مادورو کو اچانک اقتدار سے ہٹایا تو کیا ہوگا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ مادورو کو پکڑنے کیلئے فوجی کاروائی کومجازکرنے سے ٹھیک پہلے امریکہ کی خفیہ سروس، سی آئی اے نے ایک خفیہ تجزیہ پورا کیا جس میں یہ جانچ کی گئی کہ مادورو کو اچانک اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے تو وینزویلا کی اندورونی صورت حال کیسی ہوگی؟نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کی مطابق ٹرمپ کے ذریعہ سیدھی کاروائی کے خطرات اور نتائج کا تجزیہ کرنے کے دوران سینئر انتظامی حکام نے خفیہ تجزیہ جائزہ کی درخواست کی تھی ۔رپورٹ میں امریکی قیادت میں تختہ پلٹ کے امکان پر کم اور مادورو کے لئے باقائدہ اخراج پس منظروں پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی تھی،جس میں بات چیت کے ذریعے سےسمجھوتے مسلسل امریکی دباؤ اور عبوری قدم کی شکل میں طاقت استعمال شامل تھے۔خفیہ تجزیہ سے واقف لوگوں نے بتایا کہ سی آئی نے مادورو کو عہدہ چھوڑنے کیلئے ایک ہی امکانی نتیجہ کا تصور کرنے کے بجائے کئی متبادلوںپر بھی غور کیا ان میں بات چیت کے ذریعہ اقتدارمنتقلی شامل تھی،جس میں مادورو مرضی سے عہدہ چھوڑ تے، پابندیوںاور پراپرٹی ضبطی کے ذریعے سے دباؤ بڑھا نااوردیگر متبادل فیل ہونے پر زبردستی اخراج کا امکان شامل تھا۔اس تجزیہ کا مقصد ٹرمپ کے ذریعے وینزویلا کے ایک انتہائی محفوظ فوجی ٹھکانے کے خلاف بڑی خطرے والی مہم کی منظوری دینے پر غور کرتے وقت اعلی سطحی فیصلہ لینے میںمارگ درشن کرنا تھا۔رپورٹ سے واقف حکام نے کہا کہ اس نے صدر کے فائنل فیصلے کو متاثر کرنے میں اہم رول نبھایا۔سی آئی اے کی نظر میں سب سے ممکنہ جانشین کون تھا ؟اس تجزیہ کے سب سے اہم ترین نتیجوں میں ایک جانشین پر اس کانقطہ نظرتھا،نائب صدر ڈیلسی روڈرگز،روڈرگز کو اس شخص کی شکل میں پہچانہ جو مادورو کو ہٹائے جانے کی صورت میں فورا اقتدار سنبھالنے کےلئے موزوں تھی حالانکہ کچھ سانسدوں اوروینزویلا کے شہریوں نے اپوزیشن لیڈرماریہ کورینہ چمانڈو کو امکانی متابادل لیڈر کی شکل میں دیکھا ہے،لیکن خفیہ جائزوں نے اس بات پر شبہ جتایا ہے کہ کیا انکے پاس مادورو کے بعدکی حالت میں جلدی سے اقتدار سنبھالنے کیلئے تنظیمی ڈھانچہ یا سیاسی اثر ہے ؟خفیہ معلومات سے واقف حکام کے مطابق، سی آئی اے کو شبہ تھا کہ کیا اپوزیشن عوامی حمایت کو سرکاری اداروں فوج اور سکورٹی سروسزپر موثر کنٹرول میں بدل پائے گا؟یہ تشویش نظریاتی نہیں بلکہ ضروری سچائی تھی:صاف اور با قاعدہ جانشین کے بے غیر مادورو کو ہٹانے سےعدم استحکام کم ہونے کے بجائے اور بڑھ سکتا تھا سی آئی اے کا یہ تجزیہ صحیح ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے۔ وینزویلامیںنہ تو اقتدار تبدیلی ہوئی اور نہ ہی موجودہ سرکار اور شہریوں میں امریکہ کے تئیں حمایت بڑھتی نظر آ رہی ہے نکولس مادورو کو ہٹا دیا لیکن فی الحال انکے جانشین ڈیلسی روڈریگز ویسے ہی باتیں کر رہی ہے جیسے مادورو کرتے تھے۔آگے چل کر بدل جائے تو اور بات ہے ابھی تو وینزویلاکے نگرا صدر ڈیلسی روڈرگزنے کہا ہے کے دیش پر وینزویلاکی سرکار، حکومت کر رہی ہے، نہ کہ کوئی غیر ملکی طاقت۔انہوںنے امریکی صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جنہو ںنے کہا تھاکہ انہیںوینزوئلا تک پوری پہنچ چاہئےروڈرگز کا کہنا تھا یہاں کوئی جنگ نہیں ہےچونکہ ہم جنگ میں نہیں ہیں ہم ایک امن پسند لوگ ہیں ایک طاقتور دیش ہیں جس پر حملہ کیا گیاانکا یہ تبصرہ اس وقت آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وینزویلاکے عبوری افسران 3 سے 5 کروڑبیرل ممنوعہ تیل امریکہ کو ٹرانسفر کریں گے۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں