Translater

05 ستمبر 2026

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور الٹانئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔جنگ سے جان ومال کا بھاری نقصان ،مالی بربادی اور بے گھری اور سماجی عدم استحکام کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔روس یوکرین اور مغربی ایشیا میں برادری تعلق اس کی مثالیں ہیں ۔بھارت ہمیشہ امن عالم کا حمایتی رہا ہے اور جنگ کی جگہ پر بھائی چارگی اور مہاتما گاندھی کے امن کے راستے پر چلنے کا سندیش دے رہا ہے اسی عزم کو ظاہر کرتے ہوئے کرغستان کی راجدھانی بشکیک میں شنگھائی اشتراک انجمن کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نریندرمودی نے ختم نہ ہونے والی جنگ کے بجائے اس کے خاتمہ کی طرف بڑھنے کی وکالت کی ہے ۔بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو ختم کرانے کی اپیل کی ہے ۔پی ایم مودی نے پیر کو کہا کہ جنگ میں گزرا ہر دن انسانیت کو پیچھے دھکیلتا ہے اور امن کی سمت میں اٹھایاگیا ہر قدم انسانیت کو نئی امید جگانے اور حوصلہ بھردیتا ہے ۔یوکرین جنگ  ختم کرنے کے لئے پی ایم مودی کی رائے زنیاں حیران کرنے والی نہیں ہیں اور میں بھارت کی خارجہ پالیسی میں کسی بھی قسم کی فوجی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی ہے ۔دراصل لڑائی شروع ہونے کے بعد سال 2022 میں ریجنل چوٹی کانفرنس کے بعد تقریر کرتے ہوئے مودی نے پوتن سے کھلے طور سے کہا تھا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے ۔لیکن یہ کہنا بہت آسان ہوگا کہ جنگ پر مودی کے ابھی یا پہلے کے بیانوں کو پوتن یا روسی حکمت عملی کو جواب دینے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔مغربی ممالک نے مودی پر واضح رخ اپنانے کے لئے کافی دبا ؤ ڈالاہے لیکن بھارت کافی حد تک وہ نیوٹرل رہا ہے ۔بھارت نے اس کے بجائے جنگ کو ختم کرنے کے لئے بات چیت کی درخواست کی ہے ۔بیشک اس موقف سے کئی مغربی دیش خوش نہیں ہیں لیکن انہوں نے بھارت کو لبھانا جاری رکھا ہے کیوں کہ بھارت اتنی بڑی اور تیزی سے بڑھتی معیشت ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔یہ پہلی بار نہیں جب کسی غیر ملکی لیڈر نے کھلے طور سے پوتن سے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی درخواست کی ہو ۔محض پانچ ہفتے پہلے قزاکستان کے صدر قاسم جویابھائی ٹوکا میف نے پوتن کو تجویز دی تھی کہ لڑائی کو روک دیں اور بات چیت پر لوٹ آئیں ۔امن کے لئے ان کھلی اپیلوں سے پوتن کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آنے کے اشارے نظر نہیں آتے ۔مودی کے ذریعے جنگ بندی کی اپیل پر روسی لیڈر نے جواب دیا کہ بہت بہت شکریہ ، وزیراعظم جی ہم اسی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں ۔روسی لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ یہاں بھی ہوسکتا ہے سارے ثبوت بتاتے ہیں کہ روس کی لیڈرشپ کو اب یقین ہے کہ وہ جنگ میں یوکرین سے ملیٹری جیت کی راہ پر ہے اور اسے امن کے معاملے میں کہیں تو روس کی شرائط پر ملیٹری کامیابی سے طے امن کی طرف آگے بڑھنا اس لئے بڑھنا مشکل ہے اس لئے فی الحال لڑائی جاری ہے ۔اس حقیقت کے باوجود ساڑھے چار سال سے زیادہ کی جنگ اور بھاری فوجی نقصان کے باوجود کرملن یعنی روس کو ابھی تک جیت حاصل نہیں ہو پائی ہے اور یوکرین نے جنگ کو روسیوں کے گھر تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2026

نیپال ٹریجڈی کے پیچھے چین ذمہ داری

نیپال میں فیلش فلرڈ میں مرنے والوں کی تعداد 700 سے آگے بڑھ گئی ہے ،2500 سے زیادہ لاپتہ ہیں جن میں متعدد ہندوستانی بھی شامل ہیں وزیراعظم آفس کے مطابق نیپال کی فوج نے اب تک 883 لوگوں کو محفوظ طور پر بچایا ۔لاپتہ لوگوں میں 517 غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔نیپال میں چین کے رویہ کو لے کر بھاری ناراضگی ہے اور سوال اٹھنے لگے ہیں بدھوار کو تبت میں بنی بیریئر لیک ٹوٹنے کے بعد چین نے نیپال سے اطلاع شیئر کرنے میں لاپرواہی برتی جس سے نیپالی شہریوں میں ناراضگی پھیل گئ ہے ۔تبت میں 20 لاکھ گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔لیکن الرٹ تب بھیجا گیا جب جھیل پھوٹ چکی تھی ۔شہر رسوا کے چیف ضلع افسر نریندر پریار نے بتایا کہ انہیں جھیل ٹوٹنے کی جانکاری نیپالی میڈیا کے ذریعے سے ملی ۔چین کے وزارت آب نے کوئی اطلاع شیئر نہیں کی ۔جھیل بننے کے بعد اوور فلو شروع ہوا اور شام کو چین نے تبت میں بچاؤ کاروائی شروع کی ۔بدھوار کی صبح 8.40بجے بوٹو کوشی ندی میں آبی سطح کا نمبر بھیجا گیا اسی درمیان تبت میں آیا تیزی سے بہاؤ نیپال میں داخل ہوگیا ۔نیپال کو اس کی جانکاری 16 منٹ بعد اس وقت ملی جب سیلاب تباہی مچانے لگا۔ الزام لگائے جارہے ہیں کہ چین کی جانب سے نیپال میں جان و مال کے نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے حالانکہ نیپال میں واقع چینی سفارت خانہ نے الزامات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی خبروں کی تردید کی ۔اس درمیان بین الاقوامی میڈیامیں بھی چین کے رول کو لے کر بحث جاری ہے ۔نیپالی نیوز آؤٹ لیٹس سے لے کرچینی میڈیا نے اس مسئلے کو شائع کیا ہے ۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مئی میں ہی چین سےگلیشیئر اور پانی کی سطح و دیگر امکانی خطروں کی جانکاری وقت سے پہلے ہی شیئر کرتے ہوئے اپیل کی تھی ۔ان کا خیال ہے سرحد پار سے ملنے والی مسلسل وارننگ کئی زون بچانے میں مدد کر سکتی تھی ۔اس سال 27 مئی کو کاٹھمانڈو میں نیپال اور چین کے ماحولیاتی ماہرین کی میٹنگ ہوئی تھی اس میٹنگ میں گلیشیئر جھیلوں کی فہرست تیار کرنے اور پہلے وارننگ سسٹم مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔حالانکہ نیپالی حکام کے مطابق میٹنگ کے بعد انہیں چین سے متوقع طور پر گلیشیئر اور آبی سطح سے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی ۔چینی ورلڈ ویدر سائنس سنٹر  نے قدرتی آفت آنے سے پہلے نیپالی حکام کو ای میل سے 14 اور 19 اگست کے بیچ بھاری بارش اور چٹانیں کھسکنے کا اندیشہ بتایا تھا ۔لیکن نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی وارننگ گلیشیئر ٹوٹنے جیسے اشارے نہیں دیتی ۔نیپال کے لوگوں کا کہنا ہے موت کا یہ سیلاب چین سے آیا جہاں گلیشیئر پھٹا وہ حصہ نیپال سے 50 کلو میٹر دوری پر واقع ہے ۔باڑ کے پانی کو نیپال تک پہنچنے میں 30 سے 40 منٹ لگے اگر چین یہ اطلاع وقت رہتے نیپال کو دے دیتا تو ہزاروں لوگوں کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔لوگوں کو محفوظ مکامات تک پہنچائے جانے کے لئے آدھا گھنٹہ کافی تھا ۔لیکن چین نے یہ اطلاع شیئر نہیں کی ۔پانی کے بہاؤ کا نتیجہ اور پانی کے ساتھ آیا ملبہ اتنا خطرناک تھا کہ راستے میں جو کچھ بھی آیا عمارتیں ، پُل ، سڑکیں سب کچھ بہا کر لے گیا ۔لیکن خطرہ ابھی بھی ٹلا نہیں ہے اگر چین کا ڈیم ٹوٹا تو وہاں سے دوسرا فلیش فلڈ آسکتا ہے ۔چین سے بھیجی گئی اس تباہی کو نیپالی کبھی نہیں بھولیں گے ۔
(انل نریندر)

01 ستمبر 2026

کاکروچ پیچھے نہیں ہٹیں گے



سرکار کی جانب سے 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کاروائی نہ ہونے پر کاکروچ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔نیٹ پیپر لیک معاملے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد اب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) نے ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کر دیا ہے ۔سی جے پی نے بتایا کہ وہ 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک پر امن یوتھ مارچ کرے گی ۔سی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کر مرکزی سرکار پر الزام لگایا ہے کہ اس نے طلباء اور مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا ۔25 جولائی کو دھرمیندر پردھان کے وزیرتعلیم کے عہدے سے استعفیٰ کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے سی جے پی کے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے سمیت کئی مطالبات پر رضامندی دی تھی ۔20 جولائی کو سنسد چلو مار چ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کئی مظاہرین پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور دعویٰ تو یہ بھی کیاجارہا ہے کہ پیلٹ گن تک کا استعمال ہوا تھا ۔اس کے بعد مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی حالانکہ یہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔جہاں پر مرکز نے مانا ہے کہ غیر جرائم پیشہ پش منظر کے لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لیا جاسکتا ہے ۔سی جے پی ترجمان آشوتوش رانکا نے اپنے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ سرکار 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کام کرنے میں ناکام رہی اور 25 جولائی کو سرکار نے جو سی جے پی نمائندہ وفد سے جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ اس آندولن سے جڑے متوفی لوگوں کے خاندان کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ بھی دیاجائے گا لیکن ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ۔وہیں سی جے پی نے ایکس پر لکھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی مرکزی سرکار کی 25 جولائی کو بھارت کے نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے خاص کر طلباء اور مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے سے وابستہ وعدے بھی ہیں۔ 5 ستمبر کا مجوزہ یوتھ مارچ انڈیا گیٹ سے شروع ہوگا اور نئی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک جائے گااس میں نیٹ سے جڑے متوفی طلباء کے کنبہ کے افراد اور پولیس کاروائی کے متاثرہ طالب علم اور یوتھ تنظیمیں شامل ہوں گی ۔تنظیم نے کہا کہ مظاہرے کا مقصد کسی طرح کا تشدد کا ٹکرا ؤ نہیں ہے بلکہ سرکار سے اپنے وعدے پورے کرنے کی مانگ کرنا ہے ۔سی جے پی نے نوجوانوں اور طلباء انجمنوں سے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ پہنچنے اور پر امن طریقہ سے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔سی جے پی نے کہا نوجوانوں کے بھروسہ کو کمزور نہیں سمجھا جانا چاہیے ۔سی جے پی کے مطابق ایک پوری پیڑی نے سرکار کی بات پر بھروسہ کرکے آندولن کو واپس لیا تھا اور اب وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے کی مانگ کررہی ہے ۔تنظیم کا کہنا ہے کنبوں اور نوجوانوں کی موجودگی اس آندولن کو اپنے مطالبات کے تئیں سنجیدہ بنائے گی ۔سی جے پی نے کہا کہ جن پریواروں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے وہ مارچ کی اگلی قطار میں ہوں گے اور پولیس کاروائی کے متاثرین ان کے ساتھ چلیں گے ۔تنظیم نے نوجوانوں سے بڑی تعدادمیں پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے سرکار سے 25 جولائی کے اپنے وعدوں کو پوری طرح لاگو کرنے کی مانگ کی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ مظاہرہ پر امن طریقہ سے گزر جائے اور 20 جولائی جیسا کوئی واقعہ نہ ہو پائے۔
(انل نریندر)

امت شاہ کا اعلان،مچ گیا گھماسان

اپنی سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے محکمہ میں کیا پلاننگ ہے جو ایسے وقت میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جبکہ وزیر اعظ...