ظہران ممدانی نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا!



ظہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو نیویارک کے میئر کے طور پر عہدےکا حلف لیا۔وہ شہر کے 111 ویں میئر اور گزشتہ 100 سال میں سب سے کم عمر کے میئر بن کر تاریخ رقم کر چکے ہیں ۔شہر کے 111 ویں میئر کے طور پر ظہران ممدانی نے ایک پرانے سب وے میں منعقدہ پرائیویٹ تقریب میں قرآن کو ہاتھ میں لے کر حلف لیا ۔کوئنز صوبہ کے نمائند ہ رہ چکے 34 سالہ ممدانی اب امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے میئر بننے والے جنوبی ایشیائی نژاد اور مسلم فرقہ کے پہلے شخص ہو گئے ہیں ۔ظہران ممدانی نے کبھی اپنے مسلم ہونے کو چھپایا نہیں بلکہ کھل کر کہا میں ایک مسلمان ہوں ۔34 سال کے ممدانی 100 سال سے بھی زیادہ عرصہ کے بعد نیویارک کے سب سے نوجوان و پہلے مسلم اور ساؤتھ ایشیائی نژاد کے میئر بنے ہیں ۔میئر عہد ے کے لئے اہم مقابلہ ظہران ممدانی اور اینڈریو کیومو کے درمیان تھا ۔ان کے چناؤ نے پروگریسو لوگوں کے لئے ایک بڑی تبدیلی لائی ۔جو شہر کے سیاسی مرکز میں تبدیلی کا اشارہ تھا ۔چناؤ جیتنے کے بعد ممدانی نے آدھے گھنٹے کی تقریر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نکتہ چینی کی تھی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چناؤ سے پہلے ممدانی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی تھی انہوں نے فری بس سروس ،یونیورسل چائلڈ کیئر اور بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے سمیت اپنے سبھی چناوی وعدوں کو پورا کرنے کی بات کہی ہے ۔ظہران ممدانی کی پیدائش 1991 میں یوگانڈا کی راجدھانی کمپالامیں ہوئی تھی ۔ان کے والد نے انہیں ایک انقلابی اور گھانا کے پہلے وزیراعظم کوامے اینکروما کے نام پر مڈل نام کوامے دیا تھا ۔ممدانی بتادیں کہ مشہور ہندوستانی -امریکی فلم ڈائرکٹر میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے جانے مانے پروفیسر محمود ممدانی کے بیٹے ہیں۔ممدانی نے کہا تھا ان کے حلف برداری نیویارک کے لئے ایک نئے دور کی شروعات کی علامت ہوگی اس سے نیویارک کے ورکنگ طبقہ کو ضروری طور سے مرکز میں رکھا جائے گا ۔ظہران ممدانی نے دہلی کے جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر اور 2020 سے جیل میں بند عمر خالد کو ایک خط لکھ کر کہا کہ میں آپ کو یاد کررہا ہوں ۔اور آپ کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔ممدانی کے اس خط کی بھارت سرکار نے نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمارے انصاف نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔جو کہ انہیں کوئی اختیار نہیں ہے ۔ممدانی کی جیت معمولی جیت نہیں مانی جاسکتی ۔نیویارک کھرب پتیوں کا شہر ہے جہاں یہودی لابی بہت طاقتور ہے ۔تمام صنعتکاروں کی مخالفت اور یہودی لابی کے احتجاج کے باوجود ممدانی کی جیت تاریخی مانی جائے گی ۔ایک وقت تو خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممدانی کے خلاف کمپین میں اتر گئے تھے اور یہاں تک کہا تھا کہ دیکھتا ہوں یہ کیسے جیتتا ہے ؟ ٹرمپ نے انہیں کمیونسٹ تک کہہ دیا ہے ۔ممدانی کو داد دینی ہوگی کہ انہوں نے نہ تو اپنے نژادکو چھپایا اور نہ ہی اپنے مذہب کو ان کی جیت سے امریکہ کے اندر سیاسی تجزیہ بدلنے کا اندیشہ جتایا جارہا ہے ۔ان کے انقلابی وعدے جو کچھ کچھ عام آدمی پارٹی کے نعروں سے ملتے ہیں کیا رنگ لاتے ہیں ۔دیکھنا ہوگا یہ بھی دیکھنے لائق ہوگا کہ اب جب ممدانی نیویارک جیسے دنیا کے سب سے طاقتور شہر کے میئر بن چکے ہیں ۔صدر ٹرمپ ان کے ساتھ کونسا رویہ اپناتے ہیں ؟ ہم ظہران ممدانی کو ان کی غیر متوقع جیت پر مبارک باد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر کھرے اتریں گے اور اپنے حمایتیوں کو مایوس نہیں کریں گے ۔لیکن راستہ آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کانٹوں بھرا راستہ چنا ہے ۔
(انل نریندر)


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