Translater

13 فروری 2016

اترپردیش میں ضمنی چناؤ سے ملے گی 2017 کے فائنل کی جھلک

اترپردیش کے تین اسمبلی حلقوں میں دیوبند ، بیکاپور اور مظفر نگر کے ضمنی چناؤ کو 2017ء کی آخری لڑائی مانا جارہا ہے۔ ضمنی چناؤ میں جے ڈی یو کے پہلی بار راشٹریہ لوک دل کے امیدواروں کی حمایت کرنے سے جنگ دلچسپ ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی بسپا کے میدان میں نہ ہونے سے بھی سیاسی تجزیوں نے پلٹی مار لی ہے۔ تینوں اسمبلی سیٹوں کیلئے پولنگ 13 فروری کو یعنی آج ہونی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ادارے دارالعلوم دیوبند میں پولرائزیشن کے سہارے سیاسی پارٹیاں جیت کی راہ تلاش رہی ہیں۔ یہاں بسپا ، آر ایل ڈی کی غیر موجودگی سے مقابلہ دلچسپ ہوگیا ہے۔ فیض آباد کی بیکاپور اسمبلی سیٹ سے بھی بسپا کے نہ ہونے کے سبب تجزیئے بدل گئے ہیں۔ یہاں لڑائی سیدھے طور پر سپا اور آر ایل ڈی کے درمیان ہے۔ مظفر نگر اسمبلی سیٹ پر بھاجپا ۔ سپا اور آر ایل ڈی اور کانگریس میں مقابلہ ہے۔ یہاں بھاجپا نے بہو بیٹیوں کی عزت کا اشو اٹھایا ہے تو سپا ترقی کے وعدے کو ہوا دے رہی ہے جبکہ آر ایل ڈی نے پچھڑا کارڈ کھیلا ہے۔مظفر نگر اور سہارنپور میں دنگوں کے بعد سے دیوبند حساس مانا جارہا ہے۔ بھاجپا نے یہاں سے آر ایس ایس کے سابق پرچارک رامپال کنڈیل کو اپنا امیدوار بنا کر ہندو وادی کارڈ کھیلا ہے۔ راجندر رانا کے دیہانت سے خالی ہوئی سیٹ پر ان کی بیوی مینا رانا کو امیدوار بنا کر سپا کے ووٹروں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ادھر نگر پالیکا کے چیئرمین ماویہ علی کو امیدوار بنا کر کانگریس مسلمانوں اور دلتوں کے درمیان اپنا پیغام دینا چاہ رہی ہے۔ اکھلیش سرکار میں شہری ترقی وزیر مملکت چترنجن سروپ کے دیہانت سے خالی ہوئی مظفر نگر شہر اسمبلی سیٹ پر بھاجپا امیدوار کپل دیو اگروال میدان میں ہیں۔ سپا کے امیدوار گورو سروپ نے شہر کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔ ان کے والد چترنجن سروپ تین بار شہر کی سیٹ سے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ان ضمنی چناؤ سے پتہ چلے گا کہ صوبے میں ہوا کس طرف بہہ رہی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس ضمنی چناؤ سے 2017 ء کے اسمبلی کے ٹرینڈ کا پتہ چلے لیکن سپا۔ بسپا اور بھاجپا تینوں کے لئے ایک اشارہ تو ضرور ہوگا۔ ادھر خبر ہے کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں بھاجپا محض سرکار بنانے کیلئے نہیں بلکہ دو تہائی اکثریت کے سرکار بنانے کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے گی۔اپنے حق میں چناوی ماحول بنانے کیلئے پارٹی وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر امت شاہ کی ریلیوں اور پروگراموں کا سہارا لے گی۔ اس سلسلے میں امت شاہ نے ریاستی یونٹ کے کئی نیتاؤں سے دو دور کی ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق پہلی میٹنگ میں شاہ نے ریاستی یونٹ کے لیڈروں کو ہر حال میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ شاہ نے وزیر اعظم کسان فصل بیمہ یوجنا کے بہانے کسانوں تک پہنچ بڑھانے کی بھی ہدایت دی ہے۔
(انل نریندر)

کرپشن سے ہماری فوج بھی نہیں بچ سکی

کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس کا سندیش دیتے ہوئے مودی سرکار نے فوج کے میجر جنرل کے خلاف سی بی آئی جانچ کا حکم دینا اہم قدم ہے۔فوج کی تاریخ میں کم و بیش یہ پہلا واقعہ ہے جس میں اتنے بڑے عہدے پر فائض فوجی افسروں کے خلاف ایک سول ایجنسی جانچ کرے گی۔ پچھلے ہی سال ’’اتی وششٹھ سیوا ‘‘ میڈل پا چکے دونوں میجر جنرل کے خلاف ڈیفنس وزارت کو آمدنے سے زیادہ اثاثہ بنانے اور اپنی ترقی کے لئے رشوت دینے کی شکایتیں ملی تھیں۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے سی بی آئی کو ان شکایتوں کی پڑتال کرکے اسے رپورٹ سونپنے کوکہا ہے۔ فوج کے دونوں میجر جنرل ڈیفنس کے دومحکموں سے ہیں اور دہلی میں ہی تعینات ہیں۔ ان کا نام ہے میجر جنرل اشوک کمار اور میجر جنرل ایس۔ ایس لانبہ۔ دونوں کو پچھلے سال یہ میڈل ملا تھا۔ ان میں سے ایک میجر جنرل اشوک کمار آرمی سروس کورٹ میں ہے جبکہ دوسرے میجرجنرل ایس ۔ ایس ۔لانبہ فوج کے توپ خانے کی کورٹ میں تعینات ہیں۔ دونوں ہی میجر جنرلوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تبادلہ اور تقرری سمیت رشوت لے کر کافی جائیداد بنائی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ دونوں ہی میجر جنرل اسی سال ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ ان میں میجر جنرل لانبہ 31 جنوری کوریٹائرڈ ہوگئے جبکہ اشوک کمار لانبہ29 فروری کو ریٹائرڈ ہونے والے ہیں۔ اس معاملے میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آربھلا کو لیکر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔لیفٹیننٹ بھلا سابق ڈیفنس سکریٹری رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ان کے وقت میں فوجی افسروں کو ترقی دینے والے بورڈ کی تشکیل ہوئی تھی۔ حالانکہ اس معاملے میں ساؤتھ بلاک کے افسران کچھ جانکاری دینے سے پرہیز کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں افسران کے خلاف اس معاملے میں شعبہ جاتی کارروائی بھی نہیں ہو پائی تھی۔ ان کی فائلیں ڈیفنس بھون میں ادھر ادھر گھومتی رہیں یا پھر یہ اپنے رسوخ کا استعمال کر بچتے رہے۔ دونوں ویجی لنس کلیرینس حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ یہ معاملہ پچھلے سال اگست میں تب سامنے آیا جب لیفٹیننٹ جنرل کی تین خالی اسامیوں کو پرکرنے کے لئے درخواستیں دی گئی تھیں۔ اس کے لئے کل 33 میجر جنرل لائن میں تھے۔ بعد میں ان میں سے دو افسروں کے بارے میں بڑے پیمانے پر ڈیفنس وزارت کو شکایتیں حاصل ہوئی تھیں۔ کچھ شکایتیں سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھیں۔ سی بی آئی نے ان کے خلاف جانچ شروع کردی ہے۔ سی بی آئی الزامات اور دستاویزات کی جانچ کرے گی تاکہ امکانی کارروائی کے بارے میں طے کیا جاسکے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کرپشن سے ہماری فوج بھی اچھوتی نہیں رہ سکی۔
(انل نریندر)

12 فروری 2016

سیاچن کا جانباز زندگی کی جنگ ہار گیا

سیاچن میں برفیلے طوفان میں دبے فوج کے لانس نائک ہنومنتھپاریسکیو آپریشن میں زندہ نکلنے کے بعدہسپتال میں مت سے لڑتے ہوئے جمعرات کی صبح آخری سانس لی۔اس طرح وہ اپنی زندگی کی جنگ ہار گئے۔ڈاکٹرو ں نے انہیں بچانے کی حتی الامکان کوشش کی لیکن وہ اس جانباز کو بچا نہیں پائے۔سیاچن میں لانس نائک ہنومنتھپا 0 ڈگری سیلسیس کے نیچے کے درجے حرارت کے دوران144 گھنٹے تک 25 فٹ برف میں پھنسے رہنے کے بعد زندہ نکلے تھے۔ یہ اپنے آپ میں کوئی معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟ہندوستانی فوج کے حوصلے کی سب سے بڑی مثال بن کر ہنومنتھپا کے برفیلے طوفان میں پھنسنے اور ٹھنڈی موت سے لڑنے اور باہر نکلنے کی داستان حیرت انگیز ہے۔ سیاچن میں اس طرح کے ماحول میں ڈیوٹی کرچکے فوجی حکام نے جو تجزیہ کیا ہے اس کے مطابق ہنومنتھپا کے ٹینک کے اوپر برفیلے تودوں کی بارش نے اگلوکی طرح کا ایک ہوائی پاکٹ جیسا ماحول بنادیاتھا جس سے وہ اتنے دنوں تک بچ سکے۔اگلو کیا ہے؟ دراصل وسطی آرٹک اور گرین لینڈ کے تھلے زون میں ہرمہینے سرد ہوا میں رہنے والے لوگوں کے ذریعے جس گھر کو بنایا جاتا ہے اسے اگلو کہتے ہیں۔ اگلو کی تعمیر برف سے ہی کی جاتی ہے اور وہاں رہنے والے لوگوں کو ایسکیمو کہا جاتا ہے۔ وہ بیل کی ہڈیوں اور کھالوں سے بنے اپنے گھروں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ برف کا استعمال اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں دبے ہوئے ہوا کے پاکٹ اسے ایک طرح سے محفوظ بناتے ہیں۔وہاں باہر کا درجہ حرارت نفی 45 ڈگری سیلسیس تک ہو سکتا ہے لیکن اگلو کے اندر صرف جسمانی گرمی سے اندر کا درجہ حرارت -7 سے16 ڈگری سیلسیس کے درمیان ہوجاتا ہے۔ سیاچن کے جس22 ہزار فٹ پر ہندوستانی جوان پاکستان سے لگی لائن آف کنٹرول پردن رات معمور رہتے ہیں وہاں سانس لینے کے لئے آکسیجن بھی نہیں ملتی۔ فوجی ٹکڑی کی چوکیوں پر سلیپنگ بیگ میں سوتے اور آکسیجن کی کمی سے موت نہ ہوجائے اس لئے ایک جوان رات میں انہیں کئی بار جگاتارہتا ہے۔ وہاں نہانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا اور فوجیوں کو داڑھی بنانے کیلئے بھی منع کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں کی آب و ہوا اتنی سرد ہوجاتی ہے کہ داڑھی بنانے سے کافی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سیاچن میں ٹینٹ کو گرم رکھنے کے لئے ایک خاص طرح کی انگیٹھی کا استعمال کیا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں بخاری کہتے ہیں۔ اس میں لوہے کے ایک سیلنڈر میں مٹی کا تیل ڈال کر اسے جلایا جاتا ہے اس سے وہ سلنڈر گرم ہوکر بالکل لال ہوجاتا ہے اور اس کی تپش سے ٹینٹ گرم رہتا ہے۔ لانس نائک ہنومنتھپا دہلی کے آر آرہسپتال میں زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہے تھے۔وہ کومہ میں چلے گئے تھے۔ دونوں پھیپھڑوں میں نمونیہ کے اثرات تھے اور جسم کے کئی حصے کام نہیں کررہے تھے اور ان کی پچھلے 24 گھنٹے سے حالت کافی نازک بنی ہوئی تھی ۔ ان کی زندگی کے لئے سارا دیش بھارت کے اس مہان ثبوت کیلئے دعا کررہا تھا۔ہمیں فخرہے کہ ایسے بہادر اور ہمت والے جوانوں پر ۔ ہنومنتھپا ہسپتال میں موت سے لڑتے ہوئے اپنی زندگی کی جنگ ہار گئے۔ہم اس جانباز کو سلام کرتے ہیں اور ہم اس دکھ کی گھڑی میں ان کے پریوار کے ساتھ سنویدنا کا اظہارکرتے ہیں۔
(انل نریندر)

دنیا کو ٹھینگا دکھاتا نارتھ کوریا

چوتھا نیوکلیائی تجربہ کرنے کے بعد لمبی دوری کا راکٹ داغ کر نارتھ کوریا کے ڈکٹیٹر کنگ جانگ ان نے دنیا کو ٹھینگا دکھا دیا ہے۔ نارتھ کوریا نے کہا کہ اپنے راکٹ تجربے کے ذریعے ایک سیٹیلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں قائم کردیا ہے۔ چیونگ یانگ کے راکٹ تجربے کی مذمت بیلسٹک میزائل کے تجربے کے طور پر کی جارہی ہے، جس کی زد میں امریکہ تک آتا ہے۔ نارتھ کوریا نے اس میزائل کے ذریعے اقوام متحدہ کی تجاویز کی خلاف ورزی تو کی ہی ہے ساتھ ہی چیونگ یانگ کے پچھلے مہینے کے نیوکلیائی تجربے پر اسے سزا دینے کیلئے جدوجہد کررہی عالمی برادری کی طرف سے اور زیادہ ناراضگی کا خطرہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ سیٹیلائٹ لے جارہے راکٹ کی کامیابی کے ساتھ مدار میں اینٹری کرنے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے لیکن امریکہ کے ایک ڈیفنس افسر نے بتایا کہ یہ تجربہ میزائل وہیکل خلا میں پہنچ چکی محسوس ہوتی ہے۔ لمبی دوری کا راکٹ داغ کر نارتھ کوریا نے پھر سے جس دبنگی کا ثبوت دیا ہے وہ تشویش کا موضوع تو ہے ہی، بلکہ عالمی برادری کو چیونگ یانگ کے ارادوں پر بھی لگام لگانے کے لئے بلاتاخیر سرگرم ہونا پڑے گا۔خیال رہے کہ نارتھ کوریا کا یہ نیوکلیائی خود کفالت چین کے ساتھ ساتھ پڑوسی پاکستان کی بھی مدد کا نتیجہ ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے چیونگ یانگ پچھلے کچھ عرصے سے ایسے نیوکلیائی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی پہنچ امریکہ تک ہو۔یہ بدقسمتی ہی ہے کہ جس دیش کی عوام زبردست غربت میں جینے کو مجبور ہورہی ہے وہاں کے ڈکٹیٹر حکمراں اس کی بہتری کیلئے قدم اٹھانے کے بجائے مسلسل ایسے سنک بھرے فیصلے لے رہے ہیں جن سے دنیا کے لئے خطرہ اور عدم استحکام کی طرف بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ دکھ سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ اب نارتھ کوریا ایک نیوکلیائی کفیل دیش ہے اور اہم انٹرنیشنل کھلاڑی یہ اعتراف کرنے سے ڈر رہے ہیں کیونکہ نارتھ کوریا کو نیوکلیائی صلاحیت کفیل ملک کی مانیتا دینے سے وہ ایک خطرناک مثال پیدا کریں گے۔ پھرپابندی کی بات اٹھے گی۔ مگر ہمیں یہ نہیں لگتا کہ اقتصادی پابندیوں سے نارتھ کوریا کوزیادہ فرق پڑنے والا ہے۔ نارتھ کوریا نہ تو غیر ملکی کاروبار پر منحصر ہے اور نہ ہی اپنی غریب جنتا کی فکر ہے۔تاناشاہی ہے او ر جو بھی آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اسے بے رحمانہ طریقے سے کچل دیا جاتا ہے۔ غریب عوام دانے دانے کو محتاج ہیں لیکن ڈکٹیٹر کنگ جانگ ان اپنے ہی ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ نارتھ کوریا کی نیوکلیائی جارحیت کے رد عمل میں پڑوسی ساؤتھ کوریا نے اپنی فوج کو تو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ اس واقعے نے امریکہ اور جاپان سمیت اقوام متحدہ کو بھی فکر مند کردیا ہے لیکن جس ڈھنگ سے نارتھ کوریا نیوکلیائی تجربہ کررہا ہے اس سے صاف ہے کہ اسے دنیا کی پروا ہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)

10 فروری 2016

منوہر لال کھٹر کی بھرشٹاچار کیخلاف زیرو ٹالرینس نیتی

ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے راجیہ میں بھرشٹاچار کے خلاف بگل بجا دیا ہے۔ چاہے وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کا داماد ہو، بھرشٹ راج نیتا ہوں یا بھرشٹ افسر۔سبھی سے وزیر اعلی پائی پائی کا حساب لینے پرآمادہ ہیں۔ حال ہی میں بلب گڑھ کی اناج منڈی میں ہوئی ایک ریلی میں وزیر اعلی نے سخت تیور دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس راج میں جن نیتاؤں اور افسروں نے جنتا کی خون پسینے کی گاڑھی کمائی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے، اس کی پائی پائی کا حساب لے کر رہوں گا۔ کانگریس راج میں بہت گھوٹالے ہوئے بہت بھرشٹاچار تھا، بھرشٹاچاریوں کو صحیح جگہ پہنچانے کی مہم کی شروعات ہو چکی ہے اسے انجام تک پہنچایا جائے گا۔وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ میرے راج میں بھی اگرکوئی بھرشٹاچار میں ملوث پایا جاتا ہے تو مجھے اس نیتا ، افسر یا کرمچاری کا نام پتہ ضرور بتائیں تاکہ اس کی خبر لی جاسکے۔وزیر اعلی نے کہا کہ سابقہ کانگریس سرکار کے کچھ لوگوں پر ہی شکنجہ کسا ہے تو وہ باولے ہوکر یہاں وہاں ہاتھ پھیر مار رہے ہیں۔ وزیر اعلی نے اشاروں اشاروں میں حال ہی میں ایچ ایس آئی ڈی سی پلاٹ الاٹمنٹ معاملے میں درج کرائے گئے مقدمے اور شروع کرائی گئی جانچ کا ذکر کیا۔ اس کیس میں سابق وزیر اعلی بھوپنڈر سنگھ ہڈا کے خلاف کیس ہے۔سی ایم نے دو ٹوک کہا کہ میرے دورہ اقتدار میں جو نیتا ہیں ان کی ایمانداری کی ذمہ داری میں نے لے رکھی ہے۔ جب میں نے وزیر اعلی کی کرسی سنبھالی تبھی انہیں ایمانداری کا پاٹھ پڑھایاتھا لیکن کچھ بدنام قسم کے افسران اور کرمچاری تھے جو بھرشٹاچار میں ڈوبے ہوئے تھے۔ سب سے پہلے انہیں سیٹ سے ہٹایا۔ کچھ کو سسپینڈ کیا۔
فرید آباد کے ایک تحصیلدار کو دھاندلی سے رجسٹری کرنے کے الزام میں سسپینڈ کیا گیا۔ یہ مثال سب کے سامنے ہے۔ سی ایم نے کہا کہ پہلے ادھیکاری اور کرمچاری یہ دلیل دیتے تھے کہ اوپر دینا پڑتا ہے۔ افسران اور کرمچاریوں کے اوپر تو نیتا ہوتے ہیں، اب جب نیتا سدھر گئے تو افسران اور کرمچاریوں کو بھی سدھرجانا چاہئے۔وزیر اعلی نے کہا کہ ملک بھر میں چلائی گئی’بیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ‘ مہم کے تحت ریاست میں جو بیداری مہم چلائی گئی اسی کا اثر ہے کہ موجودہ وقت میں 1000 لڑکوں پر 903 لڑکیاں ہیں۔سی ایم نے آگے بتایا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ریاست میں پنچایتی راج اداروں کے چناؤ میں 45 فیصد امیدوار بغیر چناوی عمل کو اپنائے اتفاق رائے سے ہی چنے گئے۔ہم شری منوہر لال کھٹر کی بھرشٹاچار کے خلاف زیرو ٹالرینس نیتی کا استقبال کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دیگر وزیر اعلی بھی اسے اپنائیں گے۔
(انل نریندر)

دفعہ377 پر چھڑی بحث

سپریم کورٹ کے گزشتہ منگلوار کوہم جنس رشتوں کو جرم بتانے والی آئی پی سی کی دفعہ377 کے خلاف دائر سبھی 8 اپیلوں پر سنوائی کرنے کو راضی ہونے سے ہم جنس پرستوں میں ایک نئی امید جاگی ہے۔سپریم کورٹ اس سے پہلے 11 دسمبر2013ء کو دہلی ہائی کورٹ کا وہ حکم خارج کر چکا ہے جس میں اس نے دو بالغوں کے ذریعے اتفاق سے ہم جنسی کے تعلقات بنائے جانے کو جرم کے زمرے سے باہر کردیا تھا لیکن منگلوار کو چیف جسٹس ٹی۔ ایس ٹھاکر نے معاملے کو سنگین بتاتے ہوئے آئینی بینچ کو ریفر کردیا۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ہم جنس رشتوں کے حمایتیوں کی نظروں میں ایک تاریخی فیصلہ ہے جو ریویو پٹیشن پر پہلی بار لیا گیا ہے۔ چیف جسٹس ٹی۔ ایس ٹھاکر کی صدارت والی تین ممبری بینچ نے غیر سرکاری تنظیم نان فاؤنڈیشن اور دیگران کے وکیلوں کی دلیلیں سننے کے بعد کہا کہ ان اپیلوں کو پانچ ممبری آئین پیٹھ کو سونپا جاتا ہے۔پیٹھ نے کہا کہ کیونکہ اس معاملے میں آئین سے متعلق اہم مدعے شامل ہیں اس لئے بہتر ہوگا کہ اسے پانچ ممبری آئینی پیٹھ سنے۔سنوائے کے دوران چرچز آف ناردرن انڈیا اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وکیلوں نے ہم جنسی کو جرم کے زمرے سے باہر رکھنے کے خلاف دلیلیں دیں۔ سپریم کورٹ نے سنوائی کے دوران پوچھا کہ کیو ریٹیو پٹیشن کے خلاف میں کون کون ہے؟ تب کورٹ کو بتایا گیا کہ چرچ آف انڈیا اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس کے خلاف ہیں لیکن مرکزی سرکارکی جانب سے پیش وکیلوں نے کوئی بھی رد عمل نہیں دیا اور چپ رہے۔یہ اس لئے اہم ہے کہ سابق یوپی اے ساشن میں سرکار کی طرف سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف 20 دسمبر2013ء کو ریویو پٹیشن داخل کی گئی تھی۔ہم جنس تعلقات کو جرم کے زمرے سے باہر رکھنے کیلئے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹ دیاتھا۔حالانکہ مرکز کی ریویو پٹیشن کو سپریم کورٹ نے خارج کردیاتھا۔ مرکزی وزیر وینکیانائیڈو نے کہا کہ سرکار نے اس مدعے پر آخری رخ طے نہیں کیاہے۔یہ انسانی معاملے ہے غور کر کے رخ طے کریں گے۔
نان فاؤنڈیشن نے 2001ء میں ہائی کورٹ میں دفعہ377 کی ویلی ڈیٹی کو چنوتی دی تھی۔2004ء میں یہ رٹ خارج ہوگئی۔ 2006ء میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو پھر سنوائی کرنے کو کہا۔ ہائی کورٹ نے2 جولائی 2009 ء کو دور انداز اثر ڈالنے والے فیصلے میں کہا تھا کہ دو بالغ اگر اپنی مرضی سے ہم جنس تعلقات بناتے ہیں تو وہ دفعہ370 کے تحت جرم نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے 11 دسمبر 2013ء کو ہائی کورٹ کا فیصلہ پلٹ دیا اور ہم جنسی پرستی پھر سے کرائم ہوگئی۔آئی پی سی کی دفعہ377 میں قانون ہے کہ دولوگ بھلے ہی اپنی مرضی سے ہم جنسی تعلقات بنائیں تو انہیں عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

09 فروری 2016

آخر پاک نے کرلیا اعتراف کہ کشمیری دہشت گردی میں اس کا ہاتھ ہے

پاکستان نے آخر کار خود ہی قبول کرلیا ہے کہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی کو شہ دینے میں اس کا ہی ہاتھ ہے۔ دہشت گردی کے فروغ دیش پاکستان کا اندرونی ماحول لگتا ہے اب بدل رہا ہے۔ پاکستانی ممبران پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے نواز شریف سرکار سے سفارش کی ہے کہ وہ کشمیر کی دہشت گرد تنظیموں کو بڑھاوا دینا بند کرے اور حملوں کیلئے ذمہ دار دہشت گردوں پر کارروائی کرے۔ پاکستان کی نیشنل اسمبلی کی خارجہ امور کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے پچھلے منگل کو کشمیر پر 4 صفحات کا ایک دستاویز سرکار کو سونپا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں مسلح ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کو حمایت دیا بندکرے۔ یہ ممنوعہ گروپ بھارت پر دہشت گردانہ حملوں کے لئے پاکستانی سرزمین کا استعمال کرتے ہیں اور بھارت ان کے خلاف کارروائی کی مانگ کرتارہا ہے۔ حکمراں پی ایم ایل نواز کے ممبر پارلیمنٹ اویس احمد لغاری کی رہنمائی والی کمیٹی نے دنیا میں بنتے اس نظریئے پر تشویش جتائی ہے کہ کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں پر کارروائی کیلئے پاکستان کچھ نہیں کرتا۔ پاکستانی کمیٹی نے خود پاکستان سے دہشت گردی کی حمایت بندکرنے کی نصیحت کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کی اپنی ہی سرکار کی پالیسی کے خلاف جو پالیسی ساز دستاویز جاری ہوا اسے پڑوسی ملک کے رویئے میں آرہی تبدیلی کے طور پر نشاندہی کرناچاہئے۔ یوں تو امریکی دباؤ میں پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کررہاتھا مگر 2014ء میں دو دہشت گردانہ حملوں میں پاکستانی فوج اور سرکار کو پہلی بار دہشت گردی کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کیلئے کچھ حد تک مجبور کیا۔ پاکستان خود دہشت گردی سے تباہ ہورہا ہے۔ پاک سرکار کے ذریعے شروع کئے گئے نیشنل ایکشن پلان جس کے تحت دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدموں کی تیزی سے سماعت اور دہشت گرد تنظیموں کے مالی ذرائع کو ضبط کرنے جیسے کئی مراعات تھیں اور فوج کے ذریعے کئی گئی کارروائی ’ضرب غضب‘ کا اثر پڑا ہے۔ جس کے تحت ہزاروں دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کی میڈیا کوریج پر بھی روک اور بھڑکیلی تقریروں اور ان کی کوریج پر بھی پابندی جیسے قدموں کا اثر نظر آرہا ہے۔ اگر نواز شریف سرکار لغاری کمیٹی کی نصیحتیں پوری طرح سے مان لے تو کشمیر سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ امید عام طور پر بے معنی بھی نہیں ہے۔ پاکستان کو سرگرم تعاون یعنی حرب ہتھیار، زمین، پیسہ اورڈپلومیٹک مدد کے رکتے ہی دہشت گردی بیجان ہوجائے گی۔ پاکستان خود ایک طرح کی خانہ جنگی میں پھنس گیا ہے۔ بھارت میں دہشت گردی کی وجہ سے جتنی جانیں گئی ہیں اس سے کہیں زیادہ زندگیاں وہاں لاشوں میں تبدیلی ہوئی ہیں۔ اس خانہ جنگی سے وہاں کے شہری، انتظامیہ اور فوج تک پریشان ہے۔ آج اگر پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھی ہے تو اس کے پیچھے خود پاکستانی عوام کا دکھ درد ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں جوں کی توں ہے۔ اب دیکھئے جس پاکستان کو پٹھانکوٹ معاملے میں پختہ ثبوت درکار ہیں ، کارروائی آگے بڑھانے کیلئے۔ 
برطانیہ میں داؤد ابراہیم کو اپنے یہاں مطلوب بتا کر اس کے پتے تک کا خلاصہ کردیا ہے جبکہ پاکستان اس کے وہاں ہونے سے انکار کرتا رہا ہے۔ تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت مخالف دہشت گردی کو اسپانسر کرنے کی پالیسی ابھی نہیں بدلی ہے۔ یہی نہیں بھارت کو نشانہ بنانے والے جیش محمد، لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور کارروائی نہیں ہوئی ہے بلکہ ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں کا تانا بانا بننے والوں کے خلاف تساہلی برتنے سے بھی بہت امید نہیں لگائی جاسکتی۔ دہائیوں سے اسلام آباد پاکستانی عوام کی توجہ دوسرے ضروری اشو سے بھٹکاتا رہا ہے۔ یہ بالکل ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بنتی رائے عامہ اور پٹھانکوٹ حملے کے بعد امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے رویئے نے لغاری کمیٹی کو اپنی کشمیر پالیسی پر نظرثانی کرنے کے لئے مجبور کیا ہو لیکن اس واقعہ کو خوش آئین تبدیلی ماننا جلد بازی ہوگی۔ پھر بھی اسے ایک امید کی طرح سے دیکھنا ہی بہتر ہوگا۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...