Translater

27 اکتوبر 2026

اب بھی چین سے جھڑپیں ہو رہی ہیں!

آئی ٹی بی پی کے جوانوں کے لئےہر سال منعقد ہونے والاسنمان سماروہ ہمریڈسنمان میں جمعرات کو آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شبھ جیت کپور نے چونکانے والاانکشاف کیا ہے کہ اروناچل پردیش سرحد پر اب بھی جھڑپیں جاری ہیں۔ٹکرائو کے دوران آئی ٹی بی پی کے بہادر کمانڈوز نے چینی فوجیوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ جنرل کپور نے انکشاف کیا کہ اروناچل پردیش میں پچھلے کچھ مہینوں میں بھارت اور چین کے فوجیوں کا آمنا سامنا ہوا ہے۔ کئی جگہ ٹکرائو کی صورتحال بھی بنی۔ پچھلے کچھ دنوںمیں ایسی صورتحال بنی جب کئی جگہوں پر بھارت چین آمنے سامنے آگئے۔انہوں نے بہادر کمانڈوں کے غیر معمولی کام کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ٹی بی پی روایتی ہتھیاروں کا استعمال کرتی ہے ۔ڈرون اور ڈرون انسداد تکنیک میں سرمایہ لگانے اور اسے جدید بنانے پر زور دیا۔انہوں نے خبردار بھی کیا کہ روایتی ہتھیاروں نے چین کا مقابلہ شاید ممکن نہ ہوکیونکہ چین نے اپنی سکیورٹی فورس کی جدیدکاری میں بھاری پیسہ خْرچ کیا ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ جب سرکاری طور پر ان جھڑپوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ جنرل کپور کے بیان کو لے کر کانگریس اور اپوزیشن نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ بتادیں کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نےپہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ چین بھارت سرحد پر قبضہ کررہا ہے۔ اس پر وزیر اعظم نے جواب دیا تھا کہ نہ تو کوئی گھسا ہے اور نہ ہی کوئی آیا ہے۔آج راہل گاندھی کی واررننگ صحیح ثابت ہوئی ہے۔جہاں اروناچل میں بھارت چین فوج ٹکرارہی ہےوہیں بھارت سرکار آئی ٹی بی پی کے جوانوں کو دہلی کے جنترمنتر پر اور کناٹ پلیس میں مظاہرین کو روکنے میں لگا دی گئی ہے یہ عجب صورتحال ہے۔ خیر! کانگرسی نے کہا ہے کہ اس سال جولائی سے ہی چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کی خبریں آرہی ہیں، لیکن مودی سرکار ان خبروں کو دبانے میں لگی رہی۔ یہاں تک کہ چین کو لال آنکھ دکھانے کی جگہ نریندر مودی چین کے صدرشی جن پنگ کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے آئے۔بریکس سمٹ ایک طرف چین ہمارے فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کررہا تھا دوسری طرف مودی چین کے صدر کا استقبال کررہے تھے۔ یہ ہمارے فوجیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رنبھیر جیسوال نے کہا کہ اصل کنٹرول لائن (ایل اےسی) سے جڑے اشوز کو سلجھانے کے لئے بھارت۔ چین مسلسل بات چیت کررہے ہیں۔جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ بھارت چین بارڈر پر حالات وقتاً فوقتاً بگڑ جاتے ہیں۔ جب چینی فوجی اپنے طے راستے سے الگ گشت کرنے لگتے ہیں۔ ایل اے سی پر بچے ہوئے معاملوں کو سلجھانےکی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور کسی بھی گڑبڑی سے بچنے کےلئے دونوں فریق مسلسل بات چیت اور فوجی راستوں کو استعمال کررہے ہیں۔کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ پی ایم مودی دیش اور پارلیمنٹ کو سرحد کی اصل حالت کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈھوکلام و گلوان کے بعد ایک اور سنگین ٹکرائو کی صورتحال بنی رہی؟ کانگریس جنرل سکریٹری جےرام رمیش نے الزام لگایا گلوان کے بعد چین کو دی گئی کلین چٹ کا خمیازہ دیش بھگت رہا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ چین کی فوج پی ایل اے ہم سے بہت آگے ہے۔ہم اس کا مقابلہ نہیں کرپارہے ہیں۔آئی ٹی بی پی کے جنرل کے اس بیان کے بعد لال آنکھیں دکھانے کی باتیں کہی گئیں یہ کھوکھلے دعوئوں اور 2020 میں چین کو دی گئی اس متنازعہ کلین چٹ کے پیچھے سچائی صاف ہے۔ انگریزی اخبار’ دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ایل اے اونچائی والے علاقہ میں بھارت کے نظریئے کے مطابق ، بھارت کے 6-7 کلو میٹر سرحد میں اندر گھس چکی ہے۔آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان سے پہلے ہی مشکلوں میں گھری بھارت کی فوج کا جدید بنانا انتہائی ضروری ہے۔ فوج طاقتور فورس سے لڑ نے کےلئے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے میز پر اپنا موقف مضبوطی سے بھی رکھنا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اب بھی چین سے جھڑپیں ہو رہی ہیں!

آئی ٹی بی پی کے جوانوں کے لئےہر سال منعقد ہونے والاسنمان سماروہ ہمریڈسنمان میں جمعرات کو آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شبھ جیت کپور نے چون...