04 جنوری 2020

پی ایف آئی کو بین کرنے کا سوال؟

شہریت ترمیم قانون کے خلاف دیش کے مختلف حصوں میں ہوئے تشدد میں خاص کر یوپی سرکار نے کٹر پشند اسلامک تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا ہے یوپی پولس نے پی ایف آئی کے 25ورکروں کو گرفتار کیا ہے جو مختلف حصوں سے گرفتاری ہوئی ہے ان پر مجرمانہ کرتوت میں شامل ہونے کا الزام لگایا گیاہے ۔پی ایف آئی ان دنوں سرخیوں میں ہے جو 2006میں کیرل میں نیشنل ڈولپمنٹ فرنٹ (این ڈی ایف)کی اہم تنظیم کی شکل میں شروع ہوئی تھی اس سے پہلے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کرنے کیلئے یوپی سرکار نے مرکزی وزارت داخلہ کو خط بھیجا تھا ۔یوپی پولس کی مانیں تو ریاست کے مختلف حصوں میں جو وسیع پیمانے پر تشدد ہوا تھا وہ اسی تنظیم کی سازش کی وجہ سے ہوا یوپی سرکار کی پی ایف آئی پر پابندی کی سفارس کے بعد مرکزی سرکار کیا فیصلہ لیتی ہے یہ دیکھنا ہوگا ۔حالانکہ یوپی سرکار نے شہریت ترمیم قانون کےخلاف احتجاجی مظاہروں میںجگہ جگہ تشدد وآگ زنی ہوئی ہے اس میںپی ایف آئی کی شمولیت کے جو ثبوت دئے ہیں وہ کافی ٹھوس ہیں یوپی پولس کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہر ہ کچھ تو اچانک ہوئے لیکن تشدد یا آگ زنی وہ پہلے سے طے تھی صرف مغربی اتر پردیش ہی نہیں لکھنو ¿ میں بھی تشدد کے پیچھے پولس پی ایف آئی کا ہی ثبوت پیش کر رہی ہے واضح ہو کہ جھارکھنڈ میں پہلے اس تنظیم پر پابندی ہے لیکن کچھ ریاستوںمیں اس کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں ۔حقیقت یہ بھی ہے کہ اسے ممنوعہ تنظیم سی می کی ساتھی تنظیم کے طور پر مانا جاتا ہے ۔پی ایف آئی نے کچھ ہی وقت میں کیرل سے نکل کر جس طرح دیش کی کئی ریاستوں میں اپنی جڑیں جما لی ہیں اس سے پتہ یہی چلتا ہے کہ اس کی آئیڈیا لوجی تیزی سے پھیل رہی ہے اوریہ اچھا اشارہ نہیں ہے کیونکہ بھلے ہی یہ تنظیم مسلمانوں اور دلتوں کے اختیارات کی بات کرتی ہو لیکن اس کے طور طریقے سوال کھڑے کرنے والے ہیں پی ایف آئی کے مشتبہ ممبروں کے پکڑے جانے کے بعد ان سے جس طرح کے دستاویز بر آمد ہوئے ہیں ان سے یہ ہی نتیجہ نکلا کہ یہ حقیقت میں سی می ہی ہے صرف نام بدلا ہے سی می پر پابندی لگاتے وقت واجپائی سرکار نے اتنی پختہ بنیاد بنائی تھی جس پر سپریم کورٹ نے بھی اپنی مہر لگا دی تھی امر واقعہ یہ ہے کہ کسی بھی تنظیم کو پابندی لگانے کیلئے ٹھوس بنیاد ہونا ضروی ہے ورنہ وہ پابندی ٹک نہیں پاتی ۔پی ایف آئی نے یوپی پولس کے الزامات کو مستر د کیا ہے تنظیم کے قومی جنرل سکریٹری محمد علی نے کہا کہ یوپی پولس نے تنظیم پر بے بنیاد الزام لگائے ہیں لوگوں نے اپنے سبھی اختلافات کی پرواہ کیے بغیر اس سے ہاتھ ملایا اور دیش بھرمیں اور دیہات میں قانون کے خلاف اپنا مظاہر ہ کیا یہ صرف بی جے پی حکمراں ریاستیں تھیں جنہوں نے احتجاج کو تشدد کہہ کر دبانے کی کوشش کی باقی ریاستوں میں جمہوری اختیارات کے تحت پر امن مظاہر ے ہو رہے ہیں ۔

(انل نریندر)

کیا این آر سی کی جانب پہلا قدم ہے این پی آر؟

شہریت ترمیم قانون اور این آر سی پر دیش بھر میں جاری احتجاج کے درمیان سرکار نے قومی مردم شماری رجسٹر(این پی آر)اپڈیٹ کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔یہ کام 2020میں اپریل سے ستمبر تک رہے گا وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی نے کیب نیٹ میٹنگ میںیہ فیصلہ کیا ہے کچھ سیاسی پارٹیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ این پی آر ہی این آر سی لاگو کرنے کا پہلا قدم ہے حالانکہ وزیر داخلہ امت شاہ اپنے ایک انٹر ویو میں صاف کر چکے ہیں کہ این پی آر اور این آر سی میں کوئی تعلق نہیں ہے این پی آر کی بنیاد پر اسکیموں کی بنیاد طے ہوگی جبکہ این آر سی میں سخص سے ثبوت مانگا جاتا ہے کہ وہ دیش کا شہری ہے یا نہیں این پی آر میں لوگ جو جانکاری دیںگے وہی مان لی جائے گی ان سے دستاویز بھی نہیں لئے جائیںگے ۔این پی آر کا ڈیٹا این آر سی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر نے 10ریاستوں کے ذریعے این پی آر کی مخالفت کے دعوے کو مستر کرتے ہوئے کہا سبھی ریاستوں نے اسے نوٹیفائی بھی کر لیا ہے وہیں کانگریس نے مردم شماری رجسٹر کے تجرباتی فارم میں پونچھے گئے سوالوں پر اعتراض کیا اور الزام لگایا مرکز کی این بی اے سرکار این آر سی کو این پی آر میں لانے کی سازش رچ رہی ہے ۔پارٹی نے سرکار کو آگاہ کیا اگرآپ نے ان اعتراض آمیز سوالوں کو نہیں ہٹایا اور قدم پیچھے نہیں کھینچے تو وہ اس کی پرزور مخالفت کرے گی ۔کانگریس کے سینئر ترجمان اجے ماکر نے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی یوپی اے سرکار نے صرف این پی آر کا قدم بڑھایا تھا ۔لیکن اسے این آر سی سے کبھی نہیں جوڑا ۔انہوں نے کہا این پی آر اور این آر سی میں فرق کرنا بہت ضروری ہے ۔این پی آر عام باشندے کے لئے ہے جو سب سے اہم ہے کہ وہ شخص جس مقام کا پتہ دے رہا ہے وہ ایک سال یا 6مہینہ تک رہا ہو یا پھر آگے 6مہینے تک رہنا چاہتا ہو۔بھاجپا نے پچھلے پانچ سالوں میں عام شہری کی بات نہیں کی انہوں نے ہمیشہ این آر سی کی بات کی ہے اجت مارکن نے کہا 2020این پی آر کے لئے فارم بھربانے کی بات کو ابھی تک خارج نہیںکیا اس رجسٹر فارم میں ماںباپ کا پتہ ،پیدائش مقام کے بارے میں جانکاری مانگی گئی ہے ۔مجھ سے پونچھو گے تو میرے ماتا پتا کی پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی میں ان کی تفصیل کہا ں سے لاو ¿ں گا اس میں موبائل نمبر اور آدھار نمبربھی مانگے جا رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے اگر اس کے پا س آدھار نمبر نہیںہے تو آپ کے لئے مصیبت کھڑی ہو جائے گی ۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے وزیر داخلہ پر تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ این پی آر سرکار کا این آر سی کی جانب پہلا قدم ہے شہریت ایکٹ 1955کے مطابق این پی آر کر رہے ہیں تو کیا یہ این آر سی سے جڑا نہیں ہے وزیر داخلہ دیش کو گمراہ کر رہے ہیں انہوں نے تنز کرتے ہوئے کہا امت شاہ صاحب جب تک سورج پورب سے نکلتا رہے گا ہم سچ کہتے رہیں گے این پی آر ،این آر سی کی طر ف پہلا قدم ہے ۔

(انل نریندر)

03 جنوری 2020

ہیمنت حلف برداری میں اپوزیشن نے دکھایا دم

جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے نگراں صدر ہیمنت سورین نے اتوار کے روز جھارکھنڈ کے گیارہویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے رانچی کے میدان میں حلف لیا وہ 2013کے بعد دوسری مرتبہ ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں ۔ان کی حلف برداری تقریب میں اپوزیشن اتحاد کی طاقت بھی دیکھنے کو ملی اس میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی ،چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوویش بگھیل ،راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور بنگال کی سی ایم ممتا بنرجی بھی شامل ہوئیں ان کے علاوہ لیفٹ پارٹی کے لیڈروں سیتا رام یچوری ،ڈی راجہ اور اتل انجان بھی موجود رہے ۔ڈی ایم کے کے نیتا اسٹالن ،ایم پی پی آربالو ،ایم پی کنی موجھی ،آر جے ڈی کے نیتا تجسوی یادو،شردیادو ،عام آدمی پارٹی سے ایم پی سنجے سنگھ نے بھی شرکت کی ۔حلف لینے سے پہلے شورن نے کہا کہ این آر سی نافذ کرنے لائق نہیں ہے جے ایم ایم ،کانگریس اور آر جے ڈی پر مشتمل اتحاد نے 81ممبری اسمبلی میں 47سیٹیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کیں۔وزیر اعلیٰ کاعہدہ سنبھالتے ہی ہیمن شورن ایکشن میں آگئے اور کیبنیٹ کی میٹنگ میں چھوٹا ناگ پور ایگزیکیٹو ایکٹ ۔(سی این ٹی )اور پتھل گڑی مالدے میں درج ایف آئی آر واپس لینے کا حکم دیا ۔چناو ¿ کے دوران قبائلیوں کی شان اور اس سے جڑے مسئلے جس میں کھونٹی کا سرخیوں میں آیا پتھل گڑھی آندولن تھا اس میں قبائلیوں کے خلاف ملک سے بغاوت کے مقدمہ درج کئے گئے ۔پچھلی بھاجپا سرکار کا متنازعہ کرایہ نامہ ایکٹ شامل ہے ترجیحی طور سے اٹھائے گئے تھے ۔لہذا ہمنت شورن کو ان پیچیدہ مسئلوں سے بھی نمٹنا تھا ۔سرکار نے فیصلہ کیا ہے کہ پتھل گڑی تحریک کے دوران جتنے معاملے درج ہوئے تھے وہ واپس لئے جائیں گے ،ریاست کے چھوٹے ٹیچروں او رآنگن باڑی ورکروں سمیت سبھی ٹھیکا ملازمین کے بقایا ذات بلا تاخیر اد اکئے جائیں گے ۔ریاست نے جھارکھنڈ کے منصفانہ اور پرا من چناو ¿ کرانے کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا اور اس سلسلے میں باقاعدہ ایک تجویز کیبنیٹ کی میٹنگ میں پاس ہوئی ۔دیش کی چالیس فیصدی معدنیاتی چیزیں اور 29فیصدی کوئلے ذخیرے سے کفیل اس ریاست کی کمان سنبھالنے کے بعد ان کا اصلی امتحان اور چیلنج شروع ہونے والا ہے ۔کیونکہ ریاست کی مالی حالت بہت خرا ب ہے اور ہیمنت سرکار کو 85ہزار کروڑ روپئے کا قرض وراثت میں ملا ہے ۔سینٹر فار مانیٹرنگ اکانمی کی تازہ رپورٹ کے مطابق نومبر میں جھارکھنڈ میں شہری بے روزگاری شرح اوسطاً 8.9فیصدی تھی جو اس وقت دوگنا ہوکر 17فیصدی تک پہونچ گئی ہے یہ ہی نہیں جھارکھنڈ دیش کی پانچ غریب ریاستوں میں شامل ہے جس کی 36.96فیصدی آبادی اب بھی خط افلاس کی زندگی جینے کو مجبور ہے بحرحال ہم ہیمنت شورین کو وزیر اعلیٰ بننے پر مبار کباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ ریاست کی برننگ پریشانیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔

(انل نریندر)

بھارت میں معیشت کی خستہ حالی آئی ایم ایف کا انتباہ

2019میں ہندوستان کی معیشت خستہ حال رہی متعدد صنعتیں بند ہو گئیں روزگار کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے کسانوں اور یومیہ مزدور برے دور سے گزرے ہندوستانی معیشت اس وقت سنگین سستی کے دور میں ہے اور سرکار کو اسے نکالنے کیلئے فوری پالیسی ساز قدم اٹھانے کی سخت ضرورت ہے سال کے آخری ہفتہ میں ہندوستانی معیشت کولیکرایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے بین الاقوامی مالی ادارے (آئی ایم ایف)نے پیر کوجاری رپورٹ میں صاف صاف کہا ہے بھارت کی معیشت میں اس وقت مندی کا جو ماحول ہے وہ کسی بحران سے کم نہیںہے اسلئے سرکار کو دیش کو مندی سے نکالنے کیلئے فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔آئی ایم ایف کی یہ دارننگ معیشت کے محاذ پر بھارت کی ناکامی بتانے کیلئے کافی ہے آئی ایم ایف کے ڈائرکٹروں نے لکھا ہے کہ ہندوستانی معیشت میں حالیہ برسوںمیں جو زوردار ترقی ہوئی اس سے لاکھوں لوگوںکو غریبی سے نکالنے میں مدد ملی تھی لیکن 2019کی پہلی چھ ماہی میں مختلف اسباب سے ہندوستانی معیشت کی ترقی شرع سست پڑی ہوئی ہے اس کی شروعات سال بھر پہلے ہی ہوچکی تھی لیکن سرکار مندی کی بات کو مسترد کرتی رہی تھی اس کامطلب صاف ہے کہ مالی سیکٹر کی حالت بہت خراب ہے سرکاری بینک ایم پی اے کا شکارہیں حالانکہ کچھ برسوںمیں سرکار نے ان کو کئی پیکج دئے مالیاتی کمپنیوںمیں ہزاروںکروڑ کے گھٹالے بتاتے ہیں کہ غیر بنکنگ مالی کمپنیاں معیشت کیلئے بڑا درد سر بنی ہوئی ہیں لیکن اب امید کی جاتی ہے کہ 2020میں معیشت بہتری آئے گی۔
(انل نریندر)

02 جنوری 2020

این آر سی کو سی اے سے جوڑا تو مسلمانوں کی پوزیشن بدل جائے گی


شہریت ترمیم قانون (سی اے اے)کو اگر قومی شہریت رجسٹر (این آر سی )سے جوڑ کر دیکھاجائے تو یہ بھارت کے مسلمانوں کی موجودہ پوزیشن میں تبدیلی لا سکتا ہے یہ انکشاف کانگریشنل ریسرچ سروس کا ہے یہ امریکی کانگریس سے جوڑا ایک ادارہ ہے جو دنیا کے پیچیدہ اور تازہ مسئلوںپر آزادانہ تجزیہ کرتا ہے اس کی 18دسمبر کو آئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آزادبھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیش کی شہریت سے متعلق کاروائی میں مذہبی پیمانہ کو جوڑ دیاگیا ہے اور آزادی کے بعد پہلا ایسا قانون بنا ہے جس میں مذہبی بنیادپر شہریت بنانے کی سہولت ہے اسلئے اگر سی اے اے کو این آر سی سے جوڑ کر دیکھا جائے تو بھارت میں مقیم 20کروڑ مسلمانوں کی سماجی حیثیت پر اثر ڈلنے والا دکھائی پڑتا ہے اس قانون کے مطابق جو غیرمسلم شرنارتھی 31دسمبر 2014تک پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت آچکے ہیں ان کو شہریت دی جائے گی ۔سی آر ایس کی د و صفحہ کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ 1955میںبنے شہریت قانون میں غیر قانونی ڈھنگ سے بھارت نہ آنے والے سبھی لوگوں کو در انداز مانا گیا لیکن کئی بار ترمیم کے ترامیم میں مذہبی بنیاد پر شہری بنانے کی سہولت شامل نہیں ہوئی لیکن مودی سرکار نے ترمیم میں یہ لفظ شامل کر دیا جس کی دیش بھر میں مخالفت ہورہی ہے مختلف مذاہب کے نمائندوںاور اقلیتی طبقے کے لوگوں نے کہا کہ بھارت نے یہ قانون بنا کر 20سیوں لاکھ اقلیتوں کے تئیں اپنے فرض کی ادائیگی کی ہے کیونکہ بنگلہ دیش اور پاکستان ،افغانستان سے بھاری تعداد میںآئے ان لوگوں نے کبھی حق نہیں مانگا ،ہندو،سکھ،بودھ،پارسی اور عیسائی فرقے کے اس گروپ نے کہا پوری دنیا کی اقلیتوں کیلئے بھارت کے اس قانون کے ساتھ ہے میں نے سی اے اے اور این آر سی میں بیرونی ممالک میں کیارائے بن رہی ہے پیش کردیا ہے اب آپ خود فیصلہ کرلیں کہ ان میں سے کون سا نکتہ نظر آپ کو صحیح لگتا ہے ۔
(انل نریندر)

میں مود ی سرکار نے کیے تابڑ توڑ فیصلے

دوبارہ بھاری اکثریت کے ساتھ مرکز میں اقتدار میں آئی مودی سرکار نے 6مہینے میں تابڑ توڑ فیصلے لیکر ہل چل مچادی لوک سبھا چناو ¿ 2019سے پہلے پاکستان کے اندر بالا کورٹ میں ائیر اسٹرائک کرکے سنسنی پھیلانے کے بعد اقتدار میں لوٹنے پر مودی نے ایک کے بعد ایک سیاسی -سماجی فیصلے کئے متنازعہ تین طلاق کی روایت کو ختم کرنے کیلئے قانون بنایا ۔جو کام پچھلی دہائیوں سے نہیں ہو سکا جموں کشمیر میں آرٹیکل 370کوہٹانے کا کام کرڈالا ۔شہریت ترمیم بل پاس کرانا مودی سرکار کی گزرے 2019سال کے اہم کارنامے رہے اسی کے ساتھ این آر سی کا اعلان بھی ہو گیا جس کی پورے دیش میں زبردست مخالفت بھی ہورہی ہے پورے دیش میں خدشات ہو رہے ہیں خاص کر اقلیتوں میں عدم تحفظ کا جذبہ پنپ رہا ہے جگہ جگہ لمبے مارچ ہورہے ہیں اور تمام طالب علم اس کی مخالفت میں سڑکوں پر اترآئے ہیں ۔پچھلے ساڑے چار سال کے عہد کے آخری سال میںانترم بجٹ پیش کر عام چناو ¿ ہوا۔پاکستان کی سرحدمیں بمب برسا کر ہمت کا مظاہر ہ کیا اور جتا دیا کہ بھارت اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔مئی 2019میں ختم ہوئے عام چناو ¿ میں 307سیٹیں جیت کر اکثریت سے اقتدار میں لوٹے وزیر اعظم نے ایک سے بڑھ کر ایک فیصلہ لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیںدکھائی۔جموں کشمیرسے آرٹیکل 370اور 35Aکو ہٹانے کیلئے بھارتیہ جن سنگ کے بانی ڈاکٹر شیامہ پرساد مکھرجی نے 1952میں تحریک شروع کی تھی۔بھاجپا کے اہم ایجنڈے میں تین اشوجن میں آرٹیکل 370ہٹانا رام مندر کی تعمیراور یکساں سول کورٹ شامل تھا مودی سرکار نے تین طلاق کو ختم کرنے کیلئے پارلیمنٹ سے بل پاس کراکر بڑا کارنامہ انجام دیا کیونکہ پچھلے عہد میں تین بار کوششیں ہوئیں لیکن پاس نہیں ہوسکا تھا ۔اب سی اے اے قانون مودی سرکارنے غیر ملکی شرنارتھیوںجو افغانستان ،پاکستان اوربنگلہ دیش سے مذہبی زیادتی کا شکار ہوکر بھارت میں ہیں کو شہریت دینے کیلئے شہریت ترمیم قانون بنایا چناو ¿ سے پہلے کسانوں کو چھ ہزارروپئے مالی امداد دی اب کل 12کروڑ کسانوں کو اس اسکیم کا فائدہ ملے گا دیش کی معیشت کو 5ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کیلئے مودی سرکار نے 10بینکوںکا انضمام کر بڑے بینک بنانے کا فیصلہ لیا اس سے بینکنگ سیکٹر و بینکوں کے سسٹم میں بہتری آئے گی اور بینکوں کے بے وجہ خرچہ بچیں گے انگریزوں کے زمانے سے چلا آرہا موٹر ایکٹ میں تبدیلی کرنا اور تمام بوسیدہ لیبر قانون کو ختم کرنا ان کی جگہ لیبر کوڈ لانا ۔پانی کے مسئلے پر توجہ دینے کیلئے جل پاور وزارت کا قیام کرنا ،ریلوے کی آٹھ سروسز کو ملا کر ایک سروس اتھارٹی بنانا شامل ہے ۔چندریان 2کی لانچنگ بڑا کارنامہ رہا لیکن یہ مشن بدقستمی سے پورا نہ ہو پایا سال کے ختم ہوتے ہوتے مودی سرکار کو شہریت قانون کو لیکر اپوزیشن اور اقلیتوں کی ناراضگی جھیلنی پڑ رہی ہے جوسڑکوں پر اترے ہوئے ہیں کئی جگہوں پر سرکاری املاک کو نقصان پہونچانے کے واقعات بھی ہوئے ہیںوہیںطلبہ میں دیش کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے بھاری ناراضگی ہے طلبہ کو سڑکوں پر اترنا پڑا بے روزگاری گرتی پیداوار،نوکریوںمیں تھوک کے بھاو ¿ میں چھٹنی مودی سرکار کی اقتصادی ناکامی ظاہر کرتا ہے کل ملا کر مودی سرکار نے کئی اچھے فیصلے بھی کئے اور کچھ متنازعہ فیصلے بھی لئے ۔

(انل نریندر)

01 جنوری 2020

تاریخی فیصلوں کا رہا ہے یہ سال

تاریخی فیصلوں کیلئے سال 2019یاد رہے گا ۔یہ سال سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں کے نام رہا لیکن سب سے زیادہ سرخیوں میں ایودھیا تنازعہ جس کا فیصلہ 9نومبر کو آگیا اور یہ فیصلہ دیش کے لوگوں کو برسوں تک یاد رہے گا اس کے علاوہ کئی مسئلوں نے پورے دیش کی توجہ سپریم کورٹ کی طرف راغب کردی ۔رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ پر 5نفری بنچ کا فیصلہ صدی کا فیصلہ مانا جائے گا اس تنا زعہ نے دیش کے سیاسی پش منظر کو بدل دیا یہ اشو ووٹ بینک کا ایک ذریعہ بن گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ستمبر ،اکتوبر میں روزانہ 40دن تک سماعت کرکے 9نومبر کو اپنا فیصلہ دے دیا جس کے تحت متنازعہ 2.77ایکڑ زمین رام مندر کیلئے دے دی حالانکہ اس فیصلے کو دوسرے فریق نے مذہبی بنیاد پر کہہ کر اس کے خلاف نظر ثانی عرضی بھی دائر کی لیکن عدالت کی بنچ نے اسے خارج کر دیا اس مسئلے کے علاوہ پورے سال رافیل معاملہ بھی چھایا رہا شروع میں تو سپریم کورٹ نے اس سودے کی جانچ کرانے سے انکار کر دیا تھا لیکن نظر ثانی عرضی پر جانچ کی مانگ کو مستر د کردیا ایسے ہی تیسرا مسئلہ مہاراشٹر میںدیویندر فڑنویس کو آناً فاناً میںوزیر اعلیٰ کا حلف دلا دیا گیا جس کو 24نومبر کو سپریم کورٹ میں خصوصی سماعت کی گئی لیکن عدالت نے سرکار کے ہاتھ میں فیصلہ نا دیکر اسے ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا لیکن فڑنویس نے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا ۔2019میںجو اہم ترین معاملہ سرخیوں میں رہا وہ تھا سی بی آئی معاملہ جس میں سی بی آئی کے اندر افسروں میں کھینچ تان کا تھا سی بی آئی کے ڈائرکٹر آلوک ورما اور ایڈیشنل ڈائرکٹر این ناگیشور راو ¿ میں اختیارات کو لیکر تنازعہ اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ گیا اس نے ناگیشور راو ¿ کو توہین عدالت کا قصور وار ٹھہرایا اور کورٹ کے کام کاج کے ختم ہونے تک وہیں بیٹھے رہنے کی سزا دی گئی اور آلوک برما کو ڈائرکٹر کے عہدے پر بحال کیاگیا لیکن سلیکشن کمیٹی کے اختیارات کے تحت ان کو ہٹا دیا گیا مہاراشٹر میں ڈانس بار پر پابندی لگی ایسے ہی یونیورسٹیوںمیں تقرری میں رزرویشن کا اشو چھایا رہا ۔بنواسیوں کو سرکار ی زمین سے بے دخل کرنے اور صنعت کار انل امبانی کو توہیں عدالت کا قصور وار ٹھہرایا گیا اور عدالت نے ان سے کہا کہ وہ ایک ماہ کے اندر 453کروڑ کابقایا ای ریکشن کمپنی کو دین ورنہ جیل جانا ہوگا اس سے بچنے کیلئے انل امبانی کویہ رقم چوکانی پڑی ۔میں نے کچھ اہم معاملوں کو ذکر کیاکل ملا کر 2019کا سال سپریم کورٹ کے دبدبے کا رہا ۔

(انل نریندر)

ڈٹینشن سینٹروں کی سچائی ؟

دیش میں ڈٹینشن سینٹر یا حراستی مراکز کولیکر تنازع چھڑ گیا ہے دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی کی ایک ریلی میں بیان دیا تھا کہ دیش میں کوئی ڈٹینشن کیمپ نہیں ہے وہیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی ۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی نے 2دن پہلے گوہاٹی میں اخبار نویشوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت والی آسام سرکار میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے حکم پر ڈٹینشن کیمپ بنایا تھا سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی نے بھی ناجائز تارکین وطن کیلئے ڈٹینشن کیمپ بنانے کی صلاح دی تھی ۔اب پردھان منتری کے بیان کہ دیش میں کوئی ڈٹینشن کیمپ نہیں ہے اس پر گوگوئی نے کہا کہ مودی جھونٹ بول رہے ہیں مودی سرکارنے 2018میں آسام کے گول پاڑہ میں 3000غیر قانونی ہندوستانیوں کیلئے دیش کا سب سے بڑاڈٹینشن سینٹر بنانے کی خاطر 46کروڑ روپئے منظور کئے تھے اب اچانک وہ کہہ رہے ہیں کہ دیش میں کوئی ڈٹینشن سینٹر نہیں ہے ۔گوگوئی نے کہا کہ بھاجپا کے لوگ کہ رہے ہیں کہ ڈٹینشن کیمپ کانگریس کے وقت بنے ہم نے ہائی کورٹ کے ان لوگوں کیلئے کیمپ بنانئے جنہیں غیرملکی ٹرائے بونل کے ذریعے غیر ملکی قرار دیا جا چکا تھا ۔بھاجپا سرکار ناجائز تارکین وطن کو آسام سے نکلنے کیلئے کوئی روک نہیں رہی ہے۔وزیر اعظم و وزیر داخلہ کے بیانوں کے باوجو د کئی ڈٹینشن سینٹرہونے کی بات سامنے آئی ۔نیوز ایجنسی رائیٹرس کی رپورٹ کے مطابق آسام میں 6سینٹر ہیں اس کے علاوہ کرناٹک میں پہلے ڈٹینشن سینٹر بننے کی بات سامنے آئی ہے سرکار ی اعداد و شمار کے مطابق آسام کے ڈٹینشن سینٹروں میں پچھلے تین برسوں میں 28لوگوں کی موتیں ہوئیں ۔اگر کوئی غیرملکی شہری پکڑا جاتا ہے اسے اس میں رکھا جاتا ہے حالانکہ وزیر داخلہ سے پونچھا گیا کہ ایسے کتنے سینٹر ہیں تو انہوں نے کہا کہ آسام میں ایک ہے اس کے علاوہ میری معلومات میں کوئی اور نہیں ہے آسام کے گوال پاڑہ میں سینٹر بنایا جارہاہے اس میں قریب 3000لوگوں کو رکھا جاسکتا ہے ایک ٹی وی چینل کی تفتیشی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سینٹر میں عورتوں اور مردوں کو الگ الگ رکھنے کا انتظام کیا جا رہا ہے ۔اگست 2016میں سرکار نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ آسام میں 6ڈٹینشن سینٹر ہیں ۔آسام سرکار نے پچھلی کچھ دہائیوںمیں جیلوں کے حصے کو ہی حراست مرکز بنا دیا تھا گول پاڑا ،کوکرا جھاڑ ،تیز پور ،جورہاٹھ ،ڈمروگڑھ اور سس پور کی جیلوں میں ایسے مرکز ہیں دہلی میں سیوہ سدن لاکھ پور ،عورتوں کیلئے مہیلا سدن پنجاب،امرتسر کی سینٹر جیل ،راجستھان میں الور جیل ،مغربی بنگال میں سدھار گرھے میںکئی حراستی مرکز ہیں اب یہ واضح ہے تو مودی جی نے کس بناءپر کہہ دیا کہ دیش میں کوئی ڈٹینشن سینٹر نہیں ہے ؟

(انل نریندر)

30 دسمبر 2019

نیو کلیائی بٹن دبانے کیلئے پی ایم کے پرنسپل مشیربنے جنرل راوت

جنرل بپن راوت دیش کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس )بن گئے ہیں پیر کی رات حکومت نے اس کا اعلان کر دیا کیب نیٹ کے ذریعے 24دسمبر کو یہ عہدہ منظور کیاگیا تھا سی ڈی ایس کا چارٹر کافی وسیع ہے ۔فوج کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اگر اسے پوری طرح نافذ کیاگیا تو یہ تینوں افواج کے درمیان بہترین تال میل کا کام کر سکتاہے ۔چونکہ کئی مرتبہ ڈیفنس کے بجٹ میں حصہ داری کو لیکر تینوں افواج کے درمیان کھینچ تان چلتی رہی ہے ۔سی ڈی ایس ایک چار ستارہ جنرل کاہے اس میںآر می اور نیوی اور ائیر فورس کے مشترکہ چیف ہوگا اس کے علاوہ تینوں افواج کے الگ الگ سربراہ ہوںگے ان کا بھی درجہ چار ستارائی ہوگا ۔سی ڈی ایس کی شکل میں جنرل راوت حکومت کے فوجی مشیر ہوں گے اور اسے اہم ترین ڈیفنس اور سیاسی صلاح دیں گے تینوں افواج کیلئے قلیل المدت ڈیفنس یوجناو ¿ ں اور ڈیفنس خرید ،ٹریننگ اور ٹرانسپورٹ کے لئے مو ¿ثر تال میل کا کام دیکھیں گے اور مستقبل میں خطروں یعنی جنگ کے خدشات کے پیش نظر تینوں افواج میں آپسی تال میل اور مضبوط بنانے کا ذمہ سی بی ایس کے کندھوں پر ہوگا ۔تقریباً سبھی نیوکلیائی کفیل ممالک میں سی ڈی ایس کا عہدہ ہے ۔خاص بات یہ ہے سی ڈی ایس کے طور پر نیوکلیائی کمان کے لئے جنرل راوت کا رول بہت اہم ترین ہوگا اور نیوکلیائی بمب بٹن دبانے کے معاملے میں وہ وزیر اعظم کے مشیر ہوںگے ۔2003میں بنائی گئی نیوکلیائی کمان اتھارٹی میں 16سال بعد یہ اہم ترین تبدیلی کی گئی ہے پہلے نیوکلیائی کمان وزیر اعظم کے ماتحت دو کانسل تھیں ایک سیاسی دوسری انتظامی ۔نیوکلیائی ہتھیار کے استعمال کا فیصلہ سیاسی کانسل لیا کرتی تھی جبکہ انتظامی کانسل این ایس اے کی کمان میں کام کرتی رہی ہے ۔نیشنل سکیورٹی پر ٹاسک فورس کے ممبر اور دیش کی نیوکلیائی پالیسی بنانے والے سابق بحریہ چیف ایڈ مرل ارون پرکاش کا کہنا ہے کہ نیوکلیائی کمان میں سی ڈی ایس کا رول صاف ہونے سے اب فوجی صلاح کا فیصلہ صحیح ہاتھوں میں گیا ہے ۔موجودہ فوج کے سربراہ بپن راوت کو تینوں افواج کی کمان یونہیں نہیں ملی بلکہ وہ 2016میں فوج کے سربرہ بنے اور 31دسمبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد نیا عہدہ سنبھالاہے ان کو جنگ اور عام حالات سے نمٹنے کا تجربہ ہے سی ڈی ایس دیش کی ڈیفنس سسٹم میں نئی شروعات ہے اس میںکوئی شک نہیں ہے جنرل راوت حکومت اور خاص کر وزیر اعظم نریندر مودی کے پسندیدہ شخص رہے ہیںدسمبر2016میں دیگر فوجی افسروں کو نظر انداز کرکے انہیںچیف آف اسٹاف بنایا گیا تھا بتا دیں بپن راوت کو گورکھابریگیڈ میں کمیشن ملا تھا اور وہ یہاں سے فوج کے سربراہ کے عہدے تک پہونچنے والے پانچویں افسر ہیں ۔جموں کشمیر میں جن ناگزیں حالات سے نمٹنے اور پاکستان سے آئے دن جھڑپ او راچانک وہ جنگ میں بدل سکتی ہے انہیںمسئلوں کو ذہن میں رکھ کر سرکار نے راوت کو سی ڈی ایس بنایا ہے ۔

(انل نریندر)

29 دسمبر 2019

!انٹارٹیکاسے بھی ٹھنڈا دراس،لندن سے بھی ٹھنڈی دہلی

نارتھ انڈیا میں پہاڑوں سے لیکر میدانوں تک ٹھٹھرتی سردی کا قہر جاری ہے لداخ کا دراس خطہ جمعرات کو ساو ¿تھ پول کے انٹارٹیکا سے بھی ٹھنڈا رہا وہیںدہلی کی را ت بھی لندن سے زیادہ سرد رہی ۔دراس میں کم ازکم درجہ حرارت نفی 30.2ڈگری درج کیاگیا جبکہ انٹارٹیکا کا درجہ حرارت نفی 26ڈگری رہا اسی طرح دہلی کے پالن میں درجہ حرارت لڑک کر 5.4ڈگری پر پہونچ گیا ادھر برطانیہ کی راجدھانی لندن میں درجہ حرارت کم از کم 6ڈگری درج کیاگیا دہلی کی سردی میں 118سال میں دوسرے ٹھنڈے دسمبر کا ریکارڈ توڑا 1901کے بعد 1997میں سب سے سرد دسمبرتھا جبکہ اس مہینہ کا اوسطاً درجہ حرارت 17.3ڈگری رہا اس سال اب تک دسمبر کا اوسط درجہ حرارت 19.85ڈگری رہا جو 31دسمبرتک 19.15ہو سکتا ہے ۔سردی کا ستم جھیلنے والوں کیلئے یہ خبر ستم ڈھانے والی ہے سال کے آخیر سے اور اگلے سال کی شروعات تک ہماچل خطہ میں بھاری برف باری کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے اس کا سیدھا اثر پہلے سے لوگوں کو بدحال کر چکی دہلی کی سردی پربھی پڑ سکتا ہے آج دہلی میں سب سے ٹھنڈا دن رہا اوسط کم از کم درجہ حرارت 4.2ڈگری سیلسیس درج کیاگیا جبکہ آیا نگر میں سب سے کم 3.6ڈگری تھا ۔محکمہ موسم کی نارتھ جون میعاتی یونٹ کے چیف ڈاکٹرکلدیپ سریواستو نے بتایا کہ شمالی حصوں میں پہاڑوں میں برف گرے گی جس کا اثر میدانی علاقوں میں پڑے گا پہاڑوں سے آنے والی ہوائیںدہلی این سی آر کو ٹھنڈا کردیںگی ابھی کشمیر ہماچل پردیش ،جھارکھنڈ میںبرف باری نہیں ہورہی ہے اس کے باوجود وہاں سے ٹھنڈی ہواو ¿ں نے دہلی کادرجہ حرارت ریکارڈ سطح تک گرادیا ہے نئے سال کے آغاز پر برف باری کا لطف اٹھانے والے سیلانی ،شملہ ،سری نگر،کفری ،کلومنالی ،نینی تال ،مسوری جاسکتے ہیں یہی سردی کا سب سے ٹھنڈا مہینہ ہے ۔صبح ساڑھے آٹھ بجے سب درجن میں دھند چھ سو میڈر اور پالم میں سات سو میٹر ریکارڈ کی گئی کل بھی ٹھنڈی ہوائیں چلنے کااندازہ ہے 31دسمبر کو بارش ہو سکتی ہے نئے سال یعنی ایک جنوری کوبھاری بارش کا امکان ہے ا ن دودنوںمیں درجہ حرارت 6ڈگری اور زیادہ 16ڈگری سیلسیس تک جا سکتاہے اتنی ٹھنڈ کے سبب بہرحال ٹھنڈ کم ہو گئی ہے نارتھ ایسٹ میں کہرے کے سبب ٹرینیں بھی لیٹ ہو رہی ہیں ۔کل ملا کر دہلی میں سردی زبردست پڑ رہی ہے خود کو بچا کر رکھیں ۔
(انل نریندر)

!فیل ہوتی بی جے پی کی ڈبل انجن لیڈر شپ

ایک ریاست اور کئی سوال -اشارے -پیغام دے کرچلاگیا 2019کے آخری چناو ¿ کا نتیجہ ۔اس میں کئی طرح کے تضاد بھی ہیں اور کئی طرح کا نیا ٹرینڈ بھی ہے جن پر آنے والے دنوںمیں سیاسی بحث جاری رہے گی جھارکھنڈ چناو ¿ نتیجہ کا اثر قومی سیاست پر پڑنا طے ہے پچھلی مرتبہ جھارکھنڈ میں چناو ¿ سے پہلے اتحاد نے پہلی بار مکمل اکثریت والی حکومت کو آتے دیکھا ہے ابھی تک ریاست کی تاریخ میںایسا کبھی نہیںہوا تھا ۔پچھلی بار بی جے پی اکیلے 37سیٹ جیتی تھی اور اکثریت سے سے 4سیٹ دور رہی باد میں آجسو کے ساتھ سرکار بنائی ساتھ ہی رگھوبرداس کے ساتھ پہلی مرتبہ کوئی سرکار ایسی رہی جس نے اپنی پوری میعاد طے کی اس سے ریاست میں مضبوط سیاست کے دور کو لوٹنے کا اشارہ ملا جھارکھنڈ میں بی جے پی کو قبائلی ووٹوں کے غصہ کے علاوہ مقامی مسئلوں پر بری طرح ہارملی چناو ¿ کو قومی اشوز کی طرف دھکیلنے کی کوسش پوری طرح فیل ثابت ہوئی ریاست اور مرکزمیں چناو ¿ میں الگ الگ پیٹرن سے ووٹ دینے کا رواج ہو چلا ٹرینڈ بھی اس کے ساتھ قائم ہوا وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ نے چناو ¿ کمپین کے دوران کئی ریلیاںکیں اور کئی مرکزی وزیر بھی ان میں شامل ہوئے ۔بی جے پی کی ڈبل انجن پالیسی پوری طرح فیل ہوئی ناتو مقامی مسئلوں پر توجہ دی گئی نہ ہی لوکل لیڈروں پر مودی شاہ کی جوڑی نے چناو ¿ جتانے کا پورا ذمہ اپنے کندھوں پر لیا۔سیٹوں کے بٹوارے پر دمرکزی لیڈر شپ کا اڑیل رویہ بھاری پڑا پچھلے بار پورے پانچ سال سے سرکار میں شامل آجسو ناطہ توڑنے پر مجبور ہو گیا جب اسے سیٹوں کا تال میل نہیں ہوا رگھوور داس اتنے غیرمقبول تھے کہ ان کے ہی کیب نیٹ کے سینئر لیڈر ساتھی سریوارام نے انہیں چناو ¿ میں پچھاڑ دیا محض 6مہینے میں بی جے پی کا ووٹ 20فیصد سے زیادہ گر گیا ۔ظاہر ہے کہ اب ہر چناو ¿ کیلئے الگ الگ حکمت عملی بنانے کا دور واپس لوٹے گا اس سے یہ بھی صاف ہوگیا کہ اب بی جے پی اکیلے اپنے دم خم پر چناو ¿ نہیں جیت سکتی اسے ساتھیوں کی ضرورت پڑے گی سیٹ تال میل کرنا ا ب بی جے پی کی مجبوری بن گئی ہے 2014کے بعد بی جے پی نے ایک ہی فارمولے سے کامیابی پائی تھی لیکن اب اس پر بریک لگتا دکھائی دے رہا ہے اس کے لئے بی جے پی نے ڈبل انجن کومقامی چناو ¿ میں پرکھنے کی کوشش کی تھی جسے جھارکھنڈ نے مسترد کردیا ایک سال میںاس ڈبل انجن نے مہاراشٹر،راجستھان ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ اور اب جھارکھنڈ سے بی جے پی کو ہارکا منھ دیکھنے پر مجبور کیا جھارکھنڈ کے بعد اب دہلی بہار ،مغربی بنگال میں چناو ¿ ہونے ہیں دیکھیں بی جے پی اپنی حکمت عملی بدلتی ہے یا نہیں ؟
(انل نریندر)