ایک بار پھر سرخیوں میں افغانستان!
پچھلے کچھ دنوں سے ایک بار پھر افغانستان سرخیوں میں ہے ۔دو واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے افغانستان کو سرخیوں میں لا دیا ہے ۔پہلی واردات امریکہ کی ہے ۔امریکی راجدھانی واشنگٹن ڈی سی میں دل دہلا دینے والی واردات ہوئی ۔وائٹ ہاؤس سے کچھ دوری پر بدھوار کی دوپہر دو بجے ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈس کے جوانوں پر اچانک کی گئی فائرنگ نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ۔وائٹ ہاؤس میں تالا بندی کر دی گئی۔دونوں فوجیوں کی تکلیف دہ موت ہو گئی ۔واشنگٹن کی میئر نیورل بگوچر نے اسے وارگیٹڈ شوٹنگ بتایا ہے ۔صدر ٹرمپ نے حملہ آور کو جان کر بتاتے ہوئے انجام بھگتنے کی وارننگ دی ہے ۔یہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب گارڈ کے ممبر ایک میٹرو اسٹیشن کے پاس تعینات تھے ۔حملہ آور اچانک بھیڑ سے آیا اور بغیر کسی وارننگ کے گولی چلانے لگا وہیں آس پاس موجود دیگر فوجیوں نے فوراً بھاگ کر موقع پر پہنچے اور حملہ آور پر قابو کر لیا ۔گولی چلانے والے کا نام رحمت اللہ لکن وال ہے ۔(29)سال کا بتایا جاتا ہے کہ یہ افغانستان کا شہری ہے ۔جو 2021 میں امریکہ آیا تھا کہاجارہا ہے کہ یہ افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لئے بھی کام کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے بائیڈن سرکار کے تحت امریکہ میں آئے افغانستان کے ہر شہری کی پھر سے جانچ کرانے کا بھی وعدہ کیا ۔ٹرمپ نے فلوریڈا سے شوشل میڈیا پر رائے زنی کرتے ہوئے حملہ آور کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بڑی قیمت چکائے گا ۔حملہ آور نے حملہ کیوں کیا اس کی معلومات ابھی نہیں آئی ہے اس لئے اس کی پہلی سرخی افغانستان کی تب بنی جب وہ وائیٹ ہاؤس کے باہر گولی چلانے والا ایک افغانی نکلا ۔دوسری سرخی تب بنی جب تین دن پہلے افغانستان کے ایک میڈیا چینل نے یہ خبر چلائی کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف پارٹی کے چیف عمران خان کو جیل میں مار ڈالا گیا ہے ۔اس خبر کے آتے ہی پاکستان میں آگ لگ گئی ۔بتادیں کہ عمران خاں پچھلے دو سال سے راول پنڈی کی عدیالہ جیل میں کرپشن کے الزامات میں بند ہیں ۔عمران خان کی سیکورٹی کو لے کر کئی طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں ۔اس درمیان عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی اپنے والد کی حفاظت کو لے کر ایکس پر ایک پوسٹ لکھا ۔میرے والد 845 دن سے جیل میں ہیں پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں ایک ڈیتھ سیل میں تنہائی میںرکھا گیا ہے جہاں کسی طرح کی صاف صفائی نہیں ہے ۔عدالت کے واضح حکم ہونے کے باوجود ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے محروم رکھا گیا ہے ۔نہ کوئی فون نہ کوئی ملاقات نہ ہی ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت اور میرے بھائی ہم دونوں اپنے والد سے کوئی رابطہ نہیں کر پائے ۔قاسم نے لکھا ہے کہ یہ پوری طرح سے بلیک آؤٹ کوئی سیکورٹی پروٹوکول نہیں ہے ان کی حالت کو چھپانے اور ہمارے خاندان کو یہ جاننے سے روکنے کا ایک سوچی سمجھی کوشش ہے ۔اور میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی سنٹرکے ہر نتیجہ کے لئے پاکستان سرکار کو اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر پوری طرح جوابدہ ٹھہرایا جائے گا ۔ہم امید کرتے ہیں کہ عمران کی موت محض افواہ ہو اور وہ صحیح سلامت ہوں ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں