قومی صدر کی جگہ کارگزار صدر!

بھارتیہ جنتا پارٹی نے پٹنہ کی بانکی پور سیٹ سےممبر اسمبلی اور بہار کے وزیر نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نیا کارگزار صدر مقرر کر سب کو حیران کر دیا ہے ۔شاید ہی کسی نے امید کی ہو کہ نوین بابو کو اتنا اہم ترین عہدہ دیا جائے گا ۔پچھلے کئی ماہ سے یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ بی جے پی اپنا نیا صدر چننے والی ہے کیوں کہ شری نڈا کی میعاد بہت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی ۔اور وہ توسیع میعاد پر چل رہے تھے۔نتن نوین بھاجپا کی تاریخ میں جے پی نڈا کےبعد دوسرے نگراں صدر ہوں گے ۔پارٹی کے آئین میں نگراں صدر کا کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں ہے لیکن سال 2019 کے بعد بی جے پی میں فل فلیج صدر مقرر کرنے سے پہلے نگراں صدر تقرر کرنے کی ایک روایت شروع ہوئی ہے ۔بی جے پی میں صدر کے عہدے کے لئے چناؤ کب ہوگا ابھی صاف نہیں ہے لیکن میڈیا کی رپورٹس میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کے حوالے سے دعویٰ کیاجارہا ہے کہ اگلے سال جنوری میں یہ خانہ پوری کی جاسکتی ہے ۔موجودہ بھاجپا صدر جے پی نڈا کی میعاد جنوری تک ہی ہے ۔ایسے میں یہ سوال اٹھ رہے تھے کہ جب کچھ دنوں بعد قومی صدر کی تقرری ہونی ہے تو پارٹی نے نگراں صدر کیوں مقرر کیا ہے ؟ اس کا کوئی صاف جواب تو نہیں ہے لیکن یہ ماناجارہا ہے کہ پارٹی اپنے آئین کے حساب سے ہونے والے قومی صدر کےچناؤ کو اتفاق رائے اور بلامقابلہ طور پر چاہتی ہے۔سینئر صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ بی جے پی جنوری میں قومی صدر کے چناؤ کی کاروائی شروع کرے گی ۔پارٹی میں رسمی خانہ پوری ہے ایسے میں تو کوئی چناؤ نہیں ہورہا ہے لیکن نامزدگی تاریخ ، چناؤ تاریخ میں خانہ پوری کی کاروائیاں ہوتی ہیں۔پارٹی کو انہیں کرنا ہوتا ہے وہیں سینئر صحافی ونود شرما کے مطابق نگراں صدر اعلان کربی جے پی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ نتن نوین ہی اگلے نئے صدر ہوں گے ۔بی جے پی میں صدر چننے کا ایک لمبا پروسیس ہے۔بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ نے نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نگراں نامزد کیا ہے ۔26 سال کی عمر میں پہلی بار ممبر اسمبلی بنے جانے کے بعد نتن نوین پانچ بار مسلسل ممبر اسمبلی چلے آرہے ہیںاور بی جے پی کے پہلے نگراں صدر ہوں گے ۔45 سالہ نتن نوین کا بھاجپا کا کارگزار صدر بن جانا ضرور حیران کررہا ہے ۔لیکن تجزیہ نگار اس سے حیران نہیں ہے ۔بہار چناؤ کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے نتن نوین سے دو گھنٹے بات چیت کی تھی ۔نتن نوین پارٹی کے چھتیس گڑھ اسمبلی چناؤ کے انچار ج تھے اور بی جے پی نے یہ چنا ؤ بھاری اکثریت سے جیتا تھا یعنی نتن نوین اپنی تنظیمی صلاحیت پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں ۔سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا نتن نوین کی تقرری کے پیچھے کوئی خاص وجہ یا پارتی کی کوئی خاص حکمت عملی ہے ؟ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ پارٹی میں یہ تبدیلی کا دور ہے اور وقت کی ضرورت کےحساب سے اٹھایا گیا قدم ہے ۔وجے ترویدی اور ونود شرما دونوں ہی مانتے ہیں کہ پارٹی جنریشن چینج یعنی پیڑ ی میں تبدیلی سے گزررہی ہے ۔پارٹی میں پرانی پیڑی کے لیڈروں کی جگہ نئے نیتاؤں کو آگے بڑھایاجارہا ہے ۔راجستھان ،ہریانہ ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گرھ میں وزیراعلیٰ کی شکل میں پرانے لیڈروں کو ہٹانا اور نئے چہروں کو لانا پارٹی کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے اور نتن نوین کا نگراں صدر بنایاجاناکہیں نرالا قدم ہے ۔پارٹی لیڈر نئی لیڈر شپ کو آگے لانا چاہتی ہے اور یہ تقرری بھی اسی سمت میں ہے ۔ وہیں سینئر صحافی ونود شرما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بی جے پی میں ایسے لیڈروں کو آگے لایاجارہا ہے جو کسی بھی طرح سے نریندر مودی یا امت شاہ کے لئے چیلنج نہ پیش کریں ۔ونود شرما کہتے ہیں کہ نتن نوین کی تقرری حیران اس لئے نہیں کررہی ہے کہ سہولت کے حساب سے بنایا گیا ہے ۔کسی ایسے نیتا کومضبوط عہدے پر نہیں لایاجارہا ہے جو آگے چل کر کسی بھی طرح کی سینئر لیڈر شپ کو چنوتی پیش کر سکے ۔شخص ایسا ہونا چاہیے جو بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کو ہی منظور ہو ۔تجزیہ نگار یہ بھی مان رہے ہیں کہ نتن نوین کا نام ان چنندہ لوگوں میں رہا ہوگا جنہیں آر ایس ایس سے بھی منظوری حاصل ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