Translater
16 ستمبر 2021
آزاد صحافت کو دبانے کی کوشش!
دو نیوز وئب سائٹ کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس کی کاروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے سنیچر کو کہا سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے آزاد میڈیا کو پریشان کرنے اور ڈرانے کا خطرناک ٹرینڈ بند ہونا چاہئے کیونکہ یہ آئینی جمہوریت کو کمزور کرتا ہے ای ڈی آئی نے واضح کیا انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم 10ستمبر کو آن لائن نیوز پورٹل نیوز کلینک نیوز لانڈری کے دفاتر گئے اور دونوں پورٹل کے بہی کھاتوں کی جانچ کے لئے کاروائی کی گلڈ نے کہا کہ دونوں نیوز ویب سائٹ کے دفاتر میںکھاتوں کا معائنہ کرے کے لئے انکم ٹیکس محکمے کی کاروائی سے پریشان ہیں ۔ اس میں صحافیوں کی حساس ترین معلومات اور ذرائع کی تفصیلات اور خبروں سے وابستہ معلومات او ر دیگر تفصیلات ہو سکتی ہیں ۔ یہ کاروائی پریس کی آزادی کی خلاف ورزی ہے نیو لانڈری کے جوائنٹ ایڈیٹر ابھی نند سیکھری کے ذریعے جاری بیان کے مطابق یہ ان کے اختیارات پر حملہ ہے اور پریس کی آزادی پر حملہ ہے ایڈیٹر س گلڈ آف انڈیا نے کہا کہ پتہ چلا ہے کہ انکم ٹیکس کی محکمے کی ٹیم نے سیکھری کا موبائل اور لیپ ٹاپ کے ساتھ دفتر کے کچھ دیگر مشینوں کے کلون بنائے انہیں کوئی وقت نہیں دیا گیا صاف طور سے اور نہ ہی کاروائی کے حکم کے دستاویزات دیئے گئے صاف طور سے انکم ٹیکس کے قانون کی دفع 133Aکے تحت تشریح سروس کے حکم سے پرے ہے جو صرف جانچ سے متعلق ڈیٹا کی کاپی بنانے کی اجازت دیتا ہے دونوں پورٹل مرکزی سرکار کی پالیسیوں اور طریقہ کار کے نقطہ چینی کرتے رہے ہیں گلڈ نے کہا ایسی چیزوں میں بہت احتیاط اور حساسیت دکھائی جانی چاہئے تاکہ جانچ قاعدوں کے مطابق ہو۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں