مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا!
مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی بدھ کے روز طیارہ حادثہ سے جہاں پورا دیش حیران ہے اور غم میں ڈوبا ہوا ہے وہیں یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ ان کی اچانک موت سے مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ 66 سالہ اجیت پوار کی پرائیویٹ جہاز مہاراشٹر کے بارامتی میں لینڈکرتے وقت حادثہ کا شکار ہو گیا ۔بتادیں کہ اجیت پوار نے جولائی 2023 میں اپنے چاچا شردپوار کی قیادت والی راشٹریہ کانگریس پارٹی (این سی پی ) سے بغاوت کر دی تھی ۔2023 میں 2 جولائی کو وہ اپنی پارٹی کے 8 ممبران کے ساتھ مہاراشٹر سرکار میں شامل ہو گئے تھے اور حکومت میں نائب وزیراعلیٰ بنے۔ شردپوار سے بغاوت کر ایکناتھ شندے سرکارمیں شامل ہونے کے اپنے فیصلے پر اجیت پوار نے کہا تھا وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ترقی کررہا ہے ۔اس لئے بی جے پی کے ساتھ کچھ اختلافات ہونے کے باوجود این سی پی نے مہاراشٹر کی ترقی کے لئے سرکار کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ۔نومبر 2024 میں مہاراشٹر میں اسمبلی چناؤ ہوئے اور اجیت پوار اپنے چاچا پر بھاری پڑے ۔حالانکہ چھ مہینے پہلے ہی لوک سبھا چناؤ میں اجیت پوار کی پارٹی کو صرف ایک ہی سیٹ پر جیت ملی تھی ۔تب اجیت پوار کو مہاراشٹر کی حکمراں بی جے پی قیادت والے مہایوتی گٹھ بندھن کی سب سے کمزور کڑی کہاجارہا تھا ۔لیکن اسمبلی چناؤ میں اجیت پوار سب سے مضبوط کھلاڑی کی شکل میں ابھرے ۔انہوں نے 41 اسمبلی سیٹیں حاصل کی تھیں اور تقریباً اپنے چاچا کے باغی گروپ این سی پی کو ختم کر دیا ۔جو صرف 10 سیٹیں ہی جیت پائی ۔اجیت پوار نے 5 دسمبر 2024 کو ریکارڈ چٹھی مرتبہ مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ شردپوار کی سرپرستی میں 20 سال گزارنے کے بعدا جیت پوار کو لگا چاچا ان کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں اسی لئے انہوں نے اپنا راستہ ڈھونڈ لیا۔15 فروری سے مہاراشٹر ضلع پریشد پنچایت سمیتی کے چناؤ ہونے جارہے ہیں اسی کے پرچار کے لئے اجیت داد ا پوار بارامتی جارہے تھے ۔این سی پی کی پوری ذمہ داری اجیت پوار کے اوپر تھی ۔اجیت پوار کا ندھن اس وقت ہوا جب شردپوار سیاسی طور سے بہت کمزور ہو گئے ہیں ۔ضلع پریشد کےچناؤمیں اجیت نے اپنے چاچا کے ساتھ مل کر چناؤ لڑنے والے تھے ۔اب مجھے لگ رہا ہے کہ پوری ہمدردی شردپوار کو سبق سکھائے گی ۔بی جے پی کے ابھار کے بعد مہاراشٹر میں مراٹھا نیتاؤں کی حیثیت کمزور ہوئی ہے اور اس کا احساس پردیش میں سب کو ہے ۔مراٹھابرادری کی بالادستی کھیتی، تعلیم اور بینکنگ پر ختم ہو چکی ہے ۔شردپوار کے ساتھ اب مراٹھا برادری کی ہمدردی آئے گی۔ دیہات پر مہاراشٹر کے اقتصادی نظام پر بھی مراٹھا برادری کی پکڑ ہے اور انہیں اب لگ رہا ہے کہ بی جے پی کے آنے سے ان کی پکڑ کمزور پڑرہی ہے ۔دیوندر فڑنویس کی سرکار میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور اجیت پوار کی رہنمائی والی این سی پی ہے ۔اجیت پوار کے مرنے کے بعد این سی پی اگر سرکار سے ہٹ جاتی ہے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔بھلے ہی سرکار اقتدار میں بنی رہے گی لیکن فرق دوسری طرح سے پڑے گا۔مراٹھا برادری اجیت پوار کے ندھن کے بعد سوچے گی کہ اب ان کے پاس کون ہے ؟ شردپوار خود ہی زندگی کے زوال میں ہیں ۔مہاراشٹر طبقہ اب سوچے گا کہ انہیں کس طرح رخ اپنانا ہے ؟ ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اجیت پوار مہاراشٹر کی سیاست میں ہندوتو کے بڑھتے اثر کے درمیان اپنی طاقت بنائے ہوئے تھے اور یہ بڑی با ت تھی ۔بی جے پی اور شیو سینا دونوں ہندوتو کی سیاست کرتے ہیں ۔بی جے پی کی رہنمائی والی سرکار مضبوط رہے گی لیکن مراٹھا سیاست کا عروج ہوسکتا ہے ۔این سی پی پھر سے شردپوار کی قیادت میں متحد ہوسکتی ہے ۔اور یہ بی جے پی کی مضبوطی کے حق میں نہیں ہوگی ۔اجیت پوار کو دیوندر فڑنویس سرکار میں ایکناتھ شندے کی طاقت کا بیلنس کرنے کی شکل میں دیکھاجاتا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ اگر اجیت دادا پوار کا تعلق نہیں ہوتا تو نومبر 2024 میں ہوئے مہاراشٹر اسمبلی چنا ؤ کے بعدا یکناتھ شندے وزیراعلیٰ بننے کے لئے اڑ ے ر ہ سکتے تھے ۔ایسے میں بی جے پی کے پاس متبادل تھا کہ وہ اجیت پوار کے ساتھ سرکار بنا لیں ۔ہم اجیت پوار کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ان کے پریوار کو اس بھاری نقصان سے نکلنے کی ہمت دے ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں