Translater

30 جون 2012

پاک صدر بنام عدالتیں لڑائی بڑھتی جارہی ہے

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جارہا ہے۔ پاکستانی عدلیہ آصف زرداری اور ان کی حکومت کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئی ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے استعفے کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سپریم کورٹ نے نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے بھی سوال جواب شروع کردئے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملے میں دیش کی سپریم کورٹ نے اشرف سے سیدھا سوال کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں جانکاری منگانے کے لئے سوئس حکام کو خط لکھیں گے یا نہیں؟ وزیر اعظم اشرف کو جواب دینے کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔ سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کے سبب سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کو توہین عدالت کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا اور بعد میں انہیں نا اہل قراردیا گیا اور انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جسٹس نصیرالحق کی سربراہی والی تین نفری ججوں کی بنچ نے اپنے مختصر حکم میں کہا کہ اسے امید ہے کہ نئے وزیر اعظم عدالت کے حکم کی تعمیل کریں گے۔اگلی سماعت12 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔ پاکستان کے صدر کو براہ راست گھیرنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ نے تو کھل کر کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے پاس 5 ستمبر تک کا وقت ہے۔ اس دوران صدارتی محل میں سیاسی سرگرمیاں بند کردیں۔ لاہور ہائی کورٹ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی والی تین نفری بنچ نے صدر آصف علی زرداری سے حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین سے استعفیٰ دینے کو بھی کہا ہے۔ بنچ کے ذریعے حکم میں کہا گیا ہے صدر اگر ہائی کورٹ کے پچھلے سال کے دئے گئے حکم کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے تو عدالت ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرسکتی ہے۔ پچھلے سال دئے گئے حکم میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ 5ستمبر تک صدارتی محل میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ترک کردیں۔ زرداری صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے پی پی کے شریک چیئرمین بنے ہوئے ہیں اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے 12 مئی2011ء کو ایک حکم جاری کیا تھا کہ صدر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنی سیاسی ذمہ داریوں سے الگ ہوجائیں۔ اس حکم کے سلسلے میں دائر عرضیوں کی سماعت ہائی کورٹ کررہا ہے۔ بنچ نے زرداری کے خلاف حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیف کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دینے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ غور طلب ہے عدالت عالیہ نے 25 جون کو ہوئی پچھلے سماعت میں صدر کے پرنسپل سکریٹری کو طلب کیا تھا لیکن سکریٹری نہ تو عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی انہوں نے جواب داخل کیا۔ دوسری عرضی میں عرضی گذار محمد صدیقی نے عدالت سے کہا کہ زرداری نے خود کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ نہیں کیا۔ پاکستان میں عدلیہ بنام زرداری حکومت کا معاملہ خطرناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ عدالتیں زرداری کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ پاکستانی عوام بھی لگتا ہے کہ اس لڑائی میں عدالتوں کے ساتھ ہیں۔ حال ہی میں ایک سروے میں یہ چونکانے والا نتیجہ سامنے آیا کے پاکستانی عوام زرداری کے سخت خلاف ہے اور وہ بھارت سے بھی زیادہ غیر مقبول ہے۔پاکستانی فوج بھی زرداری کو ہر حالت میں ہٹانے کے حق میں ہے ایسے میں جب تینوں فوج عدالتیں اور عوام سبھی آصف علی زرداری کے خلاف متحد ہیں تو زرداری کے اپنے عہدے پر بنا رہنا مشکل لگتا ہے لیکن یہ صحیح یا غلط آصف زرداری چنے ہوئے صدر ہیں اور ابھی ان کی میعاد میں تقریباً دو سال بچے ہیں ایسے میں ان کو عہدے سے ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔ زرداری پر اگر اور دباؤ بڑھتا ہے تو وہ اسمبلی (پارلیمنٹ) کا چناؤ وقت سے پہلے کرواسکتے ہیں۔ اگر وہ ان کی پارٹی چناؤ جیت جاتی ہے تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی عوام نے اپنا بھروسہ ظاہر کردیا ہے اور جمہوریت میں عوام سب سے بالاتر ہوتی ہے۔ (انل نریندر)

اناج سڑا تو جیل کی ہوا کھائیں گے افسر

جس دیش میں 20 کروڑ سے زائد لوگوں کو بھرپیٹ کھانا میسر نہیں ہوتا ،جہاں40 کروڑ سے زیادہ لوگ خط افلاس کی زندگی بسر کررہے ہوں وہاں لاکھوں ٹن اناج سڑجائے یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ میں اپنے بھارت مہان کی بات کررہا ہوں۔ ہمارے دیش میں 10.5 فیصدی اناج کا صحیح ذخیرہ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہوتا ہے۔ اس اشو کو لیکر عدالت نے بھی سرکاروں کی جم کر کھنچائی کی ہے لیکن اس کے باوجود اس میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔ اترپردیش ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ نے بدھ کو ایک اہم حکم سنا دیا۔ عدالت نے کہا اناج کے رکھ رکھاؤ میں لاپرواہی برتنے والے افسروں و ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کر تفتیش کی جاسکتی ہے کیونکہ سرکاری املاک یا اناج کو نقصان پہنچانا آئی پی سی کے تحت جرم ہے۔ ساتھ ہی یہ جنتا کے بھروسے کو بھی کھونا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ہدایت جاری کرکے کھلے میں اناج رکھنے پر فوری طور پر روک لگادی ہے۔ عدالت نے کہا اناج نقصان ہونے پر اس کی وصولی سے متعلق اسٹاف یا افسروں کی تنخواہ کاٹی جائے۔ جسٹس دیوی سنگھ پرساد و جسٹس ستیش چندرا کی رہنمائی والی بنچ نے یہ حکم ایک رضاکار تنظیم پیوپل تنظیم کی پی آئی ایل پر دیا ۔ عدالت میں سرکاری خرید کے اناج خاص طور پر گیہوں سڑنے کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے روکنے کی ہدایت جاری کرنے کے لئے اپیل کی گئی تھی۔ عدالت نے پی آئی ایل کوسماعت کے لئے منظور کرریاستی سرکار کو اناج کی حفاظت کے راستے و طریقے تلاشنے کے لئے ایک کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت دی۔ یہ کمیٹی اناج کی خرید اور اسٹور کے لئے اسکیم بنائے گی۔عدالت نے کہا اناج کا اسٹور گودام کی صلاحیت کے حساب سے کیا جانا چاہئے۔ اگر بڑا گودام نہیں ہے تو نئے بنائے جائیں یا پھر سرکار انہیں کرائے پر لے سکتی ہے۔ عدالت نے اس کمیٹی سے مہینے بھر میں اپنی رپورٹ دینے کو کہا۔ اس کے بعد دو ماہ میں اناج کی خرید و بکری کے لئے ریاستی سرکار باقاعدہ حکم یا سرکولر جاری کرے۔ عدالت نے معاملے کے فریقین کو بھی جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لئے چھ ہفتے کی مہلت دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کے اناج اونچی جگہوں پر ترپال وغیرہ سے دھک کر رکھا جائے۔ ہم یوپی ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ آخر کا کسی نے تو اناج کی بربادی ہونے سے بچانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے کی ہدایت دی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اکھلیش سرکار اس حکم کی کتنی تعمیل کرتی ہے۔ اگر وہ صحیح معنوں میں کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ہے تو صوبے کا بھلا کرے گی ساتھ ساتھ دیش کی کئی ریاستوں کو بھی راستہ دکھائے گی۔ صرف مرکزی سرکار پر یہ معاملہ نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ریاستی حکومتوں کا کردار بھی کم اہمیت کا حامل نہیں۔ (انل نریندر)

29 جون 2012

ہمدردی پانے کیلئے ویر بھدر نے استعفیٰ دیا

24 سال پرانے کرپشن کے معاملے میں عدالت میں اپنے خلاف الزامات طے ہونے کے بعد شری ویر بھدر سنگھ نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا اور یہ استعفیٰ منظور بھی ہوگیا۔ جب راجہ صاحب پر الزام لگے تھے تو انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر الزام ثابت ہوتے ہیں تو انہیں کرسی چھوڑنے میں ذرا بھی ہچک نہیں ہوگی۔یوپی اے سرکار میں کرپشن کے الزام میں استعفیٰ دینے والے یہ تیسرے وزیر ہیں۔ ان سے پہلے اے ۔راجہ اور دیا ندھی مارن کرپشن کے الزامات کے چلتے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ پانچ بار ہماچل کے وزیر اعلی رہے 78 سالہ وزیر بھدر سنگھ کو استعفیٰ اس لئے دینا پڑا کیونکہ ان کے اور ان کی اہلیہ کے خلاف ہماچل پردیش کی ایک عدالت نے کئی سال پرانے کرپشن کے ایک معاملے میں کرپشن اور مجرمانہ برتاؤ کا الزام طے کیا تھا حالانکہ کانگریس کا یہ ہی موقف تھا کہ عدالت نے ابھی ان پر الزام طے کئے ہیں کوئی سزا نہیں سنائی لیکن ویر بھدر سنگھ نے اپنے آپ کو اور اپنی پارٹی کو تنقید سے بچانے کیلئے استعفیٰ دینا مناسب سمجھا۔ویسے اس کے پیچھے ہماچل پردیش کی سیاست بھی کام کررہی ہے۔ استعفیٰ دینے کے پیچھے ایک مقصدعہدے کا لالچ نہ ہونے کا پیغام دینے سے زیادہ اسے اپنی پہاڑی ریاست میں ہمدردی میں بدلنے کی سیاست بھی ہے۔ ویر بھدر سنگھ پردیش کانگریس میں اپنے تمام حمایتیوں کو متحد رکھنے کے لئے یہ ہی سندیش دینا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ ابھی بھی پارٹی کے 23 میں سے21 ممبران اسمبلی جن میں ودیا اسٹوکس بھی شامل ہیں وہ شملہ میں اپنی 77 ویں سالگرہ اور سیاست میں 50 سال کے پروگرام میں آئیں تھیں،ان کے ساتھ ہیں۔ استعفیٰ دیکر ویر بھدر سنگھ نے آنے والے اسمبلی انتخابات میں فل ٹائم سیاست کرنے کا بھی راستہ کھول دیا ہے۔ویر بھدر سنگھ نے عدالت کی طرف سے معاملے درج ہونے کو اپنے خلاف پردیش کی بھاجپا سرکار کی سازش قرار دیا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے جس آڈیو سی ڈی کی بنیاد پر ان کے خلاف معاملے طے کئے گئے ہیں اسے صحیح ثابت کرنے کے لئے ان کی آواز کا نمونہ تک نہیں لیا گیا ہے۔ دوسرے یہ معاملہ پہلے ہی سے ہائی کورٹ میں ہے اور ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ یہ تو کوئی نہیں مانے گا کہ انا ہزارے کی ٹولی کی سیاسی طاقت اتنی مضبوط ہے کہ وہ جب چاہیں کسی وزیر کی کرسی چھین سکتے ہیں باوجود اس کے اگر اس ٹولی کرپشن کے خلاف سرکار پر مسلسل حملہ آور کا رخ اپناتی ہے تو ان کا ایک اخلاقی اور سیاسی اثر تو ضرور جنتا اور سرکار کی سطح پر پیدا ہورہا ہے۔ بہرحال ویر بھدر سنگھ کے استعفیٰ سے یوپی اےII-سرکار کا یہ سنکٹ پھر سے سر پر آگیا ہے۔ وہ کرپشن میں مسلسل پھنستے جانے کے بجائے اس سے لڑتی ہوئی کیسے نظر آئے؟ جس دن ویر بھدر سنگھ نے دہلی میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا اسی دن سرکار کے ایک اور وزیر ولاس راؤ دیشمکھ ممبئی میں آدرش سوسائٹی معاملے میں جانچ کمیشن کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے۔ ہماچل پردیش میں یہ چناوی برس ہے۔ اب ویر بھدر سنگھ پر الزام لگنے سے اور ان کے استعفے سے آنند شرما اکیلے کانگریس کے نیتا بچتے ہیں جو اگلے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو ٹکر دے سکتے ہیں لیکن ان کی زمینی پکڑ اتنی نہیں ہے جتنا ویر بھدر سنگھ کی ہے۔ (انل نریندر)

آئی ایس آئی کے دباؤ میں پھر ماری پاکستان نے پلٹی

یو ٹرن لینے کیلئے پاکستان مجبور ہے وہ اپنی بات سے مکر جاتا ہے۔تازہ مثال کئی برسوں سے پاکستانی جیل میں سڑ رہے سربجیت سنگھ کی رہائی کی ہے۔پاکستانی میڈیا میں خبر آئی کہ سربجیت سنگھ کو رہا کیا جارہا ہے سربجیت کا خاندان جو برسوں سے اس کی رہائی کی مہم چلا رہا ہے ان کی خوشیوں کا ٹھکانا نہیں رہا اور مٹھائیاں بھی بانٹی گئیں۔ بھارت سرکار نے بھی پاکستان حکومت کا شکریہ ادا کردیا۔ لیکن ڈراموں کے لئے اپنے منفرد اسٹائل میں پاکستان آخری وقت پلٹی کھا گیا اور اس نے یہ کہا کہ ہم نے تو سرجیت سنگھ کی رہائی کا فیصلہ کیا سربجیت کا نہیں۔پنجاب کے ترنترام ضلع میں پنڈگاؤں کے باشندے سرجیت سنگھ کو 1982 میں جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فوجی عدالت میں ان پر مقدمہ چلا اور انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ 1989 میں سرجیت کے خاندان کے لئے کچھ راحت کی خبر اس وقت آئی جب پاکستان میں بے نظیربھٹو وزیر اعظم تھیں اور پاکستانی صدر غلام اسحاق خان نے سرجیت کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔ اس قید کی میعاد25 سال تھی۔ یہ سزا کاٹنے کے بعد سرجیت سنگھ کو2004 ء میں رہا ہوجانا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ خاندان نے رہائی کی مہم شروع کی اور گرفتاری کے بعد 2008ء میں پہلی بار خاندان کے لوگوں کو پاکستان کی جیل میں ان سے ملنے دیا گیا۔ وہاں جا کر گھروالوں نے انہیں سزا پوری کرنے کے بعد رہا کرنے کے لئے اپیل کی اور اسے عدالت نے منظور بھی کرلیا ان کی رہائی مئی ۔جون2012 ء میں ہونا طے تھی۔ لیکن اس طرح کے بڑے کنفیوزن کے طور پر کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایک سال میں پاکستان کی اس تیسری سرکار نے اپنی نیت کا ثبوت دے دیا۔ ساتھ ہی ثابت کردیا کہ پاکستان میں اقتدار پردے کے پیچھے سے کنٹرول ہوتا ہے۔ مانا جارہا ہے پاکستان کے صدر زرداری نے بھاری دباؤ میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ فوج آئی ایس آئی یا لشکر طیبہ کے دباؤ کے آگے زرداری جھک گئے۔ بھارتیہ خفیہ ایجنسیوں کے پاس خبر آئی ہے کہ منگلوار کی شام تک پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے زرداری پر سربجیت کی رہائی کے فیصلے کے خلاف دباؤ بنایا۔ صدر کے دفتر سے کہا گیا کہ اس وقت اس فیصلے سے یہ ہی پیغام جائے گا کہ پاکستان سرکار نے بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے شروع کردئے ہیں۔ خاص طور سے سعودی عرب سے پکڑ کر لائے گئے ابو حمزہ کے خلاصے کے بعد اس پلٹی سے پاکستان اور بھارت کے رشتوں میں کھٹاس آنا فطری ہے۔ معاملہ سربجیت یا سرجیت کی رہائی کا نہیں ، بات تو اپنی بات کہہ کر پلٹنے کا ہے۔ سربجیت کو بھی اب دیر سویر رہا کرنا ہی ہوگا۔ آخر سزا پوری ہونے کے بعد بھی اسے کس بنا پر قید میں رکھا ہوا ہے؟سرجیت کی رہائی پر ہمیں خوشی ہے لیکن سربجیت کی رہائی پر اور بھی خوشی ہوتی۔ پاکستان میں اصل طاقت کہاں ہے اس قصے سے ثابت ہوتا ہے۔ (انل نریندر)

28 جون 2012

پرنب مکھرجی کے بغیر کانگریس اور منموہن سرکار

مسٹر پرنب مکھرجی نے تقریباً چار دہائیوں کے بعد سرگرم سیاست سے منگل کے روز ٹاٹا کردیا۔ انہوں نے وزیر مالیات کے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ وزارت میں ان کا آخری دن تھا جب پرنب دا اپنی لمبی سیاسی زندگی سے رخصت ہوکر راشٹرپتی بھون میں نئی پاری کی شروعات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس بات کا افسوس ضرور ہوگا کہ وہ دیش کی معیشت کو ایسے حال پر چھوڑ رہے ہیں جب سامنے تاریک سرنگ نظر آرہی ہے۔ کچھ گھنٹوں پہلے ہی انہوں نے ریزرو بینک کی جانب سے بڑی رعایتوں کا اعلان بارے بتایا تھا مگر ریزرو بینک نے جو اقدامات سامنے رکھے ہیں وہ نہ تو عام جنتا میں اور نہ ہی ہماری معیشت میں کوئی نیا جوش یا سمت دے سکے؟ وجہ چاہے جو بھی رہی ہو یوپی اے II- سرکار کے آغاز سے ہی مسلسل اقتصادی سیکٹر میں بھارت پچھڑتا ہی چلا گیا۔ بازار اور اقتصادی تجزیہ نگار اور اقتصادی مشیر سبھی لٹکے پڑے پالیسی ساز فیصلوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اور یہ سب تب تک ہوتا رہا جب وزارت مالیات کی کمان پرنب مکھرجی جیسے بڑے اور ماہر اقتصادیات کے ہاتھ میں رہی ہو۔ اب تو ان کی اہلیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ سوال تو یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ یوپی اے II میں بحران پیدا کرنے میں کردار نبھانے والے پرنب مکھرجی سرگرم سیاست سے ہٹنے کے بعد منموہن سرکار کون چلائے گا؟ یہ سوال کانگریس میں اٹھایا جارہا ہے کہ پرنب دا کا متبادل کون ہوگا؟ یوپی اے سرکار میں مختلف وزارتوں کے کام کاج سے وابستہ27 وزرا کے گروپ (جی او ایم) ہے، ان میں 13 جی او ایم کی سربراہی دادا کرتے آئے ہیں ۔ اس کے علاوہ اعلی اختیار یافتہ وزرا کے گروپ ہیں۔ جی اوایم اور ای جی او ایم کی ذمہ داریاں متعلقہ محکموں کے کابینہ وزرا کو سونپنے پر غور چل رہا ہے۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ وزیر اعظم وزیر خزانہ کس کو بناتے ہیں۔ اس کو لیکر دو تین ناموں کا تذکرہ جاری ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم، وزیر اعظم اور سونیا گاندھی دونوں کے بھروسے مند ہیں لیکن وہ ٹوجی گھوٹالے اور ان کے چناوی جھگڑے کو لیکر پہلے ہی سے تنازعوں میں ہیں ان کے چلتے شاید ہی انہیں یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ مونٹیک سنگھ اہلوالیہ اور سی رنگاراجن کے ناموں پر بھی غور وخوض جاری ہے۔ دونوں وزیر اعظم کے چہیتے ہیں لیکن کسی غیر سیاسی شخصیت کو یہ عہدہ سونپنا شاید خود کانگریسیوں کو قبول نہ ہو۔ ایسے میں وزیر تجارت آنند شرما کی لاٹری لگ سکتی ہے کیونکہ انہیں 10 جن پتھ اور 7 ریس کورس دونوں کا ہی آشیرواد حاصل ہے۔ سرکار اور پارٹی کو سب سے زیادہ مشکل اپوزیشن سے تال میل بٹھانے میں آسکتی ہے۔ اکثر پرنب مکھرجی ہی یہ کردار نبھاتے تھے کہ اپوزیشن بھی ان کی عزت و احترام کرتی تھی جو کام پرنب کروالیتے تھے وہ کوئی اور موجودہ کانگریسی شاید ہی کروا پائے اس میں شبہ ہے۔ پرنب کا پارٹی اور سرکار سے ہٹنا کانگریس کے لئے ایک نئی چنوتی ہے ۔ لوک سبھا چناؤ میں زیادہ وقت نہیں بچا ہے ۔بچی ہوئی میعاد ٹھیک ٹھاک گذر جائے یہ ایک چنوتی ہوگی۔ (انل نریندر)

مصر کے نئے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی چنوتیاں

مصر کے 30سال تک بلا روک ٹوک حکومت چلانے والے حسنی مبارک کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد پہلی بار ہوئے صدارتی چناؤ میں ڈاکٹر محمد مرسی کامیاب ہوگئے ہیں۔ انہیں 51.73 فیصدی ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے حریف و سابق وزیر اعظم احمد شفیق کو48.2 فیصد ووٹ ملے۔ جیسے ہی نتیجوں کا اعلان ہوا اسی وقت تحریر چوک میں آتش بازی کی جانے لگی۔ لوگ ڈھول بجا کر اپنی خوشیوں کا اظہار کرنے اترآئے لیکن مسلم برادر ہڈ کی جمہوری وفاداری کے بارے میں شبہ رکھنے والے بہت سے لوگ اس وقت صدمے میں تھے۔ مسلم برادر ہڈ تھوڑے سے فرق سے کامیاب ہوئی ہے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مصر کی بڑی آبادی ان کے چناؤ سے خوش نہیں ہے کیونکہ پہلی بار جمہوری طریقے سے صدر کا چناؤ ہوا ہے۔ اس نکتہ نظر سے اسے تاریخی مانا جاسکتا ہے۔ لیکن اب مصر کی عوام کی پسند کے جمہوری اقتدار کا راستہ ہموار ہوچکا ہے۔ مصر میں حکمرانی کی تبدیلی نے جدید دور میں انقلاب کے امکان کے راستے کھول دئے ہیں۔ اس چناؤ سے مرسی نے اپنی مقبولیت اور مسلم برادر ہڈ نے مصر کی عوام پر اپنی پکڑ مضبوط ثابت کردی ہے۔ جس طرح حسنی مبارک کے خلاف پیدا وسیع عوامی مخالفت نے پوری عرب دنیا کے مزاج کو متاثر کیا اسی طرح اس چناؤ نتیجے کا دیش کے باہر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سے پہلے ترکی میں اور پھر تیونس میں بھی اندر خانے اسلامی سیاسی طاقتیں مینڈیٹ پانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ لیبیا میں اگلے مہینے انتخابات ہونے ہیں کیا وہاں بھی یہ ہی رجحان سامنے آئے گا؟ جو بھی ہومرسی کے سامنے چنوتیوں کی کمی نہیں ہے۔ ان کے لئے مصر کو پوری طرح سے ایک جمہوری ملک بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ فوج ہوسکتی ہے۔ فوج کی سپریم کونسل کے اب تک کے رویئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس جمہوری تبدیلی سے خوفزدہ ہے۔ صدر کا چناؤ ختم ہونے سے پہلے ہی وہاں کی آئینی یا بڑی عدالت نے پارلیمنٹ کو توڑدیا جس کا چناؤ پچھلے سال نومبر سے اس سال مارچ کے درمیان ہوا تھا۔ اس عدالت کے جج صاحبان کی تقرری حسنی مبارک کے عہد میں ہوئی تھی پارلیمنٹ کو توڑنے کے پیچھے عدالت کی دلیل تھی کہ اس کے ایک تہائی ممبر ناجائز طریقے سے چنے گئے لیکن اصلی وجہ شاید یہ تھی کہ اس پارلیمنٹ میں مسلم برادر ہڈ کی بالادستی تھی۔ پھر صدارتی چناؤ کا نتیجہ آنے سے پہلے ہی فوجی کونسل نے صدر اور پارلیمنٹ کے کئی مخصوص اختیارات خود ہتیا لئے جن میں آئین میں تبدیلی کے کسی ریزولوشن کو ویٹو کرنا، نئے قانون تجویز کرنا، شہریوں کو نظربند کرنا، وہیں فوج بھی تعینات کرنا اور جنگ اور امن کا اعلان کرنے جیسے کئی اختیارات شامل ہیں۔ مرسی کے لئے فوج سے تال میل بنائے رکھنا بڑی چنوتی ہوگی اور فوج اتنی آسانی سے اپنی طاقت کم نہیں ہونے دے گی۔ مرسی اچھے ،پڑھے لکھے سیاستداں ہیں اور انہیں اسلامی جمہوریہ کے ساتھ سبھی طبقوں کو ساتھ لیکر چلنے کا اعلان بھی کرنا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ ان کی قیادت میں مصر میں جمہوری نظام بحال ہوگا اور دیش میں ترقی ، خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔ دیش کو اسلامی کٹرپسندی کی طرف جانے سے روکنے کی چنوتی ان کے سامنے ہوگی۔ (انل نریندر)

27 جون 2012

ابوجندال عرف ابو حمزہ کی گرفتاری قصاب کے بعد سب سے بڑا کارنامہ

خطرناک دہشت گرد سید زیب الدین عرف ابو حمزہ عرف ابو جندال کو 21 جون کو دہلی کے اندرا گاندھی ہوائی اڈے سے گرفتار کرلیا گیا۔ دراصل ابو حمزہ کو سعودی عرب پولیس نے پکڑا تھا اور انہوں نے اسے دہلی آنے والی فلائٹ میں بٹھا دیا اور دہلی پولیس کو خبر کردی کہ حمزہ فلاں فلائٹ سے نئی دہلی بھیجا جارہا ہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اسے ہوائی اڈے پر گرفتار کرلیا۔ اجمل قصاب کے بعد ابو حمزہ سب سے بڑا دہشت گرد ہے ۔ممبئی حملے کے وقت حمزہ کراچی میں واقع کنٹرول روم میں بیٹھے اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ آتنک وادیوں کو ہدایت دے رہا تھا۔ اس نے قبول کیا ہے کہ اس حملے کی سازش کا ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن عرف لکھوی کے ساتھ کام کیا تھا۔ ممبئی حملے کے بعد وہ کچھ وقت پاکستان میں رہا اور پھر سعودی عرب چلا گیاوہاں وہ بطور ٹیچر کام کررہا تھا۔ اس کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کی جانب سے گرفتار انڈین مجاہدین کے 12 آتنک وادیوں میں سے ایک پاکستانی نژاد محمد عادل نے ابو کے بارے میں جانکاری دی تھی جس کے بعد اس کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا گیا۔ ممبئی حملے کے دوران سکیورٹی ایجنسیوں نے لشکر طبیہ و پاکستان میں ان کے آقاؤں سے بات چیت کو ریکارڈ کیا تھا۔ اس دوران کسی کو کچھ خاص ہندی کے لفظ بولتے سنا گیا۔ بعد میں یہ آواز ابو جندال کی پائی گئی۔ سامنے یہ بھی آیا کہ اس نے آتنک وادیوں کو اپنی پاکستانی پہچان چھپانے اور خود کو حیدر آباد کے ٹولی چوک سے متعلق انڈین مجاہدین سے وابستہ ہونے کی بات بتائی تھی۔ حملوں میں ابو کے ملوث ہونے کا تذکرہ ممبئی حملوں میں زندہ پکڑے گئے واحد آتنک اجمل قصاب نے کیا تھا۔اس نے کہا تھا کہ ابو جندال نام کے شخص نے 10 آتنک وادیوں کو ہندی سکھائی تھی۔ ممبئی پر26/11 کو ہوئے آتنک وادی حملے میں ابو جندال نے اسپیشل سیل اور این آئی اے کے سامنے اپنا گناہ قبول کرلیا ہے۔ ابو جندال سے پوچھ تاچھ کررہے پولیس افسران نے بتایا کہ اس نے ممبئی حملے کے دوران 10 پاکستانی آتنک وادیوں کو سیٹیلائٹ فون پر ہدایت دی تھی۔ اس نے بتایا کہ حملے کے دوران وہ لشکر کے سرغنہ ذکی الرحمن لکھوی، عبدالرحمن مکی اور پاکستانی فوج کے کسی میجر کے ساتھ کراچی میں تھا۔ وہ لوگ ٹی وی پر حملے کی سیدھی تصویریں دیکھ کر آتنک وادیوں کو ڈیفنس اور حملے کے بارے میں ہدایت دے رہے تھے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ سعودی عرب نے ایسے خطرناک آتنکی کو بھارت کو سونپنے میں مدد دی ہے۔ آتنک واد کو لیکر بھارت اور سعودی عرب کے درمیان پچھلے کچھ برسوں میں سمجھوتے ہوئے ہیں ان کی بنیاد پر سعودی عرب نے بھارت کو آتنک وادیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد کی ہے۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کو یہ اطلاع ملی تھی کہ ابو سعودی عرب میں ہے اور 2 جون کو تیس ہزاری کورٹ میں ذبیح الدین نام گرفتاری وارنٹ جاری کروا لیا تھا۔ اس بنیاد پر سرکاری طور پر انٹر پول کی مدد سے سعودی عرب سرکار کو ابو کے بارے میں جانکاری دی گئی تھی۔ اس کے بعد سعودی عرب حکومت نے ابو کو پکڑ لیا اسے21 جون کو دہلی واپس کیا گیا جہاں ہوائی اڈے پر اسے اسپیشل سیل نے گرفتار کرلیا۔ ابو جندال عرف ابو حمزہ کا پکڑا جانا بہت اہم واقعہ ہے۔ اجمل قصاب کے بعد یہ سب سے بڑی گرفتاری ہے ۔ اس گرفتاری سے نہ صرف 26/11 کی ساری کارروائی کیسے کی گئی اس کی تصدیق ہوتی ہے بلکہ وہ تمام الزام بھی ثابت ہوجائیں گے جو بھارت کی سلامتی اور خفیہ ایجنسیاں لگاتی رہی ہیں۔ اس کی گرفتاری سے پاکستان ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے۔ اس سے نہ صرف26/11 آتنکی حملے کا معاملہ مضبوط ہوگا بلکہ یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ اس خطرناک دیش کو جھنجھوڑنے والے حملے میں اور کون کون شامل تھے۔ اس حملے میں ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں بیشک حملہ 10 پاکستانی آتنک وادیوں نے کیا ہو لیکن اس کو انجام تک پہنچانے میں بھارت میں بیٹھے ان کے حمایتیوں کا بھی خاص کردار رہا ہوگا۔ اب شاید ان کی پہچان کرنے میں بھی مدد ملے۔ جہاں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے قابل قدر کام کیا ہے وہیں ہمیں سعودی عرب حکومت کا شکریہ گذار ہونا ہوگا جنہوں نے اس خطرناک مطلوب آتنکی کو گرفتار کرنے اور سزا بھگتنے کیلئے ہندوستان کو سونپا ہے۔ (انل نریندر)

یوروپ میں بڑھتا مسلم اثر

پچھلے دنوں فرانس کے صدر نکولس سرکوزی صدارتی چناؤ ہار گئے تھے۔ زیادہ تر لوگ سرکوزی کی ہار کی وجہ ان کے جنوبی نظریئے اورماڈل محبوب کارلا برونی سے عشق بتا رہے ہیں۔ ان کی ہار کو دکشن پنتھی اور لیفٹ نظریئے کی جیت کی شکل میں دیکھا جارہا ہے لیکن دراصل نکولس سرکوزی کو ہٹانے میں فرانس کے پروگیرسیو سوشلسٹ طبقے کے علاوہ تارکین وطن مسلمانوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ مغربی میڈیا جان بوجھ کر اس بات دبا یا نظرانداز کررہا ہے۔ نکولس کی جیت میں بھی مسلم دشمنی کا بڑا ہاتھ تھا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ان کے جیتنے پر پیرس سمیت فرانس کے تقریباً ہر شہر میں بڑے پیمانے پر تشدد اور آگ زنی کے واقعات ہوئے تھے۔ شاید پہلا موقعہ تھا جب کسی فرانسیسی صدر کے جیتنے پر جشن کے بجائے ہر طرف آگ اور دھواں پھیل گیا تھا۔ نکولس لیون میں تو10 ہزار کاریں جلا دی گئیں تھیں۔ نکولا نے جیت کے لئے کیا گیا وعدہ پورا کیا اور فرانس میں حجاب اور نقاب پر پابندی لگادی۔ ان کے اگلے قدم پر چلتے ہوئے یوروپ کے کچھ اور ملکوں نے بھی برقع پر پابندی لگادی۔ ظاہر ہے کہ اس سے یوروپی مسلمانوں کے خلاف ماحول بن رہا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ 9/11کا خاکہ جرمنی کے ہیمبرگ شہر میں تیار کیا گیا تھا۔ نیدر لینڈ میں کئی مسلم کٹر پسندی حملے ہو چکے ہیں۔فلم ساز کیوبین گارڈا2004 میں مارا گیا جس نے ایک لڑکی کے بدن پر قرآن کی آیتیں لکھ دی تھیں اور پھر اس کی ایک فلم بنائی تھی۔ جرمنی کے میوخ شہر میں مسلم کٹر پسند اسرائیلی کھلاڑیوں کو موت کی نیند سلا چکے ہیں۔برطانیہ میں تو کئی آتنک وادی حملے ہوچکے ہیں۔ آسٹریلیا کا ڈاکٹر حنیف معاملہ بھی سبھی کو یاد ہوگا۔ حالات کا نتیجہ ہے کہ یوروپ ایک نئی قسم کی چنوتی میں الجھ گیا ہے۔ یوروپ کی سرکاریں اب مسلمانوں کے معاملے میں پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہونے پر کچھ حد تک مجبور ہوگئی ہیں۔ مسلمان وہاں کی حکومتیں بننے میں بھی اہم کردار نبھانے لگے ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ یہ بھی ہے کہ یوروپ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ کل27 ملکوں کے یوروپی یونین کی قریب 50 کروڑ کی آبادی میں پونے دو کروڑ مسلمان ہیں۔ فرانس سب سے زیادہ مسلم آبادی والا دیش بن چکا ہے وہاں ہر دسواں شخص مسلمان ہے۔ نکولس کو اس لئے بھی جتایا گیا تھا کہ پیرس اور لیون کی اہم آبادی والی جگہوں پر مسلمان اورایشیائی افریقی اپنی پراپرٹی بڑھاتے جارہے ہیں۔ فرانسیسی نژاد لوگ آؤٹ اسکاٹس میں بسنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ فہرست کی کئی سڑکوں پر چھولے بھٹورے ، سموسے، امرتی، بریانی، کباب،پائے، سیخ کباب، شیر مال، پوری کچوری بک رہی ہے۔ پوری مارکیٹ میں بالی ووڈ کی سی ڈی ، ڈی وی ڈی اور ساڑیاں ، ہندوستانی لباس بک رہے ہیں۔ وی آئی پی کی طرز پر یعنی بنگلہ دیش، انڈین، پاکستان تنظیمیں چل رہی ہیں۔ کسی کو فرانسیسی کرائے دار تنگ کرتے ہیں تو یہ تنظیم ہندوستانی انداز میں اس سے نمٹتی ہے۔ فرانسیسی سماج اس بدلتے ماحول سے بری طرح پریشان ہے۔ ایسے میں ایک اصلاح پسند فرانسیسی سماج نے اس لیفٹ واد مہذب سماج وادی اولاندے کو صدر چنا۔ یہ وہی سماج ہے جس نے جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے کیلئے بے نظیر بھٹو کو پناہ دی تھی اور اس آیت اللہ خمینی کو پناہ دی تھی جس نے پیرس میں رہ کر ایرانی انقلاب کا خاکہ تیار کیا تھا۔ (انل نریندر)

26 جون 2012

قدرتی آفت یا پھر سازش کی آگ؟

سرکاری عمارتوں میں آگ لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ہفتے ممبئی کے مہاراشٹر منترالیہ میں خوفناک آگ لگی تو ایتوار کو نئی دہلی کے انتہائی سکیورٹی زون والی وزارت داخلہ کے کمرے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ مہاراشٹر حکومت کے سچیوالیہ (منترالیہ) میں جمعرات کو زبردست آگ لگی جس سے اس چار منزلیں تباہ ہوگئیں۔ ان میں وزیر اعلی کے دفتر سمیت کافی کچھ جل کر خاک ہوگیا اور کم سے کم پانچ لوگوں کی موت ہوئی۔ ادھر نئی دہلی میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے دفتر کے پاس واقع نارتھ بلاک میں آگ لگی۔ اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ آگ میں کوئی سرکاری دستاویز نہیں جلا ہے۔ اس سے پہلے7 جون کو بھی نارتھ بلاک میں ہی واقع وزارت مالیات کے دفتر میں آگ لگی تھی جس میں دو کمروں میں رکھے دستاویز جل گئے تھے۔ آگ کمرہ نمبر102 کے پاس واقع بالکنی میں رکھے کچرے میں لگی تھی۔اتفاق سے اس دن چھٹی تھی پتہ نہیں کے آگ چھٹی کے دن ہی کیوں لگی؟ کیسے لگی؟ ممبئی میں منترالیہ میں جب آگ لگی تو اس میں نہ تو کوئی سکریٹری اور وزیر بلکہ وزیر اعلی تک منترالیہ میں ہی تھے جب منترالیہ میں آگ کی اطلاع ملی تو لوگوں کے دماغ میں پہلا سوال یہ آیا کیا یہ آگ کسی سازش کے تحت لگائی گئی؟ اس کا مقصد ان گھوٹالوں کی فائلوں کو تو جلانا نہیں تھا؟ اس میں سرخیوں میں چھائے آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی گھوٹالے کی اہم فائلیں بھی شامل تھیں۔ سی بی آئی نے فوراً بیان دے دیا کہ آدرش سوسائٹی کی فائلوں کی دوسری کاپی ان کے پاس موجود ہے اور محفوظ ہے لیکن اس نے واقعہ کو طول پکڑنے نہیں دیا۔ دکھاوے کے لئے برتی گئی مزید سرکاری چوکسی 24گھنٹے گذرتے گذرتے دم توڑ گئی اور کسی اور نے نہیں بلکہ نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے اس اندیشے کو ہوا دے دی کہ آگ لگنے کے پیچھے کوئی بڑی سازش ہوسکتی ہے۔ پوار نے کہا کہ وہ اس واقعے سے حیران ہیں۔ وزیر اعلی صاحب کے چیمبر میں ویسا ہی صوفہ سیٹ پڑا ہوا تھا جیسا کہ میرے چیمبر میں ہے۔ وزیر اعلی کے چمبر کی بغل میں دو چمبر پوری طرح خاک ہوگئے ہیں اور سامنے والے دونوں ہال جل گئے ہیں اور میرا تو پورا فلور ہی جل گیا ہے۔ سی ایم صاحب کا چیمبر چھوڑ کر سب کچھ جل گیا۔ ان کے ٹیبل پر رکھے لیٹر ہیڈ تک کو کچھ نہیں ہوا۔ صاف ہے کہ یہ چنگاری اس سازش کی طرف ہے جس میں مہاراشٹر سرکار کے اعلی سطح کے دستاویزات شامل ہوسکتے ہیں۔ ابھی مہاراشٹر میں کئی بڑے لیڈروں پر آدرش سوسائٹی گھوٹالہ، ناجائز زمین الاٹمنٹ اور اثاثے سے زیادہ املاک اکٹھی کرنے کے معاملوں کی جانچ جاری ہے۔ ریاست میں اتحادی سرکار کی رہنمائی کانگریس کررہی ہے اس لئے وہ اپوزیشن کے نشانے پر سب سے زیادہ ہے۔ ایسے میں اگر یہ اشارے ملتے ہیں کہ آگ لگنے کے پیچھے کوئی بھی سازش ہوسکتی ہے تو اسے ماننے کے واجب اسباب سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آگ پھیلنے کے راستے بھی اسی طرف اشارے کررہے ہیں کہ اگر ایک منٹ کے لئے اس سازش کی بات کو چھوڑبھی دیں تو بھی اس واقعے نے سرکار کے محکمہ آگ انتظام اور سکیورٹی انتظام پر سوالیہ نشان کھڑے کردئے ہیں۔ پچھلے دس برسوں میں وزیر اعلی، نائب وزیر اعلی اور وزراء کے چیمبروں کے رکھ رکھاؤ پر تقریباً75 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ باوجود اس کے مہاراشٹر کا انتہائی محفوظ مانے جانے والی عمارت نہایت غیر محفوظ ثابت ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ قدرتی آفات مینجمنٹ کی خامیاں اجاگر ہوچکی ہیں اور ان کی قلعی تب کھلتی ہے جب کوئی واردات ہوجاتی ہے۔ مہاراشٹر منترالیہ میں لگی آگ میں جو بے قصور مارے گئے ہیں ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ اس واردات میں ایک فائر برگیڈ کے آدمی کی آخری رسوم میں کوئی سرکاری افسر نہیں پہنچ سکا ،یہ کتنے شرم کی بات ہے عمارت میں سرکاری کام چلانے والے بڑے بڑے سرکاری افسر بیٹھتے ہوں، وزیر بیٹھتے ہوں اور جس کی چھٹی منزل پر خود وزیر اعلی کا دفتر سجتا ہو اس عمارت میں ایسے وزیر بھی نہ ہوں جو آگ لگنے پر اپنے آپ پانی ڈال سکیں۔ سمجھا تو یہ ہی جاسکتا ہے کہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔ فائر الارم اور سرکٹ بریکر جیسی سہولت آج کل ہر عمارت میں ضروری ہے اتنی محفوظ عمارت میں یہ بنیادی سہولت بھی نہ ہو ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بات اس لئے اور بھی سنگین ہوجاتی ہے کہ اسی شہر میں کوئی ساڑھے تین سال پہلے دیش کا سب سے بڑا آتنک وادی حملہ ہوا تھا اور اس کے بعد شہر کو محفوظ رکھنے کیلئے تمام کمیٹیاں بنیں، میٹنگیں ہوئیں اور نتیجہ وہی دھاک کے تین پات رہا۔ قدرتی آفات مینجمنٹ کی یہ تکلیف دہ تصویر تب ہے جب تین سال پہلے اس بارے میں ہوئی فائر سیفٹی آڈٹ میں ان سارے نکات پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ آر ٹی آئی کے حوالے سے یہ رپورٹ باہر آنے کے بعد کے سابق وزیر اعلی اشوک چوہان کو اس بارے میں خط بھی لکھے گئے لیکن نہ تو انتظامیہ نے ہی اپنا رویہ بدلہ اور نہ ہی حکمراں طبقے نے کوئی پرواہ کی۔ جو وزیر اعلی اپنا گھر محفوظ نہیں رکھ سکتا وہ پورے صوبے کو کتنا محفوظ رکھ سکتا ہے سوال یہ بھی اٹھتا ہے۔ (انل نریندر)

ممتا کے پہلے کیبنٹ فیصلے کو عدالتی جھٹکا

جمعہ کو مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب کولکاتہ ہائی کورٹ نے ان کی حکومت کے ذریعے بنائے گئے سنگورلینڈ ری ہیبلٹیشن و ڈولپمنٹ ایسیٹ 2011 کو غیر آئینی اور ناجائز ٹھہرادیا۔ قابل غور ہے کہ مغربی بنگال میں سرکار قائم کرنے کے بعد ممتا بنرجی کی کیبنٹ کا پہلا فیصلہ تھا۔ سنگور کی زمین کسانوں کو لوٹانے تھیں۔ وہاں کی 997.3 ایکڑ زمین میں سے تقریباً 400 ایکڑ زمین کو غیر خواہشمند کسانوں کو مناتے ہوئے انہیں لوٹانے کی کوشش شروع کردی گئی۔ اسمبلی سے ایکٹ پاس کر نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ جب انتظامیہ نے زمین لوٹانے کی کارروائی شروع کی تو ٹاٹا گروپ عدالت چلا گیا۔ دراصل سنگور کی زمین کا اشو ممتا بنرجی کے لئے سیاسی طور سے ایک ناسور بن گیا تھا۔ سنگور کی زمین لوٹانے کے سوال پر ان کی تحریک سے بنگال میں زمین ایکوائر کا اشو کھڑا ہوا۔ اور سنگور اور اس کے بعد نندی گرام کی تحریکوں کے ذریعے ممتا بنرجی وزیر اعلی کی کرسی تک پہنچ گئیں۔ چناؤ جیت جانے کے بعد ممتا بنرجی کیلئے سنگور میں بس اتنا ہی کام باقی رہ گیا تھا کہ وہ کسانوں کو ان سے لی گئی زمینیں واپس دلوائیں اور باقی سب بھول جائیں۔ انہوں نے یہ کیا بھی کہ کسانوں کو ان کی زمین واپس مل سکے اس کے لئے سنگور اراضی اصلاحات ایکٹ تیار تو کیا لیکن نہ جانے کس جذبے سے اس ایکٹ پر صدر کی رضامندی حاصل کرنا کسی کو کیوں یاد نہیں رہا۔ اس قانون کو اب کولکتہ ہائی کورٹ نے نہ صرف منسوخ کردیا بلکہ اسے غیر آئینی بھی قراردیا ہے۔ جمعرات کو جسٹس پناکی چندر گھوش اور جسٹس مرنال کانتی چودھری کی ڈویژن بنچ نے دو باتوں پر زور دیا۔ ایک تو یہ کہ بنگال سرکار کے سنگور ایکٹ میں معاوضے کی نکات زمین اراضی تحویل ایکٹ 1894ء سے میل نہیں کھاتیں۔ دوسری طرف ایکٹ راشٹرپتی کی منظوری کے بغیر لاگو کردیا گیا۔ عدالت کے اس فیصلے پر بنگال سرکار کی جانب سے سرکاری رائے زنی ریاست کے وزیر صنعت پارتھ چٹرجی نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کسانوں اور دیگر لوگوں کے مفادات کے تئیں عہد بند ہیں۔ ہم ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ کسانوں کو فکر نہیں کرنی چاہئے۔ خود وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں لکھا ہے ’’میں اقتدار میں رہوں یا نہ رہوں، کسانوں کا ساتھ دیتی رہوں گی۔ ‘‘ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے فیصلہ دینے کے ساتھ ہی اپنے حکم کی تعمیل دو مہینے کیلئے ملتوی کردی ہے۔ اس میعاد میں مغربی بنگال سرکار سپریم کورٹ میں اعتراض داخل کرسکتی ہے لیکن انترم مدت کے دوران سرکار کسانوں کو زمین تقسیم نہیں کرسکے گی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارتی سیاست میں سنگور مسئلے کی اہمیت اتنی ہی نہیں ہے کہ اس نے مغربی بنگال میں لیفٹ فرنٹ کو اکھاڑ پھینکا ہے اور ممتا کو اقتدار میں پہنچادیا ہے۔ سنگور کے بعد ہی یہ سوال اٹھا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کے لئے زمین تحویل میں سرکار صنعتکاروں کے دلالوں کی طرح کیوں کردار نبھائے؟ ساتھ ہی یہ بھی کہ ہر زمین ایکوائر کے بعد کسان ہی خسارے میں کیوں ہیں؟ اس دباؤ میں مرکزی سرکار کو جس قانون کا مسودہ تیار کرنا پڑا جس میں ایکوائر کے ساتھ ساتھ لوگوں کی باز آبادکاری پر بھی دھیان رکھا ہے۔ (انل نریندر)

24 جون 2012

راشد علوی جیسے دوست ہوں تو دشمنوں کی ضرورت نہیں

کانگریس ترجمان راشد علوی جیسے دوست ہوں تو کانگریس کو دشمنوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ مراد آباد کی ایک چناوی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے راشد علوی نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو بھاجپا کے ایجنٹ ہیں۔ یہ بات میں بہت پہلے سے کہتا آرہا ہوں ۔ میں پچھلے 10 برسوں سے بول رہا ہوں کہ اس دیش میں اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی سب سے بڑا یجنٹ ہے تو وہ ملائم سنگھ یادو ہیں۔ اگر اس دیش میں بھاجپا کے اشارے پر کوئی ناچتا ہے تو وہ ملائم سنگھ یادو ہیں۔ سپا کا اس بیان سے ناراض ہونا فطری ہی تھا کیونکہ سپا جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے رد عمل کے طور پر کہا کہ علوی کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ پگلا گئے ہیں۔ پارٹی کے پردیش پردھان راجندر چودھری نے کہا کہ کانگریس اپنے ایم پی کو سبق سکھائے اور کانگریس کو سوچنا چاہئے کہ اسے علوی جیسے بددماغ اور بڑ بولے نیتاؤں کا علاج کیسے کرنا ہے۔راشد علوی کا بیان ان کی سیاسی غیر سنجیدگی اور بیمار ذہنیت کا عکاس ہے۔ وہ اتنے نادان ہیں کہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ملائم سنگھ یادو کی لیڈر شپ میں سپا نے اگر فرقہ پرست بھاجپا کے خلاف مورچہ نہیں جمایا ہوتا تو مرکز میں یوپی اے سرکار نہیں بن پاتی۔ نیوکلیائی معاہدے کے وقت بھی ملائم سنگھ یادو نے ہی مرکزی سرکار بچائی تھی۔ کانگریس کو ایسے ہی غیر سنجیدہ بیانوں کی وجہ سے ہی پچھلے چناؤ میں بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔علوی کو مسلمانوں کے ہتیارے، نریندر مودی کا حمایتی بتاتے ہوئے اترپردیش کے وزیر صحت و خاندانی بہبود احمد حسن نے کہا کہ ایک شخص ان ملائم سنگھ یادو کے بارے میں ایسا بیان دے رہا ہے جنہوں نے بابری مسجد کو بچانے کیلئے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔ ملائم ہی دیش کے ایک واحد سیاستداں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے مفادات سے جڑے اشوز کو پر زور طریقے سے اٹھایا۔ سپا کی ناراضگی کو بھانپ کر کانگریس پارٹی نے علوی کے بیان کو سرے سے خارج کرتے ہوئے نامناسب بتایا۔ کانگریس سکریٹری جنرل جناردن دویدی نے کہا کہ پارٹی ان کے بیان سے متفق نہیں ہے۔علوی شاید چناوی غصے میں بول گئے ہیں۔ ادھر جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے موقعے کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے کانگریس پر حملہ بولا۔ لکھنؤ میں جنتا پارٹی کے میئر کے عہدے کے امیدوار کی چناؤ مہم میں لکھنؤ آئے ڈاکٹر سوامی نے جمعرات کو سنگما کی وکالت کرتے ہوئے کہا دیش میں شیڈول قبائل کے شخص کو راشٹرپتی بنانے کی ضرورت ہے۔ پرنب مکھرجی پر انہوں نے سونیا گاندھی کے کرپشن میں حصے دار ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بیرونی ممالک میں جمع نہرو خاندان کے 70 لاکھ کروڑ روپے کو بچانے کے لئے پرنب مکھرجی کو حمایت دینے کی ان کی مجبوری ہے۔ انہوں نے کہا سنگما عیسائی بھی ہیں اور کوئی عیسائی صدر نہیں بنا ہے۔ ملائم سنگھ یادو کو اپنا بھائی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انہیں سمجھائیں گے ک یوپی اے کا دامن چھوڑ اپنا سنمان بچائیں۔ سوامی نے کہا راشد علوی کا ملائم کو بھاجپا کا ایجنٹ بتانا اتفاق نہیں ہے۔ بھلے ہی کانگریس علوی کے بیان کو ان کا ذاتی بیان کہہ رہی ہے لیکن یہ کانگریس کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ایک طرح سے کہا جائے ملائم سنگھ یادو سے سونیا گاندھی 1999ء کا بدلہ لے رہی ہیں، جب ملائم کی وجہ سے سونیا گاندھی وزیر اعظم نہیں بن پائیں تھیں۔ سوامی نے ملائم کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ موقعہ اچھا ہے ملائم کانگریس کا ساتھ چھوڑدیں ورنہ اسی طرح سے بے عزت ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اکھلیش یادو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نہرو خاندان کے لوگوں جیسے میٹرک فیل نہیں ہیں۔ (انل نریندر)

یہ صدارتی چناؤ کئی معنوں میں تاریخ رہے گا

راشٹرپتی بھون جانے کی دوڑ میں وزیر خزانہ اور یوپی اے کے امیدوار پرنب مکھرجی کا پلڑا بھاری ہے لیکن اس بار چناؤ کئی معنوں میں تاریخی ہونے جارہا ہے۔ نمبروں کا حساب کتاب پرنب دادا کے حق میں نظر آرہا ہے۔ ووٹوں کی کل تعداد 10.98 لاکھ ہے۔ پرنب مکھرجی کو 6.29 لاکھ ووٹ ملنے کی امید ہے اور پی اے سنگما کو3.10 لاکھ ووٹ مل سکتے ہیں۔ ان ووٹوں میں جنتا دل (یو) اور شیو سینا کے ووٹ پرنب دا کے حق میں شامل ہیں۔ ترنمول کانگریس نے ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ سنگما کو این ڈی اے (جنتا دل (یو) شیو سینا کے بغیر)243000 ،انا ڈی ایم کے اور بیجو جنتا دل 67000 ووٹ مل سکتے ہیں۔ حساب کتاب کے نکتہ نظر سے یوپی اے امیدوار کا جیتنا تقریباً طے ہے۔ اس چناؤ کو لیکر جہاں این ڈی اے تار تار ہوگیا ہے وہیں لیفٹ فرنٹ بھی بٹ گیا ہے۔ فارورڈ بلاک نے پرنب مکھرجی کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری اتحادی جماعت مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی اور آر ایس پی اے پولنگ سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی نے بھی پولنگ سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔بحث جاری ہے کہ پرنب مکھرجی کے نام پر مہر لگانے والی لابی نے زمین آسمان ایک کردیا ہے۔ بنگال کی ساکھ کا حوالہ دے کر پرنب کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کروا لیا ہے۔ جہاں تک ممتا بنرجی کا سوال ہے ہمیں لگتا ہے کہ اب ان کے پاس دو ہی متبادل بچے ہیں یا تو ووٹ ہی نہ ڈالیں یا پھر سنگما کی حمایت کریں۔ سنگما دعوی تو کررہے ہیں ممتا کی انہیں حمایت حاصل ہے حالانکہ پی اے سنگما کانگریس حکمت عملی سازوں کو کوئی بڑی چنوتی نہیں دیتے نظر آرہے ہیں۔ دو ایک باتیں سنگما کے حق میں ضرور جا سکتی ہیں ایک تو وہ مشرقی ریاستوں سے آتے ہیں، وہ اپنی ریاست میگھالیہ میں وزیر اعلی تک کی کرسی پر بیٹھ چکے ہیں۔ نارتھ ایسٹ ریاستیں ضرور سنگما کی حمایت کرسکتی ہیں۔ پھر وہ ایک عیسائی ہیں، عیسائی مذہب سے تعلق ہونے کی وجہ سے فائدہ مل سکتا ہے۔ صدارتی چناؤ کو لیکر پہلے یوپی اے اور این ڈی اے اور پھر لیفٹ پارٹیوں میں جیسے بکھراؤ دیکھنے کو مل رہا ہے اس سے یہ واضح ہو رہا ہے سیاسی پارٹیوں کی نظر آنے والے لوک سبھا چناؤ پر ہے۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے سیاسی پارٹیوں کا موجودہ تجزیہ 2014ء لوک سبھا چناؤ تک بنا رہے گایا نہیں۔ لیکن اتنا طے ہے کہ دونوں یوپی اے اور این ڈی اے کی تصویر بدل سکتی ہے۔ جنتا دل (یو) صدر شرد یادو نے پرنب دا کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کانگریس سے دوری بنائے رکھنے کی حتی الامکان کوشش بھلے ہی کی ہو لیکن یہ سچائی ہے کانگریس مخالفت کے باوجود اپنی سیاست چلانے والے اب بھی ان کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ آخر کانگریس امیدوار کی جیت یقینی بنانے والی کوئی بھی پارٹی یہ دعوی کیسے کرسکتی ہے کہ وہ اصولاً کانگریس کے خلاف ہیں؟ عوام یہ ضرور سوال پوچھے گی کہ آخر وہ کونسے حالات اور مجبوری تھی کہ جنتا دل (یو) نے بھاجپا کا ساتھ چھوڑنا بہتر سمجھا؟ عام جنتا بھاجپا سے بھی سوال کرسکتی ہے کہ بڑی اپوزیشن پارٹی ہوتے ہوئے بھی دیش کو اس اعلی ترین عہدے کے لئے پارٹی کو اپنا مضبوط امیدوار کیوں نہیں ملا؟دونوں یوپی اے اور این ڈی اے کو نئے تجزیوں کی تلاش کرنی ہوگی۔ پرنب مکھرجی کی جیت یقینی ہے لیکن ان کا چناؤ نئے تجزیوں کا سبب ضرور بن سکتا ہے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...