گرین لینڈ کو لے کر رہیں گے :ٹرمپ
پچھلے کئی دنوں سے گرین لیڈکو لے کر زبردست رسہ کشی جاری ہے ۔اس ڈرامہ کے تین اہم کردار ہیں ۔پہلے ہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کررہے ہیں کہ اب وقت آچکا ہے ، گرینڈ لینڈ لے کر ہم رہیں گے۔ٹرمپ جھکنے کے موڈ میں نہیں لگتے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈکو اپنی ناک کا سوال بنا لیا ہے ۔وہ کبھی گرین لینڈکی فوج کا مذاق اڑاتے ہیں تو کبھی وہاں فوجی کاروائی کی بات کرتے ہیں ۔ٹرمپ نے یوروپی ممالک کو کھل کر دھمکی دے ڈالی ہے کہ جو دیش گرین لینڈ سے جڑے امریکی ارادوں کی حمایت نہیں کریں گے ،انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔انہوں نے اب تو 8 یوروپی ملکوں پر دس فیصد ٹیرف لگانے کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ٹرمپ کسی بھی قیمت پر گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتےہیں وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر اپنا قبضہ نہیں کیا تو روس یا چین اس پر اپنا قبضہ کر لے گا تو پہلا کردار تو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ۔دوسرا کردار یوروپی ممالک ہیں ۔گرین لینڈ مسئلے پر ٹرمپ نے یوروپ کے 8 ملکوں پر ٹیرف بڑھانے کی وارننگ پر یوروپی یونین نے سخت رخ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی دباؤ بنانے کے لئے ٹیرف لگایاجائے گا تو یوروپی یونین بھی جوابی کاؤنٹر میں ٹیرف لگائے گا ۔یوروپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور مختاری سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔حالانکہ یوروپی یونین نے ابھی جوابی ٹیرف کی شرح طے نہیں کیا ہے ۔یوروپی یونین میں ٹرمپ کے گرین لینڈ بیان اور ٹیرف دباؤ سے یوروپی یونین -امریکہ ٹریڈ معاہدہ بھی مشکل میں پڑ گیا ہے ۔یوروپ کے لیڈر اس قدم کو دباؤ کی سیاست بتا رہے ہیں ۔اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اشارے دیے ہیں کہ یوروپ بلیک میل کے آگے نہیں جھکے گا ۔وہیں فرانس کے صدر امینوئل میکروں نے کہا کہ کوئی بھی دھمکی یوروپ کا راستہ نہیں بدل سکتی ۔وہیں تیسرا کردار گرین لینڈ کے لوگ ہیں اور ان کے حمایتی ۔گرین لینڈ کی راجدھانی نک میں سنیچر کو ہزاروں لوگ برف سے دبی سڑکوں پر مارچ کرتے نظر آئے ۔یہ مارچ گرین لینڈ پر قبضہ کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے خلاف تھا ۔حکمت عملی اور معدنی اثاثے سے بھرپور آرکیٹک جزیرہ گرین لینڈ پر امریکہ نے کنٹرول کی بات دہرائی ہے ۔مظاہرین نے گرین لینڈ کا قومی پرچم بھی لہرایا ۔ہاتھوں میں تختیاں اٹھائی اور نعرے لگائے -گرین لینڈ بکاؤ نہیں ہے ۔ امریکہ کے ذریعے یہ کہنا کہ گرین لینڈ اس کی قومی سلامتی کیلئے ضروری ہے ۔ ماناکہ بے دلیل نہیں کہا جاسکتا ۔ایسا ماننے والے ٹرمپ کوئی پہلے صدر نہیں ہیں ان سے پہلے بھی کئی امریکی صدور نے ایسی دلیلیں دیں تھی یہ بات دیگر ہے کہ وہ آگے نہیں بڑھ سکے ۔عالمی تجارتی نظریہ رکھنے والے شخص ہیں لیکن تجارت آدرش واد سے نہیں چلتی ۔یہ صحیح ہے کہ تجارت اور معیشت ہمیشہ سے حکمت عملی اوزار نہیں ہیں لیکن اس طرح سے سارے قاعدے قانون ، روایات طاق پر زبردستی کسی دوسرے دیش پر قبضہ کرنے کی دھمکی کہاں تک صحیح ہے ۔جس طرح سے امریکہ اور یوروپی ممالک آمنے سامنے آگئے ہیں اس سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ٹرمپ ایک کے بعدا یک نیا مورچہ کھولے جارہے ہیں ۔اس بار ان کے نشانے پر نیٹو ممالک ہیں ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں