Translater
18 اکتوبر 2025
گٹھ بندھنوںمیں مچا گھماسان!
بہار اسمبلی چناو¿ میں دونوں بڑے گٹھ بندھنوں میں مچے گھماسان رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔پرچہ بھرنے کی آخری تاریخ 17 اکتوبر تک ہے ۔سیٹوں کو بٹوارہ کو لے کر کھینچ تان رکی نہیں ہے ۔گٹھ بندھن کی سیاست میں اتحادی پارٹیوں کے درمیان روٹھنا منانا عام بات ہے خاص کر جب چناو¿ سر پر ہوں تو دباو¿ کی سیاست اپنے انتہا پر ہوتی ہے ۔پہلے بات کرتے ہیں مہا گٹھ بندھن کی یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کانگریس اور جنتا دل یونائیٹڈ میں اختلاف ہیں تبھی تو نامزدگی کی آخری تاریخ میں جاکر سی ایم بٹوارہ کا اعلان فائنل ہوسکا ۔دراصل کانگریس یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ گٹھ بندھن میں سینئر پارٹنر ہیں کیوں کہ وہ دیش کی دوسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے جبکہ آر جے ڈی ایک علاقائی جماعت ہے اور اسے اسی حسا ب سے سیٹوں کا بٹوارہ کرنا چاہیے ۔دوسری جانب تیجسوی یادو کا خیال ہے کہ ان کی پارٹی بہار میں کانگریس سے کہیں بڑا مینڈیٹ رکھتی ہے اس لئے اسے ترجیح ملنی چاہیے ۔امید ہے کہ دونوں کے درمیان صحیح معنوں میں اختلافات مٹ جانا چاہیے اور دونوں کو اپنے اس ارادے پر پکے ہیں ۔کہ این ڈی اے کو اس بار ہرانا ہے وہیں اگر این ڈی اے کی بات کریں تو یہاں کئی مسئلے ہیں ۔نتیش کمار چاہتے ہیں کہ وہ بڑے بھائی کے کردار میں چناو¿ میں جائیں اس لئے انہیں بھاجپا سے زیادہ سیٹیں ملنی چاہیے تھیں وہ یہ بھی چاہتے ہیںکہ انہیں وزیراعلیٰ کا چہرہ اعلان کر این ڈی اے چناو¿ میں جائے ۔جبکہ بھاجپا کا کہنا ہے اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا یہ چناو¿ کے بعد چنے ہوئے ممبر اسمبلی کریں گے ۔ایک پینچ تو یہ پھنسا ہوا ہے دوسرا پینچ چراغ پاسوان کو لے کر پھنسا ہوا ہے ۔نتیش چراغ کو ایک آنکھ نہیں بھاتے وہ چاہتے ہیں کہ چراغ کو 45 سیٹیں ملیں جبکہ بھاجپا ہائی کمان نے انہیں 29 سیٹیں دے دی ہیں ۔29 سیٹوں میں ایسی بھی کئی سیٹیں شامل ہیں جہاں جے ڈی یو کا موجودہ ایم ایل اے ہے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ جے ڈی یو نے چراغ کی 7 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتار دیے ۔بتادیں کہ چراغ نے پچھلے اسمبلی چناو¿ میں جے ڈی یو کو کرارہ جھٹکا دیا تھا تب انہوں نے جے ڈی یو کوٹے کی زیادہ تر سیٹوں پر امیدوار اتار ے اور تین درجن سیٹوں کا نقصان پہنچایا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ جے ڈی یو ریاست میں تیسرے نمبرکی پارٹی بن کر رہ گئی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ اس بار چراغ پاسوان کے کوٹے کی سیٹوں پر امیدوار اتار نتیش پرانا حساب چکانا چاہ رہے ہیں ۔اوپندر کشواہا اور جتن رام مانجھی کو چھ چھ سیٹیں دی گئی ہیں۔دونوں ہی ناراض چل رہے ہیں ۔بی جے پی اعلیٰ کمان دباو¿ میں اب وہ کہہ تو رہا ہے کہ سب ٹھیک ہے لیکن اندر کھانے آگ سلگ رہی ہے اور چناو¿ میں این ڈی اے ایک بٹا ہوا اتحاد نظر آسکتا ہے ۔ایک بات پھر سے یہ ثابت ہو گئی ہے کہ آج بھی بہار میں نتیش کمار ایک اہم ترین فیکٹر ہیں ۔اور ان کار و ل اہم ہے یہ صحیح ہے کہ پچھلے کچھ وقت سے نتیش کی صحت پر سوال اٹھتے رہے ہیں اور وہ زیادہ سرگرم نہیں دکھائی دیے ۔لیکن پچھلے تین چار دنوں میں نتیش اپنے پرانے دنگل میں دکھائی دیے ۔جس طریقہ سے انہوں نے اپنی پارٹی کو سنبھالنے کے لئے سخت قدم اٹھائے ہیں اس سے صاف ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ بی جے پی انہیں اگلا وزیراعلیٰ نہیں بنانے والی ہے ۔انہیں یہ بھی سمجھ آگیا ہے ان کے تینوں سینئر ساتھی اندر کھانے بی جے پی حمایتی ہیں اور ان کے اشارے پر پارٹی کو اندر سے توڑنا چاہتے ہیں ۔اسی وجہ سے نتیش نے اب کئی نئی شرائط بی جے پی کے سامنے رکھی ہیں ۔دیکھنا ہوگا نہیں بی جے پی مانتی ہے یا نہیں ؟ ادھر بی جے پی تہہ دل سے چاہتی ہے کہ پہلا کہ وہ بہار اسمبلی چناو¿ ہر حال میں جیتے اور بہار کا اگلا وزیراعلیٰ بی جے پی کا ہواب اصل کھیل شروع ہونے والا ہے ۔دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا کیا ہوگا ہے ؟
(انل نریندر)
16 اکتوبر 2025
آئی پی ایس پورن سنگھ کی خودکشی کا معاملہ!
چنڈی گڑھ میں سینئر آئی پی ایس افسر وائی پورن سنگھ پورن کمار کی خودکشی کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے ۔7 اکتوبر 2001 بیچ کے پولیس افسر پورن کمار نے اپنے چنڈی گڑھ مکان پر خود کو گولی مار لی تھی ۔اس خودکشی نے پوری ریاست میں پولیس محکمہ میں کھلبلی مچا دی ہے ۔ایک پولیس افسر کی موت کے بعدکئی طرح کے سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔پولیس کو ان کے پاس سے خودکشی نامہ بھی ملا ہے ۔جس میں انہوں نے ہریانہ پولیس کے ڈی جی پی سمیت کئی افسران کو اپنی موت کاذمہ دار بتایا آئی پی ایس واچ پورن سنگھ کی بیوی آئی اے ایس افسر امنیت کمار ہیں ۔جب شوہر نے خودکشی کی اس وقت بیوی باہر گئی ہوئی تھیں انہوں نے لوٹ کر آکر پورے معاملہ کی جانکاری حاصل کی اب امنیت کمار اور پورا پریوار ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی مانگ کررہا ہے ۔پریوار نے الزام لگائے ہیں کہ پولیس نے ایف آئی آر بھی ٹھیک سے نہیں لکھی اور ملزمان نے نام پوری طرح صحیح نہیں بتائے ۔پریوار مسلسل انصاف کی مانگ کررہا ہے پورن کمار کی خودکشی کے معاملے میں ریاست کے ڈائرکٹرجنرل شتروجیت کپور کو عہدے سے ہٹانے کے لئے 31 ممبری کمیٹی نے ریاستی حکومت اور چنڈی گڑھ انتظامیہ کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹیم دیا ہے ۔پورن کمار کو انصاف دلانے کے لئے چنڈی گڑھ میں منعقدہ مہا پنچایت میں یہ الٹی میٹم جاری کیا ہے ۔پورن کمار کی موت کے بعد پورے پردیش میں دلتوں میں بھاری ناراضگی پائی جاتی ہے ایسے میں اس پنچایت کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں اس بات پر اتفاق رائے بنا کہ ریاستی سرکار ڈی جی پی کے خلاف سخت ایکشن لے انہیں عہدے سے ہٹائے اگرایسا نہیں ہوا تو پورے ہریانہ میں چنڈی گڑھ کے قریب پانچ ہزار صفائی کرمچاری کام چھوڑ دیں گے ۔وہیں اس معاملے میں ہریانہ کے وزیراعلیٰ نائب سینی نے سنیچر کو کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔اور انہیں بخشا نہیں جائے گا انہوں نے متاثرہ خاندان کو بھی یقین دلایا کہ سرکار ان کے ساتھ ہے انہوں نے اس مسئلے پر سیاست نہ کرنے کی بات کہی ۔معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کی کی گئی جو معاملے کی جانچ میں لگ گئی ہے ۔وہیں کانگریس پارلیمانی پارٹی چیف سونیا گاندھی پورن کمارکی بیوی کو تعزیتی پیغام بھیج کر دکھ جتایا ہے اور کہا آج بھی حکمرانوں کا نفرت اور جانبدارانہ رویہ بڑے سے بڑے افسر کو بھی سماجی انصاف کی کسوٹی سے محروم رکھتا ہے 10 اکتوبر کو پورن کی بیوی کو بھیجے گئے خط میں لکھا کہ ان کے شوہر کمار کے دیہانت کی خبر حیرت زدہ کرنے والی ہے ۔اور من کو پریشان کرنے والی بھی اس مشکل کی اس گھڑی میں میری طرف سے آپ کے علاوہ پورے خاندان کے تئیں گہری ہمدردی ہے ۔اس مشکل صورتحال میں ایشور آپ کو صبر وتحمل اور غم سے نکلنے کی ہمت دے ۔ہریانہ سرکار نے فوراً کاروائی کرتے ہوئے سنیچر کو ہی روہتک کے ایس پی نریندر بجرانیہ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے ۔سزا کے طور پر انہیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا ہے ۔ادھر سنیچر کو پانچوے دن بھی وائی پورن کمار کی لاش پوسٹ مارٹم نہیں ہوسکی تھی ۔چنڈی گڑھ کے ہوم سکریٹری منویہ براڑ نے پورن کمار کی بیوی امنیت پی کمار سے ملاقات کی اس کے کچھ وقت بعد چنڈی گڑھ انتظامیہ نے پورن کمار کی لاش کو سیکٹر 16 کے ہسپتال میں رکھوا دیا ۔خبر آئی ہے کہ بیوی امنیت کمار نے ہلکی دفعات لگانے پر اعتراض جتایا ہے ۔اور سخت دفعات نہ لگانے تک پوسٹ مارٹم و انتم سنسکار نہ کرنے پر اڑی تھیں ۔ہریانہ پولیس نے اتوار کو ڈی جی پی شترو جیت کپور اور اس وقت کے روہتک ایس پی نریندر بجار گلاسمیت دیگر حکام کے خلاف درج ایف آئی آر میں ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی نئی دفعات جوڑی ہیں ۔جس کے تحت عمر قید کی سزا کے ساتھ جرمانہ کی بھی سہولت ہے ۔پورن کمار کی بیوی نے اس آرٹیکل کے لکھنے تک پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں تھی ہم وائی پورن کمار کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں ان کے پریوار کے ساتھ انصاف ہو اس جانبدارانہ رویہ کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
14 اکتوبر 2025
بہار چناو: پہلا راونڈ پی کے کے نام !
بہار میں ہونے والے پہلے مرحلے کے اسمبلی چناو¿ کی نامزدگی کا روائی شروع ہو گئی ہے۔اس مرحلے میں 121 سیٹوں کے لئے پولنگ ہونی ہے ۔جمع کو الیکشن کمیشن نے پہلے مرحلے کی پولنگ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔اس مرحلے کے لئے امیدوار 17 اکتوبر تک اپنے نامزدگی کاغذات داخل کر سکتے ہیں اور ان سیٹوں کے لئے آنے والی 6 نومبر کو ووٹ پڑیں گے ۔اس آرٹیکل لکھنے تک نا تو این ڈی اے کی سیٹ شیئرنگ فائنل ہوئی تھی اور نہ ہی مہا گٹھ بندھن نے ۔امید کی جارہے کہ اس کا اعلان کبھی بھی ہوسکتا ہے جہاں این ڈی اے یعنی حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس میں سیٹوں کو لے کر گھماسان مچا ہوا ہے اور پچھلے کئی دنوں سے دہلی پٹنہ میں میٹنگوں کا دور چل رہا ہے وہیں مہا گٹھ بندھن میں بھی پوری طرح اتفاق رائے نہیں ہو پایا ۔ابھی کچھ سیٹوں پر اختلاف ہے وہیں اگر کسی نے اس کاروائی میں اپنا پرچہ داخل کیا ہے تو وہ ہے پرشانت کشور اور ان کی جن سوراج پارٹی نے جمعرات کو بہار اسمبلی چناو¿ کے لئے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی۔151 امیدواروں میں 17 انتہائی پسماندہ طبقہ سے 11 پسماندہ طبقہ سے 7 دلت ،7 مسلم 9 جنرل کٹیگری سے ہیں ۔ان 51 امیدواروں میں 6 عورتیں اور گوپال گنج کی موری سیٹ سے ایک ٹرانس جینڈر پریتی کنر کو ٹکٹ ملا ہے ۔بہار ذات پات سروے 2022 کے مطابق ریاست میں انتہائی پسماندہ برادریاں 36.01 فیصدی ہے ۔آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا حصہ ہے وہیں پسماندہ برادریاں 27.12 فیصدی ہیں ۔پی کے کی امیدواروں کی فہرست میں کئی پڑھے لکھے اور نامور لوگ شامل ہیں ۔مثال کے طور پر ہومگارڈ کے سابق ڈائرکٹر جنرل ،ہائی کورٹ کے وکیل اور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ،بھوجپوری فلموں کے گلوکار اور بہار کے سابق وزیراعلیٰ کرپوری ٹھاکر کی پوتی جاگرتی ٹھاکر کو سمستی پور کی بھروکھا مووا سیٹ سے ٹکٹ دیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ آر سی پی سنگھ کی بیٹی لتا سنگھ کو نالندہ کی آسنکل سیٹ سے اتارا گیا ہے ۔تقریباً سبھی امیدوار پہلی بار چناو¿ میدان میں ہیں ۔اس کے علاوہ جن سوراج سے تین ڈاکٹروں کو بھی امیدوار بنایا گیا ہے ۔ادھر بہار کے دو اہم اتحاد این ڈی اے اور آر جے ڈی والے مہا گٹھ بندھن میں سیٹوں کے بٹوارے پر ابھی تک کوئی رضامندی نہیں بن پائی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ این ڈی اے کے دو ساتھی چراغ پاسوان اور جتن رام مانجھی کو جتنی سیٹیں دی جارہی ہیں اس سے وہ ناخوش ہیں ۔دوسری طرف مہا گٹھ بندھن میں بھی کانگریس وہ مکیش ساہنی وکاس شیل سنستھان پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ بھی اور پشو پاتی پارس کی راشٹریہ شکتی پارٹی اپنی سیٹوں کو لے کر آر جے ڈی سے رضامند نہیں ہو پائے ۔بہار میں اسمبلی کی کل 243 سیٹیں ہیں ۔مکیش ساہنی 60 سیٹیں مانگ رہیں ہیں نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ بھی ۔ساہنی ملاح برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور بہار میں اس برادری کی آبادی 9.6 فیصد ہے ۔پرشانت کشور نے اپنی پہلی لسٹ پر کہا 1 بھی دبنگ اور دولت مند ،مہا ولی کوئی نہیں ملے گا ۔اس میں صرف وہ لوگ ملیں گے جو بہار کو سدھارنے کا جذبہ لے کر اس کوشش سے جڑ ے ہیں ۔ہمارے زیادہ تر امیدوار پہلی بار چناو¿ لڑ رہے ہیں ۔وہ لوگ جڑے ہیں جو سیاست نہیں جانتے لیکن سیاست کے ذریعے سماج کی سیوا کرنا چاہتے ہیں ۔
(انل نریندر)
11 اکتوبر 2025
نہ کوئی افسوس ،نا ہی معافی مانگوںگا!
سپرےم کورٹ کے چےف جسٹس بی آر گوائی پر گزشتہ دنوں حملے شرمناک کوشش ہوئی ۔سپرےم کورٹ مےں پےر کو اس شرمناک واقعہ مےں چلتی کاروائی کے دوران اےک وکےل نے چےف جسٹس بی آر
گوائی کی طرف جوتا پھےکنے کی کوشش کی ،حالانکہ کورٹ مےں تعینات سکورٹی ملازمین نے فورا ً حرکت مےں آکر ڈائس کے قرےب کھڑے وکےل راکےش کشور کو (71) فوراً دبوچ لےا اور عدالت سے باہر لے گئے ۔بعد مےں پولس نے پوچھ تاچھ کیلئے حراست مےں لے لےا۔کورٹ روم سے باہر نکلتے وقت وکےل چلا رہا تھا ،سناتن کا اپمان نہےں سہے گےں۔واردات سے پرےشان چیف جسٹس سماعت جاری رکھی اور دےگر وکےلوں سے کہا کہ اس پر ناراض نہ ہوں ۔ےہ چےزےں مچھے متاثر نہےں کر تی اس واردات کے بعد وزےر اعظم نرےندر مودی نے چیف جسٹس گوائی سے بات کی اور اےکس پر لکھا ،مےں نے بھارت کے چیف جسٹس بی آر گوائی سے بات کی آج صبح سپرےم کورٹ مےں ان پر ہوئے حملے سے ہر ہندوستانی ناراض ہے ۔ہمارے سماج مےں ایسی قابل مذمت حرکتوں کےلئے کوئی جگہ نہےں ہے، ےہ پوری طرح سے قابل مذمت ہے ۔ادھر چیف جسٹس گوائی پر جوتا پھےکنے والا بے شرم وکےل راکےش کشور کمار نے اپنی صفائی دی کہ سی جے آئی کے بھگوان وشنو پر دےئے گئے بےان سے مجھے ٹھیس پہنچی ہے ان کے اس بےان سے میرا غصہ تھا مےں نشے مےں نہےں تھا۔جو ہوا مجھے اسکا افسوس نہےں ہے اور نہ ہی مےں معافی مانگوں گا ملزم وکےل کی ممبر شےپ فوراً ختم کر دی گئی۔راہل گاندھی نے بھی اس واردات کی ملامت کرتے ہوئے اپنے اےکس پر لکھا کہ بھات کہ چےف جسٹس پر حملہ ہماری عدلیہ کہ وقار اور ہمارے آئین کی روح پرحملہ ہے اس طرح کی نفرت کےلئے ہمارے دےش مےں کوئی جگہ نہےں ہے اور اسکی مذمت کرنی چاہئے۔اخبار ایجنسی اے اےن آئی سے کہا روہت پانڈے جو سپرےم کورٹ بار کونسل کے سابق نگراح سےکرےٹری ہےں بتاےا کہ معاملہ کیا ہے ؟در اصل 16ستمبر کو سی جی آئی گوائی اور جسٹس ونود چندرن کی بےنچ نے مدھےہ پردےش کے کھجوراو¿ مےں اےک مندر میں بھگوان وشنو کی ٹوٹی مورتی کی مرمت کا حکم دےنے سے جوڑی عرضی خارج کر دی تھی ۔بینچ نے کہا ےہ عدالت نہےں ےہ اثارے قدےمہ کے تحت آتا ہے عرضی گزار سے کہا کہ وہ بھکوان وشنو کے بڑے بھگت ہےں تو پھر انہی سے پراتھنا کرےں اور تھوڑا دھےان لگائےں۔چےف جسٹس کے اس تبصرے کے بعد سناتنی برےگےڈ نے سی جے آئی پر سدھا حملہ بول دےا۔اےک بھکت نے تو ےہاں تک کہہ دےا ججوں کو سڑکوں پر پےٹا جائے گا اگر وہ نہیں سدھرے اس پر جسٹس گوائی نے صفائی دی کہ سوشل مےڈےا پر تو آج کل کچھ بھی چل سکتا ہے۔پرسوں کسی نے مجھے بتاےا کہ آپ نے توہین کی اس پر انہیں نے کہا مےں سبھی دھرموں مےں ےقین اور سبھی کا سمان کرتا ہوں اس پر سرکاری وکےل تشار مہتہ نے بھی کہا کہ سی جے آئی کو پچھلے دس برسوں سے جانتا ہوں وہ سبھی دھرموں کے مندروں اور دےگر مذہب مقامات پر پوری عقےدت سے جاتے ہےں ۔اس دوران چےف جسٹس نے ےہ صاف کےا انکی رائے زنی سے صرف اس سلسلے مےں تھی کہ مندر اے ایس آئی کے اختےار مےں آتا ہے۔سپرےم کورٹ کے وکےلوں اور انکی رکارڈ ایسوسی اےشن نے اپنے بےان مےں کہا کہ ہم اتفاق رائے سے حال میں ایک وکےل کے طرف سے کئے گئے برتاو¿ پر عدم اتفاقی ظاہر کرتے ہےں انہوں نے بھات کے عزت مآب جیف جسٹس انکے ساتھی ججوں اور انکے اختےار کی بے عزتی کی کوشش کی سوشل مےڈےا مےں اس حرکت کی اس لئے بھی ملامت ہو رہی ہے کےو ں کہ چیف جسٹس دلت فرقہ سے آتے ہیں اس لئے بھی انکی بے عزتی کی گئی اور ےہ حملہ صرف چیف جسٹس گوائی پر ہی نہےں بلکہ آئےن پر سدھا حملہ ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ےہ معاملہ چیف جسٹس تک محدود نہےں ہے بےشک انہےں نے قصور وار کو معاف کر دےا ہو لےکن دےش اسے معاف نہےں کرے گا۔اسنے صرف چیف جسٹس پر حملہ نہےں کےا لےکن ےہ حملہ پوری عدلیہ نظام کو چنوتی دی ہے اور آئین کی توہین کی ہے اسکی کرنی کی سزا ملنی ہی چاہئے تاکہ مستقبل مےں اےک نظےر بنے ۔نہےں تو اےسے حملے بڑھتے جائےں گے۔
انل نرےندر
09 اکتوبر 2025
زوبن کی موت : حادثہ یا قتل؟
مشہور گلوکار زوبن گرگ کی موت کو لے کر روز روز نئے انکشاف ہو رہے ہیں بتادیں کہ زوبن کی موت 19 ستمبر 2025 کو سنگاپور میں ہوئی تھی ۔بتادیں زوبن کی سنگاپور میں اسکوبا ڈائیونگ کے دوران پراسرار حالت میں موت ہوئی ۔زوبن شام دھانو مہنت اور ان کی کمپنی کی جانب سے آرگنائز ایونٹ کے چوتھے ایڈیشن میں حصہ لینے کے لئے سنگاپور گئے تھے ۔اسکوبا ڈائیونگ کے دوران زوبن نے پانی میں چھلانگ بھری اور کچھ ہی لمحوں میں تڑپتے نظر آئے ۔بتایا گیا کہ جب زوبن گرگ پانی میں سانس لینے کے لئے ہانپ رہے تھے اور تقریباً ڈوبنے کی حالت میں تھے اس وقت سدھارتھ شرما کو جابو دیر جانے دو جانے دو چلاتے ہوئے سنا گیا ۔ایسا ایک گواہ نے بتایا ۔زوبن کی موت کے بعد اس معاملہ کی جانچ جاری ہے ۔فیسٹیول کے آرگنائز ،سنگر کے منیجر سدھارتھ شرما اور بینڈ کے دو ممبر شیکھر ،جوتی گوسوامی اور امرت پربھا مہنت کو گرفتار کر 14 دن کی پولیس حراست میں بھیجا گیا ہے ۔حالانکہ اس دوران جوبن کے بینڈ کے چھ ممبر شیکھر جوتی گوسوامی نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا ہے ۔جس میں انہوں نے بتایا کہ سنگاپور میں زوبن کو زہر دیا گیا تھا ۔جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی تھی ۔اس معاملے کے مطابق ڈیٹیلس گراو¿نڈ آف اریسٹ یا ڈیمانڈ نوٹ میں جیوتی نے الزام لگایا کہ زوبن کی سنگاپور میں ان کے مینیجر سدھارتھ شرما اور نارتھ ایکٹ انڈیا فیسٹیول کے آرگنائز شیام کانو مہنت نے زہر دیا تھا ۔گواہ نے بتایا کہ زوبن گرگ ایک ٹرینڈ تیراک تھے یعنی وہ تیراکی اچھی طرح جانتے تھے ۔اور اس لئے ڈوبنے سے ان کی موت نہیں ہوسکتی ۔اس نے آگے میں کہا گیا ہے کہ جیوتی گوسوامی نے الزام لگایا کہ شرما اور شیام کانو مہنت نے سنگر کو زہر دیا تھا اور اپنی سازش چھپانے کے لئے جان بوجھ کر بدیش میں جگہ چنی تھی ۔سدھارتھ نے انہیں کشتی کے ویڈیو کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی بھی ہدایت دی تھی ۔سی آئی ڈی کا نو ممبری تفتیشی دل ( ایس آئی ٹی ) فی الحال سنگاپور میں گرگ کی موت سے وابستہ معاملے کی جانچ کررہی ہے ۔سی آئی ڈی کے ذرائع نے دستاویز کی اصلیت کی تصدیق کی ہے ۔نوٹ میں کہا گیا ہے کہ گواہ شیکھر جیوتی گوسوامی کے بیان سے پتہ چلا ہے کہ زوبن گرگ کی ڈیتھ سے پہلے موت کا ایکسڈنٹ دکھانے کی سازش رچی تھی۔زوبن کے ساتھ سنگاپور میں رہ رہے سدھارتھ شرما کا رویہ مشتبہ تھا جس کی وجہ سے بیچ سمندر میں خطرناک طریقہ سے کشتی ڈگمگانے لگی تھی ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ڈوبتے وقت زوبن کے منھ سے اور ناک سے جھاگ نکل رہا تھا تو سدھارتھ نے ضروری میڈیکل سہولیت دستیاب کرانے کے بجائے اسے ایسڈ رپلکس بتا کر ٹال دیا اور دوسروں کو تسلی دی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے زوبن کی موت کی جانچ کے لئے آسام حکومت نے معاملے کی جانچ ایک ممبری جوڈیشیل کمیشن کوبھی سونپ دی ہے ۔سیاسی محکمہ کے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے جج سمتر سیکیا کی سربراہی والے یہ کمیشن چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ سونپے گا ۔ادھر زوبن کی بیوی گریما سیکیا گرگ نے سنیچر کو اپنے شوہر کے پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو لوٹاتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا ذاتی دستاویز نہیں ہے اور جانچ پوری ہونے تک ہم طے کر پائیں گے کہ اس رپورٹ کو سامنے لایاجانا چاہیے یا نہیں ۔گریما نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ انہیں پورا بھروسہ ہے جانچ میں سنگاپور میں زوبن کی موت کے پیچھے اصل حالات کا پتہ لگا لیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ وہ بس چاہتی ہیں کہ جانچ صحیح طریقہ سے کی جائے اور سچائی جلد سے جلد سامنے آئے ۔جب گریما نے زوبن کے بینڈ میں شامل شیکھر جیوتی گوسوامی کے گلوکار کو زہر دیے جانے کے دعوے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے سوال کیا کہ شیکھر اتنے لمبے عرصہ تک کیوں چپ رہے ۔اگر شیکھر کو پتہ تھا تو انہوں نے یہ بات اتنے دنوں تک کیوں چھپائے رکھی ۔
(انل نریندر)
07 اکتوبر 2025
بہار میں کانٹے کی ٹکر نظر آتی ہے!
بہار میں اسمبلی چناو¿ کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں ۔پارٹیوں کے درمیان سیٹوں کے تجزیہ جاری ہیں ۔اس درمیان الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر یعنی انسینٹو رویژن لسٹ کا ڈرافٹ بھی جاری کر دیا ہے اس کے مطابق بہار میںاب 7.42 کروڑ ووٹر ہیں اب۔ اب چناو¿ کا اعلان ہو گیا ہے بہار میں 6 اور 11 نومبر کو اسمبلی چناو¿ ہوں گے ۔نتیجے 14 نومبر کو آئیں گے ۔بہار اسمبلی کی موجودہ میعاد 22 نومبر 2025 کو ختم ہور ہی ہے ایسے میں ریاست میں چناو¿ میعاد ختم ہونے سے پہلے تک کرائے جارہے ہیں ۔قارئین کی جانکاری کے لئے بہار میں اسمبلی کی 243 سیٹیں ہیں اور سرکار بنانے کے لئے کسی بھی پارٹی یا اتحاد کے پاس 122 سیٹیں ہونا ضروری ہے ۔بہارمیں فی الحال جے ڈی یو اور بھارتیہ جنتا پارٹی اتحادی این ڈی اے کی سرکار ہے اور آر جے ڈی کے تیجسوی یادو بہار اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں ۔اسمبلی میں ابھی بی جے پی کے 80 ممبران ہیں اور آر جے ڈی کے 77 جے ڈی یو کے 45 اور کانگریس کے 19 کمیونسٹ پارٹی کے 11 ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر ) کے 4 کمیونسٹ پارٹی ماسک وادی کے دو کمیونسٹ پارٹی کے دو اویسی کی پارٹی کا ایک دو آزاد ممبر اسمبلی ہیں ۔سبھی پارٹیاں ووٹروں کو لبھانے کے لئے جم کر ریوڑیاں بانٹ رہی ہیں ۔کہیں تو بہار کی 75 لاکھ عورتوں کے کھاتے میں 10-10 ہزار روپے پہنچ رہے ہیں تو کہیں چناو¿ کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ ہونے سے پہلے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے کروڑ روں روپے کے پروجیکٹوں کا اعلان کر دیا گیا ۔عورتوں کے کھاتے میں پیسہ دینے کے وعدے کے بعد اب پی ایم مودی نے لڑکوں کے لئے قریب 62 ہزار کروڑ روپے اسکیمیں شروع کی ہیں ۔ان میں بہار کے لئے بھی کافی اسکیمیں ہیں ۔ان اسکیموں سے لگتا ہے بہار چناو¿ حکمراں مرکز کی این ڈی اے سرکار کے لئے بہت اہم رکھتا ہے اور مرکزی قیادت کسی بھی صورت میں بہار کو کھونا نہیں چاہتی ۔ان اسکیموں سے لگتا ہے کہ پی ایم مودی اور وزیراعلیٰ نتیش کمار عورتوں اور نوجوانوں پر خاص توجہ دے کر چناو¿میں جیت کے امکانات بڑھانے کی کوششیں کررہے ہیں ۔دوسری جانب مہا گٹھ بندھن بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے ایس آئی آر ،ووٹ چوری اور آئین کی حفاظت ان کے اہم اشو ہیں ۔این ڈی اے کی اندرونی کھینچ تان بھی جاری ہے ۔جو تشویش کا موضوع بنی ہوئی ہے ۔اس بار چناو¿ میں ایک نیا فیکٹر بھی جڑ گیا وہ ہے پی کے یعنی پرشانت کشور اور ان کی جن سوراج پارٹی کے حکمراں این ڈی اے سرکار کے وزیرہیں ۔پرشانت کشور اپنے ریلیوں میں زبردست بھیڑ اکٹھی کررہے ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ یہاں کے لوگ کس پارٹی کو ووٹ ڈالتے ہیں این ڈی اے یا مہا گٹھ بندھن ؟ اگر پی کے 10-12 سیٹیں نکال لیتے ہیں تو وہ کنگ میکر کے رول میں آسکتے ہیں ۔بہار میں اس وقت لڑائی این ڈی اے بنام مہا گٹھ بندھن بنام جن سوراج پارٹی کے درمیان دکھائی پڑتی ہے ۔میں شخصی طور سے ان چناو¿ سے پہلے ہوئے سرووں پر یقین نہیں رکھتا لیکن جو ان پر یقین کرتے ہیں ان کی جانکاری کے لئے تازہ سروے کی تفصیل دے رہا ہوں ۔نتیش کمار ،تیجسوی یا پرشانت کشور ۔۔۔ بہار کا کون اگلا وزیراعلیٰ نام کے کسی سی ووٹر کا تازہ سروے آیا ہے ۔2025 میں اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا ؟ اس کو لے کر لوگوں میں کریز بڑھ گیا ہے ۔حالیہ سی ووٹر سروے نے دکھایا ہے کہ تیجسوی یادو ابھی بھی لوگوں کی سب سے زیادہ پسندیدہ وزیراعلیٰ کے دعویدار ہیں۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ پرشانت کشور نے مقبولیت میں نتیش کمار کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کیا ہے ۔کون جیت رہا ہے یہ کہنا مشکل ہے لیکن کانٹے کی ٹکر ہے ۔این ڈی اے ،اندیا مہاگٹھ بندھن اور پرشانت کی بھی جن سوراج پارٹی کے درمیان تکونے مقابلے نے چناوی لڑائی کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا نتیش کمار مسلسل تیسری بار ریگولر وزیراعلیٰ بن پائیں گے یا پھر این ڈی اے کی جیت ہوگی ۔تو کیا بی جے پی کسی وزیراعلیٰ کے عہدے پر کسی نئے چہرے کا اعلان کرے گی ۔وہیں اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو اس کا وزیراعلیٰ کون ہوگا ؟ کیوں کہ ابھی تک اس موضوع پر کانگریس نے کچھ کھل کر بات نہیں کی ہے ۔سی ووٹر کے مطابق بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ اور آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو کو تقریباً 35 فیصدی لوگوں نے ہونے والا وزیراعلیٰ کی شکل میں اپنی رائے دی ہے ۔جبکہ نتیش کمار کو اس سروے میں تیسری پسند بتایا گیا ہے ۔انہیں صرف 16 فیصد لوگو ںنے چنا جبکہ دوسرے نمبر پر سیاستداں سے حکمت عملی بنے پرشانت کشور کی مقبولیت اس سروے میں سب سے پسندیدہ وزیراعلیٰ کی شکل میں ہے جو 23 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔جیسا کہ میں نے کہا مجھے ان جائزوں پر یقین نہیں ہے ان سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ بہار میں کیسی سیاسی ہوا بہہ رہی ہے ۔
(انل نریندر)
04 اکتوبر 2025
قیدیوں کی رہائی تک بات چیت نہیں!
کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے ) نے منگلوار کو کہا کہ قیدیوں کی رہائی تک مرکزی سرکار سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔تنظیم نے فائرنگ کے واقعہ کی جوڈیشیل انکوائری کی بھی مانگ کی ہے ۔وہیں کے ڈی اے نے لیہہ اپیکس باڈی کے مرکز کے ساتھ بات چیت ملتوی کرنے کے فیصلے کی بھی حمایت کی ہے ۔گزشتہ 24 ستمبر کو ہوئے تشدد میں 4لداخیوں کی موت ہو گئی اوردرجنوں زخمی ہوئے تھے مرنے والوں میں کارگل لڑائی میں حصہ لینے والے سابق فوجی تپ سیوانگ تھارین بھی شامل تھے۔راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ کیتھرین کے والد کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے پتہ بھی فوجی ہے اور بیٹا بھی فوجی ہے جن کے خون میں حب الوطنی بسی ہے پھر بھی حکومت نے دیش کے بہادر بیٹے کی فائرنگ کرکے جان لے لی ۔صرف اس لئے چونکہ وہ لداخ اور اپنے حق کے لئے کھڑا تھا ۔بتادیں کہ 24 ستمبر کو ایل اے بی کے ذریعے بلائے گئے بند میں تشدد و مظاہرے ہوئے تھے اس میں چار لوگوں کی جان چلی گئی تھی ۔150 لوگوں کو دنگا بھڑکانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ۔آندولن کا چہرہ بنے سونم وانگچک کو این ایس اے کے تحت گرفتار کر جودھپور جیل میں بھیج دیا گیا ۔سونم وانگچک کی بیوی گیتانجی وانگچک نے منگل کو کہا کہ ان کے پتی سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو قومی سلامتی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا ۔حراست پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک سمیت ابھی تک 60 ہندوستانیوں کو نیکسے سے ایوارڈ ملا ہے ان میں سے 20 کو حکومت ہند نے پدم شری ،پدم وبھوشن بھی دیا ہے ۔تو کیا سرکار اینٹی نیشنل کو بھی یہ سبھی ایوارڈ دیتی ہے ۔نوبھارت ٹائمس میں شائع رپورٹ میں ڈاکٹر گیتانجلی نے سیدھا سوال کیاکہ اگر سونم اینٹی نیشنل تھے تو یہی سرکار انہیں اتنا انعام سے کیوں نواز رہی تھی ۔ابھی ایک مہینے سے ایسا کیا ہوا ؟ جو اچھا کام کررہا ہے اس کو نشانہ پر لیا جارہا ہے ۔انہوں نے اپنے انسٹی ٹیوٹ کو ملے مبینہ ڈونیشن کے بارے میں کہا کہ وہ ڈونیشن نہیں بلکہ باہر کی یونیورسٹی نے ان کی ریسرچ خریدی تھی ۔گیتانجلی نے کہا کہ سونم اور ان کے ہمالیہ انسٹی ٹیوٹ آف آل نریٹو لداخ کے بارے میں جو بدگمانی پھیلائی جارہی ہے وہ سب سراسر غلط ہے۔سی بی آئی اور آئی ٹی سے لے کر سبھی کو انہوں نے ثبوت دیے ہیں ۔کہیں بھی کچھ نہیں ملا ۔گیتانجلی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پاکستانی سسٹم لداخ میں دکھا تو ہمارا سوال یہ ہے کہ آپ نے یہ سیفٹی پروٹوکال کیسے بریچ ہونے دیا؟ اس کا جواب ہم نہیں بلکہ مرکزی وزارت داخلہ کو دینا چاہیے ۔سونم کے سیاست میں آنے کی بات کو بھی درکنار کرتے ہوئے کہا کہ ہر بار جب بھی چناو¿ آتے ہیں تو سبھی سیاسی پارٹی انہیں اپروچ کرتی ہیں لیکن وہ کوئی چناو¿ نہیں لڑیں گے ۔کہا تین بار تو میرے سامنے ہی انہوں نے آفر ریجکٹ کی ہے ۔سرکار کو تشدد اور نفرت کی سیاست بند کرکے بات چیت کرنا چاہیے ۔سونم وانگچک کو دیش ملک دشمن ماننے کو کوئی تیار نہیں جو آدمی ہندوستانی فوج کے لئے سولر پلانٹ بنا سکتا ہے تاکہ ہمارے فوجی کڑاکے کی ٹھنڈ سے بچ سکیں ۔وہ ملک دشمن کسے ہوسکتا ہے ۔چین سے سیدھے ٹکر لینے والے لداخیوں سے اچھا دیش بھکت میں اور کون ہوسکتا ہے؟ آج لداخ میں کیا حالات ہیں ۔خبر رساں ایجنسی بھاشا کی یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہتی ہے کہ 22 اپریل کو جموں وکشمیر کے پہلگام میں ہوئے آتنکی حملے کے بعد وسیع پیمانہ پر بکنگ کینسل ہونے سے صنعت کو زبردست جھٹکا لگا تھا لیکن اب لیہہ میں ہوئے تشدد سے سیاحوں کا بھروسہ ٹوٹنے لگا ہے ۔ایل اے بی کے ذریعے بند کے دوران کئی جھڑپوں کے بعد 24 ستمبر کو لیہہ شہر میں بے میعادی کرفیو لگایاگیا تھا جس میں اب تھوڑی راحت دی گئی ہے۔لیہہ اپیکس باڈی لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور اسے اسپیشل فہرست میں شامل کرنے کے لئے تحریک چلا رہی ہے ۔لداخ میں انٹرنیٹ سروس بند رہیں اس وجہ سے ساری بکنگ منسوخ ہونے لگیں اور مقامی لوگوں کو بہت نقصان ہوا ہے ۔اور مشکلوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مسافر اپنے کمروں میں بند ہیں مرکزی سرکار کو لداخ کی اہمیت سمجھنی چاہیے وہ چین اورپاکستان سے لگتا سرحدی علاقہ ہے ۔لداخیوں نے ہمیشہ دیش کی حفاظت میں اگلی صف میں حصہ لیا ۔مرکزی سرکارکو فوراً وہاںا من بحال کرنا چاہے اور سبھی قیدیوں کو رہا کر سارے کیس واپس لینے چاہیے ۔ایسا اپیکس باڈی کا کہنا ہے امید کی جانی چاہیے کہ مرکزی سرکار اس برننگ صورتحال کا بلا تاخیر حل نکالے گی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا
مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...