Translater

25 اپریل 2020

نارتھ کوریا تانہ شاہ کنگ جون برین ڈیڈ؟

نارتھ کوریا کے تانہ شاہ کنگ جون ان سنگین طور سے بیمار ہیں اور امریکی میڈیا میں ان کے برین ڈیڈ ہونے کی قیاس آرائیاں بڑی تیزی سے ہو رہی ہیں ۔میڈیا کی رپورٹوں میں دعویٰ کیاگیا ہے حال ہی میں ان کی برین سرجری ہوئی تھی لیکن اس کے بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی جب کنگ جونگ ان 15اپریل کو اپنے دیش کے یوم تا ¿سیس اور سورگیہ دادا کے اپنے 108ویں جینتی پر منعقدہ پروگرام میں نہیں نظرآئے ۔خبروں کی مانیںتو وہ سگریٹ نوشی اور موٹاپے کی وجہ سے کافی بیمار چل رہے ہیں آخری مرتبہ ان کو11اپریل کو ان کوایک میٹنگ میں دیکھاگیا تھا ۔ان تمام قیاس آرائیوں پر نارتھ کوریا کے 2سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کنگ جون کی ہیلتھ کو لیکر آرہی خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ان کاعلاج جاری ہے ۔ہاں وہ بیشک سنگین بیمار ہیں ۔لیکن ان کی طبیعت ٹھیک ہورہی ہے ۔کنگ جون کی بہن کنگ یوجونگ نارتھ کوریا کا سب سے مقبول ترین چہرہ ہے ان کو 11اپریل 2020کو دیش کی پولٹ ویورو میں ایک الرٹ متبادل ممبر کے طور پر دوبارہ شامل کیاگیا ۔کئی بار دنیا مین وہ اپنے دیش کی نمائندگی کر چکی ہیں اتنا تو طے ہے کہ وہ ہی ان کی جانشیں بنیں گی ۔کیونکہ نارتھ کوریا کے حکام نے بھی یہ مان لیا ہے کہ کنگ جون برین ڈیڈ ہو چکے ہیں اس کی تصدیق ہونا باقی ہے اس لئے امریکی میڈیا رپورٹ پر ہم بھروسہ نہیں کر سکتے ۔دوسری طرف اگر یہ صحیح ہے تو کنگ جون کی پوزیشن کے بارے میں زیادہ دن تک راز میں نہیں رکھا جا سکتا ۔
(انل نریندر)

پلازمہ تھیرپی سے دیش میں پہلی بار ٹھیک ہوا کورونا مریض!

دنیا بھر میں ایک عجب پہیلی بنے کورونا انفکشن کے علاج میں پلازما تھریپی نے امید کی کرن دکھائی ہے دیش میں پہلی باراس تھیرپی سے سنگین طور سے کورونا سے متاثر شخص کا کامیاب علاج کیا گیا ۔4دن میں ہی مریض کے ٹھیک ہونے سے ڈاکٹر بہت امید افزا ہیں ۔دہلی کے میکس اسپتال ساکیت میں ٹریل اتنا کارگر ہوا کہ 4دن میں ہی مریض وینیٹی لیٹر سے باہر آگیا۔پلازمہ تھیرپی کا دیش مین سب سے کامیاب تجربہ مانا جارہا ہے ۔اس سے آگے ایک نئی امید جاگی ہے ۔دہلی سرکار نے بھی اس پر ٹرائل کرنے کے احکامات دے دئیے ہیں ۔آنے والے کچھ دنوں میںدہلی کے 2سرکاری اسپتالوںمیں جن میں LNJPشامل ہیں اس کا ٹرائل ہو رہا ہے ۔میکس اسپتال میں پلازمہ تھیرپی سے مریض کا علاج کیا اور کورونا کی جنگ میں جیت چکے ایک ڈونر سے پلازمہ لیکر آئی سی یو میں بھرتی 49سالہ ایک شخص کو چڑھایاگیا جس وجہ سے وہ مریض ٹھیک ہوگیا اور وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا اب اس کا وارڈ میں علاج چل رہا ہے ۔یہ شخص ڈیفنس کالونی کا رہنے والا ہے ۔4اپریل کو ا سے میکس میں ایڈمٹ کیا گیا تھا جانچ میں کورونا پوذیٹو پایا گیا اور 8اپریل کو انہیں آی سی یو میں وینٹی لیٹر سپورٹ دینے کی نوبت آگئی ۔جس نے خون دیا تھا وہ بھی تین ہفتہ پہلے کورونا سے ٹھیک ہوئے تھے ۔اسپتال میں ڈونر کی جانچ کی گئی اور ان کے خون سے پلازمہ لے کر 14اپریل کو مریض کو چڑھایا گیا اس کے بعد ان کی صحت میں بہتری دکھائی دینے لگی اور 18اپریل کو ان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ۔ایک مریض کے علاج کے لئے 200MLپلازمہ درکار ہوتا ہے اور اس ڈونل سے 2مریضوں کی جانچ ہو سکتی ہے ۔آخر کار پلازمہ تھیرپی کے کامیاب تجربہ سے کورونا متاثر لوگوں کی صحتیابی میں ایک نئی امید کی کرن نظر آئی ۔
(انل نریندر)

وبا قانون میں سخت دفعات جوڑیں،ڈاکٹروں و نرسوں پر حملے!

جس طریقے سے اپنی جان کی بازی لگانے والے ڈاکٹروں ،نرسوں و دیگر ہیلپ ملازمین پر حملے ہو رہے ہیں اس پر روک لگنا انتہائی ضروری تھا ۔حملے ان کے ساتھ ہو رہے برے برتاو ¿ کو دیکھتے ہوئے قانونی دفعات کو مزید سخت کرنے کے علاوہ کوئی کارگر قدم اٹھانہ ضروری ہو گیا تھا اس لئے سرکار نے کورونا وائرس سے متاثروں کے علاج میں لگے ڈاکٹروں ،نرسوں و دیگر ہیلپ ملازمین پر حملہ آوروں کو 6سے 7سال کی سزا ہو سکتی ہے ۔مرکزی کیب نیٹ نے بدھ کو ایسے واقعات کو گھناو ¿نی اور غیر ضمانتی جرم ماننے والے آرڈینینس کو منظوری دے دی ہے ۔اس کے ذریعے 123سال پرانے وبا قانو ن میں سخت نکات جڑ گئی ہیں ۔اور صدر جمہوریہ کے آرڈینینس پر دستخط کے ساتھ یہ ترمیمی قانون نافذ ہوگیا ہے ۔مرکزی وزیر جاوڈیکر نے کہا ڈاکٹروں اور نرسوں پر حملے برداشت نہیں کئے جائیںگے ۔واضح ہو کہ ہیلتھ ملازمین کافی عرصہ سے آرڈینینس لانے کی مانگ کررہے تھے ۔ڈاکٹروں پر حملوں کو دیکھتے ہوئے انڈین میڈیکل اسو سی ایشن نے آندولن کی دھمکی دی تھی لیکن مرکزی وزیر داخلہ نے ان سے مل کر یقین دلایا تھا کہ اس کے بعد آئی ایم اے نے اپنا احتجاجی مظاہرے کی دھمکی واپس لے لی ۔وزیرداخلہ اور مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے آئی ایم اے کے ڈاکٹروں سے ویڈیو کانفرنسنگ میں اپیل کی تھی ۔کہ وہ علامتی احتجاج نا کریں ۔حکومت ان کے پوری طرح ساتھ ہے ۔جلد ڈاکٹروں کی حفاظت اور ان کے مسائل پر قانون لائیں گے اس وعدے کے ساتھ کیب نیٹ نے میٹنگ میں ایک قانونی فرمان کو منظوری دی گئی اس قانون کا مسودہ کچھ مہینوں سے سرکار کے پاس تھا لیکن کچھ قانونی نکات پر رضامندی نا بننے سے یہ پاس نہیں کیا جاسکا تھا ۔مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ ہیلتھ کرمچاریوں کی حفاظت کا سرکار نے پکہ ارادا کیا ہوا ہے ۔اب نئے آرڈینینس کے عارضی قانون بن جانے سے ہیلتھ کرمچاریوں کو حفاظت اور ان کے رہنے اور کام کی جگہ پر تشدد سے بچانے میں مدد ملے گی ۔پوچھے جانے پر کورونا بحران کے بعد کیا یہ ترامیم نافذ رہیں گی تو انہوں نے کہا کہ یہ اچھی شروعات ہے اور قانون کے تحت ملزم پر ہی بے گناہی ثابت کرنے کی ذمہ داری ہوگی ۔باقی قانون میں جانچ ایجنسی کو الزام ثابت کرنا ہوتا ہے ۔یہ قانو ن تب تک نافذ رہے گا جب تک وبا رہے گی اس کے بعد بھی اگر کوئی ریاستی حکومت وبا قانون کو نافذ کرتی ہے تو یہ قانون نافذ مانا جائےگا ۔کورنا کے خلاف جنگ میں کچھ عناصر کے ذریعے بے ہودگی کرنے کا اتنا حوصلہ بڑھ گیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ڈاکٹروں اور نرسوں کو چھیڑ چھاڑ یا مار پیٹ کرتے ہیں یہ تو عام بات ہے لیکن پولیس پر بھی لوگ حملے کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں ۔مرادآباد علی گڑھ کے کچھ دیگر علاقوں میں ڈاکٹروں کے ساتھ پولیس پر حملے کے واقعات کسی غلط فہمی یا رقابت ماننا ایک بھول ہوگی ۔یہ واقعات تو کسی منظم سازش لگتے ہیں پولیس پر حملہ تو قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے ۔ہم سرکار کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں اس سخت قانون کے رہتے اور ڈاکٹروں اور نرسوں و پولیس پر حملے بند ہو جائیںگے ۔امید تو یہی کی جاتی ہے ۔
(انل نریندر)

24 اپریل 2020

مکہ مدینہ میں نہیں پڑھی جائےگی نماز!

سعودی عرب میں مسجدوں میں جاکر نماز پڑھنے پر پابندی مزید بڑھا دی گئی ہے ۔سعودی انتظامیہ نے رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی پابندی بڑھا دی گئی ہے ۔مکہ مدینہ کی بڑی مسجدوں میں رمضان میں نماز نہیں پڑھ پائیںگے ۔حالانکہ کثیر تعداد میں ایک ساتھ نماز پڑھنے پر یہ پابندی لگائی گئی ہے لیکن 4یا 5افراد نماز ضرور پڑھیںگے تاکہ مسجد آباد رہیں ۔بتایا جاتا ہے مکہ مسجد الحرام اور مسجد النبوی میں رمضان کے دوران لاو ¿ڈ اسپیکر سے اذان تو دی جائےگی مگر ان مسجدوں میں داخلے کی اجاذت نہیں ہوگی ۔سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن عبداللہ الشیخ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وبا کے پیش نظر رمضان کے مہینہ میں تراویح کی نماز بھی گھر پر اداکریں تاکہ سعودی کورونا وائرس کا انفکشن پھیلنے سے روکا جا سکے ۔
(انل نریندر)

شوشل میڈیا کا بڑھتا اثر !

دہلی سرکار کے لوک نائیک اسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کو صحیح علاج نا ملنے پر مریض کی بیٹی اور بیوی کا درد چھلک گیا ماں بیٹی کے اس دردبھرے ویڈیو کو شوشل میڈیا پر جم کر وائرل ہوا اس کے بعد اروند کیجریوال کی مداخلت کرنے کے بعد مریض کا ٹھیک علاج ہوا ۔پیر کی صبح یہ شوشل میڈیا پہ ویڈیو ڈالا گیا تھا اس میں بتایا کہ کورونا وائرس سے متاثر مریض کی بیٹی اور بیوی دعویٰ کررہی ہے کہ ان کے والد اور شوہر کو لوک نائیک اسپتال میں اچھا علاج نہیں مل پارہا ہے ۔مریض اروند کی بیٹی پرتبھا کہتی ہے کہ جہانگیر پوری میں 16اپریل کو ان کے والد کی طبیعت خراب ہوگئی تھی جس کے بعد انہیں پرائیویٹ اسپتال لے گئے اور وہاں کورنا کی جانچ ہوئی اس میںپتہ چلنے پر لوک نائک اسپتال میں بھرتی کرا دیاگیا ۔لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کے پتاکو 102بخار تھا ۔پیر تک کسی ڈاکٹر نے انہیں نہیں دیکھا یہ شخص سوگر اور ہائیپر ٹینشن کامریض ہے اس سلسلے میں پرتیبھا نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو ٹیگ کرکے ٹوئیٹ کیا۔اور مدد مانگی وزیر اعلیٰ اروند کیجریوا ل حرکت میں آئے اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کے بعد مریض کوالگ کمرے میں منتقل کر دیا گیا ۔ادھر تیمار پور سے عاپ ممبر اسمبلی دلیپ پانڈے کی جانب سے کوشش کی گئی ۔ماں بیٹی کے ویڈیو پر بی جے پی کے پردیش صدر منوج تیواری نے اپنے ٹوئیٹر اکاو ¿نٹ پر شئیر کیا اور سرکار کے انتظامات پر سوالات کھڑے کئے ۔چلو پرتیبھاکے باپ کا اچھا علاج چل رہا ہے بھگوان کریں کہ وہ بچ جائیں لیکن سینکڑوں بیماروں کا پتہ نہیں اگریہی حال ہے تو دہلی سرکار کے انتظامات پر اسپتالوں کے علاج کرنے کے طریقے پرسوال کھڑا ہوتا ہے ۔شوشل میڈیا کااب کتنا اثر ہے اس معاملے سے پتہ چلتا ہے ۔
(انل نریندر)

چینی ریپڈ ٹیسٹ کٹ فیل!

کوالٹی کے دعووں کے ساتھ چین سے آئی رپیڈ ٹیسٹ کٹ پہلی نظر میں فیل ہوتی نظر آرہی ہے اس کے نتیجوں میں 6سے 71فیصدی تک فرق ہے کٹ کی کولٹی جانچ کے لئے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آڑ)نے اپنے آٹھ اداروں کے ممبران کو فیلڈ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ ممبر گڑبڑی کی شکایت والے علاقوں میں جائیںگے اور وہیں ریپڈ ٹیسٹنگ کٹ کی جانچ کریں گے ۔پچھلے ہفتہ ہی چین سے 6.5لاکھ رپیڈ ٹیسٹنگ کٹ آئی تھی ۔کورونا وائرس کی جانچ کا سب سے بڑا ہتھیار مانی جا رہی یہ ریپڈ ٹیسٹ کٹ فیل ہو گئی ہے ۔راجستھا ن حکومت نے اس کے استعمال پر روک لگا دی ہے ۔وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا جے پور کے ایس ایم ایس ہاسپٹل میں بھرتی کورونا کے 100مریضوں کی اس رپیڈ کٹ سے جانچ کی گئی جس میں صرف 5پوزیٹو ملے اسے دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا کہ دس لاکھ میں سے باقی آٹھ لاکھ رپیڈ ٹیسٹ کٹ کی خرید روک دی گئی ہے ۔ان کٹس کی ایکو پریسی 90فیصد ہونی چاہیے تھی لیکن یہ صرف 5.4فیصد ہی آرہی ہے یعنی کئی متاثرہ مریضوں کو بھی نگیٹو بتا رہی ہے انہوں نے بتایا کہ سرکار نے آئی سی ایم آر کو لکھا ہے کہ ہم کٹ لوٹائیںگے اس کے بعد آئی سی ایم آ ر نے ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اگلے دودن تک کورونا ریپڈ ٹیسٹ کٹ کا استعمال نا کریں ۔اس کے چلتے آئی سی ایم آر کے آٹھ اداروں کی ٹیمون نے موقع پر جانچ کرنے کے بعد ہی دودنوں میں آیڈوائزری جاری کی جائے گی ۔آئی سی ایم آر کو مغربی بنغال میں بھی رپیڈ کٹ کی شکایت ملی تھی یہ چین سے منگائی گئی تھی اس کے علاوہ ٹیسٹنگ کٹ ماسک اور دیگر میڈیکل ساز وسامان کی کوالٹی پر بھی سوال کھڑے ہونے لگے ہیں ۔اس سے پہلے اسپین اور ترکی میں بھی ٹیسٹنگ کٹ صحیح نہیں نکلی اور وہ بھی اس کو واپس کر چکے ہیں ۔وہیں نیدر لینڈ میں بھی اپنے ملازمین کے لئے 6لاکھ ماسک منگوائے تھے ۔دعویٰ کیا گیا تھا یہ اچھی کولٹی کے تھے لیکن نیدر لینڈ کے مطابق بہت سے ماسک سائز میں چھوٹے تھے اور کئی کے فلٹر بھی ٹھیک نہیں تھے اسی لئے ان سبھی کو واپس بھیج دیاگیا ساری دنیا جانتی ہے کہ چینی مال گھٹیا ہوتا ہے بس سستا ہونے کے سبب اس کی کوالٹی کو کوئی نہیں سمجھ سکتا ہم جہاں انسان کی پسند کی بات کررہے ہیں جس میں کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا ۔
(انل نریندر)

23 اپریل 2020

ا مریکی صدر ٹرمپ تین مرحلوں میں معیشت کو کھولیںگے !

امریکہ میں کورونا وائرس کے سبب مرنے والوں کی تعداد 42ہزار کے قریب پہونچ چکی ہے ۔جان ہاکنگش یونیورسٹی سے ملے اعداد و شمار کے مطابق 24گھنوں کے دوران انفکشن کی وجہ سے 44سے 91لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور یہ ایک دن میں موتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے ۔کورونا کے بڑتے قہر کے باوجود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دیش کی معیشت کو مرحلے وار کھولنے کے لئے اسکیم بنا رہے ہیں ۔اور یہ تین مرحلوں میں کھولی جا سکتی ہے ۔ٹرمپ نے ریاستی گورنروں کو اپنی اپنی ریاستوںمیں 95فیصد سے زیادہ آبادی والے لوگ اپنے اپنے گھروںمیں بند ہیں ۔ٹرمپ نے اخبار نویشوں سے کہا ان کا انتظامیہ نئی سرکار ی گائڈ لائنس جاری کررہا ہے اس کے تحت گورنر اپنی اپنی ریاستوں کو پھر سے کھولنے پر مرحلے وار فیصلہ لے سکیںگے ۔اقتصادی دباو ¿ کے درمیان لاک ڈاو ¿ن سے پبلک ہیلتھ پر برا اثر پڑے گا ٹرمپ نے 18صفحات پر مبنی لاک ڈاو ¿ن کھولنے کا پلان پیش کیا ہے ۔پہلا غیر ضروری سفر سے بچیں،گروپوں میں اکٹھا نا ہوں ،ریستورانت ،عبادت گاہیں ،کھیل کی جگہیں وغیرہ میں سماجی دوری بنا کر کام کریں ۔دوسرا مرحلہ کورونا وائرس کے لوٹنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔اسکول چھوٹے بازار کھولے جا سکتے ہیں ۔کچھ سیکٹر عام طور پر پٹری پر لوٹ سکتے ہیں اسپتالوں میں مریضوں کو دیکھے جانے کی چھوٹ دی جا سکتی ہے ۔امریکہ میں کورنا وائر س کا قہر جھیل رہے اب تک 7لاکھ سے اوپر مریض ہو چکے ہیں ۔اور ہزاروں لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں امریکہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو صدر ٹرمپ کے لاک ڈاو ¿ن پلان کی مخالفت کررہے ہیں ۔کچھ حمایت بھی کررہے ہیں ۔
(انل نریندر)

دہلی میں بڑے کمیونٹی ٹرانسمشن کا خطرہ!

