Translater

12 اگست 2017

مری پڑی کانگریس کو پٹیل کی جیت سے سنجیونی

منگلوار کی دیررات تک چلے ہائی وولٹیج ڈرامے میں آخرکار راجیہ سبھا چناؤ میں کانگریس کے چانکیہ احمد پٹیل کو جس انداز میں جیت ملی ،جہاں ایک طرف خود ان کے سیاسی وجود کیلئے بیحد اہم بن گیا تھا وہیں دوسری طرف اس کا اثر کہیں نہ کہیں پوری کانگریس پارٹی پر بھی پڑے گا۔ ایسے میں احمد پٹیل نے آخری موقعہ تک اپنی جیت کیلئے جدوجہد میں پارٹی کیلئے سنجیونی کا کام کیا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں یہ پہلا موقعہ ہے جب آمنے سامنے کی سیاسی جنگ میں مودی۔ شاہ کی جوڑی کی گوٹیوں کو کانگریس نے مات دے دی۔ اس جیت کے بعد کانگریس پارٹی میں اس سال ہونے جارہے گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی چناؤ کو لیکر نئے سرے سے جوش پیدا ہونا فطری بات ہے۔ بھاجپا نے اس چناؤ کے سیاسی ماحول کو اتنا بڑھا دیا تھا کہ راجیہ سبھا کا یہ چناؤ عام نہیں رہا۔ بھاجپا کے چانکیہ امت شاہ نے کانگریس صدر کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو نشانہ بنا کر گجرات اور ہماچل میں اپوزیشن کے حوصلہ کو تو ڑنے کی پلاننگ بنائی تھی وہ داؤ بھاجپا کو الٹا ہی پڑ گیا۔ نتیجہ آنے کے بعد پٹیل نے کہا اب اگلا مقصد گجرات اسمبلی چناؤ کا ہے۔ گجرات میں کانگریس انچارج اشوک گہلوت کے مطابق اس جیت نے 2017ء کے اسمبلی چناؤ کیلئے جوش پیدا کردیا ہے۔ ہم بلاگ سطح پر نئے سرے سے رابطہ کمپین شروع کرنے جارہے ہیں۔ جہاں آنے والے وقت میں گجرات کی سیاست میں احمد پٹیل کا قد اور بڑھے گا، ساکھ بھی بڑھے گی وہیں کانگریس کے اندر ان کے حریفوں کا حوصلہ گرے گا۔ قابل ذکر ہے کہ پارٹی میں ایک گروپ ایسا بتایا جاتا ہے جو احمد پٹیل کی اہمیت سے اتنا خوش نہیں ہے اور انہیں لگاتار حاشیئے پر دھکیلنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ ایسے میں اپنے بوتے پر اپنی راجیہ سبھا سیٹ نکال کر انہوں نے اپنے ان حریفوں کو بھی زور دار جواب دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کا قد پارٹی میں اور مضبوط ہوگا۔ ساتھ ہی تنظیم میں تبدیلی کے نام پر وہ اور ان جیسے سینئر لیڈروں کو کنارے کرنے کی کوشش جو یوتھ لیڈرکررہے تھے اس پر بھی لگام لگے گی۔ اگر کانگریس پارٹی اسی طرح کا زور گووا میں بھی لگاتی تو شاید جیتی ہوئی بازی یوں نہ ہار جاتی۔ تازہ حالات میں کانگریس پارٹی نے بھاجپا کے مشن گجرات 150 کی کاٹ کا پلان بنانے کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔ گجرات میں کانگریس پچھلے 33 سال سے اقتدار سے باہر ہے اور ریاست میں کانگریس اعلی کان میں احمد پٹیل کی راہل گاندھی سے نزدیکیاں بڑھنے کے اشارے ہیں۔ راہل کا اثر بڑھنے کے ساتھ ساتھ احمد پٹیل کا قد بھی گھٹ رہا تھا۔ راجیہ سبھا چناؤ کی جیت نے کانگریس کی نئی پیڑھی کو قریب آنے کاسنہرہ موقعہ دے دیا ہے۔ اس میں کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی دونوں کو فائدہ ہے۔ راہل کے ارد گرد نوجوان لڑکوں نے پارٹی کو زمین پر لا کر کھڑا کردیا ہے۔ سونیا کے سینئر مشیروں کو درکنار کرنے سے پارٹی کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ پٹیل نے ماہر سیاستداں کی اپنی ساکھ کو مضبوطی دی ہے۔ گجرات کا راجیہ سبھا چناؤ اشوک گہلوت کے مستقبل کو بھی مضبوطی دے سکتا ہے۔ گہلوت کو پنجاب میں بھی کانگریس کے کمپین کے لئے موقعہ دیا گیا۔ وہاں پارٹی سرکار بنانے میں ناکام رہی۔ کل ملا کر احمد پٹیل کی یہ جیت کانگریس پارٹی میں سنجیونی کا کام کرسکتی ہے۔ کانگریس کو اس کی سخت ضرورت بھی ہے۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے پارٹی کے اندر محاسبہ کرنے کی وکالت کی گئی تھی۔ کانگریس کے اندر جو اداسی چھائی ہوئی تھی وہ کچھ حد تک اس نتیجہ سے گھٹی ہے۔ کانگریسی ورکروں میں ایک نیا جوش آیا ہے۔ اس جیت نے ثابت کردیا ہے کہ اگر پارٹی صحیح معنوں میں سنگھرش کرے تو اچھے نتیجے آسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

