Translater

31 جنوری 2026

ایران کو ٹرمپ کی دھمکی!

جس طرح سے امریکہ نے ایران کو چاروں طرف سے جنگی ہتھیاروں و جدید ترین ساز وسامان سے اس وقت گھیر رکھا ہے ایسا جماوڑا ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھا ۔ایئر کرافٹ کیریئروں 500 جنگی جہازوں ، ہزاروں فوجیوں سے اس وقت ٹرمپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو گھیر رکھا ہے ۔ٹرمپ نے ایران پر نیوکلیائی معاہدہ مذاکرات کے لئے دباؤ بنانے کے مقصد سے یہ جنگی بیڑا بھیجا ہے ۔ٹرمپ نے ایران کو سیدھی دھمکی دی ہے کہ وہ نیوکلیائی معاہدہ کر لے ورنہ اس پر اگلا حملہ اور خطرناک ہوگا ۔ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی فوج کسی بھی امریکی فوجی کاروائی کا زوردار جواب دے گی ۔ایرانی وزیرخارجہ عباس اشرافی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کی فوج تیار ہے اور دیش پر کسی بھی حملے کا زوردار جواب دینے کے لئے ٹرائگرپر انگلی رکھے ہوئے ہے۔ یہ خطرناک تبصرہ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد آیا ہے ۔جس میںٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران متنازعہ نیوکلیائی پروگرام پر امریکہ کے ساتھ ڈیل کرے ورنہ اسے بڑے پیمانہ پر امریکی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ادھر ٹرمپ نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ہمارا بڑا جنگی بیڑا ہے ۔وینزویلا سے بھی بڑا ہے ۔تہران میں موجود حکام مسلسل اشارہ دے رہے ہیں کہ ایران بات چیت کے لئے تیار ہے ۔ٹرمپ نے کہا وہ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں ۔مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے کئی بار ٹیلی فون بھی کیا ہے ۔ٹرمپ نے آگے کہا امید ہے کہ ایران جلد ہی بات چیت کے لئے تیار ہوگا ۔اورایک منصفانہ اور برابر ی کا سمجھوتہ کرے گا ۔کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں ہے جو سبھی فریقین کے لئے اچھا ہو۔وقت کم ہے اور سچ میں یہ بہت ضروری ہے ۔اگلا حملہ خطرناک ہوگا ۔اسے مت ہونے دو ۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے درمیان وسط مشرق کے عرب ممالک میں بھی ہلچل بہت تیز ہو گئی ہے ۔سعودی عرب ،ترکیہ ، قطر وغیرہ ملکوں کے سربراہ مملکت و راجہ اپنی پوری طاقت لگائے رکھے ہیں کہ جنگ ٹل جائے۔ سعودی بادشاہ سلمان نے تو پوری طاقت جھونک دی ہے۔یہ اس لئے بھی ہے کہ ایران نے کھلی دھمکی دی ہے ۔کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی طر ف سے کوئی بھی حملہ ہوتا ہے تو ایران عرب دیشوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسا دے گا اور انہیں تباہ کر دے گا۔بتادیں کہ سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک میں جنگی جہاز وغیرہ رکھے ہوئے ہیں ۔ اگر لڑائی چھڑتی ہے تو ایک طرف ایران اسرائیل کو تباہ کر دے گا اور د وسری طرف وسط مشرق میں تمام امریکی فوجی اڈوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ایران خود جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔وہ پچھلے 20 سال سے اس دن کا انتظار کررہا ہے اس دوران اس نے دنیا کی سب سے طاقتور میزائلوں کو بنا لیا ہے ۔اس نے ایسی ایسی میزائلیں تیار کر لی ہیں جو 10 ہزار فی گھنٹے کی رفتار سے بہت دوری تک مار کر سکتی ہیں ۔دنیا نے پچھلے سال 12 دن کی جنگ میں ایران نے اسرائیل کا کیا حال کیا تھا سب نے دیکھاتھا ۔اس درمیان خبر یہ بھی آئی ہے کہ سعودی عرب نے صاف کہا ہے کہ اگر ایران پر امریکہ حملہ کرتا ہے تو سعودی حملے کے لئے اپنی زمین نہیں دے گا ۔سعودی عرب شہزادہ و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعد نے کہا ہے کہ ان کا دیش ایران کے خلاف کاروائی کے لئے اپنی زمین یا اپنا ایئر اسپیس کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا ۔وسط مشرقی ا یشیا میں اس وقت جنگی بادل منڈر ا رہے ہیں۔اور کسی بھی ذرا سی چنگاری سے زبردست جنگ چھڑ سکتی ہے۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ یہ جنگ ٹل جائے اور بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے اور پوری دنیا جنگ کی تباہی سے بچ جائے ۔ (انل نریندر)

30 جنوری 2026

مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا!

مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی بدھ کے روز طیارہ حادثہ سے جہاں پورا دیش حیران ہے اور غم میں ڈوبا ہوا ہے وہیں یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ ان کی اچانک موت سے مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ 66 سالہ اجیت پوار کی پرائیویٹ جہاز مہاراشٹر کے بارامتی میں لینڈکرتے وقت حادثہ کا شکار ہو گیا ۔بتادیں کہ اجیت پوار نے جولائی 2023 میں اپنے چاچا شردپوار کی قیادت والی راشٹریہ کانگریس پارٹی (این سی پی ) سے بغاوت کر دی تھی ۔2023 میں 2 جولائی کو وہ اپنی پارٹی کے 8 ممبران کے ساتھ مہاراشٹر سرکار میں شامل ہو گئے تھے اور حکومت میں نائب وزیراعلیٰ بنے۔ شردپوار سے بغاوت کر ایکناتھ شندے سرکارمیں شامل ہونے کے اپنے فیصلے پر اجیت پوار نے کہا تھا وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ترقی کررہا ہے ۔اس لئے بی جے پی کے ساتھ کچھ اختلافات ہونے کے باوجود این سی پی نے مہاراشٹر کی ترقی کے لئے سرکار کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ۔نومبر 2024 میں مہاراشٹر میں اسمبلی چناؤ ہوئے اور اجیت پوار اپنے چاچا پر بھاری پڑے ۔حالانکہ چھ مہینے پہلے ہی لوک سبھا چناؤ میں اجیت پوار کی پارٹی کو صرف ایک ہی سیٹ پر جیت ملی تھی ۔تب اجیت پوار کو مہاراشٹر کی حکمراں بی جے پی قیادت والے مہایوتی گٹھ بندھن کی سب سے کمزور کڑی کہاجارہا تھا ۔لیکن اسمبلی چناؤ میں اجیت پوار سب سے مضبوط کھلاڑی کی شکل میں ابھرے ۔انہوں نے 41 اسمبلی سیٹیں حاصل کی تھیں اور تقریباً اپنے چاچا کے باغی گروپ این سی پی کو ختم کر دیا ۔جو صرف 10 سیٹیں ہی جیت پائی ۔اجیت پوار نے 5 دسمبر 2024 کو ریکارڈ چٹھی مرتبہ مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ شردپوار کی سرپرستی میں 20 سال گزارنے کے بعدا جیت پوار کو لگا چاچا ان کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں اسی لئے انہوں نے اپنا راستہ ڈھونڈ لیا۔15 فروری سے مہاراشٹر ضلع پریشد پنچایت سمیتی کے چناؤ ہونے جارہے ہیں اسی کے پرچار کے لئے اجیت داد ا پوار بارامتی جارہے تھے ۔این سی پی کی پوری ذمہ داری اجیت پوار کے اوپر تھی ۔اجیت پوار کا ندھن اس وقت ہوا جب شردپوار سیاسی طور سے بہت کمزور ہو گئے ہیں ۔ضلع پریشد کےچناؤمیں اجیت نے اپنے چاچا کے ساتھ مل کر چناؤ لڑنے والے تھے ۔اب مجھے لگ رہا ہے کہ پوری ہمدردی شردپوار کو سبق سکھائے گی ۔بی جے پی کے ابھار کے بعد مہاراشٹر میں مراٹھا نیتاؤں کی حیثیت کمزور ہوئی ہے اور اس کا احساس پردیش میں سب کو ہے ۔مراٹھابرادری کی بالادستی کھیتی، تعلیم اور بینکنگ پر ختم ہو چکی ہے ۔شردپوار کے ساتھ اب مراٹھا برادری کی ہمدردی آئے گی۔ دیہات پر مہاراشٹر کے اقتصادی نظام پر بھی مراٹھا برادری کی پکڑ ہے اور انہیں اب لگ رہا ہے کہ بی جے پی کے آنے سے ان کی پکڑ کمزور پڑرہی ہے ۔دیوندر فڑنویس کی سرکار میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور اجیت پوار کی رہنمائی والی این سی پی ہے ۔اجیت پوار کے مرنے کے بعد این سی پی اگر سرکار سے ہٹ جاتی ہے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔بھلے ہی سرکار اقتدار میں بنی رہے گی لیکن فرق دوسری طرح سے پڑے گا۔مراٹھا برادری اجیت پوار کے ندھن کے بعد سوچے گی کہ اب ان کے پاس کون ہے ؟ شردپوار خود ہی زندگی کے زوال میں ہیں ۔مہاراشٹر طبقہ اب سوچے گا کہ انہیں کس طرح رخ اپنانا ہے ؟ ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اجیت پوار مہاراشٹر کی سیاست میں ہندوتو کے بڑھتے اثر کے درمیان اپنی طاقت بنائے ہوئے تھے اور یہ بڑی با ت تھی ۔بی جے پی اور شیو سینا دونوں ہندوتو کی سیاست کرتے ہیں ۔بی جے پی کی رہنمائی والی سرکار مضبوط رہے گی لیکن مراٹھا سیاست کا عروج ہوسکتا ہے ۔این سی پی پھر سے شردپوار کی قیادت میں متحد ہوسکتی ہے ۔اور یہ بی جے پی کی مضبوطی کے حق میں نہیں ہوگی ۔اجیت پوار کو دیوندر فڑنویس سرکار میں ایکناتھ شندے کی طاقت کا بیلنس کرنے کی شکل میں دیکھاجاتا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ اگر اجیت دادا پوار کا تعلق نہیں ہوتا تو نومبر 2024 میں ہوئے مہاراشٹر اسمبلی چنا ؤ کے بعدا یکناتھ شندے وزیراعلیٰ بننے کے لئے اڑ ے ر ہ سکتے تھے ۔ایسے میں بی جے پی کے پاس متبادل تھا کہ وہ اجیت پوار کے ساتھ سرکار بنا لیں ۔ہم اجیت پوار کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ان کے پریوار کو اس بھاری نقصان سے نکلنے کی ہمت دے ۔ (انل نریندر)

28 جنوری 2026

ٹرمپ کو اسی زبان میں جواب!

بڑبولے اور بے لگام بولنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اگر انہیں کی زبان میں جواب دیا ہے تو وہ ہے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی ۔دراصل ہوا یہ مارک کارنی سوئزرلینڈ کے داؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فارم میں تقریر کررہے تھے ۔مارک کارنی کی دی گئی تقریر کو امریکی دب دبے والے ورلڈ آرڈر کو آئینہ دکھانے کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر دیش ٹرمپ کی پالیسیوں سے پریشان ہیں لیکن اس طرح بولنے کا خطرہ مارک کارنی نے اٹھایا ۔منگل کو سوئزرلینڈ کے داؤس میں ورلڈ اکنامکس فارم سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ طاقتور ملکوں کے عزم میں مڈ ل پاور والے ملکوں کے سامنے دو متبادل ہیں ۔۔یا تو حمایت پانے کے لئے آپس میں مقابلہ کریں ہمت کے ساتھ یا تیسرا راستہ بنائیں اور ایسا کرنے کے لئے ساتھ آئیں ۔بھار ت سمیت دنیا کے باقی ملکوں کو لگ رہاہے کہ ابھی چپ رہنا زیادہ بہتر ہے ۔دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم کو لگ رہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں کوئی انفیکشن نہیں بلکہ تباہی کے حالات ہیں ۔اور پھوٹ کا پردہ ہٹ رہا ہے ۔مارک کارنی کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ پرانے نظام واپس نہیں آئے گا ۔اور اس کا غم نہیں منانا چاہیے بلکہ نئی اور انصاف یقینی کرنے والے عالمی نظام کے لئے کام شروع کر دینا چاہیے ۔کارنی یہ کہہ رہے ہیں درمیانی طاقت والے ملکوں کو غلط فہمی کی دنیا سےباہر آنا چاہیے ۔کارنی کو پتہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کاخطرہ بھی ہے ۔کینیڈاکی معیشت بہت حد تک تجارت پر منحصر ہے ۔2024 میں کینیڈا کی کل برآمدات کا 75 فیصد امریکہ میں ہوا تھا ۔ٹرمپ نے امریکہ کے تئیں عہد نہ دکھانے کا الزام لگاتے ہوئے مارک کارنی کی تنقید کرتے ہوئے کہا ویسے کینیڈا ہم سے بہت سی مناسب سہولیات پاتا ہے انہیں شکریہ ادا کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں کررہے ہیں ۔منگلوار کو مارک کارنی کو دیکھا اور وہ زیادہ باعزم نہیں تھے ۔کینیڈا امریکہ کی وجہ سے ہی وجود میں ہے ۔اگلی مرتبہ جب مارک کارنی بیان دیں گے تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم سے پہلے ٹرمپ کینیڈا کو امریکہ کا 51 واں اسٹیٹ بنانے کی بات کر چکے ہیں۔اتنی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود کینیڈا نے ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیا ۔ایسے میں یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں،دھمکیوں کے باوجود بھارت کے مفادات کو چوٹ پہنچارہا ہے ۔پھر بھی بھارت کینیڈا کی طرح ٹرمپ کو انہیں کی زبان میں جواب آخر کیوں نہیں دے پارہا ہے ۔ٹرمپ نے ایران سے تیل خریدنے ، روس سے تیل خریدنے ، 50 فیصد ٹیرف لگانے سے لے کر 70 بار سے زائد بھارت -پاک جنگ رکوانے کی بات کر چکا ہے ۔امریکہ نے وینزویلا میں تبدیلی اقتدار کرایا ۔ایران میں بھی اقتدار تبدیلی کروانے کی بات کررہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ بھارت کینیڈاکی طرح ٹرمپ کی پالیسیوں پر کیوں نہیں بول پارہا ہے ۔ (انل نریندر)

24 جنوری 2026

میں ہی ہوں شنکر آچاریہ !

پچھلے کچھ دنوں سے بی جے پی انتظامیہ اور شنکر آچاریہ منی مکتیشور آنند جی مہاراج میں جم کر تنازعہ چھڑا ہوا ہے ۔ایک طرف شنکر آچاریہ جی اور دیگر سادھوسنت ہیں تو دوسری طرف اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کا میلہ انتظامیہ ہے ۔سارا معاملہ شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی کے پریاگ راج میں گنگا اسنان نہ کرنے کو لے کر شروع ہوا ۔پریاگ راج میں چلے ماگھ میلے میں مونی اماوسیہ کے موقع پر ہونے والے روایتی شاہی اسنان کو لے کر جوتش پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی اور میلہ انتظامیہ کے درمیان سوامی جی کے پالکی پر سوار ہوکر اسنان کو لے کر شروع ہوا ۔انتظامیہ نے سوامی جی کی پالکی پر اسنان کرنے سے روکا اس پر انتظامیہ اور سوامی جی کے حمایتیوں میں ہاتھا پائی تک ہو گئی ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے حکام نے نہ صرف سوامی جی کی پالکی کو توڑنے کی کوشش کی بلکہ ان کے حمایتی سادھو بھکتوں کی جٹا سے پکڑ کر مارا ۔اور جیل میں ٹھونس دیا ۔اس کے احتجاج میں شنکر آچاریہ جی نے دھرنا شروع کر دیا جو اب بھی جاری ہے ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی معافی کے بغیر آشرم میں داخل نہیں ہوں گے اور موقع پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں ۔اس درمیان میلہ انتظامیہ نے انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یہ ثابت کرنے کو کہا ہے کہ وہ شنکر آچاریہ کیسے ہیں ؟ میلہ انتظامیہ نے شنکر آچاریہ جی سے پوچھا ہے کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ شنکر آچاریہ کی ڈگری کیوں جوڑی ؟ نوٹس میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ایک معاملہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہےا یسے میں کسی دھرم آچاریہ کو جوتش پیٹھ کا شنکر آچاریہ کی منظوری حاصل نہیں ہے باوجود اس کے سوامی نے میلہ زون میں لگے بورڈوں پر اپنے نام کے آگے یہ عنوان لکھوا دیا ، بتادیں کہ سوامی ابھی مکتیشورآنند کو ان کے گورو سوامی سوروپ آنند سرسوتی کے دیہانت کے بعد شنکر آچاریہ بنایا گیا تھا ۔سوامی مکتیشور آنند سرسوتی کا پہلا ابھیشیک بھی شنکر آچاریہ نے کیا تھا ۔اب سوامی ابھی مکتیشور آنند نے سپریم کورٹ کے وکیل اے کے مشرا کے ذریعے اتھارٹی کو پانچ صفحات کا جوابھیجا ہے ۔اپنے جواب میں سوامی ابھی مکتیشور آنند نے میلہ اتھارٹی کے الزامات کو سرے سے مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ شنکر آچاریہ ہیں ۔سوامی جی نے 15 نکات میں پریاگ راج میلہ اتھارٹی کو جواب دیا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے ، پیر کو آنکیٹ میلہ کی جانب سے نوٹس بھیج کر عزت مآب ابھی مکتیشور آنند کو بدنام اور بے عزت کرنے کے برے ارادے سے جاری کیا گیا ہے ۔جو توہین اور امتیاز پر مبنی ہے ۔شاردھا پیٹھ دوراکہ کے جگت گورو شنکر آچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی مہاراج کی وصیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تروینی مارگ کیمپ کے باہر پریس کانفرنس میں میلہ اتھارٹی کے نوٹس پر شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سوامی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں سپریم کورٹ کے جس حکم کا حوالہ دیا گیا ہے وہ 14اکتوبر 2022 کا ہے ۔جبکہ 11 ستمبر 2022 کو شنکر اچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی برہم لین ہونے کے اگلے دن 12 ستمبر کو سوامی سوروپ آنند سرسوتی کے آشرم میں شنکر آچاریہ کے طور پر ان کی تاجپوشی ہو چکی تھی ۔جس طرح سے میلہ انتظامیہ نے شنکر آچاریہ اور ان کے ماننے والوں کے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے اس کی توقع نہیں کی جاتی ۔دھرم گوروؤں کو اس طریقہ سے بے عزت کرنا شرمناک ہے ۔اور سادھوؤں کی جٹاؤں کو پکڑ کر پیٹنا اس سے بھی زیادہ قابل مذمت ہے ۔اب تو شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند جی کے حق میں اور شنکر آچاریہ اور سنت کھڑے ہو گئے ہیں ۔اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جو کچھ بھی چاہتے ہیں کو معاملہ نپٹانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔میلہ انتظامیہ شنکر آچاریہ ابھی مکتیشور آنند جی سے معافی مانگیں او انہیں باعزت گنگا اشنان کروادیں تو تنازعہ دور ہوسکتا ہے ۔اگر ایسانہیں ہوتا تو یہ تنازعہ بڑھتا جائے گا اور تمام سادھو سماج میدان میں اتر آئے گا ۔ (انل نریندر)

22 جنوری 2026

گرین لینڈ کو لے کر رہیں گے :ٹرمپ

پچھلے کئی دنوں سے گرین لیڈکو لے کر زبردست رسہ کشی جاری ہے ۔اس ڈرامہ کے تین اہم کردار ہیں ۔پہلے ہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کررہے ہیں کہ اب وقت آچکا ہے ، گرینڈ لینڈ لے کر ہم رہیں گے۔ٹرمپ جھکنے کے موڈ میں نہیں لگتے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈکو اپنی ناک کا سوال بنا لیا ہے ۔وہ کبھی گرین لینڈکی فوج کا مذاق اڑاتے ہیں تو کبھی وہاں فوجی کاروائی کی بات کرتے ہیں ۔ٹرمپ نے یوروپی ممالک کو کھل کر دھمکی دے ڈالی ہے کہ جو دیش گرین لینڈ سے جڑے امریکی ارادوں کی حمایت نہیں کریں گے ،انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔انہوں نے اب تو 8 یوروپی ملکوں پر دس فیصد ٹیرف لگانے کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ٹرمپ کسی بھی قیمت پر گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتےہیں وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر اپنا قبضہ نہیں کیا تو روس یا چین اس پر اپنا قبضہ کر لے گا تو پہلا کردار تو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ۔دوسرا کردار یوروپی ممالک ہیں ۔گرین لینڈ مسئلے پر ٹرمپ نے یوروپ کے 8 ملکوں پر ٹیرف بڑھانے کی وارننگ پر یوروپی یونین نے سخت رخ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی دباؤ بنانے کے لئے ٹیرف لگایاجائے گا تو یوروپی یونین بھی جوابی کاؤنٹر میں ٹیرف لگائے گا ۔یوروپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور مختاری سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔حالانکہ یوروپی یونین نے ابھی جوابی ٹیرف کی شرح طے نہیں کیا ہے ۔یوروپی یونین میں ٹرمپ کے گرین لینڈ بیان اور ٹیرف دباؤ سے یوروپی یونین -امریکہ ٹریڈ معاہدہ بھی مشکل میں پڑ گیا ہے ۔یوروپ کے لیڈر اس قدم کو دباؤ کی سیاست بتا رہے ہیں ۔اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اشارے دیے ہیں کہ یوروپ بلیک میل کے آگے نہیں جھکے گا ۔وہیں فرانس کے صدر امینوئل میکروں نے کہا کہ کوئی بھی دھمکی یوروپ کا راستہ نہیں بدل سکتی ۔وہیں تیسرا کردار گرین لینڈ کے لوگ ہیں اور ان کے حمایتی ۔گرین لینڈ کی راجدھانی نک میں سنیچر کو ہزاروں لوگ برف سے دبی سڑکوں پر مارچ کرتے نظر آئے ۔یہ مارچ گرین لینڈ پر قبضہ کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے خلاف تھا ۔حکمت عملی اور معدنی اثاثے سے بھرپور آرکیٹک جزیرہ گرین لینڈ پر امریکہ نے کنٹرول کی بات دہرائی ہے ۔مظاہرین نے گرین لینڈ کا قومی پرچم بھی لہرایا ۔ہاتھوں میں تختیاں اٹھائی اور نعرے لگائے -گرین لینڈ بکاؤ نہیں ہے ۔ امریکہ کے ذریعے یہ کہنا کہ گرین لینڈ اس کی قومی سلامتی کیلئے ضروری ہے ۔ ماناکہ بے دلیل نہیں کہا جاسکتا ۔ایسا ماننے والے ٹرمپ کوئی پہلے صدر نہیں ہیں ان سے پہلے بھی کئی امریکی صدور نے ایسی دلیلیں دیں تھی یہ بات دیگر ہے کہ وہ آگے نہیں بڑھ سکے ۔عالمی تجارتی نظریہ رکھنے والے شخص ہیں لیکن تجارت آدرش واد سے نہیں چلتی ۔یہ صحیح ہے کہ تجارت اور معیشت ہمیشہ سے حکمت عملی اوزار نہیں ہیں لیکن اس طرح سے سارے قاعدے قانون ، روایات طاق پر زبردستی کسی دوسرے دیش پر قبضہ کرنے کی دھمکی کہاں تک صحیح ہے ۔جس طرح سے امریکہ اور یوروپی ممالک آمنے سامنے آگئے ہیں اس سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ٹرمپ ایک کے بعدا یک نیا مورچہ کھولے جارہے ہیں ۔اس بار ان کے نشانے پر نیٹو ممالک ہیں ۔ (انل نریندر)

20 جنوری 2026

چاہ بہار پربھارت کے پیچھے ہٹنے کی قیاس آرائیاں!

ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ملکوں پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے ہی یہ سوال بناہوا تھا کہ بھارت پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ ایران سے بھارت کی تجارت امریکی پابندیوں کے سبب بے شک وہاں نہیں ہے لیکن ایران حکمت عملی طور سے بھارت کے لئے کافی اہم ہے ۔ایران کے جنوبی ساحل پر سیستان -بلوچستان صوبہ میں واقع چاہ بہار بندرگاہ اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔اسے بھارت اور ایران مل کر بنا رہے تھے تاکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک سیدھے پہنچ مل سکے ۔چاہ بہار بھارت کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا پہنچ سکتا ہے ۔لیکن امریکہ کے مزید ٹیرف کے اعلان کے بعد سے بھارت کے چاہ بہار بندرگاہ سے باہر ہونے کی خبریں زور پکڑنے لگی ہیں ۔ان خبروں اور قیا س آرائیوں کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے گزشتہ جمعہ کو جواب دیا ہے ۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو یہاں کہا ،جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 28 اکتوبر ،2025 کو امریکہ کے محکمہ مالیات نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں 26 اپریل، 2026 تک جائز اور مشروط پابندی چھوٹ کی سمت میں گائیڈ لائنس دی گئی تھیں ۔ہم نظام کو قطعی شکل دینے کے لئے امریکی فریق کے ساتھ رابطہ میں ہیں ۔ایران کے ساتھ ہمارا تعلق لمبے عرصے سے چلا آرہا ہے ۔ہم واقعات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس ساجھیداری کو آگے بڑھائیں گے ۔پچھلے برس بھارت اور ایران کے ساتھ تجارت 1.6 ارب ڈالر تھی ۔ایران -بھارت کی کل تجارت کا 0.15 فیصد حصہ ہے ۔دراصل چاہ بہار کو لے کر ان قیاس آرائیوں کو ہوا ملی ۔اکنامک ٹائمس میں شائع ایک رپورٹ سے اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے چاہ بہار پروجیکٹ سے خود کو حکمت عملی طور سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے اپنی طے سرمایہ کاری رقم پہلے ہی ایران کو ٹرانسفر کر دی ہے۔اور اس پروجیکٹ کو چلانے والی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ نے باقاعدہ طور سے دوری بنا لی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی امریکی پابندی سے بچا جاسکے ۔اپوزیشن پارٹیاں ،سینئرصحافی اور یہاں تک کہ بین الاقوامی امور کے واقف کار بھی امریکہ کو لے کر بھارت کی پالیسی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے بھارت بار بار امریکہ کو ناراض نہ کرنے کے دباؤ میں چپ رہا ہے ۔اور اپنے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے سوشل میڈیا ایکس پر سوال کیا ہے کہ بھارت آخر کب تک امریکہ کے دباؤ میں فیصلہ لیتا رہے گا۔انہوں نے لکھا اصل اشو صرف چابہار یا روس کے تیل کا نہیں ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ مودی امریکہ کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کیوں دے رہے ہیں ؟ فوجی امور کے ماہر ڈاکٹر برہما چیلانی نے ایکس پر لکھا 2019 میں جب امریکہ نےایران کے تیل پر پابندی لگائی ، تو بھارت نے اچانک ایران سے تیل خریدنا بند کر دیا اس سے بھارت اور ایران کے بیچ چلی آرہے توانائی رشتے تقریباً ختم ہو گئے ۔اور اس کا سیدھا فائدہ چین کو ملا ۔چاہ بہاربندرگاہ پاکستان کے گوادر پورٹ ، جسے چین چلارہا ہے اس کے مقابلے بھارت کا ایک حکمت عملی جواب ماناجاتا ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایران کا چاہ بہار پورٹ بھارت کے لئے بے حد اہم ٹریڈ ہب ہے ۔اس پورٹ کو ڈولپ کرنے میں ہم نے 4700 کروڑ روپے کا سرمایہ لگایا ہوا ہے۔چاہ بہار بھارت کو پاکستان بائی پاس کر افغانستان اور سنٹرل ایشیا پہنچنے میں مدد کرتا ہے ۔ایران کو لے کر فی الحال ٹرمپ کا رویہ کبھی ہاں کبھی ناں والارہا ہے ۔فی الحال ڈپلومیٹک پہل کر بھارت امریکہ کے ساتھ اس مسئلے پر اپنی بات منوا سکتا ہے ۔ایسی توقع ہم رکھتے ہیں۔بھارت اپنے مفادات کو بالاتر رکھے اور کسی بھی باہری دباؤ میں نہ آئے۔ (انل نریندر)

17 جنوری 2026

جنگ کی چوکھٹ پر ایران -امریکہ!

ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہرون نے ایران اور امریکہ کو جنگ کی چوکھٹ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔احتجاجی مظاہروں کےبعد حالات اور خراب ہونے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اے اےزئی نے کہا ہے کہ گرفتار مظاہرین پر تیزی سے مقدمہ چل سکتاہے اور انہیں پھانسی کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود آیا ہے ، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پھانسی دیتا ہےتو امریکہ سخت کاروائی کرے گا۔تقریباً 130 گھنٹوں سے ایران میں انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورک ٹھپ ہے ۔امریکہ میں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اب تک کم سے کم 2571 لوگوں کی موت ہو چکی ہے ، جس میں 2403 مظاہرین ،147 سرکار حمایتی ،12 بچے اور عام شہری شامل ہیں ۔قریب 18100لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ۔ایران کی راجدھانی تہران میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے لئے اجتماعی آخری رسوم بھی کی گئیں جہاںڈیتھ ٹو امریکہ جیسے نعرے لگے ۔بھارت کے سفارتخانہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے اور بے حد چوکس رہنے کی صلاح دی ہے۔ٹرمپ نے دی کڑی ایکشن کی وارننگ ۔ٹرمپ نے ایک پیغام میں کہا کہ ایرانی حب الوطنوں احتجاج جاری رکھو ،اپنے اداروں پر قبضہ کرو ،نہ سزائے موت دئے جانے کی صورت میں بہت بڑی کاروائی کریں گے اگر وہ ایسا کچھ کرتے ہیں تو ہم سخت کاروائی کریں گے ۔ جاری احتجاج کے درمیان امریکی فوجی کاروائی کی بات کہی جارہی ہے۔صدر ٹرمپ بھی ایسا کئی بار کر چکے ہیں ۔امریکہ کے اندر ایران میں اقتدار تبدیلی کی بات لمبے عرصہ سے اٹھتی رہی ہے ۔امریکہ نے ایران میں 1953 میں اقتدار تبدیلی بھی کی تھی لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب نے امریکہ حمایتی سرکار کو معزول کر دیا تھا اور آیت اللہ خمینی کا راج قائم ہو گیا تھا تبھی سے امریکہ -ایران کے اس ملا راج کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔اور تختہ پلٹ کر اپنی حمایتی سرکار بنانا چاہتا ہے ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے جس کا بہت وقت سے امکان ہے توایران کے ساتھ کون کھڑا رہے گا؟ روس اور چین ایران کے اہم ساجھیدار ہیں اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ یہ امریکی فوجی کاروائی کی کھل کر مخالفت کریں گے اور کر بھی رہے ہیں ، لیکن کیا یہ حمایت زبانی جمع خرچ ہوگی یا پھر کھل کر لڑائی کے میدان میں  اتریں گے؟لیکن سوال اہم ہے جہاں تک عرب ممالک کا سوال ہے یہ کھل کر نہ تو حمایت کررہے ہیں اور نہ ہی مخالفت ۔یہ بات صحیح ہے کہ عوام کے غصہ کو زبردست ایکشن سے دبانا مناسب نہیں ، لیکن کسی ملک کی سرداری کی خلاف ورزی کا بہانا بھی نہیں بنایاجا نا چاہیے ۔اگر ٹرمپ حقیقت میں مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تہران کے ساتھ تجارت پر لگائے گئے 25 فیصد فاضل ٹیرف سمیت ان تمام پابندیوں کو ہٹانے پر غور کرنا چاہیے ، جن کا اثر خاص کر عام لوگوں پر پڑرہا ہے ۔ایران میں اس وقت ضرورت ہے ٹکراؤ ٹال کر بات چیت کا راستہ اپنانے کی ۔اس کی شروعات سرکار کی طرف سے ہونی چاہیے ۔وہاں کی جنتا لمبے عرصے سے مشکل حالات کا سامنا کررہی ہے ۔اس کا وقتاً فوقتاً اس کی ناراضگی لوگوں کے ذریعے باہر آتی رہی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں ٹکراؤ ٹلتا ہے اور جنگ کی حالت نہیں بنتی ۔ (انل نریندر)

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...