دہلی میں تیزی سے پھیل رہے کورونا وائرس کا قہر اب کمیونٹی میں بھی پھیلنے لگا ہے یہ تشویش کی بات ہے ۔جہانگیر پوری علاقے میں ایک پریوار اور اس سے جڑے 26لوگوں کا وائرس سے متاثر ہونا و تغلق آباد میں ایک ہی گلی کے35لوگوں کو کورونا کا پتہ چلنا ایسی خطرے کی گھنٹی ہے اس کا نوٹس دینا چاہیے 21دن سے لاک ڈاو ¿ن کے بعد بھی دہلی کے حالات میں بہتری نہیںہو پا رہی ہے ۔تلک نگرمیں بھی 21لوگ کورونا پوزیٹو پائے گئے ہیں ۔محکمہ صحت کی مانیں تو اگر بڑھائے گئے لاک ڈاو ¿ن کے دوران بھی ایسے مریض آتے رہے تو مسئلہ اور بڑھے گا تغلق آباد ایکسٹینشن کی گلی نمبر 26میں13لوگوں کے ٹیسٹ کرائے گئے تھے اس ٹیسٹ کی رپورٹ میں 35لوگ پوزیٹو پائے گئے جس کے بعد پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے ۔فی الحال ایک سال کی ایک بچی بھی پوزیٹو ملی اس کے خون کے نمونے لئے گئے ہیں بہر حال علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے ۔بتادیں جہانگیر پوری میں سی بلاک میں 31لوگ کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے تھے اور ان سے ملنے والے سبھی لوگوں کو نریلامیں کوارنٹائن میں بھیج دیا گیا ہے ۔ظاہر ہے کورونا انفکشن کا پھیلاو ¿ نہیں ہونا چاہیے لیکن اگر علاقہ سیل ہونے کے باوجود آپ لوگوں سے دوری بنانے کی تعمیل نہیں کریں گے تو کورونا کبھی بھی اور کسی بھی وقت آپ کو اپنی ضدمیں لے لے گا ۔جن علاقوں کو سرکار کے ذریعے ہاٹ اسپاٹ ڈکلیر کیاگیا ہے اس کو سیل کر دینا کافی نہیں ہے اس لئے سیل کردہ علاقوںمیںکسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہے وہاںپولیس یا دیگر سماجی ادارے ان کے لئے ضروری سامان کی سپلائی کررہے ہیں تکلیف دہی پہلو یہ بھی ہے کہ تھوڑی سی چھوٹ لینے کے لئے بھی لوگوں سے مل جل رہے ہیں اور شوشل ڈسٹنسنگ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔پہلے نظام الدین نے اسے بگاڑا اب جہانگیر پوری اور اب تغلق آباد جیسے علاقوں نے سرکا ر کی کوشسوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔یہ ممکن نہیں کہ افسر کسی محلے کے ایک ایک گھر پرنظر رکھیں پڑوسیوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ملنے جلنے پر روک پائیں ۔جہانگیر پوری کا واقعہ بتاتا ہے کہ ایسا نا کیا جانے سے حالات کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں ۔تصور کیجئے کہ اگر دہلی کی بہت سی گلیوںمیں ایک ساتھ ایسا ہو جائے تو حالات مزید بگڑ سکیں گے ایک ذمہ دار شہری کے ناتے ہم سب کو سمجھنا ہوگا کہ ہمارے خاندان ،رشتہ دار سب کی زندگی کا سوال ہے جب تک ہم خود کو اس با ت کا احساس نہیں دلائیںگے تب تک کورونا پر کامیابی پانا مشکل ہو جائےگا ۔قانون کی سختی سے تعمیل کریں ۔
(انل نریندر)

پالدھر ما ¿ب لنچنگ معاملے کی تہہ تک پہونچنا ضروری !

مہاراشٹر کے پالدھر گڑھ چنملے علاقے میں دو سادھوو ¿ں سمیت تین لوگوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دینے کے واقعے نے دیش کو چونکا دیا ہے ۔جمعرات کے روز قریب دوسو لوگوں کی بھیڑ نے چور کے شبہہ میں دو سنتوں اور ان کے ڈرائیور کو لاٹھی ڈنڈے سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا ان کی پہچان ششیل گری مہاراج ،چکنے مہاراج کلپ ورش گری اور ڈرائیور ملیش تیل گاڑھے کے طور پر ہوئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق دونو ںسادھو پالدھر کے گڑ چنملے گاو ¿ں میں اس وقت ایک سہرا سے ہوتے ہوئے ممبئی سے گجرات کی طرف جا رہے تھے تبھی کسی نے افواہ پھیلا دی کہ چور بھاگ رہے ہیں اور اس کے بعد درجنوں لوگوں نے بھیڑ اکٹھا کر ان پر ٹوٹ پڑے بتایاجاتا ہے یہ پورا واقعہ وہاں موجود پولیس کرمچاریوں کے سامنے ہوا لیکن پولیس کچھ نا کر سکی ۔کچھ نا کرنا تو الگ بات ہے جب بھیڑ سنتوں کو ڈنڈوں سے مار رہی تھی تو پولیس والا وہاں سے بھاگ گھڑا ہوا ۔پالدھر میں سادھوو ¿ں کے قتل کے سنت سماج میں غصہ ہونا فطری ہے ۔اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری نے سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے میں سبھی ملزمان کو سزا نہیں دلائی گئی تو مہاراشٹر میں بڑا آندولن ہوگا ۔اس معاملے میں بی جے پی کے ایم پی شاکشی مہاراج نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ سبھی ملزمان پر این ایس اے لگایاجانا چاہیے ۔ریاست کے وزیر داخلہ انل دیش مکھ نے اتوار کو جانچ کے احکامات کی جانکاری دیتے ہوئے اس واردات کی کہا کہ اس واردات کو فرقہ وارانہ رنگ نا دینے کی وارننگ دی ہے ۔ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرنے نے بتایا کہ یہ صحیح ہے کہ سادھوو ¿ں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ غلط ہے ۔جہاں پالدھر میں ہوئی واردات کا یہ علاقہ ضلع ہیڈ کوارٹر سے 110کلو میٹ دور ہے ۔دونوں سادھوو ¿ں کو لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے بہت ہی گنجان علاقے سے گزرتے ہوئے گجرات جانا تھا ۔دادر نگر ہویلی بارڈر پر سادھوو ¿ں کو روکا گیا اور لوٹایا گیا ۔واپسی میں گڑھ چملی کے انتہائی خطرناک علاقے سے گزر رہے تھے وہاں غلط فہمی میں ان پر حملہ ہو گیا اور بھیڑ نے ان کو مار ڈالا اگر اس رات ان کو دادر نگر حویلی کے وارڈر پر روک لیا گیا ہوتا اور صبح مہاراشٹر پولیس کو سونپا ہوتا تو شاید یہ واردات نا ہوتی ۔ادھو ٹھاکرنے نے بتایا جس گاو ¿ں میں یہ واردات ہوئی وہاں کچھ دنوں سے رات میں چوری کے واقعات کی خبریں پھیلی ہوئی تھیں اورچوروں کے گھومنے کا لوگوں کو خدشہ تھا بھیڑ نے ان دونوں کو چور سمجھ لیا بہر حال غلط فہمی کا نتیجہ یہ واردات مانی جا سکتی ہے لیکن مقامی پولیس نے اب تک 5واردات میں شامل اہم حملہ آوروں سمیت 101ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور بھیڑ میں شامل 250سے زیادہ افراد فرار ہیں ۔واردات کے لئے اسسٹنس سب انسپکٹر آنند راو ¿ کالے اور سب انسپکٹر سدھیر کٹارے کو معطل کر دیا گیا ہے ۔پولیس کا رول بھی جانچ کے دائرے میں ہے ۔پتہ لگایا جارہا ہے کہ آخر لاک ڈاو ¿ن میں سادھویاتر ا کیسے کر رہے تھے ؟
(انل نریندر)

22 اپریل 2020

مرکز پروگرام میں شامل ہوئے روہنگیا آخر کہاںگئے ؟

دیش میں جاری کورونا کے قہر کے درمیان وزارت داخلہ نے ریاستوں کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹ ہے کہ نظام ادلدین کے تبلیغی مرکز میں ہوئے اجتماع میں کچھ لوگوں کے ساتھ روہنگیا مسلمان بھی شامل ہوئے تھے ریاستوں کے چیف سکریٹری ڈی جی پی اور دہلی پولیس کمشنر کے لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹ ہے کہ روہنگیا مسلمان تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل ہوئے تھے ایسا امکان ہے کہ وہ کورونا سے بھی متاثر ہوسکتے ہیں ۔حیدرآباد کے کیمپ میں رہنے والے روہنگیا میوات میں بھی تبلیغی اجتماع میں شامل ہوئے تھے وہ پھر نظام الدین بھی آئے تھے ۔وزارت داخلہ نے اپنے خط میں آگے لکھاہے ٹھیک اسی طرح دہلی کے شرم وہار اور شاہین باغ میں بھی روہنگیا تبلیغی جماعت کے پروگرام میںگئے تھے جو اپنے کیمپ میں واپس نہیں آئے ۔روہنگیا مسلمانوں کی موجودگی پنجاب کے ڈیرا بستی اور جموں میں ہونے کی خبر ہے ۔اس لئے ان کے رابطے میں آئے لوگوں کی چھان بین ضرور ی ہے ریاستوں کو اس سمت میں ضرور ی قدم اٹھانا جلد سے جلد ضروری ہے بتادیں دہلی میں کورونا کے کل متاثر معاملوں میں سے 63فیصدی مرکز کے نظام الدین تبلیغی جماعت سے جڑے ہیں ۔وزارت صحت نے بتایا کہ 23ریاستوں میں جماعت کے پروگرام کی وجہ سے ہی برھے ہیں۔کورونا کے دہلی میں 63فیصد مریضوں کا تعلق جماعت میں شامل لوگوں سے وابسطہ ہے ۔
(انل نریندر)

دستاویز بتاتے ہیں چین نے کورونا کی جانکاری چھپائی !

امریکی شہری کورونا وائرس کے سبب ہوئی موت اور اقتصادی نقصان کے لئے حرجانہ حاصل کرنے کے لئے وفاقی عدالت میں چین پر مقدمہ کرسکیں گے امریکہ تو ممبران پارلیمنٹ مین جمعرات کو کانگریس میں ایسابل لانے کا اعلان کیا جس میں چین پر مقدمہ چلانے کی سہولت ہے اس بل کو سینٹ میں ٹام کاٹن اور نمائندہ سبھا میں ڈیم کورینشا میں پیش کیا یہ قانون میں بدلا تو وبا سے نمٹنے میں چین کے ذریعے کئے گئے نقصان کے لئے غیرملکی سردار ی حفاظت آئینی ترمیم کرےگا اس سے امریکہ کو چین پر معاوضہ کے لئے مقدمہ دائر کرنے کا حق مل جائے گا کہ کورونا کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹروں اور صحافیوں کو چپ کرا کر چین نے یہ وائرس پھیلنے دیا دراصل چین کورونا وائرس کی جانکاری بہت دنون تک دنیا سے چھپاتا رہا چین کی محکمہ صحت نے 14جنوری کو صوبائی حکام کو بتایا تھا کہ وائرس کی بیمار ی سے خطرناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں تب بھی اس نے 6دنوں تک دنیا کو آگاہ نہیں کیا ۔خفیہ دستاویزوں میں بتایاگیا ہے کہ قومی ہیلتھ محکمہ نے چپ چا پ طریقے سے وبا سے نمٹنے کی تیاریوں کے احکامات دئیے ۔جبکہ قومی ٹیلی ویزن پر انہوں نے وبا کے پھیلنے کے بارے میں خبروں پر توجہ نہیں دی ۔چینی صدر شی جمپنگ نے ساتویں دن 20جنوری کو لوگوں کو آگاہ کیاتھا اور کچھ پہلے سے اعداد شمار پر ایک ہفتہ خاموشی کے بعد 3000سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہو چکے تھے ۔چین کے امراض کنٹرول سینٹر نے مقامی حکام سے حاصل کسی بھی معاملے کو رجسٹر نہیں کیا ۔5سے 17جنوری کے دوران اسپتالوں میں سیکٹروں مریض بھرتی ہو رہے تھے جو ناصرف ووہان میں نہ بلکہ پورے دیش میں بھرتی ہو رہے تھے ۔امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے بدھوار کو چین سے کووڈ19-کی سچائی کو دہرایا ۔پومپیو نے کہا ہم جانتے ہیں کہ ووہان چین میں وائرس پیدا ہوا تھا ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ بازار ووہان سے کچھ دوری پر ہے اور وہاں ایک ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرو لوجی ہے ۔گہرائی سے جاننے کے لئے ابھی بہت کچھ باقی ہے امریکی صدر نے کہا امریکہ یہ تصدیق کر رہا ہے کہ کورونا پہلی با ر اس غلطی سے انسان میں گیا جو وائرولوجی لیب میں چمگادڑوں پر تجربہ کے دوران ہوئی تھی ۔معاملہ بہت سنگین ہے چین کو صاف صاف بتانا ہوگا کہ اس وبا کے پھیلنے میں اس کا رول کیا ہے ؟
(انل نریندر)

صرف ایک مہینہ کی ٹیوشن فیس لے سکتے ہیں !

ہم دہلی سرکار کے اس فیصلے کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے صاف کہا کہ بغیر سرکار کی اجازت کے بچوں کے اسکول کی فیس آپ نہیں بڑھا سکتے اور نا ہی اسکول تین مہینہ کی فیس وصولنے کے بجائے اب ایک ایک مہینہ کی فیس لے سکے گا ۔دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ وزیر تعلیم منیش سسودیا نے ڈیجیٹل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سبھی پرائیویٹ اسکولوں کو حکم دے دیاگیا ہے وہ سرکار کی اجازت کے بغیر اسکول کی فیس نہیں بڑھا سکتے اب وہ صرف تین مہینہ کی فیس نہیں وصول سکیںگے ۔اسکو ل ٹیوشن فیس کے علاوہ ٹرانسپورٹ فیس سالانہ فیس یا کوئی دیگر فیس بھی نہیں لے سکیںگے ۔فیس نا جمع کرانے کی صورت میں اسکول کسی طالب علم کو آن لائن کلاس کی سہولت سے محروم نہیں کرسکتے وہیں سرکار اسی کے ساتھ سرکار نے یہ بھی صاف کیا کہ ان احکامات کی تعمیل نا کرنے والے پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔یقینی طور سے والدین کے لئے یہ حکم راحت فراہم کرے گا ۔سسودیا نے کہا کورونا کی وجہ سے خاص طور پر مالی اور تعلیمی سیکٹر کو زیادہ نقصان ہوا ہے مالی طور پر بھی بہت سارے کام ہو رہے ہیں تعلیم کے معاملے میں دہلی سرکار نے سبھی سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لئے آن لائن کلاسیں شروع کر دی ہیں ۔میش سسودیا نے کہا پرائیویٹ اسکول دہلی سمیت پورے بھارت میں کمپنیوں کے ذریعے نہیں چلائے جاتے۔بلکہ ٹرسٹ اور انجمنوں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں ۔دہلی سرکار کو کئی جگہ سے شکایتیں مل رہی ہیں کہ کچھ اسکول فیس بڑھا چڑھا کر مانگ رہے ہیں اور انہوں نے سرکار کی اجاذت کے بغیر فیس بڑھادی ہے کئی اسکولوں نے تو تین مہینہ کی فیس کی مانگ رکھی ہے ۔شکایت ملی ہے کہ کسی طالب علم نے فیس نہیں دی تو ان کی آن لائن کلاسیں بند کردی جائیںگی ۔منیش سسودیا نے کہا کہ ان شکایتوں کے بعد وزیر اعلیٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی پرائیویٹ چاہے وہ سرکاری زمین پر چل رہا ہویا وہ اپنی ذاتی زمین پر ان کو فیس بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔سرکارسے پوچھے بغیر کوئی اسکول فیس نہیں بڑھا سکتا اس لئے کوئی فیس تین مہینہ کی فیس نہیں مانگے گا ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سرپرست اپنے بچے کی فیس نہیں دے پاتا تو اس طالب علم کوآن لائن فیس سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے اور نا ہی اسکول کے ذریعے اسے طالب علم یا والدین پر فیس کے لئے دباو ¿ نہیں بنانا چاہیے ۔سبھی اسکولوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس مشکل وقت میں بچوں کو پڑھائی سے محروم نا کیا جائے ۔سرکار کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر اسکول کے خلاف کاروائی یقنی کی جانی چاہیے ۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2020

