہے ۔گھاٹ پر پوجا پارٹ کرانے والے پنڈتوں کا کہنا ہے کہ پہلے رو یہاں آٹھ سے دس ڈیٹ باڈی آتی تھیں لیکن پچھلے ایک مہینہ سے ہر روز 60 سے 70 ڈیٹھ باڈیز آرہی ہیں کسی رو تو ان کی تعداد سو سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے ۔ایک مہینہ میں یہاں چار ہزار سے زیادہ لاشیں آچکی ہیں ۔انتظامیہ کی روک کے باوجود لاشیں فرقہ کے لوگ ہی یا ان کے رستہ دار خوددفنا رہے ہیں ۔گھاٹ پر موجود پنڈت کہتے ہیں شو سمپردائے میں گنگا کنارے لاش دفنانے کی پرانی روایت ہے ۔اسے روکا نہیں جا سکتا ۔ا س سے لوگوں کے مذہبی جذبات پر ٹھینس پہوچے گی ۔دھام پر پروہیت کا کام کرنے والے شیوبرن تیواری بتاتے ہیں کہ عام دنوں میں یہاں آنے والے غریب لوگ ڈیٹ باڈی لیکر آتے ہیں ان کے پاس کھانے کے پیسہ بھی نہیں ہوتے اور وہ داہ سنسکار کا خرچ نہیں اٹھا پاتے اس لئے وہیں دفناتے ہیں جو جگہ ان کے لئے بہتر ہوتی ہے ۔وہ لاشوں کو باقاعدہ داہ سنسکار کرتے ہیں لیکن کورونا نے جب سے تیزی پکڑی ہے تب سے اکیلے شرانگیشور پور دھام میں روزانہ 60 سے 70 لاشیں آرہی ہیں ۔شیوبرن نے آگے بتایا کورونا کے ڈر کے سبب کافی دن تک گھاٹ سے پنڈوں -پروہتوں نے بھی اپنا دیرہ ہٹا لیاہے ۔وہ ڈرے ہوئے تھے کہ ان کو کورونا نہ ہو جائے ایسے میں جو جیسے آیا جہاں جگہ دیکھی وہیں لاشوں کو دفنا دیا ۔کوئی روک ٹوک نہ ہونے کے سبب گنگا گھاٹ کے کنارے جہاں لوگ آکر اسنان یا دھیان کرتے تھے وہاں تک لوگوں نے لاشیں دفنا دی ہیں ۔کورونا انفیکشن کے مریضوں کے انتم سنسکار کے لئے شمشانوں میں جس طرح لوٹ گھسوٹ جاری ہے ۔موٹی رقم لی جارہی ہے اور گھنٹوں قطاروں میں لگنا پڑ رہا ہے ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے دوسری اہم بات یہ ہے کہ جن دنوں میں یہ سب دیکھنے کو مل رہا ہے وہ وبا کی ضد میں بڑھ رہی سرکاریں دعوے کتنے ہی کیوں نہ کرتی رہیں دیہاتی علاقوں میںحالات قابو میں ہیں ۔علاج کے سارے بندوبست ہیں لیکن لاشوں کے ڈھیر کی اصلیت اجاگر کرنے کے لئے کافی ہے اب اس میں زیادہ شبہہ نہیں رہ گیا ہے کہ انفیکشن کی جانچ ،علاج سے لیکر انتم سنسکار تک میں سرکاروں کی لاپرواہی دکھائی دی ۔یہ لاشیں اسی کا نتیجہ ہیں ۔
(انل نریندر)
20 مئی 2021
وزیر اعظم کے پوسٹر پر مچا واویلا!
ٹیکے کی کمی کو لیکر وزیر اعظم نریندر مودی کی تنقید کرتے ہوئے دہلی کے کئی حصوںمیں پوسٹر لگائے جانے کے مسئلے پر ہنگامہ مچ گیا ہے اس معاملے میں دہلی پوس کے ذریعے دو درجن سے زائد افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان اس معاملے کا کریڈٹ لینے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے دہلی پولس نے پوسٹر چسپا کرنے کو لیکر ایف آئی آر درج کی اور متعدد لوگوں کو گرفتار کیا کانگریس نیتا راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس لیڈروں نے ٹویٹر پر اپنی تعارفی تصویر بدل کر یہ سوال کرتا پوسٹر لگا دیا کہ کورونا ٹیکے بیرونی ملک کیوں بھیجے گئے ؟اپوزیشن پارٹیوںنے کہا کہ اگر لوگوں کو ٹیکے اور آکسیجن نہیںملتی تو وزیر اعظم سے تلخ سوال کئے جائیں انہوں نے سرکار کو خبردار کیا کہ وہ ٹیکوں کی برآمد پر سوال اٹھنے پر انہیں بھی گرفتار کر کے دکھائے ادھرعام آدمی پارٹی نے بھی پوسٹر لگائے جانے کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ اس کے کئی ورکروں کو پولس نے گرفتار کیا ہے اور بھاجپا کو پریشان کر رہی ہے پارٹی کے سینئر لیڈر درگیش پاٹھک نے کہا کہ پولس کی کاروائی پارٹی کو روک نہیں پائے گی اور وہ ایک مہم چلا کر پورے شہر اور دیش میں ایسے پوسٹر لگا دے گی انہوں نے بھاجپا سے کہا کہ اس طرح کے سوال پوچھنے پر کسی کو گرفتار نہیں کر سکتے ہیں ہم جمہوری دیش میں رہتے ہیں اگر پھر بھی آپ کو گرفتار کرنے کا شوق ہے تو آپ گرفتار کریں اس درمیان دہلی پولس نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم کی تنقید کرنے والے پوسٹر چسپا کرنے کو لیکر 25ایف آئی آردرج کئے ہیں اور اتنے ہی لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔ ان پوسٹروں پر لکھا ہے مودی جی ہمارے بچوں کی ویکسن بیرونی ملک کیوں بھیج دی عآپ نیتا نے کہا پورے دیش میں لوگ یہی سوال پوچھ رہے ہیں بھاجپا سرکار نے افغانستان ایران اعراق سمیت 94ملکوں کو ٹیکے کیوں بھیجے ان سے بھارت میں ہزاروں کی جان بچائی جا سکتی تھی کانگریس نیتا جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو چنوتی کہ وہ انہیں گرفتار کر کے دکھائے انہوں نے کہا وہ بھی اپنے گھر کی دیوار پر ایسے پوسٹر لگا رہے ہیں وزیر اعظم کی نکتہ چینی کے متعلق سے اب کوئی پوسٹر لگانا جرم ہے ؟ کیا بھارت اب مودی آئی پی سی سے جڑا ہے ؟ کیا وبا کے اس درمیان جنتا پوچھ رہی ہے میرا ٹیکہ کہاں ہے میری آکسیجن کہاں ہے ؟ ہم آپ سے سوال پوچھنا جاری رکھیں گے ۔ کانگریس کے ترجمان پی این کھیڑا نے الزام لگایا کہ سوال پوچھنے پر لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اگر یہ دوا موجو د ہوتی تو زیادہ اموات کو ٹالا جا سکتا تھا اور کووڈ کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ وبا سے نمٹنے میں نہیں بلکہ بد انتظامی کہ وجہ سے مر رہے ہیں سرکار نے ضروری چیزوں کی انسانی طور پر تیار ویکسین کی پیداوار میں کمی اور ہر طرف افرا تفری مچ گئی ہے کانگریس نے الزام لگایا کہ جب بات ٹیکے بنانے والوں سے سودا یا ٹیکہ کہ حکمت عملی لانے کی آئی تو سب کچھ مرکزیت اور شخصیت پر مرکوز تھا۔
(انل نریندر)
گرفتاری کے سات گھنٹے میں ہی ملزم رہا ہوگئے!
مغربی بنگال کے نارد اسٹنگ معاملے میں سی بی آئی نے ترنمول کانگریس کے تین لیڈروں اور ایک سابق لیڈر کو گرفتار کیا تھا یہ وزیر ہیں فرہد حکیم ، سبرت مکھرجی ، ممبر اسمبلی مدن مترا اور سابق لیڈر سوویند چٹرجی شامل ہیں سال 2014میں اس معاملے کے وقت چار و وزیر تھے ان گرفتاریوں کے فوراًبعد صبح11بجے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کولکتہ میں قائم سی بی آئی کے دفتر پہونچی اور وہاں پانچ بجے تک دھرنا دیا انہوں نے سی بی آئی حکام کو کہا کہ میری پارٹی کے نیتاو¿ں کو رہا کریں یا مجھے گرفتار کر لیں ۔ ترنمول لیڈر بھوپریا بھٹا چاریہ نے ان گرفتاریوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جب کہ ترنمول کانگریس کے سینکڑوں ورکروں نے کلکتہ میں سی بی آئی کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا اور سیکورٹی فورس پر اینٹ پتھرر پھینکے ہگلی ، نارتھ چوبیس پرگنہ اور ساو¿تھ چوبیس پرگنہ میں بھی ورکروں نے مظاہر ہ کیا اس درمیان چاروں ملزمان کو سی بی آئی کورٹ میں پیش کیا گیا سی بی آئی نے ملزمان کو جو ڈیشل حراست میں دینے کی مانگ کی تھی لیکن جج انوپم مکھرجی نے چاروں کو ضمانت دے دی اور گرفتار ی کے سات گھنٹے میں ہی ملزم رہا ہوگئے اس درمیان چارو ملزمان کے گھر والے جیل کے باہر موجود تھے فرہد حکیم نے سی بی آئی دفتر کے باہر کہا کہ مجھے عدلیہ پر پورا یقین ہے اور بی جے پی مجھے پریشان کرنے کیلئے کسی کو بھی کام پر لگا سکتی ہے وبا کے دوران لوگوں کی مدد کرنے کا وہ کام نہیں کر پائے حکیم نے کہا کہ ہم لوگو برے لوگ ہیں ، مگر مکل رائے اور شوبھندو ادھیکاری نہیں ۔ غور طلب ہے کہ مکل رائے اور شبھندو ادھیکاری بھی ناردا اسٹنگ آپریشن میں ملز م ہیں مگر انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے یہ دونوں لیڈر اسٹنگ آپریش کے دوران ترنمول کانگریس لیڈر کے ممبر تھے لیکن بعد میں وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے نندی گرام میں ممتا بنرجی کو مات دینے والے شبھندو ادھیکاری نئی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں جبکہ مکل رائے ممبر اسمبلی ہیں وہاں گرفتار کئے گئے ایک اور وزیر سبت چٹرجی نے سی بی آئی دفتر کے باہر کہ ہم ڈاکو نہیں ہیں میں نے ایسا کوئی غلط کام نہیں کیا ہے ۔ سی بی آئی میرے بیڈ روم میں آکر مجھے گرفتار کرے اور نارد اسٹنگ آپریشن نارد نیوز پورٹل کے جنرلسٹ میتھو نے 2014میں یہ اسٹنگ آپریشن کیا تھا جس میں مبینہ طور پر ٹی ایم سی وزیر ایم پی اور ممبر اسمبلی کیمرے پر خیالی کمپنیوں کو مدد پہونچانے کیلئے مدد دیتے گئے تھے مغربی بنگال میں اسمبلی چناو¿ کے نتیجے آنے کے پندرہ دن بعد ہوئی گرفتاریوں کو لیکر سوال بھی اٹھ رہے ہیں اور ترنمول کانگریس اسے سیاسی بدلے کی کاروائی بتا رہی ہے بھارتی جنتا پارٹی نے اسمبلی چناو¿ میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا تھا اس کے باوجود ممتا بنرجی زبردست اکثریت کے ساتھ تیسری مرتبہ اقتدار میں لوٹیں گرفتارہوئے نیتا مدن مترا نے کہا مرکزی سرکار اور خاص طور سے دونوں نیتا (مودی شاہ)بنگال کے لوگوں دیئے فیصلے کو قبول نہیں کر پار رہے ہیں ، کھیل پھر شروع ہوگیا ہے۔
(انل نریندر)
19 مئی 2021
انل دیش مکھ پر منی لانڈرنگ کا کیس!
محکمہ انفورس مینٹ (ای ڈی )نے مبینہ رشوت کے معاملے میں مہاراشٹر کے سابق وزیر اداخلہ انل دیش مکھ کے خلاف پیسہ کمانے روک تھام قانون کے تحت ایک فوجداری کا مقدمہ درج کیا ہے سرکاری ذرائع نے منگل کو اس بارے میں بتایا کہ دیش مکھ کے خلاف سی بی آئی کے ذریعے پچھلے مہینے درج کی گئی ایف آئی آر کا جائزہ لینے کے بعد پیسہ کمانے روک تھام قانون (پی ایم ایل اے )کی دفعات کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے اب ای ڈی دیش مکھ اور دیگر لوگوں کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کر سکتی ہے بمبئی ہائی کورٹ کے حکم پر باقاعدہ معاملہ درج کر سی بی آئی کے ذریعے کی گئی ابتدائی جانچ کے بعد ای ڈی نے مقدمہ درج کیا ہے بمبئی ہائی کورٹ نے ممبئی پولس کے سابق کمشنر پرم ویر سنگھ کے ذریعے دیش مکھ کے خلاف عائد رشوت کے الزامات کی جانچ کرنے کوکہا تھا ۔ ایجنسی جانچ کرے گی کہ مہاراشٹر پولس ملازمین کے تبادلے اور پوسٹنگ کے نام پر کیا ناجائز دھن اکٹھا کیا گیا اور کیا پولس ملازمین نے ناجائز وصولی کی تھی جیسا کی پرم ویر سنگھ اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا ایجنسی کے پاس چھان بین کے دوران ملزمان کی پراپرٹی کرنے کو ضبط کرنے کا حق دے اور ا س کے بعد مقدمے میں پی ایم ایل اے عدالت کے سامنے چارج سیٹ داخل کرے گی صنعت کار مکیش انبانی کے گھر کے باہر ملی مشتبہ کار کے معاملے میں چھان بین کے دوران پولس ملازم سچن واجے کا رول سامنے آنے کے بعد سچن واجے کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ پولس کمشنر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پرم ویر سنگھ نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ایک خط میں کہا تھا کہ دیش مکھ نے واجے کو ممبئی سے بار اور ریستوراں سے سو کروڑ روپئے مبینہ طور سے اصولی کیلئے کہا تھا ۔ ایسے کم دیکھنے کو ملا ہے کہ کسی بھی ریاست کے وزیر داخلہ اتنے سنگین الزام لگے ہوں دیکھیں جب ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو اس میں کیا کیا کہا جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
دہلی سرکار یتیم بچوں اور بے سہارہ بزرگوں کو سہارہ بنے گی!
اس کورونا وبا کے قہر سے درجنوں بچے یتیم ہوگئے ہیں ان کے ماں باپ دونوں ہی کورونا کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کی پرورش کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے ان کی دیکھ بھال کون کرے گا کچھ کی تو قریبی رشتے داروں نے ذمہ داری لے لی ہے لیکن درجنوں بچوں کے مستقبل کو لے کر مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے دہلی کے کیجریوال سرکار نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کووڈ سے یتیم ہوئے بچوں کی تعلیم اور زندگی کے گزر بشر کا خرچ اٹھائے گی جس طرح سے خبریں آرہی ہے ان سے یہی اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے بچوں کی تعداد کافی ہے کسی بھی حساس حکومت اور سماج کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے بچوں کو مالی دشواری اور عدم تحفظ سے بچائے اگردہلی سرکار ایسا کرتی ہے تو وہ اپنی مکمل ذمہ داری نبھائے گی ا س کا اعلان وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کئی بچے جن کے ماں باپ دونوں ہی چل بسے ہیں اس لئے ان بچوں کی پڑھائی اور پرور ش کا سارا خرچ دہلی سرکار برداشت کرے گی اس کے علاوہ جن بزرگوں نے اپنے گھر کے لڑکوں کو کھو دیا ہے دہلی سرکار ان کا بھی خیال رکھے گی ۔ انہوں نے ایسے بچوں اور بزرگوں کو ان کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے اپنا پیار اور ہمدردی جتانے کی اپیل کی ہے ہم ایسے خاندانوں کی مالی مدد کریں گے لیکن ایسے بچوں کو اور بزرگوں کو پیار اور ہمدردی کی ضرورت ہے انہوں نے سبھی پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے درخواست کی ہے ان کا خیال رکھنا ایسے کنبوں پر بہت بڑی مصیبت آگئی ہے ۔ دہلی میں دو کروڑ لوگ ہم سب ایک پریوار ہیں اس دکھ کی گھڑی میں ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے کیجریوال نے کہا کہ ہم سبھی کے لئے پچھلے کچھ دن بہت تکلیف دہ گزرے ہیں سبھی کوششوں کے باوجود ہم اپنے کئی دہلی شہریوں کو بچا نہیں پائے اور کئی خاندانوں میں تو ایک سے زیادہ موت ہوئی ہے میں بھگوان سے پرارتھنا کرتا ہے کہ ان سبھی آتماو¿ں کو شانتی دے میں ایسے کئی بچوں کو جانتا ہوں جن کے دونوں ماں باپ چل بسے ہیں میں ایسے بچوں کو کہنا چاہتا ہوں ، میں ان کے دکھ کو سمجھتا ہوں لیکن بچوں آپ چنتا مت کرنا اپنے آپ کو یتیم مت سمجھنا ۔ میں ہوں نا ہم کسی بھی بچے کی پڑھائی بیچ میں نہیں چھوٹنے دیں گے ۔ ایسے کئی بزرگ ہیں جن کے جوان بچے تھے وہ کماتے تھے تب ان کا گھر چلتا ہے اب وہ نہیں رہے میں ایسے سبھی بزرگوں کو کہنا چاہتا ہے آپ کے بچے چلے گئے چنتا مت کرنا ابھی آپ کا یہ بیٹا زندہ ہے ہم کیجریوال اور ان کی سرکار کو اس قدم کے لئے بدھائی دینا چاہتے ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ دیگر ریاستیں بھی اپنی سطح پر ایسی عوامی بھلائی کی اسکیموں پر کام کریں ایسی اسکیمیں سرکاروں کو ان کی مشینری کے اختیار ات کو اور اکمزوریوں کو پہچاننے اور بہتر بنانے میں مدد کرسکتے ہیں کووڈ 19میں ہمیں جتا دیا ہے آخر کار یہی کام آتا ہے کہ کسی ریاست میں پبلک سیوائیں کتنی چست ہیں بہت امیر ریاست نے بھی اگر سرکاری سسٹم چست درست نہیں ہے تووہ کسی بھی مشکل کا سامنا نہیں کر سکتی ۔ کووڈ بحران نے خاندانوں کو تانہ بانہ توڑ کر رکھ دیا ہے کئی خاندانوں کو نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنی ہوگی سرکار اور سماج کو ان مشکل گھڑی میں پورہ پورہ اشتراک کرنا چاہئے ۔
(انل نریندر)
اسرائیل -حماس جنگ فوراً رکنا چاہئے !
پچھلے قریب ساتھ آٹھ دنوں سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سبھی چھڑی خطرناک لڑائی بڑھتی ہی جا رہی ہے اسرائیلی فوج نے کہا اس نے غزہ میں حماس کے ایک سینئر لیڈر کے گھر پر حملہ کیا ہے غزہ سے اسرائیل میں ہوائی حملے اور راکیٹ داغنے کے قریب ایک ہفتے بعد یہ حملہ کیا گیا ان ہوائی حملوں میں 42سے زیادہ لوگوں کی موت ہونے کی خبر ملی ہے ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ان کے علاوہ پچاس لوگ زخمی ہوئے ہیں پچھلے ایک ہفتے میں یہ اسرائیل کا غزہ پر سب سے بڑا حملہ ہے اسرائیل نے دو تین دن میں تیسری مرتبہ حماس کے کسی بڑے لیڈر کے گھر پر بمباری کی اس کے علاوہ پناہ گزیں کیمپ اور کثیر منزلہ عمارت کو تباہ کردیا ۔ جواب میں حماس نے بھی اسرائیل پر راکیٹ حملے جا ری رکھے پچھلے ایک ہفتے میں غزہ میں 188فلسطینی مارے گئے ہیں جبکہ 1230فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اسرائیل میں دس لوگوں کی موت ہوئی ہے غزہ کی طرف سے اسرائیل پر ایک ہفتے میں 2500راکیٹ داغے گئے ہیں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونی گٹریس اس اسرائیلی حملے سے بے حد پریشان ہیں جس میں غزہ شہر میں ایک اونچی عمارت تباہ ہوگئی اس میں کئی بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر اور رہائشی مقام تھے اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن وزارک نے کہا سکریٹی جنرل زخمی عام آدمیوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اس سے بہت مایوس ہیں انہوں نے سبھی فریقین کو یاد دلایا ہے غیر فوجی شہریوں اور میڈیا اداروں کو ادادھند نشانہ بنایا گیا جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ہر قیمت پر اسے روکنا چاہئے اگر اس جنگ کو فوراً نہیں روکا گیا تو مغربی ایشای کا پورہ علاقہ مکمل جنگ کی زد میں آسکتا ہے مغریب ایشیا میں امریکہ کا اہم ترین رول رہا ہے لیکن موجودہ لڑائی کے دوران وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں حالانکہ جنگ کی شروعات میں امریکی صدر نے یہ کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنی سر زمین کو حفاظت کر نے کا پورہ حق ہے بائیڈن کی ڈیمو کریٹ پارٹی کے ترقی پسند نظریہ رکھنے والے لیڈروں نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ہے ۔ سماج کے کچھ طبقوں میں بلیک لائینس مینٹ کی طرز پر فلسطین لائیو میٹر کی شروعات کی گئی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ ، امریکہ پارلیمنٹ اور مین اسٹریم میڈیا اور عالمی اداروں پر یہودیوں کی بالا دستی ہے اس دباو¿ کے سبب کوئی بھی امریکی صدر اسرائیل کے خلاف سخت پالیسی اپنانے کا خطرہ مول نہیں لے پاتا بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس جنگ میں مداخلت کرے اور اس نئی جنگ کو ختم کرانے کی کوشش کرے نہیں تو یہ جنگ پورے وسطی مشرق میں پھیل سکتی ہے ۔
(انل نریندر)
18 مئی 2021
مختار کا کوئی بدمعاش زندہ نہیں رہے گا !
چتر کوٹ جیل میں ہوئی گینگ وار کسی فلمی کہانی سے کم نہیں ہے انشول دکشت اور سمت دکشت نے مقیم کالاکے بیرک میں گھستے ہی فرقہ خاص کے بدمعاش کے زندہ رہنے کی بات کہتے ہوئے اسے گولیوں سے بھون دیا ۔اس سے پہلے انشو نے پریڈ کے دوران مقیم کو یہ کہتے ہوئے گولیوں سے بھون ڈالا کہ مختار کا خاص کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ۔کچھ دیر بعد انشو انکاو¿نٹر میں پولیس کی گولیوں سے مارا جاتا ہے ۔دراصل صبح قریب 10 بجے انشو بیرک سے نکلتا ہے وہاں تعینات سکورٹی ملازمین سے اس نے کہا کہ وہ پی سی او جا رہا ہے کسی کو فون کرنا ہے ۔تب کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے ۔اس وقت اس کے پاس پسٹل تھی ایک بڑے پولیس افسر نے بتایا میروز کو دیکھتے ہی انشو نے اس پر پسٹل تان دی ۔اس نے کہا کہ تم لوگوں نے بہت دہشت مچا ئی ہے ۔اب مختار انصاری کا کھیل ختم ہو چکاہے اس کا کوئی بھی گرگا زندہ نہیں رہے گا۔تب تک میروز کچھ سمجھ پاتا انشول نے اس پر گولیاں داغ دیں ۔گولیوں کی آواز سے وہاں بھگ دڑ مچ گئی کچھ ہی سکنڈ بعد وہ عارضی بیرک میں پہونچا جہاں پر مقیم کالا کو پکڑ لیا اس سے کہا کہ تمہارا انتظار تھا ۔مختار کا کوئی بدمعاش زندہ نہیں رہے گا کھیل ختم فوراً مقیم کو بھی گولیوں سے بھون دیا ۔مقیم کالا سمیت سات مئی کو ہی چترکوٹ جیل میں منتقل کیا گیا تھا ۔کورونا پروٹوکول کے مطابق وہ عارضی جیل میں کوارنٹائن تھا ۔کوارنٹائن کا وقت پورا ہونے کے بعد اس کو بھی ہائی سکورٹی بیرک میں شفٹ کیا جانا تھا ۔سوال یہ ہے کہ جیل میں ایک بدمعاش کے پاس اتنا خطرناک ہتھیار کیسے پہونچ گیا کہ وہ جیل انتظامیہ کے قرضہ میں نہیں آرہا تھا چونکہ انشو دکشت اس جیل میں پہلے ہی سے تھا ۔، ایسے میں مانا جا سکتاہے کہ جیل کے حکام کی ملی بھگت سے اس کے پاس ہتھیار پہونچے کیسے ہوں گے ۔یہ واردات بدمعاش سرغنہ سے سیاست داں بنے مختار انصاری کے گرگوں کے درمیان بالا دستی کی لڑائی لگتی ہے ۔انشول دکشت مختار انصاری کا شارپ شوٹر تھا تو مہروز مشرقی اتر پردیش میں مختار کا معاون تھا ۔جس کا انشول کے ساتھ جھگڑا تھا ۔جبکہ وہ دو لاکھ کا انعامی بدمعاش تھا ۔مقیم کالا مغربی اتر پردیش میں دہشت کی علامت تھا جس کے خوف سے تاجروں کی ہجرت شروع ہوئی تھی ۔غور طلب ہے کہ مختار انصاری کے گرگوں کے کیرانہ جیل میں خونی جھڑپ ہوئی تھی جب اترپردیش سرکار کی کوششوں کے بعد مختار کو پچھلے مہینہ ہی پنجاب سے لاکر صوبہ کی باندا جیل میں میں رکھا گیا ،جبکہ اس کے رشتہ دار اتر پردیش کی جیل میں اس کے مارے جانے کا اندیشہ جتا چکے ہیں ۔یہ اندیشہ بے بنیاد نہیں ہے ۔جولائی 2018 میںمافیہ منا بجرنگی کی باگپت ضلع جیل میں ہتھیا کر دی گئی تھی ، تو شاطر بدمعاش سرغنہ وکاس دوبے کو پچھلے سال اجین سے اتر پردیش لاتے ہوئے مڈبھیڑ میں مار گرایا تھا اس طرح کے واقعات گڈ انتظامیہ کے نام پر دھبہ ہے ، جن پر لگام لگانا انتہائی ضروری ہے ۔
(انل نریندر)
کورونا میں ہر ایک کی کوشش معنی رکھتی ہے !
مہا نایک امیتابھ بچن نے عطیہ کے لئے آکسیجن ، اور دوسرے سامان اور وینٹی لیٹر کی مشکل کاروائیوں کو جمعہ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے خلاف جنگ میں ہر ایک شخص کی کوشش معنی رکھتی ہے ۔امیتابھ نے کورونا دور میں اپنے ذریعے مفاد عامہ کے کاموں کی تفصیل پیش کی ہے ۔سنیچر کو بھی دہلی سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسہ نے شری گوروتیغ بہادر کووڈ کیئر فیسلٹی کو امیتابھ کے ذریعے دو کروڑ روپے کا عطیہ دئیے جانے کی جانکاری دی تھی ۔بگ بی نے اپنے بلاگ میں لکھا ، ہاں میں چیئرٹی کرتا ہوں اور ہمیشہ بولنے کی جگہ کام کرنے میں یقین رکھتا ہوں ہر روز گالیوں اور توہین آمیز تبصروں کا دباو¿ رہتا ہے ۔اپنے مفاد عامہ کے کاموں کی تفصیل دیتے ہوئے لکھا ، آندھرا پردیش ،مہاراشٹر اور یوپی میں کسانوں کی بڑھتی خودکشیوں کے معاملے کے پیش نظر انہیں خودکشی سے روکنے کیلئے 1500 سے زیادہ کسانوں کے قرض ادا کئے ۔متعلقہ بینکوں میں ان کی پہچان کرکے کسانوں کا جلسہ (امتابھ کا گھر )میں بلایا گیا ۔اور بیٹھے نمائندوں کی موجودگی میں قرض سے آزادی کا سرٹیفکٹ بھی سونپا گیا ۔پلوامہ حملے میں شہید جوانوں کے رشتہ داروں کو جنک میں مدد کی گئی ۔پچھلے سال وبا کے دوران دیش کے قریب 4 لاکھ دیہاڑی مزدوروں کو ایک ہفتہ تک کھانا دیا گیا ۔شخصی فنڈ سے ہزاروں فرنٹ لائن ملازمین کی پی پی ای کٹ اور ماسک مہیا کرایا ۔شخصی انفرادی خرچ پر 2800 پرواسی مسافروں کو ممبئی سے اتر پردیش جانے کی پوری ٹرین بک کرائی گئی ۔ٹرینیں رکنے پر تین چارٹرڈ جہازوں سے 180 پرواسی مسافروں کو اترپردیش ،بہار ، راجستھان و جموں کشمیر پہونچایا گیا ۔دہلی میں بنگلہ صاحب گورودواروں میں ڈایگونوسٹک سینٹر کھلوایا ۔جس میں ان کے نانا ،نانی اور ماں کے نام سے ایم آر آئی مشینیں ، سونوگرامی ،سٹی اسکین جیسے کئی ساز و سامان مہیا کرائے گئے ۔سنیچر کو دہلی میں 250-450 بیڈ کا کورونا کیئر سینٹر قائم کیا گیا ۔بی ایم سی کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے بیس وینٹی لیٹر کی خرید کے آرڈر دئیے گئے ۔جوہو (ممبئی )کے اسکول میں 25 بیڈ کا کیئر سینٹر قائم کیا گیا ۔نانا وٹی ہسپتال میں تین مشینیں دان میں دی گئیں ۔جھوپڑ پٹی میں رہنے والے 1 ہزار غریبوں کو کھانا پہونچایا گیا ۔2 یتیم بچوں کو گود لیا گیا ہے ۔
(انل نریندر)
پرواسی مزدوروں کو مفت سوکھا راشن دیں!
کورونا دور میں مختلف ریاستوں میں لاک ڈاو¿ن کے سبب پرواسی مزدور پھر بے روزگاری اور کھانے کی مشکلات سے دوچار ہیں ۔ان کی ہجرت پر نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکزی حکومت پر گہری ناراضگی جتائی ہے ۔عدالت نے کہا کہ پچھلے سال پراسی مزدوروں کی مدد کیلئے بڑی عدالت نے کئی احکامات دئیے لیکن ان پر تعمیل نہیں ہو پائی ۔ساتھ مرکزی اور دہلی ، ہریانہ اور یوپی حکومتوں کو حکم دیا کہ این سی آر (قومی راجدھانی خطہ )میں پھنسے مزدوروں کو سوکھا راشن دستیاب کرایا جائے ساتھ ہی ان کے لئے کمیونٹی رسوئی شروع کرنے پر بھی غور کریں اس کے لئے مزدوروں سے کوئی شناختی کارڈ بھی نہ مانگا جائے ۔جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے کہا کہ جو مزدور گھر واپس لوٹنا چاہیں ، انتظامیہ ان کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرے ۔جسٹس شاہ نے پوچھا کہ پچھلے سال کے حکم پر کیا ہوا ؟ جو مزدور لوٹنا چاہتے تھے یا جا چکے ہیں ان کی تفصیل کہاں ہے ؟ جو نہیں گئے ،ہم اس پر غور کریں گے سالی شیٹر جنرل تشار مہتا :ہم وبا سے لڑرہے ہیں ،ہمیں وبا سے لڑنے دیں ۔پچھلی بار سب بند تھا ۔اس مرتبہ صنعتی یونٹیں اور تعمیراتی کام چل رہے ہیں دو تین کو چھوڑ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ سبھی ریاستیں غیر ذمہ دار ہیں ۔جسٹس بھوشن : این سی آر میں مزدوروں سے چار پانچ گنا کرایہ وصولنے کی باتیں آرہی ہیں ۔مہتا : ہماری اسکیم ہجرت کو بڑھاوا دینے کو نہیں ہے ۔جسٹس شاہ : مزدوروں کی ذہنیت اور خدشات الگ ہوتے ہیں ۔مہتا : یہ عرضی زمینی حالات پر نہیں بلکہ ڈائنگ شکل میں بیٹھ کر بنے ہیں جسٹس شاہ : آپ یہ جانکاری ریکارڈ پر رکھیں کہ پچھلے سال کے حکم پر کیا کیا کیا؟ پرشانت بھوشن پچھلی بار مرکز نے کہا کہ مزدور سڑک پر نہیں ہیں ۔اب کہہ رہے ہیں کہ مزدور فری ٹرین کے چکر میں کام چھوڑ دیں گے ۔جسٹس بھوشن : ہم کسی کو فری جانے کا حکم نہیں دینے جار ہے ہیں مہتا : ریاستوں کو جواب دائر کرنے دیں حالات صاف ہو جائیں گے ۔آکسیجن ، اسپتالوں کے انتظام یا بد انتظامی سے گھری ریاستی حکومتوں کے سوائے کورونا سے لڑنے کے علاوہ کچھ اور نہیں دکھائی دے رہا ہے لیکن دوسرے مسئلے برابر بنے ہوئے ہیں تکلیف دہ یہ ہے کہ جو مسائل گزشتہ برس دیکھے گئے تھے لیکن ویسے ہی مسائل پرواسی مزدوروں کے اس سال بھی دیکھے جار ہے ہیں اچانک لاک ڈاو¿ن کے اعلان پھر پرواسی مزدوروں میں بھک دڑ ، اپنے گاو¿ن جانے کی جلدبازی اس سے یہی ثابت ہو تا ہے کہ پرواسی مزدوروں کویقین نہیں ہو پا رہا ہے ۔کہ ٹھپ کاروبار یا تو بند صنعتوں کے دور میں ان کو کھانے کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے ؟ مکان مالک کو کرایہ کیسے دیں گے ؟ یا تمام ریاستی سرکاروں کی طرف سے کچھ انہیں کچھ کم از کم مدد بھی ملے گی یا نہیں ؟ مسئلہ لمبا کچھ رہا ہے ، اس کے لئے ایک یقینی پالیسی بھی ضروری ہوتی ہے صرف فوری اقدامات سے بات نہیں بنے گی ۔
(انل نریندر)
16 مئی 2021
فنگس انفیکشن کا بڑھتا خطرہ !
دہلی میں کورونا کے معاملات میں کچھ راحت ملی کہ اب کوویڈ میں مبتلا مریضوں میں میکورامائکوپسس نامی کوکیی بیماری کے معاملات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ معاملات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن پچھلے 10 سے 12 دن میں آنے والے معاملات حیرت زدہ ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد میں سرگنگارام اسپتال میں دیکھا جاتا ہے۔ گنگارام اسپتال کے علاوہ کچھ دوسرے اسپتالوں میں بھی کیس سامنے آرہے ہیں۔ گنگارام ہسپتال کے ای این ٹی شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر اجے سویپ نے بتایا کہ ایسے معاملات ایسے لوگوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں جن کی استثنیٰ بہت کمزور ہے ، کوویڈ ، ذیابیطس ، ایچ آئی وی ، کینسر یا کسی بھی دیگر سنگین بیماری کے شکار مریضوں کے علاج میں زیادہ اسٹیرائڈز دیئے جاتے ہیں۔ . اس سے قبل اس فنگل ای فیکٹر کے معاملات موجود تھے ، لیکن وہ شاذ و نادر ہی تھا۔ ہر روز پچھلے 10 دنوں میں 12 سے 15 مریض آ رہے ہیں ، جو اس حرکت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان میں سے 50 فیصد ایسے معاملات ہیں جو ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ انفیکشن اتنا خطرناک ہے کہ وہ آنکھوں کی روشنی کا سبب بن سکتا ہے ، جبڑے کو ہٹانا پڑسکتا ہے اور اگر یہ دماغ تک پہنچ جاتا ہے تو وہ شخص دم توڑ جاتا ہے۔ ڈاکٹر شکل کہتے ہیں کہ پچھلے سال دسمبر میں ایک ہفتہ میں 10 سے 15 کیس رپورٹ ہوئے تھے ، لیکن اس بار ایک دن میں 12 سے 15 کیس آ رہے ہیں۔ یہ ایک انفکشن ہے جو پودوں ، جانوروں اور ہوا میں موجود ہے۔ اگر اس شخص کا بروقت علاج ہوجائے تو وہ زندہ رہ سکتا ہے اور اگر علاج میں تاخیر ہوتی ہے تو موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ فی الحال ، دیگر ریاستوں سے معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ لہذا ، کرونا کے ساتھ ساتھ اس پر بھی دھیان دینا ضروری ہے۔
(انل نریندر)
جان لیوا ہوسکتا ہے کالرا کا کنسٹریٹر
آکسیجن کونسیٹرٹر کی بلیک مارکیٹنگ کے معاملے میں مفرور رہنے والے نونیت کالرا کا ایک اور کالا عمل سامنے آگیا ہے۔ لوگوں سے قیمت وصول کرنے کے بعد ، ٹھیکیدار کالرا کا معیار لوگوں کو فروخت ہورہا تھا کہ وہ کسی کی جان بچانے کے بجائے مہلک ہوسکتا ہے۔ دہلی پولیس نے کالرا کے کنسریٹر کی لیب میں ٹیسٹ لیا ، پھر خراب معیار کی تصدیق ہوگئی۔ چین میں مقیم یہ متمرکز صرف 38 فیصد آکسیجن دے رہے ہیں ، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے معیارات کے مطابق ، آکسیجن حراستی میں کم از کم 82 فیصد آکسیجن ملنی چاہئے۔ اس کیس میں گرفتار پانچ ملزمان سے پوچھ گچھ اور ان کے موبائلوں کی جانچ پڑتال سے پتہ چلتا ہے کہ تقریبا a سو افراد کو معیاری ذیلی ٹھیکیداروں کے لئے فروخت کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کالرا کی جانب سے فروخت کیے گئے کونسیٹرٹر کے استعمال سے مریض کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ تاہم ابھی تک اس طرح کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔ اگر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع مرتکب ہونے کی وجہ سے کی جائے گی تو پھر کالرا کے خلاف غفلت کے سبب موت سے متعلق سیکشن بھی شامل کیا جائے گا۔ کالرا نے دسمبر میں ہی میٹروکسی سیلولر کمپنی کے ذریعے چین سے ہزاروں ٹھیکیداروں کو مدعو کیا تھا۔ ان میں سے دو مرتکز تھے ، ایک میں سے سات اور دوسرا نو لیٹر کی گنجائش کا۔ ان کی قیمت 12،500 سے 20 ہزار روپے تھی ، لیکن کالرا انہیں تین سے چار گنا زیادہ قیمت پر فروخت کرتا تھا۔ کالرا کے واٹس ایپ پر ، صارفین نے ٹھیکیدار کے بارے میں بھی شکایت کی تھی اور اسے بتایا تھا کہ ٹھیکیدار کام نہیں کررہا ہے ، لہذا پیسے واپس کردیں ، لیکن وہ ایسا نہیں کیا۔ جب شکایت کنندہ کی شکایت کرنے والی پولیس کی نجی لیب میں تحقیقات کی گئیں تو پتہ چلا کہ اس کی کوالٹی خراب ہے۔
(انل نریندر)
کالرٹیون کا کیا فائدہ ہے جب ویکسین ہی نہیں
جب کوئی ویکسین موجود نہیں ہے تو یہ ویکسین کس کو ملے گی؟ ایسا نہیں ہے کہ آپ کالر کی دھن تیار کریں اور پھر اسے 10 سال تک چلاتے رہیں۔ آپ کو صورتحال کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ نے یہ سوال اٹھایا ، مرکز کے وکیل کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس ریکھا پیلی کے بینچ کی ویکسین نہ ہونے کے بارے میں تبصرے اس وقت سامنے آئے جب وہ کرونا کے خوف زدہ عوام میں شعور بیدار کرنے کے طریقوں کے معاملے پر سماعت کررہے تھے۔ دریں اثنا ، دہلی حکومت کے سینئر ایڈوکیٹ راہول مہرہ نے کہا کہ جو بھی لہر آئے گی ، اس کا سب سے زیادہ اثر بچوں اور نوجوانوں پر پڑنے کی امید ہے۔ کیونکہ اب وہ بھی ہیں جن کو ویکسین نہیں لگائی گئی ہے۔ مہرہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم سب کو ویکسین پلائی جا. گی۔ ابھی تک یہ کرونا سے فرار ہونے کا واحد راستہ ہے۔ جسٹس سانگھی نے مرکز کے وکیل پر سوال اٹھایا۔ اس کا آغاز بچوں کے لئے کورونا روک تھام کی ویکسین تیار کرنے کی کوششوں سے ہوا۔ اسی جواب پر عدالت نے جواب دیا۔ بنچ نے کہا ، "جب لوگ کال کرتے ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ آپ کتنے عرصے سے پریشان کن پیغام دے رہے ہیں کہ جب آپ (مرکزی حکومت) کے پاس کافی ویکسین نہیں ہیں ۔ تو لوگوں کو قطرے پلانے چاہئیں۔" انہوں نے کہا ، "آپ لوگوں کو ٹیکہ نہیں لگا رہے ہیں ، لیکن آپ ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ پولیو سے بچاو¿۔" جب کوئی ویکسین نہیں ہے تو یہ ویکسین کس کو ملتی ہے۔ اس پیغام کا کیا مطلب ہے؟ عدالت نے تجویز پیش کی کہ ایسی ویڈیو کلپس ، کال کرنے والے اشارے وغیرہ تیار کیے جائیں جن کے ذریعہ عوام تک زبان میں یہ معلومات پہنچائی جائیں۔ اس کے ل TV ، ٹی وی اینکر معروف ڈاکٹروں جیسے گلیریا ، تریہن ، فلمی اداکاروں وغیرہ سے مدد لے سکتے ہیں۔ دہلی حکومت کے وکیل نے امیتابھ بچن کا نام لیا۔ حکومت نے ان تجاویز کو متعلقہ وزارتوں تک پہنچانے کے لئے وقت مانگا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...