Translater

31 دسمبر 2011

ایران پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ تیار ہے


Published On 31st December 2011
انل نریندر
ایران اور امریکہ کے رشتے دراصل تب سے زیادہ خراب ہوئے ہیں جب سے ایران نے امریکی ڈرون جہاز گراکر اس کا کھلا مظاہرہ کیا۔ ایرانی ٹی وی نے دکھایا ہے کہ کس طرح ایرانی فوجی افسر آرکیو 170 سے ٹنیل ڈرون کا معائنہ کررہے ہیں۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ایرانی صدر مسٹر احمدی نژاد سے اپیل کی کہ وہ ڈرون کو لوٹادیں لیکن ایران اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کے بعد آیا یوروپی یونین کے ایران پر پابندی کا معاملہ۔ یوروپی یونین نے ایران کے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کی وجہ سے 180 ایرانی افسران اور کمپنیوں پر تازہ پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ یوروپی یونین کے وزراء خارجہ کی حال میں برسیلز میں ہوئی میٹنگ میں ایران کے توانائی سیکٹر کو نشانہ بنا کر کچھ دیگر قدموں پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ یہ پابندی اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے بعد لگائی جارہی ہے جس میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو نیوکلیائی ہتھیاروں کے فروغ سے جوڑا گیا تھا۔ برطانیہ نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ لندن سے ایران کے ساتھ سبھی سفارتی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا اگر اس کے نیوکلیائی پروگرام پر پابندی لگانے کے ارادے سے اس کے تیل درآمدات پر بین الاقوامی برادری نے روک لگائی تو وہ اسٹیٹ آف ہامرزکو بند کردے گا۔ ایران کی طرف سے یہ وارننگ دیش کے نائب صدر رضا رحیمی نے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی ممالک نے ایران کے تیل درآمدات پر پابندی لگائی تو پھر خلیجی ملکوں کو ایک بھی بوند تیل اسٹیٹ آف ہامرزنہیں کھلے گا۔ ایران دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تیل سپلائی کرنے والا ملک ہے۔ تیل کی بکری سے ایرانی حکومت کو پیسہ اور پیسے سے سیاسی طاقت ملتی ہے اور ساتھ ہی نیوکلیائی پروگرام کو جاری رکھنے کے لئے ضروری مدد بھی ملتی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی ایران کی اس حکمت عملی کے بارے میں واقفیت ہے۔ اسی کے جاری رہتے یوروپی یونین کے وزراء خارجہ نے ایران کے تیل برآمدات پر پابندی لگانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ اسٹیٹ آف ہرمزبند کرنا ایران کے لئے آسان نہ ہوگا۔ خلیج میں ایران کے علاوہ اور بھی ممالک کے فوجی تعینات ہیں۔ایران کی دھمکی پر امریکہ نے سخت جوابی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ آف ہرمز نہ صرف اس علاقے کی سلامتی اور استحکام کے لئے اہم ہے بلکہ یہ ایران سمیت خلیجی ملکوں کی معیشت کی زندگی کی ایک ریکھا بھی ہے۔ امریکہ کیلئے یہ راستہ بہت اہم ہے کیونکہ اسی راستے سے امریکہ تیل لے جاتا ہے۔ امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ وہ اس کو برداشت نہیں کرے گا۔ ہرمز خلیج اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں بہرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو بحر ہند سے جوڑتا ہے۔ ایران کی دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی فوج کے پانچویں بیڑے کے ترجمان نے کہا کہ ہم لوگ غلط نیت سے اٹھائے گئے کسی بھی قدم سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ تیل کے آمدو رفت کو جاری رکھنے کے لئے امریکہ خلیج میں اپنا جنگی بحری بیڑہ رکھتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا تھا کہ ایرانی دھمکی کا اہم مقصد ان کے نیوکلیائی پروگرام کے اصل اشو سے توجہ ہٹانا ہے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Iran, USA, Vir Arjun

کئی معنوں میں تاریخی رہا سال 2011


Published On 31st December 2011
انل نریندر
سال 2011 کئی معنوں میں تاریخی سال رہا۔2011 میں جو کچھ ہوا وہ آزاد بھارت کی تاریخ میں شاید پہلے کبھی ہوا ہو۔ اگر اس سال کو گھوٹالوں کے پردہ فاش ہونے کا سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک طرف گھوٹالے تو دوسری طرف بڑھتے کرپشن کے خلاف جن آندولن ،کرپشن کے خلاف مضبوط لوکپال کی مانگ کو لیکر سماج سیوی انا ہزارے کی غیر سیاسی تحریک نے یقینی طور سے دیش کی سیاست کو اس سال سب سے زیادہ متاثر کیاہے۔حکومت ہی نہیں دوسری پارٹیاں بھی انا کو ملی وسیع حمایت کے آگے بونی نظر آئیں۔ انا کے دباؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ سرکار پارلیمنٹ میں لوکپال بل پیش کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس کو سال کے بڑے واقعات میں سوامی رام دیو کا کالے دھن کے خلاف چلایا جارہا آندولن بیشک ابھی تک رنگ نہیں لاسکا لیکن اس نے ایک ماحول بنانے میں تو مدد کی۔4 جون کی وہ یاد بھی برسوں تک رہے گی جب پولیس نے رام لیلا میدان پر پرامن طور پر دھرنا دے رہے رام دیو حمایتیوں کو اتنی بے رحمی سے پیٹا کہ ایک بھکت راج بالا تو اس مار سے چل بسی۔ مغربی بنگال اسمبلی چناؤ میں ترنمول کانگریس کی جیت اس سال کی ایک بہت بڑی گھٹنا تھی۔ ممتا بنرجی نے صوبے میں 34 برسوں سے کمیونسٹ راج کا خاتمہ کرکے تاریخ ہی بدل دی۔کامریڈوں کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ تاملناڈو میں کرناندھی اینڈ کمپنی کا بوریا بستر سمیٹ دیا۔ کروناندھی کے لئے تو سال2011 نہ بھولنے والا سال رہا۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ان کی پارٹی کے اے راجہ تہاڑ پہنچے، رہی سہی کثر کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی کے تہاڑ جیل پہنچ سے پوری ہوگئی۔ کامن ویلتھ گیمس کے انعقاد کی کامیابی کا سہرہ سرکار کو نہیں ملا کیونکہ ممبر پارلیمنٹ اور کھیل آرگنائزننگ کمیٹی کے چیئر مین سریش کلماڑی کو کرپشن کے معاملے میں جیل جانا پڑا۔ ٹو جی گھوٹالے میں تو کئی نامی گرامی لیڈر، افسرتہاڑ جیل گئے۔ تہاڑ وی آئی پی جیل بن گئی۔ جنتا پارٹی کے نیتا سبرامنیم سوامی نے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے کردار کو عدالت میں چنوتی دی ہے۔ چدمبرم جنہوں نے مضبوطی سے اپنا کام شروع کیا تھا سال ختم ہوتے ہوتے وہ ایک بہت کمزور ،لاچار اور منہ لٹکائے وزیر داخلہ ثابت ہوئے۔ ابھی تو عدالت میں جاری کارروائی کا نتیجہ سامنے آنا ہے۔کیش فار ووٹ معاملے میں راجیہ سبھا ایم پی امرسنگھ و بھاجپا کے سابق ایم پی مہاویر بھگوڑا اور پھگن سنگھ کلستے کو تہاڑ جیل جانا پڑا۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کالی کمائی اور کرپشن کو لیکر ملک گیر دورہ کیا۔راجستھان میں بھنوری دیوی کا معاملہ سارے سال سرخیوں میں رہا۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی طاقت کا پہلی بار اس بار احساس ہوا۔ مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں میں عوامی انقلاب کا آغاز ہوا اور کئی ملکوں میں تبدیلی اقتدار ہوئی۔ یقینی طور سے سال 2011ء سوشل میڈیا کے لئے میل کا پتھر رہا۔ فیس بک کے لئے تو وہ بیحد خاص تھا۔ سوشل میڈیا کی شکل میں عام آدمی کے ہاتھوں میں آئی اس توپ کا دھماکہ 2011ء میں سنائی دے چکا ہے۔ اور آنے والے برسوں میں یہ اور طاقتور ہوگی۔ کل ملاکر کئی معنوں میں گذرا یہ سال اہمیت کا حامل رہا۔ میں اپنی اور اپنے تمام ساتھیوں کی جانب سے آپ کو نئے سال کی نیک خواہشات پیش کرتا ہو اور اوپر والے سے پرارتھنا کرتا ہوں کہ سال2012 سب کے لئے منگل مے رہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Happy New Year, Roundup 2011, Vir Arjun

30 دسمبر 2011

لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا سبھی کو معلوم تھا


Published On 30th December 2011
انل نریندر
حقیقت تو یہ ہے کہ لوکپال بل کو لیکر نہ تو منموہن سرکار سنجیدہ تھی اور نہ ہی اپوزیشن۔ ہمیں تو لگتا یہ ہے کہ حکومت اور کانگریس پارٹی لوکپال بل کو صرف لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کرنا چاہتی تھی۔ پاس ہو جاتا تو بھی ٹھیک تھا نہ ہوتا تو بھی ٹھیک تھا۔ زور زبردستی سے لوک سبھا میں اس کو پاس کروالیا لیکن آئینی درجہ دلوانے میں وہ نا کام رہی۔ ادھر اپوزیشن کا کبھی بھی ارادہ اسے پاس کرانے اور آئینی درجہ دلانے کا نہیں تھا اس لئے اس نے بحث میں حصہ تو لیا لیکن ووٹنگ کے وقت بٹن نہیں دبایا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مارکسوادی پارٹی کو لوکپال کے موجودہ خاکے پراعتراض تھا اور اس نے لوکپال کی بنیادی شکل میں کچھ ترامیم چاہیں لیکن حکومت ان ترمیمات کو نہیں مانی اس لئے اپوزیشن نے بل کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا۔ کانگریس اب یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے تو لوکپال بل پاس کروادیا ہے لیکن بھاجپا نے حمایت نہ کر اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ ایسے بے اثر لوکپال بل کی حمایت کرکے ہمیں اپنی ناک تھوڑی ہی کٹوانی تھی۔ ہم ایسے کھوکھلے لوکپال بل کی حمایت کیسے کرسکتے ہیں؟ کانگریس کامقصد موثر لوکپال لانے کا نہیں تھا وہ تو بس پارلیمنٹ میں اسے پیش کرنا چاہتی تھی تاکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں اس کا پارٹی کوفائدہ ملے تاکہ وہ عوام کے درمیان یہ کہہ سکے دیکھو ہم تو لوکپال لے آئے لیکن بھاجپا نے بٹن نہیں دبایا اور اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ لوک سبھا میں جس طرح سرکار کی اس بل کو آئینی درجہ دینے کی کوشش میں کرکری ہوئی اس سے بھی زیادہ کرکری راجیہ سبھا میں ہوسکتی ہے۔ اس ایوان میں تو اپوزیشن کا بول بالا ہے۔ کانگریس اور ان کی ساری ساتھی پارٹیوں کی تعداد 99 بنتی ہے۔ 8 نامزد ہوتے ہیں اور 6 آزار ہوتے ہیں تو اگر ان کو بھی ملالیں تو تب بھی کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اپوزیشن کے کل ممبروں کی تعداد131 ہے اور ان میں ایسی پارٹیاں ہیں جو کسی بھی حالت میں حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتیں اس لئے راجیہ سبھا میں بھی سرکار اس بل کو آئینی درجہ نہیں دلوا سکتی۔ اس پورے معاملے کو کیسے دیکھا جائے؟ ایک نکتہ نظر سے سوائے دو تین نکات کے باقی میں تو کامیابی مل رہی ہے۔ جو کام پچھلے 40 سالوں میں نہیں ہوسکا وہ پہلی بار یہاں تک پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ٹھیک ہے کہ جس مقصد سے انا ہزارے نے اپنی تحریک چلائی تھی اس کا بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔ لوک سبھا میں نمبروں کے کھیل میں اگنی پریکشا کے بعد سرکاری لوکپال کی تصویر بدل چکی ہے۔ ترمیمات کے ساتھ راجیہ سبھا کی مہر کا جنتا کو بے صبری سے انتظار ہے۔ لوکپال اب نہ تو آئینی ادارہ ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے لوک آیکت کی تقرری ریاستوں کے لئے ضروری ہوگی۔ لوکپال میں ممبران کے خلاف شکایت پر کارروائی کو لیکر لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا چیئرمین کی رپورٹ کے تقاضوں پر سخت احتجاج کے بعد سرکار نے اسے واپس لے لیا۔ بدلے ہوئے تقاضوں کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف کسی شکایت کی جانچ شروع کرنے کیلئے 9 نفری لوکپال میں اب دو تہائی ممبروں کی رضامندی ضروری ہوگی۔ پہلے اس کے لئے تین چوتھائی ممبروں کی منظوری کی بات کہی گئی تھی۔ لوکپال بل کا ٹکراؤ کا سب سے بڑا نکتہ رہا لوک آیکت کی تقرری میں ریاستوں کے اختیارات پر قبضے کا۔ صوبوں میں لوک آیکت کے قیام کی پابندی ختم کر اسے متبادل بنانے کی بات بھی سرکار کو ماننی پڑی۔ لوکپال کے دائرے سے مسلح افواج کو بھی باہر کردیا گیا ہے۔ گویا 40 برسوں سے دیش کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہا لوکپال پر اب زیادہ اپوزیشن ٹکراؤ کے موڈ میں نظر نہیں آرہی ہے۔ وہ تو بھلا ہو انا ہزارے اور ان کے انشن کی تحریک کا کہ بدعنوانی پر پہلی بار عام آدمی کے تیور چڑھے اور لوکپال قانون عوام کی آواز کا حصہ بن گیا۔اب سرکار لوکپال بل راجیہ سبھا میں پاس کرانے کے بجائے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا سکتی ہے۔ یہ راستہ بھی سرکار کے لئے آسان نہ ہوگا کیونکہ ایک تو وہ آئینی طور طریقوں کا سوال کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے سرکار کی اتحادی پارٹیوں کی ناراضگی بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہ عجب ہے کہ خود حکمراں سرکار میں سانجھیدار سیاسی پارٹی لوکپال کے موجودہ شقوں سے متفق نہیں۔ ترنمول کانگریس کو اب لگ رہا ہے کہ یہ بل ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ کرنے والا ہے۔ لوکپال کو آئینی درجہ نہ حاصل ہوپانے کیلئے مخالف پارٹیوں میں ناراضی پیدا ہورہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں فریق کو پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا ان کی ساتھی پارٹیاں پوری طرح اس مسئلے پر ان کے ساتھ ہیں؟ لوک سبھا میں بحث کے رنگ دیکھ کر تعجب ہوا کے دیش کی بنیاد کھود رہے کرپشن کے خاتمے کو لیکر ہمارے جمہوری نظام کے سپریم ادارے اتنی کشیدگی میں کیوں ہیں؟ ایسی دلیلیں گڑھی جارہی ہیں۔ ایک اثر دار لوکپال ہماری جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو توانائی کرپشن کے خاتمے کے انتظام ڈھونڈنے میں لگنی چاہئے اسے انا کی سول سوسائٹی کو نشانہ بنانے میں کیوں خرچ کی گئی۔ یہ بھی تعجب ہوا کہ سخت ہدایات جاری کرنے کے باوجود حکمراں پارٹی کے دو درجن سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کیسے عین موقعے سے لوک سبھا سے غائب ملے اور اپنی ہی سرکار کی کرکری کروانے کے لئے ذمہ دار بنے۔ ان میں خود کانگریس کے قریب ڈیڑھ درجن ایم پی شامل ہیں۔ دیش جس اشو پر جل رہا ہے اس پر ہمارے نمائندے کیا اتنے غیر ذمہ دار ہیں کہ اسے لوک سبھا میں لوکپال بل پاس ہوجانے کا دباؤ کہیں یا پھر غیر متوقع حمایتیوں کی بھیڑ نہ جٹانے پانے کا اثر۔ بدھوار کو انا ہزارے نے اپنا انشن بیچ میں ہی توڑدیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے30 دسمبر سے ممبران پارلیمنٹ کے گھروں پر اپنا مجوزہ دھرنا اور جیل بھرو تحریک بھی ملتوی کردی۔ تحریک سے اس طرح پیچھے ہٹنے کو ٹیم انا کا حوصلہ ٹوٹنے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انا ممبئی میں تین دن کے انشن پر بیٹھے تھے۔ حالانکہ انہیں پہلے ہی سے بخار کی شکایت تھی لیکن وہ اپنے انشن کے فیصلے پر اڑے رہے۔ اس کے بعد کئی بار ان کی حالت کافی بگڑی اور ڈاکٹروں اور ساتھیوں نے ان کا انشن ختم کرانے کیلئے صلاح دی تھی لیکن وہ انکار کرتے رہے۔ بدھ کی شام انا نے اسٹیج پر آکر لوگوں سے خطاب کیا اور اسی دوران اپنا انشن توڑنے کا اعلان کیا۔ انا نے کہا ''سنسد میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ اب ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے ہم اب نیا پروگرام بنائیں گے اور ریاستوں میں جا کر کرپشن کے خلاف عوامی بیداری مہم چلائیں گے۔ لوگوں کو بتایا جائے گا کہ موجودہ حکومت نے کس طرح دیش کی جنتا کے ساتھ دھوکہ کیا ہے''۔ لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا اس کا ہمیں پہلے ہی سے اندازہ تھا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Parliament, Vir Arjun

بھاگوت گیتاپر پابندی کی تلوار ہٹی


Published On 30th December 2011
انل نریندر
روس میں مقیم ہندوؤں نے ایک بڑی قانونی لڑائی جیت لی ہے۔ روسی صوبے سائبیریا کے شہر تومس کی ایک عدالت نے ہندو دھرم گرنتھ شری مد بھاگوت گیتاکے روسی ایڈیشن پر پابندی عائد کرنے سے متعلق دائر عرضی کو خارج کردیا۔عدالت کے اس فیصلے سے روس سمیت دنیا بھر کے ہندوؤں اور ہندوستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑنا فطری ہی تھی۔ فیصلے سے خوش روسی ہندو کونسل کے چیئرمین اور اسکون کے لیڈر سادھو پریہ داس نے بتایا کہ چھ مہینے تک چلے قانونی داؤ پیچ کے بعد ہم جیت گئے۔ جسٹس نے گیتا پر پابندی عائد کرنے کے لئے دائر عرضی میں کہا گیا تھا کہ بھاگوت گیتا کے روسی زبان کے ایڈیشن میں تہذیبی تلخی بڑھانے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے تئیں نفرت پھیلائی گئی ہے اور گیتا کے روسی ایڈیشن کو ایک مشتعل مواد میں شامل کیا جائے۔ اس کو عدالت نے نہ مانتے ہوئے عرضی کو خارج کردیا۔ اسکون کی طرف سے دلیل دی گئی تھی کہ بھاگوت گیتا ہندو دھرم کی ایک مقدس کتاب ہے اور اس مترجم ایڈیشن میں بھکتی ویدان سوامی پربھو پت کی اپنی رائے ہیں۔ اسکون کے ممبران نے الزام لگایا کہ روس کا آرتھوڈکس چرچ عدالتی معاملے میں پیچھے ہے اور وہ ہماری سرگرمیوں پر پابندی چاہتا ہے۔ فیصلے پر وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ ہم اس حساس مسئلے پر ذمہ دارانہ طریقے پر اس حل کی قدر کرتے ہیں اور معاملے کے خاتمے کا خیر مقدم بھی۔ ان کا کہنا ہے بھارت روس میں اپنے سبھی دوستوں کی تعریف کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے یہ نتیجہ ممکن ہوسکا ہے اور اس معاملے میں اتحاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اور روس کے لوگوں کو ایک دوسرے کی تہذیب کی گہری سمجھ ہے اور ہمارے معاشرے کی سانجھہ اقدار کی اہمیت کو کم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہمیشہ خارج کریں گے۔ہم روس کی عوام اور روس کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس بلا وجہ کی بحث کو ختم کرنے میں انہوں نے ہماری مدد کی ۔جے شری کرشن۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Russia,

29 دسمبر 2011

مایاوتی کو رائٹ آف کرنا بھاری بھول ہوگی



Published On 29th December 2011
انل نریندر
اترپردیش اسمبلی چناؤ کی تاریخوں کے اعلان سے یوپی کی تمام اپوزیشن پارٹیوں میں جوش آگیا ہے۔ سب اپنی اپنی ہانکنے میں لگ گئے ہیں۔ حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو تو انہوں نے مان لیا ہے کہ وہ آنے والے چناؤ میں منہ کی کھا جائیں گی۔لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ مایاوتی کو ایک خاتمہ فورس مان کر چلنا سمجھداری ہوگی۔ اندازے بھلے ہی مایاوتی سرکار کے بارے میں انتظامیہ مخالف ماحول کے لگائے جارہے ہوں لیکن بنیاد پر بسپا اتنی کمزور نہیں ہے جتنی اسے کانگریس، سپا اور بھاجپا مان کر چل رہی ہیں۔ مایاوتی نے اپنی چناؤ تیاریاں ایک سال پہلے سے ہی شروع کردی تھیں۔ صوبے کی سبھی403 سیٹوں پر بسپا نے اپنے امیدوار ڈیڑھ سال پہلے ہی طے کردئے تھے یہ الگ بات ہے کہ بہن جی نے ان میں سے کچھ کو بعد میں بدلا ہے۔ کانگریس ، سپا اور بھاجپا کوتو اپنے امیدوار فائنل کرنے میں ہیں بھاری دقتیں آرہی ہیں اور ان میں بغاوت کی حالت بنی ہوئی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بہن جی اس بار ووٹروں کے سامنے اپنی کسی ناکامی کا بہانا نہیں بنا پائیں گی۔معجزہ پیش کرتے ہوئے ووٹروں نے 2007 کے چناؤ میں بسپا کو206 سیٹیں دے کر واضح اکثریت دلا دی تھی۔ اسی کے دم پر مایاوتی حکومت نے اپنی میعاد پوری کی ہے۔ جبکہ ان سے پہلے تین سرکاریں نہ صرف اپنی میعاد پوری کرپائیں بلکہ بھاجپا کی حمایت پر ٹکی رہیں۔ اس بار مایاوتی کو پورے پانچ سال تک کام کرنے کی کھلی اجازت ملی ہوئی تھی اس لئے وہ ووٹروں سے اپنے کام کی بنیاد پر ہی ایک اور موقعہ پانے کی اپیل کریں گے۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے بیشک راہل گاندھی اپنے مشن 2012 کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ یوپی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کی زیادہ پوزیشن ہوائی ہے۔2009 کے لوک سبھا چناؤ میں21 سیٹوں پر کامیابی مل جانے سے کانگریس یہ خوش فہمی میں بیٹھی ہے کہ یوپی کے ووٹر آنے والے 1989 سے پہلے کی مضبوط مینڈیڈ پوزیشن میں لادیں گے لیکن کانگریس اس سچائی کو نظر انداز کیسے کرسکتی ہے کہ 2009کے لوک سبھا چناؤ کے بعد جتنے بھی اسمبلی کے ضمنی چناؤ ہوئے ہیں ان میں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ کہیں دوسرے نمبر پر رہی تو کہیں تیسرے نمبر پر۔ شاید یہ جانتے ہوئے کہ پارٹی نے اجیت سنگھ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ان سے چناوی تال میل کیا اس تال میل سے اجیت سنگھ کی پارٹی کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ کانگریس کی پوزیشن تو وہیں کی وہیں رہنے کا امکان ہے۔ مایاوتی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مسلسل کانگریس پر حملے کررہی ہے۔دراصل وہ چاہتی ہیں کہ ووٹروں کو لگے کہ مقابلہ بس بسپا اور کانگریس کے درمیان ہے۔ بھاجپا اور سپا دونوں کو جان بوجھ کر مایاوتی نظر انداز کررہی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اصل ٹکر بسپا اور سپا کے درمیان ہوگی۔ پچھلے چناؤ میں بسپا کو206 ، سپا کو2 ، بھاجپا کو51، کانگریس کو22 راشٹریہ لوک دل کو 10 سیٹیں ملی تھیں۔ ملائم کو کمزور کرنے کے لئے مایاوتی اسی حکمت عملی پر چل رہی ہیں۔ مسلمان ووٹ یکمشت کسی کو نہ ملے۔ سپا سے ٹوٹ کر یہ یا تو ان کے ساتھ آیا تھا یا پھر کانگریس کے ساتھ چلا جائے۔ ویسے اس بار پیس پارٹی بھی اپنے دم خم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ یقینی طور سے وہ مسلمان ووٹوں پر منحصر کرے گی۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ مسلم ووٹ یکمشت کسی پارٹی کو شاید ہی ملیں۔ جہاں تک بسپا کے پختہ ووٹ بینک کا سوا ل ہے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کہیں اور جانے والا ہے۔''سرو جن ہتائے سرو جن سکھائے'' کا بہن جی کا نعرہ بھلے ہی بڑی ذاتوں کو راغب کرنے کے اندیشے سے اس بار اتنا کامیاب نہ رہے۔ دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات آج بھی ان کے ساتھ ہیں کیونکہ مقابلہ کثیر پارٹی ہوگا اس لئے جس کو بھی مسلم ووٹ یکمشت ملے گا وہی جیت جائے گا۔ لیکن ایک دو علاقے ہیں جہاں ضرور بسپا کمزور پڑرہی ہے۔ پہلا تو ان کی پارٹی میں زبردست کرپشن ہے، جس کے چلتے مایاوتی کو بہت سے وزرا اور موجودہ ممبران اسمبلی کے ٹکٹ اور کرسیاں چھیننی پڑی ہیں۔ اس سے انہیں نقصان ہوسکتا ہے۔ بسپا اپنی سرکار کی بدعنوانی کو معاملوں کی قراردے کر ہلکا کرنے کی کوشش میں ہے لیکن انا کی تحریک کا اتنا اثر ضرور ہوا ہے کہ آج پورے دیش میں ایک بدعنوان مخالف ماحول بن گیا ہے۔ بابا رام دیو بھی اس بار یوپی میں دبا کر پرچار کریں گے۔ اس کا خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ کل ملاکر بہوجن سماج پارٹی بیشک آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے سرکار اپنے بوتے پر نہ بنا سکے لیکن اس میں ہمیں تو کوئی شبہ نہیں بسپا یوپی اسمبلی چناؤ2012 میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے گی۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Mayawati, RLD, Samajwadi Party, Vir Arjun

ماتا ویشنودیوی کی بڑھتی مہما:ایک کروڑ افراد کریں گے درشن



Published On 29th December 2011
انل نریندر
ماتا ویشنو دیوی کی آستھابڑھتی جارہی ہے۔حالانکہ یہ سفر آسان نہیں لیکن اس سے ماتا کے بھکتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ شمالی ہندوستان کا یہ یقینی طور سے سب سے بڑا تیرتھ استھل بن گیا ہے۔2011 میں یہاں شردھالوؤں کی تعداد ایک کروڑ کو پار کر گئی۔ حالانکہ ویشنو دیوی بور ڈ کو پچھلے سال یہ تعداد پارکرنے کی امیدتھی لیکن یہ تعداد87 لاکھ افراد کے ریکارڈ پر ہی تسلی کرنا پڑی لیکن اس سال یہ تعداد 31 دسمبر تک ایک کروڑ تک پار کرلے گی۔ یہ تب ہے جب اس وقت کشمیر کے ساتھ ساتھ کٹراور ویشنودیوی میں کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے۔ سال کے آخری ہفتے میں اتنی بھیڑ تو ہوتی ہے شردھالوؤں کے لئے رہنے کی جگہ کم پڑ جاتی ہے۔بیشک بورڈ نے سارے راستے بھاری انتظام کئے ہوئے ہیں لیکن پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب انتظامی مشکلیں تو آتی ہی ہیں۔ بھاری سردی، بارش کے سبب پھسلن بھی ماتا کے بھکتوں کے قدم نہیں روک پا رہی ہے۔ یہ اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ ابھی بھی یومیہ 15 سے16 ہزار شردھالو درشن کے لئے آرہے ہیں۔ ویسے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے حکام کو سردی کی چھٹیوں میں اس بھیڑ میں اضافہ ہونے کی امید ہے اور اسی امید کے ساتھ یہ بھی امید بندھ گئی ہے کہ اس یاترا کا نیا ریکارڈ بنے گا۔ ویسے تو یہ ریکارڈ پچھلے سال ہی بن جاتا لیکن پچھلے سال وادی میں بدامنی ، پتھر بازی وغیرہ کے واقعات سے شردھالو بہت ڈرے ہوئے تھے اور یہ نہیں سمجھ پائے کہ کشمیر وادی کے حالات کا کٹڑا ویشنو دیوی پر اثر نہیں پڑتا۔ پھر کئی بار یہ وارننگ بھی دی گئی کہ ویشنو دیوی آتنکیوں کے نشانے پر ہے۔ اس وارننگ نے بھی شردھالوؤں کے بڑھتے قدموں کو روکا۔ لوگوں نے اپنی طے یاترا منسوخ کردیں۔ لیکن اس سال ایک کروڑ شردھالوؤں کی تعداد پار کرنے سے شرائن بورڈ میں کافی جوش ہے اور ہونا بھی چاہئے مسافروں کی سہولت میں ہمیشہ بہتری پر گامزن شرائن بورڈ نئی نئی اسکیمیں لا رہا ہے ان میں ایک ہے کٹڑا بیس کیمپ۔کٹڑا بیس کیمپ سے لیکر ویشنو دیوی بھون اور بھون سے لیکر بھیرو وادی تک ٹرالی کی اسکیم پرکام چل رہا ہے۔ اس سے ان مسافروں کو سہولت ہوجائے گی جو عمر یا بیماری کی وجہ سے پہاڑ پر نہیں چڑھ سکتے۔ اس کے ساتھ ہی کٹڑا سے لیکر بھون تک کے13 کلو میٹر کے راستے پر سہولیات کو بڑھایا جارہا ہے۔ دراصل بڑھتی بھیڑ کے سبب ہر بار شرائن بورڈ کے انتظامات کم پڑ جاتے ہیں۔ خاص کر گرمیوں کی چھٹیوں، نوراتروں میں بھیڑ کے سبب بورڈ کے افسران کو ہر بار شرمندہ ہونا پڑتا ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ شرائن بورڈ کی تمام کوششوں کے باوجود بھکتوں کی شکایتیں اب بھی برقرار ہیں۔ سب سے زیادہ شکایتیں بھکتوں کی پوتر گپھا کے اندر ماتا کی پنڈیوں کے درشن ملنے کے وقت پر منحصر ہیں۔ بھاری بھیڑ بھاڑ کے سبب پنڈت انہیں اتنا بھی وقت ماتا کے دربار کے سامنے نہیں دیتے کہ وہ اپنے دل کی مراد سامنے رکھ سکیں۔ اس لئے کچھ بھکت تو گپھا میں گھستے ہی اپنی مراد مانگنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن پنڈوں کو بھی قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جب بھکتوں کی بھیڑ اتنی زیادہ ہوجائے گی تو انہیں جلد بازی کرنی ہی پڑتی ہے۔ کچھ برس پہلے سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں ماتا ویشنو دیوی قیام بورڈ کے سرکاری ادارہ ہونے کا دعوی کرنے والی ایک خصوصی اجازت عرضی کو خارج کردیا۔ اس کے بعد اب ویشنو دیوی قیام بورڈ ایک غیر سرکاری تنظیم بن گئی ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی عرضی نہیں داخل کی جاسکتی۔جے ماتا دی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Jammu Kashmir, Mata Vaishno Devi, Vir Arjun

28 دسمبر 2011

لندن پیرس سے بھی زیادہ ٹھنڈ دہلی میں


Published On 28th December 2011
انل نریندر
دہلی کے شہریوں کو لگ رہا تھا کہ اس سال دہلی میں سردی اتنی نہیں پڑے گی جتنی پڑتی ہے۔ لیکن دیر سے ہی صحیح جب ٹھنڈ اپنے رنگ میںآئی تو اس نے سارے ریکارڈ توڑ دئے۔ گذرتے سال میں اگر آپ لندن ،پیرس یا نیویارک گئے ہوں تو اپنی یادیں تازہ کرلیں۔ اس سال نیا سال منانے کے لئے آپ کو لندن، پیرس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ دہلی میں لندن، پیرس و نیویارک سے زیادہ سردی ہے۔ وہاں گئے بغیر آپ دہلی میں ہی یوروپ کا مزہ اٹھا سکتے ہیں۔ دراصل سورج غروب ہوتے ہی اپنی دہلی بھی انہی شہروں کی طرح ٹھنڈی ہوتی جارہی ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں ایتوار کو کم از کم درجہ حرارت 2.9 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔ پچھلے 10 سالوں میں دہلی میں سردی کا یہ ریکارڈ ہے۔ دہلی کا کم از کم درجہ حرارت لندن اور پیرس سے بھی کم ہوگیا۔ ان دونوں شہروں میں کم از کم 4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رہا۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں کا زیادہ تر درجہ حرارت دہلی کی بہ نسبت کم ہوتا ہے۔ لندن میں یہ 7 اور پیرس میں11 ڈگری سیلسیس رہا اس کی وجہ وہاں کی راتیں تو سرد ہیں لیکن دن میں یہ راحت ملنے والی نہیں۔ دہلی میں تو کم سے کم تھوڑی راحت ہے کہ دن کا درجہ حرارت یہاں 19 سے 20 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے۔ ہاں دہلی کے شہریوں کے لئے تھوڑے سکون کی بات یہ ضرور رہی کہ ان دنوں کہرے کا زور اتنا نہیں جتنا گذشتہ برسوں میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ دن میں سوریہ دیو کے درشن ہوجاتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ دن کا درجہ حرارت زیادہ ہے یعنی دن میں مزے کی دھوپ سینکئے اور تیار ہوجائے رات میں لندن پیرس کا مزہ اٹھانے کے لئے ۔ یہ سلسلہ اور کتنے دن چلتا ہے دیکھئے۔ دلچسپ اور عجب بات تو یہ ہے کہ نارتھ انڈیاکے میدانی علاقے میں پہاڑوں سے بھی زیادہ سردی پڑ رہی ہے۔ مثال کے طور پرراجستھان کے چورو میں ایتوار کو درجہ حرارت 1.4 ڈگری تھا۔ ہریانہ کے جھجھر میں 0.3 اور حصار میں 0.0 تھا جبکہ امرتسر میں یہ 0.6 رہا۔ ادھر ہماچل کے شملہ میں 6 ڈگری درجہ حرارت تھا۔ نینی تال میں بھی 6 ڈگری اور مسوری میں 4.3 رہا۔اگر ہم یوروپ کی بات کریں تو روم میں 8، لندن میں 7، پیرس میں 5، برلن میں 2 ڈگری سیلسیس رہا۔ موسم کی بھی عجب بازی گری ہے جہاں کرسمس میں برف کی امید ہوجاتی ہے وہاں درجہ حرارت اوپر چڑھ رہا ہے۔ اس کے برعکس ہریانہ کے جھجھر کے کھیتوں میں برف کی دو سینٹی میٹر موٹی پرت جم گئی تھی۔ تقریباً پورے شمالی ہند میں مسلسل سرد ہواؤں سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔سردی کی وجہ سے 131 لوگ مر چکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی ٹھنڈ سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ ماؤنٹ آبومیں تو ٹھنڈ نے تو 75 سال پرانا ریکارڈ توڑدیا ہے۔ یہاں درجہ حرارت0 سے 4.3 ڈگری نیچے آگئے۔ اس سے یہاں مکانوں کی کھڑکیوں ، کاروں اور شیشوں ، پیڑ کی پتیوں اور جھیل میں برف کی چادر چڑھ گئی ہے۔ لداخ کے لیہہ میں بھی اس موسم کا سب سے سرد ترین دن رہا یہاں0 سے18.2 ڈگری درجہ حرارت نیچے رہا۔ گلمرگ ،پہلگام میں کم از کم درجہ حرارت0 سے8.4 اور 7.4 ڈگری سیلسیس نیچے رہا۔ اترپردیش میں کانپور سب سے ٹھنڈا رہا جہاں درجہ حرارت0.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے 24 گھنٹے میں آگرہ میں کم از کم درجہ حرارت1 ڈگری رہا جو عام 7 ڈگری سے کم تھا۔ راجدھانی لکھنؤ کا درجہ حرارت2.9 ڈگری، فیض آباد میں 3.3 ، گورکھپور میں 4.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ کیا یہ گلوبل وارمنگ کا اثر ہے؟ اس حساب سے وہ دن بھی آسکتے ہیں جب دہلی میں برف پڑنے لگے گی۔
Anil Narendra, Cold Wave, Daily Pratap, India, London, Paris, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...