Translater

13 جنوری 2026

ہزاروںایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں ٹرمپ کے ہاتھ!

ایران میں مہنگائی کےخلاف 13 دنوں سے چل رہے مظاہرے کے درمیان جمعرات کی رات حالات اور بے قابو ہو گئے ۔ایک نیوز رپورٹ کے مطابق دیش بھر میں 100 سے زیادہ شہروں میں مظاہرہ پھیل چکا ہے ۔مظاہرین نے سڑکیں بلاک کیں ،آگ لگائی ۔لوگوں نے خمینی کی موت اور اسلامی رپبلک کا خاتمہ ہوا۔جیسے نعرے لگا رہے تھے ۔کچھ جگہوں پر مظاہرین کراؤن پرنس رضا پہلوی کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے، وہ نعرہ لگا رہے تھے یہ آخری لڑائی ہے ۔شاہ پہلوی لوٹیں گے ۔امریکن ہیومن رائٹ ایجنسی کے مطابق ،مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد میں اب تک 200 لوگ مارے گئے ہیں جن میں 8 بچے شامل ہیں۔ایک پولیس افسر کو بھی چاقو مار کر موت کی نیند سلادیا گیا ۔جبکہ 2270 سے زیادہ لوگوں حراست میں لیا گیا ہے ۔ایران میں مہنگائی کے خلاف عام لوگوں کے احتجاجی مظاہرے آہستہ آہستہ تہران بنام واشنگٹن ہوتے جارہے ہیں ۔ایرانی میڈیا کھلے عام کہہ رہا ہے کہ مظاہرین کو سی آئی اے اور موساد ہوا و مدد دے رہا ہے۔مظاہرے کی آڑ میں واشنگٹن اور تل ابیب دراصل تبدیلی اقتدار کروانا چاہتا ہے۔وہ خامنہ ای کو بھگانا چاہتا ہے اور ایران کی ملا شاہی اقتدار کو اکھاڑ پھینک شاہ پہلوی کو اقتدار پربٹھانا چاہتا ہے ۔اس کے پیچھے ایران کا تیل اور دیگر قیمتی معدنی چیزیں ٹرمپ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانی عوام مہنگائی،بے روزگار ی سے پریشان ہے اور اس لئے سڑکوں پر اتر رہی ہے ۔لیکن اس ناراضگی کا فائدہ ٹرمپ اٹھانا چاہتا ہے اور اس بہانے تبدیلی اقتدار کرنا چاہتا ہے۔لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا ۔ایرانی ایک بہت بہادر اور لڑاکو قوم ہے وہ اپنی سرکار سے ناراض تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ اپنے دیش کی کمان ٹرمپ کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہیں گے ۔مظاہروں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کو صاف اور سخت پیغام دیا کہ اسلامی جمہوریہ کسی بھی حالت میں پیچھے نہیں ہٹے گا ۔سرکاری ٹی وی پر نشر تقریر میں 86 سالہ خامنہ ای نے مظاہرین کو غیر ملکی حمایتی عناصر قرار دیا اور کہا کہ ان کا مقصد ایران کو کمزور کرنا ہے ۔خامنہ ای نے خاص طور سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی حملہ بولا۔انہوں نے کہا امریکہ کے صدر کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں ۔دراصل ایران کا مسئلہ بہت حد تک امریکہ اور مغربی ملکوں نے پیدا کیا ہوا ہے ۔برسوں سے ایران کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس وقت نیوکلیائی ہتھیاروں کے پروگرام پر روک نہ لگانے کے الزام میں امریکہ اور یوروپ نے ایران پر کئی طرح کی پابندیاں لاد رکھی ہیں ۔کچھ ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت آج ڈوبنے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔دہائیوں کی ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کو کبھی سنبھلنے کا موقع نہیں ملا ۔تازہ احتجاجی مظاہرہ دیش کے زیادہ تر حصوں میں پھیل چکا ہے۔انٹرنیٹ بند ہے اور دیگر شہریوں کی حفاظت کو لے کر پوری دنیا میں تشویش ہے لیکن یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے اور ایک مختار دیش کے معاملے میں امریکہ یا اور کسی دیش کو کودنے کا بھی اختیار نہیں ہے ۔امریکہ اور اسرائیل آئے دن ایران پر فوجی کاروائی کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ایران کی عوام کو ہی آخری فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ (انل نریندر)

10 جنوری 2026

مادورو کو اچانک اقتدار سے ہٹایا تو کیا ہوگا؟



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ مادورو کو پکڑنے کیلئے فوجی کاروائی کومجازکرنے سے ٹھیک پہلے امریکہ کی خفیہ سروس، سی آئی اے نے ایک خفیہ تجزیہ پورا کیا جس میں یہ جانچ کی گئی کہ مادورو کو اچانک اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے تو وینزویلا کی اندورونی صورت حال کیسی ہوگی؟نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کی مطابق ٹرمپ کے ذریعہ سیدھی کاروائی کے خطرات اور نتائج کا تجزیہ کرنے کے دوران سینئر انتظامی حکام نے خفیہ تجزیہ جائزہ کی درخواست کی تھی ۔رپورٹ میں امریکی قیادت میں تختہ پلٹ کے امکان پر کم اور مادورو کے لئے باقائدہ اخراج پس منظروں پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی تھی،جس میں بات چیت  کے ذریعے سےسمجھوتے مسلسل امریکی دباؤ اور عبوری قدم کی شکل میں طاقت استعمال شامل تھے۔خفیہ تجزیہ سے واقف لوگوں نے بتایا کہ سی آئی نے مادورو کو عہدہ چھوڑنے کیلئے ایک ہی امکانی نتیجہ کا تصور کرنے کے بجائے کئی متبادلوںپر بھی غور کیا ان میں بات چیت کے ذریعہ اقتدارمنتقلی شامل تھی،جس میں مادورو مرضی سے عہدہ چھوڑ تے، پابندیوںاور پراپرٹی ضبطی کے ذریعے سے دباؤ بڑھا نااوردیگر متبادل فیل ہونے پر زبردستی اخراج کا امکان شامل تھا۔اس تجزیہ کا مقصد ٹرمپ کے ذریعے وینزویلا کے ایک انتہائی محفوظ فوجی ٹھکانے کے خلاف بڑی خطرے والی مہم کی منظوری دینے پر غور کرتے وقت اعلی سطحی فیصلہ لینے میںمارگ درشن کرنا تھا۔رپورٹ سے واقف حکام نے کہا کہ اس نے صدر کے فائنل فیصلے کو متاثر کرنے میں اہم رول نبھایا۔سی آئی اے کی نظر میں سب سے ممکنہ جانشین کون تھا ؟اس تجزیہ کے سب سے اہم ترین نتیجوں میں ایک جانشین پر اس کانقطہ نظرتھا،نائب صدر ڈیلسی روڈرگز،روڈرگز کو اس شخص کی شکل میں پہچانہ جو مادورو کو ہٹائے جانے کی صورت میں فورا اقتدار سنبھالنے کےلئے موزوں تھی حالانکہ کچھ سانسدوں اوروینزویلا کے شہریوں نے اپوزیشن لیڈرماریہ کورینہ چمانڈو کو امکانی متابادل لیڈر کی شکل میں دیکھا ہے،لیکن خفیہ جائزوں نے اس بات پر شبہ جتایا ہے کہ کیا انکے پاس مادورو کے بعدکی حالت میں جلدی سے اقتدار سنبھالنے کیلئے تنظیمی ڈھانچہ یا سیاسی اثر ہے ؟خفیہ معلومات سے واقف حکام کے مطابق، سی آئی اے کو شبہ تھا کہ کیا اپوزیشن عوامی حمایت کو سرکاری اداروں فوج اور سکورٹی سروسزپر موثر کنٹرول میں بدل پائے گا؟یہ تشویش نظریاتی نہیں بلکہ ضروری سچائی تھی:صاف اور با قاعدہ جانشین کے بے غیر مادورو کو ہٹانے سےعدم استحکام کم ہونے کے بجائے اور بڑھ سکتا تھا سی آئی اے کا یہ تجزیہ صحیح ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے۔ وینزویلامیںنہ تو اقتدار تبدیلی ہوئی اور نہ ہی موجودہ سرکار اور شہریوں میں امریکہ کے تئیں حمایت بڑھتی نظر آ رہی ہے نکولس مادورو کو ہٹا دیا لیکن فی الحال انکے جانشین ڈیلسی روڈریگز ویسے ہی باتیں کر رہی ہے جیسے مادورو کرتے تھے۔آگے چل کر بدل جائے تو اور بات ہے ابھی تو وینزویلاکے نگرا صدر ڈیلسی روڈرگزنے کہا ہے کے دیش پر وینزویلاکی سرکار، حکومت کر رہی ہے، نہ کہ کوئی غیر ملکی طاقت۔انہوںنے امریکی صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جنہو ںنے کہا تھاکہ انہیںوینزوئلا تک پوری پہنچ چاہئےروڈرگز کا کہنا تھا یہاں کوئی جنگ نہیں ہےچونکہ ہم جنگ میں نہیں ہیں ہم ایک امن پسند لوگ ہیں ایک طاقتور دیش ہیں جس پر حملہ کیا گیاانکا یہ تبصرہ اس وقت آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وینزویلاکے عبوری افسران 3 سے 5 کروڑبیرل ممنوعہ تیل امریکہ کو ٹرانسفر کریں گے۔
(انل نریندر)

08 جنوری 2026

انکیتا بھنڈاری کیس کا سچ سامنے آنا چاہئے!

انکیتا بھنڈاری ہتیا کانڈ میں وی آئی پی کا نام سامنے آنے کے بعد انصاف کی مانگ نے نئے سرے سے طول پکڑ لیا ہے۔سماجی انجمنوں اور کانگریس نے اتوار کو عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کو لیکر بڑے سطح پر مظاہرہ کیا ۔ورکروں نے دہرادون میں سی ایم ہاؤس تک جانے کی کوشش کی ۔ادھر دہلی کے جنتر منتر پر بھی انصاف کی مانگ پر مظاہرے کیلئے بڑی تعداد میں لوک جمع ہوئے ۔اس مسئلہ کو لیکر 11جنوری کو اتراکھنڈ بند کا اعلان کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں مشعل جلوس اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے بتا دیں انکیتا بھنڈاری کیس کیا ہے ؟انکیتا بھنڈاری ونتارا روایزورٹ میں استقبالیہ کی حیسیت سے کام کرتی تھی ۔18 ستمبر 2022 کو وہ اچانک لاپتہ ہو گئی۔کچھ دنوں بعد اس کی لاش ندی سے ملی روایزورٹ کی مالک پلکت آریہ 2 ملازمین کو گرفتار کر لیا گیاکورٹ میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں قتل ،ثبوت مٹانے و دیگر سنگین الزامات کے تحت سزا ملی۔کورٹ نے انکیتا کے پریوار کو معاوضہ دینے کا حکم دیا۔حال ہی میں انکیتا کیس نے شوشل میڈیا اور کچھ ویڈیو آڈیو کلپ کی وجہ سے وی آئی پی کا نام سرخیوں میں آیا حالانکہ پولس نےایسے کسی بھی شخص کے رول سے انکار کیا ہے۔ارملا سناور نام کی عورت نے یہ کلپ شیئر کئے تھے ۔جس میں ایک شخص کو گٹو نام کا بتایا گیا۔ اس کے بعد بڑے نیتا یعنی وی آئی پی کا نام سامنے آیا۔الزام لگا کی وی آئی پی بی جے پی کا ایک سینئر لیڈر ہے اتراکھنڈ مہیلا منچ کے بلاوے پر 4 جنوری کو دہرادون میں زبردست مظاہرہ کیا گیا ۔احتجاج کو اتراکھنڈ کرانتی دل ،کانگریس اور کئی تنظیموں حمایت دےرہی ہے کنر بھی انصاف کےلئے سامنے آئے ہیں۔ اس پورے معاملے میںسی بی آئی جانچ ،وی آئی پی کا نام اور اتنے اندیشے بڑھ رہے ہیں انکی جانچ کرونے کو لیکر اتراکھنڈ مہلامنچ کے جانب سے کئے گئے مظاہرے میں ہزاروں لڑکوں نے بھی حصہ لیا۔دہرہ دون میں اس مظاہرے کے دوران پولس و کانگریس ورکروں کے دوران زبردشت ٹکراؤ ہوا وہی بھاجپا نے ضلع ہیڈ کواٹر میں انکیتا بھنڈاری معاملے کولیکر کانگریس پر جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا کانگریس کے پتلے جلائے گئے۔کانگریس اتراکھنڈ کرانتی دل مہلا منچ لیفٹ پارٹیوں اور سماجی تنظیموں کے ورکر پریڈ گراؤنڈ میں جمع ہوئے اور وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے جانب بڑتے ہوئے قتل معاملے میں سفید پوس کے معاملے کا پتہ لگنے کے بعد اس کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی اپنی مانگ کو دہرایااس احتجاجی مارچ میں شامل کمنسٹ پارٹی(مالے)کے ریاستی سکریٹری اندریش مخوری نے کہا قتل کانڈ کی جانچ میں لگے پولس افسر شیکھر سچال کے زریعے میں کسی وی آئی پی کے ملوث نہ ہونے کے متعلق بنان سے متفق نہیں ہوا جا سکتا۔ نکھوری نے کہا انکی مانگ ہے مانگے کی جانچ سپریم کورٹ کے جج کے نگرانی میں سی بی آئی سے کرائی جائے تاکہ وی آئی پی کا پتہ چلے ۔ہمارا بھی خیال ہے اب یہ معاملہ اتنا طول پکڑ چکا ہے کہ اصلیت کا پتہ چلنا چاہئے اگر سرکار اتنی غیر جانب دار ہے تو کیوں نہیں سی بی آئی جانچ کروا لیتی تاکہ دودھ کا دودھ پانی پانی کا پانی صاف نظر آئے ۔ادھر پشکر دھامی سرکار پر یہ الزام بھی نہیں لگے گاکہ وہ اس مبینہ شخص کو قصور وار کو بچانے کیلئے معاملے کی لپا پوتی کر رہی ہے ۔ انل نریندر

