Translater

20 جولائی 2019

اپوزیشن خواتین ممبران پارلیمنٹ پر رائے کر پھر گھرے ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تنازعات سے پرانا رشتہ ہے اپنی رائے زنیوں کے چلتے وہ کئی بار تنقیدوں کا شکار ہو چکے ہیں ۔تازہ تنازعہ کچھ اپوزیشن خواتین ممبران پارلیمنٹ پر کئے گئے تبصرے کو لے کر ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کی چار اقلیتی خواتین ممبران پارلیمنٹ پر طنز کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سرکار کیسے چلائی جائے ،امریکہ لوگوں کو یہ بتانے کے بجائے وہ جن ملکوں سے آئی ہیں وہیں لوٹ جائیں ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے ٹوئیٹر پر لکھا :یہ ان ترقی پسند ڈیموکریٹس خواتین ممبران پارلیمنٹ کے لئے دیکھنا کتنا دلچسپ ہے جو بنیادی طور سے جن ملکوں سے آئی ہیں وہاں کی سرکار پوری طرح تباہ،اور سب سے کرپٹ اور دنیا میں سب سے نا اہل ہیں ۔وہ امریکی لوگوں سے چلا کر اور نفرت آمیز لہجے میں کہہ رہی ہیں کہ ہماری سرکار کو اس طرح چلایا جائے ؟وہ جہاں سے آئی ہیں وہیں واپس کیوں نہیں چلی جاتیں اور ان تباہ اور جرائم سے متاثرہ مقامات پر مسئلے کو دور کرنے میں مدد کیوں نہیں کرتیں جن چار ممبران پارلیمنٹ کو ٹرمپ نے آڑے ہاتھوں لیا ہے وہ پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں پہنچنے والی ایم پی راشدہ طالب ،الہان عمر،الیکزنڈریا اوکاسیہ ،اور کارٹیج و ایان پراسلی شامل ہیں ان خواتین ممبران پارلیمنٹ نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اور پناہ گزینوں کے خلاف چلائی جا رہی مہم کی تنقید کی تھی ۔امریکہ میں غیر طور سے رہ رہے پناہ گزینوں کو نکالنے کے اتوار سے یہ مہم شروع کی گئی ہے راشدہ طالب کئی مرتبہ اس رائے پر بھی نکتہ چینی کر چکی ہیں عمر نے سیاہ فام قومیت کو بڑھاوا دینے کا بھی الزام لگایا عمر کی پیدائش صومالیہ میں ہوئی تھی ۔طالب کی پیدائش فلسطین اور ایلگزنڈریا کی پیدائش شیکاگو سے تعلق ہے ۔چوتھی خاتون پریسلی پہلی افریقی ایم پی ہیں ۔اور پارلیمنٹ کے نچلے ایوان نمائندگان میں اسپیکر اور ڈیموکریٹ لیڈر نینسی پلونسی سمیت ان کی پارٹی کے کئی لیڈوں نے ٹرمپ کی رائے زنی پر تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے ان کہنا ہے کہ ہماری وراثت اور اتحاد ہی امریکہ کی طاقت ہے ۔ممبران پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے بجائے ٹرمپ کو ہمارے ساتھ امیگریشن پالیسی اور امریکہ اقدار پر کام کرنا چاہیے ۔امریکی پارلیمنٹ کی اسپیکر پلونسی آگے کہتی ہیں جب ٹرمپ امریکی کانگریس کی چار خواتین ممبران پارلیمنٹ کو اپنے دیش واپس جانے کے لئے کہتے ہیں تو اس سے ان کی میک امریکہ گریٹ اگین کی اسکیم صاف ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ امریکہ کو سفید فام بنانا چاہتے ہیں لیکن ٹرمپ بھی چپ رہنے والے کہاں انہوںنے اسپیکر کے تبصرے کے بعد پیر کو بھی اپنا جارحانہ رخ اپناتے ہوئے کہا ان چار خواتین نے اسرائل ،امریکہ کے لوگوں کو بے عزت کیا اور ان کی غلط زبان سے پریسی ڈینٹ ہاﺅس بھی شرم سار ہے ۔معاملہ آگے بڑھتا چلا گیا اور امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کی اس نسلی تعصب آمیز تبصرے کے خلاف منگل کے روز ملامتی تجویز پاس کر دی ۔امریکی کانگریس کے نچلے ایوان نمائندگان نے پیش کئے گئے ریزولیشن کے حق میں 240ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 184ووٹ پڑے ممبر پارلیمنٹ کے ذریعہ پیش ریزولیشن پر بولتے ہوئے کہا کہ یہ آگ سے کھیلنا جیسا ہے کیونکہ صدر جن الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں انہیں پریشان دماغ جیسے لوگ ہی سن رہے ہیں جو اچانک چیخا کرتے ہیں اور تشدد برپا کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور اس کی حد طے کرنے کی بھی ضرورت ہے انہوںنے کہا اس لئے ہم یہی کرنے کی امید رکھتے ہیں خواتین ممبرپارلیمنٹ گریک مینگ نے کہا صدر ٹرمپ کے تبصرے نسل پرستی پر مبنی ہیں ۔یہ صورتحال بنی ہوئی ہے کہ نہ تو صدر ٹرمپ اپنی رائے زنی کو واپس لیتے یا کسی طرح کا افسوس ظاہر کرنے لگ جاتے اور نہ امریکی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان نمائندگان اپنے موقوف سے بدلتا نظر آرہا ہے نیوزی لینڈ اور کناڈا سمیت کئی ساتھیوںنے ٹرمپ کے ان تبصروں پر نکتہ چینی کی ہے ۔یہ تنازعیہ امریکی میڈیا کی سرخی بنا ہوا ہے ۔

(انل نریندر)

دہشت گردی صرف ہوتی ہے صرف دہشت گردی

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بلا روک ٹوک نشریات و فروغ کے سبب دہشتگردی آج عالمی حیثیت لے چکی ہے ۔شام میں بیٹھا آئی ایس آئی ایس کیرل کے لڑکوں کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے تو دبئی میں بیٹھا پاکستانی آئی ایس آئی کا کرتا دھرتا بھارت سمیت دنیا کے کسی بھی کونے میں دھماکہ کرا سکتا ہے ۔دہشتگردی تو دہشتگردی ہی ہوتی ہے لیکن یہ حقیقت سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی پر قابو پانے کے لئے سارک ممالک کے علاقائی سمجھوتے (سارک ریجنل کنونشن آن سیپریشن آف ٹیریرزم )پر دستخط نہیں کئے ہیں ۔پاکستان کو ایک دن دنیا کے دباﺅ میں اس معاہدے پر دستخط کرنے ہوں گے اگر نہیں کرتا ہے تو ہمارے پاس اس سے نمٹنے کے طریقہ حملے ائیر اسٹرائک وغیر ہیں ۔این آئی اے ترمیمی بل 2019پر لوک سبھا میں بحث کے دوران کچھ ممبران کے ذریعہ مانگی گئی وضاحت پر امت شاہ نے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی رائٹ یا لیفٹ نہیں ہوتا ۔دہشتگردی صرف دہشتگری ہوتی ہے ۔بحث کے دوران وزیر داخلہ اور آل انڈیا اتحاد المسلیمن کے صدر اسد الدین اویسی کی ان سے بار بار نوک جھونک بھی ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے بھاجپا کے ایم پی ستیہ پال سنگھ نے کہا کہ حیدرآباد کے ایک پولیس چیف کو ایک نیتا نے ایک ملزم کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے روکا تھا اور کہا کہ وہ اگر کارروائی کو آگے بڑھاتے ہیں تو ان کے لئے مشکل ہو جائے گی اس پر اسد الدین اویسی اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے اور بولے بھاجپا ممبر ذاتی بات چیت کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔اور جن کی بات کر رہے ہیں وہ ایوان میں موجود نہیں ہیں کیا بھاجپا ممبر اس کے ثبوت ایوان میں رکھ سکتے ہیں ؟ایوان میں موجود وزیر داخلہ امت شاہ نے اویسی کو تلخ لہجے میں کہا کہ جب ڈی ایم کے ممبر اے راجا بول رہے تھے تو آپ نے کیوں نہیں ٹوکا؟آپ بھاجپا ممبر کو کیوں ٹوک رہے ہیں ؟اور اس بارے میں الگ الگ پیمانے نہیں ہونے چاہیں ۔شاہ نے کہا کہ سننے کی عادت ڈالیئے اس طرح سے نہیں چلے گا اس پر اویسی نے کہا کہ آپ وزیر داخلہ ہیں تو مجھے ڈرائیے مت میں ڈرنے والا نہیں ہوں شاہ نے اویسی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو ڈرایا نہیں جا رہا ہے لیکن اگر ڈر ذہن میں ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے ؟شاہ نے اویسی کے ایک دوسرے سوال پر کہا بھاجپا کی سرکار قانون سے چلتی ہے اس میں جانچ اور مقدمہ اور فیصلے الگ الگ سطح پر ہوتے ہیں ۔بل پیش کئے جانے پر اویسی نے ووٹ ڈویزن کی مانگ کی اس کو قبول کرتے ہوئے شاہ نے دو ٹوک کہا کہ ووٹ ڈویزن ہونا ہے ہو جانا چاہیے دیش کو بھی پتہ چلنا چاہیے کہ کون دہشتگردی کے خلاف ہے اور کون ساتھ ہے ۔اس پر بل کے حق میں 278و مخالف میں 6ووٹ پڑے بعد میں ایوان میں ایک آواز سے بل کو منظوری دے دی ۔بھارت کی کم سے کم ایک ایجنسی کو پوری طرح مضبوط کرنا ضروری ہو تا جا رہا ہے ۔اگر صحیح معنوں میں ہم دہشتگردی سے نمٹنا چاہتے ہیں تو لوک سبھا سے این آئی اے قانو ن میں اس مسئلے کا ترمیم پاس کرنے میں تقریبا سبھی پارٹیوں کی رضامندی ہے اور اس مشکل کی گھڑی میں سیاسی پارٹیوں کی حساسیت جھلکتی ہے ۔امید ہے کہ راجیہ سبھا میں بھی یہی سنجیدگی دکھائی پڑئے گی اور این آئی اے کو مزید مضبوط بنانے کا راستہ ہموار ہوگا۔

(انل نریندر)

19 جولائی 2019

بیشک ضمانت ملی پھربھی لالو جیل میں ہی رہیں گے !

آخر کار چارہ گھوٹالہ مقدمے میں سزا یافتہ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے ۔عدالت نے سز اکی آدھی میعاد جیل میں گذار نے کی بنیاد پر پچھلے جمعہ کے روز لالو کو ضمانت کی سہولت دیدی ہے اس کے لئے انہیں 50-50ہزار کے دو ذاتی مچلکہ سی بی آئی کورٹ میں داخل کرنے ہونگے اس کے ساتھ ہی سزا کے دوران عدالت سے عائد جرمانہ رقم پانچ لاکھ روپے بھی جمع کرنے ہونگے عدالت کا کہنا تھا کہ لالو کونچلی عدالت نے اپنا پاسپورٹ جمع کرائےں اس سے پہلے سی بی آئی کی جانب سے لالو کی ضمانت کی مخالفت کی گئی عدالت کو بتایاگیاکہ ہائی کورٹ سے جب لالو پرساد یادو کی عرضی خارج ہوئی تھی تو انہیں نے فروری 2019میں سپریم کورٹ نے اسپیشل لیو پٹیشن کے ذریعہ ضمانت کی اپیل کی تھی ۔سی بی آئی کا جواب کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں مداخلت سے انکا ردیا تھا اور انکی عرضی خارج کردی تھی اور اس کے بعد آدھی سزا کاٹ کر ہائی کورٹ میں عرضی داخل ہوئی وہاں بھی خارج کردی گئی اب اس کے بعد لالو پرساد کے وکیل نے بتایا کہ انھوں نے میرٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میںاسپیشل لیو پٹیشن داخل کی تھی اس کو سننے کے بعد لولالو کو عدالت نے ضمانت دینے کا فیصلہ لیا لالو پرساد چائے باسا،دیودھر اور دمکا میں ناجائز پیسے نکالنے میں معاملے میں سزا یافتہ ہے فی الحال لالو رانچی کے ایک ہسپتال میں علاج کرارہے ہیں انہیں قلب امراض سمیت کئی بیماریاں ہیں ان کی طبیعت خراب دیکھتے ہوئے ہرایک سنیچر کو گھر والے وسیاسی نیتا ان سے ملنے ہسپتال پہنچتے ہیں ابھی ناجائز نکاسی معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد بھی جیل میں ہی رہےں گے دونوں معاملوں میں سپریم کورٹ نے لالو پرساد کی عرضی پہلے ہی خارج کردی ہے ۔دیو دھر معاملے میں بھلے ہی ضمامت مل گئی ہو لیکن لالو پرساد کو ڈیر ھ سال تک جیل میں ہی رہناہوگا ۔اس کے سزا پوری کرنے کے بعد ہی جیل سے رہا ہوپائےں گے ۔
(انل نریندر)

چیف جسٹس رنجن گگوئی کی لائق خیر مقدم پہل !

