ٹرمپ کو اسی زبان میں جواب!

بڑبولے اور بے لگام بولنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اگر انہیں کی زبان میں جواب دیا ہے تو وہ ہے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی ۔دراصل ہوا یہ مارک کارنی سوئزرلینڈ کے داؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فارم میں تقریر کررہے تھے ۔مارک کارنی کی دی گئی تقریر کو امریکی دب دبے والے ورلڈ آرڈر کو آئینہ دکھانے کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر دیش ٹرمپ کی پالیسیوں سے پریشان ہیں لیکن اس طرح بولنے کا خطرہ مارک کارنی نے اٹھایا ۔منگل کو سوئزرلینڈ کے داؤس میں ورلڈ اکنامکس فارم سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ طاقتور ملکوں کے عزم میں مڈ ل پاور والے ملکوں کے سامنے دو متبادل ہیں ۔۔یا تو حمایت پانے کے لئے آپس میں مقابلہ کریں ہمت کے ساتھ یا تیسرا راستہ بنائیں اور ایسا کرنے کے لئے ساتھ آئیں ۔بھار ت سمیت دنیا کے باقی ملکوں کو لگ رہاہے کہ ابھی چپ رہنا زیادہ بہتر ہے ۔دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم کو لگ رہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں کوئی انفیکشن نہیں بلکہ تباہی کے حالات ہیں ۔اور پھوٹ کا پردہ ہٹ رہا ہے ۔مارک کارنی کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ پرانے نظام واپس نہیں آئے گا ۔اور اس کا غم نہیں منانا چاہیے بلکہ نئی اور انصاف یقینی کرنے والے عالمی نظام کے لئے کام شروع کر دینا چاہیے ۔کارنی یہ کہہ رہے ہیں درمیانی طاقت والے ملکوں کو غلط فہمی کی دنیا سےباہر آنا چاہیے ۔کارنی کو پتہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کاخطرہ بھی ہے ۔کینیڈاکی معیشت بہت حد تک تجارت پر منحصر ہے ۔2024 میں کینیڈا کی کل برآمدات کا 75 فیصد امریکہ میں ہوا تھا ۔ٹرمپ نے امریکہ کے تئیں عہد نہ دکھانے کا الزام لگاتے ہوئے مارک کارنی کی تنقید کرتے ہوئے کہا ویسے کینیڈا ہم سے بہت سی مناسب سہولیات پاتا ہے انہیں شکریہ ادا کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں کررہے ہیں ۔منگلوار کو مارک کارنی کو دیکھا اور وہ زیادہ باعزم نہیں تھے ۔کینیڈا امریکہ کی وجہ سے ہی وجود میں ہے ۔اگلی مرتبہ جب مارک کارنی بیان دیں گے تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم سے پہلے ٹرمپ کینیڈا کو امریکہ کا 51 واں اسٹیٹ بنانے کی بات کر چکے ہیں۔اتنی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود کینیڈا نے ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیا ۔ایسے میں یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں،دھمکیوں کے باوجود بھارت کے مفادات کو چوٹ پہنچارہا ہے ۔پھر بھی بھارت کینیڈا کی طرح ٹرمپ کو انہیں کی زبان میں جواب آخر کیوں نہیں دے پارہا ہے ۔ٹرمپ نے ایران سے تیل خریدنے ، روس سے تیل خریدنے ، 50 فیصد ٹیرف لگانے سے لے کر 70 بار سے زائد بھارت -پاک جنگ رکوانے کی بات کر چکا ہے ۔امریکہ نے وینزویلا میں تبدیلی اقتدار کرایا ۔ایران میں بھی اقتدار تبدیلی کروانے کی بات کررہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ بھارت کینیڈاکی طرح ٹرمپ کی پالیسیوں پر کیوں نہیں بول پارہا ہے ۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