Translater

09 مارچ 2018

مورتیوں کو توڑنے کا سلسلہ قابل مذمت

مورتیاں محبت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ کچھ آستھا اور عقیدت کے چلتے بنتی ہیں،کچھ کے پیچھے آئیڈیا لوجی بھی ہوتی ہے۔ مورتیوں کے بنائے جانے کے تئیں کئی وجہ ہوسکتی ہیں لیکن انہیں توڑنے کے پیچھے وجہ ایک ہی ہوتی ہے رقابت۔ تریپورہ چناؤ کے نتیجے آنے کے بعد جس طرح سے روسی سامراجی انقلاب کے ہیرو ولادیمیر اور لینن وپیریار کی مورتی تاملناڈو میں توڑنا، و کولکتہ میں جن سنگھ کے بانی شاما پرساد مکھرجی کے مجسمے کو توڑنے کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس سے تو ہمیں افغانستان میں طالبان کی کرتوت یادآتی ہے جس نے بامیان صوبے میں صدیوں سے کھڑی مہاتما بدھ کی اس مورتی کو ڈھا دیاتھا۔ اس عالمی وراثت کو کن آرٹسٹوں نے بنایا ان کا کوئی نام نہیں جانتا لیکن وہ آستھا کی علامت تھی۔ ہمیں وہ منظر بھی یاد ہے جب عراق میں امریکی حملہ کے بعد صدام حسین کی ایک چوراہے پر لگی مورتی توڑی گئی تھی۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے جو لوگ اقتدار حاصل ہوتے ہی مورتیوں اور یادگاروں کو توڑنے کا کام کرتے ہیں وہ کوئی نیک کام نہیں کررہے۔ خیال رہے کہ تاریخ شاید ہی انہیں کبھی اچھی نظر سے دیکھے۔ تاریخ کسی بھی حکمراں کو اس کے کام کاج کے لئے یاد رکھتی ہے۔ اس کی یادگار اور مجسموں کو نہیں، اس کے برعکس جو لوگ اقتدار حاصل کرتے ہی مجسمہ توڑنے کی مہم پر نکل پڑتے ہیں انہیں تاریخ شاید ہی اچھی طرح یاد رکھے گی۔ ہندوستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں حملہ آوروں نے نہ صرف مجسموں کو توڑا بلکہ مندر بھی توڑے۔ تریپورہ و دیگر مقامات پر مجسمہ توڑنے جانے کے مقامات پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ پی ایم اور مرکزی وزیر داخلہ نے تریپورہ کے افسروں کو ایسے کسی واقعہ پر سختی برتنے کو کہا ہے۔ سبھی ریاستوں کو مجسموں کے معاملہ میں ایڈوائزری بھی جاری کردی گئی ہے۔ چناؤ میں کوئی جیتے یا کوئی ہارے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تشدد اور تباہ کن سرگرمیوں میں شامل ہو۔ پھر تریپورہ میں مورتی توڑنے والییہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایسی حرکتوں کا برا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ہم نے رد عمل کے طور پر مغربی بنگال میں اس کا ایک نتیجہ دیکھا۔ یہ سلسلہ بلا تاخیر بند ہونا چاہئے۔ ایسے واقعات بھارت کے جمہوری ڈھانچہ کو کمزور کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...