Translater
25 دسمبر 2025
ایپسٹین فائلوں میں دبے ہیں کئی راز!
امریکی محکمہ انصاف نے نام نہاد فائنانسر اور جنسی کرمنل جیفری ایپسٹین سے جڑے معاملوں کی جانچ سے متعلق 13 ہزار سے زیادہ فائلیں کھول کر رکھ دی ہیں ۔یہ دستاویز اس قانون کے تحت جاری کئے گئےہیں جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے مہینہ دستخط کئے تھے ۔حالانکہ طویل انتظار کے باوجود ان فائلوں سے ابھی تک کوئی چونکانے والے انکشافات نہیں ہو پائے ہیں۔زیادہ تر دستاویزوں کو بھاری شکل سے بلاک کئے گئے ہیں ۔جیفری ایپسٹین کی موت ہو چکی ہے ۔امریکی سینٹ نے ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت جمعہ تک سبھی فائلوں کو پوری طرح منظر عام پر ظاہر کرنا ضروری تھا ۔لیکن اب تک کچھ ہی دستاویز ہی جاری کئے گئے ہیں ۔وہ بھی کئی جگہ کثیر کانٹ چھانٹ کے ساتھ ان دستاویزوں کو پبلک کرنے کے لئے دباؤ بنانے والے سینٹروں نے محکمہ کی کوششوں کو غیر ذمہ دارانہ بتایا ہے وہیں کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ کانٹ چھانٹ سے سازش سے وابستہ دفعات اور مضبوط ہوسکتی ہیں ۔جاری میٹر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوٹو بھی جاری کیا گیا ہے ۔حالانکہ انہیں بچانے کی پوری کوشش کی گئی ہے ۔فائلوں میں ایک فوٹو شامل ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیفری ایپسٹن میلونیا ٹرمپ اور گجلیپ میکس ویلر ایپسٹین کی گرل فرینڈساتھ نظر آرہے ہیں ۔جسٹس محکمہ نے ان فائلوں کے ہٹانے کو لے کر اب تک کوئی صفائی نہیں دی ہے۔جو فائلیں پبلک کی گئی ہیں ان میں امریکہ کے سابق صدر بل گلنٹن ۔ برطانیہ کے شاہی خاندان سے وابستہ اینڈریو ماؤنڈ بیٹن ،وڈسر ،مشہور گلوکار مک جیگر اور مائیکل جیکسن کے نام شامل ہیں ۔حالانکہ ان فائلوں میں کسی کا نام ہونا یا ان کی تصویر ہونا یہ ثابت نہیں کرتاکہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے۔جن لوگوں کے نام ان دستاویزات میں آئے ہیں یا پہلے بھی ایپسٹین سے جڑے معاملوں میں سامنے آئے تھے ،ان میں سے کئی نے کسی بھی طرح کی غلط سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے ۔جاری کی گئی تصاویر میں امریکہ کے سابق صدر بلکلنٹن سوئمنگ پول میں دو عورتوں کے ساتھ تیرتے دکھائی پڑتے ہیں ۔یہ تصویر ہاٹ ٹب کی لگتی ہے ۔1990 کی دہائی اور 2000 کے آغاز کے برسوں میں بل کلنٹن کی جیفری ایپسٹین کے ساتھ کئی مرتبہ تصویریں لی گئی تھیں ۔کلنٹن حالانکہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں ایپسٹین کے جنسی جرائم سے کوئی معلومات نہیں تھی ۔دستاویزوں کے مطابق جیفری ایپسٹین نے مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ایک 14 سال کی لڑکی سے کرائی تھی ۔امریکی محکمہ انصاف نے جو فائلیں جاری کی ہیں ان میں صدر ٹرمپ کا بھی ذکر ہے ۔اسپتال کے کاغذوں کے مطابق یہ ملاقات فلوڈا کے یور ے لگے ریزورٹ میں1990 کی دہائی بتائی جاتی ہیں ۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین نے ٹرمپ کو کہنی مار کر لڑکی کی جانب اشارہ کیا اور مذاقیہ انداز میں پوچھا کہ اچھی ہے نا ؟ ٹرمپ مسکرائے اور رضامندی سے سر ہلایا۔دستاویز کے مطابق اسے لے کر دونوں ہنسے تھے اور لڑکی کو تھوڑی پریشانی محسوس ہوئی لیکن اس وقت وہ اتنی چھوٹی تھی کہ وہ اس ہنسی کی وجہ کو سمجھ نہیں پائی۔ملاقاتی کا الزام ہے کہ ایپسٹین نے کئی برسوں تک اسے بہکایا اور اس کی جنسی استحصال کیا ۔حالانکہ عدالت میں دائر کاغذوں میں لڑکی نے ٹرمپ پر کوئی الزام نہیں لگایا ۔ان دستاویزوں پر رائے زنی کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینڈی گیل جیکسن نے بیان دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی تاریخ سب سے صاف انتظامیہ کی ہے ۔انہوں نے کہا ہزاروں صفحات کے دستاویز جاری کئے گئے ہیں ۔ہاؤس کی اویئر کمیٹی کی جانچ میں تعاون دیا گیا ہے۔ادھر ڈپٹی اٹارنک جنرل ٹارڈ بلانش نے کہا ہے کہ کئی لاکھ صفحات کی بھی اتنی جانچ چل رہی ہے یہ دستاویز ابھی پبلک نہیں کئے گئے ہیں ۔وائٹ ہاؤس اویئر کمیٹی کے ڈیموکریٹک ممبران نے ٹرمپ سے جڑی تصویر کے غائب ہونے پر سوال اٹھائے ہیںاور پوچھاکہ کیا چھپایاجارہا ہے ۔ابھی تک کھیل شروع ہوا ہے آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے ؟
(انل نریندر)
23 دسمبر 2025
پھر اٹھی بنگلہ دیش میں شورش کی لہر!
بنگلہ دیش میں یوتھ لیڈر شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ایک بار پھر شورش اور تشدد کی لہر دوڑ گئی ہے ۔15 ماہ بعد پھر سے تشدد بھڑک اٹھا ہے ۔بھارت مخالف طالب علم لیڈر شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد کٹر پسندوں نے جمعرات کو دیر رات مٹوگرام میں ہندوستانی ہائی کمیشن پر حملہ کر دیا ۔یہاں ہائی کمشنر کی رہائش گاہ بھی ہے ۔بلوائیوں نے جم کر پتھراؤ کیا اور یمن سنگھ کے ملوکا میں بلوائیوں نے توہین رسالت کا الزام لگا کر ہندو لڑکے دیپو چندر داس کو پیٹ پیٹ کر مارڈالااور پیڑ پر لٹکا کر لاش کو جلا دیا۔بتادیں کٹر پسند ہادی نے پچھلے سال اگست میں طلباء تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ہادی حال ہی میں جماعت اسلامی سے جڑے اقبال منچ میں شامل ہوگیا تھا ۔وہ 12 فروری کو ہونے والے چناؤ میں ڈھاکہ -8 سیٹ سے اتھلاؤ منچ کا امیدواری تھا۔ڈھاکہ میں 12 دسمبر کو عثمان ہادی کو دو لڑکوں نے گولی مار دی تھی اس کو سنگاپور میں علاج کے دوران جمعرات کو موت ہو گئی ۔بھارت کے ساتھ رشتے مسلسل بگڑتے جارہے ہیں ۔پاکستان کے بڑھتے قدم اور بنگلہ دیش سے بگڑتے رشتوں پر پارلیمانی رپورٹ میں ان چیلنجوں کا ذکر کیا گیاہے۔سال 1971 کی جنگ کے بعد بھارت کو بنگلہ دیش میں سب سے بڑے حکمت عملی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔نیشنلزم کے ابھارت ، اسلامی تنظیموں کی دوبارہ سرگرمی اور چین پاکستان کے بڑھتے اثر نے بنگلہ دیش میں بھارت کے سامنے نئی چنوتیاں کھڑی کر دی ہیں ۔اگر وقت رہتے بھارت نے اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں کی تو وہ بنگلہ دیش میں ایک طرح سے پنگو ہو جائے گا ۔یہ باتیں بھارت میں خارجی امور کی ایک پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں بتائی گئی ہیں ۔99 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیٹی نے بھارت بنگلہ دیش کے رشتوں سے وابستہ ان چنوتیوں کا ذکر کیا ہے جو اگست 2024 کے بعد درپیش ہوئیں ہیں ۔اگست 2024 یہ وہ مہینہ تھا جب بنگلہ دیش میں وسیع لوگ سڑکوں پر اترنے کے بعد دیش کی اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کو دیش چھوڑ کر بھار ت میں پناہ لینی پڑی تھی تب سے وہ یہاں رہ رہی ہیں اور دیش میں ایڈمنسٹریٹر محمد یونس کی قیادت والی انترم سرکار کام کررہی ہے ۔پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ تیار کرنے کے لئے ایم پی ششی تھرور کو اس کمیٹی کی سربراہی کے لئے چنا گیا ۔کمیٹی نے وزارت خارجہ کے نمائندوں سے بات چیت کی اور گزشتہ 29 جون کو 4 ماہرین کی رائے بھی سنی ہے ۔ان ماہرین میں سابق نیشنل سیکورٹی مشیر شیو سنکر ، و ریٹائرلیفٹننٹ جنرل سید عطا حسنین وزارت خارجہ کی سابق سیکریٹری رینا گانگولی و دیگر ممبر شامل تھے ۔تجزیہ نگار کے حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے رشتوں میں موجودہ چیلنجوں کے پیچھے خاص وجہ بھی گنائی گئی ہیں ۔اقلیتوں پر حملے کے پیچھے آئی ایس آئی کے ہاتھ ہونے سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔بنگلہ دیش میں چین کی بڑھتی موجودگی بھی ایک چنوتی ہیں ۔لال منیہار ایئر بیس کی چینی مدد سے بنایا جانا بھارت کی سلامتی کے لئے ایک خطرہ ہے ۔جماعت اسلامی پارٹی کے لیڈروں کے حالیہ چین دورہ کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے اور کہا کہ اس سے بنگلہ دیش میں الگ تھلگ سیاسی گروپوں کے ساتھ چین کی گہری بات چیت کا اشارہ ملتا ہے جس کی وہاں اس کی موجودگی اور مضبوط ہورہی ہے۔کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ سرکار بنگلہ دیش میں غیر ملکی طاقتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے کیوں کہ کسی بھی ایسے دیش جن کے ساتھ بھارت کے رشتے اچھے نہیں ہیں ۔پاک چین اپنا وہاں فوجی اڈہ بنانے کی کوشش کرے گا۔بھارت کی سلامتی کے لئے وہاں بڑا خطرہ ہوسکتا ہے۔محمد یونس بنگلہ دیش میں تازہ تشدد پر صرف کھاناپوری والے بیان دیتے نظر آرہے ہیں اگر یونس واقعی سست ہو گئے ہیں اور کٹر پسند مشینری بدامنی پھیلانے کے لئے آزاد ہے تو یہ نہ تو بنگلہ دیش کے لئے اچھا ہے اور بھارت کے لئے تو بہت ہی باعث تشویش ہے ہی ۔فی الحال بنگلہ دیش میں جس طرح کی بدامنی پھیل رہی ہے اور اس کے سائے میں بہت کچھ جھلسنے کا اندیشہ ہے ۔اسے دیکھتے ہوئے بھارت سرکار کو چاہیے کہ وہ ڈپلومیٹک سطح پر ان مسئلوں کو بنگلہ دیش کی انترم سرکار کے سامنے ٹھوس طریقہ سے اٹھائے ۔
(انل نریندر)
20 دسمبر 2025
قومی صدر کی جگہ کارگزار صدر!
بھارتیہ جنتا پارٹی نے پٹنہ کی بانکی پور سیٹ سےممبر اسمبلی اور بہار کے وزیر نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نیا کارگزار صدر مقرر کر سب کو حیران کر دیا ہے ۔شاید ہی کسی نے امید کی ہو کہ نوین بابو کو اتنا اہم ترین عہدہ دیا جائے گا ۔پچھلے کئی ماہ سے یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ بی جے پی اپنا نیا صدر چننے والی ہے کیوں کہ شری نڈا کی میعاد بہت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی ۔اور وہ توسیع میعاد پر چل رہے تھے۔نتن نوین بھاجپا کی تاریخ میں جے پی نڈا کےبعد دوسرے نگراں صدر ہوں گے ۔پارٹی کے آئین میں نگراں صدر کا کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں ہے لیکن سال 2019 کے بعد بی جے پی میں فل فلیج صدر مقرر کرنے سے پہلے نگراں صدر تقرر کرنے کی ایک روایت شروع ہوئی ہے ۔بی جے پی میں صدر کے عہدے کے لئے چناؤ کب ہوگا ابھی صاف نہیں ہے لیکن میڈیا کی رپورٹس میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کے حوالے سے دعویٰ کیاجارہا ہے کہ اگلے سال جنوری میں یہ خانہ پوری کی جاسکتی ہے ۔موجودہ بھاجپا صدر جے پی نڈا کی میعاد جنوری تک ہی ہے ۔ایسے میں یہ سوال اٹھ رہے تھے کہ جب کچھ دنوں بعد قومی صدر کی تقرری ہونی ہے تو پارٹی نے نگراں صدر کیوں مقرر کیا ہے ؟ اس کا کوئی صاف جواب تو نہیں ہے لیکن یہ ماناجارہا ہے کہ پارٹی اپنے آئین کے حساب سے ہونے والے قومی صدر کےچناؤ کو اتفاق رائے اور بلامقابلہ طور پر چاہتی ہے۔سینئر صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ بی جے پی جنوری میں قومی صدر کے چناؤ کی کاروائی شروع کرے گی ۔پارٹی میں رسمی خانہ پوری ہے ایسے میں تو کوئی چناؤ نہیں ہورہا ہے لیکن نامزدگی تاریخ ، چناؤ تاریخ میں خانہ پوری کی کاروائیاں ہوتی ہیں۔پارٹی کو انہیں کرنا ہوتا ہے وہیں سینئر صحافی ونود شرما کے مطابق نگراں صدر اعلان کربی جے پی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ نتن نوین ہی اگلے نئے صدر ہوں گے ۔بی جے پی میں صدر چننے کا ایک لمبا پروسیس ہے۔بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ نے نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نگراں نامزد کیا ہے ۔26 سال کی عمر میں پہلی بار ممبر اسمبلی بنے جانے کے بعد نتن نوین پانچ بار مسلسل ممبر اسمبلی چلے آرہے ہیںاور بی جے پی کے پہلے نگراں صدر ہوں گے ۔45 سالہ نتن نوین کا بھاجپا کا کارگزار صدر بن جانا ضرور حیران کررہا ہے ۔لیکن تجزیہ نگار اس سے حیران نہیں ہے ۔بہار چناؤ کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے نتن نوین سے دو گھنٹے بات چیت کی تھی ۔نتن نوین پارٹی کے چھتیس گڑھ اسمبلی چناؤ کے انچار ج تھے اور بی جے پی نے یہ چنا ؤ بھاری اکثریت سے جیتا تھا یعنی نتن نوین اپنی تنظیمی صلاحیت پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں ۔سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا نتن نوین کی تقرری کے پیچھے کوئی خاص وجہ یا پارتی کی کوئی خاص حکمت عملی ہے ؟ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ پارٹی میں یہ تبدیلی کا دور ہے اور وقت کی ضرورت کےحساب سے اٹھایا گیا قدم ہے ۔وجے ترویدی اور ونود شرما دونوں ہی مانتے ہیں کہ پارٹی جنریشن چینج یعنی پیڑ ی میں تبدیلی سے گزررہی ہے ۔پارٹی میں پرانی پیڑی کے لیڈروں کی جگہ نئے نیتاؤں کو آگے بڑھایاجارہا ہے ۔راجستھان ،ہریانہ ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گرھ میں وزیراعلیٰ کی شکل میں پرانے لیڈروں کو ہٹانا اور نئے چہروں کو لانا پارٹی کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے اور نتن نوین کا نگراں صدر بنایاجاناکہیں نرالا قدم ہے ۔پارٹی لیڈر نئی لیڈر شپ کو آگے لانا چاہتی ہے اور یہ تقرری بھی اسی سمت میں ہے ۔
وہیں سینئر صحافی ونود شرما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بی جے پی میں ایسے لیڈروں کو آگے لایاجارہا ہے جو کسی بھی طرح سے نریندر مودی یا امت شاہ کے لئے چیلنج نہ پیش کریں ۔ونود شرما کہتے ہیں کہ نتن نوین کی تقرری حیران اس لئے نہیں کررہی ہے کہ سہولت کے حساب سے بنایا گیا ہے ۔کسی ایسے نیتا کومضبوط عہدے پر نہیں لایاجارہا ہے جو آگے چل کر کسی بھی طرح کی سینئر لیڈر شپ کو چنوتی پیش کر سکے ۔شخص ایسا ہونا چاہیے جو بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کو ہی منظور ہو ۔تجزیہ نگار یہ بھی مان رہے ہیں کہ نتن نوین کا نام ان چنندہ لوگوں میں رہا ہوگا جنہیں آر ایس ایس سے بھی منظوری حاصل ہوئی ہے ۔
(انل نریندر)
18 دسمبر 2025
قتل عام کرنے والے باپ -بیٹا!
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اتوار کو جشن منا رہے بانڈی بیچ پر لوگوں پر دو دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ۔اس دوران 40 سالہ احمد الاحمد نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردوں سے لوہا لے لیا اور کئ لوگوں کی جانیںبچائیں ۔ہوا یوں کہ اتوار کو سڈنی کے بانڈی بیچ پر یہودیوں کے ہنووکا تہوار پر بیچ کا مزہ لے رہے تھے ۔ہنوکا یہودیوں کا سالانہ تہوار ہے ۔اس دوران دو بندوقچیوں نے اندھا دھند فائرنگ کرنی شروع کر دی ۔گولیوں کی آوازیں سن کر بیچ پر افرا تفری مچ گئی اور لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔اس اندھا دھند فائرنگ میں بتایا جاتا ہے 16 لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔دہشت گردوں کی نشاندھی ہو چکی ہے ۔اے بی وی پی کی رپورٹ کے مطابق اس دہشت گردانہ واردات کو انجام دینے والے باپ اور بیٹے ہیں جن میں سے ایک کی تو موقع پر موت ہو گئی ۔آسٹریلیا تفتیشی ایجنسیوںنے ملزم کے بیک گراؤنڈ کی جانچ شروع کردی ۔فائرنگ میں شامل والد 50 سالہ کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے ۔سڈنی حملے میں پاکستانی کنکشن سامنے آیا ہے۔آسٹریلیا کی جانچ ایجنسیاں اس واقعہ کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں ۔اور اہم بات یہ بھی ہے کہ حملہ میں شامل بیٹا بیٹے کی پہچان پاکستانی نژاد کی شکل میں ہوئی ہے ۔وہیں امریکی خفیہ ایجنسیوں نے بھی دونوں دہشت گردوں کو پاکستانی شہری بتایا ہے ۔حملہ آور پاکستانی شہری تھے اور سڈنی میں مقیم تھے ۔جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے فائرنگ کے بعد پاس کی ایک سڑک پر ایک کار سے کئی امپروائزڈ ایسکلوزو ڈیوائز یعنی دھماکوں چیزیں برآمد کی گئی ہیں ۔جس میں اندیشہ ہے کہ حملے کی سازش اس سے کافی زیادہ تباہی مچانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کی تھی ۔آسٹریلیائی خفیہ ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک پہلے سے سیکورٹی ایجنسیوں کی نظر میں مشتبہ تھا۔لیکن اسے فوری خطرے کی شکل میں فہرست نہیں کیا گیا تھا ۔ادھر دونوں دہشت گرد گولیاں برسا رہے تھے اُدھر 44 سالہ محمد الاحمد اپن جان کی پرواہ کئے بغیر ہمت دکھاتے ہوئے پیچھے سے آتنکی پر جھپٹ پڑا اور اس سے بندوق چھین لی ۔جس سے کئی لوگوں کو محفوظ نکالنے کا موقع مل گیا۔لوگ اب احمد کو آسٹریلیا کا نیا ہیرو کہہ رہے ہیں ۔احمد جب دہشت گرد سازش سے مڈبھیڑ کرنے جارہا تھا تب ان کے بھائی نے اسے روکا تھا ۔تب انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو پریوار کو بتانا کہ میں لوگوں کی جان بچاتے ہوئے مارا گیا ۔احمد پھل سبزی کی دوکان چلاتا ہے حالانکہ بین الاقوامی سطح پر اس حملے کی مذمت ہوئی ہے ۔آسٹریلیائی سرکار سے لے کر مسلم عرب ممالک کی جانب سے بھی دہشت گرداور تشدد کی سبھی شکلوں کو مسترد کیا گیا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نکتہ چینی اور احتجاج کے باوجود کسی فرقہ سے نفرت کے جذبہ میں ڈوبے لوگوں کو روک پانا ایک مشکل چنوتی ہے یہ فطری ہے کہ اس آتنکی حملے کی عالمی سطح پر مذمت ہوگی اور تعزیتی نظریات و خیالات ظاہر کئے جائیں گے لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے ۔دنیا بھر میں جہادی دہشت گرد ی کا خطرہ جس طرح ابھر رہا ہے اس کا مقابلہ تبھی کیا جاسکتا ہے جب پوری عالمی برادری مل کر اس خطرے کا ایمانداری سے سامنا کرے اور مل کر مقابلہ کرنے کے لئے قدم بڑھائے ۔بانڈی بیچ پر ہوئے حملے نے ایک بار پھر پاکستان کو بے نقاب کردیا ہے ۔دونوں ہی آتنکی پاکستانی نژاد نکلے۔یہ کسی سے چھپہ نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی آتنکی فیکٹری ہے ۔یہاں سال در سال ہزاروں دہشت گرد تیار کئے جاتے ہیں بھارت تو بار بار اس بات کو کہتا رہتا ہے لیکن دنیا ماننے کو تیار نہیں ہے۔پہلگام حملہ بھی اسی طرح کے آتنکیوں نے کیا تھا لیکن دنیا ماننے کو تیارنہیں تھی ۔اب تو آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں حملہ ہوا ہے اب دنیا کو اس پر کیا کہنا ہے ؟
(انل نریندر)
16 دسمبر 2025
چناؤاصلاحات پر بحث !
چناؤ اصلاحات پر سڑک سے پارلیمنٹ تک بحث چھڑی ہوئی ہے۔شاید یہ ضروری بھی تھا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ویسے بھی دیش کو 12 ریاستوں و مرکزی حکمراں پردیشوں میوں ووٹر لسٹوں کی گہری نظر ثانی تیز رفتار سے جاری ہے۔لیکن یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ اتنی تیزی سے اس پر سیاست بھی ہورہی ہے ۔لوک سبھا میں چناؤ اصلاحات کے مسئلے پر بدھ کے روز وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کے ذریعے ووٹ چوری معاملے کے جواب میں جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کا بھی نام لیا اور اپنی بات رکھی۔اور الزام لگایا کہ انہوں نے جھوٹ پھیلایا ہے اور دیش کی جنتا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔امت شاہ نے کہا ایس آئی آر ووٹر لسٹ کا شدھی کرن ہے تاکہ جن کی موت ہوگئی ان کے نام کٹ جائیں اور جو 18 سال سے بڑے ہیں ان کے نام ووٹر لسٹ میں جڑ جائیںجو دو جگہ ووٹر ہے ان کے نام ایک جگہ سے کٹ جائیں اور جو غیر ملکی شہری ہے ان کو چن چن کر ووٹر لسٹ سے ہٹایاجا ئے ۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی بھی دیش کی جمہوریت تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب دیش کا وزیراعظم اور راجیہ کا وزیراعلیٰ کون ہو یہ گھس پیٹھیے طے کریں گے ۔ایس آئی آر سے کچھ پارٹیوں کے سیاسی مفادات کو چوٹ ہوتی ہے۔فیصلہ کرنا پڑے گا کہ دیش کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو چننے کے لئے غیر ملکیوں کو ووٹ دینے کا حق دینا ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد راہل گاندھی کھڑے ہوئے اور امت شاہ سے پوچھا کہ ہندوستان کی تاریخ میں چناؤ کمشنروں کو پوری طرح معافی دی جائے گی اس کا جواب دیں۔ ہریانہ کی ایک مثا ل انہوں نے ’’وزیر داخلہ امت شاہ ‘ ‘ کو دی۔اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے کئی اہم سوال اٹھائے اس دوران انہوں نے ایس آئی آر کا نام لیا ۔راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ یکساں جذبہ ایس آئی آر کو دقت ہے ۔سنگھ نے پبلک اداروں پر قبضہ کرلیا ہے اس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انہوں نے ٹوکا اور کہا کہ چناؤ اصلاحات پر بحث کیجئے ۔ لیڈر آف اپوزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ بھی بولو۔راہل گاندھی نے بحث کی شروعات کھاید سے کی انہوں نے کہا ہمارا دیش ایک فیبرک کی طرح ہے کپڑا کئی دھاگوں سے بنتا ہے ویسے ہی ہمارا دیش بھی کئی طرح کے لوگوں سے مل کر بنا ہے ۔دیش کے سارے دھاگے ایک جیسے اور اہم ہیں ۔دیش کے سبھی لوگ برابر برابر ہیں۔راہل گاندھی نے کہا ووٹ کے لئے دیش کے پبلک اداروں نے حکمراں پارٹیوں نے قبضہ کر لیاہے ۔اسی جیسے سی بی آئی ،ای ڈی سب پر قبضہ کر لیا ہے ۔راہل گاندھی نے چناؤ کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ سے ملا ہوا ہے ۔ہم نے اس بات کے ثبوت بھی سرکار کو دیے ۔سرکار اسی کا استعمال کررہ ہے ۔راہل گاندھی نے کہا چناؤ کمشنر منتخب کرنے کی کاروائی کو کیوں بدلا گیا ؟ اسی کاروائی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کیوں ہٹایاگیا ؟ کیا سرکار کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر بھروسہ نہیں ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ کے اشاروں پر چلتا ہے ۔حکمراں فریق ہی چناؤ کمیشن کو چلارہا ہے ۔راہل گاندھی نے برازیل کے ماڈل کا بھی ذکر کیا انہوں نے کہا کہ برازیل کا ماڈل کا نام 22 بار ووٹر لسٹ میں آیاہے۔ایک عورت کا نام 200 بار ووٹر لسٹ میں آیا ہے ۔چنا ؤ کمیشن کو سی سی ٹی وی فوٹیج ضائع کرنے اور کنٹرول کا مطلب کیا ہے۔اور کیوں اس فوٹیج کو کچھ وقت بعد ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ؟ فوٹیج ضائع کرنے کی طاقت کیوں دی گئی ؟ چناؤ کمشنروں کو سزا کی سہولت کو کیوں ہٹایاگیا ۔ہریانہ چناؤ کا ذکرکرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہریانہ کا چناؤ ووٹ چوری سے کیا گیا ۔اورجہاں تک چناؤ کمیشن کا سوال ہے تو اسے اٹھ رہے سوالوں کا جواب دینا ترجیح ہونا چاہیے ۔شفافیت کی سب سے بڑی ذمہ داری چناؤ کمیشن پر ہے ۔چناؤ آج سے دو دہائی پہلے کیسے ہوا کرتے تھے اس سے زیادہ ضروری ہے کہ اب جو چنا ؤ ہوں سوالوں سے پرے ہوں ۔جمہوریت کے اصلی مالک و محافظ ووٹر ہیں جنتا ہے ۔اس کا چناؤ پروسیس پر پورا بھروسہ ہونا چاہیے یہی بھارت کی جمہوریت کی بنیاد ہے ۔
(انل نریندر)
11 دسمبر 2025
ہمایوںکبیر نے رکھی بابری مسجد کی بنیاد!
مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کے ریزی نگر میں سنیچر کے روز بابر ی جیسی مسجد کی بنیاد رکھی گئی ۔ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ عرف مسجد ڈھانے (چھ دسمبر 1992 کی برسی پر منعقدہ پروگرام میں تمام مولوی موجود رہے۔بابری مسجد بنوانے کے اعلان کے سبب ترنمول کانگریس سے معطل ممبر اسمبلی ہمایوں کبیرنے اس کا سنگ بنیاد کیا ۔انہوں نے مرشد آباد ضلع میں بیل ڈانگر سے لگے علاقہ میں سینکڑوں حمایتیوں کے ساتھ علامتی طور پر فیتا کاٹ کر مسجد کی بنیاد رکھی ۔ہمایوں کبیر مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کی بھرت پور سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں ۔وہ پچھلے کئی دنوں سے دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ چھ دسمبر کو وہ بھرت پور کے بیل ڈانگہ میں بابری مسجد بنوانے کے لئے بنیاد رکھیں گے ۔ان کے حمایتی اور دیگر لوگ صبح سے ہی سر پر اینٹ رکھ کر تعمیراتی جگہ پہنچنے لگے تھے ۔ہمایو ں کبیر نے تعمیراتی جگہ سے ایک کلو میٹر دور بنے اسٹیج پر مولویوں کی موجودگی میں فیتا کاٹ کر تقریب کے دوران اللہ اکبر کے نعرے لگائے ۔اس موقع پر سعودی عرب کے علماء بھی موجود تھے۔اس دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کے اندیشہ کود یکھتے ہوئے ریجو نگر اور نلڑی بیل ڈانگہ علاقہ میں پولیس ، آر اے ایف اور مرکزی فورسز کی کچھ ٹکڑیاں تعینات کی گئی تھیں جنہوں نے علاقہ میں فلیگ مارچ کیا ۔بنیاد رکھنے کے بعد خبر رساں ایجنسی سے بات چیت میں ہمایوں کبیر نے کہا کہ ایک سال پہلے میں نے اعلان کیا تھا کہ مرشد آباد کے بیل ڈانگہ میں ایک نایاب بابر ی مسجد بنانی ہوگی ۔اور مسجد کے ساتھ ساتھ اسلامی ہاسپٹیل ، میڈیکل کالج ،ہوٹل ،ریستوراں ،پارک اور ہیلی پیڈ بنانے کی اسکیم ہے ۔یہ 300 کروڑ روپے کا پروجیکٹ ہے ۔اس مسجد کی بنیاد رکھے جانے سے پہلے بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ ترنمول کانگریس فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے۔بی جے پی نیتا امت مالویہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ، وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سیاسی فائدے کے لئے مسلمانوں کو پولرائز کے لئے اس ممبر اسمبلی کا استعمال کررہی ہے وہ آگ سے کھیل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیل ڈانگہ سے آرہی رپورٹوں نے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے ۔مالویہ نے دعویٰ کیا کبیر کے حمایتیوں کو اس عمارت کی تعمیر کے لئے اینٹیں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔جسے انہوں نے بابر ی مسجد بتلایا ہے ۔وہیں ٹی ایم سی نیتا سیونی بھوش نے کہا کہ بی جے پی کو ہمارا ایک ہی پیغام ہے کہ کھیلاہووے ،2026 میں ممتا بنرجی چوتھی بار مغربی بنگال کا اقتدارسنبھالیں گی ۔کیوں کہ مغربی بنگال کی جنتا ان کے ساتھ ہے اور وہ اب تک کے سب سے بڑے جنادیش میں سے ایک بار پھر جیت حاصل کرنے جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کوئی بھی مندر بنا سکتا ہے کوئی بھی مسجد بنا سکتا ہے ۔لیکن اگر اس کے پیچھے کسی کی منشا یہاں مذہبی نفرت اور سورش پھیلانے کی ہے تو سب جانتے ہیں کہ انہیں بی جے پی سے پیسہ مل رہا ہے ۔اور بی جے پی انہیں مغربی بنگال میں حالات بگاڑنے کے لئے اکسا رہی ہے ۔62 سالہ ہمایوں کبیر نے سیاست کا آغاز کانگریس پارٹی سے کیا تھا او ر سال 2012 میں کانگریس سے اسمبلی چناؤ جیتنے کے ایک سال بعد ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے تھے۔2015 میں کبیر کو ٹی ایم سی سے باہر کا راستہ دکھا یا گیا ۔انہوں نے کہا وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اپنے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو راجہ بنانا چاہتی ہیں بھاجپا نیتاؤں نے اسے ووٹ بینک کی سیاست بتاتے ہوئے ہمایوکبیر کی گرفتاری تک کی مانگ کر ڈالی ۔بھاجپا نیتا سکانت مجمومدار نےکہا کہ ممتا 15 برسوں سے خوشامدی اور فرقہ وارانہ سیاست کرتی آرہی ہیں ۔مگر سچ میں یہ نہیں چاہتی کہ بابری مسجد بنے تو انہیں ہمایو کبیر کو گرفتار کرنا چاہیے تھا ۔ٹی ایم سی نے جواب میں کبیر پر بھاجپا اور آر ایس ایس کے ساتھ ملی بھگت کرکے حالات بگاڑنے کی کوشش کا الزام لگایا ۔مغربی بنگال اسمبلی چناؤ جیسے جیسے قریب آرہے ہیں روز نئی نئی باتیں سننے کو ملیں گی ۔
(انل نریندر)
09 دسمبر 2025
کیا یہ سنکٹ جان بوجھ کر بنایا گیا؟
دیش کی سب سے بڑی ائر لائن انڈیگو میں پچھلے کچھ دنوں سے بھاری بدنظمی کا سامان کررہی ہے ۔ایک طرف اڑانوں کا وسیع پیمانہ پر منسوخ ہونا تو دوسری طر ف آسمان چھوتے مسافر کرائے نے مسافروں کی ناک میں دم کر دیا ہے ۔ایئر لائن نے ذمہ داری نئے ایف ڈی ٹی ایل ( فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن ) قواعد پر ڈالی ہے ۔لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیگو کے پاس تیاری کے لئے درکار وقت تھا۔اس کی وجہ یہ الزام بھی سنگین ہو گیا ہے کہ ایئر لائن نے قواعد میں ڈھیل پانے کے لئے سرکار پر دباؤ بنانے کا راستہ چنا ۔ایویشن ماہرین کے مطابق اس بحران کی جڑ جنوری 2024 میں دائر اس عرضی میں ہے جس میں پائلٹ یونین نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے تھکان اور لمبی ڈیوٹی کو سنگین سیکورٹی خطرہ بتایا تھا ۔کورٹ کی ہدایت کے بعد ڈی جی سی اے نے ایف ڈی ٹی ایل قواعد میں تبدیلیاں کیں اور انہیں ایک جولائی 2025 سے لاگو کر دیا ۔ان قواعد میں پائلٹوں کو ہفتہ وار چھتیس گھنٹے کے بجائے 48 گھنٹے کا ضروری آرام دیا ۔اور کسی بھی چٹھی کو ویکلی ریسٹ ماننے سے روک لگا دی ۔نومبر 2025 میں اس کا دوسرا مرحلہ لاگو ہوا ، جس میںلگاتار نائٹ شفٹ پر بڑی پابندی لگا دی گئی۔انہیں تبدیلیوں کا اثر انڈیگو پر سب سے زیادہ پڑا ۔12 دسمبر کو دہلی ،ممبئی اور بنگلورو جیسے بڑے ہوائی اڈوں پر اڑانیں غیر ریگولر ہونا شروع ہوئیں۔اور آن ٹائم پرفارمنس گر کر 35 فیصد پر آگئی ۔3 دسمبر کو یہ حالت اور بگڑی اور آپریشن پرفارمنس 19.7 فیصد تک گر گئی ۔4 دسمبر کو حالات تقریباً ٹھپ ہو گئے ۔قریب 800 اڑانیں منسوخ کرنی پڑیں اور او ٹی پی صرف 8.5فیصد پر رہ گیا ۔کئی روٹس پر ٹکٹ کا کرایہ 10 ہزار سے بڑھ کر 40 ہزار 50 ہزار دیکھا گیا ۔کیا یہ مسئلہ منوپولی کی وجہ سے ہوا؟ سال 2006 کے اگست میں دہلی ،ممبئی کے بیچ اڑان سے شروع ہوئی انڈیگو کی کہانی اور اس موڑ پر آجائے گی تب راہل بھاٹیہ اور راکیش گنگوال نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا جنہوں نے 2005 میں انڈیگو کو مالک انٹر گلوبل انٹر پرائز کی بنیاد رکھی تھی ۔آج بھارت کے جہاز رانی مارکیٹ میں انڈیگو سب سے بڑی کھلاڑی ہے اور اس کے پاس قریب 64 فیصدی حصہ داری ہے اب یہی بڑھا قد اس کی ہزاروں اڑانیں کینسل ہونے اور مسافروں کو ہوئی بے شمار پریشانیون کے چلتے سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔پارلیمنٹ میں انڈیگو کی قیمت منوپلی یعنی ایک طرفہ سوال اٹھے ۔راہل گاندھی نے کہا کہ اس بحران کے لئے مرکزکی منوپلی ماڈل ذمہ دارہے ۔جہاز رانی سیکٹر کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ ہوا یہ جان بوجھ کرکیا گیا یا بنایاگیا ۔اس بحران سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک منوپلی کمپنی جب چاہے دیش کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتی ہے ۔سرکار نے ایئر انڈیا کو پیچھے دھکیل کر انڈیگو کو ایک طرفہ حق دے دیا جس سے وہ جہازی سیکٹر میں من مرضی کر سکے جو کچھ ہوا ہے اس میں یہ ساکھ بنی کہ کوئی ایک بڑی کمپنی بھارت میں جہازرانی قواعد میں تبدیلی کروا سکتی ہے لہذا اس واقعہ سے کسی ایک کمپنی نہیں بلکہ دیش کے پورے جہازرانی سیکٹر کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ایویشن سیفٹی فرم کونسلنگ کے سی ای او ماک ڈی مارٹن نے کہا کہ ایک طرف اختیار بڑی وجہ ہے ۔جس طرح سے یہ معاملہ ہوا ہے اس سے دنیا بھر میں یہ پیغام گیا ہے کہ بھارت میں ایویشن ریگولیشن میں دم نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا
مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...