میں ہی ہوں شنکر آچاریہ !
پچھلے کچھ دنوں سے بی جے پی انتظامیہ اور شنکر آچاریہ منی مکتیشور آنند جی مہاراج میں جم کر تنازعہ چھڑا ہوا ہے ۔ایک طرف شنکر آچاریہ جی اور دیگر سادھوسنت ہیں تو دوسری طرف اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کا میلہ انتظامیہ ہے ۔سارا معاملہ شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی کے پریاگ راج میں گنگا اسنان نہ کرنے کو لے کر شروع ہوا ۔پریاگ راج میں چلے ماگھ میلے میں مونی اماوسیہ کے موقع پر ہونے والے روایتی شاہی اسنان کو لے کر جوتش پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی اور میلہ انتظامیہ کے درمیان سوامی جی کے پالکی پر سوار ہوکر اسنان کو لے کر شروع ہوا ۔انتظامیہ نے سوامی جی کی پالکی پر اسنان کرنے سے روکا اس پر انتظامیہ اور سوامی جی کے حمایتیوں میں ہاتھا پائی تک ہو گئی ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے حکام نے نہ صرف سوامی جی کی پالکی کو توڑنے کی کوشش کی بلکہ ان کے حمایتی سادھو بھکتوں کی جٹا سے پکڑ کر مارا ۔اور جیل میں ٹھونس دیا ۔اس کے احتجاج میں شنکر آچاریہ جی نے دھرنا شروع کر دیا جو اب بھی جاری ہے ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی معافی کے بغیر آشرم میں داخل نہیں ہوں گے اور موقع پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں ۔اس درمیان میلہ انتظامیہ نے انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یہ ثابت کرنے کو کہا ہے کہ وہ شنکر آچاریہ کیسے ہیں ؟ میلہ انتظامیہ نے شنکر آچاریہ جی سے پوچھا ہے کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ شنکر آچاریہ کی ڈگری کیوں جوڑی ؟ نوٹس میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ایک معاملہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہےا یسے میں کسی دھرم آچاریہ کو جوتش پیٹھ کا شنکر آچاریہ کی منظوری حاصل نہیں ہے باوجود اس کے سوامی نے میلہ زون میں لگے بورڈوں پر اپنے نام کے آگے یہ عنوان لکھوا دیا ، بتادیں کہ سوامی ابھی مکتیشورآنند کو ان کے گورو سوامی سوروپ آنند سرسوتی کے دیہانت کے بعد شنکر آچاریہ بنایا گیا تھا ۔سوامی مکتیشور آنند سرسوتی کا پہلا ابھیشیک بھی شنکر آچاریہ نے کیا تھا ۔اب سوامی ابھی مکتیشور آنند نے سپریم کورٹ کے وکیل اے کے مشرا کے ذریعے اتھارٹی کو پانچ صفحات کا جوابھیجا ہے ۔اپنے جواب میں سوامی ابھی مکتیشور آنند نے میلہ اتھارٹی کے الزامات کو سرے سے مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ شنکر آچاریہ ہیں ۔سوامی جی نے 15 نکات میں پریاگ راج میلہ اتھارٹی کو جواب دیا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے ، پیر کو آنکیٹ میلہ کی جانب سے نوٹس بھیج کر عزت مآب ابھی مکتیشور آنند کو بدنام اور بے عزت کرنے کے برے ارادے سے جاری کیا گیا ہے ۔جو توہین اور امتیاز پر مبنی ہے ۔شاردھا پیٹھ دوراکہ کے جگت گورو شنکر آچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی مہاراج کی وصیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تروینی مارگ کیمپ کے باہر پریس کانفرنس میں میلہ اتھارٹی کے نوٹس پر شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سوامی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں سپریم کورٹ کے جس حکم کا حوالہ دیا گیا ہے وہ 14اکتوبر 2022 کا ہے ۔جبکہ 11 ستمبر 2022 کو شنکر اچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی برہم لین ہونے کے اگلے دن 12 ستمبر کو سوامی سوروپ آنند سرسوتی کے آشرم میں شنکر آچاریہ کے طور پر ان کی تاجپوشی ہو چکی تھی ۔جس طرح سے میلہ انتظامیہ نے شنکر آچاریہ اور ان کے ماننے والوں کے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے اس کی توقع نہیں کی جاتی ۔دھرم گوروؤں کو اس طریقہ سے بے عزت کرنا شرمناک ہے ۔اور سادھوؤں کی جٹاؤں کو پکڑ کر پیٹنا اس سے بھی زیادہ قابل مذمت ہے ۔اب تو شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند جی کے حق میں اور شنکر آچاریہ اور سنت کھڑے ہو گئے ہیں ۔اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جو کچھ بھی چاہتے ہیں کو معاملہ نپٹانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔میلہ انتظامیہ شنکر آچاریہ ابھی مکتیشور آنند جی سے معافی مانگیں او انہیں باعزت گنگا اشنان کروادیں تو تنازعہ دور ہوسکتا ہے ۔اگر ایسانہیں ہوتا تو یہ تنازعہ بڑھتا جائے گا اور تمام سادھو سماج میدان میں اتر آئے گا ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں