Translater

24 نومبر 2012

شندے کی سنئے! سونیا و منموہن کو قصاب کی پھانسی کا پتہ ٹی وی سے چلا؟

اجمل عامر قصاب کو یوں چپ چاپ طریقے سے پھانسی پر لٹکانا کیا ایک سیاسی فیصلہ تھا؟ پھانسی کو لیکر سیاست کا تیز ہونا فطری ہی ہے۔ بھارت کے اندر اور باہر دونوں ہی مقامات پر سیاست جاری ہے۔ اجمل قصاب کی پھانسی پر بھارت اور پاکستان کے درمیان نیا ڈپلومیٹک دنگل چھڑ گیا ہے۔ بھارت کے مطابق پاکستان نے قصاب کی پھانسی سے پہلے بھیجی گئی غیررسمی اطلاع لینے سے بھی انکارکردیا۔ اس کے بعد پاکستان نے قصاب کی لاش کو بھی لینے سے منع کرنے کے بارے میں کوئی خبر بھارت تک کو نہیں دی۔ حالانکہ اب پاکستانی خیمہ حکومت ہند کے ان دعوؤں سے انکارکررہا ہے۔ بھارت نے پاکستان میں موجود ممبئی حملے کے سازشیوں کے خلاف کارروائی کے لئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ادھر دیش کے اندر بھی پھانسی کو لیکر سیاسی چالیں چلی جارہی ہیں۔ مرکز اور ریاستی سرکاروں نے پچھلے چار برسوں میں 29.5 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ ان میں آرتھر روڈ جیل میں اس کے کھانے پینے اور سکیورٹی و دوائیوں اور کپڑوں پر بھی پیسہ شامل ہے۔ وہیں قصاب کو پھانسی چڑھانے والے جلاد کو 5 ہزار روپے دئے گئے۔ سکیورٹی پر 30 کروڑ اور پھانسی پر صرف5 ہزار روپے۔ جنتا سوال کررہی ہے کیا 30 کروڑ روپے کے خرچ کو کم کیا جاسکتا تھا؟ اگر جلد پھانسی دے دی جاتی تو یہ بچ سکتا تھا۔ہمیں حیرانی سب سے زیادہ ہوئی جب وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے یہ کہہ دیا کہ قصاب کو پھانسی دئے جانے کے بارے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ ،کانگریس صدر سونیا گاندھی کو بھی نہیں پتہ تھا۔ انہیں ٹی وی دیکھنے سے ہی پتہ چلا قصاب کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ سوال ہے کہ آپ پاکستان کو تو پہلے سے پھانسی کے بارے میں بتا رہے ہیں اور دیش کے وزیر اعظم کو نہیں بتا رہے؟ یہ ماننا آسان نہیں ہے کہ وزیر اعظم کو پتہ ہی نہیں تھا۔ کچھ بھول چوک ہوجاتی تو ذمہ داری دیش کے سربراہ یعنی وزیر اعظم پر عائد ہوتی۔ انہیں پتہ نہیں تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق نہ صرف وزیر اعظم کو معلوم ہی تھا بلکہ آپریشن 'X' براہ راست وزیر اعظم کی نگرانی میں ہی ہوا۔ آپریشن کے بارے میں سینئر وزرا اور حکام تک کو بھی بھنک نہیں لگی یہ تو ٹھیک ہے ۔ محض وزیر اعظم ہی نہیں وزیر دفاع اے کے انٹونی کو بھی پوری معلومات تھی۔ وزیر داخلہ کیے روم سے انٹر پول کی کانفرنس سے لوٹنے کے بعد ہی طے ہوگیا تھا کہ جلد ہی قصاب کو خفیہ طریقے سے سپریم کورٹ کے ذریعے برقرار رکھی گئی پھانسی کی سزا دے دی جائے۔صدر پرنب مکھرجی نے جس تیزی سے قصاب کی رحم کی عرضی کو مسترد کیا وہ بھی کافی اہم تھا۔ صدر محترم نے محض13 دنوں میں ہی اتنا اہم فیصلہ لے لیا۔ اس سے پہلے اس وقت کے صدر شنکر دیال شرما نے تو7 دنوں میں ہی رحم کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا تھا۔ بھارت میں یہ دوسرا ایسا معاملہ ہے جس میں رحم کی عرضی اتنی تیزی سے نپٹائی گئی ہو اور وزیر داخلہ یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ سب وزیر اعظم اور کانگریس صدر کو مطلع کئے بنا ہوا ہے؟ قصاب کو پھانسی سے دیش نے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا ہے لیکن اس کا وقت کئی معنوں میں ٹھیک رہا۔ پھانسی کے خلاف اقوام متحدہ میں ریزولیوشن پاس ہونے کے ایک دن بعد ہی قصاب کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ اتفاق بھی ہوسکتا ہے لیکن ہمارے نظام کو تو یہ کافی پہلے ہی معلوم تھا کہ اقوام متحدہ میں 19-20 نومبر کو کا ریزولیوشن پاس ہونے والا ہے۔ وقت کے مسئلے پر پارلیمنٹ اجلاس سے ایک دن پہلے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سرکار کے بڑھتے عدم استحکام اور دیش میں کانگریس کے لئے موجودہ ماحول اور الگ تھلگ پڑے ہندو ووٹ بینک خاص کر نوجوان طبقہ اور پھر گجرات اسمبلی چناؤ ۔اگر ہم اس واقعے کو دیکھیں تو ہمیں یقیناًلگتا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی زیادہ تھا اور سبھی جانتے ہیں دیش میں کانگریس صدر سونیا گاندھی،راہل گاندھی کی منظوری کے بغیر پتتا تک نہیں ہلتا ۔ یہ تو بہت ہی بڑا فیصلہ تھا۔
(انل نریندر)

بالا صاحب کی وراثت کو کون بڑھائے گا آگے؟

بالا صاحب ٹھاکرے کے دیہانت کے بعد یہ سوال اٹھنا فطری ہی ہے کہ شیو سینا کا اب کیا ہوگا؟ سینا چیف کا عہدہ رہے گا یا ختم ہوگا یا کوئی دوسرا اعلان ہوگا ۔ جب بھی کوئی بڑا نیتا آتا ہے تو تنظیم میں تبدیلی ہوتی ہے۔ شیو سینا میں تو لیڈر شپ میں ایک طرح سے خلا پیدا ہوگیا ہے۔ بیٹا اودھو اس سطح کا نہ تو لیڈر ہے اور نہ ہی ورکروں میں والد جیسی پکڑ اور عزت ہے جبکہ بھتیجے راج ٹھاکرے نے الگ ہوکر مہاراشٹر نو نرمان سینا بنا کر اپنی پہچان الگ بنا لی اور کچھ حد تک وہ کامیاب بھی رہے لیکن اکیلے ان میں وہ دم نہیں جو بالا صاحب میں تھا۔
بالا صاحب کے جانے کے بعد شیو سینکوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ایک شیو سینک کا کہنا تھا کہ بالا صاحب کے دیہانت کے بعد مراٹھی مانش خود کو بے سہارا اور یتیم غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ان حالات میں اب دونوں بھائیوں کو لوگوں کے مفاد میں متحد ہوکر ایک ساتھ آنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ شیو سینک تو چاہتے ہیں کہ اودھو اور راج ایک ساتھ مل کر بالا صاحب کی وراثت کو آگے بڑھائیں لیکن کیا یہ ممکن ہے؟ بال ٹھاکرے نے کئی برس پہلے اپنا سیاسی جانشین طے کردیا تھا۔ وہ اپنے لڑکے اودھو ٹھاکرے کو شیو سینا کا کارگزار صدر بناگئے۔ اسی کے ساتھ پارٹی میں لیڈر شپ کو لیکر کسی جھگڑے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ البتہ پارٹی کو اس کی قیمت چکانی پڑی۔ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے شیو سینا سے الگ ہوگئے اور 2006 ء میں انہوں نے مہاراشٹر نو نرمان سینا نام سے ایک الگ پارٹی بنا لی۔ چھگن بھجبل اور نارائن رانے جیسے کئی مینڈیٹ والے لیڈر اس سے پہلے شیو سینا کو چھوڑ چکے تھے۔ تکلیف دہ پہلو تو یہ ہے کہ اودھو کے ہاتھ شیوسینا کی کمان تو آگئی لیکن سیاست میں وہ ابھی تک کوئی خاص مقام نہیں بنا سکے۔ بیشک وراثت میں انہیں ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ تو ملا لیکن ورکروں کا حوصلہ بڑھانے میں وہ اہل ثابت نہیں ہو پائے۔ مراٹھا مانش اور ممبئی والے اور ہندوتو کی ملی جلی پالیسی نے بالا صاحب ٹھاکرے کو ایک خاص طرح کی طاقت دی لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ بہت سے لوگ ان سے خوف کھاتے رہے۔ کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ اودھو میں اپنے والد جیسی نہ تو زبان ہے اور نہ ہو تیور ہیں جس کے سہارے وہ شیو سینا کی مشتعل انداز والی سیاست چلاتے رہیں۔ بہرحال ہمی راج ٹھاکرے میں بالا صاحب کی تھوڑی بہت خوبی نظر آرہی ہے شاید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ شیو سینا کے بہت سے ورکروں کو توڑنے میں کامیاب ہوئے۔2009ء کے چناؤ نتیجے نے بھی شیو سینا کے ووٹ بینک میں لگی سیند کی تصدیق کی تھی۔ یہ تب ہوا جب شیو سینا کو راہ دکھانے اور اپنے لوگوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے بالا صاحب ٹھاکرے موجود تھے۔ اب جب اس دنیا میں وہ نہیں ہیں تو شیو سینا کا مستقبل غیر یقینی سا لگ رہا ہے۔ دونوں بھائیوں میں اختلافات ہیں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شیو سینا کے مستقبل کے لئے کیا اودھو اور راج اپنے اختلاف بھلا کر بالا صاحب کی وراثت کو آگے چلا سکیں گے؟
  1. (انل نریندر)

23 نومبر 2012

قصاب کو پھانسی:بھارت نے دنیا کو دیاپیغام ہم سافٹ اسٹیٹ نہیں


چار سال پہلے ممبئی کی گلیوں کو 165 بے گناہوں کے خون سے رنگنے والے پاکستانی دہشت گرد اجمل عامر قصاب کو بدھوار کے روز یرودا جیل میں چپ چاپ طریقے سے پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ اسے صبح ساڑھے سات بجے پھانسی دی گئی۔یہ بھی اتفاق رہا قصاب اور اس کے 9 دہشت گرد ساتھیوں نے قتل عام کے لئے بدھوار کا ہی دن چنا تھا۔ یہ ہی دن قصاب کے لئے زندگی کی آخری صبح لیکر آیا۔ ’سی7096‘ نام کے اس بیحد خونی مجرم اجمل عامر قصاب کی لاش کو جیل میں ہی دفن کیا گیا کیونکہ اس کے آقاؤں نے اس کی لاش لینے سے انکارکردیا تھا۔’ آپریشن X‘ نام کے اس آپریشن کو انتہائی خفیہ رکھا گیا۔ بھارت سرکار نے جس چپ چاپ ڈھنگ سے لیکن تیزی کے ساتھ اس آپریشن X کو انجام دیا وہ لائق تحسین ہے۔ یہ کام ضروری ہی نہیں تھا بلکہ بہت ہی اہم تھا۔ قصاب محض ایک آتنکی نہیں تھا وہ ایک آتنک کی علامت بھی بن گیا تھا۔ قصاب کو پھانسی دینے کا فیصلہ دیر آید درست آید کی کہاوت کو ثابت کرتا ہے کہ سرکاریں ٹھان لیں تو مشکل نظرآنے والے کام بھی کہیں زیادہ آسان بنائے جاسکتے ہیں۔ بھارت کے ضمیرکو جھنجھوڑ دینے والی 26 نومبر2008 کی خوفناک آتنکی حملے کی واردات کے قصوروار قصاب کو پھانسی پرلٹکا دئے جانے کے بعد یہ کہا جاسکتا کہ ممبئی کی زمین پر ہوئے گناہ کو انصاف مل گیا ہے۔ قصاب کو پھانسی پر لٹکانے کی حکمت عملی نے سرکار نے یقینی طور پر کئی حساب کتاب کا خیال رکھا۔ سب سے پہلے تو سرکار کی کوشش اپنی ختم ہوتی ساکھ کو پھر سے بحال کرنے کی تھی۔ دوسرے26 نومبر کے گناہگارکو سزا دینے کے لحاظ سے ماہ نومبر کی اپنی اہمیت تھی۔ ان سب نفع نقصان سے زیادہ اہمیت اس پیغام کی ہے جو نئی دہلی نے پوری دنیا کو دیا ہے اور یہ سندیش ہے کہ وہ دیش بھی اپنے ضمیر و عزت کو چوٹ پہنچانے والے آتنکی کو سزا دینے کی ہمت رکھتا ہے جسے عام طور پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ’سافٹ اسٹیٹ‘ مانا جاتا ہے۔ ویسے قصاب کے خاتمے میں عام بات جیسی کچھ نہیں ہے لیکن پچھلے برسوں میں بھارت میں سزا کا انتظار کررہے آتنکیوں کو سزا دینے کو لیکر جیسا لچر رویہ اپنایا جاتا رہا ہے اس لحاظ سے قصاب کی پھانسی پورے دیش کے لئے حیرت انگیز پر مبنی خوشی کی طرح ہے۔ اپنے اس ایک قدم سے حکومت نے خود پر لگ رہے دہشت گردی کے تئیں نرم رہنے کے الزام کو مسترد کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس سے دیش کے دشمنوں تک یہ سندیش بھی پہنچا ہوگا کہ وہ بھارت کو ’سافٹ اسٹیٹ‘ سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ دہشت گردی سے مقابلہ قوت ارادی سے کیا جاسکتا ہے۔ بہتر ہوتا اس قوت ارادی کا مظاہرہ کرنے میں قباحت اور ہچکچاہٹ کا ویسا مظاہرہ کرنے سے بچا جاتا جیسا اب تک کیا جاتا رہا ہے۔جس کے سبب بھارت سرکار دنیا کی نظروں میں تو کمزور اقتدار کی شکل میں ابھری ہے۔ دیش واسیوں کے درمیان یہ ایک دبنگ کردار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اب سارے دیش کی نظریں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کے قصوروار افضل گورو پر ٹکی ہیں۔ بیشک اس لائن میں پنجاب کے وزیر اعلی بے انت سنگھ کے قاتل اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں پر بھی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں سب سے پہلے افضل گورو کو پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے۔ انہوں نے تو دیش پر حملہ کیا،دیش کی عزت کو ٹھیس پہنچائی۔ کسی غیر ملکی شخص کو نہیں اس لئے ان کا جرم زیادہ سنگین ہے۔ ممکن ہے کشمیر وادی میں اس کا تھوڑا بہت ردعمل سامنے آئے لیکن اس کو کنٹرول کرنے میں ہماری سکیورٹی فورس کافی ہے۔ ویسے بھی وادی میں بے چینی کی چھوٹی موٹی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ان سبھی کو پھانسی میں دیری ایک واحد وجہ اغراض پر مبنی سیاست کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ مجرم کسی نرمی اور رحم کے قابل نہیں انہیں سزا دینے میں اس لئے دیری ہورہی ہے کیونکہ کچھ سیاسی پارٹیاں انہیں لیکر سیاست کرنے میں لگی ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہوگا کہ افضل گورو اور دیگر دہشت گردوں کو سزا دینے میں ویسے ہی ہمت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے یا نہیں جیسا قصاب کے معاملے میں دکھایا گیا۔ اب قصاب کو سزا ملنے کے بعد بھارت کو اس کے آقاؤں تک پہنچنے کی پرزور کوشش کرنی چاہئے کیونکہ انہیں سبق سکھائے بغیر ممبئی حملے کے متاثرین کو انصاف ادھورا ہی رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ وقت چوکس رہنے کا بھی ہے ممکن ہے قصاب کے خاتمے کے بعد بدلا لینے کے مقصد سے پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے بھارت میں کسی واردات کو انجام دینے کی کوشش ہو۔ ضروری تو یہ ہے کہ چوکسی برتتے ہوئے قصاب سے شروع ہوا انصاف کا سلسلہ افضل گورو اور دیگر کی موت کی سزا پاچکے خطرناک آتنک وادیوں تک بھی پہنچے۔
(انل نریندر)

چین جھپٹ اب ایک منظم دھندہ بن گیا ہے

آج کل جرائم بھی ایک ہائی ٹیک بزنس ہوگیا ہے۔ دہلی این سی آر میں بائیکرس روزانہ درجنوں عورتوں سے چھینا جھپٹی کی واردات کو انجام دیتے ہیں۔ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ دہلی میں ہی ہورہی زیادہ تر واردات کے پیچھے مغربی یوپی کے بڑے گروہ کے ہاتھ ہیں جن کے نشانے پر زیادہ تر دہلی رہتی ہے۔ ان گروہ کی سالانہ مجمودی آمدنی کروڑوں میں ہے۔ چھینا جھپٹی میں ہتیائے گئے زیورات سستے داموں میں یہ گروہ مغربی یوپی کے سوناروں سے گلوادیتے ہیں۔ اس سے سوناروں کا تو فائدہ ہوتا ہی ہے گروہ کو بھی بھاری بھرکم رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے دہلی این سی آر میں جب چھین جھپٹ ماروں کو پولیس پکڑتی ہے تو ان سے برآمدگی برائے نام ہوتی ہے۔ سرغنوں کے اشارے پر گروہ کے افراد الگ الگ علاقوں میں ریکی کرتے ہیں اور پھر ہاتھ لگے جھپٹ ماری کی واردات کرکے فرار ہوجاتے ہیں۔ گروہ کے ہاتھ روزانہ ہی درجنوں طلائی چین اور دیگر زیورات و پرس لگ جاتے ہیں۔ ان کا باقاعدہ حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔ جی ہاں جھپٹ ماروں کو باقاعدہ مہینے کی تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔جو اس کام میں مہارت حاصل کرلیتا ہے اس کی تنخواہ 80 ہزار روپے مہینہ ہوجاتا ہے۔ اس کا خلاصہ دہلی این سی آر میں جھپٹ ماری کی سنچری بنا چکے وجیندر نے اسوقت کیا جب وہ نوئیڈا میں واردات کے بعد بھاگتے ہوئے لوگوں کے شکنجے میں آگیا۔ اس نے پولیس کے سامنے جو انکشاف کیا ہے پولیس والوں کے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ بے خوف ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر عورتیں ڈر اور اپنی عزت کی وجہ سے تھانوں کے چکر کاٹنے کی پریشانی سے بچنا چاہتی ہیں۔ پولیس کے ہاتھ آئے جھپٹ مار بجیندر کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چلا پچھلے سال غازی آباد میں کپڑا تاجر سے 2 لاکھ کی لوٹ میں وہ بھی شامل تھا ۔بجیندر دو بار جیل جاچکا ہے۔ بابوگڑھ تھانے میں گروہ ایکٹ میں بند اس جھپٹ مار کے اقبال نامے پر پتہ چلا کہ گروہ میں بھرتی کسی بھی ممبر کے پکڑے جانے پر اس گروہ کے آقا اپنا جگاڑ لگا کر اس کو ضمانت پر چھڑا لیتے ہیں۔ بجیندر کو پولیس معمولی جھپٹ مار سمجھ بیٹھی تھی لیکن اس کے پشت پر تو کئی بڑے گروہ کا ہاتھ ہے۔ اس نے بتایا جھپٹ ماروں کی قد اورکاٹھی اورا ن کی پھرتی کو دیکھ کر تنخواہ طے کی جاتی ہے۔ فریشر کو ہر مہینے تقریباً30 ہزار روپے ملتے ہیں۔اس کے بعد جیسا جھپٹ ماری کا تجربہ بڑھتا اسی کے حساب سے تنخواہ بڑھتی جاتی ہے۔ جھپٹ ماروں کو تو 50 ہزار روپے تک کی ادائیگی گروہ کرتا ہے۔ اس کے مطابق لوٹی گئی ڈیڑھ سے دو تولے کی چین کی قیمت 50 سے80 ہزا رروپے کی ہوتی ہے۔ ایک دن میں دوچار چینیں اڑا لیں تو لاکھوں روپے کی انکم سرغنوں کو ہوتی ہے۔ گروہ کے افراد کو ایریا بانٹے گئے ہیں۔ ان کی ہر ہفتے کی شفٹ بدل دی جاتی ہے۔ مثلاً بائیک سوار دو جھپٹ مار ایک ہفتے غازی آباد علاقہ دیکھ رہے ہیں تو وہ اگلے ہفتے مشرقی دہلی یا ساؤتھ دہلی بھیج دئے جاتے ہیں۔ ان کی جگہ دوسرے ممبر کو شفٹ مل جاتی ہے۔ گروہ میں فریشر سمیت تقریباً30 ممبر ہیں ان کے مطابق گروہ میں شامل زیادہ تر ممبر مشرقی دہلی، نوئیڈا، غازی آباد ، لونی، کھوڑا کالونی، ہاپوڑ، بلند شہر اور سکندر آباد کے ہیں جو اچھی طرح علاقے کی جغرافیائی پوزیشن سے واقف ہیں۔ کم سے کم روزانہ دوچار چین جھپٹناگروہ کے ہر ممبر کو باقاعدہ نشانہ دیا جاتا ہے۔
(انل نریندر)

22 نومبر 2012

کیاراہل دلدل میں پھنسی کانگریس کو باہر نکال پائیں گے؟

کانگریس پارٹی میں راہل گاندھی کا 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں بڑا کردار ہوگا۔ یہ کانگریس تال میل کمیٹی کے حال میں تشکیل سے صاف ہوگیا ہے۔ کانگریس تال میل کمیٹی کا راہل کو چیئرمین بنایا گیا ہے اور ان کی ٹیم کو ترجیح دی گئی ہے۔ ہائی پاور اس ٹیم کے دیگر ممبران سے پتہ چلتا ہے کہ اس کمیٹی کو ہی لوک سبھا کے چناؤ جیتانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ٹیم میں احمد پٹیل، جناردن دویدی و دگوجے سنگھ ایسے چہرے ہیں جس سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ کمیٹی کو پارٹی صدر سونیا گاندھی کا پورا آشیرواد ہے۔
کمیٹی کی تشکیل سے یہ بھی صاف ہوگیا ہے کہ سونیا گاندھی کے بعد سب سے اہم شخصیت راہل گاندھی ہیں۔ یوں پارٹی میں ان کی اہمیت کو لیکر کوئی غلط فہمی نہیں رہی ہے لیکن رسمی طور پر ان کی سرگرمی پردے کے پیچھے اور نوجوان اور طلبا یونین میں زیادہ رہی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ راہل گاندھی کو تنظیم میں زیادہ بڑی ذمہ داری ملے گی۔ اب امیدوار کے انتخاب سے لیکر تمام چناؤ مہم چلانے کا ذمہ انہیں سونپ کر کانگریس نے اپنی پالیسی واضح کردی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا چہرے بدلنے سے کانگریس کا مستقبل روشن ہوجائے گا؟ راہل گاندھی کو چناؤ جیتانے کا ٹریک ریکارڈ بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزاء نہیں رہا۔ بہار۔ اترپردیش میں ان کی رہنمائی میں پارٹی کا کیا حال ہوا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر منموہن سنگھ سرکار کی پالیسیاں نہیں بدلیں توشاید راہل بھی فیل ہوجائیں گے۔ آج پارٹی اور سرکار دونوں ہی عام آدمی سے کٹ چکے ہیں۔ لوگ کرپشن، مہنگائی ، بے روزگاری سے پریشان ہیں جب تک انہیں ان معاملوں میں راحت نہیں ملتی ہمیں نہیں لگتا کہ کانگریس کا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ لیکن راہل کو آگے بڑھانے سے دو باتیں ان کے حق میں ضرور جاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ نہرو گاندھی پریوار کی وجہ سے کانگریسیوں کی درپردہ وفاداری ان کے ساتھ ہوگی۔دوسری طرف 2009 ء کے چناؤ کے بعد جیسی امیدیں اور چناؤ مہم ان کے ساتھ جڑی تھی اب وہ نہیں ہوگی۔ 2009ء کے بعد وہ درمیانے طبقے کے ہیرو تھے تمام نوجوان ان میں اپنا لیڈر دیکھ رہے تھے۔ اب ایسا نہیں اس لئے کے وہ بغیر کسی بوجھ کے کام کرسکتے ہیں۔ اب انہیں توقعات کی چکا چوند نہیں گھیرے گی۔ راہل گاندھی کو سونپی گئی نئی ذمہ داری اور کانگریسی ورکر کے عام جذبے کو ہی عکاسی کرتی ہے لیکن یہ ان کی سب سے بڑی چنوتی اور آزمائش بھی ہوگی کیونکہ کانگریس اپنی تاریخ میں شاید اب تک کی سب سے مشکل چنوتی کا سامنا کرنے جارہی ہے۔ کیا راہل گاندھی کی لیڈرشپ اگلے عام چناؤ میں کھرا یا امیدوں کے مطابق ثابت ہوگی؟ جہاں تک پالیسیوں اور اشوز کا سوال ہے ابھی تک تو راہل گاندھی نے کوئی واضح اشارہ نہیں دئے ہیں و۔ وہ اپنی پسند یا سہولت سے کسی اشوز کو اٹھاتے ہیں اور پھر اسے بیچ میں ہی چھوڑدیتے ہیں۔ چناؤ میں راہل گاندھی پارٹی کو کتنی کامیابی دلا پائیں گے یہ تو بعد میں ہیں پتہ چلے گا۔لیکن انتخاباتی مہم کی باگ ڈور تھام کر وہ منموہن سنگھ سرکار کے کام کاج کی جوابدہی سے بچ نہیں سکتے۔ وہ کامیاب ہوتے ہیں تو ساری دنیا ان کے گن گائے گی لیکن ہارتے ہیں تو شاید کانگریس کا نقشہ ہی بدل جائے۔
(انل نریندر)

اترپردیش میں مسلسل بڑھتے عورتوں سے چھیڑ خانی اور بدفعلی کے واقعات

اترپردیش میں قانون و نظم کا سسٹم مسلسل بگڑ رہا ہے۔ لگتا یہ ہے کہ اس اکھلیش یادو کی سرکار کی قانون و انتظام پر پکڑ ڈھیلی ہوتی جارہی ہے۔ مانو دبنگوں کو دبنگی کرنے کا لائسنس مل گیا ہو۔ آئے دن اخبارات میں اترپردیش کسی نہ کسی گوشے میں پریشانی بڑھانے کی خبر آتی رہتی ہے۔ حال ہی میں خبر آئی سہارنپور کمشنری میں کمزور طبقے ہی طالبات اور عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ،بدفعلی اور تشدد کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں جس طرح ملالہ طالبانی تشدد کا شکار ہوئی ہے، ٹھیک اسی طرح شہر میں طالبات کو پریشانی جھیلنی پڑ رہی ہے۔ ان کے رشتے دار انہیں اسکول جانے سے روک رہے ہیں۔
حکیم پورہ میں پانچ سال کی دلت طالبہ ٹینا (نام تبدیل) کے ساتھ پڑوسی لڑکے نے باتھ روم میں اس وقت بدفعلی کی جب وہ ٹی وی دیکھنے آئی تھی۔ اس سے پہلے بیہیٹ تھانے کے گاؤں گھروندی کی 28 سالہ مسلم عورت شیبہ (نام تبدیل) کو اغوا کر اجتماعی بدفعلی کی گئی، ملزم فرار ہیں۔ دودلی کی باشندہ معزور لڑکی مینو کی گردن کٹی لاش گنے کے کھیت سے برآمدہوئی ہے۔ اس کے ساتھ بھی اسی طرح کا واقعہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یکسرائے میں 11 سال کی دلت لڑکی مونیکا کو دو لڑکوں نے اغوا کرکے اس کو بے ہوش کیا اور اس کے ساتھ بدتمیزی کی۔ گنگو میں شام کو دوکان پر سامان لینے آئی 15 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ دو لڑکوں نے بدفعلی کی۔ 9 اگست کو دیوبند علاقے کے گاؤں بیہڑا میں 14 سال کی ویرا گپتا کی اجتماعی بدفعلی کرنے کے بعد اسے مار دیا گیا۔ ایسے بہت سے معاملے سامنے آئے ہیں۔ میں نے کچھ واردات کا حوالہ دیا ہے۔ یہ سبھی واقعات وزیر اعلی اکھلیش یادو کی سرکار بننے کے بعد رونما ہوئے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے اس سرکار میں ملزمان کے حوصلے کتنے بلند ہوئے ہیں۔
گذشتہ28 اکتوبر کو سہارنپور میں خواتین تشدد کے خلاف احتجاج میں ایک کانفرنس ہوئی تھی۔ اس میں سماجی تنظیموں سروکار، ناری سنسد، وومن اگینسٹ سیسول ہیرسمنٹ ایکشن انڈیا، گیان گنگا شکشا کمیٹی وغیرہ وغیرہ کے ورکروں نے عورت پر بڑھتے تشدد پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مہیلا تشدد کا سب سے برا اثر یہ ہوا کہ کئی خاندانوں نے بیٹیوں کو اسکول تک جانے سے روکنا شروع کردیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ زیادہ تر معاملوں میں پولیس نے کارروائی تو کی لیکن سرکار اور پولیس انتظامیہ کے لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے حال ہی میں ریاست کے قانون و انتظام کو بہتر بنانے میں کچھ افسروں اور میڈیا کے ایک طبقے کو توقع کے مطابق مدد نہ ملنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ان کی سرکار باقی مورچے پر بہتر تال میل قائم کرپا رہی ہے لیکن قانون و انتظام کا راج قائم کرنے کے معاملے پر ابھی کوئی کمی رہ گئی ہے۔ وزیر اعلی لکھنؤ میں عورتوں کے لئے ہیلپ لائن سیوا1090 شروعات کررہے تھے۔ انہوں نے کہا سب سے زیادہ الزام اترپردیش کے قانون و نظم کو لے کر لگ رہے ہیں۔ ہم تمام چیزوں پر تال میل کر پا رہے ہیں لیکن لا اینڈ آرڈر کے معاملے میں ایسا نہیں ہوپارہا ہے۔ پولیس میں اچھے لوگ بھی ہیں لیکن کہیں نہ کہیں کچھ کمی بھی ہے۔
(انل نریندر)

21 نومبر 2012

نریندرمودی نے تھری ڈی استعمالسے ایک ساتھ چار شہروں کو خطاب کیا

گجرات اسمبلی چناؤ ہونے جارہا ہے پولنگ13 اور 17 سمبر کو ہونی ہے۔ چناؤ بیشک گجرات کا ہے لیکن اس چناؤ پر سارے دیش کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں لیکن دیش کے مستقبل کی سیاست کی سمت کو طے کرسکتی ہے۔ گجرات میں بھاجپا کا اہم مقابلہ کانگریس سے ہے۔ گجرات کے مقبول ترین وزیر اعلی نریندر مودی کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اگر وہ یہاں سے کامیاب ہوتے ہیں اور اچھے مارجن سے جیتتے ہیں تو نہ صرف بھاجپا کو نئی طاقت ملے گی بلکہ ممکن ہے نریندر مودی مرکزی منظر پر آجائیں اور 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے وزیر اعظم کے امیدوار بن جائیں۔ اس نکتہ نظر سے یہ چناؤ نریندر مودی کے لئے جینے مرنے کا سوال بن چکے ہیں۔ نریندر مودی نے گجرات اسمبلی چناؤ2012 ء کی چناؤ مہم کو ایک نیا ٹرینڈ دے دیا ہے۔ بھاجپا کے پوسٹر بائے نریندر مودی ایتوار کو تھری ڈی کے اوتار میں نظر آئے۔ دراصل مودی نے اس تکنیک کی مدد سے احمد آباد، سورت، راجکوٹ اور بڑودہ میں ایک ساتھ چار چناوی ریلیوں کو خطاب کیا ۔اس میں مودی کا پہلے سے ریکارڈنگ پیغام بھی دکھایا گیا۔ ہائی ٹیک ٹکنالوجی کی مدد سے ایسا احساس ہورہا تھا کہ مانو مودی خود چاروں مقامات پر موجود ہیں اور خود اسٹیج سے خطاب کررہے ہیں۔ تھری ڈی کے ذریعے چناؤ مہم کا یہ طریقہ دیش کے لئے بالکل نیا ہے۔ دنیا میں صرف دو موقعوں پر پہلی بار پرنس چارلی کے ذریعے اور دوسری بار امریکی چناؤ میں الگور کے ذریعے اس کا استعمال کیا گیا تھا۔ دیش کی سیاست میں اسے لانے کا سہرہ یقینی طور سے نریندر مودی کو جائے گا۔ آخر کیا ہے تھری ڈی اسٹیج؟ کس طرح کام کرتا ہے، کیسے اس کے ذریعے ایک ساتھ چار پانچ ریلیاں کی جاسکتی ہیں؟ الفاظ میں بتانا مشکل ہے لیکن موٹے طور پر پروجیکٹر سے مودی کے فوٹو سرفیس سے ٹکراٹی ہے جو اسٹیج پر 45 ڈگری اینگل پر دکھائی پڑتی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ خاص چشمے کے بغیر تھری ڈی ای فیکٹر کو نہیں دیکھا جاسکتا لیکن ہولوگرافک فائل کی مدد سے بغیر چشمے کے یہ ممکن ہوا ہے۔ اسٹیج پر پلاسٹک سیٹ کی طرح شفاف اسکرین لگائی جاتی ہے جس پر ریلیکٹو سرفیس سے امیج بنتی ہے۔ پہلے تھری ڈی اسٹیج سے نریندر مودی نے کہا کہ گجرات کی 6 کروڑ عوام رام ہے اور میں ان کا وانر۔ مجھے موقعہ ملا ہے کہ میں ہنومان کی طرح ان کی سیوا کروں۔ موصولہ اشاروں اور سروے سے یہ ہی پتہ چلتا ہے کہ نریندر مودی کی کامیابی یقینی لگتی ہے۔ اب اگر مودی 120 سے زیادہ سیٹیں لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو قومی سطح پر 2014ء کی لڑائی مودی بنام راہل ہوجائے گی۔ اگر 110 سے کم سیٹیں آتی ہیں تو مودی کو بھاجپا کے اندر سے چنوتی مل سکتی ہے۔ ان کے گجرات ڈولپمنٹ ماڈل پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس صورت میں کیا اگلی لڑائی مودی بنام راہل کی شکل لے گی؟ ہاں اگر100 سے105 سیٹوں تک بھاجپا سمٹ جاتی ہے تو اس کے مودی کے لئے منفی نتیجے سامنے آسکتے ہیں اور مودی کی شخصی پوزیشن دونوں ریاست اور مرکز میں کمزور ثابت ہوگی۔ لیکن ابھی وقت ہے چناؤ میں روزمرہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔
(انل نریندر)

امریکہ میں 7 جگہ حملے کس نے کئے ؟

امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے...