Translater

15 دسمبر 2019

آخر حافظ سعید پر کس گیا شکنجہ

پاکستان نے بدھوار کو آخری بار ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ اور جمعتہ الدوہ کے چیف حافظ سعید پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے مالی کاروائی ٹاسک فورس کے دباﺅ کے بعد لاہور کی دہشتگردی انسداد عدالت نے آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی سعید پر دہشتگردی کے خلاف مالی فراہمی کے معاملے میں الزامات طے کر دئے ہیں سعید کے علاوہ اس کے تین ساتھیوں پر بھی الزامات طے کئے گئے ہیں پنجاب پولس کے دہشتگردی انسداد محکمے نے 17جولائی کو سعید اور اس کے ساتھیوں پر ایف آئی آر درج کی تھی اورسعید کو گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ لاہور کی کورٹ لکھ پت جیل میں بند ہے ۔معاملے لاہور ،گجراوالہ اور ملتان میں اس کی مختلف مالی ٹرسٹ کی بھی نگرانی کی گئی اور ان ٹرسٹوں کے ذریعہ سے دہشتگردوں کو پیسہ دینے کے لے عطیات اکھٹے کر نے کے مقدمے درج کئے گئے ہیں پاکستان کی عدالت میں سعید کے خلاف الزامات طے ہوئے ہیں تو اب امکانات یہی ہے کہ اس کے پیچھے وہاں کی حکومت کی قوت ارادی کم اور بین الا اقوامی دباﺅ زیادہ رہا سنیچر کو اسی عدالت میں جس طرح کے حالات بنے اس سے یہ اندیشہ کھڑا ہو گیا تھا کہ حافظ سعید کو رعایت دینے کے لے زمین بنائی جا رہی ہے کیونکہ متعلقہ افسر انتہائی پرفائل معاملے کی سماعت میں بھی ایک معاون ملزم کو پیش کرنے میں ناکام رہے تھے ۔حافظ سعید اور دہشتگردی کے سلسلے میں شاید ہی کوئی ثبوت چھپا رہا خاص طور پر ممبئی آتنکی حملے کے معاملے میں الزام لمبے وقت سے مبینہ طور سے سامنے تھے اس واردات سمیت دوسری آتنکی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو حافظ سعید کی انجمنوں نے پیسے میہا کرائے تھے اور اہم سازشی بھی کہا تھا لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ جس حملے میں سو سے زیادہ لوگ مارے گئے اس کے ذمہ دار ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس پہل نہیں کی جبکہ بھارت کی جانب سے پیش کئے گئے ثبوت اس بات کے صاف گواہ تھے وہ حملہ پاکستان کی آتنی تنظمیوں کی طرف سے کروایا گیا تھا لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ اس کی حد میں آتنکی تنظیموں کو یا آتنکیوں کو پناہ دی جاتی ہے لیکن بڑھتے عالمی دباﺅ میں اس مسئلے پر پاکستان کو دفع میں آنا پڑا دیکھیں اب بھی ایمانداری سے پاک آگے بڑھتا ہے یا نہیں ؟

(انل نریندر)

نربھیا کے قصورواروں کو پھانسی میں لگیں گے چھ گھنٹے

نربھیا معاملے کے قصورواروں کو پھانسی دینی کی تاریخ ایک بار پھر ٹل گئی ہے کیونکہ دو قصورواروں کے ذریعہ عرضی کی وجہ سے اب درندوں کو پھانسی 18دسمبر کے بعد ہی ممکن ہے سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو دونوں قصورواروں کی عرضیوں نے پھانسی کو لٹکا دیا ہے ۔امید ہے کہ یہ دونوں عرضیاں بھی سپریم کورٹ خارج کر دے گا بے شک ابھی پھانسی کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے لیکن تہاڑ جیل انتظامیہ نے اس کی پوری تیاری کر لی ہے پھانسی کے چار تختے تیار کئے گئے ہیں اور ان کا ٹرائل بھی ہو گیا ہے نربھیا معاملے کے چاروں قصورواروں ونے ،مکیش،پون،اکشے،تہاڑ جیل لائے جا چکے ہیں ۔ڈائرکٹر جنرل جیل سندیپ گوئل کا کہنا ہے کہ پھانسی کے لئے تیاریاں پوری کی جا رہی ہیں ٹرائل کے لئے تہاڑ جیل میں تمام ضروری سامان کا استعمال ہو رہا ہے ۔قصورواروں کی پھانسی کے لئے بکسر جیل سے رسیاں تہاڑ جیل آچکی ہیں جلاد کا نام بھی طے ہو گیا ہے انہوںنے کہا کہ ہم نے دو جلادوں کا انتظام کیا ہے ممکن ہے ایک ہی جلاد دے گا چاروں قصورواروں کی ہر 24گھنٹے صحت کی جانچ کی رہی ہے چھ سی سی ٹی وی کیمروں سے ان کی نگرانی ہو رہی ان کی کس سے اور کیا بات ہو رہی ہے وہ بھی ریکارڈ ہو رہی ہے ۔تہاڑ سے فون آتے ہی پانچ گھنٹے کے اندر جلاد تہاڑ پہنچ جائیں گے اترپردیش جیل سروس کے ڈائرکٹر جنرل آنند کمار نے کہا کہ تہاڑ جیل انتظامیہ نے دو جلاد مانگے ہیں قصورواروں کے لئے اگر ڈیتھ وارنٹ جاری ہوتا ہے تو پھانسی کی کارروائی پوری ہونے میں 6گھنٹے لگیں گے یہ پہلا موقعہ ہوگا جب تہاڑ جیل نمبر تین میں بنا پھانسی گھر اتنی ہی دیر کے لئے کھلا رہے گا اس دوران جیل نمبر تین بند رہے گی ۔