بچیوںکے ساتھ بدفعلی کے بڑھتے واقعات پر سپریم کورٹ اس قدر فکرمند ہے کہ اس نے اپنی طرف سے نوٹس لیتے ہوئے مفاد عامہ عرضی داخل کرلی عدالت کا کہنا ہے کہ پچھلے 6ماہ میں بچیوں سے عصمت دری کے 24ہزار سے زیادہ معاملے درج ہونا جو اپنے آپ کو جھنجھوڑ کررکھ دینے والے ہیں چیف جسٹس رنجن گگوئی کی بنچ نے بتایا یا کہ یکم جنوری سے جون تک اس سال دیش بھر میں بچیوں سے بدفعلی کے واقعات کے بارے میں 24212ایف آئی آر درج ہوئیں ۔ ان میں سے 11981معاملوں میں جانچ جاری ہے ۔جبکہ 12231معاملوں میں فرد جرم داخل ہوچکی ہے لیکن مقدمہ صرف 6449معاملوں میں ہی شروع ہوسکاہے ان میں بھی صرف چار فیصدی یعنی 911معاملو ںکانپٹارہ ہوا ۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی 2016کی رپورٹ کے مطابق بچیوں کے ساتھ جسمانی چھیڑ چھاڑ کے معاملے اترپردیش میں سب سے زیادہ ہوئے ۔اس کے بعد مہاراشٹر ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیاہےکہ 70فیصد بچے جنسی اسحصال کے بارے میں نہیں بتاتے 93فیصد جنسی استحصال کی بچیاں دیہی علاقوں کی ہے مقدمہ اور انصاف دھیمی رفتار کی وجہ سے پولیس جانچ عدلیہ کارروائی کی وجہ سے انصاف میں تاخیر ہوتی ہے آبادی کی تناسب سے پولیس اور ججوں کی تعداد میں بھاری کمی ہے 454لوگوں کیلئے ایک پولیس افسر ہونا چاہےئے ۔اقوام متحدہ کے ضابطوں کے مطابق 514افراد کے لئے ایک پولیس آفسر کا ہونا ضروری ہے ہندوستان میں وزارت داخلہ کے 1916کے اعداد شمار کے مطابق 10لاکھ لوگوں کے لئے صرف 19جج ہےں ۔اقوام متحدہ کے پیمانے کے مطابق 50جج ہونا چاہئے ۔سپریم کورٹ نے سرگرمی دکھاتے ہوئے بچیوں سے بد فعلی کے بڑھتے واقعات کا نوٹس لیکر بالکل صحیح کیا اس میں شبہ ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو حکم ۔ہدایت دینے سے ایسا ماحول بن سکے گا جو بچیوں سے بدفعلی کے بڑھتے واقعات کو کم کرنے میں ماثر ثابت ہوسکے یہ کسی سے پوشید ہ نہیں کہ بد فعلی روک تھام قانون کو سخت بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ان وجوہات کی تہہ تک جانے کی اشد ضرورت ہے جس کے چلتے نربھیا کانڈ کے بعد بد فعلی قوانین کو سخت محض بنانے سے درکار نتیجے نہیں حاصل ہوسکے ۔ان اسباب کی تہہ تک جانے کا احکام صر ف سپریم کورٹ ہی کرسکتا ہے کیونکہ اتنے برس گذرنے کے بعد بھی نربھیا واقعہ میں ملوث قصو رواروں کو سزا تو سنادی گئی لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوسکا کوئی نہیں جانتا دیش کو دہلانے والے اس گھنونے واقعے کے گناہگاروں کو پھانسی کی سز کب ملے گی ایک بار ایسے واقعے میں شامل دردندوں کو شارع عام پھانسی ہوجائے تو اس کا سب سے زیادہ اثر پڑےگا کیونکہ سپریم کورٹ کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ نربھیا واقعے کو سنائی گئی سز ا پر اب تک عمل کیو ں نہیں ہوسکا ؟قانون سخت کرنے کا فائدہ تبھی ہوتا جب ان پر عمل کیا جائے ۔یہ اعداد شمار ایک طرف سماج کے نظریہ پر سوال کھڑا کررہے ہیں تو دوسری طرف جرائم انصاف سسٹم پر بھی انگلیا اٹھ رہی ہیں ۔اسلئے جہاں بدلتے سماج میں اقدار کو بنائے رکھنے کی ضرورت ہے تو وہی جانچ ایجنسیوں اور عدالتوں کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ بچیوں میں سے آبروریزی واقعات کو جلد سے جلد نپٹایاجائے اور انہیں سزاد ی جائے جس سے جرائم پیشہ میں ڈر پید اہو ۔ایسے معاملے روکنے کیلئے خاندان اور سماج کو اپنی ذمہ داری بھی نبھائیں۔اچھے سماج کی تعمیر میں گھر خاندان اور تعلیمی وسائل کے ساتھ سماج کا بھی اہم رول ہوتاہے ۔یہ خو ش آئین بات ہے کہ سپریم کورٹ کے ساتھ مرکزی حکومت بھی انکے تئیں سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں ۔کیونکہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں بچیوں سے چھیڑ چھاڑکے واقعات کو روکنے کیلئے پاسکو قانون میں ترمیم کو منظوری دیدی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ چیف جسٹس کی یہ پہل ضرور رنگ لائے گی اور دیش میں ایسے گھنونے جرائم پر روک لگ سکے گی۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2019

ورلڈ کپ فائنل'' ایسا نہ پہلے دیکھا نہ سنا چھوڑ گیا کئی سوال

انگلینڈ کو کرکٹ کا خالق مانا جاتا ہے اور ورلڈ کپ کرکٹ کی شروعات بھی یہیں سے 1975میں ہوئی تھی لیکن ورلڈ کپ کا خطاب جیتنے میں انگلینڈ کو 44سال لگ گئے لیکن پچھلے اتوار کو جو انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان فائنل میچ کھیلا گیا ویسا رومانچ اس سے پہلے کبھی کسی فائنل میچ میں دیکھنے کو نہیں ملا ۔پہلی گیند سے 612ویں تک تمام اتار چڑھاﺅ دیکھنے کو ملے باوجود اس کے دونوں ٹیموں کے ایک برابر رن تھے ایک کو ونر اعلان کرنا ہی تھا ۔اس لئے آئی سی سی کے انڈر رول کا سہار ا لیا گیا ۔جو کہتا ہے ورلڈ کپ فائنل میں اگر ٹائی ہوتا ہے تو سپر اوور کھیلا جائے گا ۔شاید یہ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ایسا موقعہ تھا جب سپر اوور بھی ٹائی ہو گیا ۔اور ورلڈ کپ کسے دیا جائے ایک خاص قاعدے سے طے ہوا ۔اگر سپر اوور بھی برابر ی پر چھوٹا تو پھر یہ دیکھا گیا کہ کس ٹیم نے زیادہ چوکے چھکے لگائے ؟پہلے 50اوور کے علاوہ سپر اوور میں لگائی گئی باﺅنڈریز بھی جوڑی جائے گی ۔اس رول سے انگلینڈ 17کے مقابلے 20باﺅنڈریز سے ورلڈ کپ تو جیت گیا لیکن ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی بار استعمال ہوئے اس رول پر سوال کھڑے ہونا شروع ہو گئے ورلڈ کپ ونر کے اعلان کے بعد دونوں ٹیموں کے پرستار دو گروپوں میں بٹ گئے ونر ٹیم کی ہمایت کرنے والے پرستاروں کا کہنا تھا کہ قاعدہ تو قاعدہ ہوتا ہے کہ دلیل دے رہے تھے تو ہارنے والی ٹیم کے پرستاراس قاعدے کو غلط ٹھہرا رہے ہیں جس کے تحت سب سے زیادہ باﺅنڈری لگانے والی ٹیم کو ونر اعلان کیا گیا ۔آئی سی سی کے رول بک کے اس قاعدے کی وجہ سے انگلینڈ کی ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ ونر بن گئی حالانکہ فائنل مقابلے میں ایک رن بھی خوب تنازعہ میں رہا انگلینڈ کی پاری کے پچاس اوور کی گیند سے یہ تنازعہ جڑا ہوا ہے ۔نیوزی لینڈ کی طرف سے ٹرینٹ بولٹ آخری اوور کی گیند بازی کر رہے تھے آخری اوور میں انگلینڈ کو 15رن بنانے تھے پہلی دو گیندوں پر اسکواٹ سے کوئی رن نہیں بنا تو تیسری گیند پر اسٹاک نے چھکا جڑ دیا اس کے بعد بولٹ نے چوتھی گیند فل ٹاس ڈالی اسٹاکس نے اسے ڈیپ مکڈ کی طرف کھیل دیا ۔مارٹین باوٹیل نے بوال پکڑتے ہی اسے تھرو کیا گواٹل کے تھرو کے باوجود اسٹاکس دوسرے رن کے لئے بھاگ رہے تھے ۔گواٹل نے ڈائرکٹ تھرو کے ذریعہ اسٹوکس کے بلے سے گیند ٹکرایا اور گیند باﺅنڈری کے باہر چلی گئی ۔اپنے ساتھی امپائر سے صلاح کے بعد دوسرے امپائر کمار دھرم سینا (سری لنکا نے بلے بازوں کو چھ رن دے دئے اس فیصلے نے انگلینڈ کی راہ آسان کر دی ۔گیند پر نو رن بنانے کی چنوتی تھی سامنے اب دو گیند رہ گئی تھیں ۔اس چوتھی گیند پر ملے چھ رن کے بارے میں ہی کہا جا رہا ہے کہ اسے پانچ رن ہونا چاہیے تھا ایسا کیوں ہونا چاہیے ایسے معاملوں میں آئی سی سی کے قاعدے 19.8کے مطابق اگر اوور تھرو یا کسی فیلڈر کے چلتے باﺅنڈری ہو گئی تب بلے بازوں کے ذریعہ کئے گئے رن کو بھی جوڑ دیا جانا چاہیے ۔پورے چھ رن کے ساتھ اگر بلے باز تھرو یا ایکٹ کے وقت کوئی رن پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے کو کراس کر چکے ہوں تو وہ بھی رن پورا مانا جائے گا ۔قاعدے کا دوسرا حصہ اس میچ کے لحاظ سے بے حد اہم ہے کیونکہ میچ کے ویڈیو فوٹیج میں صاف نظر آرہا ہے کہ گواٹل نے جب ڈائریکٹ تھرو کیا تب بین اسٹوکس اور عادل رشید نے دوسرے رن کے لئے ایک دوسرے کو کراس نہیں کیا تھا حالانکہ بنیادی قاعدے میں تھرو کے ساتھ ایکٹ بھی لکھا ہے جسے اس بات کا امکان بھی بنتا ہے کہ ایکٹ کا مطلب گیند کے بلے سے ٹکرانا یا فلڈر سے ٹکرانا ہو یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن قاعدے میں بلے باز کے ایکشن کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔وہیں پچاسویں اوور کی چوتھی گیند پر بنے چھ رن میں جو فاضل رن تھا وہ وجہ رہا جس کے چلتے نیوزی لینڈ ورلڈ کپ گنوا بیٹھا اس سے متفق نہ ہونے والے بھی اس بات سے متفق ہوں گے کہ اس اوور کو تھرو کے موقعہ کے چوکے کے چلتے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سے ورلڈ کپ پھسل گیا ۔سابق آئی سی سی امپائر سائمن ٹافل نے بھی ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں امپائر کی اس غلطی پر کہا کہ انہیں (امپائروں )یہاں پانچ رن دینے چاہیے تھے چھ نہیں ان کا کہنا تھا کہ اوور تھرو کے اس چوکے کے سبب اگلی گیند کا سامنا رشید کو کرنا تھا لیکن یہاں امپائر نے اسے 2پلس 4رن دئے اور اٹساکس نے یہ گیند فیس کی ٹافل نے کہا بد قسمتی سے وقتاََ فوقتاََ اس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں جو کھیل ہم کھیل رہے ہیں وہ ان کا حصہ ہے ورلڈ کپ جیتنے کا سپا پورا کرنے کےلئے انگلیڈ کی ٹیم کو 44سال لگ گئے اس بیچ 11ورلڈ کپ کا سفر انگریزوں نے طے کیا 1979ا و ر 1987اور1992میں تو انگلینڈ فائنل تک پہنچا لیکن کسی بھی انگلش کپتا ن کو ورلڈ کپ کی ٹرافی چھونے کا فخر حاصل نہیں ہوا تھا کرکٹ کے جنم داتا انگلینڈ کا سپنا پورا ہوا بھی تو ایک ایسی ٹیم سے جس کا کپتان آل راﺅنڈر اور سلامی بلے باز اور یہاں تک کہ بڑا گیند باز تک غیر ملکی نزاد تھے ۔کپتان ایمن میگن،اس دیش کے پیدا ہوئے نہیں ہیں ان کی پیدائش آئیر لینڈ میں ہوئی تھی یہاں تک کہ وہ ورلڈ کپ کے لئے کھیلنے سے پہلے آئیر لینڈ کے لئے بین الااقوامی کرکٹ تک کھیل چکے ہیں ۔انگلینڈ کے پاس آج ورلڈ کپ کا خطاب ہے تو اس میں اہم رول سلامی بلے باز جونس شائع کی ہے لیگ دور میں جونسن شائع چوٹل ہوئے تو انگلینڈ کا سیمی فائنل میں پہنچنا مشکل ہو گیا تھا ۔تب شائع نے واپسی کر ٹیم کو بھارت نیوزی لینڈ کے خلاف جیت دلائی ۔شائع کی پیدائش ساﺅتھ افریقہ کے ڈربن شہر میں ہوئی تھی لیکن اس کے والدین انگلینڈ میں بسنے کے بعد انہوںنے انگلینڈ کے لئے 2015میں کھیل کا آغاز کیا ۔یہ تو بین اسٹوک نے بھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ انگلینڈ کے لئے ورلڈ کپ جیتں گے اور اس دیش کو ہرا کر جیتیں گے جہاں کھیل کی پیدائش ہوئی تھی 28سلاہ بین اسٹوک کا جنم نیوزی لینڈ کے شہر کرائشٹ چرچ میں ہوا تھا ۔ان کے ماں باپ نیوزی لینڈ سے آکر انگلینڈ میں بس گئے لیکن اب وہ دونوں نیوزی لینڈ میں ہی رہ رہے ہیں ۔اسٹوکس انگلینڈ میں ہی پلے بڑھے اور وہیں سے کرکٹ کھیل شروع کیا انہوںنے 25اگست 2011کو آئی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا ونڈے کھیلا تھا انگلینڈ کو چمپین بنانے میں ان کا ہی اہم رول رہا اگر اس نے وکٹ پر ٹکنے کا جزبہ نہیں دکھایا ہوتا تو نیوزی لینڈ میں ایک وقت اس کا کام کر دیا تھا ۔جب نوجوان آل راﺅنڈر جوفرا آرچرنے سپر اوور ڈالنے کی ذمہ لی تو انہوںنے اعتراف کیا کہ وہ بہت مایوس تھے تبھی اسٹوکس نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایسا منتر دیا کہ ان کے اندر کا سارا ڈر کافور ہو گیا ۔انگلینڈ ٹیم کے اہم تیز گیند باز جوفرا آرچر جنہوںنے سپر اوور میں اپنی ٹیم کو جتایا ۔وہ کرکٹ کا سپنا لے کر ہی 2016میں پاکستان کے خلاف اسٹوکس کی ٹیم سے اپنا پہلا فسٹ کیٹیگری کا میچ کھیلا تھا ۔ورلڈ کپ شروع ہونے سے کچھ مہینے پہلے قاعدے کے مطابق انگلینڈ میں پانچ برس پورے کرنے کے تبھی انگلینڈ کی قومی ٹیم میں ان کا سیلکشن ہو سکتا تھا وہ انہوںنے پورے کر دئے ورلڈ کپ ٹیم کے حساب سے قسمت بھی ان کے ساتھ رہی ۔پہلی بار ٹیم میں کھیلے جانے پر ورلڈ کپ ونر ٹیم کا حصہ بنے پاکستان کا ورلڈکپ جیتنے کا سپنا ضرور ادھورا رہ گیا لیکن اس دیش سے تعلق رکھنے والے انگلینڈ کو دو کھلاڑیو ںنے یہ کر دکھایا ۔عادل رشید کی پیدائش بھلے ہی انگلینڈ کے یارک شائر میں ہوئی لیکن ان کے پتا پاکستان سے ہیں ایسی ہی کہانی معین علی کی بھی ہے ان کے دادا پاک مقبوضہ کشمیر کے میر پور ضلع سے تھے وہ انگلینڈ میں بس گئے تھے معین کے والد ٹیکسی ڈرائیور اور ماں نرس تھی خیر ورلڈ کپ کرکٹ کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا فائنل میچ نہیں دیکھا ۔اگر انگلینڈ نے ورلڈ کپ جیتا تو نیوزی لینڈ نے دل جیتا ۔یہ میچ کئی دنوں تک تنازعوں میں رہے گا اور اس پر باتیں بھی چلتی رہیں گی آخر میں تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اتوار کو کھیلے گئے اس ورلڈکپ فائنل میں موسم انگلینڈ پر مہربان تھا اسے ورلڈ چمپین بنانا تھا بھارت کا تو اسی بات پر تشفی ہونا پڑا کہ ہم نے پاکستان کو ورلڈکپ میں ہرا دیا ۔

(انل نریندر)

17 جولائی 2019

زمین گھوٹالوں سے بینک دھوکہ دھڑی پر کیاسخت حملہ

سی بی آئی نے منگل کو کرپشن کے خلاف اب تک سب سے بڑی کارروائی کی ہے ۔اس دوران 5سو سے زیادہ حکام کی ٹیم اس کارروائی میں شامل تھی ۔زمین گھوٹالوں سے لے کر بینک دھوکہ دھڑی تک سخت حملہ کیا ہے ۔سی بی آئی نے جن تیس معاملوں میں کارروائی کی ان میں اترپردیش کی شگر مل گھوٹالہ ہریانہ کا زمین گھوٹالہ ،ہری دوار بینک گھوٹالہ ،شملہ میں گھوٹالہ ،اور آئی آر ایس معاملہ شامل تھا ۔منگل کو سی بی آئی نے کارروائی میں دہلی ،ہماچل ،ہریانہ پنجاب،جموں و کشمیر چھتیس گڑھ سمیت 19ریاستوں میں 110دفاتر و گھروں پر 5سو افسران نے چھاپہ مار کر جانچ پڑتال کی یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کے عہد میں چینی مل گھوٹالے میں لکھنﺅ ،سہانپور،این سی آر میں 14جگہ پر چھاپہ ماری کی اور یہ کارروائی 30درج ایف آئی ار کی بنیا د پر ہوئی ان میں دس نئے معاملے بھی ہیں ۔سی بی آئی نے سابق اعلیٰ افسر میترام کے لکھنﺅ میں گومتی نگر اور وینے پریہ دوبے کے علی گنج میں واقع گھر پر چھاپہ مارے نیترام مایاوتی کے سیکریٹری رہ چکے ہیں ۔ہری دوار میں تین کروڑ کے گھوٹالہ کیس میں چھاپہ پڑا ،معاملہ شیوالک نگر اسٹیٹ بینک سے تیرہ قرضہ دینے کا ہے ۔ان قرضوں کو دلانے میں خانہ پوری نہیں کی گئی ۔وہیں سری نگر جموں اودھم پوری میں 980ایکڑ زمین کے سودے معاملے میں کارروائی ہوئی جس میں فرضی اسٹامپ پیپر کا استعمال کیا گیا ۔سی بی آئی نے الگ الگ معاملوں میں جھارکھنڈ کے کئی شہروں میں چھاپہ ماری کی سی بی آئی ٹیم نے راجیہ میں فنڈ میں ریلائنس برکس اینڈ پارٹی نام کی کمپنی کے88ملازمین کی پینشن اور پی ایف رقم میں دھوکہ دھڑی کے الزام میں تین افسران اور سینر سوشل سیکورٹی اسسٹینٹ وجے لاکڑا وغیرہ افسران کو معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے ۔لودنا علاقہ کے چھ بی سی سی ایل افسران اور این ٹی ویش پربھا پرائیوٹ لیمٹیڈ کے 13دفاتر پر دھنوان میں سی بی آئی نے چھاپہ ماری کی 2017میں لودنا ائیریا نمبر دس جینہ گورا میں 6756این کول شارٹیز کا معاملہ پکڑا تھا نوٹبندی کے دوران بغیر کے سی وائی کے بینک میں500اور1000کے نوٹ جمعہ کرانے پر بھی افسروں نے غازی آباد اور بلند شہر میں پنجاب نیشنل بینک کے منیجر کے گھر اور ایک دوسری کمپنی کے دفاتر کی تلاشی لی اس دوران سخت پوچھ تاچھ کی گئی ۔میں نے کچھ بڑے چھاپوں کا ذکر کیا ہے ۔مرکزی حکومت نے کسٹم کے خلاف 0ٹالیرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا ہے ۔اسی کڑی میں یہ چھاپے مارے گئے ہیں ۔انکم ٹیکس محکمہ اور کسٹم کے قریب 25افسران کو زبردستی ریٹائر کر دیا گیا۔

(انل نریندر)

رشی کیش کا تاریخی لکشمن جھولا پل بند ہوا

تاریخی رشی کیش میں گنگا ندی پر بنا لکشمن جھولا بند کر دیا گیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 90سال پرانا یہ پل زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا ۔لکشمن جھولا پل ٹہری ضلع کے تبوون گاﺅں کو ندی کے مغربی کنارے پر واقع کوڑی ضلع کے جونک سے جوڑتا ہے ۔پل گنگا ندی پر 1929میں بنا تھا لکشمن جھولا رشی کیش آنے والے شردھالوﺅں اور سیاحوں کے لئے کشش کا اہم مرکز رہا ہے ۔اتراکھنڈ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اوم پرکاش نے بتایا کہ یہ پل ماہرین کے ٹیم کی سفارش کے بعد بند کیا گیا ہے ۔پل کے زیادہ تر حصہ بہت کمزرو ہیں یا گرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔پل پر حال ہی میں لوگوں کی آمد رفت بڑھ جانے سے یہ ایک طرف سے جھکا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔اسی کو ذہن میں رکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔پل بند ہونے سے پریشانی بڑھ سکتی ہے کیونکہ لکشمن جھولے سے دو کلو میٹر پہلے دوسرا جھولا پل شیو آنند جھولا (رام جھولا)ہے ۔اب اس پر بھیڑ کا دباﺅ بڑھے گا بتایا جاتا ہے کہ لکشمن نے اسی جگہ پر جوٹ کی رسیوں سے ندی پار کی تھی ۔بعد میں اسی جگہ جھولا بنا دیا گیا اس پل پر گنگا کی سوگندھ ،سنیاسی جیسی فلموں کی شوٹنگ ہوئی تھی اور ٹی وی سیریل سی آئی ڈی کی بھی شوٹنگ یہاں ہوئی اس پل کی چھ فٹ چوڑائی ہے ۔یو پی کا پہلا سسپیشن برج تھا جو جیپ کے راستہ کے لائق تھا ۔بعد میں اس پر چار پہیوں کی گاڑیوں کی آمد رفت روک دی گئی ۔1450فٹ اس پل کی لمبائی ہے ۔یہ بغیر کسی سسپیشن تکنیک کے بنا ہے جس میں کوئی پایا نہیں ہے ۔1930میں 11اپریل کو لکشمن جھولا عوام کے لئے کھولا گیا تھا ۔1927سے1929کے درمیان لکشمن جھولا پل کی تعمیر اترپریش(اس وقت یونائیٹڈ پروینس)پی ڈبلیو محکمہ نے بنوایا تھا ۔1924میں پرانا لکشمن جھولا پل سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا ۔پرانا پل 284فٹ لمبا تھا جو موجودہ پل سے تھوڑا نیچے تھا یہ پل کو میعاد پوری کر چکے لکشمن جھولا پل کو عام آدمی کے لئے خطرہ مانتے ہوئے انتظامیہ نے اسے بند کرنے کے احکامات دو دن پہلے جاری کئے تھے لیکن لوگوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے پی ڈبلیو ڈی نے نریندر نگر کھنڈ کے پل کو دونوں طرف بنیا لگا کر صرف پیدل چلنے کی چھوٹ دینی پڑی اتوار کو پل پر دو پہیہ گاڑی نہ چلے لیکن پیدل آمد رفت پورے دن جاری رہے ۔علاقہ کی ممبر اسمبلی رتو کھنڈی نے بھی افسران کے ساتھ پل کے انتظامات کا جائزہ لیا اس کے بعد ہی پی ڈبیلو ڈی کے افسران پل بند کرنے کا فیصلہ لے چکے ہیں ۔وزیر اعلیٰ تروندر سنگھ راوت نے دھرادون میں اتوار کو کہا کہ رشی کیش کے پوتر شہر گنگا ندی پر لکشمن جھولا پل کے ساتھ ساتھ ایک نیا پل بنایا جائے گا ۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...