06 جنوری 2026

کیا شاہ رخ خاں غدار ہے؟

ایسا کہنا کچھ بی جے پی کے لیڈروں کا ہے کیوں کہ شاہ رخ خاں کی آئی پی ایل ٹیم کولکاتہ نائیٹ رائیڈر ٹیم میں بنگلہ دیش کے تیز گیندباز مستفیظ الرحمان کو اپنی ٹیم کے لئے خرید لیا ہے ۔مستفیظ الرحمان کو کولکاتہ نائٹ رائیڈرس نے آئی پی ایل 2026 کے لئے نو کروڑ سے زیادہ میں خریدا تھا ۔بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خاں اس ٹیم کے مالکان میں سے ایک ہیں ۔اب خبر آئی ہے کہ بی سی سی آئی نے کولکاتہ نائیٹ رائیڈرس کو بنگلہ دیش کے تیز گیندباز رحمان کو ٹیم سے ریلیز کرنے کے لئے کہا ہے ۔بی سی سی آئی کے سکریٹری دیو جیت سیکیا نے اے این آئی کو بتایا کہ یہ فیصلہ حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے لیا گیا ہے ۔بورڈ نے کے کے آر کو رحما کے بدلے کسی دوسرے کھلاڑی کو رکھنے کی اجازت دے گا ۔اس سے پہلے بھارت کے ساؤتھ کٹر پسند تنظیم اور کچھ بی جے پی لیڈروں نے مستفیظ الرحمان کو ٹیم میں شامل کرنے پر شاہ رخ خاں پر جم کر نکتہ چینی کی تھی ۔رام بھدر چاریہ نے شاہ رخ خاں پر تنقید کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے کہا تھا کے کے آر میں مستفیظ الرحمان کو شامل کرنا افسوس ناک ہے اس سے پہلے دیو کی نند ن ٹھاکر نے بھی بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہو رہے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے کے کے آر کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا بے رحمانہ طریقہ پر قتل کیاجارہا ہے، ان کے گھر جلائے جارہے ہیں ۔ان کی ماں اور بیٹیوں سے آبرو ریزی ہورہی ہے ۔اس طرح کی بے رحمانہ قتل کی وارداتوں کو دیکھنے کے بعد کوئی اتنا بے رحم کیسے ہوسکتا ہے کہ ا س دیش کے کسی کرکٹر کو اپنی ٹیم میں شامل کرے؟ وہیں بی جے پی نیتا اور یوپی میں سردھنا کے سابق ممبر اسمبلی سنگیت سنگھ سوم نے مستفیظ الرحمان کو کے کے آر میں شامل کرنے کے لئے شاہ رخ خاں کو غدار تک کہہ دیا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ شاہ رخ خاں کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔سنگیت سوم نے میرٹھ میں کہا تھا ایک طرف بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا قتل عام ہورہا ہے ۔تو دوسری طرف آئی پی ایل نیلامی میں کرکٹروں کو خریداجارہاتھا۔مگر بنگلہ دیش میں بھارت مخالف نعرے لگ رہے ہیں۔وزیراعظم کو گالیاں دی جارہی ہیں مگر شاہ رخ خاں جیسے غدار 9 کروڑ خرچ کرکے ان کی مددکررہے ہیں ۔ان کھلاڑیوں کی اپوزیشن لیڈروں او رمسلم مذہبی تنظیموں نے بڑی مذمت کی ہے ۔کانگریس نیتا سپریہ شرینیت نے کہا کہ سب سے پہلے میں یہ پوچھا چاہتی ہوں کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو اس پول میں کس نے ڈالا؟ یہ سوال بی سی سی آئی کے لئے ہے ۔وزیرداخلہ کے بیٹے جے شاہ کو جواب دینا چاہیے کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو اس پول میں کس نے ڈالا۔جہاں آئی پی ایل کھلاڑیوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے جہاں کھلاڑیوں کی نیلامی ہوتی ہے ۔کانگریس ایم پی من ی کپن ٹیگور نے شاہ رخ خاں پر ہوئے حملوں کو بھارت کی تہذیبی وراثت پر حملہ بتایا۔جمعرات کو اپنے ایکس پر لکھا سپر اسٹار شاہ رخ خاں کو غدار کہنا بھارت کی کثیر تہذیب پر حملہ ہے ۔نفرت اور قومیت کی تشریح نہیں ہوسکتی ۔آر ایس ایس کو سماج میں زہر گھولنا بند کرنا چاہیے ۔امام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد رشیدی نے کہا کہ احتجاج مظاہرے اکثر صرف اس لئے ہوتے ہیں کیوں کہ ان میں مسلم نام شامل ہوتے ہیں ۔شاہ رخ خاں ایک مسلم ہیں ۔مستفیظ الرحمان بھی مسلم ہیں اس لئے احتجاج ہونا لازمی ہے ۔کیوں کہ مسلمانوں کے تئیں نفرت سامنے آتی ہے ۔ (انل نریندر)

04 جنوری 2026

ظہران ممدانی نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا!



ظہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو نیویارک کے میئر کے طور پر عہدےکا حلف لیا۔وہ شہر کے 111 ویں میئر اور گزشتہ 100 سال میں سب سے کم عمر کے میئر بن کر تاریخ رقم کر چکے ہیں ۔شہر کے 111 ویں میئر کے طور پر ظہران ممدانی نے ایک پرانے سب وے میں منعقدہ پرائیویٹ تقریب میں قرآن کو ہاتھ میں لے کر حلف لیا ۔کوئنز صوبہ کے نمائند ہ رہ چکے 34 سالہ ممدانی اب امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے میئر بننے والے جنوبی ایشیائی نژاد اور مسلم فرقہ کے پہلے شخص ہو گئے ہیں ۔ظہران ممدانی نے کبھی اپنے مسلم ہونے کو چھپایا نہیں بلکہ کھل کر کہا میں ایک مسلمان ہوں ۔34 سال کے ممدانی 100 سال سے بھی زیادہ عرصہ کے بعد نیویارک کے سب سے نوجوان و پہلے مسلم اور ساؤتھ ایشیائی نژاد کے میئر بنے ہیں ۔میئر عہد ے کے لئے اہم مقابلہ ظہران ممدانی اور اینڈریو کیومو کے درمیان تھا ۔ان کے چناؤ نے پروگریسو لوگوں کے لئے ایک بڑی تبدیلی لائی ۔جو شہر کے سیاسی مرکز میں تبدیلی کا اشارہ تھا ۔چناؤ جیتنے کے بعد ممدانی نے آدھے گھنٹے کی تقریر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نکتہ چینی کی تھی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چناؤ سے پہلے ممدانی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی تھی انہوں نے فری بس سروس ،یونیورسل چائلڈ کیئر اور بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے سمیت اپنے سبھی چناوی وعدوں کو پورا کرنے کی بات کہی ہے ۔ظہران ممدانی کی پیدائش 1991 میں یوگانڈا کی راجدھانی کمپالامیں ہوئی تھی ۔ان کے والد نے انہیں ایک انقلابی اور گھانا کے پہلے وزیراعظم کوامے اینکروما کے نام پر مڈل نام کوامے دیا تھا ۔ممدانی بتادیں کہ مشہور ہندوستانی -امریکی فلم ڈائرکٹر میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے جانے مانے پروفیسر محمود ممدانی کے بیٹے ہیں۔ممدانی نے کہا تھا ان کے حلف برداری نیویارک کے لئے ایک نئے دور کی شروعات کی علامت ہوگی اس سے نیویارک کے ورکنگ طبقہ کو ضروری طور سے مرکز میں رکھا جائے گا ۔ظہران ممدانی نے دہلی کے جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر اور 2020 سے جیل میں بند عمر خالد کو ایک خط لکھ کر کہا کہ میں آپ کو یاد کررہا ہوں ۔اور آپ کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔ممدانی کے اس خط کی بھارت سرکار نے نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمارے انصاف نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔جو کہ انہیں کوئی اختیار نہیں ہے ۔ممدانی کی جیت معمولی جیت نہیں مانی جاسکتی ۔نیویارک کھرب پتیوں کا شہر ہے جہاں یہودی لابی بہت طاقتور ہے ۔تمام صنعتکاروں کی مخالفت اور یہودی لابی کے احتجاج کے باوجود ممدانی کی جیت تاریخی مانی جائے گی ۔ایک وقت تو خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممدانی کے خلاف کمپین میں اتر گئے تھے اور یہاں تک کہا تھا کہ دیکھتا ہوں یہ کیسے جیتتا ہے ؟ ٹرمپ نے انہیں کمیونسٹ تک کہہ دیا ہے ۔ممدانی کو داد دینی ہوگی کہ انہوں نے نہ تو اپنے نژادکو چھپایا اور نہ ہی اپنے مذہب کو ان کی جیت سے امریکہ کے اندر سیاسی تجزیہ بدلنے کا اندیشہ جتایا جارہا ہے ۔ان کے انقلابی وعدے جو کچھ کچھ عام آدمی پارٹی کے نعروں سے ملتے ہیں کیا رنگ لاتے ہیں ۔دیکھنا ہوگا یہ بھی دیکھنے لائق ہوگا کہ اب جب ممدانی نیویارک جیسے دنیا کے سب سے طاقتور شہر کے میئر بن چکے ہیں ۔صدر ٹرمپ ان کے ساتھ کونسا رویہ اپناتے ہیں ؟ ہم ظہران ممدانی کو ان کی غیر متوقع جیت پر مبارک باد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر کھرے اتریں گے اور اپنے حمایتیوں کو مایوس نہیں کریں گے ۔لیکن راستہ آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کانٹوں بھرا راستہ چنا ہے ۔
(انل نریندر)


02 جنوری 2026

2025 کے دو واقعات جو ہمیشہ یاد رہیں گے!

2026آگیا ہے ۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ یہ سال پچھلے سال سے ہر لحاظ سے بہتر ثابت ہو ۔2025 بدقسمتی سے اگر اسے حادثوں کا سال کہیں تو شاید غلط نہ ہوگا ۔2025 کا سال بھارت کے لئے جاسوسی بھرا رہا ۔2025 میں بھارت میں بڑے پانچ واقعات ہوئے جوشہریوں کے ذہن میں ہمیشہ کے لئے ذہن نشین ہوگئے جس میں پہلگام آتنکی واردات،پریاگ راج مہاکمبھ بھگدڑ، احمد آباد جہاز حادثہ ،نئی دہلی ریلوے اسٹیش اور دہلی آتنکی حملہ شامل ہیں ۔22 اپریل 2025 بھارت کےلئے کبھی نہ بھولنے والی تاریخ ہے اس دن جموں وکشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا ۔اس میں 26 بے قصور لوگوں کی موت ہو گئی تھی ۔اس حملے کی ذمہ داری لشکر طیبہ کی ایک تنظیم نے لی تھی ۔منگلوار کے دن وادی میں آتنکیوں نے یہ بزدلانہ حرکت سے منی سوئزرلینڈ کہا جانے والایہ مقام خطرناک حملہ کیا گیا ۔وہیں دنیا کا سب سے بڑا دھارمک میلا پریاگ راج مہا کمبھ ویسے تو کامیاب رہا ۔لیکن 29 جنوری 2025 کو جو وہاں بھگدڑ مچی اس سے ایک بدنما داغ لگ گیا جس میں قریب 40 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔یہ حادثہ مونی اماوسیہ کے دن ابھرت اسنان کے دوران ہوئے ۔11 فروری 2025 کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر مچی بھگدڑ میں 18 لوگوں کی موت ہو گئی تھی یہ لوگ پریاگ راج مہا کمبھ جانے کے لئے اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کررہے تھے لیکن ٹرین کا پلیٹ فارم بدلنے کے چلتے یہ بھگدڑ مچ گئی تھی ۔اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 13 اور 14 پر سنیچر کو لیٹ ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی جب مسافروں کے درمیان پریاگ راج جارہی دونوں ٹرینوں کے منسوخ ہونے کی افواہ پھیل گئی تھی ۔12 جون 2025 یہ تاریخ بھارت کو کبھی نہ بھولنے والی ڈیٹ ہے ۔اس دن احمد آباد سے لندن جارہی پرواز ایئر انڈیا کے اڑان بھرنے کے محض 30 سکنڈ بعد کریش ہوگیا ۔اس بوئنگ جہاز 783 ڈریم لائنر میں پائلٹ سمیت 242 لوگ سوار تھے جس میں 241 مارے گئے تھے ۔صرف ایک مسافر بچا تھا اس طیارہ حادثہ میں بی جے پی کے سینئرلیڈر اور گجرات کے سابق وزیراعلیٰ وجے روپانی کی بھی موت ہو گئی تھی ۔ہندوستانی تاریخ کی سب سے بڑی جہازی حادثہ میں سے ایک مانی جارہی ہے۔ اس واقعہ نے ہر کسی کو غمزدہ کر دیا ۔آخر میں اس فہرست میں دہلی کے لال قلعہ آتنکی حملہ آتا ہے ۔ویسے تو پورے دیش میں اور کئی حادثہ ہوئے میں نے صر ف کچھ اہم حادثوں کا ذکر کیا ہے ۔لال قلعہ دھماکہ دس نومبر 2025 کو میٹر واسٹیشن کے پاس ہوا تھا ۔کیوں کہ ریڈ لائٹ پر ایک سفید رنگ کی ٹوٹی ہوئی کار میں دھماکہ ہونے سے 12 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے ۔چھان بین کے بعد سامنے آیا ہنڈئی کار آئی ۔20 چلانے والاڈرائیور شخص محمد عمر عرف عمر النبی تھا ۔اس کے بعد اس کے تار الفلاح یونیورسٹی سے جڑے ۔ڈاکٹروں کے ایک نہایت خطرناک آتنکی نیٹورک کا پردہ فاش ہوا ابھی بھی اس کی جانچ جاری ہے ۔فرید آباد میں گرفتار شخص مزمل کے گھر سے 2900 کلو دھماکو سامان برآمد ہوا تھا ۔کل ملا کر 2025 نہ صرف بھارت کے لئے ہی حادثوں کا سال رہا بلکہ پوری دنیا میں بدامنی اور تشدد کا سال رہا ۔2026 بہتر ثابت ہو ہم اس کی امید اور پرارتھنا کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

30 دسمبر 2025

اناؤ متاثرہ کو انصاف دلانے کا سوال!


یہ انتہائی دکھ اور تشویش کاموضوع ہیں کہ قانونی نکتوں کا فائدہ اٹھا کر آبرو ریزی جیسے گھناونے جرائم کےقصور وروں کو بھی رعایت دے دی جاتی ہے ۔غور طلب ہے۔یوپی کے اناؤ میں نابالغ لڑکی سے آبرو ریزی کے معاملے میں سال 2019 میں سابق بھاجپا ممبر اسمبلی لکدیپ سنگھ سینگر کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی ۔عدالت نے آئی پی سی کے دفعہ کے تحت آبرو ریزی کے معاملے اور بچے بچیوں سے جنسی استحصال قانون پاسکوکے تحت سزا دی تھی۔تب یہ واردات دیش بھر میں بھاری تشویش اور ناراضگی کا سبب بنی تھی۔اگر اب دہلی ہائی کورٹ نے سنیگر کی سزا کو معطل کرنے کا حکم دیا لیکن معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور اس نے عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی۔ سینگر کو عمر قید قصوروار ثابت ہونے کے بعد نچلی عدالت نے حکم سنا یا تھا اور صاف کہا تھا سینگر کو زندگی بھر جیل میں رہنا ہوگا۔ دہلی ہائی کورٹ نے2017 کےاس ناؤ بدفعلی معاملے میں بھاجپا سے اخراج نیتا کلدیپ سنگھ سینگر کو جیل کی سزا معطل کر کے ضمانت دے دی تھی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف جنتا سڑکوں پر اتر آئی اور انصاف کی اپیل کرنے پر مجبور ہو گی۔ متاثرہ کے خاندان اور دیگر خاتون ورکروں نے جمعہ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے باہر سینگر کی ضمانت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنی ناراضگی ظاہر کی۔جنتا کے احتجاج کر دیکھتے ہوئے سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو ہی سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت عرضی دائر کی ۔ادھر وکیل انجلی پٹیل اور پوجا شلپکار نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے جس میں دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے کی مانگ کی گئی دلیل دی گئی کی ہائی کورٹ نے اس سچائی پر غور کئے بے غیر حکم پاس کر دیا کی ٹرائل کورٹ نے کہا تھا کہ سینگر کو اپنی باقی زندگی جیل رہنا چاہئے۔ہائی کورٹ نے سینگر کو ضمانت کی سزا معطل میں قانون اور دلیل میں سنگین خامی ہے جب کہ سنگین کرائم میں اسکی شمولیت کو دھیان نہیں دیا گیا۔ در اصل اس واردات کی بعد متاثرہ کو جن حلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کو زندگی بھر جس طرح کے خطرات تھے وہ بے حد غیر متوقع تھے مگر اس سے صاف تھاکہ سنگین جرائم کے بعد ایک اونچے رسوخ والا ملزم متاثرہ کو خاموش کرنے کیلئے کس حد تک جا سکتا ہے ۔اس دوران متاثرہ کے والد کی جان چلی گئی ایک ٹرک نے اس کار کو ٹکر مار دی جس میںوہ گھر والوں کے ساتھ جارہی تھی۔اس واردات میں متاثرہ اور اس کا وکیل بری طرح زخمی ہو گئے جب کہ اسکی دو خالاؤں کی موت ہو گئی۔سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پورے معاملے میں متاثرہ کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔جب کسی رسوخ والے کرمنل کی سزا کو لیکررعایت برتنے کی خبر آتی ہے تب یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر قانون کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے؟کہا جاتا ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہئے بلکہ انصاف ہوتے ہوئے نظر بھی آنا چاہئے امید ہے کہ سپریم کورٹ میں متاثرہ اور اسکے خاندان کو سینگر کی رہائی کے حکم پر روک لگاکر ایک طرح سے انصاف دلایا ہے۔
انل نریندر

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...