جنگ کی چوکھٹ پر ایران -امریکہ!
ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہرون نے ایران اور امریکہ کو جنگ کی چوکھٹ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔احتجاجی مظاہروں کےبعد حالات اور خراب ہونے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اے اےزئی نے کہا ہے کہ گرفتار مظاہرین پر تیزی سے مقدمہ چل سکتاہے اور انہیں پھانسی کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود آیا ہے ، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پھانسی دیتا ہےتو امریکہ سخت کاروائی کرے گا۔تقریباً 130 گھنٹوں سے ایران میں انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورک ٹھپ ہے ۔امریکہ میں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اب تک کم سے کم 2571 لوگوں کی موت ہو چکی ہے ، جس میں 2403 مظاہرین ،147 سرکار حمایتی ،12 بچے اور عام شہری شامل ہیں ۔قریب 18100لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ۔ایران کی راجدھانی تہران میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے لئے اجتماعی آخری رسوم بھی کی گئیں جہاںڈیتھ ٹو امریکہ جیسے نعرے لگے ۔بھارت کے سفارتخانہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے اور بے حد چوکس رہنے کی صلاح دی ہے۔ٹرمپ نے دی کڑی ایکشن کی وارننگ ۔ٹرمپ نے ایک پیغام میں کہا کہ ایرانی حب الوطنوں احتجاج جاری رکھو ،اپنے اداروں پر قبضہ کرو ،نہ سزائے موت دئے جانے کی صورت میں بہت بڑی کاروائی کریں گے اگر وہ ایسا کچھ کرتے ہیں تو ہم سخت کاروائی کریں گے ۔ جاری احتجاج کے درمیان امریکی فوجی کاروائی کی بات کہی جارہی ہے۔صدر ٹرمپ بھی ایسا کئی بار کر چکے ہیں ۔امریکہ کے اندر ایران میں اقتدار تبدیلی کی بات لمبے عرصہ سے اٹھتی رہی ہے ۔امریکہ نے ایران میں 1953 میں اقتدار تبدیلی بھی کی تھی لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب نے امریکہ حمایتی سرکار کو معزول کر دیا تھا اور آیت اللہ خمینی کا راج قائم ہو گیا تھا تبھی سے امریکہ -ایران کے اس ملا راج کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔اور تختہ پلٹ کر اپنی حمایتی سرکار بنانا چاہتا ہے ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے جس کا بہت وقت سے امکان ہے توایران کے ساتھ کون کھڑا رہے گا؟ روس اور چین ایران کے اہم ساجھیدار ہیں اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ یہ امریکی فوجی کاروائی کی کھل کر مخالفت کریں گے اور کر بھی رہے ہیں ، لیکن کیا یہ حمایت زبانی جمع خرچ ہوگی یا پھر کھل کر لڑائی کے میدان میں اتریں گے؟لیکن سوال اہم ہے جہاں تک عرب ممالک کا سوال ہے یہ کھل کر نہ تو حمایت کررہے ہیں اور نہ ہی مخالفت ۔یہ بات صحیح ہے کہ عوام کے غصہ کو زبردست ایکشن سے دبانا مناسب نہیں ، لیکن کسی ملک کی سرداری کی خلاف ورزی کا بہانا بھی نہیں بنایاجا نا چاہیے ۔اگر ٹرمپ حقیقت میں مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تہران کے ساتھ تجارت پر لگائے گئے 25 فیصد فاضل ٹیرف سمیت ان تمام پابندیوں کو ہٹانے پر غور کرنا چاہیے ، جن کا اثر خاص کر عام لوگوں پر پڑرہا ہے ۔ایران میں اس وقت ضرورت ہے ٹکراؤ ٹال کر بات چیت کا راستہ اپنانے کی ۔اس کی شروعات سرکار کی طرف سے ہونی چاہیے ۔وہاں کی جنتا لمبے عرصے سے مشکل حالات کا سامنا کررہی ہے ۔اس کا وقتاً فوقتاً اس کی ناراضگی لوگوں کے ذریعے باہر آتی رہی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں ٹکراؤ ٹلتا ہے اور جنگ کی حالت نہیں بنتی ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں