Translater
11 نومبر 2025
بہار یونہی نہیں جمہوریت کا جنم داتہ !
پولنگ کے پہلے مرحلے میں جمعرات کو ہوئی بمپر پولنگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بہار یونہی نہیں جمہوریت کا جنم داتہ ۔64.46 فیصد پولنگ بتارہی ہے کہ یہاں کے جمہوری اصولوں کی کتنی اہمیت ہے ۔اگر کئی پولنگ مراکز پر لائٹ نہ جاتی اور کئی مقامات پر ای وی ایم خرابی کی شکایتیں نہیں آتیں تو یہ فیصد دو تین فیصد اور بڑھ جاتا ۔پولنگ میں جنتا کی ساجھیداری زیادہ ہونے کا مطلب صاف ہے کہ بھارت میں ابھی بھی جمہوریت زندہ ہے ۔اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ عوام سیاست سے مایوس نہیں ہے۔جمہوریت میں ایسا ہی ہونا چاہیے ۔سال 2025 کے بہار اسمبلی چناو¿ کے پہلے مرحلے کی 121 سیٹوں پر جمعرات کو پہلی بار کے مقابلے 31 لاکھ 81 ہزار 885 زیادہ ووٹ پڑے ۔بہار کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) ونود سنگھ گنیال نے بتایا کہ ووٹر بیدار ، ووٹر لسٹ کی صفائی اور خواتین ،نوجوان اور بزرگ ووٹروں کے جوش کی وجہ سے ووٹ فیصد بڑھانے میں معاون بنا۔انہوں نے امید جتائی کہ دوسرے مرحلے کی پولنگ میں بھی ووٹروں کا جوش بڑھ چڑھ کر ووٹ کرے گا ۔سی ای سی نے کہا کہ بہار میں دیش کو راہ دکھائی ہے پہلے مرحلے میں مہا گٹھ بندھن کے سی ایم عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو اور ڈپٹی وزیراعلیٰ وجے کمار سنہا ، سمراٹ چودھری سمیت کئی بڑے لیڈروں کی قسمت داو¿ پر لگی ہے ۔اس مرحلے میں بہار میں دو دہائیوں سے بر سر اقتدار نتیش کمار یا ان کی جگہ کوئی اور اس دور کے چناو¿ میں ایک بڑی بحث کا اشو رہا ۔حالیہ چناو¿ میں یہ سوال اتنی مضبوطی کے ساتھ کبھی نہیں پوچھا گیا ۔جنتاجو بھی فیصلے لے گی وہ ریاست کی سماجی ،سیاسی سمت طے کرے گی۔سب سے مثبت بات یہ رہی کہ بہار کی عوام نے اس بات کو سمجھا اور 2020 کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد زیادہ ووٹ دیا ۔بہار کے 18 اضلاع میں پھیلی 121 سیٹوں کے لئے ریکارڈ پولنگ پر دونوں اتحادی لیڈر ورکروں کے ذریعے تجزیہ کرنے میں لگے ہیں ۔دونوں ہی طرف سے حالانکہ جیت کے دعوے پہلے ہی کر دیے گئے ہیں ۔این ڈی اے نیتا بمپر ووٹنگ کو خواتین ووٹروں کے معجزے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں تو مہا گٹھ بندھن اپنے لئے بہتر مان رہا ہے ۔پولنگ مراکز پر خواتین ووٹروں کی لمبی قطاریں نظر آنے کے بعد این ڈی اے میں کہا جارہا ہے یہ سی ایم نتیش کمار کے ذریعے خواتین روزگار یوجنا کے ذریعے ایک کروڑ چالیس لاکھ عورتوں کو دیے گئے 10-10 ہزار روپے کے بعد پیدا بھروسہ کے لئے وہ اٹھ رہے ہیں ۔سی ایم کی یہ اسکیم آگے بھی جاری رہنی ہے ۔اور اس کے علاوہ پی ایم مودی کی مرکزی حکومت کے ذریعے کئے جارہے کاموں پر بھی بھروسہ کا ووٹ ہے ۔لیکن آر جے ڈی سے تیجسوی یادو کے ذریعے سرکار بنتے ہی آنے والی مکر سکرانتی پر 14 جنوری کو 30 ہزار روپے (ہر ماہ ) دو ہزار روپے کی اسکیم دینے کے وعدے کے لئے کیا گیا ووٹ ہے ۔کانگریس کو بھروسہ ہے نوجوان طبقہ نے ووٹ چوری کے اشو کو لے کر حکمراں اتحاد کے خلاف ووٹ دیا ہے ۔اس بار چناو¿ میں ایس آئی آر اور ووٹ چوری بھی اشو رہے ۔نوجوان طبقہ میں بے روزگاری سب سے بڑا اشو تھا اور لگتا بھی ہے کہ اس بار 18-25 برس (زین جی ) کے نوجوانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر ووٹ دیا ہے ۔یاد رہے کہ ووٹنگ کے ایک دن پہلے ہی راہل گاندھی نے چناو¿ کمیشن پر نئے الزام لگائے پھر ایس آئی آر کے سبب پہلے مقابلے 47 لاکھ ووٹ کم تھے ۔اس کے باوجود جنتا نے پولنگ بوتھوں پر پہنچ کر اپنی رائے زور شور سے جتائی ۔چناوی دھاندلیوں کے الزام بھی لگ رہے ہیں۔کہیں تو اسٹارنگ روم میں غیر مجاز لوگوں کی اینٹری بتائی جارہی ہے کہیں وی وی پیٹ کی پرچیاں سڑکوں پر پھینکی جار ہی ہیں تو کہیں پر ووٹنگ مشین خراب ہونے بجلی کاٹنے کے الزام لگ رہے ہیں ۔نیتاو¿ں کو بھگایا جارہا ہے۔تو گوبر تک پھینکا گیا ۔این ڈی اے سرکار کو ہر مورچہ پر ناکام بتاتے ہوئے لالو پرساد یادو کی رائے زنی زور دار رہی ۔اپنے ایکس ہینڈل پر لالو نے لکھا توے پر روٹی پلٹتی رہنی چاہیے نہیں تو جل جائے گی۔
(انل نریندر)
08 نومبر 2025
ممدانی کی تاریخی جیت !
امریکہ میں اس سال یعنی 2025 میں دو ایسے اہم چناو¿ ہوئے ہیں جس کا اثرپوری دنیا پر پڑا ہے اور پڑے گا ۔پہلا 20 جنوری کو ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے پھر صدر بنے اس کا پوری دنیا پر اثر پڑارہا ۔دوسرا چناو¿ 4 نومبر کو ہوا جب ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر کا چناو¿ جیتے ۔یہ کوئی معمولی چناو¿ نہیں تھا کئی معنوں میں یہ تاریخی چناو¿ تھا ۔پہلی بار 1892 کے بعد سے نیویار ک کے سب سے نوجوان میئر ظہران ممدانی کی جیت رہی ہے وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر بھی ہوں گے ۔انہوں نے پچھلے سال ہی سیاست میں قدم رکھا تھا اس وقت ان کے پاس نہ تو کوئی بڑی پہچان تھی اور نہ ہی بہت سارے پیسے اور نہ ہی پارٹی کی حمایت تھی ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی اینڈریو کوسومو اور رپبلکن امیدوار کیٹرس سلپا پر ملی جیت نے صرف غیر معمولی تھی۔لیکن کئی معنوں میں تاریخی بھی ہے ۔ممدانی نوجوان اور کرشمائی ہیں ۔فری مائلڈ کیئر پبلک ٹرانسپورٹ کے پھیلاو¿ اور فری مارکیٹ سسٹم نے سرکاری دخل جیسے لیفٹ اشوز کی حمایت کی۔ نیویار ک شہر میں تقریباً 48 فیصدی عیسائی 11 فیصدی یہودی ہیں ۔یہاں مسلم 9 فیصدی ہیں۔جو امریکہ میں سب سے بڑی مسلم آبادی ہے ۔کہا جاتا ہے 9/11 کے بعد کے اسلامی فوبیا کی وراثت سے یہ شہر اب تک نکل نہیں سکا ۔یہاں آج تک کوئی مسلم میئر رہا بھی نہیں۔اس کے باوجود اگر ممدانی کو جیت ملی ہے تو یہ صرف ان کی شخصی جیت نہیں بلکہ ان کی فلاحی مہم کی جیت زیادہ لگتی ہے ۔34 سال کے جس نوجوان کو کم تجربہ کی وجہ سے پہلے چناوی لڑائی میں کمزور ماناجارہا تھا بعد میں وہی سنورنے اور اہم سیکٹر ثابت ہوا ان کی خاصیت رہی جنتا سے وابستگی انہوں نے اشتہاروں پر خرچ کرنے کے بجائے سیدھے لوگوں سے مل کر بات چیت کی۔ عام شہروں کے مسائل کو سمجھا اور کئی ایسے وعدے کئے جو نیویارک کے باشندوں کو سمجھ میں آگئے۔ممدانی نے اپنے چناوی مہم کے دوران مین ہیٹن اور نیویارک سٹی میں آباد بڑے کارپوریٹ اور کاروباریوں کی سخت نکتہ چینی کی تھی اس لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلن مسک اور تمام صنعتکاروں نے ممدانی کی جم کر مخالفت بھی کی۔ٹرمپ نے تو دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر ممدانی جیتے تو وہ ان کی فنڈنگ بند کر دیں گے ۔ان پر مسلم ہونے پر بھی نکتہ چینی کی گئی لیکن ممدانی نے کھل کر چیلنج کو قبول کیا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اس پر انہیں فخر ہے اس لئے تمام اسلامی دنیا میں ان کی جیت کو ایک نئے دور کے آغاز سے تشبیہ دی جارہی ہے۔وہ نہ صرف ٹرمپ کے لئے درد سر بن سکتے ہیں بلکہ نیتن یاہو کو تو اگر وہ نیویارک آئے تو انہیں گرفتار کرنے کی بھی دھمکی دے چکے ہیں ۔وہ ہمارے پردھان منتری کی بھی نکتہ چینی کی کرچکے ہیں اور 2002 میں ہوئے گجرات دنگوں کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔حالانکہ جیتنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ممدانی نے بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو یاد کیا ۔اپنی وکٹری تقریر میں ممدانی نے پنڈت نہرو کو یادکرتے ہوئے کہا میں جواہر لال نہرو کے الفاظ کے بارے میں سوچتا ہوں اور تاریٰخ میں ایسا لمحہ بہت کم آتا ہے جب ہم پرانے سے نئی جانب قدم بڑھاتے ہیں ۔جب ایک دور کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایک ملک کی روح کو اظہا ررائے کی آزادی ملتی ہے آج رات ہم پرانے سے نئے دور کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
06 نومبر 2025
باہوبل، بدلہ ، سیاسی سنگرام کی علامت مکوما!
بہار اسمبلی چناو¿ میں موکاما اسمبلی سیٹ سرخیوں میں ہے ۔30 اکتوبر کو جن سوراج پارٹی کی حمایتی باہوبلی دلار چند یادو کا سر عام قتل نے سیاسی پارا بڑھا دیا ہے ۔یہ سیٹ صرف دو باہوبلی خاندانوں کی سیاسی وراثت کی علامت بن چکی ہے ۔بلکہ بہار کی سیاست میں باہوبلی و اقتدار کے گٹھ جوڑ کی سب سے بڑی مثال بن چکی ہے ۔پچھلے ہفتے جمعرات دلار چندیادو کا قتل ہو گیا۔دلارچند کے قتل کا الزام باہوبلی آننت سنگھ پر لگا ہے ۔آننت سنگھ کو سیاسی دباو¿ کے سبب گرفتار کر لیا گیا ۔سنیچر کی دیر رات پٹنہ پولیس نے بڈ شہر کے بیٹھنہ گاو¿ں سے آننت سنگھ کو انہیں کی کارگل مارکیٹ سے گرفتار کرلیا تھا ۔آننت سنگھ اسی کارگل مارکیٹ کی عمارت میں ہی رہتے ہیں ۔جب ان کی گرفتاری ہوئی تھی ان کے ایک حمایتی سندیپ کمار نے بتایا کہ رات ساڑھے بارہ بجے پٹنہ پولیس آئی تھی اور ودھائک جی کو اپنے ساتھ لے گئی ۔آننت سنگھ موکاما میں ہر برادری کے ہیرو ہیں ۔سورج مان سنگھ چاہے جتنی کوشش کر لیں اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔وینہ سنگھ علاقہ کے دبنگ لیڈر سورج بھان سنگھ کی بیوی ہیں اور انہیں ہی راشٹریہ جنتا دل نے موکاما سیٹ سے امیدوار بنایا ۔موکاما سے آننت سنگھ کی بیوی نیلم دیوی ممبر اسمبلی ہیں ۔لیکن اس بار خود آننت سنگھ چناو¿ میدان میں ہیں ۔بتا دیں موکاما بھومیاروں کے دبدبے والا علاقہ ہے ۔سورج بھان اور آننت دونوں اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ۔جن سوراج سے پیوش پریہ درشی میدان میں ہیں ۔جو کنک برادری سے ہیں ۔ایسے میں لڑائی صرف بھومیاروں کے ووٹ کو اپنے حق میں کرنے کی نہیں ہے ۔بلکہ غیر یادو او بی سی اور دلت ووٹوں کو حاصل کرنے کی بھی ہے ۔دلار چند کے قتل کے پریہ درشی پیوش پریہ درشی کے مطابق کھوسری زون کے تارا پور گاو¿ں میںآننت سنگھ آئے تھے ۔اسی گاو¿ں میں ان کاقافلہ نکلا۔پیوش پریہ درشی نے بتایا کہ باسوا نائک گاو¿ں کے میرا قافلہ جارہا تھا میرے ساتھ دلارچند یادو بھی تھے یہ موکاما اسمبلی حلقہ والا علاقہ ہے ۔دونوں کا قافلہ تارپور اور واسو نائک گاو¿ں کے بیچ میں ٹکرایا ۔آننت سنگھ کی گرفتاری کے بعد پٹنہ میں اے ایس پی کیرتی کرم شرما نے سنیچر کو پریس کانفرنس میں بتایا دلار چند کا جہاں قتل ہوا وہاں آننت سنگھ موجود تھے ۔اور وہ معاملہ میں مین ملزم ہیں ۔اتوار کو آننت سنگھ کو گرفتار کر پٹنہ کی سی جے ایم عدالت میں پیش کیا گیا ۔اور عدالت نے آننت سنگھ و ان کے دو دیگر ساتھیوں کو 14 دن کی جوڈیشیل ریمانڈ میں بھیج دیا ۔بعد میں ان تینوں کو بیعور جیل بھیجا گیا ۔موکاما کے جے ڈی یو امیدوار آننت سنگھ کے ساتھ ہی مینا کانت ٹھاکر اور رجنیت کمار کو دیر رات گرفتار کیا گیا ۔دلار چند کا گاو¿ں ہے وہ باہوبلیوں کے بیچ پیوش کا چناو¿ لڑنا بتاتا ہے کہ وہ کسی سے ڈرتے نہیں ۔بھومیاروں کے بعد دیگر فرقوں کی تعداد اچھی خاصی ہے ۔کانک کے لوگ ان کے ساتھ ہیں ۔دلار چند کے پوتے نیرج یادو نے الزام لگایا ہے کہ آننت سنگھ کے ساتھ رنجیت رائے اور مینا کانت ٹھاکر کی گرفتاری معاملے میں نیا برادری واد رنگ دینے کے لئے کی گئی ہے ۔یہ اس کو سمجھانے کے لئے کیا گیا ہے کہ اس میں دلت بھی شامل ہیں آننت سنگھ کے ساتھ جن دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ نادوا گاو¿ں کے ہیں ۔نوادہ آننت سنگھ کا آبائی گاو¿ں ہے ۔گیتا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اتوار کی صبح پتہ چلا ہے کہ ان کے شوہر کر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔گیتا کہتی ہیں کہ میرے پتی آننت سنگھ کے لئے کھانا بنا تے تھے ان کا یہی گنا ہ ہے۔آننت سنگھ کو جیل میں کوئی سیوا کرنے کے لئے چاہیے اس لئے دونوں کو پولیس ساتھ لے گئی ۔اٹھاون سالہ آننت سنگھ اور ان کے پریوار کا موکاما اسمبلی میں آئے جب ان پر کئی سنگین الزام لگے تھے ان کے خلاف قتل،جرائم کے درجنوں معاملے ہیں جن میں اے کے 47- کی برآمدگی بھی شامل ہے ۔سورج بھان سنگھ نے سال 2000 سے موکاما کے آننت سنگھ کے بھائی کوہرا کر اپنی سیاسی پاری شروع کی تھی ۔سورج بھان سنگھ بھی رنگداری کے معاملے میں گھر رہے ہیں ۔دلارچند یادو نے 1990 میں اسمبلی چناو¿ لڑا تھا لیکن معمولی فرق سے آننت سنگھ کے بھائی دلیپ سنگھ ہار گئے تھے ۔1991سے 2010 کے درمیان ان پر قتل ،اغوا، رنگداری سے جڑے معاملے درج ہوئے تھے ۔1990 سے اب تک موکاما سیٹ کی تاریخ دبنگ اثر اور بدلے کی سیاست سے بھری ہوئی ہے ۔اس لئے ان دبنگیوں کو گینگس آف موکاما کہا جاتا ہے۔
(انل نریندر)
04 نومبر 2025
وزیراعظم کا گٹھ بندھن پر تلخ حملہ!
وزیراعظم نریندر مودی نے بہار کے لئے جاری این ڈی اے کے سنکلپ پتر کی تعریف کرتے ہوئے شوشل میڈیا پر لکھا کہ این ڈی اے کا سنکلپ پتر آتم نربھراور وکست بہار کے ہمارے ویژن صاف طور سے سامنے لاتا ہے ۔اس میں کسانوں بھائی بہنوں ،نوجوانوں اور ماتاو¿ں کے ساتھ ریاست کے میرے سبھی پریوار جنوں کی زندگی کو اور آسان بنانے کے لئے ہمارا عزم دکھائی دے گا ۔پی ایم نے کہا ، بہار کے چوطرفہ وکاس کے لئے ریاست کی ڈبل انجن سرکار نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ریاست بڑی تبدیلیوں کا گواہ بنا ہے ۔اس میں اور تیزی لاکر گڈ گورننس کو جن جن کی خوشحالی کی بنیاد بنانے کے لئے عہد بند ہیں امید ہے کہ ان کوششوں کو عوام کی حمایت ملے گی ۔وہیں وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ جمعرات کو مظفرپور ضلع کے موتیہاری چینی مل میدان اور چھپرہ ہوائی اڈے کے میدان میں ریلیوں سے خطاب کیا ۔وزیراعظم نریندر مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس ،آر جے ڈی اتحاد پانچ کے کٹہ،کرورتا ،کٹھوتا ،کشاشن اور کرپشن کی علامت ہے ۔انہوں نے کہا یہ پانچ کے “ آر جے ڈی کے جنگل راج کی پہچان ہے ۔آر جے ڈی ،کانگریس کا چناو¿ منشور حقیقت میں ایک رینٹ چارٹ ہے ان کے وعدے رنگداری ، پھروتی ،کرپشن ،لوٹ کے ہیں ۔انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کی ریلیوں میں کس طرح کے گانے بجائے جارہے ہیں ۔ان میں کٹہ ،پھوٹا ،دونالی اور بہن بیٹیوں کے اغوا کی بات ہے ۔مودی نے مظفر پور اور چھپرہ میں اپنی ریلیوں میں دعویٰ کیا کہ ریاست میں آر جے ڈی کے اقتدار کے دوران پینتیش سے چالیس ہزار اغوا کی وارداتیں ہوئیں اور غنڈے گاڑی شوروم لوٹتے تھے ۔ان کا اشارہ سابق وزیراعلیٰ راوڑی دیوی کی سب سے بڑی بیٹی میسا بھارتی کی شادی کی جانب تھا ۔میسا حال ہی میں پاٹلی پتر سے ایم پی ہیں ۔مودی نے کہا دوسری طرف این ڈی اے کلچرل وراثت کو محفوظ کرنے اور عزت دینے و بہار سمیت دیگر ریاستوں کا سنہرہ وکاس یقینی کرنے کا حامی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ سبھی سروے بتا رہے ہیں کہ آر جے ڈی کانگریس کو سب سے اب تک کی سب سے کم سیٹیں ملیں گی۔این ڈی اے کو سب سے بڑی جیت ملے گی ۔مودی نے کہا این ڈی اے سرکار چھٹھ پوجا کو یونیسکو کی ورلڈ وراثت فہرست میں شامل کروانے کے لئے کوشش کرے گی ۔دوسری طرف آر جے ڈی کی بھکتی ،شمتا ،ممتا ،سمرتا کے مہا پروو کو ڈرامہ ،نوٹنکی بتا رہے ہیں ۔انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے کبھی آر جے ڈی اور کانگریس والوں کو رام مندر جاتے دیکھا کیا؟ انہیں ڈر ہے کہ ایودھیا میں پربھو شری رام کے درشن کر لیں گے تو ان کے ووٹ بینک ناراض ہو جائیں گے ۔اور خوشامدی کا حساب کتاب بگڑ جائے گا۔
آپ کی آستھا پر جو لوگ احترام نہیں کر سکتے وہ کبھی بھی یہاں آستھا کے استھلوں کا وکاس نہیں کر سکتے ۔پی ایم نے کہا کہ این ڈی اے کا عزم ہے کہ بہار میں پڑھائی ،کمائی ،دوائی اور سینچائی کے بھرپور مواقع بنیں ۔یہاں کے بیٹا بیٹی اب ہجرت نہیں کریں گے ۔بلکہ یہیں کام کر بہار کا نام روشن کریں گے ۔پی ایم نے جی ایس ٹی چھوٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بہار کے نوجوانوں نے اس سال ستمبر اکتوبر میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکلیں خریدیں۔جنگل راج میں نئی گاڑی خریدتے ہی آر جے ڈی کے غنڈے پیچھے لگ جاتے تھے۔
(انل نریندر)
01 نومبر 2025
اور اب بہار چناﺅمیں راہل کی انٹری
بہار اسمبلی چناﺅ کی مہم اب آہستہ آہستہ اپنے شباب پر پہنچی جارہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ، بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو میدان میں اتر ہی چکے ہیں۔اگر کمی محسوس کی جارہی تھی تو کانگریس لیڈر لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کی۔ سیاسی گلیاروںمیں سوال پوچھا جارہا تھا کہ پچھلے ایک مہینے سے زیادہ راہل گاندھی کہاں غائب رہے؟ جب بہار کی چناﺅ مہم اپنے شباب پر پہنچتی جارہی ہے ایسے میں راہل گاندھی کی غیر موجودگی پر طرح طرح کے سوال کھڑے ہو رہے تھے۔ آخر کا راہل گاندھی بہار پہنچ ہی گئے اور اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے ڈرامائی انٹری کی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔راہل گاندھی نے مظفرپور سے اپنی پہلی چناوی ریلی کی شروعات کی اور دربھنگہ میں بھی ایک ریلی سے خطاب کیا ۔راہل گاندھی کی ریلیوں نے ہی ہنگامہ کھڑا کر دیا ۔اپنی پہلی ریلی میں ہی انہوںنے کچھ ایسا کہا جس پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔انہوں نے اپنی پہلی ریلی میں وزیراعظم نریندر مودی پر قابل اعتراض تبصرہ کر ڈالا۔راہل گاندھی نے کہا انہیں صرف آپ کو ووٹ چاہیے اگر آپ کہیں گے نریندرمودی جی آپ ڈرامہ کرو تو وہ کر دیں گے۔انہوں نے کہا ہم آپ کو ووٹ دیں گے اور آپ اسٹیج پر آکر ڈانس کرو تو وہ ڈانس بھی کر دیں گے۔چناو¿ سے پہلے جو بھی کرانا ہے کرا لو ۔چونکہ چنا و¿ کے بعد نریندر مودی دکھائی بھی نہیں دیں گے ۔چناو¿ کے بعد نریندر مودی جی امبانی جی کی شادی میں دکھائی دیں گے۔کسانوں مزدوروں کے ساتھ نہیں بلکہ سوٹ ووٹ والوں کے ساتھ دکھائی دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ آپ کے ووٹ چوری میں لگے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ چاہتے ہیں یہ الیکشن والی بیماری ختم کر دو مہاراشٹر ہریانہ میں انہوں نے چناو¿ میں چوری کی ہے اور بہار میں پوری کوشش کریں گے ۔بہار کی آوازکی سرکار نہ بنے ۔مہا گٹھ بندھن کی گارنٹی ہے کہ ہر طبقہ ذات ،مذہب کی سرکار بہار میں بنائیں گے کسی کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے اسی دوران راہل گاندھی نے کہا کہ 20 سال سے نتیش کمار حکومت چلار ہے ہیں ،تعلیم ،ہیلتھ او رروزگار کے لئے انہوں نے کیا کیا ہے ؟ کیا جنتا ایسا وکاس چاہتی ہے جہاں اڈانی کو ایک دو روپے میں زمین دی جائے اور لوگوں کو روزگار نہ ملے ۔راہل گاندھی کے بیان کے بی جے پی نے مذمت کی ہے ۔بی جے پی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری نے ایکس پر پوسٹ کر راہل گاندھی کے بیان کو ایک لوکل غنڈے جیسی زبان بتایا اور لکھا راہل گاندھی ایک لوکل غنڈے کی طرح بولتے ہیں ۔راہل گاندھی نے کھلے طور پر بھارت اور بہار کے ہر غریب اور ہر اس شخص کی بے عزتی کی ہے جنہوں نے وزیراعظم نریندر مودی جی کو ووٹ دیا ہے ۔راہل گاندھی نے ووٹروں اور ہندوستانی جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے وہیں دربھنگہ کی ریلی میں راہل گاندھی نے کہا کہ امت شاہ کہتے ہیں کہ زمین کی کمی ہے ۔تو پھر اڈانی کو ایک روپے میں کونسی زمین دی جارہی ہے ؟ انہوں نے کہا جب امبانی اڈانی کو زمین دینی ہوتی ہے تو زمین مل جاتی ہے ،جب کسان سے زمین چھیننی ہوتی ہے تووہ منٹ میں زمین مل جاتی ہے ۔جب بہار کے بچوں کو بزنس یا کارخانہ چلانا ہوتو امت شاہ کہتے ہیں بہار میں زمین نہیں ہے ۔اسی دوران راہل گاندھی نے شاید پہلی بار کھلے طو رسے اعلان کیا کہ مہا گٹھ بندھن کی سرکار کے وزیراعلیٰ تیجسوی یادو ہوں گے ۔چلتے چلتے راہل نے کہہ دیا کہ این ڈی اے سرکار نے ریاست کو تعلیم صحت اور روزگار کے محاذوں پر پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بہارکی جنتا اب انڈیا بلاک کی جانب امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے ۔ہم بہار کو ہر معاملے میں نمبر ون بنائیں گے ۔ہمیں میڈ ان چائنا نہیں اب میڈ ان بہار چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام پر بھی سوال کھڑے کئے اور کہا ریاست کے نوجوان دن رات محنت کررہے ہیں لیکن آخر میں پیپر لیک ہو جاتا ہے ۔کچھ چنے لوگوں کو ایگزام سے پہلے ہی پیپر دے دیا جاتا ہے یہی تعلیمی نظام کا حال بدلنا ہے ۔آپ راہل گاندھی کی دلیلوں سے متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اس میں بہت دم ہے اور بہار میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔
(انل نریندر)
30 اکتوبر 2025
بہار چناومیں خواتین کارول!
بہار اسمبلی چناو¿ میں اس بار ایک بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے چناو¿ میں پہلے کے مقابلے عورتوں کی زیادہ حصہ داری دیکھنے کو مل رہی ہے ۔کئی ایسی اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکی بیٹیاں بھی چناوی میدان میں اتری ہیں جن کے کاندھوں پر والد کی سیاسی وراثت کو آگے لے جانے کی چنوتی ہے۔اسمبلی چناو¿ میں اس بار جو اچھی بات دیکھنے کو مل رہی ہے وہ ہے عورتوں کی ساجھیداری جو عام طور پر کم دیکھنے کو ملتی ہے ۔میدان میں ایسی خواتین داو¿ آزما رہی ہیں جنہوں نے بڑے بڑے تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے ۔بہار کی ان بیٹیوں کو لے کر چناوی دنگل میں اترنے کی ہمت دکھانے والی ان بیٹیوں کا آنا ایک اچھا اور نیک اشارہ مانا جائے گا ۔حکمراں پارٹی این ڈی اے کی بات کریں تو وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بزرگ اور بیوہ پنشن بڑھا دی ہے۔ڈومیسائل پالیسی کے تحت بہار کی سرکاری نوکریوں میں 35 فیصدمقامی عورتوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔رضاکار آشا ورکروں اور آنگن واڑی دیدیوں کی تنخواہ بھی بڑھا دی ہے دوسری طرف تیجسوی یادو نے عورتوں کو 2500 روپے ماہانہ دینے کا اعلان کیا ہے اور ٹیچر دیدیوں کی تنخواہ 30 ہزار کرنے کا اعلان کیا ہے اس کے علاوہ مہا یوجنا کے تحت کئی اسکیموں کے بھی اعلان کئے ہیں ۔دراصل بہار میں بڑی تعداد میں مردوں کے روزگار کے لئے ریاست سے ہجرت کی وجہ سے عورت ووٹروں کی ووٹنگ پیٹرن مردوں سے زیادہ رہی ہے ۔سال 2020 کے اسمبلی چناو¿ میں بھی عورتوں نے مردوں کے مقابلے زیادہ پولنگ کی تھی پچھلے اسمبلی چناو¿ میں مردوں نے 54.45 فیصد ووٹ ڈالے تھے تو عورتوں نے 56.69 پولنگ کی تھی ۔مطلب مردوں کے مقابلے نے عورتوں نے قریب 2 فیصد زیادہ ووٹ ڈالے تھے ۔ٹیچروں آنگن واڑی رضاکاروں آشا ورکروں کی مدد سے چناو¿ کمیشن نے بھی عورتوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے ترغیب دینے اور انہیں بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔کئی سیٹوں پر عورتیں مضبوطی سے ٹکر دینے کے لئے تیار ہیں ایسے میں اس بار مہا گٹھ بندھن کے مقابلے میں این ڈی اے نے عورتوں کو زیادہ بھروسہ جتایا ہے ۔جانکاری کے مطابق این ڈی اے کی 5 اتحادی پارٹیوں نے مل کر 34 عورتوں کو چناوی میدان میں اتارا ہے جبکہ انڈیا اتحاد کی سات پارٹیوں نے مل کر صرف 31 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔این ڈی اے کی بات کریں تو بی جے پی اور جے ڈی یو 101-101 سیٹوں پر مل کر چناو¿ لڑ رہی ہے اس کے ساتھ ہی دونوں پارٹیوں نے 13-13 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔دیگر پارٹیوں کی بات کریں تو چراغ پاسوان کی ایل جے پی جن کے حصے میں 24 سیٹیں آئی ہیں نے 5 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔جتن رام مانجھی نے دو سیٹوں پر اوپندر کشواہا نے ایک عورت کو ٹکٹ دیا ہے ۔خواتین امیدوار اپندر کشواہا کی خاتون امیدوار اوپندر کشواہا کی بیوی ہیں ۔اسی طرح انڈیا اتحادکی بات کریں تو 254 سیٹوں پر لڑ رہی ہے آر جے ڈی نے 24 عورتوں کو چناوی میدان میں اتارا تھا ۔حالانکہ موہنیا سیٹ سے امیدوار شویتا سمن کی نامزدگی منسوخ ہو گئی ہے جس کے بعد یہ نمبر 23 رہ گیا ہے ۔کانگریس 61 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے اور اس نے 5 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔اس کے علاوہ سی پی آئی ایم ایل جو 20 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے نے صرف ایک خاتون کو ٹکٹ دیا ہے۔جبکہ وی آئی پی اور آئی آئی پی نے بھی ایک ایک عورت پر بھروسہ جتایا جبکہ کمیونسٹ پارٹیوں نے کسی عورت کو ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔بہار میں اقتدار میں آنے کے لئے عورتوں کا ووٹ اہم مردوں سے زیادہ عورتوں کا پولنگ فیصد زیادہ رہا ۔بہار میں جب سے نتیش کمار وزیراعلیٰ بنے ہیں انہیں ریاست کے اقتدار کے اونچی چوٹی پر پہنچانے میں عورتوں نے ہمیشہ اہم رول نبھایا ہے ۔اس بار بھی مہیلا ووٹر اگلی بہار سرکار بننے میں اہم کردار نبھائے گی۔
(انل نریندر)
28 اکتوبر 2025
کون بنے گا این ڈی اے کا وزیراعلیٰ؟
بہار اسمبلی چناو¿ 2025 جیسے جیسے قریب آرہے ہیں این ڈی اے یعنی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو لے کر سسپنس بڑھتا جارہا ہے ۔مہا گٹھ بندھن نے جہاں تیجسوی یادو کو سی ایم فیس ڈکلیئر کر چناوی میدان میں صاف سندیش دیا کہ چناو¿ کے بعد تیجسوی ہی وزیراعلیٰ بنیں گے ۔وہیں این ڈی اے کی طرف سے ابھی تک کوئی چہرہ ڈکلیئر نہیں کیا گیا ۔جب حال ہی میں مرکزی وزیرداخلہ اور بی جے پی کے چانکیہ امت شاہ سے اس پر تلخ سوال پوچھا گیا کہ آپ کے اتحاد کا سی ایم فیس کون ہوگا تو انہوں نے صاف کہا کہ اسمبلی چناو¿ کے بعد اسمبلی پارٹی کا لیڈر بہار کا وزیراعلیٰ طے کرے گا ۔یعنی کہ انہوںنے صاف اشارہ دیا کہ ابھی وزیراعلیٰ کون ہوگا یہ ابھی طے نہیں کیا گیا ہے ۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی ) نیتااور مہا گٹھ بندھن کی جانب سے وزیراعلیٰ کے امیدوار تیجسوی یادو نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اگر بہار میں ایک بار پھر این ڈی اے کی سرکار بنی تو نتیش کمار کو وزیراعلیٰ نہیں بنایاجائے گا ۔این ڈی اے نیتا نے دعویٰ کیا امت شاہ پہلے ہی صاف کر چکے ہیں کہ چناو¿ کے بعد ممبرا ن اسمبلی طے کریں گے کہ وزیراعلیٰ کون ہوگا ؟ اگر این ڈی اے کو اقتدار ملا تو نتیش کمار وزیراعلیٰ نہیں بنائے جائیں گے انہوںنے آگے الزام لگایا نتیش کمار کو بھاجپا نے ہائی جیک کر لیا ہے ۔اور گجرات کے دولوگ اشارے کی شکل میں علامتی طور پر مودی اور امت شاہ بہار چلا رہے ہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ نتیش کمار کی آج پوزیشن کیا ہے ؟ کیا وہ وزیراعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہوچکے ہیں؟ یا اندر کھانے نتیش کوئی بڑا کھیل کھیلنے جارہے ہیں ؟ پچھلے بیس سال سے بہار کی سیاست میں دو بہاری نیتا و¿ں کے ارد گرد گھومتی رہی سیاست ۔لالو یادو اور نتیش کمار پچھلی دو دہائیوں سے تو نتیش کی بہار میں سب سے زیادہ سیاسی نیتا رہے ہیں اب سوال یہی ہے کہ کیا چناو¿ کے بعد بی جے پی نتیش کمار کو کنارے کر اپنا وزیراعلیٰ بنائے گی ؟ یا پھر انہیں ایک بار پھر جنتا کا فیس بنا کر اقتدار میں بٹھائے گی ۔سیاسی تجزیہ نگاروں اور اعداد شمار کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے لئے نتیش کو درکنارکرنا آسان نہیں ہے ۔آیے سمجھتے ہیں کیوں؟ 71 سیٹوں کا حساب طے کرے گا ۔فیصلہ اس بار جے ڈی یو 101 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے ان میں سے 71 سیٹیں ایسی ہیں جہاں نتیش کمار کی جے ڈی یو کا مقابلہ سیدھا تیجسوی کی آر جے ڈی اور لیفٹ پارٹیوں سے ہے ۔یعنی 70 فیصدی سے زیادہ سیٹوں پر نتیش اور تیجسوی آمنے سامنے ہیں ۔یہ بڑی حکمت عملی ہے جو بہار کی سیاست میں سالوں سے دیکھی جاتی ہے ۔نتیش اور لالو ،تیجسوی ایک دوسرے کے خلاف زیادہ سیٹوں پر لڑے تاکہ بھاجپا پر انحصار کم ہو ۔بہار میں عام طور پر یہ کہنا ہے کہ دونوں لا لو اور نتیش ایک بات پر ایک رائے ہیں کہ بہار میں کسی بھی حالت میں بی جے پی کو گھسنے نہیں دینا کیوں کہ ایک بار بی جے پی گھس گئی تو اگلے بیس سالوں تک اور پارٹی اقتدار میں نہیں آسکے گی ۔نتیش کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ این ڈی اے اگر اقتدار میں آیا تو مکھیہ منتری کوئی اور ہی ہوگا ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے اند ر اپنا وزیراعلیٰ بنانے کی خواہش بھلے ہی پرانی ہو لیکن اس بار وہ سبھی وجوہات اتنی آسان نہیں ہے کیوں کہ جے ڈی یو بھلے ہی کم سیٹوں پر چناو¿ لڑے لیکن اس کی جیتنے والی سیٹ آر جے ڈی کے خلاف ہوگی ۔جس سے بھاجپا کے دباو¿ کی گنجائش کم رہ جائے گی۔بہار میں سیاسی تاریخ گواہ ہے نتیش کبھی بھی پالا بدلنے میں جھجھکتے نہیں ہیں۔چودہ نومبر کو نتیجے بھی آجائیں گے ۔نتیجے جو بھی ہوں لیکن اشارہ صاف ہے بھاجپا کی حکمت عملی چاہے جتنی بھی جارحانہ کیوں نہ ہو نتیش کمار ابھی بھی این ڈی اے کی یونیفائیڈ سیاست کے پاور بیلنسر بنے ہوئے ہیں ۔جے ڈی یو کے پاس اتنی سیٹیں بھلے ہی نہ ہوں کہ وہ سرکار اکیلے بنا سکے لیکن اتنا ضرور ہے کہ بغیر اس کے بی جے پی کا وزیراعلیٰ بننا تقریباً ناممکن ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا
مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...