26 دسمبر 2015

بے لگام کیرتی آزاد کا یہی حشر ہونا تھا

آخر کار بے لگام دربھنگہ سے چن کر آئے ایم پی کیرتی آزاد کو پارٹی ڈسپلن شکنی اور ہدایت کو نظرانداز کرنے و اپنی سرکار اور پارٹی کیلئے مشکلیں کھڑا کرنے کے الزام میں پارٹی کی ابتدائی ممبر شپ سے فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ انہیں خط لکھ کر پارٹی نے بتایا ہے کہ وہ پچھلے کچھ برسوں سے مسلسل اپوزیشن کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن کر نہ صرف اپنی ہی سینئر لیڈر شپ پر بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں بلکہ پارلیمنٹ اور سرکار کی بھی کرکری کرا رہے ہیں۔ کیرتی آزاد کو ڈی ڈی سی اے کی ورکنگ کمیٹی سے بیشک شکایت ہوسکتی ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا لیکن اس کی آڑ میں انہوں نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو زبردستی نشانہ بنانے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ ارون جیٹلی کو یوپی اے سرکار کے عہد میں ہی کلین چٹ مل چکی ہے۔ آج تک کیرتی آزاد نے ایک بھی ایسا دستاویز پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ ارون جیٹلی سیدھے طور سے ڈی ڈی سی اے گھوٹالے سے وابستہ ہوں یا پھر انہوں نے کوئی پیسے کا گھوٹالہ کیا ہو۔ آج کیرتی آزاد جو کچھ بھی کرررہے ہیں ان میں ان کی جیٹلی کے تئیں نجی تلخی زیادہ جھلکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دیگر سیاسی اسباب (ذاتی دشمنی) سے حساب کتاب کرنے میں جٹے ہیں۔ جس طرح سے اروند کیجریوال اور کیرتی آزاد ایک آواز میں بول رہے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ اندر خانے ملے ہوئے ہیں۔ سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کیجریوال کو ڈی ڈی سی اے سے متعلق یہ دستاویز کس نے دئے ہیں؟اروند کیجریوال کیرتی آزادکو پارٹی سے معطل کرنے پر ہائے توبہ مچا رہے ہیں کیا وہ بتائیں گے کہ ان کی پارٹی میں باغیوں سے کیا برتاؤہوتا ہے؟ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن کو کس طرح گالیاں دے کر بے عزت کرکے نکالا تھا، شاید وہ بھول گئے ہیں۔ آج عام آدمی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے لئے کیرتی آزاد آنکھوں کا تارا بن گئے ہیں۔ پہلے تنظیم سکریٹری جنرل رام لال اور پھر خود بھاجپا قومی صدر امت شاہ کو سمجھانے کے باوجود کیرتی آزاد نے پریس کانفرنس بھی کی تھی اور لوک سبھا میں وزیر مالیات کے بیان پر چپ رہنے کے بجائے ایس آئی ٹی جانچ کی مانگ بھی کر ڈالی ہے۔ شاہ اور خود وزیر اعظم نریندر مودی جیٹلی پر بھروسہ اور ان کے پیچھے کھڑا ہونے کی بات کرچکے ہیں لیکن کیرتی آزاد کا رخ بغاوتی بنا ہوا ہے۔ کیرتی آزاد کو لکھے خط میں پارٹی نے کہا کہ ان کے برتاؤ کی وجہ سے پارٹی کی کرکری ہوئی ہے۔ یہ تو سبھی مانیں گے کہ ڈسپلن شکنی سبھی پارٹی اور شخص خاص کے لئے ضروری ہے، لیکن کیرتی نے اس کی خلاف ورزی کی ہے جس سے یہ اندیشہ پختہ ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ہاتھ مہرہ بن گئے ہیں۔ کیرتی آزاد کو پارٹی سے اس لئے معطل کیاگیا ہے کہ انہوں نے وارننگ کے باوجود بار بار پارٹی ڈسپلن شکنی کی ہے نہ کہ اس لئے کہ وہ کرپشن کو بے نقاب کررہے ہیں۔ ارون جیٹلی بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ڈی ڈی سی اے میں اگر کوئی کرپشن یا بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو اس کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے پانچ دیگر لیڈروں کے خلاف باقاعدہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں دیوانی اور فوجداری اور ہتک عزت کے مقدمے درج کرائے ہیں اور نقصان کی تکمیل کے طور پر10 کروڑ روپے کی مانگ کی ہے۔ اگر دہلی کے وزیر اعلی اور کیرتی آزاد کے پاس جیٹلی کے کرپشن کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں تو عدالت میں ثابت کریں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ یوں ایک عزت دار اور سینئر لیڈر کو بے عزت کرنے سے باز آئیں۔
(انل نریندر)

16 سال کی عمر میں بھی اب سخت سزا!

آخر کار دیش اوردنیا کو دہلا دینے والے گھناؤنے نربھیہ کانڈ جیسے جرائم میں نابالغوں کے شامل ہونے پر ان کے خلاف بالغ جرائم پیشہ افراد جیسا برتاؤ کرنے سے متعلق بل منگل کے روز راجیہ سبھا میں پاس کردیا۔لوک سبھا پہلے ہی اس کو پاس کرچکی تھی۔ بیشک جوینائل جسٹس ایکٹ نام سے مقبول ہوا یہ بل جن حالات میں پاس ہوا اس پر تشفی ظاہر نہیں کی جاسکتی۔ لوک سبھا میں اس بل کو دو اجلاس پہلے اسی برس مئی میں پاس کردیا گیا تھا لیکن کانگریس کی ضد اور زبردستی کی سیاست کے سبب سخت قانون کی کمی میں ایتوار کو ہی نربھیہ کے نابالغ ماسٹر مائنڈ قصوروار کو اصلاح گھر سے مجبوراً رہا کرنا پڑا۔ جب وہ رہا ہوگیا اور نربھیہ کے والدین نے موثر ڈھنگ سے اس کے خلاف احتجاج کیا تب جاکر کانگریس اور دیگر پارٹیوں کو ہوش آیا۔ انہوں نے آناً فاناً میں نیا بل پاس کروادیا۔ اس سیشن میں بھی یہ بل تین بار فہرست میں درج کیاگیا لیکن اپوزیشن پارٹی اور خاص کر کانگریسی ہنگامہ کرتے رہے۔ یہ سارے دیش کے لئے نہایت شرم کی بات ہے کہ ہم سیاست کے سبب دیش کو اور زیادہ شرمسار کرنے والے دہلی کے اجتماعی گینگ ریپ معاملے میں شامل رہے نابالغ کی رہائی ہوگئی۔ اس بل کے قانون بننے پر 7 سال یا اس سے زیادہ سزا کی سہولت گھناؤنے جرائم میں 16 سال سے اوپر کے لڑکوں پر بھی بالغ مجرموں کی طرح مقدمہ چلے گا۔ جن جرائم میں 7 سال یا اس سے زیادہ کی سزا کی سہولت ہے انہیں گھناؤنے جرائم کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ اس بل میں گھناؤنے جرائم کرنے والے 16 سے18 سال کے لڑکوں کے خلاف بالغوں کی طرح مقدمہ چلانے کی سہولت ہوگئی ہے۔ اس میں قتل ،بدفعلی، اغوا اور ڈکیتی، تیزابی حملے جیسے جرائم کو گھناؤنے جرائم میں شمارکیا گیا ہے حالانکہ ان جرائم کے قصوروار نابالغ کو زیادہ سے زیادہ 7 اور10 سال کی سزا ہوگی۔ بل کو پیش کرتے ہوئے خواتین و اطفال بہبود ترقی محترمہ مینکا گاندھی نے کہا کہ اس کا مقصد نابالغوں کے ذریعے کئے جانے والے جرائم سے نمٹنا ہے۔ اس سے ہی انہیں صحیح راستے پر لانے کے قدم بھی اٹھائے گئے ہیں۔ جوینائل جسٹس بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ آبروریزی اورقتل جیسے سنگین معاملوں میں نابالغ کے شامل ہونے کے پیچھے منشا کیا تھی؟ بورڈ طے کرے گا کہ یہ حرکت بالغ ذہنیت سے کی گئی یا بچپنے میں، کچھ ترمیم بھی کی گئی ہیں لیکن سبھی مسترد ہوگئیں۔ ویسے بتا دیں کہ کچھ دیگر ممالک میں اس بارے میں قانون ہے۔ چین میں 14 سال سے کم عمر کے لڑکوں سے پوچھ تاچھ نہیں کی جاسکتی۔15 سال سے کم عمر کے لڑکوں کو حراست میں بھی نہیں رکھا جاسکتا۔ پاکستان میں 18 سال سے کم عمر کے لڑکوں کو حراست میں نہیں لیا جاتا۔ سری لنکا میں 16 سال سے کم عمر کے لڑکوں کی گرفتاری نہیں کی جاسکتی، ایسے ہی بنگلہ دیش میں بھی گرفتاری پر روک ہے۔ بھارت میں گزرتے برس یعنی 2014ء میں نابالغوں کے خلاف دیش بھر میں38565 معاملے درج ہوئے۔ یہ جانکاری وزیر مملکت ہری بھائی پارتھی بھائی چودھری نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔ جوینائل جسٹس ایکٹ میں ترمیم وقت کی ضرورت تھی۔ اگر وقت رہتے پورا کیا جاتا تو دیش میں کہیں زیادہ تشفی ہوتی۔ تین سال گزرنے کے بعد میں نربھیہ کے ملزم کورٹ کچہری میں پھنسے ہوئے ہیں۔ قانون تو بن گیا ٹھیک ہے لیکن جب تک ہم اپنے دیش کا عدلیہ نظام بہتر نہیں کرتے معاملوں میں نہ تو متاثرہ کو انصاف ملے گا اور نہ ہی دوسروں کے لئے سبق۔ پھر سماج بھی اپنی ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتا۔ سارا قصور پولیس اور انتظامیہ کا یہ کہنا بھی غلط ہے۔ صاف ہے کہیں نہ کہیں سماج کو بھی اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اس طرح جرائم پر روک لگانے کیلئیکنبہ جاتی سشح پر بھی احتجاج برتنے اور موضوع ماحول کو بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2015

کثیر شادی کیلئے قرآن کی غلط تشریح نہ کریں: عدالت

ویسے تو ہمارے مسلم سماج میں بہت بیداری آچکی ہے اور عام طور پر ہمارے زیادہ تر مسلمان بھائی ایک ہی شادی کرتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کم پڑھے لکھے پسماندہ طبقے سے جڑے مسلمان آج بھی ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں۔ اور ایسا کرنے کے لئے قرآن شریف کا غلط سہارا لیتے ہیں۔ حال ہی میں گجرات ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں ایک اہم تبصرہ کیا۔ گجرات ہائی کورٹ نے کڑے الفاظ میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کیلئے مسلم مردوں کے ذریعے قرآن شریف کی غلط تشریح کی جارہی ہے اور یہ لوگ مفاد پرستی کی وجہ سے کثیر شادیوں کی شق کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ جسٹس جے۔ وی پاردیوالا نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے جب ملک کامن سول کوڈ کو اپنانے کیونکہ ایسی گنجائشات آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس نے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ494 سے جڑے آرڈر سناتے ہوئے یہ تبصرے کئے۔آئی پی سی کی یہ دفعہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے سے جڑی ہے۔ اپیل کنندہ جعفر عباس مرچنڈ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرکے اس کے خلاف اس کی بیوی کے ذریعے درج کرائی گئی ایف آئی آر کو خراج کرنے کی گزارش کی تھی۔ بیوی نے الزام لگایا تھا کہ جعفر نے اس کی مرضی کے بنا کسی دیگر خاتون سے شادی کی ہے۔ایف آئی آر میں جعفر کی پتنی نے اس کے خلاف آئی پی سی کے دفعہ 494 (شوہر یا بیوی کے زندہ رہتے ہوئے دوبارہ شادی کرنا)کا حوالہ دیا۔ حالانکہ جعفر نے اپنی اپیل میں دعوی کیا تھا کہ مسلم پرسنل لاء مسلمانوں کو چار بار شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اسی لئے اس کے خلاف دائر ایف آئی آر جانچ کے دائرے میں نہیں آتی۔جسٹس پاردیوالا نے اپنے آرڈر میں کہا مسلمان مرد ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے لئے قرآن کی غلط تشریح کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں جب کثیر شادی کی اجازت دی گئی تھی تو اس کی ایک مناسب وجہ تھی۔ آج جب مرد اس گنجائش کا استعمال کرتے ہیں تو وہ ایسا مفاد کی وجہ سے کرتے رہیں۔ کثیر شادی کا قرآن میں صرف ایک بار ذکر کیا گیا ہے اوریہ شرط کثیر شادی کے بارے میں ہے۔ عدالت نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ وہ ایک بیوی کے ساتھ غلط سلوک کرے۔ اسے گھر سے باہر نکال دے، جہاں وہ بیاہ کر آئی تھی اور اس کے بعد دوسری شادی کرلے۔ حالانکہ ایسی حالت سے نمٹنے کے لئے دیش میں کوئی قانون نہیں ہے اس دیش میں کوئی کامن سول کوڈ نہیں ہے۔ عدالت نے اپنے آرڈر میں کہا جدید پرگتی شیل سوچ کی بنیادپر بھارت کو اس رسم کو ختم کرنا چاہئے اور کامن سول کوڈ قائم کرنا چاہئے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے دوسری جانب کہا کہ دیش کے مسلمان عدالتوں کا سنمان کرتے ہیں لیکن شرعی معاملوں میں عدالتوں کی دخل اندازی غیرضروری ہے جسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ لاء بورڈ کے سکریٹری و اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ قانون بنانا عدالتوں کا کام نہیں ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ مسلم پرسنل لاء میں بدلاؤ کئے جانے کی ضرورت ہے، غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کی عزت کرتے ہیں لیکن عدالتوں کو اپنی حد پار کرنے کی جو کوشش کی جارہی ہے وہ فکر کا موضوع ہے۔دیش میں اس وقت مسلمانوں کو بے وجہ پریشان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو قابل مذمت ہے۔مولانا نے سپریم کورٹ کے مسلم پرسنل لاء کے طلاق و کثیر شادی کے معاملے کی سنوائی کرنے کے فیصلے پر کہا کہ قانون بنانا عدالتوں کا کام نہیں ہے۔ آئین کے مطابق دیش کے مسلمانوں کو جو حق دئے گئے ہیں ان کی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔
(انل نریندر)

بدرپور پاور پلانٹ بند کرنے سے بلیک آؤٹ کا مسئلہ

کبھی کبھار جلد بازی اور دباؤ میں لیاگیا فیصلہ بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ اب دہلی سرکار اور اس کے پالوشن کنٹرول مشن کا بھی حال ایسا ہی ہونے والا ہے۔این جی ٹی (نیشنل گرین ٹریبیونل) اور دہلی ہائی کورٹ کے سخت رخ کے بعد کیجریوال سرکار نے بدرپور اور راج گھاٹ تھرمل پلانٹ کو بند کرنے کا فیصلہ تو جلدی میں لے لیا ، پراین ٹی پی سی کی رپورٹ تو ایک الگ خوفناک تصویر پیش کررہی ہے۔ حال میں بدرپور تھرمل پاور پلانٹ کو نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن (این ٹی پی سی) کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ یہ پاور اسٹیشن 759 میگا واٹ کی صلاحیت والا ہے۔ابھی حال میں یہاں پر قریب550 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہورہی ہے۔ حالانکہ دہلی سرکار کی نظر میں یہاں سے 250 سے 300 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہورہی ہے۔ اس بات کے مدنظر دہلی سرکار نے پالوشن کنٹرول مشن کے تحت بدر پور پاور پلانٹ کو بند کرنے کا فیصلہ لے لیا۔اس کے فیصلے سے لگتا ہے کہ سرکار کی سوچ یہ ہے کہ اتنی بجلی باہر سے خرید لیں گے۔ اس کے بجٹ پر اتنا اثر نہیں پڑے گا کہ سرکار اسے برداشت نہ کرسکے۔ یعنی سرکار کی نظر میں اسے بند کرنا کوئی زیادہ مشکل فیصلہ نہیں ہے۔ 4 نومبر کو اس بارے میں منعقد پریس کانفرنس میں دہلی سرکار کے چیف سکریٹری کے۔ کے۔ شرما نے بھی کہا تھا کہ بدر پور تھرمل پلانٹ کو بند کرنے سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی کرلی جائے گی۔ سرکار کی اس نیتی کو دیکھتے ہوئے دہلی پالوشن کنٹرول بورڈ نے بدرپور تھرمل پاور پلانٹ کو نوٹس جاری کر پوچھا تھا کہ آپ کے تھرمل اسٹیشن سے دہلی آلودہ ہورہی ہے، کیوں نہ 15 مارچ 2016 ء تک اسے بند کردیا جائے؟ اس پر این ٹی پی سی نے جمعرات کو اپنا جواب بھیج دیا ہے۔ پاور اسٹیشن کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس پلانٹ کی وجہ سے آلودگی نہیں پھیل رہی ہے۔ پلانٹ میں آلودگی سے نمٹنے کے پورے انتظام ہیں۔ اس کے بعد بھی این ٹی پی سی اسے بند کیا تو دہلی میں بجلی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ قلت آئی لینڈنگ سسٹم کی وجہ سے ہوگی۔ دراصل 30 اور31 جولائی 2012ء کو اتر بھارت میں گرڈ فیل ہوجانے کے بعد دہلی نے گھنٹوں کا بلیک آؤٹ دیکھاتھا۔اگر سرکار پھر بھی اپنے فیصلے پر قائم رہی تو دہلی کو سال 2012ء کی طرح ہی بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دہلی سرکار پہلے تو یہ جانکاری حاصل کرے کہ یہ تھرمل پلانٹ کیا واقعی میں آلودگی کے لئے ذمہ دار ہے؟ کیا یہ آلودگی کنٹرول کے ضوابط پر عمل کررہا ہے؟ اگر نہیں تو کیااسے اور سخت کیا جاسکتا ہے؟ اسے بند کرنے سے پہلے متبادل انتظام کرنا ہی بہتر ہوگا۔
(انل نریندر)

24 دسمبر 2015

روہتک کا نربھیاکانڈ

ہریانہ کے روہتک شہر میں نیپالی لڑکی سے اجتماعی آبروریزی میں ایک بار پھر دہلی کے وسنت وہار نربھیا کانڈ کی یاد تازہ کردی ہے۔ فروری 2015کو شام 5 بجے گاؤں گڈی کھیری کے موڑ پر ڈھابے میں نیپال لڑکے سمیت 5ملزم شراب پی رہے تھے تبھی حسار روڈ پر جارہی نیپالی لڑکی کو دیکھا لڑکوں شیرو، سنیل ، ماڈا ، پون ، پدم لڑکی کو اٹھا کر گاؤں کے موڑ پر بنی ایک کوٹھری میں لے گئے اس کے بعد انہوں نے وہاں دولڑکوں منویر اور سومویر دیگر کو وہاں بلا لیا سبھی نے شراب پی اور سبھی نے لڑکی کے ساتھ بدفعلی کی۔ لڑکی کو ڈیڑھ کلومیٹر دور سنسان کمرے میں لے گئے اور پھر وہاں اس سے بدفعلی کی ۔ رات کھلنے کے ڈر سے لڑکی سے سر میں اینٹ مار کر اس کو مارڈالا اوراس کے جسم میں نوکیلے پتھر ڈال دیئے۔ روہتک کی اے ڈی جے سیما سگنل نے اسے سب سے زیادہ گھناؤنا کیس بتایا اور ساتھ ہی کہا میں عورت ہوں اس لڑکی کی چیخیں سن سکتی ہوں جو ان درندوں نے اس لڑکی سے کیا اس کے لئے ان کو پھانسی بھی کم ہے۔معاشرہ کتنا آگے بڑھ رہا ہے جتنی ترقی ہوئی ہیں ہم دماغی طور سے اتنے ہی پیچھے چلے گئے ہیں۔ سماج میں بڑے سطح پر مردوں میں اتنی دبنگی آرہی ہیں مرد سمجھتے ہیں کہ ان حرکتوں سے عورتوں کو دبایا جاسکتا ہے لیکن آج سماج کو پیغام دینا ہے کہ عورتیں کمزور نہیں ہے وہ کسی کے سامنے دبنے اورجھکنے سے انکار کرتی ہیں۔ نربھیا یا دامنی بننے سے بھی منع کرتی ہیں۔ انہیں اپنی پہچان پر فخر ہے کہ کسی بھی قیمت پر اسے چھوڑنے پر بھی تیار نہیں ہے۔ شرمندگی عورتوں کی نہیں ان مردوں کی ہونی چاہئے جو ایسی حرکتیں کرتے ہیں اس طرح کے جرم جسم سے کو نہیں روح کو چوٹ پہنچاتے ہیں جسم کے تو نہیں لیکن اس فیصلے سے روح کے زخم مٹانے کی کوشش کررہی ہوں۔ یہ بتانے کی کوشش کررہی ہوں کہ عورت بے بس نہیں ہے۔ آج فیصلے میں ڈھیل رکھتی ہوں تو عورت سے موت کے بعد بھی ناانصافی ہوگی جس طرح سے اس واقعہ کو انجام دیا گیا اس میں پھانسی کی سزا بھی کم ہے۔ سزا سنائے جانے سے پہلے رائے زنی ایڈیشنل جج محترمہ سنگل نے فاسٹ ٹریک کورٹ میں یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔ ساتویں قصورواروں کو پھانسی کی سزا سنائی ممکن ہے کہ سرکاری وکیل کی مانیں تو دیش میں کسی بھی کورٹ میں قتل اور اجتماعی آبروریزی کے 7قصورواروں کو ایک ساتھ پھانسی کی سزا نہیں سنائی۔ متوفی کی بہن نے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ پھانسی کی سزا سنائے جانے سے راحت تو ملی ہیں لیکن چین اس دن ملے گا جب ان ساتویں کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔
(انل نریندر)

بڑوانی میں 40 مریضوں کی آنکھوں کی روشنی جانے کا ذمہ دار کون

ہیلتھ سروس کے معاملے میں پہلے سے ہی لچر مدھیہ پردیش پر کچھ وقت پہلے ایک اور داغ لگ گیا ہے۔ بڑوانی میں ہوئے آنکھ پھوڑ کانڈ نے ریاست ہی نہیں پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں 63لوگوں کی آنکھ کی روشنی چلی گئی اور ایک وجہ تھی گٹھیا دوائیوں کا استعمال۔ لوگوں کی آنکھوں کی روشنی چھیننے والا مدھیہ پردیش کا محکمہ صحت کٹگھرے میں تو ہے ساتھ ہی وہاں کے وزیر صحت نروتم مشرا عوام کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ا پنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش میں ہے ان کی دلیل ہے کہ بھوپال سے دوا کی خرید نہیں ہوتی ہے جب تلخ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے سرکاری ہسپتالوں میں 80 فیصدی خریداری بھوپال سے ہوتی ہیں۔ اس کی تصدیق محکمہ صحت کے چیف میڈیکل آفیسر کرتے ہیں ان کا دعوی ہے کہ خریدی گئی دوا کمپنی کاانتخاب اورادائیگی بھوپال سے ہی ہوتی ہیں۔ سچ کون بول رہا ہے وزیر صحت نروتم مشرا یا ضلع کے سی ایم ایچ او؟ حکومت نے ریاست کے ڈاکٹروں کو مارکٹینگ افسر بنا رکھا ہے اور آپریشن کے لئے نشانے دیئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں پر آپریشن کا ٹارگیٹ پورا کرنے کااسقدر دباؤ رہتا ہے 15 منٹ میں دو دومریضوں کے آپریشن ہوجاتے ہیں اس دوران چھوٹی جگہ پر آلات اور آپریشن تھیٹر کے اندر پیوند کاری میں بھول ہونے کااندیشہ رہتا ہے کیونکہ اس وقت ڈاکٹر کی زیادہ توجہ مریضوں پر رہتی ہے۔ آنکھوں کے آپریشن گاؤں میں کیمپ لگا کر نہیں کئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کو ٹارگیٹ 6500 آپریشن مہینہ کو پورا کرناہوتا ہے۔ سرکار نے پچھلے مہینے ہی 400 دواؤں کو اچانک فہرست میں ڈال دیا تھا اس میں وہ دوائیاں بھی تھی جن کا استعمال بڑوانی میں کیاگیا ہے بتایاجاتا ہے کہ ضلعوں میں دوا لینے کے بعد تین دن کے اندر ان کی سرکاری لیپ سے جانچ کرانی ہوتی ہے اور رپورٹ کی جانکاری باقاعدہ اسپتال کو بھیجی جاتی ہیں لیکن افسروں کو اس کی فکر نہیں ہے بڑوانی معاملے میں بھی یہی ہوا ہے تب تک جانچ رپورٹ آتی تب تک مریضوں کو دوا دی جاچکی تھی حالانکہ سرکار خود کو بچاتے ہوئے 17 دواؤں کو بلیک لسٹ کردیا ہے خیال رہے کہ بڑوانی ضلع کے سرکاری کیمپ میں موتیا بند کا آپریشن ہونے کے بعد اروندوں ہسپتال میں علاج کرا رہے مریضوں کو غلط دوا دینے کے سبب اپنی آنکھوں کی روشنی گنوانی پڑی۔ ایمس کے ماہرین چشم امراض کی ٹیم نے صاف کردیا ہے کہ 40 مریضوں کی آنکھوں کی روشنی اب نہیں آسکتی ہے انہوں نے بتایا کہ آنکھوں میں ڈالی گئی دوا معیاری نہیں تھی۔ بڑوانی کے آنکھوں کے کیمپ کے متاثروں کو بے شک وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اپنی مرضی سے ہر متاثرہ شخص کو دو لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کی منظوری دے دی ہے لیکن اس سے ان کی آنکھوں کی روشنی تو نہیں لوٹے گی۔
(انل نریندر)

bing yahoo promo code

Choicedelhi.in is offering bing yahoo promo code Worth $200 For new Bing Ad accounts. It works worldwide. You  can use it new ad account which has Postpaid or prepaid payment method.

After completing your billing and adding payment method credit card or debit card You can use this coupon.

We are also providing Adwords Coupons and many other internet marketing solutions and web designing services .


Price of each coupon is $15 . More details about this offer call me at +91-8586875020 Email me at ceo@speakmeme.com skype id speakmeme

SUBMIT YOUR INQUIRY HERE SUBMIT

23 دسمبر 2015

The US bends, provided the bender has the Guts

The US bends provided the bender has the guts to do so.  I am talking about the US and Russia.  Since the Russian President Vladimir Putin has come to the Party in Syria-Iraq against the Islamic State the dice is overturning slowly.  The attacks on IS are increasing.  So far the US maintained its insistence that President Bashar-Al-Assad of Syria will have to step down for the sake of peace in the region.  On the other hand Putin insisted that Assad will continue and will take over the command against IS.  At last US had to bow to Russia on Assad issue.  US Foreign Secretary John Kerry accepted the prolonged demand of Russia that the future of President Assad’s should be decided only by the people of Syria.  Muslim nations’ front against IS seems to be a little visible now with some Muslim Nations having decided finally to fight the IS, terror in the entire world in the name of Islam.  34 nations under the leadership of Saudi Arabia have declared to form a military alliance against the IS.  The combined operation command of the alliance will be set up in Riyadh, the capital city of Saudi Arabia.  Briefing the formation of Islamic Military Alliance, the official communication agency of Saudi Arabia said that the alliance was needed because it is must to face terrorism at all stages and it needs cooperation at various levels.  Rival of Saudi Arabia and Shiiite Iran is not involved in this military alliance of Muslim Nations.  It is notable that Iran’s policy is quite different from Sunni Nations.  It supports the regime of Shia President of Syria, Basher-al-Assad and has sent its forces in Syria to support Asad.  It keeps supporting Shia Hudi rebels in Yemen while Saudi Arabia is conducting military expeditions against them.  Pakistan, Turkey, Maldives, Malaysia, UAE, Egypt and Qatar are included in this Islamic Nations alliance.  Libya and Yemen facing civil war are also included in it.  African Muslim-majority nations like Mali, Chad, Somalia and Nigeria are also included in the alliance.  However Pakistan is surprised as to how Saudi Arabia has included its name in the military alliance of 34 Muslim nations without seeking its consent?  As per Dawn’s report Pakistan;s Foreign Secretary Ezaaz Chowdhary said that he is surprised with the news that Saudi Arabia has included Pakistan in the alliance.  This is not the first instance when Saudi Arabia has included Pakistan without its consent.

(ANIL NARENDRA)

کرکٹ کی خاطر ڈی ڈی سی اے کی شدھی کرنا ضروری ہے

سابق کرکٹر اور بھاجپا کے ایم پی کیرتی آزادنے ایتوار کو اپنی سرخیوں میں چھائی پریس کانفرنس کر دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) گھوٹالے کے بارے میں جو انکشاف کئے ہیں وہ بیشک پرانے ہوں ، ہاں انہیں اتنی آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ آزاد نے اپنی دلیلوں کی حمایت میں کئی ایسے ثبوت اور دستاویز پیش کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے گڑبڑیاں تو ہوئی ہیں۔ مثلاً 14 ایسی کمپنیوں کو لاکھوں روپے ادا کیا جانا ، جن کا پتہ اور جانکاری یا تو ادھوری تھی یا غلط تھی۔ ان میں سے کئی کمپنیوں کے پاس پین کارڈ جیسی بنیادی ضروری دستاویز تک نہیں تھے۔ اسی طرح پرنٹر کا کرایہ 3 ہزار روپے فی یوم اور لیٹ ٹاپ کا کرایہ16 ہزار روپے فی یوم دئے جانے کے بھی ثبوت پیش کئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں تعمیرات کرنے والی کمپنیوں کوایک سے زیادہ بار ادائیگی کئے جانے اور ایک ہی پتے اور ایک ہی فون نمبر والی کمپنیوں کو بھی ادائیگی کی گئی اور اس سلسلے میں ویڈیو دستاویز بھی پیش کئے گئے۔ کیرتی آزاد نے اس بارے میں بھی ثبوت پیش کئے ہیں کہ اسٹیڈیم کی تعمیر 24 کروڑ روپے خرچ ہونے تھے لیکن 130 کروڑ روپے خرچ کئے گئے اس کے باوجود کام پورا نہیں ہوسکا۔ آزاد کے مطابق سچ تویہ ہے کہ پچھلے 10 برسوں کے دوران 400 کروڑ سے زیادہ کی ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ ریجنل ڈائریکٹر اے۔ کے چترویدی اور دہلی کے کمپنی رجسٹرار ڈی بندواپادھیائے نے اس کی جانچ کے نام پر صرف لیپا پوتی کی تھی۔ کیرتی آزاد نے یہ بھی صاف کیا کہ ان کی لڑائی کسی شخص خاص سے نہیں بلکہ ڈی ڈی سی اے میں ہوئے کرپشن سے ہے۔ ادھر ڈی ڈی سی اے کیرتی آزاد کے ذریعے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو بے بنیاد بتایا۔ اس کے چیئرمین ایس پی بنسل نے کیرتی آزاد اور سابق کرکٹر بشن سنگھ بیدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شخصی فائدے کے لئے ڈی ڈی سی اے پر فرضی الزامات لگائے جارہے ہیں۔ ان کا ڈی ڈی سی اے اور کسی شخص خاص سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کیرتی آزاد آج سے نہیں برسوں سے ڈی ڈی سی اے میں بدعنوانی کا اشو اٹھاتے رہے ہیں۔اب عام آدمی پارٹی نے اپنا الو سیدھا کرنے کی غرض سے آزاد کے اشو کو ہائیجیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈی ڈی سی اے میں دھاندلی اگر ہے تو کتنی ہے اس کا فیصلہ یا تو ہائی کورٹ کر سکتی ہے یا پھر کوئی آزاد تفتیشی ایجنسی۔ پہلی نظر میں ہمیں تو کیرتی آزاد کے الزامات میں دم لگتا ہے۔ سیاست کو درکنار رکھیں اور صاف ستھری کرکٹ کی خاطر ڈی ڈی سی اے کا شدھی کرن ضروری ہے۔
(انل نریندر)

واڈرا کے بعد اب ہڈا کا نمبر ہے

کانگریس کے لیڈروں کو گھیرنے کی حکمت عملی آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب لگتا ہے کہ ہریانہ کے سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کی باری ہے۔ پنچکولہ میں انڈسٹریل پلاٹ الاٹمنٹ گھوٹالے میں ہریانہ ویجی لنس محکمے نے سابق وزیراعلی بھوپندر سنگھ ہڈا سمیت 3 افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ ہڈا پر 14 چہیتوں اور رشتے داروں کو قواعد کو بالائے طاق رکھ کر پلاٹ الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ یہ کارروائی ویجی لنس کی جانچ کر ایڈوکیٹ بلدیو راج مہاجن کی سفارش پر ہوئی ہے۔ وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی سفارش بھی کردی ہے۔ اسٹیٹ ویجی لنس بیورو کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ایف آئی آر میں بھوپندر سنگھ ہڈا کا نام نہیں ہے لیکن 13 فائدہ پانے والوں کے علاوہ ناگل اتھارٹی کے اس وقت کے چیف فائننس کمشنر ایس سی بنسل اور افسر بی بی تنیجا کے نام بھی شامل ہیں۔ کھٹر نے کہا کہ پلاٹ الاٹمنٹ معاملے میں قانون اپنا کام کرے گا اور اپنے مطابق کارروائی کرے گا۔ وہیں بھوپندر سنگھ ہڈا نے اسے سیاسی رقابت سے کی گئی کارروائی بتایا۔ملزمان پر عہدے کا بیجا استعمال کرنے، دھوکہ دھڑی، جعلسازی، کم قیمت سے پلاٹ کا الاٹمنٹ سمیت11 الزامات ہیں۔ ہڈا کے ساتھ سبھی کے خلاف 8 دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ 
اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر انڈین نیشنل لوک دل نے بھاری احتجاج کیا تھا۔ بھاجپا نے اقتدار میں آتے ہی جانچ ویجی لنس کو سونپ دی ہے۔ لمبی جانچ کے بعد ویجی لنس نے اس میں کافی بے قاعدگیاں پائی ہیں۔ اس کے بعد رپورٹ اے جی کو سونپ دی ہے۔انہوں نے رپورٹ پر کارروائی کی ہے سال 2012 ء میں ہڈا سرکار نے پنچکولہ میں انڈسٹریل پلانٹ الاٹمنٹ کے لئے درخواستیں مانگی تھیں۔ اس کے لئے 582 لوگوں نے درخواستیں دی تھیں۔ ویجی لنس کی جانچ کے مطابق اس وقت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور ہڈا ، بی پی تنیجا کے قاعدے کے مطابق دستاویزات فائل نہیں کئے۔ اس کی جگہ 13 لوگوں کی لسٹ دے دی گئی اور اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین سے ان ناموں کو فائنل کرنے کے لئے کہا۔ جانچ میں درخواست میں بھی گڑ بڑی کی گئی ہے۔ اے جی بلدیو راج مہاجن نے کہا کہ پلاٹ الاٹمنٹ کے لئے نئی پالیسی کی منظوری چیئرمین بھوپندر سنگھ ہڈا نے دی تھی۔ اسی سے ہڈا نے اپنے قریبیوں کو پلاٹ بانٹے۔ یہ ہی ان کے خلاف ایف آئی آر کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ بتادیں ہریانہ سرکار سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کے خلاف الزامات کی جانچ پہلے سے ہی کررہی ہے۔ واڈرا کی لین ڈیل کے بعد پلاٹ الاٹمنٹ کے الزامات میں بھوپندر سنگھ ہڈا کو گھیرنے کی تیاری ہے۔ بیشک ہریانہ سرکار قانون کے مطابق کام کررہی ہے لیکن کانگریسیوں کا تو یہی کہنا ہے کہ یہ سیاسی اغراض پر مبنی بدلے کی کارروائی ہے۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2015

عدم رواداری پر شاہ رخ کا تبصرہ فلم ’دل والے‘ کوبھاری پڑا

ملک میں عدم رواداری پر بالی ووڈ اداکاری شاہ رخ خان کو بیان دینا بھاری پڑ گیا ہے۔ دیش کے کئی سرکردہ لوگوں نے ان کے خیالات پر برا مانا ہے اور اب یہ احتجاج ان کی تازہ ریلیز ہوئی فلم ’دل والے‘ پر اثر ڈالتا دکھائی پڑ رہا ہے۔شاہ رخ۔ کاجول کی جوڑی والی فلم ’دل والے‘ اور سنجے لیلا بھنسالی کی پیریڈ فلم ’باجی راؤ مستانی‘ کی ریلیز کے پہلے ہی دن الگ الگ اسباب سے ہندو تنظیموں کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور گجرات سمیت کئی ریاستوں میں ’دل والے‘ کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ممبئی میں ہندو سینا کے 5 ورکروں کو دادر میں واقع ایک مال میں گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے حراست میں لینا پڑا۔ یہ لوگ شاہ رخ خان کے عدم رواداری پر کئے گئے تبصرے کے احتجاج میں ’دل والے‘ فلم دکھانے پر روک لگانے کی کوشش کررہے تھے۔ مال کے باہر ان مظاہرین نے ’شاہ رخ خان مردہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے۔ حالانکہ ممبئی پولیس موقعہ پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو بھگادیا۔ مدھیہ پردیش میں الگ الگ ہندو تنظیموں نے بھوپال ، اندور، جبلپور سمیت کئی شہروں میں فلم کی جم کر مخالفت کی ۔بھوپال میں ہندو متر منڈل کے ورکروں نے جوتی ٹاکیز کے سامنے مظاہرہ کیا وہیں شیوپوری ضلع میں مظاہرین نے دو سنیما گھروں میں فلم کی ریلیز رکوا دی۔ اسی طرح جبلپور ضلع میں احتجاج کے چلتے تین سنیما گھروں میں فلم کو روکنا پڑا۔اندور میں فلم کی مخالفت کرنے والی ہندو تنظیم کے چیف راجیش شیروڈکر کو پولیس نے گرفتار بھی کیا۔ اس دوران ممبئی ہائی کورٹ نے ’باجی راؤ مستانی‘ دکھانے پر التوا حکم دینے سے انکار کردیا۔حالانکہ عدالت نے مہاراشٹر سرکار سینسر بورڈ کے چیئرمین اور فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سنجے لیلابھنسالی اور تینوں اہم اداکاروں رنویر سنگھ، پرینکا چوپڑہ اور دیپکا پڈوکون کو نوٹس دے کر جواب مانگا ہے۔ پنے کے ایک ورکر ہیمنت پاٹل نے بھنسالی پر حقائق کیساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا ہے۔ دوسری طرف این سی پی لیڈر اجیت پوار نے کہا اگر بھاجپا کو ’باجی راؤ مستانی‘ فلم پر کوئی اعتراض ہے تو اسے یہ معاملہ سینسر بورڈ کے پاس لے جاناچاہئے تھا۔ گجرات میں ہندو راشٹر سینا کے ورکروں نے ملٹی پلیکس تھیٹر اور سنیما گھروں میں ’دل والے‘ کے پوسٹر اتار دئے۔ ورکروں نے احمد آباد، صورت اوربڑودہ، بھلسار، مہسانہ اور راجکوٹ سمیت کئی شہروں میں فلم کی مخالفت کی اور شاہ رخ خان کے خلاف نعرے بازی کی۔ یہی حال کانپور، بنارس اور ہریانہ کے جند میں بھی رہا۔ کانپور میں ہندو یووا واہنی کے ورکروں نے شاہ رخ کا پتلا جلا کر احتجاج کیا تو بنارس میں کانشی ودیا پیٹھ کے طلبا نے نعرے بازی کرنے کے ساتھ ساتھ ’دل والے‘ کے پوسٹر جلائے اور ان پر جوتے چپل برسائے۔ ادھر جند میں بھی فلم کی جم کر مخالفت ہوئی۔ اسی طرح 7 ریاستوں میں ’دل والے‘ کی ریلیز کی مخالفت ہوئی۔ اس کی وجہ سے فلم کی اوپنگ پر اثر پڑا۔ جہاں تک فلم کا سوال ہے اس کے بارے میں تجزیہ نگار بتا رہے ہیں کہ اس میں تھوڑی سی توڑ موڑ کر باتیں کہی گئی ہیں۔ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ فلمی ستاروں کو بہت سوچ سمجھ کر سیاسی بیان دینا چاہئے، خاص کر جب آپ کی کامیابی میں سب کا ہاتھ ہے۔ بتا دیں شاہ رخ خان نے اپنی 50 ویں سالگرہ پر ایک چینل سے بات چیت میں کہا تھا کہ دیش میں عدم رواداری کا ماحول بڑھ رہا ہے۔ اگر مجھے کہا جاتا ہے تو ایک علامتی طور پر میں بھی ایوارڈ لوٹا سکتا ہوں۔ دیش میں تیزی سے کٹرتا بڑھی ہے۔ ان کے اس بیان کے فوراً بعد اگلے دن ہی لشکر طیبہ کے چیف حافظ سعید نے بیان جاری کر کہہ دیا کہ اگر شاہ رخ خان سمیت تمام ہندوستان کے مسلمان بھارت میں گھٹن محسوس کررہے ہیں تو وہ پاکستان جاسکتے ہیں۔ بیان دیتے ہی شاہ رخ کو سمجھ میں آگیا کہ اہوں نے غلطی کردی۔ چالاک شاہ رخ نے موقعے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے 16 دسمبر کو معافی مانگ لی لیکن تب تک شاید دیرہوچکی تھی۔ نتیجے سامنے ہیں۔
(انل نریندر)

جج پاردیوالا پر مقدمہ چلانے کی عرضی

گجرات ہائی کورٹ کے عزت مآب جج جے ۔ بی پاردیوالا کو ایک رائے زنی انہیں اتنی بھاری پڑے گی کہ شاید انہوں نے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ نوبت اب ان کے خلاف امپیچمنٹ (ایوان میں مقدمہ)چلانے تک آگئی ہے۔ہوا یہ ہے کہ ہاردک پٹیل معاملے میں ریزرویشن کے خلاف متنازعہ تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر مجھے پوچھا جائے کہ کونسی دو باتیں ہیں جنہوں نے دیش کو برباد کیا ہے یا صحیح سمت میں دیش کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہے تب میرا جواب ہوگا پہلا ریزرویشن اور دوسرا کرپشن۔ہمارا آئین بنا تھا تب ریزرویشن 10 سال کے لئے رکھا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے آزادی کے 65 سال بعد بھی ریزرویشن بنا ہوا ہے۔ یہ معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھاتے ہوئے سپا کے ممبران نے جمعہ کے روزچیئرمین حامد انصاری کے سامنے ایک عرضی پیش کی تھی کہ ہاردک پٹیل معاملے میں ریزرویشن کے خلاف مبینہ تبصرے کے لئے گجرات ہائی کورٹ کے جج جے ۔ بی پاردیوالا کے خلاف امپیچمنٹ چلائی جانی چاہئے۔ ممبران پارلیمنٹ نے الزام لگایا ہے کہ ہاردک پٹیل کے خلاف ایک مخصوص مجرمانہ معاملے کے بارے میں داخل عرضی پر فیصلہ دیتے ہوئے توہین آمیز ریمارکس کا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جج نے یہ بھی تشریح کی کہ جب ہمارا آئین بنایا گیا تھا تب سمجھا گیا تھا کہ ریزرویشن 10 سال کے لئے ہی رہے گا لیکن بدقسمتی سے یہ آزادی کے 65 سال بعد بھی جاری ہے۔ ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ 10 برس کی میعاد سیاسی ریزرویشن کے لئے بڑھائی گئی تھی جو مرکز اور ریاستی اسمبلیوں میں درجہ فہرست ذاتوں اور شیڈول قبائل برادریوں کے لئے نمائندگی ہے نہ کہ تعلیم اور روزگار کے سیکٹر میں ریزرویشن کے سلسلے میں ۔ عرضی کے مطابق یہ تکلیف دہ ہے کہ جسٹس پاردیوالا درجہ فہرست برادریوں اور شیڈول جاتیوں کے لئے پالیسی سے متعلق یہ آئینی تقاضے سے الگ ہے۔ ممبران نے کہا کہ کیونکہ جج کے تبصرے کو عدلیہ کی کارروائی میں جگہ ملی ہے یہ چیز غیرآئینی ہے اور بھارت کے آئین کے تئیں عدم وفاداری کے برابر ہے جو امپیچمنٹ کے لئے ایک بنیاد تیار کرتی ہے۔ ممبران نے راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری سے جسٹس پاردیوالا کے خلافامپیچمنٹ کی کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے اور ساتھ ہی ضروری دستاویز بھی نتھی کئے ہیں۔ گجرات سرکار نے دلیل دی کہ پیراگراف۔62 میں کی گئی رائے زنیوں کو معاملے سے ہٹایا جائے جسے ہائی کورٹ نے منظور کرلیا اور متنازعہ پیراگراف کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اب امپیچمنٹ کا ریزولیوشن کا آگے کیا ہوگا؟ سینئر وکیل کے ۔ ٹی۔ ایس ۔تلسی نے کہا کہ امپیچمٹ عرضی دی جاچکی ہے۔ جب تک جج پارلیمنٹ کو لکھ کر نہیں دیتے کہ تبصرہ ہٹا لیا ہے تب تک کارروائی چلے گی۔ آئین کے ماہر سبھاش کشپ کا کہنا ہے کہ امپیچمنٹ ریزولوشن دو ہی صورتوں میں ختم ہوگا۔ پارلیمنٹ ریزولوشن واپس لے یا چیئرمین جج کی تحریری یقین دہانی سے مطمئن ہوں۔ ممبران کی عرضی پر دستخط کرے والوں میں کئی سینئر ایم پی ہیں۔ ان میں آنند شرما، دگوجے سنگھ، اشونی کمار، بی جے پی کے ہری پرساد،پی ایل پنیہ، راجیو شکلا، امبیکا سونی، آسکر فرنانڈیز(سبھی کانگریس) ڈی راجا (ماکپا) کے ایچ بال گوپال (بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی) شرد یادو (جنتادل یو) ایس سی مشرا و نریندر کمار کشپ (بی ایس پی) ترچیوشیوا(ڈی ایم کے) و ڈی پی ترپاٹھی (این سی پی) راجیہ سبھا میں ایسے ریزولوشن پیش کرنے کیلئے کم سے کم 100 ممبران پارلیمنٹ کی دستخط ضروری ہیں۔ لوک سبھا میں ضروری تعداد100 ہے جبکہ راجیہ سبھا میں تو ایک طرح سے راستہ صاف ہے۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2015

Women Revolution in Saudi Arabia

Women revolution has really started in Saudi Arabia. For the first time in the history of the country women have been allowed to take part in any election. The  women voters casted their votes in local election and also contested as a candidate. This achievement of Saudi women cannot be imagined in countries like India, starting their independence with the maximum franchise. In Saudi Arabia, included in the queue of rich countries of the world, women are not yet allowed to drive alone. Even for voting they had to come with male member of their family to cast their vote and stand in the queues exclusively formed for them. It’s surprising that less than 10 per cent women could be registered as voters. Arabia regime with a population of 2 crore and 10 lakhs has only 11 lakh 90 thousand women voters. The first result came from Mecca, the holiest place for Muslims. Mecca’s Mayor Osama-al-Bar told that Salma Bin Hijab-al-Otibi has won in the nearby village. As such she has become the first elected public representative of the country. As per local media 17 women have been elected. One seat from the second largest city of Saudi Arabia, Jeddah was won by one woman candidate Lama-al-Suleman. 7000 candidates including 979 women contested in the elections held for 2100 seats of the country. Saudi Arabia enjoys a regency. Only local bodies go to polls here. Elections were held for the first time in 2005. 1.31 lakh females applied for registration as compared to 13.5 lakh male voters. After the election results Saudi Arabia Cinema Committee has declared that cinema theatres will be opened in the country shortly. In capital city Riyadh a MoU was signed for making it. Many organizations in the country had started a movement to start cinema. There is no such thing like parliament in Saudi regency till now. Though, one-third members are nominated by the Ministry of Local Bodies in 284-member Advisory Committee. Therefore, if some female candidates succeeded in winning the election, some of them may also get a chance to be included in the Advisory Committee. At present when the representatives of Saudi Regime go on foreign tours they do not take even their wives with them. It does not mean that Saudi females are not sensitive to their rights. One woman worker was arrested recently when  she tried to drive alone violating the Shariat laws. If the rulers having such narrow mindedness give some freedom to the females, it will be surely defined as Women Revolution.

