ہزاروںایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں ٹرمپ کے ہاتھ!

ایران میں مہنگائی کےخلاف 13 دنوں سے چل رہے مظاہرے کے درمیان جمعرات کی رات حالات اور بے قابو ہو گئے ۔ایک نیوز رپورٹ کے مطابق دیش بھر میں 100 سے زیادہ شہروں میں مظاہرہ پھیل چکا ہے ۔مظاہرین نے سڑکیں بلاک کیں ،آگ لگائی ۔لوگوں نے خمینی کی موت اور اسلامی رپبلک کا خاتمہ ہوا۔جیسے نعرے لگا رہے تھے ۔کچھ جگہوں پر مظاہرین کراؤن پرنس رضا پہلوی کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے، وہ نعرہ لگا رہے تھے یہ آخری لڑائی ہے ۔شاہ پہلوی لوٹیں گے ۔امریکن ہیومن رائٹ ایجنسی کے مطابق ،مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد میں اب تک 200 لوگ مارے گئے ہیں جن میں 8 بچے شامل ہیں۔ایک پولیس افسر کو بھی چاقو مار کر موت کی نیند سلادیا گیا ۔جبکہ 2270 سے زیادہ لوگوں حراست میں لیا گیا ہے ۔ایران میں مہنگائی کے خلاف عام لوگوں کے احتجاجی مظاہرے آہستہ آہستہ تہران بنام واشنگٹن ہوتے جارہے ہیں ۔ایرانی میڈیا کھلے عام کہہ رہا ہے کہ مظاہرین کو سی آئی اے اور موساد ہوا و مدد دے رہا ہے۔مظاہرے کی آڑ میں واشنگٹن اور تل ابیب دراصل تبدیلی اقتدار کروانا چاہتا ہے۔وہ خامنہ ای کو بھگانا چاہتا ہے اور ایران کی ملا شاہی اقتدار کو اکھاڑ پھینک شاہ پہلوی کو اقتدار پربٹھانا چاہتا ہے ۔اس کے پیچھے ایران کا تیل اور دیگر قیمتی معدنی چیزیں ٹرمپ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانی عوام مہنگائی،بے روزگار ی سے پریشان ہے اور اس لئے سڑکوں پر اتر رہی ہے ۔لیکن اس ناراضگی کا فائدہ ٹرمپ اٹھانا چاہتا ہے اور اس بہانے تبدیلی اقتدار کرنا چاہتا ہے۔لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا ۔ایرانی ایک بہت بہادر اور لڑاکو قوم ہے وہ اپنی سرکار سے ناراض تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ اپنے دیش کی کمان ٹرمپ کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہیں گے ۔مظاہروں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کو صاف اور سخت پیغام دیا کہ اسلامی جمہوریہ کسی بھی حالت میں پیچھے نہیں ہٹے گا ۔سرکاری ٹی وی پر نشر تقریر میں 86 سالہ خامنہ ای نے مظاہرین کو غیر ملکی حمایتی عناصر قرار دیا اور کہا کہ ان کا مقصد ایران کو کمزور کرنا ہے ۔خامنہ ای نے خاص طور سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی حملہ بولا۔انہوں نے کہا امریکہ کے صدر کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں ۔دراصل ایران کا مسئلہ بہت حد تک امریکہ اور مغربی ملکوں نے پیدا کیا ہوا ہے ۔برسوں سے ایران کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس وقت نیوکلیائی ہتھیاروں کے پروگرام پر روک نہ لگانے کے الزام میں امریکہ اور یوروپ نے ایران پر کئی طرح کی پابندیاں لاد رکھی ہیں ۔کچھ ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت آج ڈوبنے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔دہائیوں کی ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کو کبھی سنبھلنے کا موقع نہیں ملا ۔تازہ احتجاجی مظاہرہ دیش کے زیادہ تر حصوں میں پھیل چکا ہے۔انٹرنیٹ بند ہے اور دیگر شہریوں کی حفاظت کو لے کر پوری دنیا میں تشویش ہے لیکن یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے اور ایک مختار دیش کے معاملے میں امریکہ یا اور کسی دیش کو کودنے کا بھی اختیار نہیں ہے ۔امریکہ اور اسرائیل آئے دن ایران پر فوجی کاروائی کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ایران کی عوام کو ہی آخری فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