قتل عام کرنے والے باپ -بیٹا!

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اتوار کو جشن منا رہے بانڈی بیچ پر لوگوں پر دو دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ۔اس دوران 40 سالہ احمد الاحمد نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردوں سے لوہا لے لیا اور کئ لوگوں کی جانیںبچائیں ۔ہوا یوں کہ اتوار کو سڈنی کے بانڈی بیچ پر یہودیوں کے ہنووکا تہوار پر بیچ کا مزہ لے رہے تھے ۔ہنوکا یہودیوں کا سالانہ تہوار ہے ۔اس دوران دو بندوقچیوں نے اندھا دھند فائرنگ کرنی شروع کر دی ۔گولیوں کی آوازیں سن کر بیچ پر افرا تفری مچ گئی اور لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔اس اندھا دھند فائرنگ میں بتایا جاتا ہے 16 لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔دہشت گردوں کی نشاندھی ہو چکی ہے ۔اے بی وی پی کی رپورٹ کے مطابق اس دہشت گردانہ واردات کو انجام دینے والے باپ اور بیٹے ہیں جن میں سے ایک کی تو موقع پر موت ہو گئی ۔آسٹریلیا تفتیشی ایجنسیوںنے ملزم کے بیک گراؤنڈ کی جانچ شروع کردی ۔فائرنگ میں شامل والد 50 سالہ کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے ۔سڈنی حملے میں پاکستانی کنکشن سامنے آیا ہے۔آسٹریلیا کی جانچ ایجنسیاں اس واقعہ کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں ۔اور اہم بات یہ بھی ہے کہ حملہ میں شامل بیٹا بیٹے کی پہچان پاکستانی نژاد کی شکل میں ہوئی ہے ۔وہیں امریکی خفیہ ایجنسیوں نے بھی دونوں دہشت گردوں کو پاکستانی شہری بتایا ہے ۔حملہ آور پاکستانی شہری تھے اور سڈنی میں مقیم تھے ۔جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے فائرنگ کے بعد پاس کی ایک سڑک پر ایک کار سے کئی امپروائزڈ ایسکلوزو ڈیوائز یعنی دھماکوں چیزیں برآمد کی گئی ہیں ۔جس میں اندیشہ ہے کہ حملے کی سازش اس سے کافی زیادہ تباہی مچانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کی تھی ۔آسٹریلیائی خفیہ ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک پہلے سے سیکورٹی ایجنسیوں کی نظر میں مشتبہ تھا۔لیکن اسے فوری خطرے کی شکل میں فہرست نہیں کیا گیا تھا ۔ادھر دونوں دہشت گرد گولیاں برسا رہے تھے اُدھر 44 سالہ محمد الاحمد اپن جان کی پرواہ کئے بغیر ہمت دکھاتے ہوئے پیچھے سے آتنکی پر جھپٹ پڑا اور اس سے بندوق چھین لی ۔جس سے کئی لوگوں کو محفوظ نکالنے کا موقع مل گیا۔لوگ اب احمد کو آسٹریلیا کا نیا ہیرو کہہ رہے ہیں ۔احمد جب دہشت گرد سازش سے مڈبھیڑ کرنے جارہا تھا تب ان کے بھائی نے اسے روکا تھا ۔تب انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو پریوار کو بتانا کہ میں لوگوں کی جان بچاتے ہوئے مارا گیا ۔احمد پھل سبزی کی دوکان چلاتا ہے حالانکہ بین الاقوامی سطح پر اس حملے کی مذمت ہوئی ہے ۔آسٹریلیائی سرکار سے لے کر مسلم عرب ممالک کی جانب سے بھی دہشت گرداور تشدد کی سبھی شکلوں کو مسترد کیا گیا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نکتہ چینی اور احتجاج کے باوجود کسی فرقہ سے نفرت کے جذبہ میں ڈوبے لوگوں کو روک پانا ایک مشکل چنوتی ہے یہ فطری ہے کہ اس آتنکی حملے کی عالمی سطح پر مذمت ہوگی اور تعزیتی نظریات و خیالات ظاہر کئے جائیں گے لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے ۔دنیا بھر میں جہادی دہشت گرد ی کا خطرہ جس طرح ابھر رہا ہے اس کا مقابلہ تبھی کیا جاسکتا ہے جب پوری عالمی برادری مل کر اس خطرے کا ایمانداری سے سامنا کرے اور مل کر مقابلہ کرنے کے لئے قدم بڑھائے ۔بانڈی بیچ پر ہوئے حملے نے ایک بار پھر پاکستان کو بے نقاب کردیا ہے ۔دونوں ہی آتنکی پاکستانی نژاد نکلے۔یہ کسی سے چھپہ نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی آتنکی فیکٹری ہے ۔یہاں سال در سال ہزاروں دہشت گرد تیار کئے جاتے ہیں بھارت تو بار بار اس بات کو کہتا رہتا ہے لیکن دنیا ماننے کو تیار نہیں ہے۔پہلگام حملہ بھی اسی طرح کے آتنکیوں نے کیا تھا لیکن دنیا ماننے کو تیارنہیں تھی ۔اب تو آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں حملہ ہوا ہے اب دنیا کو اس پر کیا کہنا ہے ؟ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