Translater
06 ستمبر 2025
نیچر سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ !
سائنسداں بار بار خبردار کررہے تھے کہ نیچر سے اتنی چھیڑ چھاڑ نہ کرو لیکن انسان اس وارننگ کو نظر انداز کرتا چلا گیا ۔نتیجہ سامنے ہے آب و ہوا تبدیلی کے سبب موسم میں بھاری تبدیلی آئی ہے ۔نارتھ انڈیا میں ماہ ستمبر میں بھی سیلاب و بارش اور چٹانیں کھسکنے کا پہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔جموں وکشمیر ،ہماچل پردیش سے پنجاب اور دہلی تک کئی علاقے سیلاب سے بے حال ہیں ۔ہماچل میں چٹانیں کھسکنے کے الگ الگ واقعات میں کئی لوگوں کی موت ہوئی ہے اور متعدد زخمی اور کئی لوگ لاپتہ ہیں۔پنجاب کے سبھی 23 اضلاع میں 1200 سے زیادہ گاو¿ں سیلاب کی زد میں ہیں۔3.75 لاکھ ایکڑ زرعی زمین خاص کر دھان کے کھیت پانی میں زیر آب ہیں ۔فیروزپور زون میں 16 ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں ۔ہماچل میں رائے پور میں چلتی بس پر چٹان گرنے سے دو لوگوں کی موت ہو گئی ۔وہیں بلاسپور میں نو گھر ڈھہہ گئے۔متوفین کی تعداد 7 بتائی جاتی ہے ،کلو میں دو لگ ملبہ میں دب گئے ۔سات لوگ نیشنل ہائی وے سمیت 1155 سڑکیں اور 2477 بجلی ٹرانسفارمر اور 720 پینے کے پانی کے پلانٹ ٹھپ ہیں وہیں چھتیس گڑھ کے بلرام پور ضلع میں باندھ کا ایک حصہ ٹوٹنے سے آئے سیلاب میں چار لوگوں کی موت ہوئی جن میں دو عورتیں تھیں ۔شری ماتا ویشودیوی کے ٹریک پر بدھوار کو پھر چٹان گری لیکن یاترا بند رہنے سے بڑا حادثہ ٹل گیا ہے ۔جموں وکشمیر میں راجوری کے سندر بنی تحصیل میں مکان ڈہنے سے ماں بیٹی کی موت کی خبر تھی ۔پنجاب میں درجنوں جانور پانی میں بہہ گئے ۔پنجاب میں بارش کا قہر بدستور جاری ہے ۔ریاست میں اس وقت 1988 کے بعد جب سے قیامت خیز سیلاب سے لڑرہا ہے ۔اب تک 29 لوگوں کی جان جا چکی ہے اور 2.56 لاکھ لوگ متاثر ہیں جن میں گرداس پور ،پٹھان کوٹ ،فاضلکا ،کپور تھلا ،ترنتارن ،فیروزپور ،ہوشیار پور ،امرتسر شامل ہیں ۔پی ایم نریند رمودی نے وزیراعلیٰ بھگونت مان سے جانکاری لی ہے ۔پاکستان کے پنجاب میں سیلاب سے متاثر کرتارپور کوریڈور راستہ بھی شردھالوو¿ں کے لئے بند ہے ۔گردوارہ دربار صاحب میں فوج اور سول انتظامیہ بحالی کے کام میں لگے ہوئے ہیں ۔انتہائی دکھ کی بات ہے کہ اس وقت تقریباً ساری یاترائیں باڑھ کے سبب بند ہیں ۔کیدارناتھ دھام بند ،بدری ناتھ دھام بند ،ماتا ویشنو دیوی دھام بند ،رشی کیش کے گھاٹ بند ،بھیم ہیڑا یاترا بند ،کیلاش بند ،گھاٹی دیوی بند ،امرناتھ یاترا بند یہ سب یاترائیں ہیں جہاں جاکر شاستروں کے بھگوان کے درشن ہوتے ہیں ۔کچھ تو غلطی کررہے ہیں انسان کہ بھگوان بھی منہ موڑ رہے ہیں ۔ان جگہوں کو سیاحتی مقام نہ بنائیں صرف بھگتی کے لئے ہی بنائیں ،کچھ تو اشارے یہ ٹریجڈی ہم کو دے رہی ہے اور نیچر ہم کو اشارے دے رہی ہے ۔اگر اب بھی نہیں خبردار ہوئے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نیچر ایسا بدلہ لے گی کہ لوگ بھول نہیں سکیں گے ۔ٹیلر تو دیکھنے کو مل ہی رہا ہے ۔یہ بتانا بھی ضروری ہے اس وقت دیش میں کئی ندیاں طغیانی پر ہیں ۔اس کے سبب 21 جگہوں پر سیلاب کے حالات سنگین بنے ہوئے ہیں ۔33 جگہوں پر ندیوںکی آبی سطح عام سطح سے اوپر بہہ رہی ہیں ۔سی ڈبلیو سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 21 سنسنی خیز سیلاب متاثرہ جگہوں میں سے 9 بہار ،8 اتر پردیش اور 1-1 دہلی ،جموں وکشمیر ،مغربی بنگال ،جھارکھنڈ میں ہیں ۔وہیں ویاس اور ستلج ،چناب ،راوی ،الک نندہ اور بھاگیرتھی ندیوں میں آبی سطح خطرناک سطح سے اوپر بڑھ رہی ہے ۔اس بار بارش صرف پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں ہے اس بار میدانی ریاستوں میں بھی قہر ڈھا رہی ہے ۔اس کی وجہ صرف زیادہ بارش ہونا نہیں ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کمزور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر اور پانی نکاسی کے مناسب اقدام نہ ہونا بھی ہے یہی وجہ ہے کہ نئے پل بنے نئی بنیں سڑکیں بھی سیلاب کے سبب تاش کے پتوں کی طرح ڈہہ رہی ہیں ۔حالت یہ ہے کہ میٹرو شہروں تک کی سڑکوں یہاں تک کہ ایکسپریس وے اور ہائی وے تک میں پانی کے نکاسی کے مناسب انتظام ندارد ہیں ۔سیلاب کے بعد ڈینگو،ملیریا جیسی بیماریوں کے پھیلنے کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔فی الحال بحران سے نمٹنے کے لئے جن فوری اقدامات کی ضرورت ہے ان پر تو سرکار دھیان دے گی ہی ۔حیرت تو اس بات کی ہے البتہ یہ کہ ہر سال بارش کے موسم میں ایسی صورتحال پیدا ہونے پر بھی ہم خود کو لاچار کھڑے پاتے ہیں ۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نیچر کے ساتھ تال میل بنائے بغیر ہم ایسی قدرتی آفات کو بار بار جھیلنے کے لئے مجبور ہوں گے ۔
(انل نریندر)
04 ستمبر 2025
کیا نائب صدر جمہوریہ کے چناو نتائج چونکا سکتے ہیں؟
نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کے چناو¿ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے، اس عہدے کے لئے حکمراں این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن اور اپوزیشن کے امیدوار جسٹس سدرشن ریڈی نے چناو¿ کمپین تیز کر ردی ہے ۔2017 و 2022 نائب صدارتی چناو¿ کے وقت بھاجپا کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل تھی اس وقت لوک سبھا میں وہ اکثریت سے دور ہے لیکن این ڈی اے کو سرکار چلانے کے لئے اکثریت حاصل ہے ۔دونوں ایوانوں کا حساب کو دیکھیں تو لوک سبھا میں 542 اور راجیہ سبھا میں 240 ایم پی ہیں کل نائب صدارتی چناو¿ میں تعداد 8 ہزار 221 ہے دونوں ایوانوں میں انڈیا اتحاد کے ایم پی کی تعداد 422 ہے اور اس کے مطابق سی پی رادھا کرشنن کا نائب صدر بننا بھلے ہی یقینی ہے اپوزیشن کو بھی پتہ ہے کہ لوک سبھا و راجیہ سبھا ممبروں کی تعداد طاقت کی بنیاد پر اس کے امیدوار کو جتانا ناممکن ہے امیدوروں کے پیچھے کی حکمت عملی ان کی اہلیت اور پیغامات کو سمجھنے کے پچھلے پش منظر کو دھیا ن میں رکھنا ضروری ہے ۔یہ ایک اہم ترین چناو¿ ہے ۔جن حالات میں جگدیپ دھنکھڑ نے استعفیٰ دیا ویسے پہلے کبھی نہیں ہوا چونکہ نائب صدر راجیہ سبھا کے چیئرمین بھی ہوتے ہیں اس لئے اس جگہ کو زیادہ وقت تک خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ۔چندوپورم پچو سوامی ،رادھاکرشنن کبھی بھی تنازعات میں نہیں رہے او ر وہ کئی اہم ترین سرکاری عہدوں پر بھی رہے ہیں ۔اور آر ایس ایس کے قریبی مانے جاتے ہیں ۔مسلسل جنتا کے درمیان جانے کے باوجود کسی طرح کا سیاسی تنازعہ نہ ہونا ان کی شائستگی کا ثبوت ہے ۔دوسری جانب سدرشن ریڈی آندھرا پردیش اور گوہاٹی ہائی کورٹ میں جج اور اس کے بعد 2007 سے 2011 تک سپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں اور ان کے موجودہ تلنگانہ کی کانگریس سرکار نے جب سماجی و اکنامک تعلیمی برادری سروے کروایا تو اس کی رپورٹ کے لئے سدرشن ریڈی کی سربراہی میں ہی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی اس طرح کانگریس کے ساتھ ان کا رابطہ بنا ہوا تھا حالانکہ جب وہ گوا کے لوک آیکت تھے تب کانگریس نے ان کی مخالفت کی تھی ۔اس وقت ان کی تقرری بھاجپا حکومت کی طرف سے کی گئی تھی اور اس لئے کانگریس نے انہیں جانبدارانہ ماناتھا ۔چھتیس گڑھ میں ماو¿ وادی تشدد کے خلاف جنتا کے سرواجوڈم تحریک کو انہوں نے غیر آئینی قرار دہا تھا۔ایسا کہنا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا تھا ۔حالانکہ جسٹس ریڈی نے دو ٹوک جواب دیا یہ فیصلہ میرا نہیں تھا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا تھا ۔یہ ماننا پڑے گا کہ شر ی سدرشن ریڈیا جب چناوی مہم چلا رہے ہیں تو انہوں نے بہت سے ایم پی سے سیدھا رابطہ قائم کیا ہے ۔یہاں تک کہ کہا کہ مجھے بھاجپا ایم پی سے بھی حمایت کی اپیل کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے وہ کہتے ہیں لڑائی ایک عہدے کے لئے صرف نہیں یہ لڑائی آئین بچانے کی ہے ۔دیش میں جمہوریت بچانے کی ہے اور چونکہ وہ سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں اس لئے وہ آئین کو سمجھتے ہیں اور قانون سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں غیر سیاسی ہوں ۔اس لئے میں سبھی سے اپیل کرسکتا ہوں چناو¿ کمپین زوروں پر جاری ہے ۔نو ستمبر کو ہونے والے اس چناو¿ میں جہاں ایک طرف این ڈی اے نے تجربہ کار لیڈر اور سابق گورنر سی پی رادھا کرشنن کو امیدوار بنایا ہے ۔وہیں اپوزیشن نے بھی چونکانے والا داو¿ چلا ہے ۔انڈیا اتحاد نے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس سدرشن ریڈی کو نائب صدر کے طور پر امیدوار بنا کر اس چناو¿ کو صرف اقتدار کی لڑائی نہیں بلکہ آئین بنام آئیڈیا لوجی کی لڑائی بنا دیا ہے ۔بھلے ہی لوک سبھا میں این ڈی اے کے پاس نمبروں کی طاقت زیادہ ہو لیکن اپوزیشن بھی اپنا مشترکہ امیدوار اتار کر چناو¿ کو دلچسپ بنانے میں کوئی کسر نہیںچھوڑ رہاہے۔جسٹس سدرشن ریڈی نے سی پی ایم لیڈروں سے ملاقات کی اور حمایت مانگی چونکہ وہ بنیادی طور پر آندھرا سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے این ڈی اے کو ڈر ہے کہ کہیں چندربابو نائیڈو چپ چاپ طریقہ سے ان کی حمایت نہ کردیں ۔بتادیں نائب صدارتی چناو¿ میں پوشیدہ پولنگ ہوتی ہے اس سے پتہ نہیں چلتا کس نے کس کو ووٹ دیا ہے چونکہ وہ تیلگو زبان بھی والے خطہ سے ہیں اس لئے تیلگو پرائیڈ بھی اشو بن سکتا ہے ۔اور اگر یہ بنا تو کرا س ووٹنگ ممکن ہوسکتی ہے ۔ادھر شوشل میڈیا میں بھی یہ خبر چل رہی ہے کہ کانگریس کے چانکیہ مانے جانے والے کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار بھی حرکت میں آگئے ہیں اور تمام جنوبی بھارت کے ایم پیز سے حمایت مانگ رہے ہیں ۔اور ریڈی کی حمایت کے لئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں ۔جسٹس سدرشن ریڈی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ نہ صرف انڈیا اتحاد بلکہ اس سے باہر کے لوگ بھی ان کی حمایت کرنے کے لئے آگے آرہے ہیں کل ملا کر نمبروں کے حساب سے تو اپوزیشن کی جیت بھلے ہی مشکل ہو لیکن وہ اسے ایک سیاسی اسٹیج کی شکل میں استعمال کررہے ہیں تاکہ 2028 کے لوک سبھا چناو¿ اور اگلے دو برسوں میں کچھ ریاستوں میں اسمبلی چناو¿ کے لئے ایک مضبوط بنیاد رکھی جاسکے ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا اس چناو¿ میں کوئی چونکانے والے نتیجے آسکتے ہیں ؟
(انل نریندر)
02 ستمبر 2025
کیا کیابولے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت!
آر ایس ایس کے قیام کے 100 سال پورے ہونے پر راجدھانی دہلی کے ویگیان بھون میں 26 سے 28 اگست تک سہ روزہ پروگرام منعقد ہوا۔موہن بھاگوت نے دیش میں روزگار کے پش منظر اور سنسکرت کی ضرورت اور بھارت کی یکجہتی ہندو مسلم اتحاد سمیت کئی اہم اشوز پر اپنی بات رکھی ۔میں یہاں سرسنگھ چالک کے ذریعے اہم ترین اشوز اور ان کے جوابوں کو پیش کررہا ہوں ۔قارئین خوف فیصلہ کرلیں کہ موہن بھاگوت جی کے خیالات کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا ہمارے ہندوستان کا دنیا بھر میں قد بڑھا ہے ۔دیکھتے ہیں سب الگ الگ نظر آتے ہیں ۔لیکن سب ایک ہیں ۔دنیا اپنے پن سے چلتی ہے ،یہ سودے پر نہیں چل سکتی ہے۔مذہب کی حفاظت کرنے سے قدرت ٹھیک چلتی ہے کیوں کہ بنیاد بڑھی اور اونچائی تک پہنچ گئی ۔شخصی واد بڑھا اور انتہا پر پہنچ گیا ۔75 سال کے بعد کیا سیاست سے ریٹائر ہو جانا چاہیے ؟ اس سوال کے جواب میں موہن بھاگوت نے کہا میں نے یہ بات بورو پنت جی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے نظریات رکھے تھے میں نے نہیں کہا کہ میں ریٹائر ہو جاو¿ں گا یا کسی اور کو ریٹائر ہونا چاہیے۔ہم زندگی میں کسی بھی وقت ریٹائر ہونے کے لئے تیار ہیں اور سنگھ ہم سے جس وقت تک کام کرانا چاہے گا ہم سنگھ کے لئے اس وقت تک کام کرنے کے لئے تیارہیں ۔بی جے پی اور سنگھ کے درمیان رشتوں پر بھاگوت نے کہا کہ صرف اس سرکار کے ساتھ نہیں ہر سرکار کے ساتھ ہمارا ان کا تال میل رہا ہے ۔کہیں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔اختلافات کے مسئلے کبھی نہیں ہوتے یہاں نظریات میں اختلافات ہوسکتے ہیں مگر اختلافات من بالکل تلخ نہیں ہے ۔کیا بی جے پی سرکار میں سب کچھ سنگھ طے کرتا ہے ؟ یہ بات پوری طرح غلط ہے میں کئی برسوں سے سنگھ تنظیم چلا رہا ہوں وہ سرکار چلا رہے ہیں صلاح دے سکتے ہیں لیکن اس میدان میں فیصلہ ان کا ہے ۔اور اس میدان میںہمارا ۔جب سوال پوچھا گیا کہ بی جے پی صدر چننے میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے تو بھاگوت نے جواب دیا ہم طے کرتے تو اتنا وقت لگتا کیا ؟ ہم طے نہیں کرتے کچھ پارٹیوں کے سنگھ مخالفت پر بھاگوت نے کہا تبدیل ہوتے ہوئے بھی ہم نے دیکھا ہے ۔1948 میں جے پرکاش بابو ہاتھ میں جلتی مشال لے کر سنگھ کا دفتر جلانے چلے تھے بعد میں ایمرجنسی کے دوران انہوں نے کہا تبدیلی کی آشا آپ لوگوں سے ہور ہی ہے ۔سابق صدر اے پی جے عبدالکلام سے لے کر پرنب مکھرجی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ سنگھ کے پروگرام میں آئے انہوں نے اپنے نظریات نہیں بدلے لیکن سنگھ کے بارے میں جو غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہوئی ہیں ۔تین بچے ہونے چاہیے: بھاگوت نے کہا بھارت کے ہر شہری کے تین بچے ہونے چاہیے آبادی کنٹرول میں رہے اور ٹھیک رہے اس لحاظ سے تین ہی بچے ہونے چاہیے ۔تین سے زیادہ نہیں ہونے چاہیے ۔پیدائشی شرح کسی بم کی طرح ہے اس لئے بھارت کے ہر شہری کو چاہیے کہ اس کے گھر میں تین بچے ہوں ۔پیدائش پر ہر کسی برادری کی کم ہور ہی ہے ہندوو¿ں کی پہلے ہی سے کم تھی اور زیادہ کم ہو رہی ہے لیکن دوسرے فرقوں کی اتنی کم نہیں تھی تو اب ان کی بھی کم ہو رہی ہے شری بھاگوت جی نے کہا کہ باہر سے جو آئیڈیا لوجی آئی وہ ایک غیر متوقع وجہ سے آئی ۔یہی کے لوگوں نے ان کو قبول کیا لیکن ہماری رائے میں تو سب کو قبول کرنا چاہیے ۔جو دوریاں بنی ہیں ان کو بھرنے کے لئے دونوں طرف سے کوشش کی ضرورت ہے ۔یہ صد بھاونا اور پازیٹو ماحول کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔جسے دیش کو قومی سطح پر کرنا ہوگا ۔سنگھ پرمکھ نے کہا کہ ہمارے ہندوستان کا مقصد عالمی بھلائی ہے ۔اور بھارت میں جتنا برا نظر آتا ہے اس سے چالیس گنا زیادہ سماج میں اچھا ہے ۔ہم کو سماج کے کونے کونے تک پہنچنا پڑے گا کوئی شخص باقی نہیں رہے سماج کے سبھی طبقوں میں سبھی سطحوں پر پہنچنا ہوگا ۔غریب سے نیچے سے لے کر امیر تک کے اوپر تک سنگھ کو پہنچانا پڑے گا ۔یہ جلدی جلدی کرنا ہوگا ۔جس سے سب لوگ مل کر سماج میں تبدیلی کے کام میں لگ جائیں ۔ماحولیات میں پانی بچاو¿ ،سنگل یوز پلاسٹک ہٹاو¿ ۔پیڑ لگاو¿ اس کے علاوہ سماجی خوشحالی کو لے کر کام کرنا ہوگا ۔انسان کو لے کر ہم ذات کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں اس کو د ل سے ختم کرنا ہوگا ۔مندر ،پانی ،انتظامیہ سب کے لئے ہے اس میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔بھارت کو خود کفیل ہونا ضروری ہے ۔سودیشی کی بات کا مطلب غیر ممالک سے متعلق نہیں ہوں گے ایسا نہیں ہے ۔بین الاقوامی رشتے و تجارت چلتے رہیں گے لیکن اس میں دباو¿ نہیں ہونا چاہیے بلکہ مرضی ہونی چاہیے ۔آخر میں بھاگوت نے کہا نیبو کی شکنجی پی سکتے ہیں تو کوکا کولا اور اسپرائٹ کیوں چاہیے ۔گھر پر اچھا کھانا کھاو¿ باہر سے پیزا کی کیا ضرورت ہے ؟
(انل نریندر)
30 اگست 2025
ٹیرف نے چھینی ہیرے کی چمک!
بھارت پر فاضل25 فیصدی امریکی ٹیرف لاگو ہو گیا ہے اسی کے ساتھ ہندوستانی چیزوں پر کل ملا کر 50 فیصدی ہو گیا ہے مانا جارہا ہے کہ 18 ارب ڈالر سے زیادہ کا امریکہ کو کئے جانے والے ہندوستانی ایکسپورٹ سامان زیادہ متاثر ہوگا ۔بھارت کے کپڑے ، دیگر لباس ،ہیرے ،زیورات اور جھینگا ،چمڑا وغیرہ بہت سی صنعتوں پر سیدھا اثر پڑے گا میں نے کچھ دن پہلے ہی ہریانہ کی صنعتوں پر پڑنے والے برے اثرات کا تذکرہ کیا تھا ۔آج میں گجرات کے شہر سورت میں ہیرا انڈسٹری کے بارے میں بتانے کی کوشش کروں گا ۔سورت دنیا میں ہیروں کی کٹنگ اور پالش کے لئے ماناجاتا ہے و جانا جاتا ہے ۔لیکن اب اس صنعت پر منحصر رہنے والے لوگ مشکل میں ہیں ۔30 فیصدی ٹیرف نے اس سیکٹر کے تاجروں کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔ہیرا صنعت سے جڑے پچیس لاکھ سے زیادہ کام گار اس سے متاثر ہوسکتے ہیں ۔پچاس فیصدی ٹیرف لگانے کا اثر سب سے زیادہ اس سیکٹر پر پڑ رہا ہے کیوں کہ سورت کی ہیرا انڈسٹری امریکہ کے لئے جانے والے سامان پر زیادہ منحصر ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ٹیرف کم نہیں کیا گیا تو کئی تاجر ہیرا صنعت سے باہر ہو جائیں گے ۔کئی لوگوں کی نوکریاں چلی جائیں گی اور زبردست مندی آجائے گی ۔حالانکہ دوسری جانب ہیرا صنعت سے جڑی انجمن جیسے سورت ڈائمنڈ ایسو سی ایشن اور ساو¿تھ گجرات چیمبر آف کامرس کا ماننا ہے کہ امریکی ٹیرف سے کچھ مندی آئے گی لیکن وقت کے ساتھ حالات ٹھیک ہو جائیں گے کیوں کہ بھارت کو ہیرا صنعت کی جتنی ضرورت ہے امریکہ میں بھی ہیروں کی اتنی ہی مانگ ہے ۔اس لئے وہاں کے لوگ ،تاجر بھی اس مسئلے کا کچھ حل چاہتے ہیں ۔سورت کی کئی چھوٹی فیکٹریوں میں بیس سے دو سو ملازم کام کرتے ہیں بہت سوں کی تو یہ تعداد پانچ سو تک ہوتی ہے ۔اور سورت میں ایسی ہزاروں فیکٹریاں ہیں ۔حال ہی میں کئی لوگوں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور چھوٹی بڑی فیکٹریوں کا یہ حال ہے کہ بیس سال پہلے سلیش مونگیا نے صرف ایک پالش وہیل (چکی) سے ہیرا پالش کرنے کا ایک کارخانہ شروع کیا تھا جو اب اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ یہاں ورکروں کی تعداد تین سے بڑھ کر 300 ہو گئی ہے حالانکہ اب اس فیکٹری میں صرف 70 لوگ ہی بچے ہیں وہ کہتے ہیں سارے آرڈر کینسل ہو گئے ہیں ۔مزدوروں کو کہنا پڑ رہا ہے کہ کام نہیں ہے ۔آرڈر نہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں مل رہا ہے اور کام نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں ۔پچھلے سال اگست میں ،ان کی فیکٹری میں ہر مہینے اوسطاً دو ہزار ہیروں کی پروسیسنگ ہو رہی تھی لیکن اس سال گھٹ کر مقدار 300 تک رہ گئی ہے مزدور سریش راٹھو ر کہتے ہیں کہ عام طور پر ہمیں جنم اشٹمی کے دوران صرف دودن کی چٹھی ملا کرتی تھی اس بار ہمیں دس دن کی بغیر تنخواہ کے چٹھی دی گئی ہے ۔ہم ایسے کیسے رہ سکتے ہیں ؟ سریش راٹھو ر جیسے کئی اور کاریگر ہیں جو اس طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔سورت ڈائمنڈ پالشرس یونین کے مہاویش ٹاک کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس وقت بہت سے جوہری شکایت لے کر آرہے ہیں کہ ان کی تنخواہ کم کر دی گئی ہے ۔انہیں نوکری سے بھی نکال دیا گیاہے ہزاروں مزدوروں کی آمدنی کم ہو رہی ہے ۔صنعتی دنیا کے لیڈروں نے ایک اسپیشل ڈائمنڈ ٹاسک فورس بنائی ہے جو اس صورتحال کا حل نکالنے کی کوشش کرے گی ۔ساو¿تھ گجرات چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین نکھل مدراسی نے اس بارے میں بی بی سی سے بات میں کہا کہ امریکی بازار پر بھاری انحصار کی وجہ لمبے عرصے میں بڑا جھٹکا لگے گا پرانے آرڈر پورے ہو چکے ہیں لیکن نئے آرڈر کا مستقبل غیر واضح ہے ۔سرکار کو فوراً مدد کرنی ہوگی اور کئی تاجر مشرقی وسطیٰ اور یوروپ جیسے بازاروںمیں مواقع تلاش رہے ہیں اور کچھ تو بائی پاس راستوں کے ذریعے امریکہ تک مال بھیجنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ ان کے مطابق اب الگ الگ یوروپی ممالک میں نئے بازروں کی تلاش کی ضرورت ہے ۔سوال یہ ہے کہ سورت کے ہیرا صنعت کو کیسے بچایاجاسکتا ہے ؟ اس صنعتی دنیا کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالت اور بھی خراب ہو سکتی ہے ۔جیم اینڈ جیولری ایکسپورٹ پرموشن کونسل کے گجرات چیئرمین جیوتی بھائی ساولیہ کا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ پر انحصار کم کیا جائے اور دیگر بازاروں کی طرف دیکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ آرڈر نہیں ملے تو یقینی طور سے مزدروں کی تنخواہ اور روزگار پر اثر پڑے گا ۔اصلی مار آنے والے مہینوں میں نظر آئے گی وہ آگے کہتے ہیں کہ حال میں امریکہ کو ہونے والا کل ایکسپورٹ تقریباً بارہ ارب ڈالر کا ہے اگر ہم اس کی بنیاد پر بھی دیگر ملکوں سے بڑھا سکیں تو سورت کی ہیرا انڈسٹری بچ سکتی ہے اس صورت میں بھارت کے ہیرے کی چمک ٹیرف سے پڑنے والے اثر کو کم کردے گی ۔
(انل نریندر)
28 اگست 2025
ووٹ چوری الزام پر چناو کمیشن کا جواب !
بھارت میں چناوی عمل پر عوام کا بھروسہ ڈگمگا رہا ہے تو اس کے پیچھے کیا سیاست ہے ۔7 اگست کو لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس نیتا راہل گاندھی کی پریس کانفرنس کے بعد بہت سے لوگوں کے دل میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کہیں ہمارے ووٹ تو نہیں کٹے ؟ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے چناو¿ کمیشن پر حکمراں بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کی بات کہی تھی ۔جسے چناو¿ کمیشن نے سرے سے مسترد کر دیا ہے ۔راہل گاندھی ،تیجسوی یادو اور انڈیا اتحاد کے ساتھی اسے بہار میں زور وشور سے اٹھا رہے ہیں اور اسے بھاری حمایت بھی ملتی نظر آرہی ہے ۔وہیں بھارتیہ جنتاپارٹی اسے کانگریس سمیت اپوزیشن کی مایوسی والی سیاست کہہ رہے ہیں ۔خیال رہے کہ جس دن بہار کے ساسا رام میں وووٹ ریکارڈ یاترا شروع ہوئی تھی اسی دن چناو¿ کمیشن نے بھی پریس کانفرنس کی تھی لیکن اس کے بعد بھی چناو¿ کمیشن پر تنقیدیں جاری ہیں ۔سوال ہے کہ کیا مرکزی حکومت ان الزامات کے بعد کسی طرح بیک فٹ پر دکھائی پڑتی ہے ؟ چناو¿ کمیشن اگر بچاو¿کرے تو کیا اسے ہر بار جانبدارانہ طور پر ہی دیکھا جائے گا ۔؟ اور چناو¿ کمیشن آخر راہل گاندھی سے حلف نامہ لینے کی مانگ پر کیوں اڑا ہوا ہے ؟ جبکہ راہل اندھی دعویٰ کررہے ہیں جو دستاویز انہوں نے سات اگست کو پیش کئے تھے وہ سب چناو¿ کمیشن کے ہی دیے ہوئے اعداد شمار ہیں؟ ان سوالوں پر بحث کے لئے انڈین ایکسپریس کی نیشنل بیورو چیف ریتیکا چوپڑا اور بھارت کے سابق چناو¿ کمشنر اشوک لباسا بی بی سی کے ہفتہ واری پروگرام دی لینس میں شامل ہوئے ۔اسی سال جون کے مہینے سے راہل گاندھی نے اخباروں میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے چناو¿ کمیشن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ میں میچ فکسنگ کی بات کہی تھی۔بہار میں ایس آئی آر بڑا اشوبنتا جارہا ہے ۔ایس آئی آر پر اشوک لباسا لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے اشتعال کے سبب بہار اسمبلی چناو¿ سے پہلے ایس آئی آر جیسی بڑی کاروائی کو اپنانے سے لوگوں میں غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے ۔دوسری وجہ ہے کہ 2003 کی نظر ثانی میں پریزینٹیشن آف سٹیژن شپ لفظ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے ۔ساسارام میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بہارمیں ا یس آئی آر کرکے ووٹروں کو جوڑ کر اور اہل لوگوں کے نام کاٹ کر بی جے پی آر ایس ایس بہار کا چنا و¿ چوری کرنا چاہتی ہے جبکہ چناو¿ کمیشن کی دلیل ہے کہ ووٹر لسٹ میں گڑ بڑیوں کو دور کرنے کے لئے ایس آئی آر کاروائی اپنائی جاتی ہے اشوک لواسا کا کہنا ہے کہ اس بار کاروائی پیچیدہ بنا دی گئی ہے ۔اورا س کے لئے لوگوں کو درکار وقت نہیں دیا گیا اس بار سوال ووٹر لسٹ پر اٹھائے جارہے ہیں اور پچھلے دس برسوں میں ایسے سوال نہیں اٹھائے گئے تھے ۔گزشتہ چناو¿ میں سیاسی پارٹی ای وی ایم ،چناوی ماڈیول یا ماڈل آف کوڈ آف کنڈکٹ سے متعلق شکایتیں کرتے ہیں سوال ابھی بھی چناو¿ کمیشن پر ہے لیکن اشو ووٹر لسٹ کا ہے ۔اس لئے یہ باقی معاملوں سے الگ ہے ۔راہل گاندھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ چناو¿ کمیشن صرف ان سے حلف نامہ مانگ رہا ہے جبکہ کسی اور سے نہیں مانگا ۔اشوک لواسا کا کہنا ہے کہ اگر اتنے برے پیمانہ پر ایک اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کے بارے میںدعویٰ کیا گیا ہے تو کسی بھی سرکاری دفتر کو اس کی جانچ کرنی چاہیے ۔میرے خیال سے اس کے لئے کسی حلف نامہ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں سے پوچھا کہ جب اتنی مشکلات ہیں تو صرف الیکشن کمیشن کے پاس دو شکایتیں ہی کیوں نہیں آئی ہیں ۔حالانکہ تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی شکایتوں کو منظور نہیں کیا گیا ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ الیکشن کمشنر گیانیش کمارکے بولنے کے طریقہ کے سبب لوگوں کے دل میں شکایتیں پوری طرح سے ختم نہیں ہو پائی ہیں ۔اشوک لواسا نے آگے کہا کہ چناو¿ کمیشن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر کوئی غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے تو اسے چناو¿ کمیشن کو ہی دور کرنا ہوگا ۔چناو¿ کمیشن کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا چاہیے ۔صحیح اور غلط کا فیصلہ لوگ خود کریں گے ۔بہار اسمبلی چناو¿ میں بہت کم وقت بچا ہے وقت صرف تین مہینے کا ہے اور چناو¿ کمیشن کو دستاویز جمع کرنے کے ساتھ ان کی توثیق بھی کرنی ہے ووٹروں کے پاس طے دستاویز نہیں ہیں اور کچھ لوگوں میں خوف کا ماحول ہے انہیں سب پریشانیوں کی وجہ سے اس مسئلے کی پکڑ بنیاد پر بڑھتی جارہی ہے ۔کئی لوگ اسے اپنی شہریت کے ساتھ بھی جوڑ رہے ہیں ۔حالانکہ چناو¿ کمیشن نے صاف کیا ہے کہ ایس آئی آر کا شہریت سے کوئی لینادینا نہیں ہے ۔لیکن بہار کے ووٹرو ں میں خدشہ ابھی بھی بناہوا ہے اشوک لباسا بتاتے ہیں کہ پریزمشن آف سٹیشن شپ کے استعمال سے شہریت پر سوال بنا ہوا ہے ۔چناو¿ کمیشن بار بار کہہ رہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام نہ آنے سے شہریت ختم نہیں ہوگی ۔لیکن اس سے بھی تضاد یہ ہے کہ اسی وجہ سے تو آپ اسے ووٹر لسٹ سے باہر نکال رہے ہیں؟
(انل نریندر)
26 اگست 2025
گورنر بل میں دیری کرے تو راستہ کیا ہے؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر گورنر غیر میعادی مدت تک بلوں کو پنڈنگ رکھتے ہیں تو اس سے ودھان منڈل بے اثر ہو جائے گا ۔ایسی صورت میں کیا عدالتیں مداخلت کرنے میں لاچار ہیں ؟ دراصل مئی 2025 میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمونے آئین کے آرٹیکل 143 ( 1) کے تحت سپریم کورٹ نے یہ رائے مانگی تھی کہ کیا گورنر کے احکامات کے ذریعے صدر گورنر کو میعاد وقت میں باندھ سکتا ہے ؟ چیف جسٹس آر گوائی ،جسٹس سوریہ کانت ،جسٹس ورکرما ناتھ ،جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس ایس چنڈورکر کی ڈویژن بنچ اسی صدارتی ریفرنس پر سماعت کررہی ہے۔ سماعت کے دوران جمعہ کو بھارت سرکار کے وکیل نے دلیل دی کہ عدلیہ صدر جمہوریہ یا گورنر کو پابندی کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتی تب چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ہم یہ کہیں کہ چاہے آئینی عہدے دار کتنے بھی اونچے ہوں ،اگر وہ کام نہیں کرتے تو عدالتیں لاچار ہیں ؟ دستخط کرنا ہے یا نا منظور کرنا ہے اس وجہ پر ہم نہیں جارہے کہ انہوں نے کیوں کیا لیکن اگر نوڈل ایجنسی منڈل نے کوئی ایکٹ پاس کر دیا ہے اور بصد احترام گورنر بس اسی پر بیٹھے ہیں تو یہ سالیشیٹر جنرل نے کہا کہ ہرمسئلے کا حل کورٹ میں نہیں تلاش کیاجاسکتا ۔عدالت نے کہا کہ اگر کچھ گورنر اسمبلی کے ذریعے پاس بلوں کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان پر فیصلہ نہیں لے رہے ہیں تو ایسے میں گورنروں عدلیہ حل کے بجائے سیاسی حل تلاشنے ہوں گے ۔سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ اگر گورنر بلوں میں تاخیر کرتے ہیں تو راستہ کیا ہے ؟ تبھی سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا کہ یہ ایک عام جواب یہ ہے کہ اگر کوئی گورنر بلوں کو لٹکائے رہتے ہیں تو سیاسی حل نکلتے ہیں اور ایسے حل بھی نکل رہے ہیں ۔ہر جگہ ایس نہیں ہوتا کہ ریاست کو سپریم کورٹ جانے کی صلاح دی جائے ۔وزیراعلیٰ جاتے ہیں اور وزیراعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ صدر سے ملتے ہیں ۔نمائندہ وفد جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی شکل میں فیصلہ لیں ۔کئی بار ٹیلی فون پر ہی معاملوں کو نپٹا لیا جاتا ہے ۔وزیراعلیٰ ،وزیراعظم اور گورنر کی مشترکہ ملاقاتیں ہوتی ہیں اور اس طرح تعطل دور ہوتا ہے لیکن اس میں دائرہ اختیار یعنی نیورکس یورڈ رکشن نہیں مل پاتی کہ جوڈیشیل فیصلے کے ذریعے وقت میعاد طے کر دیں ۔سوال یہ ہے کہ جب آئین میں وقت اور میعاد طے نہیں ہے تو کیا عدالت وقت حد طے کر سکتی ہے ؟ بھلے ہی اس کے لئے جواز ہو ؟ ایسے مسئلے کئی دہائیوں سے ہر ریاست میں اٹھتے رہے ہیں لیکن جب سیاسی اسٹیٹ منشپ اور سیاسی پختگی دکھائی جاتی ہے تو وہ مرکز کے آئینی صلاح کاروں سے ملتے ہیں اور تبادلہ خیال کرتے ہیں اور سیاسی حل نکال لیتے ہیں یہ ان مسئلوں کے حل ہیں جسٹس سوریہ کانت نے پوچھا کہ اگر گورنر کی ٹال مٹولی کے خلاف کوئی متاثرہ ریاست عدالت کے پاس آتی ہے تو کیا آپ کے مطابق عدلیہ جائزہ پوری طرح بے جواز ہے ؟ اس پر تشار مہتا نے کہ کہ وہ گورنر کی کاروائی کی عدالتی کاروائی کے سوال پر نہیں ہے بلکہ اس سوال پر ہیں کہ کیا عدالت گورنر کو وقت حد کے اندر کام کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی غلط ہے تو قدم اٹھانا ہی چاہیے مہتا نے جواب دیا کہ دیش کے ہر مسئلے کا حل کسی اسٹیج سپریم کورٹ )سے نہیں ہوسکتا ۔اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر کوئی آئینی عہدے دار بغیر کسی وجہ اپنی فرض نہیں نبھاتا تو کیا عدلیہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔جسٹس سوریہ کانت نے اس دوران جوڑا کہ اگر سسٹم کے پاور سپریم کورٹ میں ہیں تو قانون کی تشریح عدالتوں کو ہی کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)
23 اگست 2025
بل پر اپوزیشن کا ہنگامہ !
سنگین جرائم الزامات میں گرفتار اور مسلسل 30 دین حراست میں رہنے پر وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ،وزرا کو عہدے سے ہٹانے والے بل کو بدھوار کو پیش کیا گیا حالانکہ اس بل کو جے پی سی کو بھیج دیا گیا ہے جو اگلے سیشن کے پہلے دن پیش کرے گی ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کے جے پی سی کے سامنے اپنے اعترازات درج کرانے کا موقع ملے گا ۔ابھی جو قانون اس کے مطابق ،جب تک قصور ثابت نا ہو جائے جب تک یہ وزیر استعفیٰ دینے کےلئے مجبور نہیں ہے ۔اس بل کے ذریعہ آئین کی دفعہ 75 میں ترمیم کرنی ہوگی ۔جس میں وزیراعظم کے ساتھ وزرا کی تقرری اور ذمہ داریوں کی باتیں ہیں ۔مسودہ بل کے مطابق ،اگر کسی وزیر کے عہدے پر عہدے پر رہتے ہوئے مستقل 30 دن کےلئے کسی قانون کے تحت کرائم کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اور حراست میں لیا جاتا ہے ۔جس میں 5 سال یا اس سے زیادہ کی سہولت ہے،اسے صدر کی صلاح وزیراعظم کی صلاح پر عہدے سے ہٹا دیا جائے گا ۔ایسا حراست میں لئے جانے کے 31 ویں دن ہو جانا چاہئے ۔سرکار اس بل کو کرپشن مخالف بتا رہی ہے ،وزیر داخلہ امت شاہ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کے سیاسی کرپشن کے خلاف مودی سرکار کے عزم اور جنتا کی ناراضگی کو دیکھ کر میں نے آئین ترمیمی بل پیش کیا ہے تاکہ پی ایم ،سی ایم اور وزیر جیل میں رہتے ہوئے سرکار نہ چلا سکے ۔اس کا مقصد سیاست میں صاف ستھرا پن لانا ہے ،حال ہی میں ایسی حالت بنی کے سی ایم یا وزیر کے بغیر استعفیٰ دئے جیل سے سرکار چلاتے رہے ۔ادھر اپوزیشن نے اس بل کی زبردست مخالفت کی ہے ۔اپوزیشن کی جانب سے ایم پی اسدالدین اویسی ،کانگریس کے منیش تواری ،کے سی وینو گوپال ،آر ایس پی کے این کے پریم چند و سپا کے دھرمندر یادو نے جم کر احتجاج کیا ۔پریم چندرن نے کہا کے تینوں بلوں کو ایوان میں پیش کرنے کےلئے اتنی ہڑ بڑی کیوں ہے ؟اس پر امت شاہ نے کہا کہ پریم چندرن جلد بازی کی بات کر رہے ہیں تو لیکن اس کا سوال اس لئے نہیں اٹھتا کیوں کے میں نے ان بلوں کو جے پی سی کو سونپنے کی بات بتاتا ہوں اس کے بعد کانگریس کے سی وینو گوپا نے کہا کہ بھاجپا کے لوگ کہہ رہے ہیں یہ بل سیاست میں شفافیت لانے کے لئے لایا گیا ہے انہوںنے کہا کیا میں وزیر داخلہ سے پوچھ سکتا ہوں کے جب گجرات میں وہ وزیرداخلہ تھے انہیں گرفتار کیا گیا تھا تب کیا انہوںنے اخلاقیت کا خیال رکھا تھا ؟وزیر داخلہ نے وینو گوپال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ریکارڈ بتانا چاہتا ہوں میں نے گرفتار ہونے سے پہلے اخلاقیاتی اصولوں کا حوالہ دیکر استعفیٰ بھی دیا تھا ۔اور جب تک عدالت سے بے قصور ثابت نہیں ہوا تب تک میں نے کوئی آئینی عہدہ قبول نہیں کیا انہوںنے کہا ہمیں کیا یہ اخلاقیت سکھائےں گے ؟کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے بل کو غیر جمہوری بتایا اور مرکزی سرکار پر نقطہ چینی کی کہ ایسے بل لاکر بھاجپا سرکار لوگوں کی آنکھوں میں دھول چھونکنے کا کام کر رہی ہے ۔یہ پوری طرح کچلنے والا قدم ہے ۔یہ ہر چیز کے خلاف ہے اور اسے کرپشن مخالف کی شکل میں پیش کرکے لوگوں کی آنکھوں میں دھول چھونکنے جیسا ہے سوشل میڈیا میں بھی اس بل پر خوب رائے زنی ہو رہی ہے ۔کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے یہ بل دو مونھ ہی تلوار ہے جہاں اس سے سنی ہوئی ریاست کی اپوزیشن حکومتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ۔وہیں یہ این ڈی اے اتحادیوں کے لئے بھی ایک نصیحت ہے کے آپ اگر لائن پر نہیں چلے تو آپ کا بھی کیا انجام ہو سکتا ہے ۔سمجھدار کو اشارہ ہی کافی ہے ویسے ہمیں لگتا ہے کے اس آئینی ترمیمی بل کو پاس کرانا اتنا آسان نہیں ہوگا اس کے لئے لوک سبھا اور اراجیہ سبھا میں دو تہائی اکثریت دونوں ایوانوں میں ہونی چاہئے ۔جو فی الحال تو ان کے پاس نہیں ہے ویسے بھی مانسون کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اب تو سرمائی اجلاس میں ہی غور ہوگا ۔مرکزی سرکار اس بل کو کرپشن مخالف بتا رہی ہے جب کے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے دونوں فریقین کو تال میل کے راستے پر چلنا ہوگا ۔خیال رہے کے ہماری آئینی سبھا میں شامل نیتاﺅ نے سوچا بھی نہیں تھا کے کبھی بھی سیاسی اخلاقیات کا اتنا اسٹنڈرڈ گر جائےگا آج تو کوئی داغی نیتا عہدہ چھوڑنا نہیں چاہتا ایسے میں آج یا کل ،کچھ قانونی قدم اٹھانے ہی پڑے گے تاکہ داغیوں کے لئے جگہ نہیں بچے ۔اور اس حمام میں سبھی ننگے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...