 

-        Anil Narendra

 

 

20 دسمبر 2015

سپریم کورٹ کے ذریعے لوک آیکت تقرری، اکھلیش سرکار کیلئے کرارا جواب

لوک آیکت کی تقرری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اترپردیش سرکار کو ایک ناقابل یقین جھٹکا دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ سپریم کورٹ کے بار بار کہنے کے بعد بھی جب اکھلیش سرکار نے لوک آیکت مقرر نہیں کیا تو عدالت نے بدھوار کو اپنے آئینی اختیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے سبکدوش جج وریندر سنگھ کو آن اسپاٹ لوک آیکت مقرر کردیا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب لوک آیکت کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ نے اپنے آئینی اختیار کا استعمال کیا ہے۔ جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس این وی رمن کی بنچ نے لوک آیکت کے لئے پانچ مجوزہ ناموں کی فہرست میں بنا کسی دیری ان میں سے ایک جج وریندر سنگھ کو چن لیا پر اس تقرری پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ یوپی سرکار نے سپریم کورٹ کو جو نام تجویز کئے ان پر الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ان سے منظوری نہ لئے جانے سے خفا ہوگئے۔ انہوں نے اس بارے میں گورنر رام نائک کو خط لکھا جس کی کاپی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی بھیجا ہے۔ راج بھون نے ان کے خط کی کافی چیف منسٹر اکھلیش یادو کو بھیج کر سرکار کا نظریہ پوچھا ہے۔ پورے معاملے میں چیف جسٹس کی سرگرمی کی دو وجہیں مانی جارہی ہیں۔ پہلی یہ کہ انہوں نے سرکار کے سامنے غیر جانبداری کا سوال رکھا تھا کہ تجویز شدہ لوک آیکت وریندر سنگھ یادو ایک کیبنٹ منتری کے رشتے دار ہیں اور ان کا بیٹا ایس پی کا ضلع ادھیکش ہے۔حالانکہ خود وریندر سنگھ بیٹے کے ایس پی سے تعلق کو قبول کررہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ بیٹے کا اپنا فیصلہ ہے۔دوسری وجہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ان کے کردار پر سوال اٹھنا ہے۔ سپریم کورٹ نے 15 دسمبر کو کہا تھا کہ اگر بدھوار تک سرکار لوک آیکت مقرر نہیں کرتی ہے تو کورٹ یہ مان لے گی کہ گورنر اور سی ایم اپنی ڈیوٹی میں ناکام رہے۔ سپریم کورٹ کسی بھی معاملے میں مکمل انصاف کرنے کیلئے اپنا حکم منوانے کیلئے قانون نہ ہونے کی حالت میں قانون کے روپ میں حکم دینے کیلئے کسی بھی کورٹ میں حاضری یقینی کرنے، کسی دستاویز ڈھونڈھنے یا پیش کرنے، جانچ شروع کرنے اور اپنی ہتک عزت پر سزا دینے کے لئے دفعہ142 کے تحت احکامات پاس کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے لوک آیکت چننے کیلئے میعاد مقرر کردئے جانے کے باوجود یوپی سرکار جس طرح اپنے فرائض کو نبھانے میں ناکام رہی وہ عدالت کی نافرمانی کی وجہ سے افسوسناک تھی۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے جب ہائی کورٹ نے ریاستی لوک سیوا آیوگ کے متنازعہ چیئرمین کی تقرری کو غیر آئینی قراردیا تھا، جس کے بعد سرکار کو انہیں ہٹانا پڑا تھا۔ اس کے بعد اب نئے لوک آیکت کے لئے خود عدالت عظمیٰ کا آگے آنا سرکار کے کام کاج اور ارادے پر منفی نکتہ چینی تو ہے ہی۔
(انل نریندر)

القاعدہ سے جڑے آتنکیوں کی گرفتاری دہلی پولیس کی بڑی کامیابی

القاعدہ سے جڑے دو خونخوار آتنکیوں کی گرفتاری یقینی طور سے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی بڑی حصولیابی کہی جائے گی۔ گرفتار آتنکیوں میں محمد آصف کو بھارت میں جہادی تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ عبدالرحمن نام کا دوسرا آتنکی اڑیسہ کے ٹانگی علاقے میں ایک مدرسہ چلاتا تھا اور اس کے ذریعے جہادی تیار کرنے کی مہم میں جٹا ہوا تھا۔ ان دونوں کی شروعاتی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ پشچمی اترپردیش کا رہنے والا ثناء الحق ہی وہ شخص ہے جو القاعدہ کا دکشن ایشیائی ونگ کا سرغنہ ہے۔
دراصل ثناء الحق ہی مولانا عاصم عمر نامی آتنکی ہے جسے القاعدہ چیف ایمن الظواہری نے خود اے کیو آئی ایس کا امیر (چیف) مقرر کیا تھا۔یہ جانکاری ان دو گرفتاری آتنکیوں سے ملی ہے۔ ان دونوں کو ثناء الحق نے بھارت میں جہادی تیار کرنے کا ذمہ دیا تھا۔ پکڑے گئے آتنکیوں نے بھی پاکستان اور افغانستان میں تربیت لی تھی۔ جس طرح انہوں نے غیر قانونی طریقے سے اتنی آسانی سے سرحد پار کی اور ٹریننگ لے کر وہاں سے واپس لوٹے اس پر ہماری خفیہ ایجنسیاں و سرحد پر سکیورٹی کے لئے تعینات جوانوں کی چستی پر بھی سوال اٹھتے ہیں؟ دونوں آتنکی کرسمس اور نئے سال کے موقعہ پر دہلی میں دہشت پھیلانے کی سازش رچ رہے تھے۔ ان آتنکیوں سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سنبھل یوپی میں کئی اور ریکروٹ موجود ہیں۔اسپیشل پولیس کمشنر اروند دیپ کا کہنا ہے کہ سنبھل سے جلد ہی کچھ اور نوجوانوں کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ 9/11 حملے سے امریکہ کو ہلا دینے والی آتنکی تنظیم القاعدہ اب اپنی حکمت عملی بدل رہی ہے۔اب اسے لگتا ہے کہ عرب دیشوں کے لوگوں کو دوسرے دیشوں میں بھیج کر وہ آتنکی حملے نہیں کرواسکتا ہے اس وجہ سے اس نے جن دیشوں میں القاعدہ کو آتنکی حملہ کرنا ہے وہ اپنی فرنچائزی بنا رہا ہے۔خفیہ ایجنسیوں نے بھی یہ مانا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے چلتے بھی القاعدہ آتنکی حملوں کے لئے اپنی حکمت عملی بدل رہا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے یہ تشویش جتائی جارہی ہے کہ القاعدہ اور آئی ایس بھارت میں بھی اپنا جال پھیلانے کی تاک میں ہیں۔فکر کا موضوع یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں سے کہاں چوک ہوئی کہ پاکستان اور افغانستان نے القاعدہ کے کیمپوں میں تربیت حاصل کر آتنکیوں کے بارے میں انہیں کیوں بھنک تک نہیں ملی؟ آتنک واد سے نمٹنے کے مقصد سے باڈر سکیورٹی فورس ، ریاستوں کی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے بیچ صحیح تال میل قائم کرنے کے لئے ایک مرکزی نظام بنانے کی کوشش کی تو گئی ہے پر اس سمت میں ابھی تک کامیابی نہیں مل پائی۔ دہلی پولیس کو مبارکباد کے ان کی سرگرمی کی وجہ سے ایک بار پھر دہلی بچ گئی اور اس سے بھی بڑی بات ہے کہ القاعدہ کے منصوبوں پر پانی پھر گیا۔
(انل نریندر)