Translater

25 اگست 2021

پنج شیر کے شیروں نے مارے 300 طالبانی!

طالبان نے بیشک قابل پر قبضہ کر لیا ہو لیکن افغانستان کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں قبضہ کرنے کا اس کا خواب شاید ہی پورا ہو اس پر قبضہ نہ تو بیس سال میں نہ ہو سکا اور نہ ہی اب ،قابل پر قبضہ کے بعد طالبانی جنگبازاب باغیوں کے گڑھ پنج شیر وادی کی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن اس دوران انہیں زبردست دھچکا لگا ہے ۔پتہ چلا ہے بنج شیر کے جنگ بازوں نے گھات لگا کر حملہ کیا اوراس میں 300 طالبانیوں کو مار ڈالا ۔انہوں نے نہ صرف مارا بلکہ کئی طالبانیوں کوقیدی بھی بنا لیا ۔اس حملے میں طالبانیوں کو بڑا نقصان پہونچا ہے ۔طالبان باغی جنگبازوں کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس حملے میں 300 طالبانی جنگجوو¿ں کو مار گرایا ہے ۔بی بی سی صحافی خالدا ٹیم نے کچھ طالبانیوں کی تصویر ٹوئیٹ کی ہے ۔انہوں نے لکھا ہے طالبان باغیوں نے مجھے بتایا یہ بغلان وادی کے اندر جنگ کے دوران قیدی بنائے گئے طالبانی ہیں ۔جانکاری کے مطابق طالبان نے قاری فصیح الدین حفیظ اللہ کی قیادت میں پنج شیر پر حملہ کرنے کے لئے سینکڑوں لڑاکے بھیجے تھے لیکن بغلان صوبہ کی اندراوی وادی میں گھات لگائے بیٹھے پنج شیر کے لڑاکوں نے ان پر حملہ کر دیا ۔جس میں بالا تعداد میں طالبانی مارے گئے ۔اس سے طالبان کا سپلائی روٹ بھی بلاک ہو گیا ۔جب سے طالبان نے افغانستان پر کنٹرول کیا تب سے پنج شیر وادی میں باغی لڑاکوں کے اکٹھا ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ۔بتایا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ تعداد میں افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں کی تعداد ہے ۔اس گروپ کی قیادت ناردن الائنس کے چیف رہے مجاہد الدین ،کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کررہے ہیں اینٹی طالبان فورس کے ترجمان علی میزم مزاری نے بتایا کہ راجدھانی قابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پنج شیر مین آگئے ہیں ۔پنج شیر میں احمد مسعود نے تقریباً 9000 جنگ بازی فوجیوں کو اکٹھا کیا ہے ۔نیوز ایجنسی ایف این پی نے بتایا کہ اس علاقہ میں درجنوں رنگ روٹ ٹریننگ کی مشقیں اور گھٹنوں کے بل چلنے کی پریکٹس کرتے دکھائی دئیے ہیں ۔لڑاکوں کے پاس بڑی گاڑیاں بھی ہیں ۔پاکستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے بھی حملے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اور طالبان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب سے طالبانیوں پر بڑا حملہ کیا گیا اس کے لئے ایک پیس زندہ واپس آنا بھی بڑی چنوتی تھی ۔اب طالبان نے پنج شیر میں اپنے لڑاکوں کی تعداد بڑھا دی ہے ۔صالح لکھتے ہیں کہ پڑوسی اندراو¿ صوبہ میں مرغی کھانے کے بعد طالبان نے اپنے لڑاکے پنج شیر وادی میں داخل کرکے وہاں تعینات شروع کر دیا ہے ۔اس درمیان سالان ہائی وے کو ہمارے لڑاکون نے بند کر دیا ہے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سے جانے سے بچنا چاہیے ۔پنج شیر کے لیڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے کہا کہ وہ اپنے دائر اختیار علاقہ میں آنے والے علاقوں کو طالبان کو نہیں سونپیں گے ۔پنج شیر کے علاقہ ہر صورت میں خود کو تیارکررہے ہیں ۔ (انل نریندر)

24 اگست 2021

کابل میں ہندوستانیوں کے اغوا سے کھلبلی !

کابل میں پھنسے ہندوستانیوں کو وہاں سے نکالنے میں لگا ہندوستانی وزارت خارجہ میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب سنیچر کی دوپہر افغانستان کی میڈیا نے انٹرنیٹ میڈیا پر یہ خبر ڈال دی کہ طالبان نے قریب 150ہندوستانی کو اغوا کر لیا ہے وزارت خارجہ کے ملازمین نے ان ہندوستانیوں کو کابل و آس پاس کے دوسرے شہروں سے بہت مشکل سے ایئر پورٹ پہونچایا تھا چند منٹوں میں نئی دہلی سے واشنگٹن اور کابل کو فون کئے گئے حالانکہ کچھ دیر بعد یہ خبرآئی کہ ان ہندوستانیوں کا اغوانہیں ہوا تھا بلکہ طالبان ان کو پاس کی سیکورٹی چوکی پر لے گئے تھے جہاں سبھی کاغذات کی جانچ کے بعد سبھی کو چھوڑا گیا دیر رات کو ملی اطلاع کے مطابق یہ سبھی با حفاظت ایئر پورٹ کے اندر چلے گئے اور وہاں سے انہیں بھارت بھیج دیا گیا وزارت خارجہ کے ذرائع نے پہلے ہی صاف کر دیا تھا کہ کسی بھی ہندوستانی کا اغوا نہیں کیا گیا طالبان آتنکی جانچ کے لئے سیکورٹ فور س لے گئے تھے ان میں مقامی سکھ اور ہندوفرقے کے لوگ شامل تھے جو پناہ لینے کے لئے بھارت آنا چاہتے ہیں افغان میڈیا نے سب سے پہلے یہ خبر دی تھی کہ طالبان نے ہندوستانیوں کا اغوا کر لیا ہے لیکن بعد میں اس کی تردید آگئی تقریباً ایک گھنٹے بعد انہوں نے بتایا کہ سبھی ہندوستانیوں کو چھوڑ دیا گیا اور وہ ایئر پورٹ جا رہے ہیں ان کا اغوا نہیں بلکہ پوچھ تاچھ کی گئی تھی ۔ (انل نریندر)

وہاں کیسے رہیں ۔۔۔بیٹوں کو اٹھا لے جاتے ہیں طالبان!

افغانستان میں رہے ایک شخص نے کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ گولیوں کی گونج ، بم دھماکوں کی ہر طرف آوازیں اور پھیل رہے تشدد سے نہیں لگتا تھا کہ اب جان کیسے بچے گی بہر حال جان بچتے بچاتے کسی طرح کابل ایئر پورت پہونچا باہر گولیاں چل رہیں تھیں وہ اندر کسی طرح پہونچا اور فلائٹ ملی ۔ افغانستان کی سرحد میں رہنے تک یقین نہیں ہو رہا تھا سنیچر کی شام دہلی ہوائی اڈے اترنے کے بعد راحت کی سانس لی اپنے ماں باپ ایک بھائی دہلی پہونچے اس افغانی شہری نے بتایا کہ حالات کی جانکاری دیتے وقت اس کی آنکھوں میں دہشت صاف جھلک رہی تھی وہیں ایک خاتون نے بتایا کہ افغانستان میں وہ کیسے رہیں طالبانی بیٹیاں اٹھا لے جاتے ہیں اس کے خوف سے وہاں بڑی تعداد میں افغانی شہری نکلنے کے فراق میں ہیں ہر کسی کا اپنے اور اپنے خاندان کی جان کی فکر ہے ۔وہ بہت ہی خوش قسمت والے ہیں جو بھارت پہونچنے میں کامیاب رہے لیکن ہوائی سروس بند ہونے سے افغانی شہری اتوار سے افغانستان کے الگ الگ ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے ہیں ایک افغانی شہری نے بتایا کہ اس نے اپنے رشتہ دارو ں کو ہندوستان آنے کا انتظام کر رکھا تھا لیکن رات کو فلائٹ اچانک منسوخ ہونے پر وہ واپس گھر چلے گئے اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ افغانستان میں رہ رہے اپنے رشتہ داروں کی مدد کیسے کریں طالبان کے پچھلے کارنامے اور وقت کے ساتھ بدلتے فیصلوں سے افغان شہریوں کا بھروسہ اٹھ چکا ہے ان شہریوں میں ایک خاتون صحر نے بتایا کہ طالبانیوں پر کوئی یقین نہیں کرتا کیونکہ وہاں لڑکیوں کی تعلیم پر ساتویں کلاس کے بعد پڑھنے پر پابندی ہے افغانستان کے دور دراز صوبوں میں مقیم پریواروں میں 14سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو زبردستی اٹھا لے جاتے ہیں یہ منظر بتا کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہتی ہے کہ اب سب کچھ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے وہی جانتا ہے کہ آگے کیا ہوگا افغانستان کے لوگوں کی زندگی کیسے گزرے گی ؟اپنی جمع پونجی کے ساتھ بھارت آنے والے لوگوں میں کئی سرکار ی ملازم بھی ہیں طالبانی فرمان کو انسانیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا شہری پناہ گزیں کے طور پر کسی دیش میں زندگی جینے کے لئے تیار ہیں لاجپت نگر دہلی میں موجود افغان شہریوں نے حکومت ہند سے گزارش کی ہے جو لوگ افغانستان میں پھنسے ہیں انہیں لانے کے لئے قدم اٹھائے جائیں تاکہ انہیں بھر پور زندگی جینے کا موقع مل سکے بھارت کی طرف سے اس کے لئے کی جا رہی کوششوں کی تعریف وہاں سے آنے والے لوگ کر رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

جب ملزم تعاون دے رہا ہے تو گرفتاری کیوں؟

جس دیش کی جیلوں میں بند قیدیوں میں قریب 70فیصدی قیدی مقدمے زیر سماعت ہوں اور جہاں چارج شیٹ برائے نام ہونے سے گرفتاری کو ضروری سمجھ لیا گیا ہو وہاں ہر ملزم کی گرفتاری کی کے جواز کو خارج کرتی بڑی عدالت کا حالیہ فیصلہ بے حد با جواز اور دور رش اہمیت کا حامل ہے سپریم کورٹ نے پولس کی طرف سے ریگولر طور سے ہور رہی گرفتاری کو لیکر تشویش ظاہر کی ہے اس کا کہنا تھا کہ شخصی آزادی کو آئینی مینڈیٹ کا ایک اہم ترین پہلو مانتے ہوئے کہ جب ملزم جانچ میں تعاون کر رہا ہواور یہ ماننے کا کوئی کا سبب نہیں ہے کہ وہ فرار ہو جائے گا یا اسے اثر انداز کرے گا تو گرفتاری کو روٹین طریقہ نہیں بنانا چاہئے ۔ جسٹس سنجے کشن کور وار جسٹس رشی کیش رائے کی بنچ نے کہا کہ گرفتار ی سے کسی شخص ساک اور عزت کو ایک بے جا طریقے سے نقصان پہونچتا ہے پولس کو اسکا سہارہ نہیں لینا چاہئے کہ کیونکہ قانون کے تحت گرفتاری کی اجازت ہے ۔ پیشگی ضمانت سے متعلق ایک شخص کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور جواز پر مبنی اور دور اندیشی کے اہمیت کا حامل ہے چارج داخل کرتے وقت ملزم کی گرفتاری ضروری نہیں ہے ۔جکملزم کی گرفتاری تبھی ہو سکتی ہے جب معاملہ سنگین ہو یا ملزم کے بھاگ جانے یا اس کے ذریعے گواہ پر دباو¿ ڈالنے کا اندیشہ ہو یا پھر پوچھ تاچھ بے حد ضروری ہو عموماً عدالتیں چارج شیٹ کو ریکارڈ پر لینے کے لئے خانہ پورے کے طور پر سبھی ملزمان کی گرفتاری پر زور دیتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ غلط روایت ہے سی آر پی سی کی دفعہ 170کے مقاص کے بر عکس ہے جس میں ملزمان کی حراست کے بارے میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری بہت سنگین معاملہ ہے اسی سال مارچ میں ایک دوسرے معاملے میں الہٰ آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد من مانی گرفتاری شخص کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ایسی گرفتاری کرپشن کا ذریعہ بھی بنتی ہے شخص کی آزادی کی بنیادی حقوق میں کٹوتی کی من مانی چھوٹ نہیں دی جا سکتی جہاں ملزم سے پوچھ تاچھ کے لئے اس کو حراست میں لینا ضروری ہے گرفتاری بھی اسی میں ہونی چاہئے مطلب گرفتاری آخری متبادل ہے لیکن ہماری پولس کو زیادہ تر ان آخری متبادل کو پہلا متبادل اپناتے ہوئے دیکھا گیا ہے پولس اور گرفتاری کا خوف ایسا ہے کہ لوگ گرفتاری سے بچنے کے لئے نہ صرف کیسے کیسے جرائم کو انظام دے ڈالتے ہیں عدالتوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جہیز اذیت کے 60فیصدی معالے غیر ضروری و غیر مناسب ہوتے ہیں غیر ضروری گرفتاری کے سبب 43.2 فیصدی سہولیتا بے کار چلی جاتی ہیں اس لئے پولس کو مخصوص حالت میں ضروری ہونے پر ہی گرفتاری کرنی چاہئے جس دیش کی جیلوں میں بند قیدیوں میں قریب 70فیصدی قیدی زیر سماعت ہوں اور جہاں بات بات میں گرفتاری کے خطرناک ٹرینڈ کی شکل لے چکا ہو ۔ وہاں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بہت اہم ترین ہے ۔ (انل نریندر)

22 اگست 2021

دہلی سرکار اب الیکٹرک گاڑیوں میں ہی سواری کرے گی!

دہلی سرکار کے سبھی وزیر اور افسران ابالیکٹرک گاڑیوں کی سواری کر سکیں گے دہلی سرکار نے اپنی سبھی کاروں کو بیٹری کی گاڑی میں بدلنے کا کام شروع کر دیا ہے اس کا اعلان دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ کیلاش گہلوت نے فروری2021میں کیا تھا اور دہلی سرکار کے افسران اپنے استعمال میں لائے جانے والے سبھی لیز یا کرائے پر لی گئی کاروں کو چھ مہینے کے میعاد کے اندر الیکٹرک وہیکل میں بدل دیا جائےگا دہلی سرکار کوشش کر رہی ہے کہ اگست کے آخری ہفتے میں سبھی محکموں میں الیکٹرک کاروں کا استعمال شروع ہوجائے گا تقریباً14500الیکٹرک گاڑیوں کا رجسٹریشن ہوا ہے دہلی میںالیکٹرک گاڑیوں کی بکری پر اب تک دہلی سرکار کی اسکیم سے 9ہزار سے زیادہ لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے دہلی سرکار نے 8500سے زیادہ الیکٹرک گاڑیوں کے لئے اب تک تقریباً32کروڑ روپئے سے زیادہ کی سب سڈی دے چکی ہے پچھلے ایک سال میں کورونا کی دو لہروں کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کی بکری پر اثر دیکھنے کو ملا ہے اس کے باوجود جون 2012کے بعد سے ایک بار پھرسے گاڑیوں کی بکری بڑھ گئی ہے دہلی سرکار کا یہ فیصلہ لائق تحسن قدم ہے پیٹرول اور دیگر خرچوں میں کمی آئے گی ۔ (انل نریندر)

پنجرے میں قید طوطے کو آزاد کریں!

سپریم کورٹ کے بعد اب مدراس ہائی کورٹ نے مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی)کو لیکر بڑا تبصرہ کیا ہے ہائی کورٹ نے منگل کو مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ سرکار کے انتظامی کنٹرول کے بنا سی بی آئی کو اس کی مختاری یقینی کرنے کے لئے آئینی درجہ دینے والا قانون بنانے پر غور کرے اور یہ پنجرے میں بند طوطے کو رہا کرنے کی کوشش کے تحت سی بی آئی کے کام کاج میں بہتری لانے کے لئے عدالت کے ذریعے جاری ہدایت کا ایک حصہ تھا عدالت نے کہا کہ اپوزیشن کے مطابق سی بی آئی بھاجپا کی قیادت والی مرکزی سرکار کے ہاتھوںمیں ایک سیاسی ہتھیار بن گئی ہے جسے آزاد کرانے کی ضرورت ہے ۔ عدالت نے کہا سی بی آئی کو کنٹرولر و آڈیٹر(کیگ)اور چناو¿ کمیشن کی طرح مختار ہونی چاہئے جو صرف پارلیمنٹ کے طئیں جواب دہ ہے بنچ نے کہا عدالت جب بھی کوئی سنگین معاملہ ایجنسی کو سونپنا چاہتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے کیونکہ جانچ کے لئے اس کے پاس وسائل اور مین پاور کی کمی ہے ہائی کورٹ مدوروئی بنچ کے جسٹس این وی روباکرن اور جسٹس گنگولی پر مشتمل بنچ اور عدالت تمل ناڈو رام ناتھن پورم ضلع کے عرضی گزاروں کی ایک عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں 3سو کروڑ روپئے کے چٹ فنڈ گھوٹالے کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی مانگ کی گئی تھی جج صاحبان نے کہا وجہ یہ ہے کہ وسائل اور مین پاور کی کمی کی وجہ سے اس کی کمزوری بار بار دوہرائی جاتی ہے موجودہ سسٹم میں تبدیلی لانے کی بات کرتے ہوئے بارہ نقات کی ہدایت میں عدالت نے کہا کہ یہ حکم پنجرے میں بند طوطے(سی بی آئی )کو چھڑانے کی کوشش ہے ۔ عدالت نے سی بی آئی سے سائبر فورنسک اور مالی کمپٹرول آڈٹر جنرل کے ماہرین کی مستقل طورسے بھرتی کے لئے چھ ہفتے کے اندر ایک پالیسی بنانے کو کہا تاکہ اس کے سبھی محکموں کو معاملہ در معاملہ کی بنیاد پر ایکسپرٹ ہونے کے بجائے بلکہ وقف ہو سکیں عدالت نے کہا کہ ایجنسی کی مختاری تبھی یقینی ہوگی جب اسے آئینی درجہ دیا جائے گا ۔ عدالت نے کہ بھارت سرکار کو زیادہ اختیارات یا دائر اختیار کے ساتھ آئینی درجہ دینے والے الگ ایکٹ پر غور کرنے اور فیصلہ لینے کی ہدایت دی جاتی ہے ۔ (انل نریندر)

طالبان کی طاقت کو دوہری چنوتی!

افغانستان میں بندوق کی طاقت پر اقتدار حاصل کرنے والے طالبان کی حکومت کے خلاف افغانستان کے اندرسے عالمی سطح پر بغاوت اور سختی شروع ہوگئی ہے بھارت امریکہ نیٹو کے ممبران کے سمیت دنیا کے 150ملکوں نے طالبان کو تسلیم نہ کرنے کا عہد کر لیا ہے ۔ انٹر نیشنل مانٹری فنڈ نے صاف کر دیا ہے کہ نئی طالبانی سرکار کو فی الحال قرض یا دوسری سہولیات دستیاب نہیں ہونگی وہیں دوسری طرف آئی ایم ایف نے 460ملین ڈالر کی مالی مدد روک دی ہے جو اس ہفتے دی جانی تھی اس کے علاوہ امریکہ نے افغانستان کے سینٹرل بنیک کی 4.5عرب ڈالر کے اثاثے فریج کر دیئے ہیں ہتھیار بیچنے کے سودے بھی منسوخ کر دیئے ہیں ساتھ ہی افغانستان کی ہونے والی نقدی کی سپلائی بھی روک دی ہے امریکی صدر جو بائیڈن نے آئی ایم ایف پر دباو¿ بنایا ہے کہ افغانستان کے طالبان حکومت کو مالی مدد نہ دی جائے اس کے بعد آئی ایم ایف نے افغانستان کو کرڑوں ڈالر کی مالی مدد دینے کی اسکیم پر فی الحال روک لگا دی ہے بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سرکار پر ہتھیار بکری پر روک لگانے کے ساتھ ساتھ ڈیفنس کے اداروں کے لئے بھی جاری کئے گئے نوٹس میں خارجہ محکمہ کے فوجی امور کے بیورو نے کہا کہ افغانستان کی مالی یا ہتھیاروں کی منتقلی کو لیکر جائزہ لیا جائے گا ادھر افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کی فوج نے طالبان سے کابل کے نارتھ میں پرونس میں علاقے پر قبضہ کر لیا ہے کابل میں ایک فوجی ذرائع نے روسی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک کو بتایا کہ حال ہی میں اس علاقے میں لڑائی ہو رہی ہے افغانستان کے پہلے نائب صدر امراللہ کی فوج نے اب پنچ سیل علاقے میں لڑائی چھڑی ہوئی ہے فی الحال جنرل عبدالرشید کی قیادت میں 10افغان فوج کے جوانوں کو اس خطے میں بھیجا جا رہا ہے یہ علاقہ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ یہاں سے ایک حکمت عملی کے طور سے اہم ترین سڑک سرنگ کے ذریعے ہوکر گزرتی ہے جو کابل کو نارتھ افغانستان کے سب سے بڑے شہر مزار شریف سے جوڑتی ہے تقریباً پورے افغانستان میں قبضے کے با وجود ابھی ایک ایسا علاقہ ہے کہ جہاںپر طالبان کے خلاف جنگ کی شروعات ہو سکتی ہے وہ علاقہ ہے پنچ شیل وادی ۔ ناردن ایلائنس کے سابق کمانڈر احمد مسعود کے اس گڑھ میں طالبان کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا ہے نائب صدر صالح نے اپنے آپ کو افغانستان کا صدر بننے کا دعویٰ کر دیا ہے سابقہ صدر اشرف غنی کے بھاگنے کے بعد افغان آئین صاف کہتا ہے کہ ایسی صورت میں نائب صدر صدر کا عہدہ سنبھالے گا افغانستان میں1978سے ہی خانہ جنگی چھڑی ہوئی ہے لیکن اس دوران راجدھانی کابل کے قریب اس پنچ شیل وادی پر کسی کا قبضہ نہیں ہے پہلے روس کی فوج اور پھر طالبان نے یہاں قبضے کی کئی کوششیں کی تھیں لیکن ناکام رہے امریکہ نے بھی اسی علاقے میں گھسنے کی کوشش نہیں کی ناردن ایلائنس کو 1990کی دھائی میں افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مورچہ کھولنے کے لئے جانا جاتا ہے اس ایلائنس سے صرف کزاخ اور طالبان مخالف مجاہدین ہی لڑ رہے تھے بعد میں دیگر قبیلوں کے جنگ باز بھی اس لڑائی میںشامل ہو گئے وزیر داخلہ احمد شاہ مسعود نے ناردن ایلائنس کی قیادت کی تھی اب ان کے بیٹے احمد مسعود مورچہ سنبھال رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...