Translater
27 اگست 2021
کسانوں کے دھرنے سے نیشنل ہائیوے جام ہونے کا معاملہ !
کسانوںکے دھرنے کے سبب دہلی کی سرحدیں بند ہونے سے لوگوں کی آمد و رفت میں ہو رہی پریشانی کولیکر سپریم کورٹ نے ناراضگی ظاہر کی ہے جسٹس این جے کول کی سر براہی والی بنچ نے کہا کسان آندولن والوں کو مظاہرے کرنے کا حق ہے لیکن وہ سڑکوں کی آمد و رفت بے میعاد تک بند نہیں کر سکتے مسئلے کے حل کے لئے مرکزی حکومت کو کچھ کر نا چاہئے ۔ بنچ نے مرکز ی حکومت پر متعلقہ ریاستی حکومتوں کو اس مسئلے کے حل کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا ہے نوئیڈا کی خاتون مونیکا اگروال کی عرضی پر بڑی عدالت نے یہ رائے زنی کی ہے عرضی گزار کا کہنا تھا کسان احتجاجیوں نے دہلی کی سرحدوں کو بند کر رکھا ہے اس وجہ سے اسے نوئیڈا سے دہلی آنے کے لئے جہاں پہلے 20منٹ لگتے تھے اب دو گھنٹے لگتے ہیں یہ مسئلہ دیگر لوگوں کے لئے بھی ہے پریشانی کے سبب بہت سے لوگوں کو نوکری چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے حالانکہ عرضی گزار کے موجود نہ رہنے کے سبب پیر کو سماعت 20ستمبر تک ٹال دی گئی ہے سپریم کورٹ نے ماضی گزشتہ میں بھی کئی فیصلے دیئے ہیں ان میں کسی بھی واقع کو طول دینے کے سبب اس طرح سے سڑک بند نہیں کی جا سکتی ایسے ہی شاہین باغ مظاہرہ معاملے میں کورٹ نے کہا تھا مظاہرین کو مظاہر ہ کرنے کا حق ہے مگر وہ سڑک کو لاک نہیں کر سکتے پھر بھی سڑکیں بند ہیں ؟سماعت کے دوران اتر پردیش سرکار نے دلیل دی ہے کہ کسانوں کو سمجھایا جا رہا ہے اور کچھ وقت دیا جائے اس پر جسٹس کول نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کا حلف نامہ پڑھا ہے آپ کو بہت وقت دیا جا چکا ہے کسان آندولن کاریوں کے سرکار کی پالیسی منظور نہیں ہے تو وہ اس وجہ سے سڑکوں پر آمدورفت بند کرکے لوگوں کو نقصان نہیں پہونچا سکتے مرکزی سرکار نے بھی اس مسئلے کے حل کے لئے تھوڑا وقت مانگا ہے اس پر عدالت نے مرکز ، یوپی ، ہریانہ سرکار کو دو ہفتے کا وقت دے دیا ہے چاہے سیاسی طور سے یا عدالتی طور سے مسئلے کو سلجھائیں لیکن سڑکوں کو کسی بھی صورت میں بند نہیں کیا جانا چاہئے جنتا کو سڑک بند ہونے کے سبب آنے جانے کی پریشانی ہو رہی ہے کسان پچھلے 8-9مہینوں سے سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں اور مسئلوں کو کوئی حل نہیں نکل رہا ہے اس سے پہلے نئے سرے سے کوشش کرنی ہوگی تاکہ کوئی بیچ کا راستہ نکل سکے اور زور زبردستی سے کسانوں کو ہٹانا صحیح نہیں ہوگا وہاں زیادہ تر بزرگ کسان ہیں کوئی سیاسی راستہ نکالیں تاکہ کسان اپنے اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔
(انل نریندر)
سیاسی تھپڑ کی گونج !
مہاراشٹر کی سیاست میں تھپڑ کی گونج زورو ں پر ہے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے خلاف متنازع معاملے میں درج کیس کے بعد منگل کو ریاستی پولس نے مرکزی وزیر درمیانی و منجھولی صنعت نارئن رانے کو گرفتار کر لیا دیش کی پچھلے 20برس کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب کسی مرکزی وزیرکو گرفتار کیا گیا ملہاڈ کورٹ نے رات ساڑھے گیارہ بجے رانے کی ضمانت کی عرضی منظور کر لی سرکاری وکیل نے کہا رانے کے بیان سے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ساکھ کو ڈینس پہونچی ہے پولس نے سات دن کی ریمانڈ کی درخواست کی تھی عدالت نے اسے خارج کر دیا اور انہیں ضمانت دے دی گرفتاری کے وقت نارائن رانے کھانا کھا رہے تھے ۔ مودی حکومت میں وزیر رانے کی مہاراشٹر میں گرفتار ی کے جواب میں بی جے پی اب تمام اپوزیشن کی لیڈروں کی طرف سے پی ایم مودی یوگی اور دوسروں کے بارے میں بولے گئے کڑوے رول کو ڈھونڈ کر نکال رہی ہے اس کے ذریعے مہاراشٹر اور خاص کر ممبئی میں فروری کے مہینے میں ہونے والے میونسپل کارپوریشن کے چناو¿ کا ماحول تیار کیا جا رہا ہے رانے کی جن آشرواد یاترا کے ذریعے بھی بی جے پی میونسپل چناو¿ کی تیاری کر رہی رانے کا ادھو کو تھپڑ مارنے کے مبینہ بیان یا بی جے پی نیتا بچاو¿ تو نہیں کر رہے ہیں لیکن صاف لفظوں میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اتنی بڑی بات نہیں تھی ایک مرکزی وزیر اور مہاراشٹر کے بڑے لیڈر کو گرفتار کیا جائے جواب میں راہل گاندھی سے لیکر ادھو ٹھاکرے تک کے ماضی میں بولے گئے تلخ الفاظ کو بی جے پی نے گنایا ہے رانے کی گرفتاری سے بی جے پی اور شیو شینا میں لڑائی کی پچ تیار ہو رہی ہے رانے ممبئی سے لیکر کون کنٹھ تک میں بڑا بنیاد رکھنے والے نیتا مانے جاتے ہیں بی جے پی اسی بنیاد پر یہ مان رہی ہے کہ رانے کی یاترا اور گرفتاری سے بی ایم سی اور دیگر مقامی چناو¿ میںاس سے فائدہ ہو سکتا ہے اور وہ شیو شینا کو ممبئی اور کوم کنڈ میں مات دے سکتی ہے نارائن رانے شیو شینا کانگریس اور بھاجپا سبھی پارٹیوں میں رہ چکے ہیں ایسے میں ان سے زیادہ پختگی کی توقع کی جاتی ہے پھر وہ خود آئینی عہدے پر ہیں اس لئے دوسرے آئینی عہدے کے وقار کا بچاو¿ بھی کرنا چاہئے ۔ سوال یہ ہے بھی ہے کہ بیانوں کی بنیاد پر اگر مقدمے درج کئے جانے لگے اور گرفتاریاں ہونے لگیں تو کتنے سارے ممبرا سمبلی و ایم پی اور وزیر جیل میں ہونگے بلا شبہ ایک مثالی فیڈرل ڈھانچے کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی لیڈر شپ اپنے اپنے لیڈروں پر نظر رکھیں اور لگام کسیں دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس ہمام میں سبھی ننگے ہیں نیتا ایک دوسرے کو الٹی سیدھی کہنے سے نہیں کتراتے اور سیاسی بدلے اور رقابت کی کاروائیوں سے دیش کا فیڈرل ڈھانچہ اور ہماری لوک سبھا کمزور ہو رہی ہے یہ بات کتنی جلدی سیاسی پارٹیاں سمجھیں اتنا ہی ایسے ٹکراو¿ سے بچا جا سکے گا۔
(انل نریندر)
26 اگست 2021
کابل سے گرو گرنتھ صاحب کی کاپیاں بھی دہلی پہونچی!
افغانستان میں بھارت سرکار کی نظر بنی ہوئی ہے اس سلسلے مین افغانستان کی راجدھانی کابل میں مقیم ہندوستانی شہریوں سمیت 46افغان ہندو سکھوں کو ایک جہاز کے ذریعے بھارت لایا گیا اس سب کے درمیاں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہاں سے آئے جہاز میں تین شری گرو گرنتھ صاحب کے پاون سو روپ کو محفوظ طریقے پر بھارت لایا گیا اس کا ویڈیو اور فوٹو پیر کو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا جس میں تین سکھ اپنے سر پر گرو گرنتھ صاحب کو اٹھائے نظر آرہے ہیں ہندوستانی سکھوں کےلئے یہ پل جذباتی رہا دہلی گرو پربنک کمیٹ کے صدر منجیند ر سنگھ سرسا نے بتایا کہ مرکزی سرکار اس کے لئے شکریہ کی لائق ہے انہوں نے بتایا 46ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ پوتر گرو گرنتھ صاحب کے ساتھ پاون سو روپوں کو پورے احترام کے ساتھ بھارت لایا گیا سرسا نے اس کے لئے دیش کے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پوری حکومت کا شکریہ اداکیا ہے ست نام واہے گرو ۔
(انل نریندر)
علیحدگی پسندی کا زہر گھولتے حریت گروپ !
جموں کشمیر میں پچھلی دو دہائی سے علیحدگی پسندی کا زہر گھول رہے علیحدگی پسند تنظیم حریت کے دونوں گروپوں پر پابندی لگانے کی تیاری چل رہی ہے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالیرینس مرکزی حکومت کے پاس پابندی لگانے کی تجویز بھیجی گئی ہے اس سے سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کی پریشانی بڑھنا طے ہے حکام کا کہنا ہے کہ جانچ میں پتہ چلا ہے پاکستان کے اداروں سے کشمیر طلبا ءکو ملی ایم بی بی ایس کی سیٹیں بیچ کراس سے پیسہ اکٹھا کیا گیا حریت کانفرنس سے جڑی تنظیموں کے ذریعے مرکزی حکمراں ریاست میںآتنکی فنڈ کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا ثبوت ملنے کے بعد غیر قانونی سر گرمی انسداد ایکٹ (یو اے پی اے )کی دفعہ 3(1)کے تحت حریت پر شکنجہ کسا جا سکتا ہے پہلے بھی کئی معاملوں میں حریت نیتاو¿ں کی ملی بھگت سامنے آچکی ہے اس دفعہ کے تحت اگر مرکزی سرکار کو لگتا ہے کوئی تنظیم ناجائز سرگرمیوںمیںملوث ہے تو اسے غیر قانونی تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تفتیش کے دوران اس بات کے بھی ثبوت ملے ہیں کہ حزب المجاہدین ، گفتران ملت، و لشکر طیبہ کی مدد سے علیحدگی پسند لیڈر و حریت کانفرنس کے گائیڈر اس میں لگے ہوئے ہیں دیش اور بیرونی ملک سے حوالہ سمیت دیگر غیر قانونی چینلوں سے پیسہ اکٹھا کر اس کا استعمال علیحدگی پسندی و دہشت گرد سرگرمیو ںمیں کیا جا رہا ہے سیکورٹی فورس پر پتھراو¿ اسکولوں کو جلانے و پبلک پراپرٹیوں کو نقصان پہونچانے و مجرمانہ سازشوں کے ذریعے دیش کے خلاف جنگ چھیڑنے میں اس پیسے کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیر وادی میں امن کو ٹھینس پہونچایا جا سکے ذرائع کے مطابق حریت پر پابندی لگانے کے لئے کئی معاملوں کو شامل کیا جا سکتا ہے اس میں این آئی اے کی طرف سے ٹیرر فنڈگ کے معاملے میں کئی علیحدگی پسند لیڈروں کو گرفتار کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا ہے ۔ 2017سے حریت کے دونوں گروپوںمیں کئی نیتا اس معاملے میں جیل میں ہے اس میں سید علی شاہ گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ کاروباری زہور احمد بٹالی ، جیلانی کے قریبی ساتھی وتحریک حریت کے ترجمان عیاض اکبر او ر پیر سیف اللہ ، حریت (ایم ) کے ترجمان شہید الاسلام معراج الدین، نعیم خان وغیرہ شامل ہیں حریت کانفرنس ان تنظیموں کے ساتھ 1993میں وجودمیں آئی تھی اس میں پاک پرست اور جماعت اسلامی جے کے ایل ایف دفتران ملت جیسی ممنوعہ تنظیمیں بھی شامل تھیں ۔ 2005میں علیحدگی پسند تنظیم دو گروپوںمیں بٹ گئی کٹر پسندتنظیم کی قیادت سید علی شاہ جیلانی اور دوسرے حریت گروپ کی قیادت میر واعظ عمر فاروق کے پاس آگئی فی الحال مرکزی سرکار نے یو اے پی اے کے تحت 2019میں جماعت اسلامی و جے کے ایل ایف پر پابندی لگا رکھی ہے ۔
(انل نریندر)
افغان خواتین کےلئے شرعی قانون !
شرعی قانون کیا ہے اور طالبان کی حکومت میں افغان خواتین کے لئے اس کے معنیٰ کیا ہیں ؟طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اسلام کی شرعی قانونی سسٹم کے سخت تشریح کے مطابق افغانستان میں حکومت کریں گے افغانستان میں عورتوں کو اسلامی قوانین کے دائرے میں یا شرعیہ کے تحت حقوق ہونگے حالانکہ اس کے معنیٰ بھی صاف نہیں ہیں طالبان نے پچھلی حکومت میں عورتوں کو گھر سے باہر قدم رکھنے پر روک لگائی تھی لڑکیوں کی تعلیم بند کر دی تھی شرع عام کوڑے تک مارے تھے تازہ دور میں طالبان نے یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ اسے کیسے نافذ کرے گا حالانکہ خواتین پرانے عہد می لوٹنے سے ڈر رہی ہیں ۔ طالبان کا شرعی نظام کیا ہے ؟طالبان شرعیت کو اپنی سپریم سسٹم بتاتا ہے طالبان کا کہنا کہ ہے مسلمانوں سے اس کی تعمیل کرنے کی امید کی جاتی ہے حالانکہ جب طالبان کہتا ہے وہ شرعیت قانون رائج کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے وہ جو کرے گا اس سے اسلامی علماءمتفق ہوں گے ۔ طالبان نے 1996-2001کی عہد میں ٹی وی و موسیقی پر پابندی لگاد ی تھی اور ٹرکوں پر گھومتے ہوئے اس کے ممبر وں کے برتاو¿ں ، پہناوے اور تحریک کو روکتے تھے شرع عام بے عزت کرتے تھے عورتوں کو مارتے تھے ۔ انٹرنیشنل ایمونسٹی ادارے کے مطابق 1996میں کابل میں عورتوں کو ناخون پالس لگانے پر طالبان نے عورت کا انگھوٹا کاٹ دیا تھا ماہرین طالبانی سنی لیڈروں کے برتاو¿ کو سمجھ رہے ہیں فی الحال افغانستان میں دو طرح کے برتاو¿ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ایک اصلاح پسند ، پابندی والا بھی ۔ حال ہی میں کابل میں ایک طالبانی خاتون ٹی وی صحافی کو انٹر ویو دیا تو یہ طالبان کا اصلاح پسند چہرہ پیش کرنے کی مہم کا ایک حصہ تھا ۔ کچھ گھنٹوں بعد ہی سرکاری ٹی وی پر خاتون اینکر کو موکل کر دیا گیا طالبان کے ترجمان نے کہا عورتوں کو کام کرنے اور پڑھنے کی اجازت ہوگی جب کی کابل کے باہر کچھ عورتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مرد کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ وزیر خواتین کے نائب وزیر محترمہ ثنا جلیل کہتی ہیں کہ انہیں بہت کم بھروسہ ہے کہ طالبان شریعت کی الگ سے تشریح کریں گے ہمارے لئے شریعت کا مطلب تعلیم کو پہونچ بنانا اور صحت سے لیکر محدود پہونچ بنانا اور حساب تک ابھی تک پہونچ نہیں بنی ہے کوئی گریز نہیں ،خوف حفاظت و روزگار نہیں اور مسافر ایک طرح سے کچھ بھی نہیں ہے شریعت میں میرا نظریہ کو یوں بتایا ہے کہ الزام ثابت ہو جائے تو سز ا کی سہولت ہے حالانکہ یہ عورتوں کو مردوں کے بغیر باہر جانے یا زیادہ تر نوکریاں کرنے سے نہیں روکتا ہے شریعہ میں سخت سزا کیا ہے ؟شریعہ قانون جرائم کو دو برابر زمروں میں تقسیم کر تا ہے ۔ پہلا حد جو سنگین جرم ہے اور اس کے لئے اصول طے کئے گئے ہیں اور دوسرا سنگین جرم اسکی سزاانصاف کرنے والے کے ضمیر پر چھوڑ دی گئی ہے حد والے جرائم میں چوری شامل ہے اس کے لئے مجرم کا ہاتھ کاٹ کر سزادی جا سکتی ہے وہیں اس کے غلط برتاو¿ کرنے پر پتھر مار کر موت کی سزا دی جا سکتی ہے خاتون قاضی جو فیصلہ سناتی ہے کہ دوسری بیوی پر فیصلہ کیسے ہوتے ہیں ؟ کسی بھی قانونی سسٹم کی طرح شریعہ کافی پیچیدہ ہے ا س کا نافذ ہونا پوری طرح سے اس کے جاننے والوں کی علمی صلاحیت اور ان کی تعلیم پر منحصر کرتا ہے اسلامی قوانین کے جج گائیڈ لائن اور فیصلے جار ی کرتے ہیں گائیڈ لائن کو فتویٰ کہا جاتا ہے اسے با قاعدہ قانونی فیصلہ مانا جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
25 اگست 2021
کیا سرکار دیشمکھ کو بچانا چاہ رہی ہے ؟
سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کے سابق وزیرداخلہ اور این سی پی نیتا انل دیشمکھ کیخلاف سی بی آئی جانچ کے احکامات پر مہاراشٹر سرکار سے عدالت نے کئی سوال پوچھے عدالت کا کہناتھا کہ سرکار کی طرف سے سی بی آئی جانچ کے مخالفت کرنے سے ایسا لگتا ہے کہ ریاسی حکومت سابق وزیر داخلہ کا بچاو¿ کررہی ہے انتظامیہ میں بے ضابطگی کے لئے کسی بھی جانچ کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔اور یہ منصفانہ جانچ کی اجازت ہونی چاہیے ۔سی بی آئی جانچ کی اجازت دینے والے ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف مہاراشٹر سرکار نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے ۔اس سے پہلے مہاراشٹر حکومت نے ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ ریاستی حکومت انل دیشمکھ کے خلاف سی بی آئی جانچ میں تعاون کرنا چاہتی ہے اور سی بی آئی نے جو دستاویز مانگے ہیں وہ ناکافی ہیں ۔سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ ریاستی حکومت تعاون نہیں کررہی ہے ۔ہم سی بی آئی کی جانچ کو کمزور نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہم جانچ کو محدود کر سکتے ہیں ۔یہ آئینی عدالت کے اختیارت کو نقصان پہونچانے جیسا ہوگا ۔ بنچ نے کہا یہ خیال بن رہا ہے ریاستی سرکار ریاستی پولیس حکام کی تعیناتی اور ایڈیشنل پولیس انسپکٹر سچن واگے کی بحالی کے پہلوو¿ں پر جانچ کی اجازت نہ دے کر وہ سابق وزیرداخلہ کو بچانا چاہتی ہے ۔اب عدالت کو جانچ کا حکم دینے کے لئے اپنے اختیارات کا استعمال کرنا ہوگا سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کے سابق وزیرداخلہ انل دیشمکھ کی اس عرضی کو خارج کر دیا جس میں انہوں نے کرپشن کے معاملے میں سی بی آئی کے ذریعے ان کے خلاف دائر ایف آئی آر کی اپیل کی تھی ۔جسٹس ڈی وائی چندر چور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے دیشمکھ کے ذریعے ہائی کورٹ کے 22 جولائی کے حکم کے خلاف اپیل کی تھی جس کو عدالت نے خارج کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی ۔اس میں کوئی دشمنی نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
دہشت گردوں کے نشانہ پر بھاجپا لیڈر!
جموں کشمیر کے پلوامہ علاقہ میں سیکورٹی فورس کے ساتھ مڈبھیڑ میں جیش محمد کے تین آتنک وادی مارے گئے ۔جس میں ایک بھاجپا عہدیدار کے قتل میں شامل تھا ۔کشمیر اینج کے پولیس کے اعلیٰ سربراہ وجے کمار نے بتایا مڈبھیڑ میں ہلاک آتنکی وکیل شاہ ترال علاقے میں دو جون کو بھاجپا کے میونسپل کونلسر راکیش پڑیتا کے قتل میں شامل تھا ۔کشمیر میں بھاجپا نیتاو¿ں کی جان خطرے میں ہے ۔نتیجہ سامنے ہے ایک بھاجپا نیتا کے قتل کے بعد آتنکیوں کے ذریعے جاری دھمکیوں کے نتیجہ میں آدھے درجن بھاجپا لیڈر ایک ہفتہ میں بھاجپا کا دامن چھوڑ چکے ہیں ۔تازہ واقعہ میں کولگام میں بھاجپا اسمبلی حلقہ کے انچارج پارٹی سے ناطہ توڑلیا ہے ۔انہوں نے شوشل میڈیا پراستعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بھاجپا سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔علاقہ میں قتل سے نیتاو¿ں میں خوف پایا جاتا ہے ۔کولگام میں بھاجپا اسمبلی حلقہ کے انچارج مبارک احمد بٹ نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے اس علاقہ میں کچھ دن پہلے بھاجپا نیتا کا قتل ہوا تھا ۔اور خاص طور سے اس علاقہ میں بھاجپا نیتاو¿ں پر حملے کئے جارہے ہیں ۔وہیں بھاجپا کشمیر میں اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن اس طرح کے واقعات کے بعد پیدا خوف نے کشمیرمیں بھاجپا کا ساتھ چھوڑنے لگے ہیں ان میں اہم لیڈر بارہمولہ بھاجپا کے یوتھ یونٹ کے چیف معروف بٹ اور پکھواڑہ کے بھاجپا نیتا آصف احمدبھی ہیں ۔اس طرح سے کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر استعفیٰ دینے شروع کر دیا ہے ۔سال 2019 میں 5 اگست کو جموں کشمیر ریاست کے دو ٹکڑے کرنے کے اقدام کے بعد سے ہی بھاجپا کے نیتا ورکر دہشت گردوں کے نشانہ پر تھے اس میعاد میں دہشت گردوں نے کئی پر جان لیوا حملے بھی کئے تھے ۔جان بچانے کی خاطر بھاجپا نیتاو¿ں نے پارٹی کی سیاست سے بھی کنارہ کرنے کا آغاز کر دیا ہے ۔پچھلے سنیچر کو تحریک المجاہدین نے اس بارے میں پوسٹر چپکا دئیے تھے ۔جنہیں بعد میں اتار لیا گیا ۔لیکن وہ اپنا اثر ضرور چھوڑ گئے تھے وادی میں سیاست دانوں کی جانیں خطرے میں ہیں اور انتظامیہ کو ان کی ضروری حفاظت کے لئے بلا تاخیر قدم اٹھانے پڑیں گے ۔پاک نواز دہشت گروپ نہیں چاہتے کہ وادی میں بھاجپا سمیت دیگرایسی سیاسی پارٹیاں وہاں اپنی موجودگی درج کراسکیں ۔بھاجپا وادی میں اپنی جڑیں پکی کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن اگر ان قتلوں پر فوری روک نہیں لگی تو پارٹی سے سبھی کشمیری نیتا بھا گ جائیں گے ۔
(انل نریند)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...