چاہ بہار پربھارت کے پیچھے ہٹنے کی قیاس آرائیاں!

ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ملکوں پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے ہی یہ سوال بناہوا تھا کہ بھارت پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ ایران سے بھارت کی تجارت امریکی پابندیوں کے سبب بے شک وہاں نہیں ہے لیکن ایران حکمت عملی طور سے بھارت کے لئے کافی اہم ہے ۔ایران کے جنوبی ساحل پر سیستان -بلوچستان صوبہ میں واقع چاہ بہار بندرگاہ اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔اسے بھارت اور ایران مل کر بنا رہے تھے تاکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک سیدھے پہنچ مل سکے ۔چاہ بہار بھارت کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا پہنچ سکتا ہے ۔لیکن امریکہ کے مزید ٹیرف کے اعلان کے بعد سے بھارت کے چاہ بہار بندرگاہ سے باہر ہونے کی خبریں زور پکڑنے لگی ہیں ۔ان خبروں اور قیا س آرائیوں کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے گزشتہ جمعہ کو جواب دیا ہے ۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو یہاں کہا ،جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 28 اکتوبر ،2025 کو امریکہ کے محکمہ مالیات نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں 26 اپریل، 2026 تک جائز اور مشروط پابندی چھوٹ کی سمت میں گائیڈ لائنس دی گئی تھیں ۔ہم نظام کو قطعی شکل دینے کے لئے امریکی فریق کے ساتھ رابطہ میں ہیں ۔ایران کے ساتھ ہمارا تعلق لمبے عرصے سے چلا آرہا ہے ۔ہم واقعات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس ساجھیداری کو آگے بڑھائیں گے ۔پچھلے برس بھارت اور ایران کے ساتھ تجارت 1.6 ارب ڈالر تھی ۔ایران -بھارت کی کل تجارت کا 0.15 فیصد حصہ ہے ۔دراصل چاہ بہار کو لے کر ان قیاس آرائیوں کو ہوا ملی ۔اکنامک ٹائمس میں شائع ایک رپورٹ سے اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے چاہ بہار پروجیکٹ سے خود کو حکمت عملی طور سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے اپنی طے سرمایہ کاری رقم پہلے ہی ایران کو ٹرانسفر کر دی ہے۔اور اس پروجیکٹ کو چلانے والی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ نے باقاعدہ طور سے دوری بنا لی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی امریکی پابندی سے بچا جاسکے ۔اپوزیشن پارٹیاں ،سینئرصحافی اور یہاں تک کہ بین الاقوامی امور کے واقف کار بھی امریکہ کو لے کر بھارت کی پالیسی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے بھارت بار بار امریکہ کو ناراض نہ کرنے کے دباؤ میں چپ رہا ہے ۔اور اپنے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے سوشل میڈیا ایکس پر سوال کیا ہے کہ بھارت آخر کب تک امریکہ کے دباؤ میں فیصلہ لیتا رہے گا۔انہوں نے لکھا اصل اشو صرف چابہار یا روس کے تیل کا نہیں ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ مودی امریکہ کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کیوں دے رہے ہیں ؟ فوجی امور کے ماہر ڈاکٹر برہما چیلانی نے ایکس پر لکھا 2019 میں جب امریکہ نےایران کے تیل پر پابندی لگائی ، تو بھارت نے اچانک ایران سے تیل خریدنا بند کر دیا اس سے بھارت اور ایران کے بیچ چلی آرہے توانائی رشتے تقریباً ختم ہو گئے ۔اور اس کا سیدھا فائدہ چین کو ملا ۔چاہ بہاربندرگاہ پاکستان کے گوادر پورٹ ، جسے چین چلارہا ہے اس کے مقابلے بھارت کا ایک حکمت عملی جواب ماناجاتا ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایران کا چاہ بہار پورٹ بھارت کے لئے بے حد اہم ٹریڈ ہب ہے ۔اس پورٹ کو ڈولپ کرنے میں ہم نے 4700 کروڑ روپے کا سرمایہ لگایا ہوا ہے۔چاہ بہار بھارت کو پاکستان بائی پاس کر افغانستان اور سنٹرل ایشیا پہنچنے میں مدد کرتا ہے ۔ایران کو لے کر فی الحال ٹرمپ کا رویہ کبھی ہاں کبھی ناں والارہا ہے ۔فی الحال ڈپلومیٹک پہل کر بھارت امریکہ کے ساتھ اس مسئلے پر اپنی بات منوا سکتا ہے ۔ایسی توقع ہم رکھتے ہیں۔بھارت اپنے مفادات کو بالاتر رکھے اور کسی بھی باہری دباؤ میں نہ آئے۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