Translater

02 جنوری 2025

54 کلو سونے کی کار!

کچھ دن پہلے بھوپال کے میڈوٹی نے کار سے54 کلو سونا اور 10 کروڑ روپے کی نقدی کے علاوہ ٹرانسپورٹ محکمہ کی کالی کمائی سے جڑے ایک ڈائری بھی ملی ہے ۔جمعہ کی رات میں ایک انوا کار سے بھوپال کے دوردراز علاوہ کے جنگل میں ایک کار کھڑی ملی تھی مکامی لوگوں نے بتایا کے کچھ ہتھیار بند لوگ اسے چھوڑکر جاتے دیکھے اس کے بعد انکم ٹیکس افسر وہاں پہنچے اور کار اور سونا پیسے قبضہ میں لے لیے اس کے بعد معاملے میں ایک بڑا موڑ آیا ہے ۔مدھیہ پردیش کے ایک سابق افسر کی رہنمائی میں کروڑوں روپے کے لین دین کا معاملہ سامنے آیا ہے اس کے بعد ای ڈی محکمہ محصولات اور لوک آیوکت وغیرہ کئی ایجنسیاں معاملے کی مختلف پہلوﺅ پر جانچ کر رہی ہیں ۔مدھیہ پردیش ٹرانسپورٹ محکمہ میں کانسٹیبل رہے سوربھ شرما کی جانچ ہو رہی ہے اور گھر پر چھاپے میں 287 کروڑ روپے نقد اور 234 کلو چاندی سمیت کروڑوں روپے کی املاک کے کاگذات ملے ہیں ۔جس کار سے پیسہ برآمد ہوا وہ چیتن گوڈ کے نام پر ہے وہ سوربھ شرما کا ساتھی بتایا جا رہا ہے ۔جس کی تلاش ہو رہی ہے ۔وہ دبئی بھاگ گیا ہے پیسہ کا سورس کا پتا لگانے کے لئے ایجنسیاں اس کے بارے میں بن رہی کہانیوں پر غور کر رہے ہیں ۔کانسٹیبل کے طور پر ملازم رہے سوربھ شرما نے نوکری چھوڑ کر رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں قدم رکھا اور بڑے افسران سے جڑے کرپشن کے معاملے بھی سامنے آ رہے ہیں سوربھ کے پتا سرکاری ڈاکٹر تھے اور 2015 میں موت کے بعد سوربھ کو ٹھےکے پر نوکری ملی اس نے 2023 میں نوکری چھوڑ دی اور رئیل اسٹیٹ کاروبار میں قدم رکھا اور بڑے بلڈروں سے قربت بنائی ۔اس کے بعد اس نے تیزی سے ترقی کی اس نے اسکول ہوٹل اور کئی بڑے کمرشئل اسٹیٹ بنائے جو اس کی ماں بیوی اور رشتے داروں کے نام پر ہیں ۔انکم ٹیکس محکمہ نے قریب 100 کروڑ روپے کے ناجائز لین دین کا پتہ لگایا ہے ۔اس کی پراپرٹی کو دیکھ کر سبھی حیران ہیں ۔اور ایک سپاہی کے گھر سے 232 کلو چاندی جس کی مالیت پونے دو کروڑ ملی ہے ۔اس کے علاوہ اس کے فارم ہاﺅس کے اندر کار سے 54 کلو سونا اور 11 کروڑ کیش کا لنک بھی جڑا ہے ۔سب سے بڑا سوال یہی ہے کیا سوربھ نے اکیلے اپنے دم پر اتنا بڑا کاروبار کھڑا کیا ہے ؟یا اس کے پیچھے کسی بڑے نیتا کا ہاتھ ہے؟ نیتا افسر وں کی سرپرستی نہ ہو تو ایک سپاہی اتنی بڑی پراپرٹی نہیں اکھٹی کر سکتا ۔سوربھ فی الحال فرار ہے شاہد ہی پورے قصہ کا پتہ چلے پورے معاملے کو دبا دیا جائے گا تاکہ اس کے پیچھے راز کبھی نہ کھلےں۔ (انل نریندر)

نشانے پر موہن بھاگوت!

رام مندر کے ساتھ ہندوﺅ کی عقیدت ہے لیکن رام مندر تعمیر کے بعد کچھ لوگوں کو لگتا ہے کے وہ نئی جگہ پر اسی طرح کے اشو کو اٹھاکر ہندوﺅ کا نیتا بن سکتے ہیں۔یہ قبول نہیں ہے ۔یہ بات آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے ایسے وقت پر کہیں ہے جب دیش میں مندر مسجد والے نئے باب لکھے جا رہے ہیں۔اپسانا استھل ایکٹ پر چل رہی بحث کے بیچ دیش میں سنبھل ،متھرا ،اجمیر اور کاشی سمیت کئی مقامات پر مساجد کے نیچے قدیم مندروں کا ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور جگہ جگہ خدائی کی جا رہی ہے اور بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں ۔19 دسمبر کو پونے میں ہندو سیوا مہوتسو کے افتتاح کے موقع پر بولتے ہوئے موہن بھاگوت نے اس ماحول پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایک بار پھر مندر مسجد تنازعہ چیپٹر کو بند کرنے کی بات کہی ہے ۔ترسکار اور شنبھوتا کے لئے ہر روز نئے نئے معاملے کھڑے کرنا ٹھیک نہیں ہے اور ایسا نہیں چل سکتا موہن بھاگوت کے بیان کے بعد نہ صرف سیاسی گلیاروں اس مسلے میں کھیچ ج تان شروع ہو گئی ہے بلکہ کئی بار ساتھو سنتوں نے بھی ان کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے ۔موہن بھاگوت کے بیان پر سوامی رام بھٹا چاریہ نے نقتہ چینی کرتے ہوئے سوال کھڑے کئے اور کہا کے موہن بھاگوت کا شخصی بیان ہو سکتا ہے یہ سب کی نمائندگی نہیں کر سکتا وہ کسی ایک تنظیم کے سربراہ ہو سکتے ہیں ۔ہندو دھرم کے وہ چیف نہیں ہیں ہم ان کی بات مانتے ہیں لیکن وہ ہمارے راہ عمل نہیں ہے ۔ہم ان کے سیرو کار ہیں ہندو مذہب کے لئے وہ ٹھےکے دار نہیں ہے ۔ہندو دھرم اچاریوں کے ہاتھ میں ہے ان کے ہاتھ میں نہیں ۔جوتی مٹ کے شنکر اچاریہ مکتانند بھی موہن بھاگوت کے بیان کے بعد غصہ میں ہیں ۔اے بی پی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا جو لوگ آج کہہ رہے ہیں کے ہر جگہ مندر تلاشنا نہیں چاہئے انہیں لوگوں نے تو بات بڑھائی ہے ۔اور بڑھاکر اپنا قتدار حاصل کر لیا ہے اب اقتدار میں بیٹھنے کے بعد مشکل ہو رہی ہے شنکر اچاریہ نے آگے کہا اب کہہ رہے ہیں بریک لگاﺅ اب جب آپ کو ضروت ہو تو آپ گاڑی اسٹارٹ کر دو اور جب آپ کو ضرورت لگے بریک دبا دو یہ سہولیت کی بات ہے ۔انصاف کی جو کارروائی ہے وہ سہولت نہیں دیکھتی اس مسئلے پر بابا رام ددیو نے کہا کے یہ سچ ہے کے آرکٹیکٹ نے آکر ہمارے مندر دھرم استھان اور سناتن کے نشانات کو مٹا دیا ہے اور اس دیش کو نقصان پہنچایا ہے انہوںنے آگے کہا تیرتھ استھلو دیوی دیوتاﺅ کی مورتیوں کو توڑنے والوں کو سزا دینے کا کام عدالتوں کا ہے انہیں اس کا پھل ملنا چاہئے یہ پہلی بار نہیں ہے جب ایک پرمکھ نے دیش کے مسلمانوں کو ساتھ لیکر چلنے اور مسجدوں میں مندر نہ ڈھونڈنے کی صلاح دی ہے ۔یاد رہے ان کا بیان ہر مسجد میں شیولنگ کیوں دیکھنا ؟سینئر صحافی اشوک وانکھڑے کہتے ہیں جس طرح سے دھرم گرو اور کتھا واچک موہن بھاگوت کے بیان پر رضا مندی نہ چتا رہے ہیں سوشل میڈیا پر فوراً انہیں آر ایس ایس چھوڑنے کو کہہ رہے ہیں یہ اب بغیر دہلی کے آشیر واد کے ممکن نہیں ہے یہ صاف ہے کے موہن بھاگوت کے خلاف کھل کر مورچہ کھول دیا گیا ہے یہ دہلی کے اقتدار اور موہن بھاگوت کے درمیان سیدھی لڑائی ہے یہ کھیچ تان کہا تک بڑھ سکتی ہے دیکھان باقی ہے ۔ (انل نریندر)

31 دسمبر 2024

اور اب ایشور اللہ تیرو نام پر ہنگامہ!

بہار میں لوک گائیکا دیوی کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اس محبوب” بھجن رگھوپتی راگھو راجا رام“پر معافی مانگنی پڑی یہ واقعہ 25 دسمبر کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واچپئی کی جینتی پر منعقد ایک پروگرام میں ہوا ۔ماہر تعلیم مدن موہن مالویہ کی جینتی پر واچپئی کی سدی تقریبات برس پر اٹل وچار کونسل اور دنکر نیاس کمیٹی نے پٹنہ کے باپو اڈیٹوریم میں دو روزہ پروگرام کیا تھا اٹل وچار کونسل کے بانی سابق مرکزی وزیر اشونی کمار چوبے نے بتایا کے اس پروگرام میں پہلے دن گاندھی میدان میں اٹل دوڑ کا انعقاد کیا گیا تھا اور دوسرے دن دیش بھر سے آئے لوگوں کو اٹل سمان دیا جانا تھا ارجت شیخاوت بھاگل پور سے ممبر اسمبلی ہیں ان کا کہنا ہے لوک گائیکا دیوی کی فلائٹ تھی اس لئے ان کو اٹل سمان دینے کے بعد ان کا ایک گیت سن کر انہیں بدا کرنا تھا یہ ان کا گیت گاندھی اور اٹل جی دونوں کا محبوب بھجن گایا تھا جس پر پیچھے بیٹھے کچھ لوگوں نے ہنگامہ کر دیا ،دینی نے باپو کے پریہ بھجن ایشور اللہ تیروں نے گانا شروع کیا تو اڈیٹوریم میں ہنگامہ شروع کر دیا کہا گانے میں صحیح لائنوں کو نہیں پڑھا گیا اس کو لیکر اپنی بات رکھ رہیں تھی کے اتنا شور غل ہوا کے لوگ ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھے ۔اس درمیان دیوی نے بھارت ماتا کی جے اور اٹل بہاری واچپئی امر رہے کے نارے لگائے تو لوگوں نے جے شری رام کے نارے لگانے شروع کر دئے جب یہ ہنگامہ شروع ہوا اور دیوی کو چڑایا جا رہا تھا تب ایم پی روی شنکر پرساد ،سنجے پاسوان ،سی پی ٹھاکر بھی موجود تھے اس واقعہ کے وائل ویڈیو میں رگھوپتی راجا رام گانے کے بعددیوی سب سے معافی مانگتے ہوئے کہتی ہیں تو اگر میرے سے کسی کو تکلیف ہوئی ہے تو میں سب سے معافی مانگتی ہوں۔دیوی کے یہ کہنے کے بعد وہ اسٹیج سے ہٹتی ہیں اور بی جے پی نیتا اشونی چوبے جے شری رام کا نعرہ لگواتے ہیں ۔جے ڈی یو ترجمان نول شرما کا کہنا ہے بہار مہاتما گاندھی کی کرم استھلی ہے اور بہار سرکار کے کسی بھی دفتر میں گاندھی جی کے اسول لکھے مل جائےں گے اور ہمارے نیتا میں ہماری کٹر عقیدت ہے ۔کانگریس نے اس واقعہ پر بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا ۔کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے ایکس پر لکھا باپو کا پریہ بھجن گانے پر بھاجپا نیتاﺅں نے لوک گائیکا دیوی جی سے برا برتاﺅ کرنے اور ان کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا راگھو پتی راگھو راجا رام پنڈت پون سیتا رام نہیں سنا گیا ۔انہوںنے لکھا دنیا کو دکھانے کے لئے باپو کو پھول چڑھاتے ہیں لیکن ان کی کوئی عزت نہیں کرتے دکھاوے کے لئے بابا صاحب امبیڈ کر کا نام لیتے ہیں اسل میںیہ ان کی بے عزتی کرتے ہیں وہیں لالو پرساد یادو نے کہا سنگھیوں اور بھاجپائیوں کو جے سیا رام ،جے سیتا رام کے نارے سے شروع سے ہی نفرت ہے کیوں کے اس میں ماتا سیتا کی تعریف ہے یہ لوگ شروع سے ہی خاتون مخالف ہیں اور انہوںنے گلوکارہ دیوی سے مائک پر معافی منگوائی اور ماتا سیتا کے جے سیتا رام کے بجائے جے شری رام کے نارے لگوائے۔(انل نریندر)

منموہن جن کے7 فےصلے جنہوںنے دیش کی سمت بدل دی!

جمعرات کی شام سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد دیش دنیا بھر میں لوگ ان کے اشتراک کی بات کر رہے ہیں۔سال 2004 سے لیکر 2014 تک بھارت کے وزیراعظم کی کرسی سنبھالنے والے منموہن سنگھ کو اقتصادی اصلاحات کے طور پر دیکھا جاتا ہے 1991 میں وزیراعظم پی وی نرسمہا راﺅ کی قیادت والی کانگریس سرکار میں منموہن سنگھ کو وزیر خزانہ بنایا گیا تھا ان کی بنائی پالیسیوں نے دیش میں لائسنس راج ختم کر اصلاحت کے ایسے دروازے کھولے جس سے بھارت کو نہ صرف سنگین اقتصادی بہران سے بچایا بلکہ دیش کی سمت بدل ڈالی ۔10 سال کے ان کے اہد میں کئی بڑے فیصلے لئے گئے جو میل کا پتھر ثابت ہوئے اطلاعات کا وقت یعنی آر ٹی آئی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے عہد میں 12 اکتوبر 2005 کو لاگو ہوا ۔یہ قانون ہندوستانی شہریوں کو سرکاری حکام اور اداروں سے معلومات مانگنے کا حق دیتا ہے ۔یہ وہ حق ہے جس سے شہریوں کو جانکاری شئر کرنے کا فیصلہ کا موقع اور خواہش کے مطابق اقتدار کا استعمال کرنے والوں سے سوال پوجھنے کا بھی ہے اس سے نہ صرف افسر شاہی اور لال فیتا شاہی کے ٹال مٹول بھرے رویہ کو دور کرنے میں بھی مدد ملی ہے ۔منموہن کی سرکار نے5 200میں منریگا بنایا جسے 2 فروری 2006 سے لاگو کیا گیا اس اسکیم تحت دیہات میں رہنے والے ہر خاندان کو کم سے کم 100 دن مزدوری کی گارنٹی دی گئی ۔اس ہوجنا نے نہ صرف دیہی علاقوں میں غریبی بلکہ شہروں کی طرف ہجرت کو بھی کم کیا ہے ۔پہلی ہی سال اس اسکیم کے تحت 2.10 کروڑ خاندانوں کو روزگار دیا گیا ہے تب یومیہ روزگار پانے والے شخص کو روزانہ 65 روپے ملتے تھے سال 2008 میں کانگریس کی یو پی اے سرکار نے دیش بھر کے کسانوں کا قرض معاف کرنے کا فیصلہ لیا ۔اس سے اندازاً 3.69 کروڑ جھوٹے اور درمیانے کسانوں کو راحت ملی ہے ۔کانگریس نے 2009 کے عام چناﺅ میں خوب بھنایا نتیجہ یہ ہوا ایک بار پھر کانگریس کی سرکار بنی سال 2008 میں بھارت اور امریکہ کے بیچ نیوکلائی اشتراک معاملے پر معائدے پر دستخط کئے گئے ۔سرد جنگ کے بعد سے امریکہ کا جھکاﺅ پاکستان کی طرف تھا ۔لیکن اس معائدے کے بعد امریکہ اور بھارت کے رشتوں نے ایک تاریخی موڑ لے لیا ۔اس مشکل گھڑی میں صدر ڈاکٹر عبدکلام اور سپا کے تعاون سے منموہن سرکار اپنے مقصد میں کامیاب رہی ۔سال 2008 میں دنیا بھر میں معالی بہران مچا ہوا تھا اور ہر کونے سے شئیر بازار وں کے پیسہ ڈوبنے کی خبرے آ رہی تھی۔سرمایا کاروں کے لاکھوں کروڑوں روپے ہر روز ہوا ہو رہے تھے ۔جب لگا کی ہندوستانی معیشت چرمراجائے گی تبھی منموہن سنگھ کی سوچھ بوچھ نے حالات سنبھالنے شروع کئے اور یہ سلسلہ ایسا چلا بھارت اقتصادی مندی کی ذد میں آنے سے بچ گیاسال 2010 میں منموہن سرکار نے دیش میں تعلیم کا حق لاگو کیا اس کے تحت 6 سے 14 سال تک کے بچوں کو تعلیم مہیاءکرانا آئینی کرانے کا آئینی حق لاگو کیا گیا اس قانون میں تعلیم کی کوالیٹی سماجی ذمہ داری ،پرائیویٹ اسکولوں میں ریزرویشن اور اسکولوں میں بچے کے داخلے کو افسر شاہی سے آزاد کرانے کا سہولت بھی ہے ۔سال 2013 میں دیش کے غریب لوگوں کو فوڈ گارنٹی کےلئے منموہن سرکار نے نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ لاگو کیا یہ ایکٹ دیش میں 81.35 کروڑ آبادی کو کور کرتا ہے آج بھی مودی سرکار اس اسکیم کا نام بدل کر چلا رہی ہے ۔منموہن سنگھ نے جب کہا تھا کے تاریخ ان کی اندازے میں ہال کے مقابلے زیادہ بڑھےگا تو اس سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی منموہن سنگھ کے اشتراک کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ تاریخ میں انکا اشتراک درج ہو گیا ہے ۔ہم اس مہان آتمہ کو شردھانجلی دیتے ہیں ۔(انل نریندر)

28 دسمبر 2024

بدلے قواعد سے کیا شفافیت پر اثر پڑے گا ؟

مرکز کی مودی سرکار نے چناو¿ کمیشن کی اس سفارش کو لاگو کیا اس کے بعد کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں اس پر سوال اٹھارہی ہیں ۔دراصل مرکزی سرکار نے چناوی قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے دستاویزوں کے ایک حصے کو عام جنتا کی پہنچ سے روک دیا ہے ۔حکومت کے آئینی و انصاف وزارت نے گزشتہ جمعہ کو چناو¿ کمیشن کی سفارشوں کی بنیاد پر سی سی کیمرہ اور ویب کاسٹنگ فوٹیز کو جنتا کے سامنے لانے پر جنتا کے سامنے پابندی لگا دی ہے ۔کانگریس نے اس قدم کو آئین اور جمہوریت پر حملہ بتایا ہے ۔کانگریس صد ر ملکا ارجن کھڑگے نے ایکس پر لکھا مودی سرکار کے ذریعے چناو¿ کمیشن کی آزادی کو کم کرنے کی نپی تلی کوشش آئین اور جمہوریت پر سیدھا اٹیک ہے اور ہم ان کی حفاظت کے لئے ہر قدم اٹھائیں گے۔چناو¿ کرانا قاعدہ 1961 کی قواعد 93(2) (A) میں ترمیم سے پہلے لکھا تھا کہ چناو¿ سے متعلق دیگر سبھی پبلک جانچ کے لئے کھلے رہیں گے۔ترمیم کے بعد اس قواعد میں کہا گیا ہے کہ چناو¿ سے متعلق ان ضابطوں میں درج دیگر سبھی کاغذات پبلک کئے جانے کے لئے کھلے رہیں گے ۔اس تبدیلی سے چناوی قواعد کے الگ الگ سہولیات تحت چناوی پیپر (جیسے نامزدگی نامہ وغیرہ ) ہی پبلک جانچ کے لئے کھلے رہیں گے ۔امیدواروں کے لئے فارم 17-Cجیسے دستاویز دستیاب رہیں گے لیکن چناو¿ سے متعلق الیکٹرانک ریکارڈ سی سی ٹی وی فوٹیج پبلک طور سے دستیاب نہیں ہوں گے الگ الگ میڈیا رپورٹس میں چناو¿ حکام سے بات چیت کی گئی ۔انڈین ایکسپریس سے چناو¿ کمیشن کے ایک افسر نے نام نا بتانے کی شرط پر کہا کہ پولنگ مرکز کے اندر سی سی ٹی وی فوٹیج کے بیجا استعمال کو روکنے کے لئے قاعدہ میں ترمیم کی گئی ہے ۔سی ٹی وی فوٹیج شیئر کرنے سے خاص طور سے جموں کشمیر ،نکسل متاثرہ علاقوں میں سنگین نتائج ہوسکتے ہیں ۔جہاں رازداری اہم ہے۔ترمیم سے کچھ دن پہلے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے 9 دسمبرچناو¿ کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ وکیل محمود پراچہ کو ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے متعلق ضروری دستاویز دستیاب کرائیں۔مدعاعلیہ نے ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے متعلق ویڈیو گرافی سی سی ٹی وی فوٹیج اور فارم 17-Cکی کاپیاں دستیاب کرانے کے لئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا ریٹرننگ افسر کے لئے جاری بک میں یہ سہولت ہے کہ امیدوار یا کسی شخص کے ذریعے درخواست دئیے جانے پر ایسی ویڈیو دستیاب کرائی جانی چاہیے۔عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے چناو¿ کمیشن کے وکیل نے کورٹ میں کہا کہ مدعالیہ اس نے نہ تو ہریانہ کا باشندہ ہے اور نا ہی انہوں نے کسی اسمبلی حلقہ سے چناو¿ لڑا ہے ایسے میں ان کی مانگ جائزنہیں ہے ۔مدعالیہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ چناو¿ منعقد قاعدہ 1961 کے مطابق امیدوار اور دوسرے شخص کے درمیان یہ فرق ہے کہ امیدوار کو دستاویز مفت دئیے جانے ہیں جبکہ کسی دوسرے شخص کو اس کے لئے مقرر فیس دینا ہوگی ۔وکیل نے کہا تھا کہ وہ مقرر فیس کی ادائیگی کرنے کے لئے تیار ہے۔خواہشمند ہے معاملے میں جسٹس ونود ایس مہاراج کہا تھا کہ چناو¿ کمیشن چھ ہفتے کے اندر ضروری دستاویز دستیاب کرائے اس حکم کو دو ہفتے کے اندر مرکزی سرکار نے چناو¿ کمیشن کی سفارشوں کو ہی لاگو کر دیا ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے یہ ترمیم چناو¿ کمیشن کے طریقہ کار پر ایک اور سوال کھڑا کرتا ہے ۔ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ عرضی گزار کو متعلقہ ڈیٹا دے دیجئے اور اس حکم کے کچھ دن بعد یہ ترمیم کی گئی ہے تاکہ ڈیٹا دستیاب نا کرایا جاسکے۔اس کی ٹائمنگ اپنے آپ میں سوال کھڑا کرتی ہے اور یہ ترمیم پارلیمنٹ سے تو پاس نہیں ہوئی ہے لوگ لگاتار چناو¿ کمیشن کی شفافیت پر سوا ل کھڑے کررہے ہیں اور اب یہ فیصلہ آگیا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ چناو¿ کمیشن شفافیت سے ڈرررہا ہے ۔کانگریس نے اس کو قانونی طور پر چنوتی دینے کی بات کہی ہے ۔دیش کا چناو¿ کمیشن آئینی ادارہ ہے اور وہ آرٹیکل 324 کے مطابق دیش بھر میں چناو¿ کرانے کے لئے قائم کیا گیا ہے ۔گزشتہ کچھ برسوں سے چناو¿ کمیشن کے طریقہ کار کو لے کر مفاد عامہ کی عرضیاں عدالتوں میں دائر کی جاتی رہی ہیں اور اس کی شفافیت کو لے کر طرح طرح کے تنازعہ کھڑے ہوتے رہے ہیں چناو¿ کمیشن پر الزام لگتے رہتے ہیں مودی سرکار کی وہ کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے ۔اپوزیشن پارٹیاں تو یہاں تک الزام لگا رہی ہیں کہ چناو¿ کمیشن بھاجپا کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے ۔پچھلے سال بھی چناو¿ کمشنروں کی تقرری کو لے کر ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا ۔اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا ۔چناو¿ کمیشن کی مختاری کو لے کر سمجھوتہ کرنا مناسب نہیں کہا جاسکتا ۔اگر یہ بلا شبہ مناسب بھی ہے تو شفافیت کی آڑ میں رازداری بھنگ کئے جانے کی چھوٹ جاری رہنے دی جائے ۔کمیشن کو اپنی مختاری کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔چناو¿ کمیشن آخر شفافیت سے اتنا کیوں ڈرتا ہے؟ کانگریسی نیتا جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ کمیشن کے اس قدم کو جلد قانونی طور پر چنوتی دی جائے گی۔وہیں عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے لکھا اس کا مطلب ہے کچھ تو گڑ بڑی ہے۔ٹی ایس آر کے سابق ایم پی جبار نے سرکار سے پوچھا کہ مودی سرکار کا کیا چھپا رہی ہے ؟ آخر چناو¿ قواعد میں اچانک تبدیلی کرکے جنتا کو چناو¿ ریکارڈ اور ڈیٹا کے بارے میں پوچھنے اور جانچ سے کیوں روک دیا گیا ہے؟ (انل نریندر)

24 دسمبر 2024

کسانوں کی مدد کے لئے ہمیشہ چوٹالہ یاد رہیں گے!

سابق نائب وزیر اعظم چودھری دیوی لال کی وراست کو چوٹی تک لے جانے والے چودھری اوم پرکاش چوٹالہ کو زندہ جاوید ،اچھا مقرر اور کسانوں اور ورکروں پر مضبوط پکڑ کے لئے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ان کا شمار ان لیڈروں میں ہوتا ہے جو بنیادی ورکروں کے نام تک یاد رکھتے تھے ۔اور کئی بار تو ان کے گھر میں جاکر ٹھہرتے تھے ۔ہری پگڑی اوم پرکاش چوٹالہ کی پہچان بن گئی تھی۔ایک جنوری 1935 کو پیدا ہوئے اوم پرکاش چوٹالہ چودھری دیوی لال کے سب سے بڑے بیٹے تھے ۔ان کا سیاسی صفر کا آغاز ایک غیر متوقہ سے ہوا ۔1968 میں چھوٹے بھائی پرتاپ سنگھ کے دل بدلنے پر کانگریس نے ان کو ٹکٹ دے دیا اور اوم پرکاش چوٹالہ کو سرسہ کے اعلان آباد اسمبلی حلقہ سے چناﺅ میدان میں اتارا مگر وہ ہار گئے ۔چناﺅ میں دھاندلی کو لیکر وہ سپریم کورٹ بھی گئے اور چناﺅ منسوخ کرایا اور 1970 میں پھر وہ اعلان آباد اسمبلی حلقہ میں ضمنی چناﺅ میں کانگریس کے ٹکٹ پر پہلی بار ممبر اسمبلی بنے 1989 میں جب چودھری دیوی لال دیش کے نائب وزیر اعظم بنے تو انہوںنے اپنی سیاسی وراست کے لئے اپنے بڑے بیٹے اوم پرکاش چوٹالہ کو چنا اور وہ ہندوستانی سیاست میں ایک قد آور شخصیت اور جاٹ فرقہ کے ایک بڑے نیتا بن کر ابھرے وہ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی ذبردست سیاسی سوجھ بوجھ اور حاضر جوابی کے لئے جانے جاتے تھے ۔انہوںنے اپنے والد کے ذریعہ بنائے گئی انڈین نیشنل لوک دل کے چیف تھے اور چودھری دیوی لال کے وزیر اعظم رہنے کے علاوہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ بھی رہے تھے انہیں کسانوں کا مسیحا کہا جاتا تھا۔چودھری اوم پرکاش چوٹالہ بھی اپنے والد کے نکشہ قدم پر چلے اور 1989 میں پہلی بار ہریانہ کے وزیراعلیٰ بنے ۔یکم جنوری 1935 کو پیدا اوم پرکاش چوٹالہ ریاست کے 5 بار وزیراعلیٰ رہے ۔وہ 1989 سے جولائی 1999تک بیچ بیچ میں وزیراعلیٰ بنتے رہے سن 2000 سے 2005 تک اپنا 5 سالہ میعاد پوری کی اس دوران بھاجپا انڈین نیشنل لوک دل کی ساتھی پارٹی تھی حلانکہ وہ سرکار حصہ نہیں تھی 1989 میں جب چودھری دیوی لال جنتا دل سرکار میں نائب وزیر اعلیٰ بنے تو تب اوم پرکاش چوٹالہ وزیر اعلیٰ بنے وہ 6 بار ممبر اسمبلی رہے 1970 میں پہلی بار ممبر اسمبلی بنے۔یہ چوٹالہ پریوار کا گڑ مانا جاتا تھا ۔وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے پوری میعاد میں چوٹالہ کی سرکار آپ کے دوار پروگرام میں ایک بڑی کامیابی اور پہل تھی جب وہ وزیراعلی تھے تب وہ ہر گاﺅں کا دورہ کرتے رہتے تھے اور ان کی ضرورتوں کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ان کی مانگوں پر عمل کرتے ہوئے انہیں کے بیچ فیصلے لیتے تھے ۔سنیچر وار کو ان کی انتم یاترہ میں لاکھوں کی بھیڑ انہیں شردھانچلی دینے پہنچی تھی ۔یہ اب کی مقبولیت کی علامت ہے ۔ہمارے پریوار کے چودھری دیوی لال کے خاندان سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔چودھری اوم پرکاش چوٹالہ اور چودھری دیوی لال کئی مرتبہ پرتاپ بھون آئے اور پتاجی اور چوٹالہ جی خود ملے ہمارے لئے یہ اچھے خیالات رکھتے تھے ۔دخ کی گھڑی ہے ۔بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے ۔اور غم زدی پریوار کو صبر تحمل دے ۔ (انل نریندر)

موہن بھاگوت کا بیان قابل خیر مقدم

مندر مسجد کے روز نئے تنازع سے نکلر کوئی ہندو نیتا بننا چاہتا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کے ہم ایک ساتھ رہہ سکتے ہیں ۔یہ باتیں آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے بدھوار کے روز پنے میں ہندو سیوا مہوتسو کے دوران کہیں اس کے لئے شری بھاگوت نے کئی اہم معاملوں پر اپنی بات رکھی ان کا بیان اس لئے موضوع بحث بنا ۔کیوں کے اس وقت دیش میں سنبھل ،متھرا، کاشی جیسی کئی جگہوں کی مساجد کے دورہ قدیم سے مندر ہونے کے دعویٰ کئے جا رہے ہیں ۔اور ان کے سروے کی مانگ ہو ر ہی ہے اور کچھ معاملے تو عدالتوں میں لٹکے ہوئے ہیں ۔بھاگوت نے کہا ہمارے یہاں ہماری ہی باتیں صحیح باتیں سب غلط یہ نہیں چلے گا ۔الگ الگ اشو رہے تب بھی ہم سب ملکر رہےں گے ۔ہماری وجہ سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو اس بات کا خیال رکھےں گے۔جتنی شردھا میری خد کی باتوں میں ہے اتنی شردھا میری دوسروں کی باتوں میں بھی رہنی چاہئے۔رام کشن مشن میں 25 دسمبر کو بڑا دن بناتے ہیں کیوں کے یہ ہم کر سکتے ہیں کیوں کے ہم ہندوں ہیں اور ہم دنیا میں سب کے ساتھ مل جل کر رہہ رہے ہیں ۔یہ بھائی چارہ اگر دنیا کو چاہئے تو انہیں اپنے دیش میں یہ ماڈل اپنانا ہوگا۔انکا کہنا ہے کے مندر مسجد لڑائی ایک فرقہ وارانہ اشو ہے ۔جس طرح سے یہ مسلے اٹھ رہے ہیں کچھ لوگ نیتا بنتے جا رہے ہیں ۔اگر نیتا بننا ہی ہے اس کا مقام ہونا چاہئے اور اس طرح سے لڑائی جھگڑے مناسب نہیں ہیں ۔لوگ محض ہندو نیتا بننے کے لئے اس طرح کی تحریک چلا رہے ہیں ۔تو یہ صحیح نہیں ہے ۔آر ایس ایس چیف کے اس بیان کے مرید ہوئے مسلم مذہب کے علما اور مسلم مولانا اور لیڈروں نے بھاگوت کے بیان پر خوشی جتائی انہوںنے کہا آج کے ماحول میں ایسا بیان آنا بے حد معائنے رکھتا ہے شیعہ مسلم عالم کلب سبط نوری نے کہا بھاگوت کا بیان بہت مناسب ہے 18-20 کروڑ لوگ مسلمانوں کو الگ تھلگ کرکے بھارت ورلڈ گرو نہیں بن سکتا ۔ڈاکٹر نوری نے بھاجپا نیتاﺅ سے درخواست کی کے وہ آر ایس ایس کے چیف کے سندیش کو آگے بڑھایا جائے اور دیش کا ماحول خراب کرنے کی کوششوں کو روکیں ۔کیرانہ سے سپا ایم پی چودھری اقرا حسن نے بھی آر ایس ایس چیف کے بیان کی حمایت کی ہے انہوںنے کہا پہلی بار ان کے بیان سے اتفاق رکھتی ہوں اور ان کا بیان موجودہ حالات میں صحیح ہے ۔اور اس ضرورت بھی تھی اور مدے بند ہوں۔ دوسرے سپا ایم پی افضال انصاری نے کہا بھاگوت کا بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔کچھ نیتا مشہور ہونے کے لئے اوچھے ڈھنگ سے ایک مذہب مخالف بیان دیکر نیتا بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔اب بھاگوت بولے ہیں ہم استقبال کرتے ہیں ۔کانگریس ایم پی ششی تھرور نے بھی بھاگوت کے بیان سے متعلق اپنے ایکس پر لکھا ہے آر ایس ایس چیف کہتے ہیں یہاں سب برابر ہے اور اس دیش کا رواج یہی ہے کے ہم سب اپنے مرضی سے عبادت کرسکتے ہیں۔اس سے بہتر بیان کیا ہو سکتا ہے ۔امید ہے کے ہر مسجد کے نیچے مندر تلاش کرنے والے بھی موہن بھاگوت جی کے بیان کو مانےں گے اور احترام کریں گے۔ (انل نریندر)

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...