Translater

16 دسمبر 2025

چناؤاصلاحات پر بحث !

چناؤ اصلاحات پر سڑک سے پارلیمنٹ تک بحث چھڑی ہوئی ہے۔شاید یہ ضروری بھی تھا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ویسے بھی دیش کو 12 ریاستوں و مرکزی حکمراں پردیشوں میوں ووٹر لسٹوں کی گہری نظر ثانی تیز رفتار سے جاری ہے۔لیکن یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ اتنی تیزی سے اس پر سیاست بھی ہورہی ہے ۔لوک سبھا میں چناؤ اصلاحات کے مسئلے پر بدھ کے روز وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کے ذریعے ووٹ چوری معاملے کے جواب میں جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کا بھی نام لیا اور اپنی بات رکھی۔اور الزام لگایا کہ انہوں نے جھوٹ پھیلایا ہے اور دیش کی جنتا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔امت شاہ نے کہا ایس آئی آر ووٹر لسٹ کا شدھی کرن ہے تاکہ جن کی موت ہوگئی ان کے نام کٹ جائیں اور جو 18 سال سے بڑے ہیں ان کے نام ووٹر لسٹ میں جڑ جائیںجو دو جگہ ووٹر ہے ان کے نام ایک جگہ سے کٹ جائیں اور جو غیر ملکی شہری ہے ان کو چن چن کر ووٹر لسٹ سے ہٹایاجا ئے ۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی بھی دیش کی جمہوریت تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب دیش کا وزیراعظم اور راجیہ کا وزیراعلیٰ کون ہو یہ گھس پیٹھیے طے کریں گے ۔ایس آئی آر سے کچھ پارٹیوں کے سیاسی مفادات کو چوٹ ہوتی ہے۔فیصلہ کرنا پڑے گا کہ دیش کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو چننے کے لئے غیر ملکیوں کو ووٹ دینے کا حق دینا ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد راہل گاندھی کھڑے ہوئے اور امت شاہ سے پوچھا کہ ہندوستان کی تاریخ میں چناؤ کمشنروں کو پوری طرح معافی دی جائے گی اس کا جواب دیں۔ ہریانہ کی ایک مثا ل انہوں نے ’’وزیر داخلہ امت شاہ ‘ ‘ کو دی۔اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے کئی اہم سوال اٹھائے اس دوران انہوں نے ایس آئی آر کا نام لیا ۔راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ یکساں جذبہ ایس آئی آر کو دقت ہے ۔سنگھ نے پبلک اداروں پر قبضہ کرلیا ہے اس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انہوں نے ٹوکا اور کہا کہ چناؤ اصلاحات پر بحث کیجئے ۔ لیڈر آف اپوزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ بھی بولو۔راہل گاندھی نے بحث کی شروعات کھاید سے کی انہوں نے کہا ہمارا دیش ایک فیبرک کی طرح ہے کپڑا کئی دھاگوں سے بنتا ہے ویسے ہی ہمارا دیش بھی کئی طرح کے لوگوں سے مل کر بنا ہے ۔دیش کے سارے دھاگے ایک جیسے اور اہم ہیں ۔دیش کے سبھی لوگ برابر برابر ہیں۔راہل گاندھی نے کہا ووٹ کے لئے دیش کے پبلک اداروں نے حکمراں پارٹیوں نے قبضہ کر لیاہے ۔اسی جیسے سی بی آئی ،ای ڈی سب پر قبضہ کر لیا ہے ۔راہل گاندھی نے چناؤ کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ سے ملا ہوا ہے ۔ہم نے اس بات کے ثبوت بھی سرکار کو دیے ۔سرکار اسی کا استعمال کررہ ہے ۔راہل گاندھی نے کہا چناؤ کمشنر منتخب کرنے کی کاروائی کو کیوں بدلا گیا ؟ اسی کاروائی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کیوں ہٹایاگیا ؟ کیا سرکار کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر بھروسہ نہیں ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ کے اشاروں پر چلتا ہے ۔حکمراں فریق ہی چناؤ کمیشن کو چلارہا ہے ۔راہل گاندھی نے برازیل کے ماڈل کا بھی ذکر کیا انہوں نے کہا کہ برازیل کا ماڈل کا نام 22 بار ووٹر لسٹ میں آیاہے۔ایک عورت کا نام 200 بار ووٹر لسٹ میں آیا ہے ۔چنا ؤ کمیشن کو سی سی ٹی وی فوٹیج ضائع کرنے اور کنٹرول کا مطلب کیا ہے۔اور کیوں اس فوٹیج کو کچھ وقت بعد ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ؟ فوٹیج ضائع کرنے کی طاقت کیوں دی گئی ؟ چناؤ کمشنروں کو سزا کی سہولت کو کیوں ہٹایاگیا ۔ہریانہ چناؤ کا ذکرکرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہریانہ کا چناؤ ووٹ چوری سے کیا گیا ۔اورجہاں تک چناؤ کمیشن کا سوال ہے تو اسے اٹھ رہے سوالوں کا جواب دینا ترجیح ہونا چاہیے ۔شفافیت کی سب سے بڑی ذمہ داری چناؤ کمیشن پر ہے ۔چناؤ آج سے دو دہائی پہلے کیسے ہوا کرتے تھے اس سے زیادہ ضروری ہے کہ اب جو چنا ؤ ہوں سوالوں سے پرے ہوں ۔جمہوریت کے اصلی مالک و محافظ ووٹر ہیں جنتا ہے ۔اس کا چناؤ پروسیس پر پورا بھروسہ ہونا چاہیے یہی بھارت کی جمہوریت کی بنیاد ہے ۔ (انل نریندر)

11 دسمبر 2025

ہمایوںکبیر نے رکھی بابری مسجد کی بنیاد!

مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کے ریزی نگر میں سنیچر کے روز بابر ی جیسی مسجد کی بنیاد رکھی گئی ۔ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ عرف مسجد ڈھانے (چھ دسمبر 1992 کی برسی پر منعقدہ پروگرام میں تمام مولوی موجود رہے۔بابری مسجد بنوانے کے اعلان کے سبب ترنمول کانگریس سے معطل ممبر اسمبلی ہمایوں کبیرنے اس کا سنگ بنیاد کیا ۔انہوں نے مرشد آباد ضلع میں بیل ڈانگر سے لگے علاقہ میں سینکڑوں حمایتیوں کے ساتھ علامتی طور پر فیتا کاٹ کر مسجد کی بنیاد رکھی ۔ہمایوں کبیر مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کی بھرت پور سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں ۔وہ پچھلے کئی دنوں سے دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ چھ دسمبر کو وہ بھرت پور کے بیل ڈانگہ میں بابری مسجد بنوانے کے لئے بنیاد رکھیں گے ۔ان کے حمایتی اور دیگر لوگ صبح سے ہی سر پر اینٹ رکھ کر تعمیراتی جگہ پہنچنے لگے تھے ۔ہمایو ں کبیر نے تعمیراتی جگہ سے ایک کلو میٹر دور بنے اسٹیج پر مولویوں کی موجودگی میں فیتا کاٹ کر تقریب کے دوران اللہ اکبر کے نعرے لگائے ۔اس موقع پر سعودی عرب کے علماء بھی موجود تھے۔اس دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کے اندیشہ کود یکھتے ہوئے ریجو نگر اور نلڑی بیل ڈانگہ علاقہ میں پولیس ، آر اے ایف اور مرکزی فورسز کی کچھ ٹکڑیاں تعینات کی گئی تھیں جنہوں نے علاقہ میں فلیگ مارچ کیا ۔بنیاد رکھنے کے بعد خبر رساں ایجنسی سے بات چیت میں ہمایوں کبیر نے کہا کہ ایک سال پہلے میں نے اعلان کیا تھا کہ مرشد آباد کے بیل ڈانگہ میں ایک نایاب بابر ی مسجد بنانی ہوگی ۔اور مسجد کے ساتھ ساتھ اسلامی ہاسپٹیل ، میڈیکل کالج ،ہوٹل ،ریستوراں ،پارک اور ہیلی پیڈ بنانے کی اسکیم ہے ۔یہ 300 کروڑ روپے کا پروجیکٹ ہے ۔اس مسجد کی بنیاد رکھے جانے سے پہلے بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ ترنمول کانگریس فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے۔بی جے پی نیتا امت مالویہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ، وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سیاسی فائدے کے لئے مسلمانوں کو پولرائز کے لئے اس ممبر اسمبلی کا استعمال کررہی ہے وہ آگ سے کھیل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیل ڈانگہ سے آرہی رپورٹوں نے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے ۔مالویہ نے دعویٰ کیا کبیر کے حمایتیوں کو اس عمارت کی تعمیر کے لئے اینٹیں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔جسے انہوں نے بابر ی مسجد بتلایا ہے ۔وہیں ٹی ایم سی نیتا سیونی بھوش نے کہا کہ بی جے پی کو ہمارا ایک ہی پیغام ہے کہ کھیلاہووے ،2026 میں ممتا بنرجی چوتھی بار مغربی بنگال کا اقتدارسنبھالیں گی ۔کیوں کہ مغربی بنگال کی جنتا ان کے ساتھ ہے اور وہ اب تک کے سب سے بڑے جنادیش میں سے ایک بار پھر جیت حاصل کرنے جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کوئی بھی مندر بنا سکتا ہے کوئی بھی مسجد بنا سکتا ہے ۔لیکن اگر اس کے پیچھے کسی کی منشا یہاں مذہبی نفرت اور سورش پھیلانے کی ہے تو سب جانتے ہیں کہ انہیں بی جے پی سے پیسہ مل رہا ہے ۔اور بی جے پی انہیں مغربی بنگال میں حالات بگاڑنے کے لئے اکسا رہی ہے ۔62 سالہ ہمایوں کبیر نے سیاست کا آغاز کانگریس پارٹی سے کیا تھا او ر سال 2012 میں کانگریس سے اسمبلی چناؤ جیتنے کے ایک سال بعد ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے تھے۔2015 میں کبیر کو ٹی ایم سی سے باہر کا راستہ دکھا یا گیا ۔انہوں نے کہا وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اپنے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو راجہ بنانا چاہتی ہیں بھاجپا نیتاؤں نے اسے ووٹ بینک کی سیاست بتاتے ہوئے ہمایوکبیر کی گرفتاری تک کی مانگ کر ڈالی ۔بھاجپا نیتا سکانت مجمومدار نےکہا کہ ممتا 15 برسوں سے خوشامدی اور فرقہ وارانہ سیاست کرتی آرہی ہیں ۔مگر سچ میں یہ نہیں چاہتی کہ بابری مسجد بنے تو انہیں ہمایو کبیر کو گرفتار کرنا چاہیے تھا ۔ٹی ایم سی نے جواب میں کبیر پر بھاجپا اور آر ایس ایس کے ساتھ ملی بھگت کرکے حالات بگاڑنے کی کوشش کا الزام لگایا ۔مغربی بنگال اسمبلی چناؤ جیسے جیسے قریب آرہے ہیں روز نئی نئی باتیں سننے کو ملیں گی ۔ (انل نریندر)

09 دسمبر 2025

کیا یہ سنکٹ جان بوجھ کر بنایا گیا؟

دیش کی سب سے بڑی ائر لائن انڈیگو میں پچھلے کچھ دنوں سے بھاری بدنظمی کا سامان کررہی ہے ۔ایک طرف اڑانوں کا وسیع پیمانہ پر منسوخ ہونا تو دوسری طر ف آسمان چھوتے مسافر کرائے نے مسافروں کی ناک میں دم کر دیا ہے ۔ایئر لائن نے ذمہ داری نئے ایف ڈی ٹی ایل ( فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن ) قواعد پر ڈالی ہے ۔لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیگو کے پاس تیاری کے لئے درکار وقت تھا۔اس کی وجہ یہ الزام بھی سنگین ہو گیا ہے کہ ایئر لائن نے قواعد میں ڈھیل پانے کے لئے سرکار پر دباؤ بنانے کا راستہ چنا ۔ایویشن ماہرین کے مطابق اس بحران کی جڑ جنوری 2024 میں دائر اس عرضی میں ہے جس میں پائلٹ یونین نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے تھکان اور لمبی ڈیوٹی کو سنگین سیکورٹی خطرہ بتایا تھا ۔کورٹ کی ہدایت کے بعد ڈی جی سی اے نے ایف ڈی ٹی ایل قواعد میں تبدیلیاں کیں اور انہیں ایک جولائی 2025 سے لاگو کر دیا ۔ان قواعد میں پائلٹوں کو ہفتہ وار چھتیس گھنٹے کے بجائے 48 گھنٹے کا ضروری آرام دیا ۔اور کسی بھی چٹھی کو ویکلی ریسٹ ماننے سے روک لگا دی ۔نومبر 2025 میں اس کا دوسرا مرحلہ لاگو ہوا ، جس میںلگاتار نائٹ شفٹ پر بڑی پابندی لگا دی گئی۔انہیں تبدیلیوں کا اثر انڈیگو پر سب سے زیادہ پڑا ۔12 دسمبر کو دہلی ،ممبئی اور بنگلورو جیسے بڑے ہوائی اڈوں پر اڑانیں غیر ریگولر ہونا شروع ہوئیں۔اور آن ٹائم پرفارمنس گر کر 35 فیصد پر آگئی ۔3 دسمبر کو یہ حالت اور بگڑی اور آپریشن پرفارمنس 19.7 فیصد تک گر گئی ۔4 دسمبر کو حالات تقریباً ٹھپ ہو گئے ۔قریب 800 اڑانیں منسوخ کرنی پڑیں اور او ٹی پی صرف 8.5فیصد پر رہ گیا ۔کئی روٹس پر ٹکٹ کا کرایہ 10 ہزار سے بڑھ کر 40 ہزار 50 ہزار دیکھا گیا ۔کیا یہ مسئلہ منوپولی کی وجہ سے ہوا؟ سال 2006 کے اگست میں دہلی ،ممبئی کے بیچ اڑان سے شروع ہوئی انڈیگو کی کہانی اور اس موڑ پر آجائے گی تب راہل بھاٹیہ اور راکیش گنگوال نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا جنہوں نے 2005 میں انڈیگو کو مالک انٹر گلوبل انٹر پرائز کی بنیاد رکھی تھی ۔آج بھارت کے جہاز رانی مارکیٹ میں انڈیگو سب سے بڑی کھلاڑی ہے اور اس کے پاس قریب 64 فیصدی حصہ داری ہے اب یہی بڑھا قد اس کی ہزاروں اڑانیں کینسل ہونے اور مسافروں کو ہوئی بے شمار پریشانیون کے چلتے سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔پارلیمنٹ میں انڈیگو کی قیمت منوپلی یعنی ایک طرفہ سوال اٹھے ۔راہل گاندھی نے کہا کہ اس بحران کے لئے مرکزکی منوپلی ماڈل ذمہ دارہے ۔جہاز رانی سیکٹر کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ ہوا یہ جان بوجھ کرکیا گیا یا بنایاگیا ۔اس بحران سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک منوپلی کمپنی جب چاہے دیش کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتی ہے ۔سرکار نے ایئر انڈیا کو پیچھے دھکیل کر انڈیگو کو ایک طرفہ حق دے دیا جس سے وہ جہازی سیکٹر میں من مرضی کر سکے جو کچھ ہوا ہے اس میں یہ ساکھ بنی کہ کوئی ایک بڑی کمپنی بھارت میں جہازرانی قواعد میں تبدیلی کروا سکتی ہے لہذا اس واقعہ سے کسی ایک کمپنی نہیں بلکہ دیش کے پورے جہازرانی سیکٹر کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ایویشن سیفٹی فرم کونسلنگ کے سی ای او ماک ڈی مارٹن نے کہا کہ ایک طرف اختیار بڑی وجہ ہے ۔جس طرح سے یہ معاملہ ہوا ہے اس سے دنیا بھر میں یہ پیغام گیا ہے کہ بھارت میں ایویشن ریگولیشن میں دم نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

06 دسمبر 2025

عمران خان زندہ ہیں!

جی ہاں عمران خان زندہ ہیں یہ دعویٰ کیا ہے عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے ۔بتادیں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ اندیشہ جتایاجارہا تھا کہ عمران خان کو جیل میں قتل کردیا گیا ہےاور اسے چھپایاجارہا ہے ۔عمران خان کے خاندان والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ادیال جیل میں بند عمران خان کوتقریباً ایک ماہ سے سابق وزیراعظم اور ان کے بھائی عمران کو کسی سے ملنے نہیں دیاجارہا ہے۔آخر کار عمران کے کنبہ اور ان کے حمایتیوں کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے عمران خان کی بہن کو اپنے بھائی سے جیل کے اندر ملنے کی اجازت دے دی گئی ۔پی ٹی آئی کے ایک ترجمان اور ادیالہ جیل کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات چیت میں اس کی تصدیق کی ہے کہ عظمیٰ خاں کو عمران خان سے ملنے کی اجازت مل گئی ہے ۔منگل کے روز جب عمران خاں کی تین بہنیں علیمہ خانم ، نورین نیازی اور عظمیٰ خاں ملاقات کے لئے ادیالہ جیل کے پاس پہنچی تو وہاں تعینات پولیس حکام نے انہیں راستے میں روک دیا تھا۔حالانکہ کچھ دیر بعد جیل حکام نے ایک افسر کے عمران خاں کی بہنوں کے پاس بھیجا اور میسج دیا کہ ملاقات کے لئے عظمیٰ خاں کے نام پر منظوری مل گئی ہے ۔ادیالہ جیل میں 20 منٹ کی ملاقات کے بعد عظمیٰ جب باہر آئیں تو انہوں نے اخبار نویسوں سے اپنے بھائی کے حال چال کے بارے میں بتایا ۔عظمیٰ خاں نے بتایا کہ وہ عمران خان بڑے غصہ میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہمیں یہ جیل میں مینٹل ٹارچر کررہے ہیں سارے دن ایک کمرے میں بند رکھتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے باہر جانے دیتے ہیں۔کسی سے کوئی بات چیت کی اجازت نہیں ہے جو سب کچھ ہورہا ہے اس کے لئے پاکستانی فوج کے فوجی سی ڈی ایس عاصم منیر ذمہ دار ہیں ۔اس کے ساتھ ہی عظمیٰ خاں نے بتایا کہ ان کی بس 20منٹ کے لئے بات چیت ہو پائی اور ان کی عمران کی صحت بالکل ٹھیک ہے اس سے پہلے ان کے گھر والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں تقریباً چھ ماہ سے پہلے سابق پردھان منتری سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔سرکاری افسر نہیں چاہتے کہ عمران خاں کو کوئی بھی پیغام جیل سے باہر آئے ۔بی بی سی سے ایک انٹرویو میں عمران خاں کی بہن نورین خاں نے الزام لگایا کہ انہیں سرکاری حکام ( کو بس اس بات کی فکر ہے کہ عمران خاں کی باتیں باہر بتائی جارہی ہیں اس لئے انہوں نے ملنا ملانا پوری طرح سے بند کر دیا ہے ۔عمران کی بہنوں کا کہنا ہے کہ پہلے وہ کورٹ کے حکم کے مطابق ہر منگل کو اپنے بھائی سے ملنے جایاکرتی تھیں لیکن عمران سے ان کی آخری ملاقات 4 نومبر کو ہوئی تھی۔نورین خاں نے مزید یہ بھی الزام لگایا پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ عمران خاں سے 9 مئی کی ذمہ داری قبول کریں کہ وہ 9 مئی کو توڑ پھوڑ کروائی تھی انہوں نے ہی اپنے لوگوں کو گولی ماری ۔نورین خاں کے مطابق عمران نے جواب دیا تھا کہ آپ سی سی ٹی وی فوٹیج نکال لیں چھاونی کے اندر چیک پوسٹ ہے فوج کی نظر میں آئے بغیر یا کیمرے میں قید ہوئے بنا یہاں اندر نہیں جاسکتا ۔گھر والوں سے ملنے کی اجازت نہ ملنے کی خبروں پر جیل کے حکام کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی امور کے مشیر ثناء اللہ نے الزام لگایا کہ عمران خاں جیل میں بیٹھ کر بد امنی اور بے نظمی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے نیوز ٹی وی کو ایک پروگرام میں مانا کہ قانون ایک قیدی کو اس کے گھر والوں یا وکیلوں سے ملنے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن ایسا کوئی قانون میں نہیں لکھا ہے کہ کسی قیدی کو سرکار کے خلاف بدا منی یا بغاوت یا بد انتظامی ، تحریک یا آگ زنی کی اجازت دے ۔ادھر نورین خاں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے عمران خاں کے ساتھ کچھ کیا تو یاد رکھیں کہ وہ نا پاکستان میں رہنے کے قابل ہوں گے اور نہ ہی دنیا کے کسی کونے میں ۔ (انل نریندر)

02 دسمبر 2025

چناؤ کمیشن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں!

یہ کہنا ہے ترنمول کانگریس کے اس نمائندہ وفد کا جو چناؤ کمیشن کی پوری بنچ کے ساتھ دو دن پہلے ملا تھا ۔مغربی بنگال میں جاری ووٹر لسٹ نظر ثانی پروسیس کے درمیان ، ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن کی سربراہی میں پارٹی کے دس ممبری نمائندہ وفد نے چناؤ کمیشن سے ملاقات کی ۔اوبرائن نے میٹنگ کے بعد کہا کہ پارٹی نے چناؤ کمیشن کے سامنے پانچ سوال اٹھائے لیکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ترنمول کے ممبران کا کہنا تھا کہ اگر ایس آئی آر کا مقصد فرضی ووٹروں اور دراندازوں کا پتہ لگانا ہے تو پھر بنگال ہی کیوں ؟ ،میگھالیہ اور تریپورہ میںکیوں نہیں؟ جبکہ ان ریاستوں کی سرحدیں بھی بنگلہ دیش سے ملتی ہیں ۔حالانکہ ترنمول کانگریس ممبران پارلیمنٹ کی بات سننے کے بعد چناؤ کمیشن نے صاف کیا کہ ایس آئی آر سبھی ریاستوں میں ہونے ہے ۔ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ ہم ایس آئی آر کے آئینی جواز پر سوال نہیں اٹھارہے ہیں بلکہ اس کے طریقہ پر اٹھا رہے ہیں ۔جس طریقہ سے جلد بازی میں اسے نافذ کیا جارہا ہے اس پر اعتراض ہے ۔ایس آئی آر کے لئے انہوں نے وقت بڑھانے کے لئے مانگ کی تھی ۔ترنمول کانگریس کے نمائندہ وفد نے جب جمعہ کو چناؤ کمیشن کی پوری بنچ سے ملاقات کی تو انہوں نے کھل کر الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے سبب کم سے کم چالیس لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں ہم نے پانچ سوال اٹھائے اور چناؤ کمیشن نے ایک گھنٹے تک بنا رکے ہم سے بات کی ۔جب ہم بول رہے تھے تب ہمیں بھی نہیں روکا گیا لیکن ہمارے پانچ سوالوں سے کسی کا جواب نہیں ملا ۔لوک سبھا ایم پی مہوا موئترا نے بتایا کہ نمائندہ وفد نے چیف الیکشن کمشنر نے مل کر انہیں چالیس ایسے لوگوں کی فہرست دی جن کی موت مبینہ طور پر ایس آئی آر پروسیس سے وابستہ تھی ۔حالانکہ انہون نے کہا چناؤ کمیشن نے انہیں صرف الزام کہہ کر خارج کر دیا ۔ممبران پارلیمنٹ کی چناؤ کمیشن سے قریب 40 منٹ میں کلیان بنرجی ،مہوا موئترا ،ممتا بالا ٹھاکر نے اپنی باتیں رکھیں ۔اور جو کہنا تھا وہ انہوں نے کہہ ڈالا انہوں نے کہا اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے ایک گھنٹے بغیر رکے ان سے بات کی ۔جب ہم بول رہے تھے تب ہمیں بھی نہیں ٹوکا گیا لیکن ہمیں ہمارے پانچ سوالوں میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہیں ملا ۔ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے کو لیکر تنازعہ بڑھتا جارہا ہے ٹی ایم سی ممبران کے سوالوں کا تشفی بخش جواب نہ دینا اس پروسیس کے جواز اور منصفانہ پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔ایس آئی آر سے جڑے شک و شبہات کا دور نہ ہونا اچھا اشارنہیں ہے ۔ایس آئی آر کے سیاسی پہلو کو سمجھا جاسکتا ہے ۔خاص کر بنگال میں جہاں بی جے پی اور ترنمول کی سخت مقابلہ ہونے کا اندازہ ہے لیکن اس سے جڑی تشویشات کو بھی مسترد نہیں کر سکتے ۔ایس آئی آر کے جواز پر کوئی سوال نہیں ہے اور نہ ہی چناؤ کمیشن کے اختیار پر ۔سپریم کورٹ بھی یہ بات کہہ چکا ہے حالانکہ اپوزیشن کی تشویشات کو دور کرنا ہی چناؤ کمیشن کی ہی ذمہ داری ہے ۔اپوزیشن کو اگر ادارے کو نہ صرف ان کا تسلی بخش جواب دینا ہوگا ۔بلکہ آزادانہ اور منصفانہ چناؤ پروسیس بھی اپنانا ہوگا ۔ (انل نریندر)

29 نومبر 2025

ایک بار پھر سرخیوں میں افغانستان!

پچھلے کچھ دنوں سے ایک بار پھر افغانستان سرخیوں میں ہے ۔دو واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے افغانستان کو سرخیوں میں لا دیا ہے ۔پہلی واردات امریکہ کی ہے ۔امریکی راجدھانی واشنگٹن ڈی سی میں دل دہلا دینے والی واردات ہوئی ۔وائٹ ہاؤس سے کچھ دوری پر بدھوار کی دوپہر دو بجے ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈس کے جوانوں پر اچانک کی گئی فائرنگ نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ۔وائٹ ہاؤس میں تالا بندی کر دی گئی۔دونوں فوجیوں کی تکلیف دہ موت ہو گئی ۔واشنگٹن کی میئر نیورل بگوچر نے اسے وارگیٹڈ شوٹنگ بتایا ہے ۔صدر ٹرمپ نے حملہ آور کو جان کر بتاتے ہوئے انجام بھگتنے کی وارننگ دی ہے ۔یہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب گارڈ کے ممبر ایک میٹرو اسٹیشن کے پاس تعینات تھے ۔حملہ آور اچانک بھیڑ سے آیا اور بغیر کسی وارننگ کے گولی چلانے لگا وہیں آس پاس موجود دیگر فوجیوں نے فوراً بھاگ کر موقع پر پہنچے اور حملہ آور پر قابو کر لیا ۔گولی چلانے والے کا نام رحمت اللہ لکن وال ہے ۔(29)سال کا بتایا جاتا ہے کہ یہ افغانستان کا شہری ہے ۔جو 2021 میں امریکہ آیا تھا کہاجارہا ہے کہ یہ افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لئے بھی کام کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے بائیڈن سرکار کے تحت امریکہ میں آئے افغانستان کے ہر شہری کی پھر سے جانچ کرانے کا بھی وعدہ کیا ۔ٹرمپ نے فلوریڈا سے شوشل میڈیا پر رائے زنی کرتے ہوئے حملہ آور کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بڑی قیمت چکائے گا ۔حملہ آور نے حملہ کیوں کیا اس کی معلومات ابھی نہیں آئی ہے اس لئے اس کی پہلی سرخی افغانستان کی تب بنی جب وہ وائیٹ ہاؤس کے باہر گولی چلانے والا ایک افغانی نکلا ۔دوسری سرخی تب بنی جب تین دن پہلے افغانستان کے ایک میڈیا چینل نے یہ خبر چلائی کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف پارٹی کے چیف عمران خان کو جیل میں مار ڈالا گیا ہے ۔اس خبر کے آتے ہی پاکستان میں آگ لگ گئی ۔بتادیں کہ عمران خاں پچھلے دو سال سے راول پنڈی کی عدیالہ جیل میں کرپشن کے الزامات میں بند ہیں ۔عمران خان کی سیکورٹی کو لے کر کئی طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں ۔اس درمیان عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی اپنے والد کی حفاظت کو لے کر ایکس پر ایک پوسٹ لکھا ۔میرے والد 845 دن سے جیل میں ہیں پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں ایک ڈیتھ سیل میں تنہائی میںرکھا گیا ہے جہاں کسی طرح کی صاف صفائی نہیں ہے ۔عدالت کے واضح حکم ہونے کے باوجود ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے محروم رکھا گیا ہے ۔نہ کوئی فون نہ کوئی ملاقات نہ ہی ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت اور میرے بھائی ہم دونوں اپنے والد سے کوئی رابطہ نہیں کر پائے ۔قاسم نے لکھا ہے کہ یہ پوری طرح سے بلیک آؤٹ کوئی سیکورٹی پروٹوکول نہیں ہے ان کی حالت کو چھپانے اور ہمارے خاندان کو یہ جاننے سے روکنے کا ایک سوچی سمجھی کوشش ہے ۔اور میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی سنٹرکے ہر نتیجہ کے لئے پاکستان سرکار کو اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر پوری طرح جوابدہ ٹھہرایا جائے گا ۔ہم امید کرتے ہیں کہ عمران کی موت محض افواہ ہو اور وہ صحیح سلامت ہوں ۔ (انل نریندر)

25 نومبر 2025

بہار میں محکمہ داخلہ سمراٹ چودھری کو ملے گا!

نتیش سرکار کے وزراءکے قلمدان کے بٹوارے کے ساتھ جمعہ کو بہار کے اقتدار اعلیٰ میں بڑی تبدیلی نظر آئی ۔2005 کے بعد مسلسل محکمہ داخلہ وزیراعلیٰ نتیش کمار ہی سنبھالے ہوئے تھے جوعام طور پر سبھی وزیراعلیٰ اپنے پاس ہی رکھتے ہیں لیکن تازہ ذمہ داری تقسیم میں یہ اہم ترین محکمہ ان سے چھینا گیا ہے اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے نور نظر سمراٹ چودھری کو دے دیا گیا ہے ۔اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ بہار میں بی جے پی کا سرکار پر پورا کنٹرول ہوچکا ہے ۔نتیش کمار محض ایک ریموٹ وزیراعلیٰ بن گئے ہیں۔بی جے پی کی برسوں سے یہی کوشش رہی ہے کہ بہار کا کنٹرول بی جے پی کے ہاتھ میں آجائے اسی مقصد سے چناو¿ سے پہلے بھاجپا نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ نتیش ہی اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے ۔بی جے پی کے اس مقصد کی حصولی میں ابھی پوری کامیابی نہیں ملی ہے ۔چناو¿ نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ بہار میں نتیش آج سب سے بڑے قدآور لیڈر ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس مجبوری کے چلتے نتیش کو بی جے پی کی یہ شرط ماننی پڑی کہ محکمہ داخلہ ان کے پاس نہیں ہوگا ۔بی جے پی کے پاس رہے گا ۔اور نتیش کو آخر جھکنا پڑا اور امت شاہ کے بھروسہ مند سمراٹ چودھری کو نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ بھی مل گیا ۔اگر یہ کہا جائے کہ اب نتیش کمار ریموٹ وزیراعلیٰ ہیں تو شاید غلط نہ ہو ۔اصل کنٹرول تو دہلی سے ہی ہوگا ۔ اب تمام انتظامی پولیس لاءاینڈآرڈر وغیرہ سمراٹ چودھری کے ہاتھ میں ہی ہوگا ۔بہار میں لالو راج ختم ہونے کے بعد نتیش کمار نومبر 2005 سے اقتدار میں چل رہے ہیں اس کے بعد لگاتار 20 سال سے محکمہ داخلہ ان کے پاس تھا ۔لالو کے راج کو جسے جنگل راج کی بات اس چناو¿ میں لاءاینڈآرڈر اور دہشت کے طور پر پیش کیا گیا کہ اس دور کو ختم کیا اب امن و امان لاگو کروانے میں نتیش کا خاص اشتراک رہا ۔کرائم پر نکیل کسی ،فاسٹ ٹریک کورٹ بنائی گئی۔پولیس کو کھلی چھوٹ دی اور سخت قانون و نظام کے ذریعے یہ خیال بنا کہ جرائم پیشہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو سیاسی دبدبہ بھی رکھتا ہو، قانون کی نظر سے کوئی بچ نہیں سکتا۔گڈ گورننس کی حکمرانی میں ایسا ماحول بنا کہ نتیش کمار گڈ گورننس بابو کہلانے لگ گئے ۔دو دہائی کے دوران بہار میں کوئی بڑا فساد بھی نہیں ہوا ۔نتیش کمار سے اس بار محکمہ داخلہ ملنا چونکانے والا ضرور ہے ۔لوگ اس کے مطلب کئی نکال رہے ہیں کیا بی جے پی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ مجبوری کے چلتے نتیش کو وزیراعلیٰ تو بنا دیا لیکن کتنے د ن تک وہ اس عہدے پر ٹکے رہیں گے۔اس پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے لیکن حلف برداری سے پہلے نتیش کمار کو یہ سمجھا دیا گیا تھا کہ چونکہ بی جے پی کی سیٹیں جے ڈی یو سے زیادہ ہیں اس لئے یہ محکمہ داخلہ ہمارے پاس ہی رہے گا ۔نتیش کمار نے اپنے پیروں پرپہلے ہی کلہاڑی مار لی اس لئے اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور نہ ہی متبادل ہوگا لیکن نتیش منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والے نہیں ہیں ۔کیا مستقبل قریب میں بہار میں کوئی نیا کھیلا بھی ہونے والا ہے اور دیکھنے کو مل سکتا ہے ؟ویسے بی جے پی کو محکمہ داخلہ ملنے سے ریاست میں جرائم پیشہ پر تو نکیل کسے گی ہی لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کا الٹا اثر بھی ہوسکتا ہے ۔محکمہ داخلہ بی جے پی کو ملنے سے پارٹی مخالفین خاص کر آر جے ڈی کانگریس میں بے چینی بڑھنا فطری ہے۔آخر میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت نے الزام لگایا کہ بہار میں نتیش کمار سرکار کی نئی کابینہ کرپٹ اور جرائم پیشہ سے بھری ہے ۔یہ کابینہ بہار کے لوگوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...