ہوم ڈیلیوری بوائے کی پریشانی !

15اپریل سے شروع لاک ڈاو ¿ن 2کے دوران سرکار 20اپریل سے کئی خدمات میں راحت دے رہی ہے اور چھوٹ کے زمرے میں ای کامرس کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔یہ کمپنیاں ہوم ڈیلوری کی سیوا دیتی ہیں مگر جس طرح سے حال ہی میں دہلی میں پیزا ڈیلیوری بوائے میں کورونا پوزیٹو ملا وہ تشویش کا باعث ضرور ہے ۔لاک ڈاو ¿ ن کے دوران آپ تو گھر میں رہتے ہیں کہیں باہر نہیں جاتے لہذا شوشل ڈسٹینسنگ تو اپنے آ پ میں ہو جاتا ہے جب آپ باہر نہیں نکلیں گے تو کسی کے ساتھ سماجی میل ملاپ کا سوا ل ہی نہیں اٹھتا لیکن گھر بیٹھے بیٹھے بچوں نے پیزا منگوا لیا اوریہی آپ کی موت کا سبب بن جائے تو اس میں آپ کی کیا غلطی ہے ؟ ہوا یہی کہ پیزا گھر پر ڈیلیور ہوگیا اور ڈیلیوری بوائے کو کورونا وائرس تھا اسے بھی شاید یہ پتہ نہیں ہوگا اس نے جہاں جہاں پیزا ڈیلور کروایا گیا وہاں وہاں کورونا انفکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا لہذا ایک پیزا ڈیلوری بوائے کی وجہ سے جوا س کے رابطے میں آئے تھے ان کو تنہائی میں رکھ دیا گیا ۔پیزا بوائے کے کورونا اسپاٹ ہو جانے کے بعد کئی کالونیوں نے اپنی اپنی سطح پر قدم اٹھانے شروع کر دیے ہیں جیسے ہاو ¿سنگ سوسائٹی میں ڈیلوری بوائے کے داخلے پر روک لگا دی گئی ہے ۔اگر کسی کا سامان آتا ہے تو لوگ بیری کیٹ تک آکر اپنا سامان لے رہے ہیں ۔ہم سندر نگر میں رہتے ہین ہماری آرڈبلیو اے نے بھی یہی انتظام کیا ہوا ہے ۔گیٹ کے اندر کسی ڈیلوری بوائے کو آنے کی اجاذت نہیں ۔ہمارے گھر گھر کا سامان آتا ہے توکوئی آدمی گیٹ تک جاتا ہے اور سامان لے آتا ہے تو مقامی لوگوں کو پولیس اور آر ڈبلیو اے سمجھا رہی ہے کہ وہ سبزی ،پھل فروشوں سے زیادہ خریداری کریں ۔کچھ کالونیوں نے تو مقامی دوکانداروں کی پہچان کرکے 100سے زیادہ ٹوکن بانٹ دیے ہیں اور خریداری کے لئے صبح 7سے 12اور شام 5سے رات 9بجے تک وقت متعین کیا ہے ۔لوگوں کا کہنا ے کہ سختی سے لاک ڈاو ¿ن کی تعمیل کرنے میں مدد مل رہی ہے آپ بھی کوئی خطرہ مول نا لیں ۔پارسل کو سینی ٹائز ضرور کرلیں محفوظ رہیں ۔
(انل نریندر)

مولانامحمد سعد کاندھولوی پر کستا شکنجہ!

نظام الدین کے تبلیغی مرکز میں مذہب کے نام پر جاری ملک مخالف سرگرمیوں کی پرتیں شروع ہو گئی ہیں ۔اس کڑی میں لاک ڈاو ¿ن سے پہلے مرکز کے کھاتوں میں بیرون ممالک سے بے شمار دولت آئی تھی ایسا مانا جارہا ہے کہ تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا محمد سعد کاندھلوی کے خلا ف انفورس مینٹ ڈائرکٹریٹ کی جانب سے منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ کے تحت یعنی حوالہ قانون کے تحت مقدمہ درج کئے جانے کے ساتھ ان پر قانونی شکنجہ اور کس گیا ہے ۔نظام الدین میں تبلیغی مرکز کے پروگرام سے پہلے بینکوں کی جانب سے ایک الرٹ جاری کیاگیا تھا کہ ان کے مرکز کے اکاو ¿نٹ میں پیسے کی آمد تیزی سے بڑھی تھی ۔بینک نے اپنے الرٹ میں کہا تھا کہ مرکز کے کھاتے میں اچانک زیادہ پیسہ آگیا ۔جو بیرونی ممالک سے آرہا ہے ۔بینک کے حکام نے مولانا سعد سے ملاقات کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن وہ نہیں ملا اور اس کے پیچھے اسباب جاننے اور بینک الرٹ کو نظر انداز کرنے کے معاملے میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے جماعت کے اکاو ¿نٹنٹ سے جواب مانگا ہے وہیں مرکز کے بینک خاتوں کو لیکر ای ڈی نے مقدمہ درج کر کاروائی شروع کردی ہے ۔ابتدائی جانچ میں پتہ چلا کہ 13سے 15مارچ کے درمیان بیرون ممالک سے بہت بڑی رقم آئی تھی ۔سعد کی جو شخصیت رہی ہے اس میں بینک کے ہدایتوں کی خلاف ورزی ہوئی بینک کے حکام نے ملنے کے لئے وقت مانگا لیکن مصروفیت کا حوالہ دیکر مولانا سعد نے ملنے سے منع کر دیا ۔حالانکہ بینک انتظامیہ نے کھاتے سے لین دین پر روک نہیں لگائی پولیس نے بھی بینک سے جانکاری لیکر جماعت کے سی اے کو نوٹس دیکر جواب مانگا ۔چونکہ اب مولانا سعد سے پوچھ تا چھ ہو رہی ہے ممکن ہے کہ متعدد معلومات سامنے آئیں ۔پولیس کے ذریعے در ج ایف آئی آر جس میں اب غیر ارادتاً قتل کا معاملہ بھی جڑ گیا ہے اور حوالہ معاملے کو ایک ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے ۔انفورس مینٹ محکمہ کے آجانے کا مطلب ہے کہ ان کی ملک اور بیرون ملک میں پروپرٹی کی تفصیل نکلے گی ادھر مولانا سعد اور تبلیغی جماعت سے جڑے غیر ملکی شہریوں پر مقدمہ کرنے تیاری شروع کر دی ہے ۔پولیس کمشنر ایس این سریواستو نے کرائم برانچ کو ہدایت دی ہے کہ تبلیغی جماعت سے جڑا کوئی بھی غیرملکی شہری کرائم برانچ کے جانکاری کے بغیر دیش چھوڑ کرجانا نہیں چاہیے ۔غور طلب ہے کہ جماعت سے جڑے 1309غیر ملکی تھے ان میں سے 225دہلی میں ہی تھے ۔ذرائع کا کہنا ہے ای ڈی جی کے شکنجے سے بچنے کے لئے مولانا سعد بار بار اپنی رہائش بدل رہا ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مولانا سعد پرائیویٹ ڈاکٹروں کے رابطے میں تھا اور کورونا جانچ بھی کرائی تھی حالانکہ اس کی رپورٹ نگیٹو آئی ہے ۔ایسا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سعد پر شکنجہ کشنے لگا ہے اور پکڑے جانے پر کئی راز کھلیں گے ۔
(انل نریندر)

اپنے دیش سے کہیں زیادہ ہم بھارت میں محفوظ!

پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ بھارت میں کام کرنے والے غیر ملکی افراد کورونا بیماری کے چلتے بھارت میں ہی پھنس گئے ہیں ۔ان کے ملکوں کی انتظامیہ اور حکومتیں انہیں واپش اپنے دیش لے جانا چاہتی ہیں ۔ہزاروں کی تعداد میں پھنسے امریکیوں کو وطن واپس لانے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ نے پوری تیاری کر لی ہے لیکن امریکیوں نے اپنے دیش لوٹنے سے انکار کر دیا ۔ان کا کہنا تھا کیونکہ ہم اپنے وطن سے زیادہ بھارت میں زیادہ محفوظ ہیں اب خبر آئی ہے لاک ڈاو ¿ن کے پہلے فتح پور آئے غیر ملکی سیاحوں میں سے پندرہ ملکوں کے 74سیاح الگ الگ ہوٹلوں میں رکے ہوئے ہیں ان میں سے کورونا سے سب سے زیادہ متاثر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے سیاحوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنے دیش سے کہیں زیادہ بھارت میں یا ادیہ پور میں ہیں ۔حالانکہ ان کے دیش اور سفارت خانے جو فیصلہ کریں گے اسے ماننا پڑے گا لیکن شخصی طور سے لاک ڈاو ¿ن کے بعد ادے پور سے جانے کی جلدی نہیں کریںگے ۔یہ سیاح مارچ کے مہینے میں ادے پور آئے تھے لیکن لاک ڈاو ¿ن کے سبب پروازیں بند ہونے سے واپس نہیں جا پائے حالانکہ کچھ سیاح ایسے بھی ہیں جو اپنے دیش لوٹنا چاہتے ہیں لیکن واپس نا جاپائے ان کے لئے اعلیٰ سطح پر بات چیت چل رہی ہے ۔محکمہ سیاحت میں ڈپٹی ڈائرکٹر سکھا سکسینا کا کہناہے کہ جن ملکون کی لے جانے والی فلائٹ کے بارے میں جانکاری آرہی ہے۔اس سے انہیں واقف کرایا جارہا ہے ۔اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو انہیں یہاں سے نکالا جا رہا ہے کچھ ویزا توسیع کا پروسس پوچھ رہے ہیں ۔49سیاحوں کے علاوہ ابھی کسی کی نکالنے کی فلائٹ کی جانکاری نہیں آئی ہے ۔تین سیاح میکولم ،ریمنڈ،مکولا فرونس اور کیتھلین میری 20مارچ کو برطانیہ سے ادے پور آئے تھے ۔اور وہاں کے اچھے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں حالات نازک ہیں اور گھر والوں سے روزانہ ویڈیو کال ہوتی ہے ۔برطانوی حکومت جو فیصلہ لے گی اس کی تعمیل کریںگے حالانکہ ہم وہاںسے زیادہ محفوظ بھارت میں ہیں ہوٹل اسٹاف ہمارا پور ا خیال رکھ رہا ہے ایسے ہی فرانس کی ایک خاتون ٹیکلین ماریہ قریب ایک مہینے سے گج ویلا ہوٹل میں رکی ہوئی ہیں کہنا ہے میں جانتی ہوں کہ کورونا سے فرانس کے حالات خراب ہوئے ہیں میں یہاں زیادہ محفوظ ہوں او ر حالات ٹھیک ہونے کے بعد ہی یہاں سے جاو ¿ں گی ۔امریکہ کی جسٹن کہتی ہیں کہ امریکہ سے زیادہ ادے پور میں محفوظ ہیں یہاں لوگ انفکشن روکنے میں مدد کر رہے ہیں ۔وہ گھر میں ہیں اور دوسروں سے دور بھی مجھے بھی یہی طریقہ محفوظ لگ رہا ہے ۔بھارت میں پھنسے غیر ملکیوں کا اپنے وطن نا لوٹنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں مشکل گھڑی میں ان کو پیار اور خیال مل رہا ہے ۔اور ایک دن وہ ضرور اپنے دیش لوٹیں گے ۔
(انل نریندر)

19 اپریل 2020

اسکول کالجوں میں چھایہ سناٹا!