بنگلہ دیشی آتنکی عبداللہ مظفر نگر میں دبوچا

مغربی اترپردیش میں دہشت گردوں کے چھپے ہونے کی اطلاع کے بعد بڑی کارروائی کرتے ہوئے اے ٹی ایس اور مقامی پولیس نے ایتوار کو بنگلہ دیشی آتنکی عبداللہ الامعامون سمیت 6 مشتبہ کو پکڑنے کی شاندار کامیابی پائی ہے۔ عبداللہ کو مظفر نگر میں واقع چرتھاول کے کٹیسرا گاؤں سے پکڑا گیا۔ وہ وہاں حسینہ مسجد کا امام بنا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ تین کو دیوبند اور دو کو شاملی سے پکڑا گیا۔ عبداللہ بنگلہ دیش کے ممنوعہ آتنکی سنگٹھن انصارالابنگلہ ٹیم کا سرگرم ممبر ہے۔ اے ڈی جی قانون و نظم آنند کمار نے بتایا کہ مغربی یوپی میں کچھ بنگلہ دیشی دہشت گردوں کے چھپے ہونے کی اطلاع کے بعد شاملی، مظفر نگر اور سہارنپور کی مقامی پولیس اور اے ٹی ایس کے ساتھ سرچ آپریشن چلایا گیا۔ ٹیم کئی دنوں سے دیوبند میں ڈیرا ڈالے ہوئے تھے۔ آتنکی عبداللہ دیوبند کو بنگلہ دیشیوں کی پناہ گاہ بنانے میں لگا ہوا تھا۔ اے ٹی ایس حکام کے مطابق عبداللہ کا ساتھی فیضان بھی بنگلہ دیشی ہے۔ وہ پہلے سے ہی دیوبند میں رہ رہا تھا۔ فیضان کے ذریعے سے ہی دہشت گردوں کے لئے فرضی آئی ڈی تیار کرائی جارہی تھی، جن کا استعمال بعد میں پاسپورٹ بنوانے میں کیا جاتا۔ آتنک وادیوں کو پکڑنے کے لئے پچھلے کئی دنوں سے اے ٹی ایس کی ٹیم دیو بند میں ڈیرا ڈال کر نظر رکھے ہوئے تھے۔ سنیچر کی رات اے ٹی ایس نے دیوبند کے ایک ہاسٹل میں چھاپہ مارا اور وہاں سے تین مشتبہ لوگوں کو پکڑ لیا تھا۔ اے ٹی ایس کے ذریعے گرفتار مشتبہ افراد میں دانش ،عبدالوارث اور جموں کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے بتائے جاتے ہیں جبکہ عبدالرحمن بھاگلپور بہار کا رہنے والا ہے۔ عبداللہ بیحد شاطر قسم کا ہے وہ بنگلہ دیش کے اپنے آقاؤں کے اشاروں پر کام کرتا تھا۔ عبداللہ کو قریب 6 مہینے کٹیسرا گاؤں میں رکنا تھا۔ اس کے بعد اسے پھر ٹھکانا بدلنے کو کہا گیا تھا۔ جہادیوں نے بتایا کہ 8 جولائی کو ہی اسے کٹیسرا کی مسجد میں امام کے طور پر رکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ دیوبند کے گاؤں امبیٹہ شیخ کی مسجد میں رہتا تھا۔ امبیٹہ شیخ سے اس نے فرضی آئی ڈی کی بنیاد پر پاسپورٹ بنوا لیا۔ اس کے بعد الیکشن افسر، گرام پردھان اور پنچایت حکام کی مہروں کے ساتھ 13 فرضی آئی ڈی برآمد ہوئے ہیں۔ جہاں اے ٹی ایس اور مقامی پولیس کو اس آتنکی کو گرفتار کرنے میں بڑی کامیابی ملی ہے وہیں اس سے نہ صرف بنگلہ دیشی کنکشن کا پتہ چلتا ہے لیکن یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آتنکی عناصر دیوبند جیسے مقدس اور مشہور اسلامی مرکز کا بھی کس طرح سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ چونکانے والی بات یہ ہے کہ یہ عناصر اتنی آسانی سے فرضی دستاویز بھی تیار کرلیتے ہیں۔
( انل نریندر)

11 اگست 2017

ٹوئنٹی۔20 میچ سے بھی زیادہ دلچسپ رہا گجرات اسمبلی چناؤ

انڈیا ۔پاکستان کرکٹ میچ میں بھی ایسا مزہ نہیں ہوتا جیسا اس بارگجرات کے راجیہ سبھا چناؤ کی تیسری سیٹ پر ہوا۔ پارلیمانی سیاست کی شروعات 40 سال پہلے 1977ء میں کرنے والے کانگریسی لیڈر احمد پٹیل نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل چناؤمیں جس طرح جیت حاصل کی ہے اس نے بی جے پی اور خاص کر پارٹی صدر امت شاہ کی چانکیہ پالیسی کو پچھاڑ دیا ہے۔ گجرات کے اس راجیہ سبھا چناؤ میں بی جے پی نے جو بساط بچھائی اس سے صاف ہوگیا تھا کہ یہ مقابلہ محض 2 پارٹیوں کا نہیں ہونے جارہا ہے بلکہ اس کے پیچھے بی جے پی کے چانکیہ امت شاہ اور انڈین نیشنل کانگریس کے چانکیہ احمد پٹیل کی شخصی عداوت بھی ہے۔ گجرات میں بی جے پی کے چانکیہ امت شاہ اور کانگریس کے چانکیہ احمد پٹیل کے درمیان مقابلے میں چانکیہ کے سبھی منتر، سام دام ڈھنڈ بھیت کے چار اصولوں کا استعمال کیا گیا۔ واقعے کو دیکھا جائے تو یہ صاف ہے کہ احمد پٹیل کو ہرانے کے لئے بی جے پی نے ہر ممکن کوشش کی۔ یہاں تک کہ آخری وقت میں جب معاملہ الیکشن کمیشن آف انڈیا پہنچا تو بی جے پی نے قانون منتری روی شنکر پرساد سمیت آدھا درجن وزرا چناؤ کمیشن بھیج دئے، وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ تین گھنٹے میں تین بار ۔ لیکن اس کے باوجود فیصلہ احمد پٹیل و کانگریس کے حق میں گیا۔ امت شاہ کو اپنے حالیہ دنوں کی سب سے بڑی سیاسی شکست اپنے سب سے بڑے سیاسی حریت سے اپنی ہی آبائی ریاست میں کھانے پڑی۔ غور طلب ہے کہ گجرات میں راجیہ سبھا چناؤ کی تین سیٹوں کے لئے چناؤ ہونے تھے۔ اسمبلی چناؤ میں جو نمبروں کی طاقت ہے اس کے حساب سے 2 سیٹیں بی جے پی کا جیتنا طے تھا۔ لڑائی تیسری سیٹ پر تھی۔ اس تیسری سیٹ پر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر اور گاندھی پریوار کے بعد پارٹی کے سب سے بڑے چہرے احمد پٹیل کو اتارا گیا۔ ان امیدواروں کی جیت طے مانی جارہی تھی لیکن گیم تب بگڑ گیا جب شنکر سنگھ واگھیلا نے کانگریس چھوڑ دی۔ اس کے بعد پارٹی کے 6 ممبران اسمبلی باغی ہوگئے اور بی جے پی میں چلے گئے۔ کانگریس نے سنکٹ کو بھانپ لیا کے یہ احمد پٹیل کو دوبارہ راجیہ سبھا میں نہ جانے دینے کی سازش ہے۔ وہ آناً فاناً میں اپنے 44 ممبران کو لیکر کرناٹک چلی گئی۔ معاملہ میں دلچسپ موڑ اس وقت آیاجب کرناٹک کے جس ریزاٹ میں یہ ممبران رکے ہوئے تھے اس پر انکم ٹیکس محکمہ نے چھاپہ ماردیا۔ اس چھاپہ کی گونج پارلیمنٹ تک سنائی دی ۔
کانگریس نے الزام لگایا کہ بی جے پی احمد پٹیل کو ہرانے کے لئے ہر داؤں چل رہی ہے۔ پہلے اس کے ممبران کو خریدا گیا اور اب انکم ٹیکس محکمہ کے ذریعے ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کانگریس کو جیت کے لئے ابھی تک 1 ممبر درکنار تھا وجہ جیت کا نمبر 45 ممبران کا تھا۔ دن بھر جاری گہما گہمی کے بعد احمد پٹیل نے 44 ووٹوں کے ساتھ جیت حاصل کرلی۔ اس سے پہلے پارٹی کے دو ممبران کے ذریعے کی گئی کراس ووٹنگ کو لیکر 7 گھنٹے تک گاندھی نگر سے لیکر نئی دہلی تک چلے ہنگامہ کے بعد چناؤ کمیشن نے رات ساڑھے گیارہ بجے دونوں ممبران کا ووٹ منسوخ کردیا اور ووٹوں کی گنتی شروع کرنے کا حکم دیا ۔ اس کے باوجود بھاجپا نے گنتی شروع کرنے میں اڑنگا لگادیا اور رات ڈھیر بجے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہو سکی۔ قریب 2 بجے نتیجہ آیا۔ چناؤ کمیشن کے فیصلے سے کانگریس نے کاؤنٹنگ سے پہلے ہی لڑائی جیت لی تھی۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس خیمہ احمدپٹیل کی جیت کے تئیں پوری طرح سے مطمئن ہوگیا تھا۔ پارٹی کوجیت کے نمبر 43.5 سے کہیں زیادہ ووٹ ملے۔ کانگریس کو بڑی راحت دیتے ہوئے چناؤ کمیشن نے اس کے ممبران کے ڈالے گئے ووٹوں کے راز کی خلاف ورزی کرنے کے معاملہ میں دیر رات خارج کردیا۔ کمیشن نے چناؤ افسر سے کانگریس ممبر اسمبلی بھولا بھائی گوہل اور راگھو جی بھائی پٹیل کے ووٹوں کو الگ کرکے کاؤنٹنگ شروع کرنے کو کہا۔ چناؤ کمیشن کے حکم کے مطابق پولنگ کارروائی کا ویڈیو فوٹیج دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ دونوں ممبران نے پولنگ کو رازرکھنے کی خلاف ورزی کی تھی۔ قاعدہ یہ ہے کہ راجیہ سبھا چناؤ میں پولنگ کو بیلٹ پیپر پارٹی کے مجاز پولنگ ایجنٹ کو دکھانا ہوتا ہے اس کے بعد بیلٹ باکس میں ڈالتے ہیں۔ ہوا یہ کہ راگھو جی پٹیل اور بھولا بھائی گوہل نے دو سیکنڈ کے لئے بیلٹ پیپر امت شاہ کی طرف کیا۔ کانگریس کے پولنگ ایجنٹ شکتی سنگھ گہلوت نے یہ دیکھ لیا۔ پارٹی نے پہلے ریٹرنگ افسر اور پھر چناؤ کمیشن سے دونوں کے ووٹ مسترد کرنے کی مانگ کی۔ ووٹنگ کا ویڈیو کانگریس کی حمایت میں تھا۔ رندیپ سرجے اولا، پی چدمبرم سمیت 6 لیڈروں نے تین بار چناؤ کمیشن کو دستاویزات سونپے۔ ہریانہ اور راجستھان میں ہوئے ایسے ہیں معاملوں کا حوالہ دیا گیا۔
سپریم کورٹ کا اس اشو پر فیصلہ بھی پیش کیا گیا۔ کانگریس کی پختہ دلیلوں اور ثبوتوں کو بھاجپا مسترد نہیں کرسکی اور چناؤ کمیشن نے کانگریس کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ اس ایک فیصلہ سے چناؤ کمیشن نے اپنے بھروسے کو ثابت کیا ہے۔ سارا دیش دیکھ رہا تھا کہ چناؤ کمیشن کسی کے دباؤ میں کام کرے گا یا پھر دیش کے آئین کے تحت قاعدے قانون کے مطابق؟ چناؤ کمیشن بی جے پی کے تمام دباؤ اور دلائل کو خارج کرتے ہوئے ایک جھٹکے میں اپنے سارے حریفوں کا منہ بند کردیا ہے۔ آخر کار جمہوریت کی جیت ہوئی۔
(انل نریندر)

10 اگست 2017

ورنیکا کا عزم کسی کے دباؤ کے آگے نہیں جھکوں گی

ہریانہ کے بی جے پی صدر سبھاش برالا کے بیٹے کے ذریعے آئی ایس افسر کی بیٹی سے چھیڑچھاڑ کیس نے طول پکڑ لیا ہے۔ چھیڑ خانی کا شکار بنی ورنیکا کنڈو بہادری سے سامنے آئی اور اپنا موقف رکھا۔ ورنیکا نے بی جے پی کے پردیش نائب پردھان رام ویر بھٹی کے اس بیان کا کرارا جواب دیا جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ لڑکی اتنی رات میں کیوں گھوم رہی تھی؟ لڑکی کو رات 12 بجے کے بعد نہیں گھومنا چاہئے تھا۔ ورنیکا نے کہا میں رات میں کہاں کیا کررہی تھی یہ میرے والدین کو پتہ ہے۔ذرا بی جے پی نیتا (برالا) سے تو کوئی پوچھے کیا انہیں پتہ تھا کہ ان کا بیٹا کہاں کیا کررہا تھا؟ ایسے لڑکوں کے سبب لڑکیاں غیرمحفوظ ہیں۔ حالانکہ بعد میں رام ویر بھٹی نے اپنا بیان واپس لے لیا۔ چنڈی گڑھ کی اس لڑکی کو جمعہ کی رات ہریانہ پردیش بھاجپا کے نائب پردھان کے لڑکے نے اس طرح سے پریشان کیا اس کے بعد اس کے سامنے آنا کئی طرح سے اہم ہے۔ ابھی تک عام طور پر ایسے معاملوں میں متاثرہ خود ہی پردے کے پیچھے رہنا پسند کرتی ہے۔ کئی بار ان پر پریوار کا دباؤ ہوتا ہے۔ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ورنیکا سینئر آئی اے ایس افسر کی بیٹی ہے ۔ مانا جاتا ہے دیش کی حکومت اور انتظامیہ بہت حد تک آئی اے ایس افسر چلاتے ہیں۔ ایسے معاملے دیش میں لگاتار ہوتے رہتے ہیں لیکن اکثر وہ دبا دئے جاتے ہیں لیکن ایک بڑے افسر کی بیٹی ہونے کے سبب ایسے معاملے کو دبانے آسان نہیں تھا لیکن جیسے ہی یہ ظاہر ہوا کہ اس پورے معاملہ کا اہم ملزم ایک سینئر سیاستداں کا بیٹا ہے تو پولیس ایسے معاملوں میں جیسے کرتی ہے فوراً لیپا پوتی پر اتر آئی۔ نہ صرف اس معاملہ سے جڑے سبھی سی سی ٹی وی فٹیج غائب ہوگئے بلکہ پولیس نے جن دفعات کے تحت معاملہ کو درج کیا وہ بھی بہت اہم نہیں تھیں اور اغوا کی کوشش جیسے سنگین الزامات کو نظر انداز کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملزم پکڑا بھلے ہی گیا لیکن جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگیا۔ اگر ایک سینئر آئی ایس افسر کی بیٹی کے معاملے میں اس طرح سے کام ہورہا ہے تو عام متاثرہ کے معاملہ میں کیا ہوتا ہوگا اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے ۔کیونکہ معاملہ میڈیا میں اتنا اچھل گیا کہ پولیس کے رویئے پر ہنگامہ کھڑا ہونا فطری تھا۔ اس پورے معاملہ میں سبھاش برالا اپوزیشن ہی نہیں بلکہ اپنوں کے نشانہ پر بھی آگئے ہیں۔ بھاجپا ایم پی سبرامنیم سوامی نے چنڈی گڑھ پولیس کے خلاف معاملہ کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کیلئے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر مقدمہ کرنے کا من بنا لیا ہے وہیں ایم پی راجکمار سینی نے پارٹی کی ساکھ بچانے کے لئے برالا سے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دینے کو کہا ہے۔ کانگریس نے اس معاملہ سے وزارت داخلہ کی ہدایت پر جانچ کو متاثر کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ سوامی نے پولیس کی کارروائی اور ملزمان کو تھانے میں ہی ضمانت دئے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا نشے میں دھت غنڈوں اور پولیس کی کوتاہی والی کارروائی کے خلاف کورٹ میں عرضی دائر کریں گے اور معاملہ کی سی بی آئی جانچ کرائیں گے۔ ادھر متاثرہ لڑکی نے سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے سوالوں اور مبینہ تصویروں کے ذریعے کردار کشی پر تلخ رد عمل دیا ہے۔ انہوں نے صاف کہا میرے خاندان والوں کوتو چھوڑیئے رات کے وقت سڑکوں پر گھومنے والے ان منچلوں پر سوال کیوں نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ ایسے لڑکوں کی وجہ سے ہی بیٹیاں غیر محفوظ ہیں۔ میں کسی دباؤ میں جھکنے والی نہیں۔ ایسے منچلوں کو سبق سکھانا سرکار اور پولیس انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ یہ لڑائی عورتوں کی حفاظت کی ہے جس کی ہم پوری حمایت کرتے ہیں۔ بیشک عورت ٹارچر کے خلاف قانون میں تبدیلی کی گئی ہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ لوگوں کی ذہنیت نہیں بدلی۔ اسی ذہنیت کو بدلنے کے لحاظ سے ورنیکا کا سامنے آنا اہم ہے، لیکن اس کو ابھی لمبی لڑائی لڑنی ہوگی۔
(انل نریندر)

نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی نہیں چھوڑا

جب پاکستان میں سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف کو ان کے عہدے سے چلتا کیا تو عام طور پر مانا جارہا تھا کہ نواز اپنے چھوٹے بھائی شہباز کو کرسی پر بٹھائیں گے۔ شہباز پنجاب کے وزیر اعلی ہیں اور ان کی ساکھ اچھے منتظم کی ہے لیکن اب جو خبریں آرہی ہیں ان سے لگتا ہے یہاں بھی میاں نواز شریف نے سیاست چل دی ہے اور شہباز کو پی ایم نہیں بننے دیا۔ نواز شریف نے اپنے بھائی شہباز شریف کے ساتھ سیاست کی ہے۔ پاکستان کی حکمراں جماعت پی ایم ایل این کے کچھ نیتاؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے کنبہ جاتی حکمت عملی کی وجہ سے اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو بڑی چالاکی سے وزیر اعظم بننے سے محروم کردیا ہے۔ حالانکہ اس عہدے کے لئے شہباز کے نام کا اعلان کیا گیا تھا۔ پچھلی28 جولائی کو پنامہ پیپرس معاملہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے نا اہل ٹھہرائے جانے کے بعد نواز نے اعلان کیا تھا کہ 45 دنوں کے لئے شاہد خاکان عباسی انترم وزیر اعظم رہنے کے بعد 10 مہینے کے باقی عہد کے لئے شہباز وزیراعظم ہوں گے۔ پردے کے پیچھے بات چیت کرنے پر کچھ پارٹی کے نیتاؤں کا کہنا ہے کہ شہباز وزیر اعظم بننے کا سنہری موقعہ گنوا گئے ہیں کیونکہ اب اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ 2018ء میں پارٹی چناؤ جیتنے پر وہ ہی وزیر اعظم بنیں گے۔ پی ایم ایل این کے ایک سینئر لیڈر نے کہا شریف کی بیٹی مریم کرپشن کے معاملہ میں بری نہیں ہوتی تو اگلے سال ہونے والے عام چناؤ میں پی ایم ایل این کی جیت ہونے پر شریف کی بیوی کلثوم وزیر اعظم اعظم بننے کی قوی دعویدار ہوں گی۔ اس نیتا نے کہا نواز کو ڈر ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد شہباز پارٹی پر قبضہ کرلیں گے اور پنجاب کا اقتدار اپنے بیٹے حمزہ کو سونپ دیں گے۔ ایک دوسرے نیتا نے کہا شریف نے بہترین کنبہ جاتی سیاست کی ہے۔ پہلے اپنے بھائی کو اپنا جانشین اعلان کیا اس کے بعد اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ مل کر یہ مہم چلائی کے پنجاب کو شہباز شریف کی ضرورت ہے۔ ان کا پنجاب چھوڑنا پارٹی کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سے پارٹی کو2018 ء کے چناؤ میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ نواز شریف کے وفادار لیڈر شاہد خاکان عباسی کو وزیر اعظم چن لیا گیا ہے۔ عباسی 342 ممبران ایوان میں 221 ممبروں کی حمایت کے ساتھ پاکستان کے 18 ویں وزیر اعظم چنے گئے ہیں۔ وہ 45 دنوں کے لئے چنے گئے ہیں۔ بتادیں کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے نامزد شاہد خاکان عباسی کے خلاف قومی جوابدہی بیورو 22 ہزار کروڑ روپے کے کرپشن کے ایک معاملہ میں جانچ کررہی ہے۔ فی الحال تو پاکستان میں عدم استحکام کا دور چلے گا۔
(انل نریندر)

09 اگست 2017

پہلی بار چاروں بڑے عہدوں پر بھاجپا کے نیتا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ایم وینکیانائیڈو کے صدر چنے جانے کے بعدپہلی بار دیش کے چار بڑے عہدوں پر بی جے پی اور آر ایس سے جڑے نیتا قابض ہوں گے۔ حالانکہ نائیڈو کے نائب صدربننے سے راجیہ سبھا میں نمبروں کی طاقت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اس سے پارٹی نہ صرف راجیہ سبھا میں اور مضبوط ہوگی بلکہ ان نتیجوں سے پارٹی نیتاؤں کا حوصلہ اور رتبہ بھی بڑھے گا جس کا اثر آنے والے اسمبلی چناؤ پر ہی نہیں بلکہ بھاجپا کے مشن 2019 پر بھی نظر آئے گا۔ دراصل اس سے پہلے جب بھی متحدہ حکومتیں بنی ہیں تک کچھ عہدے اتحادی پارٹیوں کو دئے جاتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ مودی شاہ کی جوڑی نے جان بوجھ کر سبھی عہدوں پر اپنی پارٹی کے نیتاؤں کو ہی دینے کا فیصلہ کرکے اپنی پارٹی کا حوصلہ اور قد اونچا کرنے اور اپوزیشن کا حوصلہ توڑنے کا کام کیا ہے۔ نائیڈو کے نائب صدر بننے کے بعد پہلی بار دیش کے راشٹرپتی اور نائب صدر اور وزیر اعظم اور لوک اسپیکر ایک ہی پارٹی سے ہے۔ کانگریس پارٹی پہلی بار ان چاروں اہم عہدوں سے محروم رہ کر دوسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔ نائیڈو کے راجیہ سبھا کے چیئرمین بننے سے بھلے ہی نمبروں کی طاقت سرکار کے حق میں نہ ہو لیکن اس کے باوجود وہاں کی پوزیشن کنٹرول تو کی جاسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نائیڈو کافی تجربہ کار ہیں جس سے انہیں اپوزیشن کو کنٹرول کرنے میں مدد ہی نہیں ملے گی بلکہ بی جے پی کے ایوان سے غائب رہنے والے ممبران کو بھی قابو کر پائیں گے۔ نائیڈو کو یہ عہدہ دینے کا فائدہ ساؤتھ انڈیا میں بی جے پی کے پاؤں پھیلانے کی شکل میں ملے گا۔ اسکے علاوہ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ نائب صدر کے چناؤ نتیجوں کا آنے والے اسمبلی چناؤ پر بھی اثر پڑے گا۔ پارٹی یہ مان رہی ہے کہ جس طرح سے یوپی اتراکھنڈ کے نتیجوں میں ایم سی ڈی میں بی جے پی کی راہ آسان ہی ویسے ہی نائب صدر کے چناؤ کے بعد اب ہماچل پردیش، گجرات اور پھر کرناٹک میں بھی پارٹی کو اکثریت ملنے میں کوئی اڑچن آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اگر ان اسمبلی انتخابات کے نتیجے یہی رہے تو اس کا سیدھا اشارہ جائے گا کہ مودی ۔ شاہ لیڈر شپ میں بی جے پی کامیاب ہوتی جارہی ہے۔ اس سے بی جے پی پر کوئی اثر ہو یا نہیں لیکن اپوزیشن کا حوصلہ ضرور ٹوٹے گا جس کا آخر کار بی جے پی اور مودی کو ہی فائدہ ملے گا اور 2019 ء کے لوک سبھا چناؤ نتیجے چناؤ سے پہلے طے ہوتے نظرآجائیں گے لیکن وہ چوکس رہتے ہیں کہ اقتدار کے اس لا مرکزیت سے اور اپوزیشن کے ڈھیرہونے سے ہندوستانی جمہوریت کے توازن پر سوال اٹھتے ہیں۔ مودی اور شاہ جیسے دو نیتاؤں کے ہاتھوں میں مرکوز ہوتی برسراقتدار پارٹی کے جمہوریت کو بھی متاثر کرے گا۔ اس وارننگ کے باوجود بھاجپا کا سورج اپنے شباب کے ساتھ چمک رہا ہے اور بھارتیہ سیاست اور جمہوریت پر اس کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے۔
(انل نریندر)

سعودی کمائی کا حج بہت بڑا ذریعہ ہے

دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہربرس حج کرنے جاتے ہیں۔ میں نے بی بی سی فارسی سروس میں علی قدیمی کا ایک مضمون پڑھا پیش ہیں اس مضمون میں دی گئی جانکاری۔ کئی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ حج اور عمرہ پرجانے والے مسلمانوں سے سعودی عرب کو کتنی آمدنی ہوتی ہے؟ اس اعدادو شمار تک پہنچنے کے لئے سب سے پہلے تو حج کے ارادے سے سعودی عرب جانے والے مسلمانوں کی کل تعداد جاننی ہوگی۔ ہر برس کتنے لوگ مکہ جاتے ہیں؟ پچھلے برس کل 83 لاکھ لوگ حج کے لئے سعودی عرب آئے تھے۔ ان میں سے 60 لاکھ سے زیادہ سعودی عرب کے مذہبی مرکز العمرہ بھی گئے تھے۔ پچھلی دہائی میں اوسطاً ہربرس 25 لاکھ مسلمان حج کرتے ہیں۔ اس سے وابستہ دو باتیں ہیں جن پرتوجہ دینا ضروری ہے ایک تو یہ کہ سال کے ایک خاص وقت میں حج سفر کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ کہ سعودی عرب میں حج پر جانے والوں کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لئے ہر ایک ملک کا کوٹہ طے کررکھا ہے۔ انڈونیشیا کا کوٹہ سب سے زیادہ ہے۔ یہاں سے 2 لاکھ 20 ہزار لوگ ہر سال حج کے لئے سعودیہ جا سکتے ہیں۔یہ کل حج کے کوٹے کا14 فیصدی ہے۔ اس کے بعد پاکستان (11 فیصدی) بھارت (11 فیصدی) اور بنگلہ دیش (8 فیصدی ) باری آتی ہے۔ اس فہرست میں نائیجریا ،ایران ، ترکی ،مصر جیسے ملک بھی شامل ہیں۔مکہ چیمبرس آف کامرس کا اندازہ ہے کہ باہری ملکوں سے آنے والے مسلمانوں کو حج کرنے پر 4600 ڈالر (تقریباً3 لاکھ روپے ) کا خرچ بیٹھتا ہے۔ الگ الگ ملک کے لوگوں کے لئے یہ لاگت الگ الگ ہے۔ ایران سے آنے والے قافلے میں ہر ایک آدمی پر یہ خرچ 3000 ڈالر کے قریب پڑتا ہے اس میں سفر ، کھانے اور خریداری کا بجٹ بھی شامل ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو بھی تقریباً اتنا ہی خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے برسوں میں سعودی عرب کے اندر حج کرنے والے مسلمانوں کی تعداد دوسرے ملکوں سے آنے والے عازمین حج کے مقابلے میں تقریباً آدھی ہے۔ مسلمان سال بھر عمرہ کرتے رہتے ہیں پچھلے سال 60 لاکھ سے زیادہ افراد نے عمرہ کیا۔ سعودی عرب کوا مید ہے کہ آنے والے چار برسوں میں یہ تعداد بڑھ کر 1 کروڑ 20 لاکھ ہوجائے گی ۔ پچھلے سال سعودی عرب کو حج سے 12 ارب ڈالر کی سیدھی آمدنی ہوئی۔ ہندوستانی کرنسی میں یہ رقم 76 ہزار 500 کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ حج کے لئے سعودی جانے والے مسلما ن جو ڈالر خرچ کرتے ہیں وہ ان کی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ پیسہ پورا کا پورا سعودی عرب کی آمدنی نہیں ہے لیکن اس سے ان کی معیشت کو بہت سہارا ضرور ملتا ہے۔ سعودی عرب جانے والے 80330000 عازمین حج نے کل 23 ارب ڈالر کی رقم یہاں خرچ کی ہے۔
(انل نریندر)

08 اگست 2017

سشما سوراج کا دلیل آمیز، موثر جواب

بہت دنوں کے بعدپارلیمنٹ میں ہندوستانی کی خارجہ پالیسی کو لیکر اتنی مفصل اور پائیدار بحث سننے کو ملی۔ راجیہ سبھا میں دونوں فریق حکمراں و اپوزیشن پوری تیاری کے ساتھ آئی تھی۔ اپوزیشن ممبران نے جم کرسرکار پر تنقیدکی لیکن سشما سوراج نے دلائل، ثبوتوں کے ساتھ جو جوابات دئے وہ لا جواب تھے، سننے والے تھے۔ سشما جی اپنی پوری لے میں تھیں۔ اتنی اچھی تقریر کئی برسوں کے بعد میں نے کسی بھی وزیر خارجہ کی سنی ہے۔ سشما جی نے کہا کہ بھارت آج گلوبل ایجنڈہ طے کرنے والا دیش ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم جب بیرون ملک جاتے ہیں تو وہ دہشت گردی ،ماحولیات و کالا دھن اور ترقی پر گلوبل ایجنڈہ کررہے ہوتے ہیں۔ ہم اب امریکہ کے سامنے ہریانوی رہنما نہیں ہیں۔پی ایم مودی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوچنوتی دینے کا مادہ ہے۔ راجیہ سبھا میں جمعرات کو مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر ضمنی بحث کے دوران سشما نے جواب دیتے ہوئے نہ صرف اپوزیشن پر زبردست پلٹ وار کیا بلکہ ڈوکلام تنازعہ پر بھی صفائی دی۔ ڈوکلام2012 کا سمجھوتہ ابھی برقرار ہے جس کے تحت بھارت، چین، بھوٹان مل کر تنازعہ سلجھائیں گے جنگ نہیں ہم بات چیت سے اسے حل کریں گے۔ سرحدی تنازع، نیوکلیرز سپلائی گروپ اور اقوام متحدہ کے جیش محمد کے چیف مسعود اظہر کو آتنک وادی قرار دینے پر چینی اعتراض پر بھی بات جاری ہے۔ سی پی ای سی ، پی او کے سے گزر رہا ہے، یہ ہماری سرداری کا سوال ہے۔ انہوں نے کہا چین کے ساتھ ہمارا کاروبار مئی 2014 سے اب تک 116 ارب ڈالر کا تھا جو 160 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ سشما نے کہا کہ پاکستان پر ہمارا روڈ میپ سرکار کے حلف لینے سے پہلے ہی صاف تھا۔ حلف برداری میں نواز شریف آئے ،باہمی بات چیت بھی ہوئی ۔ پاکستانی وزیر اعظم سے ہمارے رشتوں کی گہرائی یہ تھی کہ ان کے جنم دن پر ہمارے پی ایم خود چلے گئے۔ پٹھانکوٹ حملہ کے بعد بھی دوستی بدرنگ نہیں ہوئی لیکن چیزیں جیسے برہان وانی کے انکاؤنٹر کے بعد بگڑیں ، جب نواز نے اسے شہید بتادیا۔روڈ میپ ایک طرفہ نہیں چل سکتا۔ آتنک واد اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ سشما بولیں ، اسرائیل ہمارا دوست ضرورت ہے ، لیکن فلسطین کا ساتھ ہم نہیں چھوڑیں گے۔ فلسطین سے ہمارے رشتے بہتر ہیں اور وہاں کے وزیر اعظم یہاں آئے بعد میں مودی اسرائیل گئے۔ میرے فلسطین دورہ میں وہاں کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ تنازع کو سلجھانے میں مدد مانگی۔ مودی نے بھی فلسطین کے پی ایم سے کہا کہ سشما نے کہا تھا کہ دونوں ہمارے دوست ہیں ، ہماری خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے کہ لگاتا امریکی مخالفت اور روس اسرائیل ، فلسطین، سعودی عرب، یمن آج بھی ہمارے دوست ہیں۔چینی دھمکیوں کے باوجود سشما کا یہ کہنا تھا کہ فوج جنگ کے لئے ہے لیکن جنگ سے حل نہیں نکلتا۔۔۔ جنگ کے بعد بھی آخر کار بات چیت کے لئے میدان میں ہی آنا پڑتا ہے تو بھارت کی کوشش بات چیت سے مسئلہ سلجھانے پر ہے۔ انہوں نے جن تین الفاظ صبر، لہجہ تحمل اور ڈپلومیٹک چینل کا استعمال کیا اس سے ہر کوئی متفق ہوگا۔ حقیقت میں چین کے جارحانہ بیانوں کے باوجود بھارت نے ابھی تک پورا تحمل برتا ہے۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت نے ڈوکلام کے مسئلہ پر اپنا موقف ہلکا کیا ہے۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کی رہنمائی میں اپوزیشن نے خارجہ پالیسی پر کئی سوال کھڑے کئے۔ کانگریس کی جانب سے آنندشرما نے کہا کہ پردھان منتری کی جھپی ڈپلومیسی کا دیش کو کیا فائدہ ہورہا ہے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں۔ چین کے ساتھ ٹکراؤ اور امریکی ویزا کے مسئلہ پر پوزیشن صاف نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے غیرملکی دوروں کے بارے میں ایوان کو کوئی جانکاری نہیں دی۔ شرما نے نیپال، سری لنکا، موریشس اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرکار کے رویہ پر بھی سوال کھڑے کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکار نے جنگ پنگ اور ٹرمپ سے پی ایم کی ملاقات کے بارے میں ایوان کو نہیں بتایا۔سرکار ایچ بی ویزا پر امریکہ سے ٹھوس وعدہ نہیں لے سکتی۔ برکس این ایس اے چوٹی کانفرنس میں ہندوستانی قومی سلامتی مشیر ڈوبھال کی چینی لیڈر سے ملاقات کے نتیجے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ آنند شرما نے کہا چین پاک پر اپوزیشن ہمیشہ سرکار کیساتھ کھڑی رہی لیکن اپوزیشن کوسرکار نے اعتماد میں نہیں لیا۔ چین لگاتار دھمکی دے رہا ہے ۔ چینی پی ایم اور وزیر اعظم مودی کی ملاقات کے بعد ڈوکلام پر مثبت بات چیت سے چین کے انکار کی وجہ پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ کل ملاکر میں سمجھتا ہوں کہ سشما سوراج نے ہر سوال کا تشفی بخش جواب دیا اور ان کی تعریف اور تو اور سماجوادی پارٹی نیتا پروفیسر رام گوپال یادو نے بھی کی۔ انہوں نے کہا جس طرح سے حکومت نے ہندوستانیوں کو جنگ زدہ یمن سے نکالا اور مدد کی وہ قابل تعریف ہے۔ اتنا ہی نہیں وزیر مملکت خارجہ جنرل وی کے سنگھ مدد کے لئے خود یمن گئے یہ ایک بہت ہی ہمت افزا قدم تھا۔ یادو نے کہا کہ سشما سوراج کی بیرون ممالک میں بہت عزت ہے۔ انہوں نے صرف ٹوئٹ پر ہی ایک پاکستانی بیمار بچے کو ویزا دلوا دیا۔ رام گوپال کے یہ کہنے پر کہ ایوان میں حکمراں اور اپوزیشن دونوں نے ان کی بات کی حمایت کی اور بہت دنوں بعد کسی بھی وزیر خارجہ کاا تنا موثر ، دلیل آمیز جواب سننے کو ملا۔ 
(انل نریندر)

شیو کمار پر انکم ٹیکس محکمہ کی چھاپہ ماری کی ٹائمنگ

بدھوار کی صبح کرناٹک کے بجلی منتری شیو کمار کے ٹھکانوں پر پڑے انکم ٹیکس چھاپوں نے اس سے کہیں زیادہ سرخیاں بٹوریں۔ راجیہ سبھا میں ہنگامہ ہوا۔ عام طور پر ایسے چھاپوں کو اتنی جگہ نہیں ملتی۔ وجہ رہی چھاپوں کی ٹائمنگ، چھاپہ ماری کو لیکر کانگریس پارٹی میں بدھوار کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھاری سیاسی طوفان کھڑا کردیا۔ پارٹی کے نیتاؤں نے چھاپہ ماری کو سیاسی بدلے کی کارروائی اور جمہوریت کے لئے خطرناک بتایا۔ گجرات سے راجیہ سبھا چناؤ کے لئے پرچہ بھرنے والوں میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل بھی شامل ہیں۔ بی جے پی انہیں اس بار کسی بھی قیمت پر ہرانا چاہتی ہے۔ حالانکہ پردیش میں کانگریس ممبران کی تعداد اتنی ہے کہ پٹیل کے منتخب ہونے میں کوئی دقت نہیں تھی۔ مسئلہ تب کھڑا ہوا جب دو دن کے اندر 6 ممبران نے استعفیٰ دے دیا۔ بی جے پی کہہ رہی ہے کہ ممبران اپنی مرضی سے استعفیٰ دے رہے ہیں جبکہ کانگریس کے مطابق بی جے پی کے لوگ اس کے ممبران کو نہ صرف ڈرا دھمکا رہے ہیں بلکہ پیسے کا لالچ بھی دے رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں اپنے ممبران کو محفوظ رکھنے کے لئے کانگریس لیڈر شپ انہیں بنگلورو لے گئی جہاں انہیں ایک ریزارٹ میں رکھا گیا ۔ وہاں ان ممبران کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری انہی ڈی کے شیو کمار کو سونپی گئی جن پر انکم ٹیکس محکمہ کے چھاپہ پڑا۔ اب ان چھاپوں کو لیکر کانگریس پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جم کر ہلہ بول رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے چھاپوں کا اصلی مقصد اس کے ممبران میں خوف پیدا کرنا ہے۔ بہرحال بڑا سوال کانگریس کے الزامات کا نہیں ہے جس پارٹی کے نیتاؤں پر چھاپہ پڑے گا وہ سیاسی رقابت کا الزام تو لگائے گی ہی، اصل معاملہ جانچ ایجنسیوں ان کی کارروائی اور بھروسے کا ہے۔ یہ سچ ہے کہ انکم ٹیکس ، سی بی آئی اور ای ڈی جیسی سرکاری ایجنسیوں کی تاریخ بے داغ نہیں ہے لہٰذا دعوے کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سرکاریں بدلہ لینے کیلئے ان کا استعمال کرتی رہی ہیں اس لئے کانگریس کے الزام میں سچائی کے جز سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ترین ہے کہ ہندوستانی سیاست کا جو گھناؤنا چہرہ آج دکھائی دے رہا ہے وہ کس کی دین ہے؟ سیاست کا جرائم کرن یا چناؤ میں کالے دھن کا استعمال کی شروعات کب اور کیسے ہوئی یہ بھی تحقیق کا موضوع ہے۔ ممبران کی خریدو فروخت کر دوسرے کے پالے میں جانے سے روکنے کے لئے ریزارٹ میں قید رکھنے کے واقعہ پہلے بھی ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی ہوں گے۔ ڈی کے شیو کمار پر چاہے جو بھی الزام ہیں ان کے خلاف ٹھیک اسی وقت اتنے بڑے پیمانے پر چھاپہ ماری کی کوئی مضبوط دلیل نہ تو انکم ٹیکس محکمہ کے پاس ہے اور نہ ہی مرکزی سرکار کے پاس۔یہی چھاپہ اگر راجیہ سبھا چناؤ کے بعد عام طور سے پڑتے تو اتنا ہنگامہ شاید نہ ہوتا۔
(انل نریندر)

06 اگست 2017

آخرکون چوٹی کاٹ کر پھیلا رہا ہے دہشت

مہلاؤں کی چوٹی کاٹنے کے تابڑ توڑ واقعات نے سبھی کو پریشان کردیا ہے۔ آگرہ میں ایک بزرگ خاتون کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ سماج کی اجتماعی بیداری کند ہوجانے کی ایک اور مثال ہے اور ایسا اجتماعی تشدد پھیلا ہے جب آئینی نظریئے پر تالا جڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ترقی اور آئینی بیداری کے تمام دعوؤں کے باوجود ہندوستانی سماج کا ایک حصہ آج بھی اندھ وشواس ،جادو ٹونا، ٹوٹکے اور جہالت میں ڈوبا ہوا ہے۔ چوٹی کاٹنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ منگلوار کی رات و بدھوار کوبھی پانچ لڑکیوں سمیت28 عورتوں کی چوٹی کاٹنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان میں متھرا میں اور آگرہ میں 4 اور فیروز آباد میں 1، غازی آباد میں 1، دہلی میں 2، گرو گرام میں 6، فرید آباد میں 2 و پلول میں 3 واقعات شامل ہیں۔ عورتوں کی چوٹی کاٹنے کے واقعات پر نظر ڈالیں تو یہ زیادہ تر دیہات اور انتہائی پسماندہ علاقوں میں ہی سامنے آرہے ہیں۔ متاثرہ عورتوں میں زیادہ تر تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ سائیکلوجسٹ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اندھ وشواس اور جہالت ، پچھڑا پن عورتوں کا اکیلا پن، ان واقعات کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔اس کے پیچھے پختہ بنیاد بھی ہے کہ اب تک کسی نے چوٹی کاٹنے والے کو نہیں دیکھا ہے۔ نہ تو اس میں خاندان کا ممبر ایسا کرتا پایا گیا ہے کہ عورت کو اس کے گھر کے لوگوں نے ایسا کرتے دیکھا۔ ایسے میں پولیس کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہی ہے۔ دہلی پولیس نے اب جانچ دو پہلوؤں پر مرکوز کردی ہے۔ پہلی یا تو عورتیں خود اپنی چوٹی کاٹ رہی ہیں یا پھر انہی کے گھر کا کوئی فرد یہ شرارت کررہا ہے۔ حالانکہ پولیس کے اپنے تیز طرار افسر ان ان گتھیوں کو سلجھانے میں لگا رکھے ہیں لیکن نتیجہ فی الحال صفر ہی ہے۔ جنہیں عورتوں کی چوٹی کاٹنے کی بات سامنے آرہی ہے ان کے بیانوں میں کوئی یکسانیت نہیں ہے۔ کسی نے بتایا کہ اس نے پہلے کالی بلی دیکھی اور بے ہوش ہوگئی ، پھر ہوش آیا تو چوٹی کٹی تھی۔ کسی نے کتا دیکھنے کے بعد بے ہوش ہوگئی تو کسی نے کہا کہ اسے کسی نے اندھیرے میں دھکا دیا جس کے سبب وہ گر پڑی اور بے ہوش ہوگئی ۔ جو بات یکساں طور سے صحیح ہے وہ ہے کہ چوٹی کاٹے جانے سے پہلے متاثرہ عورت کا بیہوش ہونا۔ راجدھانی دہلی سمیت اور اس سے لگے ہریانہ ،راجستھان اور اترپردیش میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں اور ان سب کی تفصیلات کم و بیش ایک جیسی ہی ہیں۔ اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں کسی ایک منظم گروہ کا ہاتھ ہے۔ ایسے واقعات کے پیچھے اندھ وشواس کی ہوسکتا ہے تب اور جب میں واقعات دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ہوتی ہیں۔ یوں تو اجتماعی شرارت اور اندھ وشواس کے واقعات نہیں ہوئے ہیں اس سے پہلے دیش بھر میں مورتیوں کو دودھ پلانے سے دہلی اور اترپردیش میں منکی مین اور منہ نوچوا کے حملہ اور ممبئی میں سمندر کا پانی میٹھا ہوجانے جیسی افواہیں پھیلائی گئی تھیں جنہیں آئینی کسوٹیوں پر غلط پایا گیا۔ سائیکلوجسٹ اسے اجتماعی شرارت یا اجتماعی کرتوت بتارہے ہیں لیکن اس کا حل کیا ہے اس بارے میں ان کے پاس بھی کوئی پختہ جواب نہیں ہے۔ اس نظریئے سے بھی جانچ کی ضرورت ہے کہ کہیں کوئی گروپ یا تنظیم تو اس کے پیچھے نہیں ہے، جن کا کوئی ذاتی مفاد ہو؟ چوٹی کاٹے جانے کی شکارعورتوں کی میڈیکل جانچ میں کچھ بھی غلط نہیں ملا جس سے لگتا ہے کہ یہ شرارتی اور غیر سماجی عناصر کا کام ہوسکتا ہے، جوعورتوں میں کسی وجہ سے دہشت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقت میں ان سارے واقعات کو ناخواندگی قانون و نظم اور عورتوں کے تئیں جرائم کے نظریئے سے بھی دیکھا جانا چاہئے۔ ایسے عناصرکو پکڑنے کے لئے تیز ابھیان چلانے کی ضرورت ہے۔ سرکار ہو یا شہری سماج سبھی کو مل کر یہ سوچنا ہوگا کہ آخر بدحالی میں جی رہے ہمارے سماج کا ایک بڑا حصہ کب تک اس طرح کی مصیبتوں میں پھنستا رہے گا؟
(انل نریندر)

آخر کار ونجارا کو انصاف ملا

ذرا یاد کیجئے، گجرات میں سہراب الدین و تلسی پرجا پتی مڈ بھیڑ معاملہ دیش میں کتنے وقت تک تنازع کا موضوع بنا رہا۔ اس معاملے میں تو گجرات کی سرکارجس کے وزیراعلی نریندر مودی ہواکرتے تھے، تک کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیاتھا۔ بھاجپا صدر امت شاہ کو بھی اس کی زد میں لیا گیا۔ الزام یہ تھا کہ سرکار کی جانکاری میں سہراب الدین، اس کی بیوی اور معاملہ میں چشم دید گواہ کو پولیس نے پکڑ کر مار دیا اور مڈ بھیڑ کی کہانی بنا دی تھی۔ بتا دیں گجرات پولیس کا خیال تھا کہ گروہ بند سہراب الدین شیخ کا تعلق پاک آتنکی تنظیم لشکر طیبہ سے تھا اسے گجرات کے گاندھی نگر کے قریب نومبر 2005 میں مڈ بھیڑ میں مار گرایا تھا۔ سی بی آئی کے ذریعے دائر چارج شیٹ میں کہا گیا تھا کہ گجرات پولیس کے دہشت گردی انسداد دستے نے سہراب الدین اور اس کی بیوی کوثر بی کو حیدر آباد سے اغوا کیا تھا۔ مڈ بھیڑ کے بعد کوثر بی غائب ہوگئی تھی۔ سی بی آئی کا الزام تھا کہ ڈی جی ونجارا شروع سے ہی سہراب الدین کی فرضی مڈ بھیڑ میں شامل تھا۔ پولیس نے کوثر بی کو بھی ختم کردیا تھا۔ سی بی آئی کے مطابق سہراب الدین کے ساتھ تلسی پرجا پتی اس مڈ بھیڑ کے چشم دید گواہ تھے لیکن دسمبر 2006ء میں اسے بھی گجرات کے بناس کاٹھا شہر میں ایک مڈ بھیڑ میں مار گرادیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے یہ اندیشہ ظاہرکیا تھا کہ گجرات میں اس کیس کی غیر منصفانہ جانچ ممکن نہیں ہے اس لئے سپریم کورٹ نے معاملہ کو 2012ء میں ممبئی منتقل کردیا تھا اب ممبئی کی سی بی آئی عدالت نے منگلوار کو گجرات کے سابق ڈی آئی جی ڈی جی ونجارا کو سہراب الدین اور تلسی پرجا پتی مڈ بھیڑ معاملہ میں بری کردیا ہے۔ اسی معاملہ میں ان کے ساتھ گرفتار کئے گئے راجستھان کیڈر کے آئی پی ایس افسر دنیش ایم این کو بھی خصوصی عدالت نے بری کردیا ہے۔ ونجارا کو 24 اپریل 2007ء کو گرفتار کیا گیا تھا اس کے بعد عشرت جہاں مڈ بھیڑ معاملہ میں بھی انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ ونجارا 7 سال سے زیادہ جیل میں رہے۔ ستمبر 2014ء میں انہیں سہرا ب الدین اور پرجا پتی معاملوں میں ضمانت ملی تھی۔ پچھلی 7 اپریل میں عدالت نے انہیں گجرات میں داخل ہونے کی اجازت دے کر ضروری شرطوں میں ڈھیل دی تھی۔ خصوصی سی بی آئی جج سنیل کمار جے شرما نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پہلی نظر میں ان کے خلاف کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے۔ سہراب الدین شیخ اور اسکی بیوی کوثر بی اور ساتھی تلسی پرجا پتی کے اغوا اور انکاؤنٹر کی سازش رچنا تو دور اس کیس میں ان کا دور دور تک کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ عدالت نے کہا ، سی بی آئی نے گواہوں کے بیانوں پر بھروسہ کیا لیکن بیان افواہوں پر مبنی تھے۔ اس کیس کے دوسرے ملزم کے بیان سے بھی ونجارا کے شامل ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔ سرکاری فریق کے وکیل ونجارا کے مڈبھیڑ کی جگہ پر موجود ہونے کے ثبوت بھی نہیں پیش کرپایا۔ صرف ونجارا و گجرات کے آئی پی ایس افسر وپل اگروال و انسپکٹر آشیش پانڈیہ کے درمیان بات چیت کی میعاد پر اس میں سابق آئی پی ایس افسر کا کردار ثابت نہیں ہوتا ہے۔ سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کے معاملہ میں کورٹ نے کہا کوثر بی کو کس نے مارا اور کہاں مارا اس کے بارے میں ایک بھی ثبوت نہیں ہے۔ ان کی لاش کو جلایا گیا تھا یہ ثابت کرنے کے لئے موقعہ واردات سے ریت یا راکھ جیسا نمونہ اکٹھا نہیں کیا گیا۔ سبھی ثبوتوں کے پیش نظرصاف ہے کہ ونجارا اور دوسرے ملزمان کے درمیان سانٹھ گانٹھ ثابت نہیں ہوتی۔ ونجارا کو 7 سال جیل میں گزارنے پڑے آخر میں وہ بے قصور ثابت ہوئے ۔ کم سے کم اس فیصلہ کے بعد تو ہمیں گجرات پولیس کے بیان پر یقین کرنا ہوگا۔ مڈ بھیڑ فرضی نہیں تھی۔ اس وقت بھاجپا نے سابقہ کانگریس کی مرکز میں سرکار پر سی بی آئی کا بیجا استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ کیا ہم آج اس الزام کو صحیح مان لیں؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...