Translater

10 مارچ 2018

چندرابابونائیڈوو نریندر مودی کی دوستی ٹوٹی

تیلگودیشم پارٹی اور بھاجپا کے رشتے ان دنوں خراب چل رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب نریندر مودی اور چندرا بابو نائیڈو ایک ساتھ ہاتھ ملاتے اور مسکراتے ہوئے تصویریں دکھائی پڑتی تھیں لیکن اب وہ پرانی بات ہوگئی ہے۔ ٹی ڈی پی نیتا چندرابابو نائیڈو کے ذریعے مرکز سے اپنے دو وزیر ہٹانے کے بعد بھاجپا کے وزرا نے آندھرا کوٹے سے کیبنٹ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دونوں میں دراڑ کی وجہ ہے ریاست کو اسپیشل درجہ۔ ٹی ڈی پی طویل عرصہ سے آندھرا پردیش کے لئے اس درجہ کی مانگ کررہی ہے اور مرکزی سرکار کی طرف سے اب یہ تقریباً صاف ہوگیا ہے کہ آندھرا کو یہ خصوصی درجہ نہیں ملے گا۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ وہ آندھرا پردیش کی ترقی کے لئے عہد بندہ ے اور ریاستی حکومت کی ہر ممکن مدد کی جائے گی لیکن بے جواز مانگوں کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے پہلے چندرابابو نائیڈو نے اسمبلی میں کہا تھا کہ کانگریس کا وعدہ ہے کہ وہ اگر 2019 میں اقتدار میں آتی ہے تو آندھرا پردیش کو خصوصی درجہ دے گی، پھر بھاجپا سرکار ایسا کیوں نہیں کررہی ہے؟نائیڈو کی شکایت ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ میں ریاست کو خصوصی درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن پھر ان کا کہنا تھا کہ سبھی ریاستوں میں یہ درجہ واپس لے لیا جائے گا۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ بات کہے جانے کے بعد ہی وہ اسپیشل پیکیج پر راضی ہوئے تھے کیونکہ ابھی خصوصی درجہ وجود میں ہے ایسے میں آندھرا پردیش کو یہ فوراً ملنا چاہئے۔ بھاجپا کا کہنا ہے پسماندہ ہونے کی دلیل پر آندھرا پردیش کو یہ درجہ نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس حساب سے بہار کو یہ درجہ ملنا چاہئے۔ پی ایم مودی نے بہار اسمبلی چناؤ کے دوران بھی خصوصی درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پیسہ کو لیکر مرکز اور آندھرا کے درمیان کافی اختلافات ہیں۔ آندھرا کا کہنا ہے کہ اس کا محصول خسارہ 16 ہزار کروڑ ہے جبکہ مرکز کا کہنا ہے اصل محصول خسارہ 4 ہزار کروڑ کا ہے اور 138 کروڑ روپے دئے جانے باقی ہیں۔ ریاست اسپیشل اسٹیٹس مانگ رہا ہے تو مرکز کا کہنا ہے کہ اسے ختم کردیا گیا ہے اور مرکز کی طرف سے اسپانسر سبھی اسکیموں کے لئے 90.10 کروڑ کی فنڈنگ کی پیشکش ہے۔ اس کے علاوہ آندھرا پولورم کیلئے 33 ہزار کروڑ روپے ،راجدھانی امراوتی کے لئے 33 ہزار کروڑ روپے مانگ رہا ہے جبکہ مرکز نے پولورم کے لئے 5 ہزار کروڑ دئے ہیں،امراوتی کے لئے 25 ہزار کروڑ روپے دے چکا ہے۔ بتا دیں کہ شروعات میں صرف تین ریاستوں آسام، ناگالینڈ، جموں و کشمیر وغیرہ ریاستوں کو خصوصی درجہ دیا گیا تھا لیکن بعد میں اروناچل پردیش، ہماچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، میزورم، سکم، تریپورہ، اتراکھنڈ جیسی 8 ریاستوں کو اسپیشل درجہ دیا گیا تھا۔ ٹی ڈی پی اب اسے آندھرا کے لوگوں کی عزت اور حقوق کا اشو بنانے کی کوشش میں لگتی ہے۔ اس سے نائیڈو کو ریاست کی عوام کے درمیان اہم اشو اور حمایت ملنے کی امید بتائی جارہی ہے۔ وہیں بی جے پی متبادل انتظام کے لئے وائی ایس آر کانگریس کے رابطہ میں بتائی جارہی ہے۔ ٹی ڈی پی اگر اب این ڈی اے سے الگ ہونے کا اعلان کرتی ہے تو بھاجپا جگنموہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس سے ہاتھ ملا سکتی ہے۔ واقف کاروں کا ماننا ہے آنے والے لوک سبھا چناؤ کے لحاظ سے ٹی ڈی پی اور بی جے پی کا الگ ہونا ایک اہم موڑ ہوسکتا ہے۔ ریاست میں لوک سبھا کی 25 سیٹیں ہیں۔ پچھلے چناؤ میں ٹی ڈی پی اور بی جے پی نے 17 سیٹیں جیتی تھیں۔ وائی ایس آر کانگریس کو 8 سیٹیں ملی تھیں۔ حالانکہ ٹی ڈی پی این ڈی اے سے بھی الگ ہوجاتی ہے تو کیا بی جے پی وائی ایس آر کانگریس سے ہاتھ ملا کر پچھلی مرتبہ جیتی سیٹیں پھر سے حاصل کر پائے گی؟ یہ اہم سوال رہے گا۔
(انل نریندر)

کانگریس میں بڑھتا عدم اعتمادی کا بحران

کچھ دن ہوئے جب راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخابات میں ملی کامیابی کو دیش کی سب سے پرانی جماعت کانگریس کے پنرجنم کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ پارٹی کے نئے مقرر صدر راہل گاندھی کو اس جیت کا سہرہ دینے والوں کی کمی نہیں تھی۔ لیکن دیش کے تین نارتھ ایسٹ اسٹیٹ کے نتائج نے سنیچر وار کو پارٹی کے سارے جوش پر پانی پھیر دیا۔ کبھی پورے نارتھ ایسٹ کو کانگریس کا گڑھ مانا جاتا تھا جہاں کی عوام صرف گاندھی خاندان کا نام دیکھ کر ہی ووٹ ڈالا کرتی تھی۔ اب پارٹی صرف دو ریاستوں منی پور۔ میگھالیہ میں سمٹ کر رہ گئی تھی اب وہ وہاں حکمراں نہ ہوکر سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ نارتھ ایسٹ کا اسکاٹ لینڈ کہلانے والے میگھالیہ میں بھاجپا نے ایتوار کو محض تین گھنٹے میں بازی پلٹتے ہوئے کانگریس کے ہاتھ سے اقتدار چھین لیا۔دس سال سے سرکار چلا رہی کانگریس 21 سیٹیں جیت کر بڑی پارٹی کے طور پر تو ابھری ہے مگر اقتدار سے باہر ہوگئی ہے۔ نتائج کے بعد بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آنے کے بعد کانگریس نے رات میں ہی گورنر سے ملاقات کر سرکار بنانے کا دعوی پیش کیا تھا۔ اس درمیان بھاجپا کے کئی سرکردہ لیڈر بھی رات میں شیلانگ پہنچ گئے اور ایتوار کی صبح سے ہی میٹنگوں کا جو سلسلہ شروع ہوا اس کے تین گھنٹے کے اندر ہی تمام علاقائی پارٹیوں نے کونراڈسنگما کے نام پر اپنی رضامندی جتادی۔ ایتوار کی شام کو سنگما نے ریاست کے گورنر کے سامنے اپنے حمایتی 34 ممبران اسمبلی کی پریڈ کرادی۔ اس کے بعد گورنر گنگا پرساد نے ان کو سرکار بنانے کی دعوت دے دی۔ کل ملا کر تین گھنٹوں میں ہی 34 ممبران اسمبلی کی حمایت پاکر بھاجپا نے بازی پلٹ دی۔ کانگریس کے ہاتھوں سے بازی نکلتے دیکھ کر پارٹی کے تین سینئر لیڈر احمد پٹیل، کملناتھ اور مکل واسنک دوپہر کو ہی شیلانگ سے نکل گئے۔ نارتھ ایسٹ کے تین صوبوں میں کانگریس کی ہار پر واویلا کھڑا ہوگیا ہے۔ زیادہ تر لیڈر کانگریس کے سیکٹریٹری جنرل اور نارتھ ایسٹ کے کانگریسی انچارج ،راجستھان کے سینئرلیڈر سی پی جوشی کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ دیش کی سب سے پرانی پارٹی کانگریس کا دائرہ سمٹتا جارہا ہے۔ چار سال پہلے تک دیش کے آدھے راجیوں پر راج کرنے والی پارٹی اب محض تین ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام ریاست میں سرکار باقی ہے۔ کرناٹک میں کچھ ماہ بعد اور میزورم میں اس سال کے آخر میں چناؤ ہونے ہیں۔ کانگریس نے میگھالیہ سے سبق لیتے ہوئے قدم نہیں اٹھائے تو ان کے پاس صرف پنجاب اور پونڈوچیری ہی بچے گی۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ہار کے بعد پارٹی کو ایک دو ریاست چھوڑ کر اسمبلی چناؤ میں ہار ملی ہے۔ گجرات چناؤ میں پارٹی کی کارکردگی سے ورکروں کا حوصلہ بڑھا تھا لیکن نارتھ ایسٹ میں ہارنے انہیں پھر مایوس کردیا ہے۔ جمہوریت تبھی پوری طرح سے کامیاب ہوتی ہے جب حکمراں فریق کے سامنے مضبوط اپوزیشن ہو اور یہ صرف کانگریس ہی کرسکتی ہے۔ کانگریس کو جنرل اجلاس میں حکمت عملی پر نظرثانی کرنی ہوگی تاکہ کرناٹک اور میزورم میں سرکار برقراررکھتے ہوئے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان بھاجپا سے چھین سکے۔ کانگریس کو ایک طرح سے اپنا وجود بچانے کی لڑائی لڑنی ہوگی۔
(انل نریندر)

09 مارچ 2018

مورتیوں کو توڑنے کا سلسلہ قابل مذمت

مورتیاں محبت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ کچھ آستھا اور عقیدت کے چلتے بنتی ہیں،کچھ کے پیچھے آئیڈیا لوجی بھی ہوتی ہے۔ مورتیوں کے بنائے جانے کے تئیں کئی وجہ ہوسکتی ہیں لیکن انہیں توڑنے کے پیچھے وجہ ایک ہی ہوتی ہے رقابت۔ تریپورہ چناؤ کے نتیجے آنے کے بعد جس طرح سے روسی سامراجی انقلاب کے ہیرو ولادیمیر اور لینن وپیریار کی مورتی تاملناڈو میں توڑنا، و کولکتہ میں جن سنگھ کے بانی شاما پرساد مکھرجی کے مجسمے کو توڑنے کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس سے تو ہمیں افغانستان میں طالبان کی کرتوت یادآتی ہے جس نے بامیان صوبے میں صدیوں سے کھڑی مہاتما بدھ کی اس مورتی کو ڈھا دیاتھا۔ اس عالمی وراثت کو کن آرٹسٹوں نے بنایا ان کا کوئی نام نہیں جانتا لیکن وہ آستھا کی علامت تھی۔ ہمیں وہ منظر بھی یاد ہے جب عراق میں امریکی حملہ کے بعد صدام حسین کی ایک چوراہے پر لگی مورتی توڑی گئی تھی۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے جو لوگ اقتدار حاصل ہوتے ہی مورتیوں اور یادگاروں کو توڑنے کا کام کرتے ہیں وہ کوئی نیک کام نہیں کررہے۔ خیال رہے کہ تاریخ شاید ہی انہیں کبھی اچھی نظر سے دیکھے۔ تاریخ کسی بھی حکمراں کو اس کے کام کاج کے لئے یاد رکھتی ہے۔ اس کی یادگار اور مجسموں کو نہیں، اس کے برعکس جو لوگ اقتدار حاصل کرتے ہی مجسمہ توڑنے کی مہم پر نکل پڑتے ہیں انہیں تاریخ شاید ہی اچھی طرح یاد رکھے گی۔ ہندوستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں حملہ آوروں نے نہ صرف مجسموں کو توڑا بلکہ مندر بھی توڑے۔ تریپورہ و دیگر مقامات پر مجسمہ توڑنے جانے کے مقامات پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ پی ایم اور مرکزی وزیر داخلہ نے تریپورہ کے افسروں کو ایسے کسی واقعہ پر سختی برتنے کو کہا ہے۔ سبھی ریاستوں کو مجسموں کے معاملہ میں ایڈوائزری بھی جاری کردی گئی ہے۔ چناؤ میں کوئی جیتے یا کوئی ہارے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تشدد اور تباہ کن سرگرمیوں میں شامل ہو۔ پھر تریپورہ میں مورتی توڑنے والییہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایسی حرکتوں کا برا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ہم نے رد عمل کے طور پر مغربی بنگال میں اس کا ایک نتیجہ دیکھا۔ یہ سلسلہ بلا تاخیر بند ہونا چاہئے۔ ایسے واقعات بھارت کے جمہوری ڈھانچہ کو کمزور کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

فوجی افسر سے جرائم پیشہ جیسا برتاؤ نہ ہو

شکر ہے سپریم کورٹ نے شوپیاں گولی سانحہ کے معاملہ میں 10 گڑھوال رائفلس کے میجر آدتیہ کمار کے خلاف کسی طرح کی جانچ پر روک لگا رکھی ہے۔ بڑی عدالت نے پیر کو دو ٹوک کہا کہ میجر آدتیہ ایک فوجی افسر ہیں ان کے ساتھ جرائم پیشہ جیسا برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے پہلے جموں و کشمیر حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایف آئی آر میں میجر آدتیہ ناتھ کو اب تک ملزم نہیں بنایا گیا ہے۔ اسے ایک طرح سے ریاستی حکومت کا پلٹی کھانا مانا جارہا ہے۔ وہیں مرکزی حکومت نے شوپیاں میں فوج کی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ جموں و کشمیر میں 27 جنوری کو فوج کی ایک ٹیم پر بھیڑ نے پتھر بازی اور حملہ کیا تھا اس سے بچنے کے لئے فوج نے فائرننگ کی تھی جس میں تین لوگوں کی جان چلی گئی تھی ۔ اس معاملہ میں جموں وکشمیر پولیس نے فوج کے افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ فوج کی جس ٹیم پر حملہ ہوا تھا اس کی رہنمائی آدتیہ کمار کررہے تھے۔ ایف آئی آر میں ان کا ہی نام ہے۔ میجر آدتیہ کمار کے والد لیفٹیننٹ کرنل کرنویر سنگھ نے کورٹ میں عرضی دائر کر ایف آئی آر منسوخ کرنے کی مانگ کی تھی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی تین نفری بنچ کے سامنے جموں و کشمیر سرکار کی طرف سے پیش ہوئے وکیل شیکھر نافڑے نے کہا کہ ایف آئی آر میں اب تک میجر آدتیہ کا نام نہیں ہے۔ اس پر بنچ نے سوال کیا آگے کیا فوجی حکام کو ملزم بنایا جائے گا؟ جواب میں نافڑے نے کہا یہ تو جانچ پر منحصرکرے گا۔ اس پر بنچ نے کہا کہ آپ ان کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عرضی گزار اور میجر آدتیہ کے والد لیفٹیننٹ کرنل کرنویر سنگھ کی عرضی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں فوجی حکام کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی۔ مسلح فورس مخصوص اختیارات ایکٹ (افسپا) کی دفعہ7 کے تحت فوج کو پوری چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ ہم سمجھ سکتے ہیں جموں وکشمیرسرکار نے سیاسی اسباب سے فوج کے خلاف ایف آئی آردرج کرنے کا کام کیا ہوگا لیکن یہ وہ طریقہ نہیں جس سے ریاست کے لوگوں کو صحیح پیغام دیا جاسکے۔ بہتر ہو کہ ریاستی حکومت اپنی سطح پر لوگوں کے سامنے یہ صاف کرنے میں قباحت نہ کرے کہ فوج ان کی حفاظت کے لئے ہے۔ اگر یہ لوگ آتنک وادیوں کی حمایت میں تشدد جیسا برتاؤ کریں گے تو انہیں سخت سزا بھی ملے گی۔ ویسے بھی فوج نے اپنے دفاع میں یہ قدم اٹھایا ہے۔
(انل نریندر)

08 مارچ 2018

سری لنکا میں بودھ بنام مسلمان لڑائی

بھارتیہ کرکٹ ٹیم کے دورہ کے دوران سری لنکا میں ایمرجنسی لگادی گئی ہے۔ وہاں کے صدر میتری پالا سری سینا نے منگل کو فرقہ وارانہ فساد شروع ہونے کے بعد دیش میں 10 دنوں کے لئے ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔ یہ فساد مسلم اور بودھ فرقہ کے درمیان ہوا ہے۔ پیر کی رات سری لنکا کے کینڈی ضلع میں بھیڑ سڑکوں پر نکل آئی اور ایک مسجد سمیت مسلم فرقہ کے کئی گھروں اور دوکانوں کو جلادیا۔ ایک شخص کی موت ہوگئی۔ اس تشدد کو تیزی سے پورے دیش میں پھیلنے کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا۔ پچھلے سال نومبر میں بھی ایک علاقہ گال میں ایسے ہی فرقہ وارانہ کشیدگی کے حالات بنے تھے۔ کینڈی سے ملی اطلاعات کے مطابق بودھ دھرم کے ماننے والے سنہالی لوگوں نے مسلمانوں کی دوکانوں پر حملہ کئے اور انہیں آگ کے حوالہ کردیا۔ ایک جلی ہوئی عمارت سے ایک مسلم شخص کی لاش برآمد ہونے کے بعد سری لنکا میں پولیس کو بدلے کی کارروائی کا اندیشہ ہے۔ ہفتہ بھر پہلے ٹریفک ریڈ لائٹ پر ہوئے جھگڑے کے بعد کچھ مسلمانوں نے ایک بودھ لڑکے کی پٹائی کی تھی تبھی سے وہاں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ 2012 سے ہی سری لنکا میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک کٹر پسند بودھ تنظیم (ڈی بی ایس) اس کشیدگی کو ہوا دیتی رہتی ہے۔ کچھ کٹر پسند بودھ گروپوں نے مسلمانوں پر جبری تبدیلی مذہب اور مٹھوں کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ پچھلے دو مہینے کے اندر گڑھل میں مسلمانوں کی ملکیت والی کمپنیوں اور مسجدوں پر حملہ کے 20 سے زائدواقعات ہوچکے ہیں۔ سری لنکا کی آبادی دو کروڑ دس لاکھ کے قریب ہے اس میں 70 فیصدی بوودھ ہی،9 فیصدی مسلمان۔ 2009 میں فوج کے ہاتھوں تمل باغیوں کی ہار کے بعد سے سری لنکا کا مسلم فرقہ ایک طرح سے سیاسی نقشہ سے دور رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں مسلم فرقہ کے خلاف مذہب کے نام پر تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔ اس تشدد کے لئے بودھ دھرم گروہوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ بودھ دھرم کو دنیا میں امن اور عدم تشدد کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سری لنکا میں بودھوں نے ایک بوڑ سینا بھی بنا رکھی ہے جو سنہالی بودھوں کی قومی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم مسلمانوں کے خلاف سیدھی کارروائی کی بات کرتی ہے اور مسلمانوں کے ذریعے چلائے جارہے کارربار کے بائیکاٹ کی بھی وکالت کرتی ہے۔ اس تنظیم کو مسلمانوں کی بڑھتی آبادی سے بھی شکایت ہے۔
(انل نریندر)

جنتا کے پیسوں کی لوٹ برداشت نہیں ہے

بینکوں میں گھوٹالوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہیرا تاجر نیرو مودی ، گیتانجلی جیمس کے مالک میہول چوکسی سے متعلق گھوٹالہ معاملہ میں1300 کروڑ روپے کے مزید گھوٹالہ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے بعد بینک کو لگی قرض کی رقم بڑھ کر 12600 کروڑ روپے ہوگئی ہے۔ ادھر بدھوار کو کولکتہ میں سی بی آئی نے کمپیوٹر کے مالک آر پی انفو سسٹم اور اس کے ڈائریکٹروں پر بینکوں کے ساتھ گٹھ جوڑکر کے مبینہ طور سے 515.15 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کا معاملہ درج کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پی این بی گھوٹالہ پر پہلی رائے زنی کرتے ہوئے جمعہ کو کہا تھا کہ جنتا کے پیسے کی لوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ مالی دھاندلیاں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مالیاتی اداروں کے انتظام اور نگرانی ایجنسیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پوری ایمانداری سے اپنا کام کریں تاکہ اس طرح کے گھپلہ روکے جاسکیں۔ وزارت مالیات کا سبھی پبلک سیکٹر کے بینکوں کو 50 کروڑ روپے سے زیادہ رقم ڈکارنے والے کھاتوں کی فہرست بنا کر سی بی آئی کو سونپنے کی ہدایت کا مطلب ہے کہ سرکار نے بینکوں کے ڈوبے ہوئے یا ڈوبائے ہوئے قرض کی وصولی کے لئے آخر کار کمر کس لی ہے۔ حقیقت میں جسے بینکوں کی زبان میں ایم پی اے کہتے ہیں اس کی اعلان کردہ رقم10 لاکھ کروڑ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ یہ اعدادو شمار وہ ہیں جو اب تک ہمارے سامنے آچکے ہیں۔ اگرچہ سارے ایسے کھاتوں کو ٹٹولا جائے تو نہ جانے یہ تعداد کتنی اوپر چلی جائے گی؟ بڑے گھپلوں سے پار پانے کے لئے سی بی آئی کے علاوہ انفورسمنٹ اور محصولاتی خفیہ ڈائریکٹوریٹ جیسی ایجنسی بھی سرگرم رول نبھائیں گی۔ جو طاقتور لوگ قرض لیکر چمپت ہوگئے ہیں ان سے وصولی کے لئے نیا قانون بنانے کی بھی تیاری ہے۔اس قانون میں اقتصادی جرائم کی جانچ کرنے والی ایجنسیوں کو اور مضبوط بنانے کی سہولت ہے۔ یہ قانون بننے کے بعد ایسے مفرور گھوٹالہ بازوں کے خلاف مقدموں کے لئے مخصوص عدالتیں بنائی جائیں گی تاکہ معاملوں کا جلد از جلد نپٹارہ ہوسکے۔ ویسے یہ کام آسان نہیں ہے اور 50 کروڑ سے زیادہ قرض لینے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہوگی۔ ان کے کھاتوں کی فہرست بنانے میں وقت لگے گا لیکن ایک بار فہرست تیار ہوگئی اور اس کے بعد کارروائی شروع ہوگئی تو پھر صحیح سمت میں گاڑی چل پڑے گی۔ جن قرض خوروں کی حالت دھن لوٹانے کی ہے اور ان کے نہ لوٹانے کے پیچھے واحد وجہ ہے ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی رعایت نہیں ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)

07 مارچ 2018

وجود بچانے کیلئے ببوا نے کی بوا کی حمایت

جب دشمن کی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہو اور سوال خود کے وجود پر کھڑا ہوجائے تو دشمنوں کو آپسی تلخی بھلا کر قریب آنا ہی پڑتا ہے۔ ایسی ہی حالت سے لڑ رہی سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی دونوں کو احساس ہوگیا ہے ایک اور ایک گیارہ ہوکر وہ بھاجپا پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔ ان دونوں پارٹیوں کے درمیان 22 سال سے سیاسی دشمنی چلی آرہی ہے۔ بتا دیں کہ اس سے پہلے 1993 میں سپا ۔بی ایس پی ایک ساتھ چناؤ لڑ چکے ہیں تب مقصد رام لہر کو روکنا تھا۔ تب ایس پی۔ بسپا کے اتحاد نے سرکار بنائی تھی اور بھاجپا نمبروں میں پچھڑ گئی تھی۔ گیسٹ ہاؤس کانڈ کے بعد اتحاد ٹوٹا تو دونوں پارٹیاں کبھی ساتھ نہیں آئیں۔ حالانکہ اکھلیش یادو کئی بار کھلے اسٹیج پر اتحاد کرنے کی تجویز دے چکے ہیں لیکن بہن جی نے انکار ہی کیا۔ غور طلب ہے کہ پچھلے اسمبلی چناؤ میں سپا کو 28فیصد اور بی ایس پی کو22 فیصد ووٹ ملے تھے۔ دونوں کے اتحاد کو جوڑ لیں تو یہ 50 فیصد ووٹ ہوجاتا ہے ایسی صورت میں بھاجپا کے لئے ضمنی چناؤ میں سپا کے امیدواروں کو ہرانا بیحد مشکل ہوجائے گا۔ گورکھپور اور پھولپور سیٹیں یوگی آدتیہ ناتھ اور کیشو پرساد موریہ کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی ہیں۔ اس ٹیکنیکل گٹھ جوڑ کا سب سے پہلا اثر تو راجیہ سبھا چاؤ میں دکھائی پڑ سکتا ہے جس میں بھاجپا کو8 سیٹوں سے ہی اکتفا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سینٹرل چناؤ کمیشن نے یوپی سے خالی راجیہ سبھا کی 10 سیٹوں پرچناؤ کا پروگرام اعلان کردیا ہے۔
اسمبلی میں اپنی طاقت کی بنیاد پر بھاجپا8 سیٹیں آسانی سے جیت سکتی ہے۔ سپا۔ بسپا کو الگ الگ خیمہ میں رہنے کی صورت میں بھاجپا ایک اور سیٹ لینے کی کوشش کرسکتی ہے۔ ریاستی اسمبلی میں اکیلے بھاجپا کے 324 ممبر اسمبلی ہیں اس کے ایک ممبر اسمبلی لوکیندر سنگھ چوہان کی حال ہی میں ایک حادثہ میں موت ہوگئی تھی۔ بڑی اپوزیشن پارٹیوں میں سپا کے پاس 47 ، بسپا کے پاس19، کانگریس کے پاس7 ، آر ایل ڈی کے پاس 1 ممبر اسمبلی ہے اس طرح اگر یہ چاروں اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوجائیں تو راجیہ سبھا کی سیٹ جیت سکتی ہیں۔ ادھر اترپردیش کی دو لوک سبھا سیٹوں گورکھپور اور پھولپور میں 11 مارچ کو ضمنی چناؤ ہونا ہے۔ ایسا بھی مانا جارہا ہے یہ چناؤ 2019 چناؤ کے لئے دونوں پارٹیوں کی ملی جلی سیاست کا حصہ ہے۔ حالانکہ مایاوتی نے یہ بھی کہا ہے اسے گٹھ بندھن نہ سمجھا جائے یہ تو صرف گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا ضمنی چناؤ کے لئے ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...