Translater

04 فروری 2012

سپریم کورٹ نے سنائے دوررس اہم فیصلے



Published On 4th February 2012
انل نریندر
یقیناًجمعرات کا دن سپریم کورٹ کے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ عدالت کو تین معاملوں پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ یہ تینوں ہی بہت اہم تھے جن کے دوررس اثر ہونے والے ہیں۔ جمعرات کو سب سے اہم فیصلہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کا تھا۔ جس پر ملک بیرون ملک کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ اس گھوٹالے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی سی بی آئی جانچ ، ٹیلی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور ٹو جی معاملے کی نگرانی کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل کرنے کے مطالبے پر فیصلہ آنا تھا۔ ان سب کو چھوڑ کر ایک اور اہم واقعہ تھا اس دن اس جج کے ریٹائر ہونے کا آخری دن تھا جنہوں نے 15 مہینوں میں سپریم کورٹ کی اس بینچ کی شوبھا بڑھائی جس نے ہر اس رسوخ دار کو جیل کی ہوا کھلوائی جس کے بارے میں عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں بات کررہا ہوں جسٹس اے کے گانگولی کی، جن کا اپنے عہد کا آخری دن تھا۔ جمعرات کو جسٹس گانگولی کے بیباک ریمارکس تاریخ میں درج ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تینوں اشوز پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ پہلا کمپنیوں کے 122 لائسنس منسوخ کرنا،7 کمپنیوں پر بھاری جرمانہ۔ دوسرا چدمبرم کے معاملے میں فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑنا۔ تیسرا سی بی آئی جانچ کی نگرانی کا کام سی بی آئی کی دیکھ ریکھ میں برقرار رکھنا۔ تینوں فیصلوں کے دور رس اثر ہونا لازمی ہیں۔ بڑی عدالت میں تین کمپنیوں پر پانچ پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ تھونکا ہے۔چار کمپنیوں پر 50-50 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سرکار کی پالیسی عوامی مفاد کے خلاف ہے تو عدالت اسے منسوخ کرسکتی ہے۔ اپنے دائرہ اختیارکا استعمال کر کورٹ کے اس فیصلے کا مقصد ہے کے اس وقت کے وزیر مواصلات اے۔ راجہ کے وقت میں لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیاں متاثر ہوں گی۔ کورٹ نے کہا 10 جنوری2008 ء کو لائسنس منمانے اور غیر آئینی طریقے سے جاری کئے گئے تھے، جنہیں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہیں بڑی عدالت نے پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی جانچ کی مانگ پر فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑدیا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس میں واقع اسپیشل عدالت کودودن میں فیصلہ سنانے کوکہا گیا ہے ممکن ہے خصوصی عدالت اپنا فیصلہ سنیچر4 فروری یعنی آج سنادے۔بڑی عدالت نے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ٹرائی کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ماہ میں ٹوجی لائسنس الاٹ کرنے کے لئے نئی سفارشیں دے۔ جسٹس جی ۔ایس سنگھوی، جسٹس اے۔ کے گانگولی کی بنچ نے سرکار سے ٹرائی کی سفارشوں پر ایک ماہ کے اندر عمل کرنے کوکہا ہے۔ فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے عرضی گذار جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے کہا یہ سرکار کی اجتماعی ناکامی ہے۔ اس نے وارننگ کو نظرانداز کیا۔ بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ یہ ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری یوپی اے سرکار کا فیصلہ تھا۔ٹرائی کے چیئرمین جے ایم شرما نے کہا اس فیصلے سے پانچ فیصدی لیڈروں پر اثر پڑے گا۔ یعنی اب موبائل کالیں مہنگی ہوجائیں گی یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب اترپردیش اسمبلی چناؤ سر پر ہیں۔ یقینی طور سے اپوزیشن اسے بھنانے کی کوشش کرے گی اور اسے ایک ایسا نیا اشو مل گیا ہے جس سے یوپی اے سرکار کی پریشانی بڑھ جائے گی کیونکہ یہ دور رس فیصلے ہیں ان کے اثر کو سمجھنے میں بھی ٹائم لگے گا۔ لیکن فیصلے سے صنعتی دنیا میں زلزلہ آگیا ہے۔ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اتنی بااثر صنعتی کمپنیوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ اس درمیان ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت میں ڈاکٹر سوامی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا ٹو جی معاملے میں60 فیصدی رقم سونیا گاندھی نے لی ہے اور اس کا ثبوت ان کے پاس ہے۔ اب سب کی نظریں 4 فروری کو پٹیالہ ہاؤس میں واقع خصوصی عدالت پر ٹکی ہوئی ہیں جس میں پی چدمبرم کی قسمت کا فیصلہ آئے گا۔ چدمبرم کی نجی سیاست اس فیصلے پر ٹکی ہے کچھ حد تک یوپی اے سرکار کا مستقبل بھی اس پر منحصرہے۔ اگر چدمبرم پر مقدمہ چلتا ہے تو یقینی طور سے اس کا اثر منموہن سرکار پر پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے سرکار کیسے لڑتی ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

آخر یہ پونٹی چڈھا کون ہے اور کیوں ہے اتنی ہائے توبہ؟



Published On 4th February 2012
انل نریندر
اترپردیش اسمبلی چناؤ میں پہلے مرحلے کی پولنگ سے ٹھیک پہلے صوبے کی سیاست میں تیزی لاتے ہوئے انکم ٹیکس محکمے نے مایاوتی کے سب سے قریبی صنعت کار گوردیپ سنگھ عرف چڈھا عرف پونٹی چڈھا کے ٹھکانوں پر زبردست چھاپا مارا۔ پونٹی چڈھا کے دھندے فلم ،ریٹیل ،ریئل اسٹیٹ، مال و ملٹی کمپلیکس کے کاروبار سے لیکر اترپردیش میں شراب کے ٹھیکوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی کے کافی قریبی ہیں۔ انکم ٹیکس محکمے کے 223 افسروں نے 17 مقامات پر ایک ساتھ چھاپے مارے، چڈھا گروپ پر یہ اب تک کی سب سے بڑی چھاپہ ماری تھی۔ انکم ٹیکس محکمے کو اندیشہ تھا کہ چڈھا کافی عرصے سے موٹی کمائی کررہے ہیں اور اپنی نامعلوم آمدنی کے بدلے وہ کافی ٹیکس دے رہے ہیں۔ ذرائع کا دعوی کہ نوئیڈا میں چڈھا کے سینٹر اسٹیج مال سے محکمہ انکم ٹیکس نے بھاری مقدار میں نقدی برآمد کی ہے۔ اس مال کے تہہ خانے سے ایک بڑی تجوری ملی ہے۔ قیاس لگایا جارہا ہے اس میں قریب100 سے200 کروڑ روپے ہو سکتے ہیں۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ یہ تجوری کھولی گئی ہے اور یہ خالی ملی ہے۔ محکمے نے تجوری کو سیل کرکے چڈھا کو 14 دن میں حاضر ہونے کا نوٹس بھیجا گیاتھا اور ان کو14 دنوں میں حاضر ہونے کو کہا گیا تھا لیکن وہ نہیں آئے اس کے بعد انکم ٹیکس محکمے کے افسران نے تجوری توڑ دی جس میں کچھ نہیں ملا۔آخر یہ پونٹی چڈھا کون ہے اور کیوں اس چھاپے ماری پر ہائے توبہ مچی ہوئی ہے؟ شراب کاروباری پونٹی چڈھا نے محض39 سال کی عمر میں چڈھا گروپ کا وسیع سامراجیہ کھڑا کردیا۔ شروعات گنا کریشر سے ہوئی تھی اور اب وہ کئی چینی ملوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے مال اور ملٹی کمپلیکس کی چین کھڑی کردی ہے۔ شراب ٹھیکوں سے آغاز کرکے لمبی چوڑی اسٹیٹ بنالی۔ ریئل اسٹیٹ، پیپر مل، باٹلنگ پلانٹ میں ان کی دھاک ہے۔ پونٹی چڈھا کے والد سردار کلونت سنگھ نے کاروبار کا آغاز مظفر نگر میں گنا کریشر سے کیا تھا۔ بیٹے بڑے ہوئے تو شراب کا کاروبار شروع کیا۔ تینوں بھائیوں میں سب سے چھوٹے پونٹی نے سیاستدانوں سے نزدیکیاں بنانی شروع کیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پونٹی نے اترپردیش، پنجاب، دہلی، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش کے بڑے بڑے لیڈروں سے بہت اچھے تعلقات بنا لئے۔ آج ان کا کاروبار ان سبھی ریاستوں میں پھل پھول رہا ہے۔ پونٹی چڈھا کو اترپردیش ہی نہیں بلکہ پنجاب ،اتراکھنڈ، ہریانہ اور راجستھان ،دہلی کے سیاسی گلیاروں میں بھی سبھی جاتنے ہیں۔ اترپردیش کے تراہی علاقے میں شراب کے کاروباری پونٹی چڈھا پچھلے قریب ڈیڑھ دہائی میں کامیابی کی منزل پر جس طرح پہنچے اس میں کاروباری صلاحیت سے زیادہ الگ الگ پارٹیوں کے نیتاؤں سے ان کی قربت اور رابطہ قائم کرنے کا فن سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ مراد آباد کے باشندے پونٹی چڈھا کو اترپردیش کی مایاوتی سرکار کی خاص کرپا حاصل ہے۔بسپا اور اترپردیش سرکار میں مایاوتی کے خلاف سب سے طاقتور مانے جانے والے نسیم الدین صدیقی اور پونٹی کی دوستی کے قصے اقتدار کے گلیاروں میں خوب سنے جاتے ہیں۔ مایاوتی سرکار کو پونٹی کے طریق�ۂ کار پر اس قدر بھروسہ ہے کہ اترپردیش کا پورا شراب کاروبار ہی پونٹی کی کمان میں ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاست میں200 کروڑ سے زیادہ کاروبار ہوتا ہے۔ پونٹی شروعاتی دنوں میں کانگریس کے نیتاؤں کے بیحد قریبی رہے ، پھر ملائم سنگھ یادو کی پچھلے دنوں سرکار میں پونٹی کی کئی سینئر لیڈروں جن میں امرسنگھ قابل ذکر ہیں سے ان کی دوستی موضوع بحث بنی رہی۔ سپا کے عہد میں بھی پونٹی نے نوئیڈا اور آس پاس کے علاقوں میں اپنا کاروبار بڑھایا لیکن ریاست میں اقتدار بدلنے اور مایاوتی کے وزیر اعلی بننے کے بعد پونٹی ملائم سے زیادہ مایاوتی سرکار کے قریب ہوگئے۔ صرف اترپردیش ہی نہیں بلکہ کانگریس ہریانہ ،اترپردیش، راجستھان میں بھی پونٹی کے کئی نیتاؤں سے قریبی رشتے رہے ہیں۔ پنجاب میں چاہے اقتدار میں کانگریس سرکار ہو یا اکالی دل تو پونٹی چڈھا کا کوئی کام رکتا نہیں۔اسی طرح راجستھان ، ہریانہ اور اتراکھنڈ میں بھی چاہے کسی پارٹی کا راج ہو پونٹی چڈھا راج کرتے ہیں۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے کچھ گھنٹوں پہلے ان چھاپوں کی سیاسی اہمیت ہے۔ یہ مایاوتی کی ایک طرح سے کمر توڑنے کی کوشش مانا جائے گا۔ پونٹی چڈھا یقیناًبہوجن سماج پارٹی کے سب سے بڑے فائننسر ہوسکتے ہیں اور ایسے وقت جب پارٹی کو پیسوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتب چھاپے ماریں جائیں، مطلب صاف ہے ویسے اخباروں میں جو پونٹی کی زمینوں کی تفصیل چھپی ہے اس سے تویہ سارا راز کھلا ہے۔ غازی آباد میں پونٹی کے پاس کوشامبی میں 250 ایکڑ، ویشالی میں 500 ایکڑ، وسندرا میں1100 ایکڑ، اندرا پورم میں1100 ایکڑ اور باقی شہری علاقوں میں تقریباً7 ہزار ایکڑ زمین ہے۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ 20 سال سے زیادہ وقت میں جی ڈی اے جتنی بھی کالونیاں لایا ہے وہ سب900 ایکڑ سے کم ہیں۔ پونٹی نے صرف12 سال میں یہ سب کچھ کھڑا کیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Ponti Chadha, Vir Arjun

03 فروری 2012

بھاری پولنگ ووٹروں میں بیداری کی علامت ہے


Published On 3rd February 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے لئے اسمبلی کی تشکیل کاعمل شروع ہوچکاہے۔ پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور میں پولنگ ختم ہوچکی ہے۔تینوں ریاستوں میں پولنگ سے جہاں ہماری جمہوری نظام کو مضبوطی ملتی ہے وہی چناؤ کمیشن کو اس کااطمینان ہوگا کہ ان ریاستوں میں برائے نام تشدد کے نہ صرف چناؤ مکمل ہوئے بلکہ ان میں بھاری پولنگ بھی ہوئی۔ منی پور پولنگ کافیصدہمیشہ39 فیصد رہا یہی 80 فیصدی ووٹ پڑنا غیر معمولی بھلے نہ ہو بلکہ توجہ دینے کی بات ہے کہ کچھ انتہا پسند تنظیموں کی سرگرمی بے اثر رہی۔ جنتا نے بلٹ کے بجائے بیلٹ کوترجیح دی۔ پنجاب اور اتراکھنڈ دونوں میں پولنگ فیصد 77 اور 70 رہا۔ اب ا میدیہی ہے کہ اترپردیش میں یہی ٹرینڈ جاری رہے گا۔ اتراکھنڈ میں 2007میں 63.72 فیصد ووٹ پڑا تھا۔ عام طور پر ماناجاتا ہے کہ بھاری پولنگ کامطلب اقتدار مخالف لہر یہ بھی کہاجاتا ہے کہ وہاں کی جنتا نے تبدیلی اقتدار کے نام پر زیادہ تعداد میں ووٹ دیئے لیکن ہمارا خیال ہے کہ بھاری پولنگ ہونے سے کوئی اندازہ لگانا ٹھیک نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ حکمراں پارٹی اپنے ووٹ ڈالوا لیتی ہے پنجاب میں اس بار 70فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی ہے۔ کئی سیٹوں پر تو یہ 85 فیصد تک پہنچ گئی۔ وزیراعظم اعلی پرکاش سنگھ بادل کے حلقہ لمبی میں 85فیصد جب کہ مالیرکوٹلہ میں 88 فیصد پولنگ ہوئی۔ اتنی پولنگ کاکوئی مطلب نکالنا پنجاب میں بے حد مشکل سودا ہے۔ پچھلے چار اسمبلی چناؤ کے اعداد وشمار دیکھیں تو یہ کہنا مشکل ہے کہ کس پارٹی کی سرکار مارچ میں بنے گی۔ 2007 میں گزشتہ اسمبلی چناؤ کے دوران صوبے میں 75.45 فیصدی پولنگ ہوئی تھی۔ اکالی بھاجپا محاذ اقتدار میں آیا تھا اس وقت 117 ممبری پنجاب اسمبلی میں اکالی دل کو49 اور اس کی اتحادی بھاجپا کو 19 سیٹیں ملی تھی۔ کانگریس کوتب44 سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑاتھا۔ تینوں ریاستوں میں بھاری پولنگ سے صاف ہے کہ ووٹ کی طاقت نوٹ سے زیادہ ہے۔ اس میں بھاری پولنگ کاایک مطلب یہ نکالا جاسکتا ہے کہ ووٹرو ں میں اپنے حق اورجمہوریت کے تئیں احساس بڑھا ہے وہ اپنے حق کااستعمال کرنے آگے آئے ہیں۔ عوامی مشینری کے پہیوں کو رفتار دینے میں ان کی ساجھے داری سے صحت مند جمہوریت کی بنیاد مضبوط کرے گی۔ ووٹ کی طاقت کیاہے یہ بتانے میں اناہزارے میڈیا اور اطلاعاتی مشینری کے دوسرے وسائل کا کردار کو درکنار نہیں کیا جاسکتا۔ اناہزارے کی مہم کم سے کم پولنگ کرنے میں ضرور اثر دکھارہی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب ووٹ کامطلب نیتا تک محدود ہوا کرتا تھا۔ سیاسی پارٹی ووٹروں کو گھر سے اس کی جی حضوری کرتے ہوئے پولنگ مرکز تک گھوڑا گاڑی رکشا کا انتظام کیا کرتے تھے۔ اور ووٹ کی پرچی ہاتھ جوڑ کر اس کے گھر کے پہنچادیا کرتے تھے۔ دونوں ہاتھ جوڑ کرکہتے تھے کہ ہمارا خیال رکھنا۔ ہماری عزت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اب ووٹربیدار ہوگیا ہے ووٹر نے نیتا کی بانگی کو ٹول کر فیصلہ اپنے بل پرکرنے کی جو پہل کی ہے اس کا خیرمقدم ہے کل ملاکر پولنگ میں اس بار نئی اور عجوبہ ٹرینڈ دیکھنے کو ملے ہے۔ جو ہمارے دیش کی جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Manipur, Punjab, State Elections, Uttara Khand, Vir Arjun

کرپٹ جن سیوکوں کے خلاف راستہ کھلا


Published On 3rd February 2012
انل نریندر
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ میں صاف کردیا ہے کہ کرپشن کے الزامات سے گھرے وزراء اور ایم پی و ممبراسمبلی واعلی حکام اب کارروائی کی منظوری لمبی ہونے کی آڑ میں زیادہ دن تک بچ نہیں پائیں گے۔ سپریم کورٹ نے اپنے یہ دوررس فیصلہ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی ایک عرضی پر دیا جس میں بتایاگیا تھا کہ کس طرح سے پی ایم او نے اے راجہ کے خلاف کرپشن کامقدمہ مہینوں لٹکا کر رکھا۔ اور کوئی جواب نہیں دیا لوک سیوکوں پر مقدمہ درج کرنے کے لئے میعاد مقرر کرنے سے متعلق ڈاکٹر سوامی کی اس عرضی کو قبول کرلیا اور عدالت نے جہاں مرکزی سرکار کو جھٹکا دیا وہیں اس کے رخ کی دوررس اہمیت یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کو کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف وزیراعظم یا عدالت کے پاس جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔ بڑی عدالت نے صاف صاف کہا ہے کہ کرپشن انسداد قانون کے کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف شکایت درج عام آدمی کا آئینی حق ہے درصل وزیراعظم دفتر نے سپریم کورٹ میں دائر حلف نامہ میں کہاتھا کہ سوامی کا خط صحیح نہیں تھا کیونکہ سوامی کو طویل عرصے کے بعد پی ایم او سے ملے جواب پر اعتراض تھا۔ اس لئے عزت مآب عدالت نے یہ بھی کہا تھاکہ اگر چار مہینے کے اندر ملزم شخص کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ملتی تو مان لیا جانا چاہئے کہ متعلقہ اتھارٹی نے اجازت دے دی ہے۔ یہ معاملہ ماہ نومبر 2008کا ہے جب ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں اس وقت کے وزیرمواصلات کے کردار کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے وزیراعظم کو خط لکھ کراے راجہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بارے میں کہاتھا وزیراعظم کے دفتر سے اس کا جواب قریب سولہ مہینے کے بعد مارچ 2010کوملاتھا۔ جس میں کہاگیا تھا کہ ان کی عرضی قبل ازوقت ہے۔ یعنی تب حکومت معاملے کی تہہ میں جانے کی خواہش مند نہیں تھی۔ صرف یہی نہیں ٹوجی گھوٹالے کے متعلق اہم مقدموں کو سوامی عدالت میں لے گئے ہیں۔ یہ بھی کہ سوامی کی پہل کے بعد اے راجہ کو وزارت چھوڑنی پڑی تھی۔ اور ان کی گرفتاری ہوئی سپریم کورٹ اس فیصلے سے وزراء واعلی افسروں کی ایک بڑی سیکورٹی دیوار ضرور ٹوٹ گئی ہے جس کی آڑ میں وہ عام طور پر کرپٹ جن سیوک کرپشن کامعاملہ ہوتے ہوئے بھی بچ نکلتے تھے اب تک ہوتا یہ تھا کہ کسی سرکاری افسر یا عوامی نمائندے کے خلاف کرپشن کا معاملہ درج کرنے سے پہلے سرکار سے اجازت لینی پڑتی ہے اور اکثر ایسی اجازت کی عرضیوں پر یاتو کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا یا اجازت نہیں دی جاتی ہے اگر اجازت نہ ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ نہ ہوتو آسان طریقہ کوئی فیصلہ نہ لیناہوتا تھا۔ تازہ فیصلے نے دوبڑے پیمانے رائج کردیئے ہیں پہلا یہ کرپشن کامعاملہ چلانے کی عرضی کو حکومت یقینی لمبی میعاد تک نہیں ٹال سکتی اور دوسرا ہمارے جمہوریت میں ہر شہری کو یہ حق ہے وہ سرکار پر کرپشن کے معاملوں میں کارروائی کے لئے دباؤ ڈالے یہ ایک دوررس اثر ڈالنے والے اہم فیصلہ ہے۔
 Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, P. Chidambaram, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

02 فروری 2012

اور اب ممتا نے منموہن سنگھ پر سیدھا حملہ کیا


Published On 2nd February 2012
انل نریندر
یوپی اے کی اتحادی پارٹیوں کے بڑھتے دباؤ سے کانگریس کا سیاسی بحران بڑھتا جارہا ہے۔ ممتا بنرجی اور شرد پوار دونوں نے کانگریس کی ناک میں دم کردیا ہے۔ پیر کے روز ممتا نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم منموہن سنگھ پر نشانہ لگایا۔ پیر کو ممتا نے منموہن سنگھ پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے سنگور میں زمین تحویل مخالف ان کی تحریک کے دوران ان سے بات نہیں کی تھی۔ ایسا انہوں نے مارکسوادی پارٹی کے ڈر سے کیا تھا کیونکہ وہ اس کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ معاملے نے حیرت انگیز ڈھنگ سے این سی پی نیتا اور وزیرزراعت شرد پوار کی لائن اختیار کرتے ہوئے غذائی سکیورٹی ایکٹ کو لاگو کرنے پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔ حیرانی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا آخر سرکار اس کے لئے پیسہ کہاں سے لائے گی؟ بنگلہ زبان کے تین چینلوں پر نشر انٹرویو میں ممتا نے اپنے ٹیلی کاسٹ انٹرویو میں اپنی پارٹی کو یوپی اے اتحاد کی ایک ذمہ دار پارٹی بتایا۔ اس محاذ کو برقرار رکھنے کی ہماری ذمہ داری ہے لیکن ہماری ان لوگوں کے تئیں بھی ذمہ داری ہے جنہوں نے ہمیں چنا ہے۔ ممتا کا کہنا ہے اس لئے عوام مخالف پالیسیوں کی ہم ہمیشہ مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا ترنمول کانگریس نے اپنی سرگرمیوں کوپالیسیوں کی بنیاد پر بڑھایا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے لوگوں کو سیدھے طور پر متاثر کرنے والے خوردہ بازار میں براہ راست طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اور پیٹرول کے داموں میں اضافے کی مخالفت کی لیکن کانگریس کے کچھ لیڈر مارکس وادی پارٹی کی طرح کام کررہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ترنمول نیتا نے مرکز پر ریاست کے لئے پیکیج دینے میں ٹال مٹولی کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں چناؤ سے پہلے وزیر اعظم نے ریاست کی مدد کا وعدہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں پچھلے 8 مہینے میں میں وزیر خزانہ پانچ بار مل چکی ہوں۔ میں بھیک نہیں مانگ رہی ہوں۔ کچھ بھی ہوجائے ہم عزت سے سر اٹھا کر چلیں گے۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس میں دراڑ چوڑی ہوتی جارہی ہے۔ کانگریس محسوس کرنے لگی ہے کہ ترنمول کا منصوبہ ہے کہ کانگریس کے گڑھ والے علاقے میں پیٹ بنانا۔نشانے پر ہیں ممتا کے کچھ مخالف مانے جانے والے کانگریس نیتا۔ دیپا داس منشی، ادھیر چودھری اور موسم بینظیر نور کے اثر والے ضلع ہیں۔پچھلے دنوں کانگریس اور ترنمول محاذ میں جاری کھینچ تان نیتاؤں کے درمیان تنازعہ سے آگے نکل کر جنتا کی عدالت میں چلی گئی ترنمول کے نیتاؤں نے ریلی کر کانگریسیوں کو اتحاد چھوڑنے کی چنوتی دے ڈالی۔ ترنمول کانگریس کے لیڈروں نے ایک آواز میں کہا کہ یہ کانگریس کو طے کرنا ہے کہ انہیں پچھلے دروازے سے باہر نکلنا ہے یا بڑے دروازے سے۔ جس رفتار سے دونوں پارٹیوں میں خلیج چوڑی ہوتی جارہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب دونوں الگ الگ راستہ اپنا لیں، بہت کچھ منحصر کرتا ہے ان پانچ اسمبلی چناؤ کے نتائج پر۔ اگر ان میں کانگریس کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

شاہ رخ خاں کو آخر غصہ کیوں آیا؟


Published On 2nd February 2012
انل نریندر
ہمارے بالی ووڈ ستاروں کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت میڈیا کی سرخیاں بن جاتی ہیں۔ کیونکہ ان ستاروں کے بارے میں پرستار سب کچھ جاننے سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ بالی ووڈ میں کنگ خان یعنی شاہ رخ خان جب ایک پارٹی میں کسی کی پٹائی کردیتے ہیں تو وہ بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔ باکس آفس کے بادشاہ کہے جانے والے شاہ رخ خان کیا اپنا تاج لڑکھڑانے سے پریشان ہوگئے ہیں؟ الزام ہے کہ شاہ رخ خان نے فلم 'اگنی پتھ 'کی کامیابی کو لیکرجوہو کے ایک ریستوراں میں چل رہی پارٹی میں نہ صرف فرح خان کے پتی کندرا کو ان کے بال پکڑ کر فرش پر گرادیا بلکہ ان کی پٹائی بھی کی۔ رتیک روشن، پرینکا چوپڑہ اور سنجے دت، رشی کپور اپنی فلم 'اگنی پتھ' کی کامیابی پر جوہو کے آرس ریستوراں میں سنجے دت کے دوست بابا دیوان نے ایتوار کی شام پارٹی دی تھی۔ یہ پارٹی پوری رات چلی اور پیر کو صبح ساڑھے تین بجے جب پورے شباب پر پارٹی تھی تبھی وہاں شاہ رخ خان اپنے تین باڈی گارڈ کے ساتھ پہنچے۔ شاہ رخ اور پرینکا سیدھے فلم فیئر ایوارڈ سے وہاں آئے تھے اور وہ انہیں فرح خان کے شوہر اور زیر تکمیل فلم 'جوکر' کے ہدایتکار سریش کندرا دو لڑکیوں کے ساتھ کھڑے دکھائی دئے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق سریش اس وقت اپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کررہے تھے اسی دوران مبینہ طور سے انہوں نے شاہ رخ خان اور پرینکا چوپڑہ کے رشتوں کو لیکر کچھ فقرے بازی کی تھی جسے شاہ رخ خان نے سن لیا۔ شاہ رخ پہلے ہی سے کندرا سے ناراض چل رہے تھے کیونکہ ذرائع کے مطابق سریش کندرا نے سوشل ویب سائٹ ٹوئیٹر پر شاہ رخ کی فلم 'را۔ون' کی تنقید کی تھی۔ سریش کندرا سے پہلے سے خفا چل رہے شاہ رخ خان نے کیا سنا اور واقعی سریش نے ایسا کیا کہا جس سے شاہ رخ ایک دم بھڑک گئے ، یہ تو پتہ نہیں چلا لیکن پارٹی میں موجود لوگوں سے بات چیت کے مطابق پرینکا کے بارے میں ہی ہونے کی بات کررہے ہیں۔ اسی سے شاہ رخ کا غصہ بڑھا اور چشم دید گواہوں کے مطابق انہوں نے سریش کے بال پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا ۔ اس کے بعد شاہ رخ نے ان کے چہرے پر تھپڑ رسید کئے۔ مار پیٹ ہوتے دیکھ ریستوراں کے مالک بابا دیوان نے بیچ بچاؤ کرنے کی کوشش کی تو شاہ رخ نے انہیں بیچ میں نہ پڑنے کو کہا۔ اس کے بعد سنجے دت نے زبرستی شاہ رخ کو سیریز سے الگ کیا اور انہیں اپنی باہوں میں دبوچ کر ریستوراں سے باہر لے گئے۔ شاہ رخ خان کی فلم 'را۔ون' کی ریلیز کے وقت بھی اسے ایک بکواس فلم ثابت کرنے کیلئے ٹوئٹر پر لگاتار رائے زنی کی تھی اور سلمان خان کی فلم 'دبنگ' کے آگے اسے بیکار بتانے کی کوشش کی تھی۔ پارٹی میں فرح خان موجود نہیں تھیں۔ فلم 'تیس مار خاں' سے پہلے تک فرح خان کے رشتے شاہ رخ خان سے کافی اچھے تھے اور انہوں نے شاہ رخ کو 'میں ہوں نہ' فلم 'اوم شانتی اوم' میں ہدایت بھی دی تھی۔ سریش تب بطور فلم ایڈیٹر شاہ رخ سے وابستہ تھے۔ شاہ رخ کی طرف سے کوئی بیان تو جاری نہیں کیا گیا لیکن ایک چینل نے شاہ رخ سے بات کرنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے واقعے سے انکا کیا ہے۔ شاہ رخ کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ان دنوں اپنے کیریئر کو لیکر کافی کشیدگی بھرے دور سے گذر رہے ہیں ان کی ہوم پروڈکشن فلم 'را۔ون' اور اس کے بعد 'ڈان۔2' کی کمائی کو لیکر چاہے جتنے بھی دعوے کئے جاتے ہوں لیکن اس سال کے ایوارڈ میں انہیں خاص توجہ نہیں مل رہی ہے۔ وہ جہاں بھی جارہے ہیں بطور مہمان جارہے ہیں اور سال کے تقریباً سارے ایوارڈ رنبیر کپور کو ان کی فلم 'راک اسٹار' پرفارمنس پر مل رہے ہیں اور اس سے بھی شاہ رخ کشیدگی میں ہیں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ اسکرین ایوارڈ میں شاہ رخ کو 'ڈان۔2' کے لئے کیسے بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ دیا گیا؟ قابل ذکر ہے کہ پہلے بھی ایک بار ایشوریہ رائے کو لیکر کئے گئے تبصرے کے بعد شاہ رخ اور سلمان کے رشتوں میں کھٹاس پیدا ہوئی تھی۔ اچھی خبر یہ ہے کہ کن خان اور سریش کندرا کے بیچ سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ دوستی کرانے میں اہم کردار ساجد خان اور ساجد نڈیاڈوالا نے نبھایا ہے۔ فرح خان کا کہنا ہے ہم نے گذری باتوں کو بھلادیا ہے۔ ٹائمس ناؤ سے بات کرتے ہوئے فرح کا کہنا ہے کہ ساجد خان (فرح کے بھائی) اور ساجد نڈیاڈوالا نے اس کے لئے پہل کی ۔دونوں فرح اور سریش شاہ رخ کے گھر گئے تھے۔ سب آپس میں بات چیت کرکے معاملے کو سلجھا لے گئے۔ جب فرح سے پوچھا گیا کے اس بارے میں سریش کا کیا کہنا ہے تو انہوں نے کہا جو کچھ ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا ۔ کیا واقعی معاملہ سلجھ گیا ہے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Shah Rukh Khan, Vir Arjun

01 فروری 2012

نوئیڈا میں بینکوں، نرسنگ ہوم ، کلینکوں پر گاج گری



Published On 1st February 2012
انل نریندر
رہائشی سیکٹر میں چل رہے کاروباری اداروں کو بند کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کا اثر یومیہ جمہوریہ سے نوئیڈا میں دکھائی دینے لگا ہے۔ کچھ سیکٹروں میں لوگوں نے جھنڈا لہرانے کے بعد عدالت کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے اجتماعی طور پر اپنی دکانیں بند کرنا شروع کردی ہیں۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کارروائی کا آغاز بینکوں سے ہوگا۔ نوئیڈا کے رہائشی علاقوں میں چل رہے 104 بینک شاخیں سیلنگ کے تحت آجائیں گی۔ پہلے مرحلے میں سیکٹر19 میں چل رہے 21 بینکوں کو سیل کیا جائے گا۔ اتھارٹی نے رہائشی بلڈنگوں میں چل رہے کاروبار کے خلاف لوگوں کو نوٹس بھیجنا شروع کردیا ہے۔عدالت نے 5 دسمبر2011 ء کو بینکوں کی عمارت مالکوں کی طرف سے دائر عرضی کی سماعت کرتے ہوئے نوئیڈا سیکٹر میں ماسٹر پلان کے برعکس چل رہیں سبھی کمرشیل سرگرمیوں کو دو ماہ کے اندر بند کرنے کے احکامات دئے تھے۔ عدالت کے اس حکم سے رہائشی علاقوں میں چل رہے بینکوں ،نرسنگ ہوم، دکانوں پر سیلنگ کی تلوار لٹک گئی ہے۔ اس فیصلے سے رعایت کی مانگ کرتے ہوئے بینکوں اور بینکوں کی عمارتوں کے مالکوں و نوئیڈا میڈیکل ایسوسی ایشن9 جنوری کو عدالت گئی تھی۔ عدالت نے اتھارٹی کو23 جنوری کو طلب کیا۔ اتھارٹی کے ذریعے کی جارہی کارروائی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے تیزی سے کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ حالانکہ رہائشی علاقوں کے 104 بینکوں کو رعایت دیتے ہوئے ان کے لئے پلاٹ کی اسکیم پیش کرکے الاٹ کرنے کے احکامات دئے۔ نرسنگ ہوم کو بھی پلاٹ کو دستیاب کرانے کے احکامات عدالت نے دئے۔ ایسے ہی کلینکوں کو ایف اے آر کے 25 فیصد استعمال کلینک کے طور پر کرنے کا حکم دیا۔
پورے معاملے کا ایک پریٹیکل اور انسانی پہلو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ بینک ، نرسنگ ہوم، ڈاکٹروں کی کلینک سبھی جنتا کی سیوا کے لئے ہے۔ بیشک یہ غور وفکر بھی جاری ہے کہ پبلک کے لئے نرسنگ ہوم کا فائدہ کالونی میں رہنے والے اور آس پاس کے لوگوں کو ہوتا ہے۔ سرکار اتنے اسپتال تو نہیں بنا سکتی بڑھتی آبادی کی دیکھ بھال کرسکتے۔ ان چھوٹے چھوٹے کلینکوں کو بند کرنے سے آپ مریضوں بڑے اور مہنگے پرائیویٹ اسپتالوں میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ ان بڑے ہسپتالوں میں جانا چھوٹے اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے، وہ اس صورت میں کیا کریں؟ بینکوں کا جہاں تک سوال ہے ان کے سیلنگ سے اربوں روپے کے ہیر پھیر کا سلسلہ تھم جائے گا۔ اس خبر کی بھنک ملنے کے بعدسے بینک تو پریشان ہی ہیں ساتھ ہی ساتھ لوگ بھی گھبرا گئے ہیں۔ حالانکہ اتھارٹی نے بینکوں کو شفٹ کرنے کی غرض سے 74 پلاٹ دینے کی اسکیم نکالی ہے ۔ مگر جب تک بینکوں کو دوسری جگہ پر شفٹ کیا جائے گا تب تک گراہکوں کو کافی پریشانی ہوگی۔ بینک برانچ ہی نہیں بلکہ اس حکم کے دائرے میں اے ٹی ایم بھی آرہے ہیں۔ زیادہ تر شاخوں میں اے ٹی ایم بینکوں کے اندر لگے ہیں۔ ان کی تعداد100 سے زیادہ ہے ایسے میں عام نوکری پیشہ افراد کی ایمرجنسی کا سہارا (اے ٹی ایم) بند ہوجائے گا۔ معاملے معمولی نہیں۔ بیشک رہائشی علاقوں میں بینک نہ چلیں لیکن نرسنگ ہوم اور ڈاکٹروں کی کلینک تو عام جنتا کی ضرورت ہے۔سرکار کو چاہئے سپریم کورٹ سے متاثرہ کمرشل اداروں کو منتقل کرنے کیلئے میعاد طلب کرے تاکہ وہ ان کو آباد کرکے باقاعدہ شفٹ کرنے کیلئے راہ ہموار کرسکے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Greater Noida, Supreme Court, Uttar Pradesh, Vir Arjun

یوپی میں کھڑا ہوا نیا تنازعہ آئی اے ایس بنام آئی پی ایس



Published On 1st February 2012
انل نریندر
ہماری سرکاری مشینری کے دائیں اور بائیں ہاتھ ہیں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسر۔ ان میں ایک کے ذمہ انتظامی نظام تو دوسرے کے ذمہ قانونی نظام ہے۔ ان کے تال میل سے ہی پورا انتظامیہ چلتا ہے اس لئے دونوں ہی اہم ہیں اور ان کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ دونوں ہیں ہاتھ برابر ہیں اور ضروری بھی۔ یہ آپس میں لڑ نہیں سکتے۔وجہ صاف ہے ایک ہاتھ کمزور ہوگا تو دوسرا خود متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ دونوں میں سے ایک بھی کمزور ہوا تو سارا نظام چرمرا سکتا ہے۔ آج اترپردیش میں یہی ہورہا ہے۔ چناوی ماحول میں سدھارتھ نگر کے ایس پی موہت گپتا کے تبادلے نے اترپردیش میں گذشتہ تین دنوں سے جاری آئی پی ایس بنام آئی ایس کی لڑائی کو اس قدر بھڑکایا کے ایتوار کی دیر شام تک قریب ڈھائی درجن اعلی پولیس افسران نے استعفے کی پیشکش کردی۔ معاملہ کیا تھا؟ سبھی افسر سدھارتھ نگر کے ایس پی موہت گپتا کے تبادلے سے ناراض ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے برا برتاؤ کرنے والے بستی کے کمشنر انوراگ شریواستو اور چیف سکریٹری وزیر اعلی کنور فتح بہادر کو عہدوں سے ہٹاتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ارون کمار( سکریٹری آئی پی ایس ایسوسی ایشن ) نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کئی افسروں نے استعفے بھیجے ہیں ان کے بارے میں ڈی جی پی کو بتادیا گیا ہے۔ ان افسران کو سمجھانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ادھر چناؤ کمیشن نے فوراً کارروائی کی ہے اور سدھارتھ نگر کے سابق ایس پی گپتا کے بیہودہ زبان کا استعمال کرکے انہیں میٹنگ سے باہر نکالنے پر سخت رویہ اپناتے ہوئے انوراگ شریواستو کو منڈل کمیشنر کے عہدے سے ہٹادیا ہے اور ان سے 31 جنوری تک جواب طلب کیا گیا تھا۔معاملے کو آئی پی ایس افسروں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چناؤ کمیشن نے ایتوار کی شام ہی شریواستو کو عہدے سے ہٹا کر رفع دفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ انتظامیہ نے انوراک شریواستو کو ایسے عہدے پر رہنے کو کہا ہے جو چناؤ سے وابستہ نہ ہو۔ انوراگ کا جواب ملنے کے بعد چناؤ کمیشن آگے کی کارروائی پر غور کرے گا۔ معاملے کی خبر ملتے ہی مایاوتی سرکار حرکت میں آگئی اور شام کو ہی ریاستی حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لئے دو نفری کمیٹی بنا دی جو تین دن میں اپنی رپورٹ سرکار کو سونپے گی۔
آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے پولیس آفیسرز میس میں ضروری میٹنگ کرنے کے بعد کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر سنگھ سے ملاقات کی اور اپنا موقف رکھا۔ اس میٹنگ کے بعد پھر میٹنگ ہوئی اور اس کے بعد سے استعفیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اسی درمیان بات پھیلی کے منڈل کمشنر انوراگ شریواستو نے چیف سکریٹری کنور سنگھ بہادر سے ملاقات کی اور منڈل کمشنر کو بچانے کی کوشش ہورہی ہے۔ اسی وجہ سے حکام نے اپنی ایسوسی ایشن کے سکریٹری کو اپنے استعفے بھیجے ہیں یہ استعفے مشروط بتائے جارہے ہیں۔ یعنی کمشنر کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے استعفے دینے پرمجبور ہوں گے۔ ایک مشکل یہ ہے کہ چناؤ کارروائی شروع ہوچکی ہے اور سرکار کے ہاتھ بندھے ہیں۔چناؤ کمیشن کو ہی معاملے کو آگے آکر رفع دفع کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, IAS, IPS, Uttar Pradesh, Vir Arjun

31 جنوری 2012

کیا دیش کے اگلے وزیر اعظم نریندر مودی ہوسکتے ہیں؟


Published On 31st January 2012
انل نریندر
آج اگر لوک سبھا چناؤ ہوجائیں تو ایک عوامی ریفرنڈم کے دعوے کے مطابق یوپی اے محاذ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور کانگریس کی قیادت والے راہل گاندھی کے مقابلے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو وزیر اعظم کی شکل میں بڑھت مل سکتی ہے۔ او آر جی نیلسن کی جانب سے کرائے گئے ملک گیر سروے کے جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ آج کی حالت میں چناؤ ہونے پر این ڈی اے کو 180 سے190 سیٹیں اور تیسرے مورچے کو بھی اتنی ہی سیٹیں ملیں گی جبکہ یوپی اے کو 168 سے177سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ سروے میں ایک دلچسپ سوال یہ بھی تھا کہ اگر انا ہزارے اور راہل گاندھی آمنے سامنے ایک ہی سیٹ پر مقابلہ کررہے ہوں تو آپ کس کو ووٹ دیں گے؟ اس سوال پر60 فیصد لوگوں نے انا ہزارے کی حمایت میں اپنا ووٹ دیا۔سب سے دلچسپ سوال تھا کہ وزیر اعظم کس کو دیکھنا چاہیں گے؟ وزیراعظم کے امیدوار کی شکل میں اگست2010 ء کے سروے کے مقابلے راہل گاندھی کی مقبولیت کا گراف 24 فیصد سے گھٹ کر17 فیصد آگیا ہے جبکہ نریندر مودی کا گراف12 سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ گیا ہے باقی لیڈر بہت نیچے ہیں۔ مثال کے طور پر اس سروے کے مطابق بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی مقبولیت حالانکہ 4 سے بڑھ کر10 فیصد ہوگئی ہے لیکن مودی کے وہ بہت پیچھے ہیں۔ تازہ سروے میں اڈوانی، منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی مقبولیت ایک ساتھ یعنی10-10 فیصد پر آگئی ہے۔ یہ سروے ایسے وقت آیا ہے جب پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔ سروے میں 19 ریاستوں میں اندازاً90 فیصد پارلیمانی حلقوں کے 12 ہزار سے زیادہ لوگوں کی رائے لی گئی۔ نریندر مودی آج جنتا کی نمبرون پسند ہیں۔ نریندر مودی کو ماننا پڑے گا کہ ان کے ستارے روشن ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے کے مودی کی سب سے کٹر سیاسی مخالف پارٹی کانگریس نے بھی غلطی سے ان کی تعریف کر ڈالی۔خبر پھیل گئی لیکن ایسا ہوا ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقعہ پر بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے گجرات کے کچھ حصوں میں اخبارات کے ساتھ دو صفحے کا ایک اشتہار شائع کروایا اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گجرات وجود میں آنے کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ریاست بن گیا۔ اس میں نریندر مودی سمیت ریاست کے سبھی وزراء اعلی کے اشتراک کو دکھایاگیا ہے۔اس میں مودی کی تصویر کے ساتھ انہیں با صلاحیت تنظیمی منتظم اور ماہر چناوی حکمت عملی بتایا گیا ہے۔گجرات میں اس سال دسمبر میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ چناؤ مہم تقریباً شروع ہوچکی ہے۔ اشتہار میں مودی کی اہم کامیابیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مودی گجرات کو طاقتور ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے بڑی محنت کررہے ہیں ۔ انہوں نے بایو ٹیکنالوجی کے لئے الگ محکمہ بنایا ہے۔ اس اشتہار کے شائع ہوتے ہی کانگریس میں گھماسان مچنا فطری ہی تھا۔ پارٹی کے بڑے لیڈر جہاں اسے بیوقوفی بھرا قدم بتا رہے ہیں تو وہیں ہائی کمان نے پردیش یونٹ اور انچارج موہن پرکاش سے جواب طلب کیا ہے۔ حالانکہ کانگریس لیڈر و مرکزی وزیر راجیو شکلا نے اسے مودی کی تعریف والا نہیں بلکہ ان پر ایک بڑا تنقید کرنے والا قراردیا ہے۔ اس اشتہار میں طنز کہاں ہے، اپنی سمجھ سے تو باہر ہے۔ اس میں سیدھی مودی کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, Vir Arjun

یران پر کیا امریکہ اسرائیل سے حملہ کروا سکتا ہے؟


Published On 31st January 2012
انل نریندر
ایران بنام مغربی ممالک لڑائی خطرناک دور میں منتقل ہوتی جارہی ہے۔ یوروپی یونین نے امریکہ کی لیڈر شپ میں ایران کی تیل درآمدات پر پابندی لگانے کے لئے بروسیلز میں ایرانی لیڈر شپ کے خلاف نیا مورچہ کھول دیا ہے۔ امریکہ ایشیائی ملکوں میں سے بھی ایران سے کچے تیل کی درآمد روکنے کی اپیل کررہا ہے۔ اس سے ایران پر چوطرفہ دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس کی کرنسی کمزور ہورہی ہے۔ امریکی مہم کے جواب میں ایران کے حکام نے خلیجی فرانس کے ناکے پر واقع ہوڈبرج جلڈمرو سے تیل بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایران کی اس دھمکی کی وجہ سے دنیا بھر کے تیل بازاروں میں بے چینی ہے حالانکہ فوجی ماہرین ایران کے ذریعے تیل بند کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں لیکن امریکہ اور اس کے ساتھی پہلے ہی جلڈمروسینٹر بند کرنے پر سخت کارروائی کرنے کی وارننگ دے چکے ہیں۔ برطانیہ ۔فرانس کے جنگی جہازوں کے ساتھ امریکہ کا جنگی بیڑہ یو اے ایس ابراہم لنکن بغیر کسی مذاحمت کے خلیجے فارس میں داخل ہوگیا ہے۔ دنیا کے کل تیل پیداوار کا آدھا حصہ اسی راستے سے ٹینکروں تک لے جایا جاتا ہے۔ حالانکہ خلیج فارس میں ہورموزجلڈمرو سینٹر پر یہ پابندی عارضی ہے پھر بھی اس پابندی کی وجہ سے دنیا میں توانائی کی لاگت میں کافی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایران نے اس سے کچا تیل خریدنے پر پابندی لگانے کے فیصلے کو پوری طرح سے غیر مناسب بتاتے ہوئے کہا کہ اسے جلد اس فیصلے کوواپس لینا پڑے گا۔ ایران نے یہ بھی صاف کیا کہ اس کے نیوکلیائی پروگرام توانائی ضرویارت کو پورا کرنے کیلئے ہیں اور وہ تمام پابندیوں کے باوجود جاری رہیں گے۔ دوسری طرف یوروپی یونین کا اعلان کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نیکولس سرکوزی ، جرمنی کی چانسلر انجیلا مارکل اور برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہمارا پیغام صاف ہے کہ ہماری ایرانی عوام کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن ایرانی لیڈر شپ اپنے نیوکلیائی پروگرام کو پرامن مقاصد کے بارے میں بین الاقوامی بھروسے کو بحال کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یوروپی لیڈروں نے کہا کہ ہم ایران کا نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنا منظور نہیں کریں گے۔ تینوں لیڈروں نے ایران کی لیڈر شپ سے اس کی حساس ترین نیوکلیائی سرگرمیوں کو فوراً بند کرنے اور اپنے بین الاقوامی تقاضوں کو پوری طرح تعمیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکہ کو اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ کہیں اس تنازعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل ایران پر حملہ نہ کردے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے پینٹاگن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر براک اوبامہ وزیر دفاع لیون پینیٹا اور دیگر بڑے حکام نے اسرائیلی لیڈروں کو کئی ذاتی پیغامات بھیجے ہیں جس میں حملے کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ اوبامہ نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو سے فون پر بات بھی کی ہے۔ کچھ دن پہلے تہران میں ایک بار بم دھماکے میں ایران کے ایک نیوکلیائی سائنسداں کی موت ہوگئی تھی ۔ ایران نے اس حملے کیلئے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ ایران کے ایک افسر نے اس حملے کے فوراً بعد کہا کہ دو لوگوں نے ایک موٹر سائیکل پر آکر جس طرح گاڑی کو میگنیٹک بم سے اپنا نشانہ بنایا وہ طریقہ ویسا ہی ہے جیسا پچھلے دو سال میں تین اور سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کے لئے اپنایا گیا تھا۔ ایران کی پارلیمنٹ میں 'امریکی مردہ باد ۔اسرائیل مردہ باد' کے نعرے لگے۔ ایران اور ان مغربی ممالک کے درمیان چل رہی کشیدگی ساری دنیا کے لئے خطرے کے اشارے ہیں۔ اگر تیل سپلائی متاثر ہوئی تو بھارت میں اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ایران کی کوشش ہوگی کہ اگر لڑائی کی نوبت آتی ہے تو وہ اسرائیل سے جھگڑا مول لینا چاہے گا۔دوسری جانب امریکہ بھی اسرائیل کے ذریعے سے ایران پر حملہ کرواسکتا ہے۔ ایران کے نیوکلیائی پروگرام سے سب سے زیادہ خطرہ اسرائیل کو ہی ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر ایران کو ایک نیوکلیائی حامل ملک بننے سے روک سکتا ہے۔ اگر اسرائیل ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی کرتا ہے تو ممکن ہے مشرقی وسطی کے دیگر عرب ممالک ایران کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پہلے سے ہی شورش زدہ مشرقی وسطی میں حالات اور زیادہ خراب ہوجائیں گے۔ امریکہ کی تو خیر یہ پالیسی پرانی ہے کہ عرب ممالک کے تیل ذخائر پر الٹے سیدھے بہانے بناکر قبضہ کرے امید کرتے ہیں یہ ٹکراؤ ٹل جائے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Iran, Israil, Vir Arjun

29 جنوری 2012

اتراکھنڈ میں بھاجپا کا مستقبل بھون چندر کھنڈوری کی ساکھ پر ٹکا ہے



Published On 29th January 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کو اتراکھنڈ میں چناؤ سے پہلے شری بھون چندر کھنڈوری کو رمیش پوکھریال نشنک کی جگہ وزیر اعلی بنانا ایک جوا ہے۔نشنک کرپشن کے الزامات لگنے کے بعد کافی بدنام ہوچکے تھے۔ کھنڈوری کی ہمیشہ سے صاف ستھری ساکھ رہی ہے اور انہوں نے ریاست کے لئے کام بھی کافی کئے لیکن ان کی مشکل یہ ہے کہ ایک سخت منتظم ہونے کے سبب وہ اپنے ممبران اسمبلی کی جائز ناجائز باتیں نہیں مانتے۔ اپنے اڑیل رویئے کی وجہ سے ہی انہیں ہٹانا پڑا تھا لیکن بھاجپا ہائی کمان کو لگا کہ نشنک نے تو لٹیا ڈوبادی۔ اس لئے مجبوراً دوبارہ کھنڈوری کولاکر جوا کھیلنا پڑا۔ بھاجپا کی ریاست میں دوبارہ برسراقتدار آنے کا خواب اب بھون چندر کھنڈوری کی ساکھ پر ہی ٹکا ہوا ہے۔ اتراکھنڈ ان بہت کم ریاستوں میں سے ہے جہاں لوک آیکت کی تقرری ہوئی ہے اور اس کی عام طور پر انا ہزارے نے اس کی کھلے طور پر سراہنا بھی کی ہے۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے پارٹی میں اتحاد نہیں ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی نارائن دت تیواری نے چناؤ کے عین پہلے خود کو وزیر اعلی کی دوڑ میں شامل کرلیا ہے۔ بدھ کو انہوں نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو وہ دو ایک برسوں تک وزیر اعلی کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ تیواری نینی تال ضلع کے رام نگر میں کانگریس امیدوار امریتا راوت کے حق میں چناؤ مہم کے لئے پہنچے تھے۔ امریتا راوت کانگریسی نیتا ستپال جی مہاراج کی بیوی ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو کیوں وہ وزیر اعلی بنیں گے؟اس پر انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کہ ایک یا دو سال میں وزیر اعلی کا عہدہ سنبھال سکتا ہوں۔دوسری جانب کانگریس امیدوار امریتا راوت کے شوہر اور ایم پی ستپال مہاراج نے کہا کہ تیواری پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور سبھی ان کا احترام کرتے ہیں۔ جہاں تک وزیر اعلی کے عہدے کا سوال ہے تو اسے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو طے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریسیوں میں زبردست جوش ہے اور ان کے تجربے کی بنیاد پر پارٹی اسمبلی چناؤ میں کامیابی حاصل کرے گی۔ ویسے نئی حد بندی نے اتراکھنڈ کی چناوی تصویر بدل دی ہے۔ نئی حد بندی سے اس پہاڑی ریاست میں میدانی علاقے کا دبدبہ بڑھ گیا ہے اور پہاڑ کی سیٹیں کم ہوگئی ہیں۔ اس سے سیاسی پارٹیوں کی ہار جیت کا حساب کتاب گڑ بڑ ہوگیا ہے۔
یہ اندیشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے کہ اس مرتبہ بھلے ہی پہاڑی علاقے سے وزیر اعلی بن جائے لیکن اگلے چناؤ میں یہ بات زور پکڑ سکتی ہے کہ میدان کا نیتا پہاڑی ریاست کا وزیراعلی بنے۔ خود وزیر اعلی بھون چندر کھنڈوری مانتے ہیں کہ نئی حد بندی پہاڑ کے مفاد میں نہیں ہے۔ نئی حد بندی کے بعد اتراکھنڈ میں 36 سیٹیں میدانی علاقے میں اور 34 سیٹیں پہاڑی علاقے میں آئی ہیں۔ اس سے پہلے تک 38 سیٹیں پہاڑ کے علاقے میں تھیں اور 32 سیٹیں میدانی علاقے میں۔ وزیر اعلی کھنڈوری پہاڑ سے چناؤ لڑتے آرہے ہیں لیکن اس بات وہ میدانی سیٹ کوٹ دوار سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح سابق وزیر اعلی رمیش پوکھریال نشنک ڈوئی والا سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ اتراکھنڈ ایک ایسی پہاڑی ریاست ہے جس کا آدھا حصہ میدانی ہے اور آدھا حصہ پہاڑی۔ اتراکھنڈ اسمبلی میں70 سیٹیں ہیں جس میں درجہ فہرست ذاتوں کے لئے 12 و شیڈول قبائل برادیوں کے لئے 3 سیٹیں ریزرو ہیں۔ حال ہی میں ایک سروے کے مطابق بھون چندر کھنڈوری کے وزیر اعلی بننے سے بھاجپا کا پلڑا بھاری ہے اور وہ پھر اقتدار میں آجائے گی جبکہ کانگریس بہت زیادہ مطمئن ہے کہ اگلی حکومت وہ ہی بنانے جارہی ہے۔
Anil Narendra, BC Khanduri, BJP, Congress, Daily Pratap, Nishank, Uttara Khand, Vir Arjun

یو پی چناؤ میں69 امیدوار جیل سے ہی ٹھونکیں گے اپنی تال



Published On 29th January 2012
انل نریندر
انا ہزارے یا چناؤ کمیشن بھلے ہی جتنا بھی زور لگا دے، پابندی لگادے اترپردیش میں سیاسی و جرائمی پھیلاؤ کو روک نہیں سکتے۔پیسہ ،طاقت اور دبنگی کے بڑھتے تجربے پر روک لگانے کی تمام کوششوں کے باوجود یہ پروان چڑھتی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب اترپردیش کے کسی چناؤ میں تقریباً69 امیدوار جیل سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی تب جبکہ مجرمانہ کردار رکھنے والے لوگوں کو ٹکٹ نہ دینے کا دعوی کرتے ہوئے کوئی پارٹی تھکتی نہیں ہے۔ بات یہیں تک نہیں رکتی۔ مجرمانہ ریکارڈ کے77 امیدواروں کو سیاسی پارٹیوں نے اتارنے میں کوئی پرہیز نہیں کیا۔ سیاست میں مجرموں کی یہ موجودگی صرف چار مرحلے کے امیدواروں کی بنیادپر جائزہ لیاگیا ہے۔پورے امیدواروں کے نام اور ان پر لگے الزامات کے پیش نظر تجزیہ کیا جائے تو یہ اعدادوشمار کافی بڑے دکھائی دیتے ہیں۔یہ حالت تو تب ہے جب تصویر ابھی دھندلی ہے۔ جب تصویر صاف ہوگی تو صحیح حالت کا پتہ چل سکے گا۔ اترپردیش کی اس 16 ویں اسمبلی کے لئے ہورہے چناؤ میں جرائم پیشہ کو چناوی دنگل میں اتانے کے معاملے میں سبھی سیاسی پارٹیاں بے نقاب ہوگئی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسی پارٹی ہو جس نے جیل میں بند کسی نہ کسی کوعزت دار بنانے کی نہ ٹھان رکھیں ہو۔ سماجوادی پارٹی نے امر سنگھ کو فیض آباد سے اتارا ہے، جو ان دنوں جیل میں بند ہیں۔ پیس پارٹی نے بھدوئی سے جتندر سنگھ ببلو کو جیل میں رہتے ہوئے چناؤ لڑنے کی ہری جھنڈے دے دی تھی۔بھدوئی ہی نہیں پیس پارٹی نے سلطانپور سے بھی دو دبنگوں سونو سنگھ اور مونو سنگھ کو ٹکٹ دئے ہیں جو حال ہی میں جیل سے چھوٹے ہیں۔ اپنا دل نے جیل میں بند عتیق احمد اور بین الاقوامی مافیہ منا بجرنگی کو عزت دار شخص بنانے کی ٹھانی ہے۔ منا نے تہاڑ جیل سے پرچہ بھرا ہے۔ مؤ سے آزاد امیدوارمختار انصاری نے آگرہ سینٹرل جیل سے اپنا پرچہ داخل کیا ہے۔ انہیں گذشتہ لوک سبھا چناؤ میں بسپا نے وارانسی سے بھاجپا کے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے خلاف اتارا تھا۔ گجرات کے احمد آباد جیل میں بند برجیش سنگھ چندولی ضلع کی سید رضا سیٹ سے پرگتی شیل مانو سماج پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ کیبنٹ وزیر نند گوپال نندی پر قاتلانہ حملے کے ملزم فتح پور جیل میں بند وجے مشر سپا کے ٹکٹ سے مرزا پور کی گیان پور سیٹ سے میدان میں ہیں۔ کانگریس نے اکیلے غازی پور کی جمنیا سیٹ سے جیل میں بند کلاوتی بند کو امیدوار بنایا ہے۔ اسی ضلع سے کانگریس نے نیشنل سکیورٹی ایکٹ اورغنڈہ ایکٹ کے تحت جیل میں بند سلیش سنگھ کو امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جیل میں بند پھولن دیوی کے قاتل شیر سنگھ رانا نے بھی گوتم بدھ نگر کی جیور سیٹ سے راشٹروادی پرتاپ سینا کے بینر تلے چناؤ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ داغی امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں سبھی پارٹیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ تقریباً سبھی سنگین مجرمانہ ریکارڈ والے 15 فیصدی امیدوار میدان میں اترچکے ہیں۔ بھاجپا نے 14، سپا نے15، کانگریس نے17 فیصدی مجرمانہ ساکھ کے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ بسپا بھی پیچھے نہیں اس نے بھی 16 فیصدی مجرمانہ ساکھ کے امیدواروں کو اتارا ہے۔ چھوٹی پارٹیوں کی تو بات نہیں کرتے اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Criminals, Daily Pratap, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...