قصورواروں کی جس دن پھانسی دی جاتی ہے اس دن صبح پانچ بجے قصوروار کو اُٹھا دیا جاتا ہے نہانے کے بعد قصورار کو پھانسی گھر کے سامنے کھلے احاطے میں لایا جاتا ہے یہاں جیل سپرین ٹینڈینٹ اور ڈپٹی سپرین ٹنیڈینٹ میڈیکل افسر سب ڈویزنل مجسٹریٹ اور سیکورٹی عملہ موجود رہتے ہیں جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مجرسٹریٹ قصوروار سے ان کی آخری خواہش کے بارے میں پوچھتے ہیں عام طور پر پراپرٹی ہو وہ کسی کے نام کرنے یا کسی اپنے عزیز کو آخری خط لکھنے کی بات سامنے آتی ہے اس وقت قریب 15منٹ کا وقت قصوروار کو دیا جاتا ہے اس کے بعد جلاد قصوروار کو کالے کپڑے پہناتا ہے اس کے ہاتھ کو پیچھے کر کے رسی یا ہتھ کڑی سے باندھ دیا جاتا ہے یہاں سے قریب سو قدم کی دوری پر بنے پھانسی گھر پر قیدی کو لے جانے کی کارروائی شروع ہوتی ہے وہاں جلاد اس کے منھ پر کالے رنگ کا کپڑا باندھ کر گلے میں پھندا ڈالتا ہے اس کے بعد قصوروار کے پیروں کو رسی سے باندھ جاتا ہے جب جلاد اپنے انتظام سے مطمئن ہو جاتا ہے تب وہ جیل سپرن ٹینڈنیٹ کو آواز دے کر بتاتا ہے کہ اس کے انتظام پورے ہو چکے ہیں آگے کے لے حکم دیں جب جیل سپری ٹینڈینٹ ہاتھ ہلا کر اشارہ کرتے ہیں تو جلاد لیور کھینچ لیتا ہے اس کے دو گھنٹے بعد میڈیکل افسر پھانسی گھر کے اندر جا کر یہ یقینی کرتے ہیں کہ پھندے پر جھول رہے شخص کی موت ہوئی ہے یا نہیں اس کے بعد میڈیکل افسر ڈیتھ سرٹی فیکٹ جاری کرتا ہے تب پھانسی کی کارروائی مکمل ہو جاتی ہے اس خانہ پوری میں تین گھنٹے لگ جاتے ہیں تہاڑ جیل گھرنمبر تین میں جو پھانسی گھر بنا ہے اس میں ایک بار میں ابھی تک دو قصورواروں کو پھانسی پر لٹکانے کی سہولت ہے ذرائع نے بتایا کہ نربھیا کے قصوراروں کے خاص طور پر لمبا تختہ بنایا گیا ہے ۔جس میں چاروں کو ایک ساتھ کھڑا کر کے پھانسی دی جا سکے اس طرح چاروں قصوراروں کو پھانسی دینے میں قریب چھ گھنٹے لگ جائیں گے ۔

(انل نریندر)

14 دسمبر 2019

یہ ہیں دنیا کی سب سے کم عمر والی وزیر اعظم

فن لینڈ کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی نیتا سب سے کم عمر کی وزیر اعظم بن گئی ہیں 34سالہ وزیر ٹرانسپورٹ صنا مرین اتوار کو ہیلن سکی میں دیش کی وزیر اعظم چنی گئی ہیں وہ دیش کی نہیں دنیا کی سب سے نوجوان وزیر اعظم ہیں مریم سے پہلے یوکرین کی وزیر اعظم گیلکسی ہونا معروک کی عمر 35برس ہے اپنی عمر سے متعلق سوالوں کے جواب میں فن لینڈ کی نئی وزیر اعظم مرین کہتی ہیں کہ میں نے کبھی اپنی عمر یا خاتون ہونے کے بارے میں کبھی فکر نہیں کی میں کچھ وجوہات سے سیاست میں آئی اور ان چیزوں کے لئے ہم نے ووٹروں کا بھروسہ جیتا صنا 16نومبر1985کو فن لینڈ میں پیدا ہوئی تھیں ۔مرین ہم جنس والے پارٹنر کی اولاد ہیں سال 2012میں ایڈمنسٹریٹو سائنس میں ٹیمپیر یونیورسٹی سے اعلیٰ ڈگری حاصل کی ۔27سال کی عمر میں ہی ٹیف پیر مونسپل کونسل کی چیف بن گئیں ۔جون 2019میں سرکار میں وہ ٹرانسپورٹ و مواصلات وزیر رہیں صنا کو وزیر اعظم اینٹی رینا کے استعفی کے بعد سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے وزیر اعظم کے عہدے کے لئے چنا ہے وہ پانچ پارٹیوں کے لیفٹ اور سینٹرل اتحاد کی قیادت کر رہی ہیں ان سبھی پارٹیوں کی اتفاق سے صدر خواتین ہی ہیں ۔دیش میں ڈاک ہڑتال سے نمٹنے میں ناکامی کے بعد اینٹی لینا نے اتحاد کا اعتماد کھو دیا تھا اور انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا تھا میڈا رپورٹس کے مطابق صنا مرین کی پرورش انوا فیملی میں ہوئی تھی وہ کرائے کے ایک اپارٹمینٹ میں اپنی ماں اور ان کی خاتون پارٹر کے ساتھ رہتی تھیں انہوںنے فن زبان میں 2015میں کہا تھا کہ بچپن میں وہ خود کو ایکلاچار محسوس کرتی تھیں کیونکہ وہ اپنے خاندان کے بارے میں کھلے طور پر بولنے سے کتراتی تھیں ان کی ماں ہمیشہ ان کی ہر بات کی ہمایت کرتی رہی اور یقین دلایا تھا کہ وہ جو چاہیں کر سکتی ہیں ۔اپنے خاندان کی وہ پہلی لڑکی تھیں جو یونیورسٹی تعلیم تک پہنچ پائیں ایسا کم ہی امکان ہے کہ صنا مرین پالیسیوں میں کوئی تبدیلی کریں گی کیونکہ ان کے دفتر سنبھالنے کے دوران اتحاد اس پروگرام پر متفق ہوا کہ ہے کہ اسکی ڈیونی دیشوں میں صنا مرین تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں یورپی یونین کا چیر مین کا عہدہ اس وقت فن لینڈ کے پاس ہے اور ایسی امید ہے کہ بروسیلس میں یورپی یونین کانفرنس سے پہلے انہیں ایم پی چن لے اور انہیں چیر مین بنا دے ۔

(انل نریندر)

روس پر چار سال کےلئے پابندی ،اولمپک سے باہر

ورلڈ اینڈی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا)نے ڈوپنگ(نشہ)سے متعلق بے قاعدگیوں کے چلتے پیر کو روس کے خلاف سخت فیصلہ لیتے ہوئے اس پر چار سال کے لئے پابندی لگا دی ہے ۔اس فیصلے پر کھیل دنیا حیرت زدہ ہے ۔ڈوپنگ کا مسئلہ ہر جگہ سنگین مسئلہ ہے اس حقیقت سے کوئی دیش ،کھیل انجمن اور کھلاڑی انکار نہیں کر سکتے کہ ڈوپنگ سے بالکل علیحدہ ہے جب سے کھیل میں پیسہ اور رسوخ بڑھا ہے تب سے طاقتور داواﺅں یا ممنوعہ منشیات کے استعمال کرنے کا چلن بھی اتنی تیزی سے پروان چڑھا ہے ۔وارڈا کی پابندی کا مطلب ہے کہ اگلے سال ٹوکیو اور چار سال بعد بیجنگ میں ہونے والے اولمپک اور 2022میں قطر میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ فٹبال جیسے اہم ترین کھیل مقابلوں میں روس حصہ نہیں لے سکے گا ۔البتہ ڈوپنگ کی آنکھ سے دور رہے اس کے شخصی طور پر اولمپک کے علیحدہ سے پلیر کی شکل میں حصہ لے سکتے ہیں ،لیکن وہاں نہ تو روس کا جھنڈا لہرا یا جائے گا اور نہ ہی قومی ترانہ ہوگا کہہ سکتے ہیں کہ ڈوپنگ کھیلوں میں کامیابی کا دوسرا نام بن چکا ہے روس کی بات کریں تو یہاں کے کھلاڑی ڈوپنگ سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں خود واڈا نے نومبر 2015میں مانا تھا کہ روس میں ڈوپ کا زبردست کلچر ہے یہاں تک کہ روس کی ڈوپنگ ایجنسی کا اس معاملے میں نام بے حد خراب ہے اب جب کہ ورلڈ کی کھیل کی طاقت کے طور پر پہنچان بنانے والے روس کو چار سال کے لئے کھیل کی دنیا سے ممنوع کر دیا گیا ہے ۔تو یہ سوال زیادہ سنجیدگی سے بحث کے دائرے میں آگیا ہے کہ آخر ٹوکیو اولمپک کھیل (2020)کا خاکہ کیسا ہوگا؟اگر دلچسپی سے زیادہ روس کے اندر پریشانی اس بات کو لے کر ہے کہ آخر اس میں غلطی کس کی ہے ؟کھلاڑیوں کی یا افسران کی یا روس کی اس مشتبہ سرگرمی پر لمبے عرصے سے نظر تھی جس کی وجہ سے اس کے خلاف ماضی میں بھی کارروائی کی گئی تھی لیکن اس بار اس سطح پر سخت کارروائی پہلی بار ہوئی ہے روس کے صدر ولادی میر پوتن نے پہلی بار اس پابندی پر بیان دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ واڈا کا فیصلہ اولمپک چاٹر کی خلاف ورزی ہے روس کے پاس اس کے خلاف عدالت میں جانے کے سبھی وجوہات موجود ہیں سب سے پہلے ہمیں واڈا کے فیصلے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے پابندی لگانے کی بنیاد کیا ہے واڈا کو روس اولمپک قومی کمیٹی کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہے ایسے میں روس کو اپنے جھنڈے تلے اترنے دینا چاہیے یہ اولمپک چاٹر ہے ۔اور واڈا اپنے فیصلے سے اولمپک چاٹر کی خلاف ورزی کرتا ہے سزا شخصی ہونی چاہیے اجتماعی نہیں ۔واڈا کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لئے روس کے پاس 21دن کا وقت ہے روسی وزیر اعظم دی متر مہدف نے اس پابندی کو سیاسی اغراض پر مبنی بتایا لیکن حقیقت یہ ہے کہ روس سے واڈا کی ہدایتوں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتا بلکہ روس کی ڈوپنگ ایجنسی روسادہ کی خود رول مشتبہ رہا ہے ۔حقیقت میں روسادا کے سابق ڈائرکٹر وسل بلویر گری گوٹی نے روس سے بھاگ کر امریکی میڈیا کے سامنے اس کا انکشاف کر کھیل کے سب سے بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش کیا تھا یوں تو بھارت سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی کچھ کھلاڑیو کے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہنے کے معاملے سامنے آئے ہیں لیکن منظم طور سے دھوکہ دھڑی کر اپنے کھلاڑیوں کے مستقبل کو داﺅں پر لگانے کا یہ پہلا موقع ہے ویسے روس ہی نہیں دنیا کا ہر دیش ڈوپنگ کے ڈنک سے پریشان ہے ۔اس لعنت سے مقابلہ کر پانا یقینی طور پر کھلاڑیوں اور سرکاروں کے لئے بڑی چنوتی ہے ۔

(انل نریندر)

13 دسمبر 2019

انٹرنیشنل میڈیا میں حیدرآبا انکاﺅنٹر چھایا!

حیدرآباد انکاﺅنٹر کی خبر کو انٹرنیشنل میڈیا نے خاصی اہمیت دی ہے امریکہ سے لے کر برطانیہ تک زیادہ تر مقامات پر میڈیانے اس کارروائی کو ملی ہندوستانی حمایت کو اجاگر کرنے پر خاص توجہ دینے کے ساتھ ہی غیر عدلیہ موت کی سزا دینے کے بڑھتے واقعات پر دنیا کی توجہ کھینچنے کی کوشش کی ہے ۔واشنگٹن پوس نے ایک مفصل رپورٹ میں کہا ہے کہ چاروں ملزمان کی موت نے لڑکیوں و عورتوں کے خلاف گھناونے جرائم کی سریز میں پھنسے دیش کے کچھ حصوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے ۔لیکن رضاکاروں اور وکیلوں نے کہا ہے کہ ان مڈبھیڑوں نے زیادہ تر قتلوں کے زخم کو اور گہرا کر دیا ہے ۔رپورٹ میں آگے بتایا گیا ہے کہ مشتبہ ملزمان کی پولس کے ذریعہ کئے گئے قتل میں اتنے بھاری ہیں کہ ان کی اپنی تشریح کیا ہے کچھ واقعات کو انکاﺅکنٹر کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں شامل افسر عام طور پر اسے سیلف ڈیفنس میں اُٹھایا گیا قدم ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن سماجی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ پولس عموماََ افسران کو عام معافی کا فائدہ ملتا ہے اور انہیں قتلوں میں پوری جانچ کی کارروائی پر تعمیل نہیں کی جاتی سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ عورت کے جلے ہوئے جسم 27نومبر کو ایک ہائی وے کے انڈر پاس کے نیچے برآمد ہو اتھا اس سے دیش میں غصے کی لہر دوڑ گئی اور بینگلورو دہلی سمیت بہت سارے شہروں میں جم کر مظاہرے ہوئے زیادہ تر مظاہرین نے مشتبہ جرائم پیشہ کو سزائے موت دینے کی مانگ والے پوسٹر لے کر نعرے لگائے ایک دوسرے اخبار نیوریاک ٹائمس نے حیدرآباد کانڈ کو حالیہ مہینوں میں بھارت کا سب سے زیادہ پریشان کرنے والا آبروریزی کا معاملہ قرار دیا ہے ۔اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس دل دہلا دینے والی اس واردات کو اچانک حیرت انگیز طریقے سے انجام دیا گیا پولس حکام کا ایک ہیرو کی طرح سمان کیا اور جنتا نے ان پر پھول کی بارش کی یہ سب اس کام کے لے کیا گیا جسے شہریوں نے ایک گھناونے جرم اور فوری رقابت کے طورپر دیکھا ۔لیکن جشن منانے کے لئے اتنے سارے لوگ سڑک پر اترے کی ٹریفک بھی ایک جگہ جام ہوگئی ایک اور برطانیوی اخبار دی ٹائمس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہزاروں لوگوں نے پورے دیش میں سڑکوں پر اتر کر مظاہر ہ کر کے انصاف کی مانگ کی بھیڑ نے پولس اسٹیشن کا گھیراﺅکرنے کے بعد ملزم عدالت میں پیش نہیں کئے جا سکے بھیڑ مسلسل ملزمان کو موت کی سزا دینے کے لئے ان کو حوالے کرنے کی مانگ کر رہے تھے ۔ایک اور اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق عورتوں کے خلاف تشدد کے ہائی پروفائل معاملے نے بھارت میں زبردست ناراضگی پیدا کی اور سڑکوں پر اتر کر حیدرآباد میں اس گھناونے حملے پر ناراضگی جتائی ورکروں نے بد فعلی معاملے کو عدالتوں کے لئے تیزی سے نمٹانے اور انہیں سخت سے سخت سزا دلانے کی اپیل کی ۔

(انل نریندر)

شہریت ترمیمی بل کی چوطرفہ مخالفت

لوک سبھا میں پہلے ہی پاس ہونے کے بعد بدھوار کی رات شہریت ترمیمی بل 2019راجیہ سبھا میں 125-105ووٹوں سے پاس ہو گیا بے شک دونوں ایوانوں سے پاس ہو گیا ہو لیکن اس کا پارلیمنٹ میں اور اس کے باہر جم کر مخالفت ہو رہی ہے نمبروں کی طاقت سے پاس ہوئے اس بل کو زمینی حقیقت بننے سے پہلے لگتا ہے کہ مودی سرکار کو اس پر عمل کے لئے لمبا سفر طے کرنا ہوگا ۔صدر جمہوریہ کی جانب سے منظور ہونے سے پہلے ہی اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری ہو چکی ہے ،بین الا اقوامی مذہبی آزادی پر امریکہ سے فیڈرل کمیشن نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل غلط سمت میں بڑھایا گیا ہے اور یہ خطرناک قدم ہے اگر یہ بھارت کے پارلیمنٹ میں پاس ہوتا ہے تو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور کچھ دیگر ہندوستانی لیڈروں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے ۔اِدھر پاکستان نے بھی بل کو ایک دوررس نقصان اور جانبدارانہ بتایا ۔اور اسے نئی دہلی کا پڑوسی ملکوں کے معاملوں میں دخل کے لئے افسوسناک ارادہ بتایا جبکہ بھارت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ۔شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کی سب سے زیادہ اورمنظم طریقے پر احتجاج ہو رہا ہے ۔ان ریاستوں کی اصل جنتا نہیں چاہتی کہ وہاں باہر سے آئے کسی بھی شخص کو شہریت ملے بل سے باہر رہے گئے صرف مسلمانوں کو ہی شہریت دینے کی مخالفت کرنا ہے نارتھ ایسٹ میں تشویش یہ ہے کہ وہاں باہر سے آکر بسے ہندو و دیگر پانچ اقلیتی طبقوں کو مستقل شہریت مل جائے گی ۔حالانکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں وزیر داخلہ امت شاہ نے موثر ڈھنگ سے سب کو اطمینان دلانے کی کوشش کی لیکن ایسا لگتا ہے کہ نارتھ ایسٹ انڈیا تک ان کی بات کا زیادہ اثر نہیں ہوا اور نارتھ ایسٹ جل رہا ہے ۔ایسا احتجاج پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے مخالفت میں کئی دلیلیں پیش کیں لیکن مودی سرکار نے نمبروں کی طاقت پر اس بل کو پاس کروا لیا ۔نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں ناراضگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ سرکار کو جموں وکشمیر سے فوج کی ٹکڑی کو نکال کر ان ریاستوں میں امن بنائے رکھنے کے لئے بھیجنا پڑ رہا ہے ۔مرکزی سرکار کے لئے ایک بڑی چنوتی یہ بھی ہے کہ نارتھ ایسٹ ریاستوں میں امن چین بحال کرئے اس بل کی جو مخالفت ہو رہی ہے اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ دنیا بھارت کو ایک سیکولر اور اصلاح پسند ملک کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے میں نے امریکہ اور پاکستان میں اس بل کے بارے میں رد عمل بتایا ہے لیکن یورپی یونین نے بھی کہا ہے کہ امید ہے کہ بھارت اپنے اعلیٰ اقدار کو برقرار رکھے گا ۔اور دیش کے اندر اب تو دانشوروں ،سائنسدانوں اور آرٹسٹوں نے بھی اس بل کی مخالفت شروع کر دی ہے ۔بل کے موجودہ خاکے کو واپس لینے کی مانگ کو لے کر بڑی تعداد میں تمام طبقوںنے ایک میورنڈم پر دستخط کئے ہیں ۔اس میں کہا گیا ہے کہ پریشان حال شہریوں کے ناطے ہم اپنی سطح پر بیان جاری کر رہے ہیں کہ شہریت ترمیمی بل 2019کو ایوان میں رکھے جانے کی خبروں کے تیں اپنی مایوسی ظاہر کر سکیں ۔کئی مصنفوں اور ماہر تعلیم اور سابق جج صاحبان اور سابق افسروں نے بھی سرکار سے بل واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے اس کو امتیازی بتایا اور تباہ کن اور آئین میں تشریش سیکولر اور اصولوں کے خلاف بتایا ۔ان میں مورخ رومیلا تھاپہ ،مصنف امیتابھ گھوش ،اداکارہ نندیتا داس ،اور فلم ساز اپرنا سین ،اور تجزیہ نگا ریوگیندر یادو تستا سیتل واڑ ،وغیرہ شامل ہیں ۔بے شک تعداد کی طاقت پر سرکار نے بل تو پاس کروا لیا ہے لیکن اسے زمین پر اتارنا اتنا آسان شاید نہ ہو ۔

(انل نریندر)

12 دسمبر 2019

فاسٹ ٹریک کورٹ اصل میں کتنی فاسٹ؟

اناﺅ میںآبروریز ی متاثرہ کی موت کے بعد یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی نے اعلان کیا ہے کہ مقدمے کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں مجرموں پر مقدمہ چلا کر سخت سزا دلائی جاے گی جب بھی کوئی آبروریزی کی گھناونی واردات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ معاملے کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلایا جائے گا لیکن کسی نے یہ جاننے کی کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی ہے کہ ان فاسٹ ٹریک عدالتوں کا حال کیا ہے ؟کیا یہ صحیح معنوں میں جرائم پیشہ کو جلد سزا دلوا پائی ہیں ؟ریپ جیسے معاملوں کے لئے بنی فاسٹ ٹریک کتنی فاسٹ ہے؟چودہ اگست 2004کو سنیچر کا دن وہ تھا جب فد فعلی اور آبروریزی کے قصوروار دھننجے چٹرجی کو مغربی بنگال کی علی پور سینٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا دھننجے وہ آخری درندہ تھا جسے بد فعلی اور قتل میں پھانسی ہوئی اس سے بعد آج تک پندرہ برسوں میں کوئی بھی بد فعلی کے ملزم کو اب تک پھانسی کے پھندے پر نہیں پہنچا پائے ۔یہ تب ہے جب کہ ہر سال ایسے معاملوں میں پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے اس کے بعد فاسٹ ٹریک عدالت میں فیصلے کے بعد بھی لمبی قانونی کارروائی کی آڑ لے کر جنسی مجرم پھانسی کی سزا سے بچتے رہے ہیں دیش میں تقریبا426قیدی ہیں جن کو پھانسی سنائی جا چکی ہے لیکن ابھی تک انہیں پھندے تک نہیں پہنچایا جا سکا ان میں بڑی تعداد میں بد فعلی ،قتل کے قصوروار ہیں ۔نیشنل لاءیونیورسٹی کی رپورٹ:دی ڈیپ پینلٹی ان انڈیا ،سالہ اعداد و شمار 2018کے مطابق مدھیہ پردیش ،اترپردیش اور مہاراشٹر میں 6666ایسے قیدی ہیں جنہیں پھانسی دی جانی ہے اور ان کے معاملوں کو تیزی سے نمٹانے کے لے فاسٹ ٹریک عدالتیں بنائی گئیں تھی لیکن یہی کورٹ سست ثابت ہو رہی ہیں بہار،تلنگانہ ،اترپردیش اور کیرل میں اس انصاف کی رفتار بہت دھمی ہے پورے دیش کی بات کریں تو 2017میں سنائے گئے فاسٹ ٹریک فیصلوں میں صرف تیس فیصد معاملے ایسے تھے جو ایک سال کے اندر نمٹائے گئے وہیں باقی چالیس فیصد معاملوں میں تین سال سے اوپر کا وقت لگا وہیں نچلی عدالتوں کو عدالتوں کی پرفارمینس زیادہ بہتر رہی نچلی عدالتوں نے 47فیصد معاملے ایک سال کے اندر نمٹائے دیش میں نہ صرف انصاف کی یہ رفتار دھیمی ہے وہیں ریکارڈ تعداد میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے باوجود قصوروار پھانسی کے پھندے تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں ۔باربار اپیل کی سماعت میں لگنے والا وقت اتنا زیادہ ہے کہ متاثرہ فریق انصاف ملنے کے بعد بھی اسے محسوس نہیں کر پاتا کیوں سست ہو رہی ہیں فاسٹ ٹریک عدالتیں؟اس وقت ان عدالتوں میں چھ لاکھ سے زیادہ مقدمے لٹکے پڑے ہیں دیش بھر میں 581فاسٹ ٹریک عدالتیں ہیں یہ صورتحال 31مارچ 2019تک لوک سبھا میں پیش کئے گئے جواب کے مطابق ہیں ۔426قیدی ہیں جنہیں پھانسی کی سزا دی جانی ہے ان میں چوبیس ملزم ہیں جنہیں 2016میں ریپ اور قتل کے لئے پھانسی کی سزا سنائی گئی ایسے ہی 43ایسے ملزم ہیں جنہیں 2017میں ریپ اور قتل کے لئے پھانسی کی سزا ہوئی 2012کے نربھیا کیس کے بعد بد فعلی کے چار لاکھ سے زیادہ دیش بھر میں معاملے درج ہوئے فاسٹ ٹریک کورٹ انہیں فوری انصاف کے لئے بنایا گیا تھا آپ خود ان اعداد و شمار سے اندازہ لگا لیں یہ کتنی فاسٹ ہیں ؟

(ا نل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...