کورونا وائرس کے سبب اسکولوں و کالجوں یونیورسٹیوں کے بند ہونے سے دنیا کے 191ملکوں میں 157کروڑ طلبہ کی تعلیم ٹھپ ہو گئی ہے ۔مختلف کورسز میں داخلہ لینے والے کل طلبہ 91.3فیصد ہیں ۔یہ جانکاری یونسکو کی ایک مطالعہ ذاتی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے ۔اس میں بتایا گیا ہے کہ اسکول بند ہونے کا سب سے زیادہ اثر کمزور طبقوں کے طلبہ و لڑکیوں پر پڑا ہے ۔یونیسکو کی عالمی نگرانی اسٹڈی رپورٹ کے مطابق 14اپریل 2020تک ایک سو اکیاون ملکوں میں 15075,270054طالب علموں کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے اس میں لڑکیوں کی تعداد75کروڑ ہے ۔روس آسٹریلیا ،امریکہ ،کناڈا ،گرین لینڈ سمیت کئی ملکوں میں مقامی طور پر مکمل بند ہے ۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے ۔حالانکہ رپورٹ میں ان ملکوں کی تعداد شامل نہیں ہے ۔بھارت میں لاک ڈاو ¿ن کے سبب 32کروڑ طالب علموں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے ۔اس میں 15.81کروڑ لڑکیا ں 16.25کروڑ لڑکے شامل ہیں ۔برطانیہ میں 1.54کروڑ طالب علم کوروناوائرس کی وجہ سے اسکول کالج بند ہونے سے متاثر ہوئے ہیں اور وہ دو ماہ سے گھر بیٹھے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر )

ڈبلیو ایچ او نے جاری کی رمضان کےلئے ایڈوائزری !

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کورونا وائرس کووڈ19-کے پیش نظر اگلے ہفتہ سے شروع ہونے جارہے رمضان شریف کے لئے قواعد و ضوابط جاری کر دئے ہیں جہاں تک ممکن ہو تراویخ یا افطار وغیرہ میں اکھٹے ہونے سے بچیں ۔اس کے بدلے ٹیلی ویزن کے ذریعے تراویح و نمازوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔اگر ایسا کیا جاتا ہے تو تراویح و نمازمیں شامل ہونے والوں کی تعداد بے حد کم ہو اور سماجی اور پوری صاف صفائی کے قواعد کی تعمیل ہو مسلم کلنڈر کے رمضان کے مقدس مہینہ 24یا 25اپریل سے شروع ہونے والا ہے پورے مہینہ مسلم فرقے کے لوگ دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور شام میں ایک ساتھ افطار کے وقت روزہ کھولتے ہیں اور ساتھ ہی مساجد میں جاکر نماز اداکرنے و تراویح پڑھنے کی روایت ہے ۔قواعد و ضوابط میں کہا گیا ہے کہ ہر حال میں لوگوں کے درمیان کم سے کم ایک میٹر کی دوری رکھی جانی چاہییے ساتھ ہی افطار کے دوران پہلے سے پیک کھانے پینے کے سامان کا انتظام ہونا چاہیے اور وضو کے لئے پانی و صابن کا خاطر خواہ بہتر انتظام ہونا چاہیے عالمی صحت ادارے نے صلاح دی ہے مسجدوں میں نماز پڑھتے وقت بیٹھنے کے لئے ہر شخص کو اپنی اپنی جا نماز لانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے روزے کے کورونا وائرس سے کسی طرح کے تعلق کے بارے میں کوئی اسٹڈی نہیں ہے ۔لیکن اپنی ہیلتھ کے پیش نظر دوری بنائے رکھنی چاہیے ۔مرکزی وزیراوقلیتی امور مختارعباس نقوی نے بھی یہی اپیل کی ہے اور وقف بورڈوں کے تمام ملازمین سے کہا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں عبادت ،افطار ،تراویح ،اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں وزارت داخلہ ریاستی حکومتیں و سینٹرل وقف کونسل کو ڈبلیو ایچ او کی ہدایتوں پر عمل میں نیک نیتی سے کام کریں نقوی نے کہا کورونا کی چنوتیوں کے پیش نظر دیش بھر میں مندروں گردواروں ،گرجا گروں و مساجد یا پبلک مقامات پر سبھی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں ممنوع ہیں ۔
(انل نریندر)

چند جوکروں کی وجہ سے پھیل رہا ہے کورونا!

کورونا وائر س سے لوگوں کو بچانے کے لئے اداکار سلمان خان مسلسل بیداری پھیلانے میں لگے ہیں جمعرات کو انہوں نے دس منٹ کاانہوں نے شوشل میڈیا پر ڈالا اس میں انہوں نے پولیس ڈاکٹر اور نرسوں پر پتھر پھیکنے کو بیوقوفی بھرا قدم بتایا کہا کہ چند جوکروں کی وجہ سے یہ بیماری پھیل رہی ہے انہوں نے آگاہ کیا کہ دعا کرو کہ لوگوں کو سمجھانے کے لئے کہیں ملیٹری نا بلانی پڑے ۔پڑھیے ان کے پیغام کے ایڈٹ شدہ حصے یہ بگ بوس کی شروعات نہیں ہے یہ زندگی کا بگ باس شروع ہو گیا ہے ۔کچھ لوگ ہیں جو قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں پہلے ایسا لگا کہ فلو ختم ہوجائے گا جلدہی گھر چلے جائیں گے پھر لاک ڈاو ¿ن ہوا اور معاملہ سنگین ہوگیا ۔سرکار نے صرف اتناہی کہا کہ باہر مت نکلو ،شوشل گیدرنگ نا کرو ،دوستو یارو سے نا ملو،خاندان کے ساتھ رہو یہ ہم سبھی کے لئے اچھا ہے ۔نماز پڑھنا ہے تو گھر پر ہی کرو ،پوجا کرنی ہے تو گھر پر ہی کرو۔ہم نے بچپن میں سیکھا تھا کہ بھگوان اللہ ہمارے اندر موجود ہے ۔ہاں ہمیں ضرور بھگوان اللہ کے پاس جانا ہے ؟اگر پریوار کے ساتھ جانا ہے تو گھر سے باہر نکلو ۔اگر آپ کے ایکشن صحیح ہوتے ہیں تو اب تک یہ لاک ڈاو ¿ںختم ہو چکا ہوتا۔ڈاکٹر ،نرس ،پولیس اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کررہے ہیں ۔اب جو ڈاکٹر پولیس بینک اور نرس اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں اور آ پ کی جان بچا رہے ہیں ان پر ہی پتھر برسا رہے ہو ۔۔۔جو پوزیٹو آرہے ہیں وہ اسپتال سے بھاگ رہے ہیں ایسا کرکے زندگی کے بجائے موت کی طرف جانا ہے؟چند لوگوں کی وجہ سے جس کے دماغ میں یہ چل رہا ہے انہیں کچھ نہیں ہوگا تو ان کی وجہ سے کئی لوگوں کی جانیں جائیںگی ۔میں ان کی بات سمجھ سکتا ہوں جن کے پاس کھانے کو نہیں ہے ۔میں ان کو سلام کرتا ہوں اگر چند جوکروں کی وجہ سے یہ بیماری پھیل رہی ہے تو اتنے لوگوں کو کورونا وائرس نہیں ہوتا سب اپنے کا م پر لگ گئے ہوتے ۔ہربات کے دو پہلو ہوتے ہیں ہم سب رہیں یا پھر کوئی نا رہے شکریہ ادا کرو پولیس ،ڈاکٹروں ،نرسوں کا اور جن کو ہوا ان کا احترام کرو احتیاط برتو کہ یہ بیمار ی آگے نا پھیلے دعا کرو آپ کو سمجھانے کے لئے ورنہ ملیٹری نا بلانی پڑے ۔سلمان
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...