انکیتا بھنڈاری کیس کا سچ سامنے آنا چاہئے!
انکیتا بھنڈاری ہتیا کانڈ میں وی آئی پی کا نام سامنے آنے کے بعد انصاف کی مانگ نے نئے سرے سے طول پکڑ لیا ہے۔سماجی انجمنوں اور کانگریس نے اتوار کو عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کو لیکر بڑے سطح پر مظاہرہ کیا ۔ورکروں نے دہرادون میں سی ایم ہاؤس تک جانے کی کوشش کی ۔ادھر دہلی کے جنتر منتر پر بھی انصاف کی مانگ پر مظاہرے کیلئے بڑی تعداد میں لوک جمع ہوئے ۔اس مسئلہ کو لیکر 11جنوری کو اتراکھنڈ بند کا اعلان کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں مشعل جلوس اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے بتا دیں انکیتا بھنڈاری کیس کیا ہے ؟انکیتا بھنڈاری ونتارا روایزورٹ میں استقبالیہ کی حیسیت سے کام کرتی تھی ۔18 ستمبر 2022 کو وہ اچانک لاپتہ ہو گئی۔کچھ دنوں بعد اس کی لاش ندی سے ملی روایزورٹ کی مالک پلکت آریہ 2 ملازمین کو گرفتار کر لیا گیاکورٹ میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں قتل ،ثبوت مٹانے و دیگر سنگین الزامات کے تحت سزا ملی۔کورٹ نے انکیتا کے پریوار کو معاوضہ دینے کا حکم دیا۔حال ہی میں انکیتا کیس نے شوشل میڈیا اور کچھ ویڈیو آڈیو کلپ کی وجہ سے وی آئی پی کا نام سرخیوں میں آیا حالانکہ پولس نےایسے کسی بھی شخص کے رول سے انکار کیا ہے۔ارملا سناور نام کی عورت نے یہ کلپ شیئر کئے تھے ۔جس میں ایک شخص کو گٹو نام کا بتایا گیا۔ اس کے بعد بڑے نیتا یعنی وی آئی پی کا نام سامنے آیا۔الزام لگا کی وی آئی پی بی جے پی کا ایک سینئر لیڈر ہے اتراکھنڈ مہیلا منچ کے بلاوے پر 4 جنوری کو دہرادون میں زبردست مظاہرہ کیا گیا ۔احتجاج کو اتراکھنڈ کرانتی دل ،کانگریس اور کئی تنظیموں حمایت دےرہی ہے کنر بھی انصاف کےلئے سامنے آئے ہیں۔ اس پورے معاملے میںسی بی آئی جانچ ،وی آئی پی کا نام اور اتنے اندیشے بڑھ رہے ہیں انکی جانچ کرونے کو لیکر اتراکھنڈ مہلامنچ کے جانب سے کئے گئے مظاہرے میں ہزاروں لڑکوں نے بھی حصہ لیا۔دہرہ دون میں اس مظاہرے کے دوران پولس و کانگریس ورکروں کے دوران زبردشت ٹکراؤ ہوا وہی بھاجپا نے ضلع ہیڈ کواٹر میں انکیتا بھنڈاری معاملے کولیکر کانگریس پر جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا کانگریس کے پتلے جلائے گئے۔کانگریس اتراکھنڈ کرانتی دل مہلا منچ لیفٹ پارٹیوں اور سماجی تنظیموں کے ورکر پریڈ گراؤنڈ میں جمع ہوئے اور وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے جانب بڑتے ہوئے قتل معاملے میں سفید پوس کے معاملے کا پتہ لگنے کے بعد اس کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی اپنی مانگ کو دہرایااس احتجاجی مارچ میں شامل کمنسٹ پارٹی(مالے)کے ریاستی سکریٹری اندریش مخوری نے کہا قتل کانڈ کی جانچ میں لگے پولس افسر شیکھر سچال کے زریعے میں کسی وی آئی پی کے ملوث نہ ہونے کے متعلق بنان سے متفق نہیں ہوا جا سکتا۔ نکھوری نے کہا انکی مانگ ہے مانگے کی جانچ سپریم کورٹ کے جج کے نگرانی میں سی بی آئی سے کرائی جائے تاکہ وی آئی پی کا پتہ چلے ۔ہمارا بھی خیال ہے اب یہ معاملہ اتنا طول پکڑ چکا ہے کہ اصلیت کا پتہ چلنا چاہئے اگر سرکار اتنی غیر جانب دار ہے تو کیوں نہیں سی بی آئی جانچ کروا لیتی تاکہ دودھ کا دودھ پانی پانی کا پانی صاف نظر آئے ۔ادھر پشکر دھامی سرکار پر یہ الزام بھی نہیں لگے گاکہ وہ اس مبینہ شخص کو قصور وار کو بچانے کیلئے معاملے کی لپا پوتی کر رہی ہے ۔
انل نریندر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں