Translater

20 دسمبر 2025

قومی صدر کی جگہ کارگزار صدر!

بھارتیہ جنتا پارٹی نے پٹنہ کی بانکی پور سیٹ سےممبر اسمبلی اور بہار کے وزیر نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نیا کارگزار صدر مقرر کر سب کو حیران کر دیا ہے ۔شاید ہی کسی نے امید کی ہو کہ نوین بابو کو اتنا اہم ترین عہدہ دیا جائے گا ۔پچھلے کئی ماہ سے یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ بی جے پی اپنا نیا صدر چننے والی ہے کیوں کہ شری نڈا کی میعاد بہت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی ۔اور وہ توسیع میعاد پر چل رہے تھے۔نتن نوین بھاجپا کی تاریخ میں جے پی نڈا کےبعد دوسرے نگراں صدر ہوں گے ۔پارٹی کے آئین میں نگراں صدر کا کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں ہے لیکن سال 2019 کے بعد بی جے پی میں فل فلیج صدر مقرر کرنے سے پہلے نگراں صدر تقرر کرنے کی ایک روایت شروع ہوئی ہے ۔بی جے پی میں صدر کے عہدے کے لئے چناؤ کب ہوگا ابھی صاف نہیں ہے لیکن میڈیا کی رپورٹس میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کے حوالے سے دعویٰ کیاجارہا ہے کہ اگلے سال جنوری میں یہ خانہ پوری کی جاسکتی ہے ۔موجودہ بھاجپا صدر جے پی نڈا کی میعاد جنوری تک ہی ہے ۔ایسے میں یہ سوال اٹھ رہے تھے کہ جب کچھ دنوں بعد قومی صدر کی تقرری ہونی ہے تو پارٹی نے نگراں صدر کیوں مقرر کیا ہے ؟ اس کا کوئی صاف جواب تو نہیں ہے لیکن یہ ماناجارہا ہے کہ پارٹی اپنے آئین کے حساب سے ہونے والے قومی صدر کےچناؤ کو اتفاق رائے اور بلامقابلہ طور پر چاہتی ہے۔سینئر صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ بی جے پی جنوری میں قومی صدر کے چناؤ کی کاروائی شروع کرے گی ۔پارٹی میں رسمی خانہ پوری ہے ایسے میں تو کوئی چناؤ نہیں ہورہا ہے لیکن نامزدگی تاریخ ، چناؤ تاریخ میں خانہ پوری کی کاروائیاں ہوتی ہیں۔پارٹی کو انہیں کرنا ہوتا ہے وہیں سینئر صحافی ونود شرما کے مطابق نگراں صدر اعلان کربی جے پی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ نتن نوین ہی اگلے نئے صدر ہوں گے ۔بی جے پی میں صدر چننے کا ایک لمبا پروسیس ہے۔بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ نے نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نگراں نامزد کیا ہے ۔26 سال کی عمر میں پہلی بار ممبر اسمبلی بنے جانے کے بعد نتن نوین پانچ بار مسلسل ممبر اسمبلی چلے آرہے ہیںاور بی جے پی کے پہلے نگراں صدر ہوں گے ۔45 سالہ نتن نوین کا بھاجپا کا کارگزار صدر بن جانا ضرور حیران کررہا ہے ۔لیکن تجزیہ نگار اس سے حیران نہیں ہے ۔بہار چناؤ کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے نتن نوین سے دو گھنٹے بات چیت کی تھی ۔نتن نوین پارٹی کے چھتیس گڑھ اسمبلی چناؤ کے انچار ج تھے اور بی جے پی نے یہ چنا ؤ بھاری اکثریت سے جیتا تھا یعنی نتن نوین اپنی تنظیمی صلاحیت پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں ۔سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا نتن نوین کی تقرری کے پیچھے کوئی خاص وجہ یا پارتی کی کوئی خاص حکمت عملی ہے ؟ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ پارٹی میں یہ تبدیلی کا دور ہے اور وقت کی ضرورت کےحساب سے اٹھایا گیا قدم ہے ۔وجے ترویدی اور ونود شرما دونوں ہی مانتے ہیں کہ پارٹی جنریشن چینج یعنی پیڑ ی میں تبدیلی سے گزررہی ہے ۔پارٹی میں پرانی پیڑی کے لیڈروں کی جگہ نئے نیتاؤں کو آگے بڑھایاجارہا ہے ۔راجستھان ،ہریانہ ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گرھ میں وزیراعلیٰ کی شکل میں پرانے لیڈروں کو ہٹانا اور نئے چہروں کو لانا پارٹی کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے اور نتن نوین کا نگراں صدر بنایاجاناکہیں نرالا قدم ہے ۔پارٹی لیڈر نئی لیڈر شپ کو آگے لانا چاہتی ہے اور یہ تقرری بھی اسی سمت میں ہے ۔ وہیں سینئر صحافی ونود شرما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بی جے پی میں ایسے لیڈروں کو آگے لایاجارہا ہے جو کسی بھی طرح سے نریندر مودی یا امت شاہ کے لئے چیلنج نہ پیش کریں ۔ونود شرما کہتے ہیں کہ نتن نوین کی تقرری حیران اس لئے نہیں کررہی ہے کہ سہولت کے حساب سے بنایا گیا ہے ۔کسی ایسے نیتا کومضبوط عہدے پر نہیں لایاجارہا ہے جو آگے چل کر کسی بھی طرح کی سینئر لیڈر شپ کو چنوتی پیش کر سکے ۔شخص ایسا ہونا چاہیے جو بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کو ہی منظور ہو ۔تجزیہ نگار یہ بھی مان رہے ہیں کہ نتن نوین کا نام ان چنندہ لوگوں میں رہا ہوگا جنہیں آر ایس ایس سے بھی منظوری حاصل ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

18 دسمبر 2025

قتل عام کرنے والے باپ -بیٹا!

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اتوار کو جشن منا رہے بانڈی بیچ پر لوگوں پر دو دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ۔اس دوران 40 سالہ احمد الاحمد نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردوں سے لوہا لے لیا اور کئ لوگوں کی جانیںبچائیں ۔ہوا یوں کہ اتوار کو سڈنی کے بانڈی بیچ پر یہودیوں کے ہنووکا تہوار پر بیچ کا مزہ لے رہے تھے ۔ہنوکا یہودیوں کا سالانہ تہوار ہے ۔اس دوران دو بندوقچیوں نے اندھا دھند فائرنگ کرنی شروع کر دی ۔گولیوں کی آوازیں سن کر بیچ پر افرا تفری مچ گئی اور لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔اس اندھا دھند فائرنگ میں بتایا جاتا ہے 16 لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔دہشت گردوں کی نشاندھی ہو چکی ہے ۔اے بی وی پی کی رپورٹ کے مطابق اس دہشت گردانہ واردات کو انجام دینے والے باپ اور بیٹے ہیں جن میں سے ایک کی تو موقع پر موت ہو گئی ۔آسٹریلیا تفتیشی ایجنسیوںنے ملزم کے بیک گراؤنڈ کی جانچ شروع کردی ۔فائرنگ میں شامل والد 50 سالہ کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے ۔سڈنی حملے میں پاکستانی کنکشن سامنے آیا ہے۔آسٹریلیا کی جانچ ایجنسیاں اس واقعہ کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں ۔اور اہم بات یہ بھی ہے کہ حملہ میں شامل بیٹا بیٹے کی پہچان پاکستانی نژاد کی شکل میں ہوئی ہے ۔وہیں امریکی خفیہ ایجنسیوں نے بھی دونوں دہشت گردوں کو پاکستانی شہری بتایا ہے ۔حملہ آور پاکستانی شہری تھے اور سڈنی میں مقیم تھے ۔جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے فائرنگ کے بعد پاس کی ایک سڑک پر ایک کار سے کئی امپروائزڈ ایسکلوزو ڈیوائز یعنی دھماکوں چیزیں برآمد کی گئی ہیں ۔جس میں اندیشہ ہے کہ حملے کی سازش اس سے کافی زیادہ تباہی مچانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کی تھی ۔آسٹریلیائی خفیہ ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک پہلے سے سیکورٹی ایجنسیوں کی نظر میں مشتبہ تھا۔لیکن اسے فوری خطرے کی شکل میں فہرست نہیں کیا گیا تھا ۔ادھر دونوں دہشت گرد گولیاں برسا رہے تھے اُدھر 44 سالہ محمد الاحمد اپن جان کی پرواہ کئے بغیر ہمت دکھاتے ہوئے پیچھے سے آتنکی پر جھپٹ پڑا اور اس سے بندوق چھین لی ۔جس سے کئی لوگوں کو محفوظ نکالنے کا موقع مل گیا۔لوگ اب احمد کو آسٹریلیا کا نیا ہیرو کہہ رہے ہیں ۔احمد جب دہشت گرد سازش سے مڈبھیڑ کرنے جارہا تھا تب ان کے بھائی نے اسے روکا تھا ۔تب انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو پریوار کو بتانا کہ میں لوگوں کی جان بچاتے ہوئے مارا گیا ۔احمد پھل سبزی کی دوکان چلاتا ہے حالانکہ بین الاقوامی سطح پر اس حملے کی مذمت ہوئی ہے ۔آسٹریلیائی سرکار سے لے کر مسلم عرب ممالک کی جانب سے بھی دہشت گرداور تشدد کی سبھی شکلوں کو مسترد کیا گیا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نکتہ چینی اور احتجاج کے باوجود کسی فرقہ سے نفرت کے جذبہ میں ڈوبے لوگوں کو روک پانا ایک مشکل چنوتی ہے یہ فطری ہے کہ اس آتنکی حملے کی عالمی سطح پر مذمت ہوگی اور تعزیتی نظریات و خیالات ظاہر کئے جائیں گے لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے ۔دنیا بھر میں جہادی دہشت گرد ی کا خطرہ جس طرح ابھر رہا ہے اس کا مقابلہ تبھی کیا جاسکتا ہے جب پوری عالمی برادری مل کر اس خطرے کا ایمانداری سے سامنا کرے اور مل کر مقابلہ کرنے کے لئے قدم بڑھائے ۔بانڈی بیچ پر ہوئے حملے نے ایک بار پھر پاکستان کو بے نقاب کردیا ہے ۔دونوں ہی آتنکی پاکستانی نژاد نکلے۔یہ کسی سے چھپہ نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی آتنکی فیکٹری ہے ۔یہاں سال در سال ہزاروں دہشت گرد تیار کئے جاتے ہیں بھارت تو بار بار اس بات کو کہتا رہتا ہے لیکن دنیا ماننے کو تیار نہیں ہے۔پہلگام حملہ بھی اسی طرح کے آتنکیوں نے کیا تھا لیکن دنیا ماننے کو تیارنہیں تھی ۔اب تو آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں حملہ ہوا ہے اب دنیا کو اس پر کیا کہنا ہے ؟ (انل نریندر)

16 دسمبر 2025

چناؤاصلاحات پر بحث !

چناؤ اصلاحات پر سڑک سے پارلیمنٹ تک بحث چھڑی ہوئی ہے۔شاید یہ ضروری بھی تھا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ویسے بھی دیش کو 12 ریاستوں و مرکزی حکمراں پردیشوں میوں ووٹر لسٹوں کی گہری نظر ثانی تیز رفتار سے جاری ہے۔لیکن یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ اتنی تیزی سے اس پر سیاست بھی ہورہی ہے ۔لوک سبھا میں چناؤ اصلاحات کے مسئلے پر بدھ کے روز وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کے ذریعے ووٹ چوری معاملے کے جواب میں جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کا بھی نام لیا اور اپنی بات رکھی۔اور الزام لگایا کہ انہوں نے جھوٹ پھیلایا ہے اور دیش کی جنتا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔امت شاہ نے کہا ایس آئی آر ووٹر لسٹ کا شدھی کرن ہے تاکہ جن کی موت ہوگئی ان کے نام کٹ جائیں اور جو 18 سال سے بڑے ہیں ان کے نام ووٹر لسٹ میں جڑ جائیںجو دو جگہ ووٹر ہے ان کے نام ایک جگہ سے کٹ جائیں اور جو غیر ملکی شہری ہے ان کو چن چن کر ووٹر لسٹ سے ہٹایاجا ئے ۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی بھی دیش کی جمہوریت تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب دیش کا وزیراعظم اور راجیہ کا وزیراعلیٰ کون ہو یہ گھس پیٹھیے طے کریں گے ۔ایس آئی آر سے کچھ پارٹیوں کے سیاسی مفادات کو چوٹ ہوتی ہے۔فیصلہ کرنا پڑے گا کہ دیش کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو چننے کے لئے غیر ملکیوں کو ووٹ دینے کا حق دینا ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد راہل گاندھی کھڑے ہوئے اور امت شاہ سے پوچھا کہ ہندوستان کی تاریخ میں چناؤ کمشنروں کو پوری طرح معافی دی جائے گی اس کا جواب دیں۔ ہریانہ کی ایک مثا ل انہوں نے ’’وزیر داخلہ امت شاہ ‘ ‘ کو دی۔اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے کئی اہم سوال اٹھائے اس دوران انہوں نے ایس آئی آر کا نام لیا ۔راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ یکساں جذبہ ایس آئی آر کو دقت ہے ۔سنگھ نے پبلک اداروں پر قبضہ کرلیا ہے اس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انہوں نے ٹوکا اور کہا کہ چناؤ اصلاحات پر بحث کیجئے ۔ لیڈر آف اپوزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ بھی بولو۔راہل گاندھی نے بحث کی شروعات کھاید سے کی انہوں نے کہا ہمارا دیش ایک فیبرک کی طرح ہے کپڑا کئی دھاگوں سے بنتا ہے ویسے ہی ہمارا دیش بھی کئی طرح کے لوگوں سے مل کر بنا ہے ۔دیش کے سارے دھاگے ایک جیسے اور اہم ہیں ۔دیش کے سبھی لوگ برابر برابر ہیں۔راہل گاندھی نے کہا ووٹ کے لئے دیش کے پبلک اداروں نے حکمراں پارٹیوں نے قبضہ کر لیاہے ۔اسی جیسے سی بی آئی ،ای ڈی سب پر قبضہ کر لیا ہے ۔راہل گاندھی نے چناؤ کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ سے ملا ہوا ہے ۔ہم نے اس بات کے ثبوت بھی سرکار کو دیے ۔سرکار اسی کا استعمال کررہ ہے ۔راہل گاندھی نے کہا چناؤ کمشنر منتخب کرنے کی کاروائی کو کیوں بدلا گیا ؟ اسی کاروائی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کیوں ہٹایاگیا ؟ کیا سرکار کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر بھروسہ نہیں ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ کے اشاروں پر چلتا ہے ۔حکمراں فریق ہی چناؤ کمیشن کو چلارہا ہے ۔راہل گاندھی نے برازیل کے ماڈل کا بھی ذکر کیا انہوں نے کہا کہ برازیل کا ماڈل کا نام 22 بار ووٹر لسٹ میں آیاہے۔ایک عورت کا نام 200 بار ووٹر لسٹ میں آیا ہے ۔چنا ؤ کمیشن کو سی سی ٹی وی فوٹیج ضائع کرنے اور کنٹرول کا مطلب کیا ہے۔اور کیوں اس فوٹیج کو کچھ وقت بعد ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ؟ فوٹیج ضائع کرنے کی طاقت کیوں دی گئی ؟ چناؤ کمشنروں کو سزا کی سہولت کو کیوں ہٹایاگیا ۔ہریانہ چناؤ کا ذکرکرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہریانہ کا چناؤ ووٹ چوری سے کیا گیا ۔اورجہاں تک چناؤ کمیشن کا سوال ہے تو اسے اٹھ رہے سوالوں کا جواب دینا ترجیح ہونا چاہیے ۔شفافیت کی سب سے بڑی ذمہ داری چناؤ کمیشن پر ہے ۔چناؤ آج سے دو دہائی پہلے کیسے ہوا کرتے تھے اس سے زیادہ ضروری ہے کہ اب جو چنا ؤ ہوں سوالوں سے پرے ہوں ۔جمہوریت کے اصلی مالک و محافظ ووٹر ہیں جنتا ہے ۔اس کا چناؤ پروسیس پر پورا بھروسہ ہونا چاہیے یہی بھارت کی جمہوریت کی بنیاد ہے ۔ (انل نریندر)

11 دسمبر 2025

ہمایوںکبیر نے رکھی بابری مسجد کی بنیاد!

مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کے ریزی نگر میں سنیچر کے روز بابر ی جیسی مسجد کی بنیاد رکھی گئی ۔ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ عرف مسجد ڈھانے (چھ دسمبر 1992 کی برسی پر منعقدہ پروگرام میں تمام مولوی موجود رہے۔بابری مسجد بنوانے کے اعلان کے سبب ترنمول کانگریس سے معطل ممبر اسمبلی ہمایوں کبیرنے اس کا سنگ بنیاد کیا ۔انہوں نے مرشد آباد ضلع میں بیل ڈانگر سے لگے علاقہ میں سینکڑوں حمایتیوں کے ساتھ علامتی طور پر فیتا کاٹ کر مسجد کی بنیاد رکھی ۔ہمایوں کبیر مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کی بھرت پور سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں ۔وہ پچھلے کئی دنوں سے دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ چھ دسمبر کو وہ بھرت پور کے بیل ڈانگہ میں بابری مسجد بنوانے کے لئے بنیاد رکھیں گے ۔ان کے حمایتی اور دیگر لوگ صبح سے ہی سر پر اینٹ رکھ کر تعمیراتی جگہ پہنچنے لگے تھے ۔ہمایو ں کبیر نے تعمیراتی جگہ سے ایک کلو میٹر دور بنے اسٹیج پر مولویوں کی موجودگی میں فیتا کاٹ کر تقریب کے دوران اللہ اکبر کے نعرے لگائے ۔اس موقع پر سعودی عرب کے علماء بھی موجود تھے۔اس دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کے اندیشہ کود یکھتے ہوئے ریجو نگر اور نلڑی بیل ڈانگہ علاقہ میں پولیس ، آر اے ایف اور مرکزی فورسز کی کچھ ٹکڑیاں تعینات کی گئی تھیں جنہوں نے علاقہ میں فلیگ مارچ کیا ۔بنیاد رکھنے کے بعد خبر رساں ایجنسی سے بات چیت میں ہمایوں کبیر نے کہا کہ ایک سال پہلے میں نے اعلان کیا تھا کہ مرشد آباد کے بیل ڈانگہ میں ایک نایاب بابر ی مسجد بنانی ہوگی ۔اور مسجد کے ساتھ ساتھ اسلامی ہاسپٹیل ، میڈیکل کالج ،ہوٹل ،ریستوراں ،پارک اور ہیلی پیڈ بنانے کی اسکیم ہے ۔یہ 300 کروڑ روپے کا پروجیکٹ ہے ۔اس مسجد کی بنیاد رکھے جانے سے پہلے بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ ترنمول کانگریس فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے۔بی جے پی نیتا امت مالویہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ، وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سیاسی فائدے کے لئے مسلمانوں کو پولرائز کے لئے اس ممبر اسمبلی کا استعمال کررہی ہے وہ آگ سے کھیل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیل ڈانگہ سے آرہی رپورٹوں نے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے ۔مالویہ نے دعویٰ کیا کبیر کے حمایتیوں کو اس عمارت کی تعمیر کے لئے اینٹیں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔جسے انہوں نے بابر ی مسجد بتلایا ہے ۔وہیں ٹی ایم سی نیتا سیونی بھوش نے کہا کہ بی جے پی کو ہمارا ایک ہی پیغام ہے کہ کھیلاہووے ،2026 میں ممتا بنرجی چوتھی بار مغربی بنگال کا اقتدارسنبھالیں گی ۔کیوں کہ مغربی بنگال کی جنتا ان کے ساتھ ہے اور وہ اب تک کے سب سے بڑے جنادیش میں سے ایک بار پھر جیت حاصل کرنے جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کوئی بھی مندر بنا سکتا ہے کوئی بھی مسجد بنا سکتا ہے ۔لیکن اگر اس کے پیچھے کسی کی منشا یہاں مذہبی نفرت اور سورش پھیلانے کی ہے تو سب جانتے ہیں کہ انہیں بی جے پی سے پیسہ مل رہا ہے ۔اور بی جے پی انہیں مغربی بنگال میں حالات بگاڑنے کے لئے اکسا رہی ہے ۔62 سالہ ہمایوں کبیر نے سیاست کا آغاز کانگریس پارٹی سے کیا تھا او ر سال 2012 میں کانگریس سے اسمبلی چناؤ جیتنے کے ایک سال بعد ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے تھے۔2015 میں کبیر کو ٹی ایم سی سے باہر کا راستہ دکھا یا گیا ۔انہوں نے کہا وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اپنے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو راجہ بنانا چاہتی ہیں بھاجپا نیتاؤں نے اسے ووٹ بینک کی سیاست بتاتے ہوئے ہمایوکبیر کی گرفتاری تک کی مانگ کر ڈالی ۔بھاجپا نیتا سکانت مجمومدار نےکہا کہ ممتا 15 برسوں سے خوشامدی اور فرقہ وارانہ سیاست کرتی آرہی ہیں ۔مگر سچ میں یہ نہیں چاہتی کہ بابری مسجد بنے تو انہیں ہمایو کبیر کو گرفتار کرنا چاہیے تھا ۔ٹی ایم سی نے جواب میں کبیر پر بھاجپا اور آر ایس ایس کے ساتھ ملی بھگت کرکے حالات بگاڑنے کی کوشش کا الزام لگایا ۔مغربی بنگال اسمبلی چناؤ جیسے جیسے قریب آرہے ہیں روز نئی نئی باتیں سننے کو ملیں گی ۔ (انل نریندر)

09 دسمبر 2025

کیا یہ سنکٹ جان بوجھ کر بنایا گیا؟

دیش کی سب سے بڑی ائر لائن انڈیگو میں پچھلے کچھ دنوں سے بھاری بدنظمی کا سامان کررہی ہے ۔ایک طرف اڑانوں کا وسیع پیمانہ پر منسوخ ہونا تو دوسری طر ف آسمان چھوتے مسافر کرائے نے مسافروں کی ناک میں دم کر دیا ہے ۔ایئر لائن نے ذمہ داری نئے ایف ڈی ٹی ایل ( فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن ) قواعد پر ڈالی ہے ۔لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیگو کے پاس تیاری کے لئے درکار وقت تھا۔اس کی وجہ یہ الزام بھی سنگین ہو گیا ہے کہ ایئر لائن نے قواعد میں ڈھیل پانے کے لئے سرکار پر دباؤ بنانے کا راستہ چنا ۔ایویشن ماہرین کے مطابق اس بحران کی جڑ جنوری 2024 میں دائر اس عرضی میں ہے جس میں پائلٹ یونین نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے تھکان اور لمبی ڈیوٹی کو سنگین سیکورٹی خطرہ بتایا تھا ۔کورٹ کی ہدایت کے بعد ڈی جی سی اے نے ایف ڈی ٹی ایل قواعد میں تبدیلیاں کیں اور انہیں ایک جولائی 2025 سے لاگو کر دیا ۔ان قواعد میں پائلٹوں کو ہفتہ وار چھتیس گھنٹے کے بجائے 48 گھنٹے کا ضروری آرام دیا ۔اور کسی بھی چٹھی کو ویکلی ریسٹ ماننے سے روک لگا دی ۔نومبر 2025 میں اس کا دوسرا مرحلہ لاگو ہوا ، جس میںلگاتار نائٹ شفٹ پر بڑی پابندی لگا دی گئی۔انہیں تبدیلیوں کا اثر انڈیگو پر سب سے زیادہ پڑا ۔12 دسمبر کو دہلی ،ممبئی اور بنگلورو جیسے بڑے ہوائی اڈوں پر اڑانیں غیر ریگولر ہونا شروع ہوئیں۔اور آن ٹائم پرفارمنس گر کر 35 فیصد پر آگئی ۔3 دسمبر کو یہ حالت اور بگڑی اور آپریشن پرفارمنس 19.7 فیصد تک گر گئی ۔4 دسمبر کو حالات تقریباً ٹھپ ہو گئے ۔قریب 800 اڑانیں منسوخ کرنی پڑیں اور او ٹی پی صرف 8.5فیصد پر رہ گیا ۔کئی روٹس پر ٹکٹ کا کرایہ 10 ہزار سے بڑھ کر 40 ہزار 50 ہزار دیکھا گیا ۔کیا یہ مسئلہ منوپولی کی وجہ سے ہوا؟ سال 2006 کے اگست میں دہلی ،ممبئی کے بیچ اڑان سے شروع ہوئی انڈیگو کی کہانی اور اس موڑ پر آجائے گی تب راہل بھاٹیہ اور راکیش گنگوال نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا جنہوں نے 2005 میں انڈیگو کو مالک انٹر گلوبل انٹر پرائز کی بنیاد رکھی تھی ۔آج بھارت کے جہاز رانی مارکیٹ میں انڈیگو سب سے بڑی کھلاڑی ہے اور اس کے پاس قریب 64 فیصدی حصہ داری ہے اب یہی بڑھا قد اس کی ہزاروں اڑانیں کینسل ہونے اور مسافروں کو ہوئی بے شمار پریشانیون کے چلتے سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔پارلیمنٹ میں انڈیگو کی قیمت منوپلی یعنی ایک طرفہ سوال اٹھے ۔راہل گاندھی نے کہا کہ اس بحران کے لئے مرکزکی منوپلی ماڈل ذمہ دارہے ۔جہاز رانی سیکٹر کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ ہوا یہ جان بوجھ کرکیا گیا یا بنایاگیا ۔اس بحران سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک منوپلی کمپنی جب چاہے دیش کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتی ہے ۔سرکار نے ایئر انڈیا کو پیچھے دھکیل کر انڈیگو کو ایک طرفہ حق دے دیا جس سے وہ جہازی سیکٹر میں من مرضی کر سکے جو کچھ ہوا ہے اس میں یہ ساکھ بنی کہ کوئی ایک بڑی کمپنی بھارت میں جہازرانی قواعد میں تبدیلی کروا سکتی ہے لہذا اس واقعہ سے کسی ایک کمپنی نہیں بلکہ دیش کے پورے جہازرانی سیکٹر کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ایویشن سیفٹی فرم کونسلنگ کے سی ای او ماک ڈی مارٹن نے کہا کہ ایک طرف اختیار بڑی وجہ ہے ۔جس طرح سے یہ معاملہ ہوا ہے اس سے دنیا بھر میں یہ پیغام گیا ہے کہ بھارت میں ایویشن ریگولیشن میں دم نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

06 دسمبر 2025

عمران خان زندہ ہیں!

جی ہاں عمران خان زندہ ہیں یہ دعویٰ کیا ہے عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے ۔بتادیں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ اندیشہ جتایاجارہا تھا کہ عمران خان کو جیل میں قتل کردیا گیا ہےاور اسے چھپایاجارہا ہے ۔عمران خان کے خاندان والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ادیال جیل میں بند عمران خان کوتقریباً ایک ماہ سے سابق وزیراعظم اور ان کے بھائی عمران کو کسی سے ملنے نہیں دیاجارہا ہے۔آخر کار عمران کے کنبہ اور ان کے حمایتیوں کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے عمران خان کی بہن کو اپنے بھائی سے جیل کے اندر ملنے کی اجازت دے دی گئی ۔پی ٹی آئی کے ایک ترجمان اور ادیالہ جیل کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات چیت میں اس کی تصدیق کی ہے کہ عظمیٰ خاں کو عمران خان سے ملنے کی اجازت مل گئی ہے ۔منگل کے روز جب عمران خاں کی تین بہنیں علیمہ خانم ، نورین نیازی اور عظمیٰ خاں ملاقات کے لئے ادیالہ جیل کے پاس پہنچی تو وہاں تعینات پولیس حکام نے انہیں راستے میں روک دیا تھا۔حالانکہ کچھ دیر بعد جیل حکام نے ایک افسر کے عمران خاں کی بہنوں کے پاس بھیجا اور میسج دیا کہ ملاقات کے لئے عظمیٰ خاں کے نام پر منظوری مل گئی ہے ۔ادیالہ جیل میں 20 منٹ کی ملاقات کے بعد عظمیٰ جب باہر آئیں تو انہوں نے اخبار نویسوں سے اپنے بھائی کے حال چال کے بارے میں بتایا ۔عظمیٰ خاں نے بتایا کہ وہ عمران خان بڑے غصہ میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہمیں یہ جیل میں مینٹل ٹارچر کررہے ہیں سارے دن ایک کمرے میں بند رکھتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے باہر جانے دیتے ہیں۔کسی سے کوئی بات چیت کی اجازت نہیں ہے جو سب کچھ ہورہا ہے اس کے لئے پاکستانی فوج کے فوجی سی ڈی ایس عاصم منیر ذمہ دار ہیں ۔اس کے ساتھ ہی عظمیٰ خاں نے بتایا کہ ان کی بس 20منٹ کے لئے بات چیت ہو پائی اور ان کی عمران کی صحت بالکل ٹھیک ہے اس سے پہلے ان کے گھر والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں تقریباً چھ ماہ سے پہلے سابق پردھان منتری سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔سرکاری افسر نہیں چاہتے کہ عمران خاں کو کوئی بھی پیغام جیل سے باہر آئے ۔بی بی سی سے ایک انٹرویو میں عمران خاں کی بہن نورین خاں نے الزام لگایا کہ انہیں سرکاری حکام ( کو بس اس بات کی فکر ہے کہ عمران خاں کی باتیں باہر بتائی جارہی ہیں اس لئے انہوں نے ملنا ملانا پوری طرح سے بند کر دیا ہے ۔عمران کی بہنوں کا کہنا ہے کہ پہلے وہ کورٹ کے حکم کے مطابق ہر منگل کو اپنے بھائی سے ملنے جایاکرتی تھیں لیکن عمران سے ان کی آخری ملاقات 4 نومبر کو ہوئی تھی۔نورین خاں نے مزید یہ بھی الزام لگایا پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ عمران خاں سے 9 مئی کی ذمہ داری قبول کریں کہ وہ 9 مئی کو توڑ پھوڑ کروائی تھی انہوں نے ہی اپنے لوگوں کو گولی ماری ۔نورین خاں کے مطابق عمران نے جواب دیا تھا کہ آپ سی سی ٹی وی فوٹیج نکال لیں چھاونی کے اندر چیک پوسٹ ہے فوج کی نظر میں آئے بغیر یا کیمرے میں قید ہوئے بنا یہاں اندر نہیں جاسکتا ۔گھر والوں سے ملنے کی اجازت نہ ملنے کی خبروں پر جیل کے حکام کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی امور کے مشیر ثناء اللہ نے الزام لگایا کہ عمران خاں جیل میں بیٹھ کر بد امنی اور بے نظمی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے نیوز ٹی وی کو ایک پروگرام میں مانا کہ قانون ایک قیدی کو اس کے گھر والوں یا وکیلوں سے ملنے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن ایسا کوئی قانون میں نہیں لکھا ہے کہ کسی قیدی کو سرکار کے خلاف بدا منی یا بغاوت یا بد انتظامی ، تحریک یا آگ زنی کی اجازت دے ۔ادھر نورین خاں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے عمران خاں کے ساتھ کچھ کیا تو یاد رکھیں کہ وہ نا پاکستان میں رہنے کے قابل ہوں گے اور نہ ہی دنیا کے کسی کونے میں ۔ (انل نریندر)

02 دسمبر 2025

چناؤ کمیشن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں!

یہ کہنا ہے ترنمول کانگریس کے اس نمائندہ وفد کا جو چناؤ کمیشن کی پوری بنچ کے ساتھ دو دن پہلے ملا تھا ۔مغربی بنگال میں جاری ووٹر لسٹ نظر ثانی پروسیس کے درمیان ، ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن کی سربراہی میں پارٹی کے دس ممبری نمائندہ وفد نے چناؤ کمیشن سے ملاقات کی ۔اوبرائن نے میٹنگ کے بعد کہا کہ پارٹی نے چناؤ کمیشن کے سامنے پانچ سوال اٹھائے لیکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ترنمول کے ممبران کا کہنا تھا کہ اگر ایس آئی آر کا مقصد فرضی ووٹروں اور دراندازوں کا پتہ لگانا ہے تو پھر بنگال ہی کیوں ؟ ،میگھالیہ اور تریپورہ میںکیوں نہیں؟ جبکہ ان ریاستوں کی سرحدیں بھی بنگلہ دیش سے ملتی ہیں ۔حالانکہ ترنمول کانگریس ممبران پارلیمنٹ کی بات سننے کے بعد چناؤ کمیشن نے صاف کیا کہ ایس آئی آر سبھی ریاستوں میں ہونے ہے ۔ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ ہم ایس آئی آر کے آئینی جواز پر سوال نہیں اٹھارہے ہیں بلکہ اس کے طریقہ پر اٹھا رہے ہیں ۔جس طریقہ سے جلد بازی میں اسے نافذ کیا جارہا ہے اس پر اعتراض ہے ۔ایس آئی آر کے لئے انہوں نے وقت بڑھانے کے لئے مانگ کی تھی ۔ترنمول کانگریس کے نمائندہ وفد نے جب جمعہ کو چناؤ کمیشن کی پوری بنچ سے ملاقات کی تو انہوں نے کھل کر الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے سبب کم سے کم چالیس لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں ہم نے پانچ سوال اٹھائے اور چناؤ کمیشن نے ایک گھنٹے تک بنا رکے ہم سے بات کی ۔جب ہم بول رہے تھے تب ہمیں بھی نہیں روکا گیا لیکن ہمارے پانچ سوالوں سے کسی کا جواب نہیں ملا ۔لوک سبھا ایم پی مہوا موئترا نے بتایا کہ نمائندہ وفد نے چیف الیکشن کمشنر نے مل کر انہیں چالیس ایسے لوگوں کی فہرست دی جن کی موت مبینہ طور پر ایس آئی آر پروسیس سے وابستہ تھی ۔حالانکہ انہون نے کہا چناؤ کمیشن نے انہیں صرف الزام کہہ کر خارج کر دیا ۔ممبران پارلیمنٹ کی چناؤ کمیشن سے قریب 40 منٹ میں کلیان بنرجی ،مہوا موئترا ،ممتا بالا ٹھاکر نے اپنی باتیں رکھیں ۔اور جو کہنا تھا وہ انہوں نے کہہ ڈالا انہوں نے کہا اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے ایک گھنٹے بغیر رکے ان سے بات کی ۔جب ہم بول رہے تھے تب ہمیں بھی نہیں ٹوکا گیا لیکن ہمیں ہمارے پانچ سوالوں میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہیں ملا ۔ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے کو لیکر تنازعہ بڑھتا جارہا ہے ٹی ایم سی ممبران کے سوالوں کا تشفی بخش جواب نہ دینا اس پروسیس کے جواز اور منصفانہ پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔ایس آئی آر سے جڑے شک و شبہات کا دور نہ ہونا اچھا اشارنہیں ہے ۔ایس آئی آر کے سیاسی پہلو کو سمجھا جاسکتا ہے ۔خاص کر بنگال میں جہاں بی جے پی اور ترنمول کی سخت مقابلہ ہونے کا اندازہ ہے لیکن اس سے جڑی تشویشات کو بھی مسترد نہیں کر سکتے ۔ایس آئی آر کے جواز پر کوئی سوال نہیں ہے اور نہ ہی چناؤ کمیشن کے اختیار پر ۔سپریم کورٹ بھی یہ بات کہہ چکا ہے حالانکہ اپوزیشن کی تشویشات کو دور کرنا ہی چناؤ کمیشن کی ہی ذمہ داری ہے ۔اپوزیشن کو اگر ادارے کو نہ صرف ان کا تسلی بخش جواب دینا ہوگا ۔بلکہ آزادانہ اور منصفانہ چناؤ پروسیس بھی اپنانا ہوگا ۔ (انل نریندر)

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...