Translater

12 دسمبر 2019

ہندوﺅں کا ووٹ پانے کے لئے برطانوی لیڈر مندروں کی شرن میں!

25سال کے لڑکوں کو مفت بس سفر ،سبھی کو مفت انٹرنیٹ ،چھ سال تک اعلیٰ تعلیم مفت جیسے لبھاونے وعدے تمل ناڈو ،بہار،یا یوپی کے کسی امیدوار کے نہیں بلکہ برطانیہ کی 120سال پرانی جماعت لیبر پارٹی کے ہیں ،وہیں گزشتہ دس سال تک اقتدار پر قابض کنزرویٹیو پارٹی ان کا مقابلہ سب سے بڑے اشو برگزیٹ سے کر رہی ہے جس کے تحت برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ ہونا ہے ۔برطانیہ کے انتخابات میں پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہا ہے جب وہاں کی بڑی پارٹیاں ہندوستانی اور ہندو شناخت کے نام پر تارکین وطن ہندوستانیوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں لگی ہیں ۔اس کی مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب کنزریوٹو پارٹی کے امیدوار اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانس لندن کے مشہور مندر میں درشن کے لئے پہنچے ،سوامی نارائن مند رمیں جانسن کے ساتھ ان کی 31سالہ گرل فرینڈر کیری سایمنڈس بھی تھیں ،کیری چمکیلے گلابی رنگ سلک ساڑی ساڑی پہنے ہوئی تھیں بورس تلک لگائے ہوئے تھے اور مالا بھی پہنے ہوئے تھے درشن کے بعد انہوںنے اپوزیشن لیڈر پارٹی پر کشمیر کو لے کر تنقید کی اور الزام لگایا کہ لیبر پارٹی برطانیہ میں بھارت مخالف نظریہ کو ہوا دے رہی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے انہوںنے زیادہ تر ہندوستانیوں کو برطانیہ آنے کا موقع دینے کی بھی بات کہی اور اتنا ہی نہیں لیبر پارٹی سے جڑے ایک گروپ نے ہندی میں ایک گانا بھی لانچ کیا ،جس کے بول ہیں بورس کو ہمیں جتانا ہے یہ جان کر تعجب ہوگا کہ اس مرتبہ برطانیہ کے چناﺅ میں کشمیر سے آرٹیکل 370کے خاتمے کا بھی اثر اشو ہے کشمیر پر بھارت کی مخالفت کرنے والی لیبر پارٹی کے اس بار ہندوستانی ووٹوں کی ہمایت کھونے کا خطرہ ہے ۔اس سے قریب پچاس پارلیمانی سیٹوں کا نتیجہ اثر انداز ہو سکتا ہے ۔12دسمبر یعنی آج برطانوی عام چناﺅ کے سب سے اشو کی شکل میں دیکھے جا رہے ہیں ۔برگزیٹ پر بڑی پارٹیوں کی رائے بٹی ہوئی ہے بھارت کی طرح برطانیہ میں بھی ہر پانچ سال میں ویسے چناﺅ ہوتے ہیں لیکن یہ چناﺅ 2015کے بعد کا تیسرہ پارلیمانی چناﺅ ہو رہا ہے ۔اس میں برطانیہ کے نچلے ایوان ہاﺅس آف کامنس کی 650سیٹوں کے لئے ایم پی چنے جانے ہیں ۔پولنگ جمعرات کو ہونی ہے ۔دو ستمبر سے سات دسمبر کے درمیان مارٹین بیکسٹر کے سروے میں کنزرویٹو پارٹی کو 43.5فیصد ووٹ اور 338سے 441سیٹیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے لیبر پارٹی 32فیصد ووٹوں کے ساتھ 225سے 300تک سیٹیں مل سکتی ہیں ۔6دسمبر کو پی ایم بورس جونسن اور لیبر پارٹی کے نیتا جیرمی کاربن کے درمیان بریگزیٹ پر ٹی وی پر بحث کے بعد یو جی او وی کے سروے میں 52فیصد ناظرین نے کہا کہ جانسن نے جیت حاصل کی دسمبر کے پہلے ہفتے میں یورو اور ڈالر کے مقابلے میں برطانوی پاﺅنڈ پچھلے ڈھائی سال میں اپنی اونچی سطح پر رہا کرنسی کی مضبوطی کنزریٹو پارٹی کے لئے مثبت ماحول بنا سکتی ہے آج یعنی بارہ دسمبر کو ہونے جا رہے چناﺅ میں دس لاکھ سے زیادہ ہندو ووٹ ڈالیں گے ،بتا دیں کہ ویسے برطانیہ میں تیس لاکھ مسلمان بھی رہتے ہیں برطانیہ کے زیادہ تر ہندو ابھی تک لیبر پارٹی کو ہی ووٹ دیتے آئے ہیں لیکن اس مرتبہ ہندو انجمنوں نے لیبر پارٹی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی ہے ۔

(انل نریندر)

11 دسمبر 2019

دررناک:تابوت کی طرح بنی یہ عمارت لاکشیہ گرہ

راجدھانی دہلی کی اناج منڈی میں ایک چار منزلہ عمارت میں آگ لگنے سے 43لوگوں کی موت انتہائی تکلیف دہ حادثہ میں ہوئی یہ حادثہ ایک مرتبہ پھر یہ دکھاتا ہے کہ دہلی میں کئی عمارتیں تابوت کی طرح لاکشیہ گرہ بنی ہوئی ہیں ۔چھت کا بند دروازہ ،پیچھے کا زینہ بند پوری عمارت میں پلاسٹک کے سامان کا ڈھیر اور گنجان گلی کے چلتے اناج منڈی کی یہ عمارت لاکشیہ گرہ بن گئی ،تنگ گلیوں میں بجلی کے تاروں کے مکڑ جال ہونے کے سبب اناج منڈی کے اس کارخانے کو موت کے چیمبر میں تبدیل کر دیا تنگ عمارت ہونے کی وجہ سے ہوا کا گزر اور آگ سے بچاﺅ کے انتظام نہ ہونے سے حالت یہ ہوئی مگر آگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے فائر کرمچاری پہنچے تو ضرور لیکن انہیں راستہ نہیں مل پایا ۔بڑی مشقت کے بعد فائر ملازمین کو گرل کاٹ کر عمارت میں گھسنا پڑا تب تک کئی لوگوں کا دم گھٹ چکا تھا تحقیقات سے پتہ چلا کہ محکمہ فائر سے این او سی سے لے کر فیکٹری لائسئنس تک بے ضابطہ کی پائی گئی ۔اس علاقہ میں پہلے اناج منڈی تھی لیکن وقت کے ساتھ کاروبار بند ہوگیا چھ سو مربہ گز زمین کے پلاٹ پر بنی عمارت کے تین پارٹنر ہیں چاروں منزلوں پر سو سے زیادہ لوگ رہتے تھے پوری عمارت میں پلاسٹک کا سامان پھیلا ہوا تھا سو سے زیادہ لوگوں کے آنے جانے کے لئے صرف چار فٹ چوڑی سیڑھی تھی عمارت کے دوسرے حصے میں موجود سیڑھی پر سامان کا ڈھیر لگا کر بند کر دیا گیا تھا اس کی وجہ سے سیڑھی کا استعمال نہیں ہوتا تھا آگ لگنے پر لوگ دوسری سیڑھی کا استعمال نہیں کر پائے پہلی سیڑھی میں دھواں بھرنے سے لوگ اس کا بھی استعمال نہیں کر پائے پتہ یہ چلتا ہے کہ رہائشی علاقہ میں چار منزلہ اس عمارت میں نا جائز طریقہ سے فیکٹریاں چل رہی تھیں کام کرنے والے مزدور رات کو انہیں کال کوٹھریوں میں سو جاتے تھے ۔جہاں نہ تو ضروری اُٹھ بیٹھنے کا انتظام تھا اور نہ ہی ہوا آنے جانے کا انتظام ایسی حالت میں لا پرواہی کی وجہ سے آگ آچانک اس وقت پھیلی جب لوگ گہری نید میں تھے ۔ساتھ ہی بلڈنگ میں پانی کا ضروری انتظام نہ ہونے کے سبب آگ بجھانے کے لئے آئی فائر گاڑیوں کو کام کرنے میں بہت مشکل سے دو چار ہونا پڑا ان فائر مینوں کی ہمت اور اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے کئی لوگوں کی جان بچانے کا کام کیا ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے صرف اناج منڈی کا ہی یہ حال نہیں ہے دہلی میں کافی علاقہ ہیں جہاں کم و بیش یہی حال ہے ۔ایسے حادثوں کے کئی سبب ہیں ۔ایک تو اسمارٹ سٹی کے نعرے اور شہروں کی کایا کلب سے متعلق جیسی اہم ترین اسکمیوں کے باوجود ضمنی سطح پر بہت کم کا م ہونا اور سٹی انتظامیہ کا اپنی ذمہ داریوں سے منھ پھیر لینا ایسے میں غیر قانونی کام کرنے کی ہمت بڑھتی ہے جس کا شکار زیادہ تر گاﺅں سے آئے ہوئے غریب اور بے سہارا لوگ بنتے ہیں ۔جو پہلے تو ان کال کوٹھریوں میں گھنٹوں کام کرنے اور اپنی اپنی صحت خطرے میں ڈالتے ہیں اور کئی ٹریجڈیاں ہوئیں تو اس کے شکار ہوتے ہیں اس کے باوجود راجدھانی کے رہائشی علاقہ میں سیکورٹی پیمانوں سے کھلواڑ کر ایک چار منزلہ عمارت کو غیر قانونی طریقہ سے فیکٹری میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ایسی حالت اس لئے بھی ہوتی ہے کہ افسران اور نیتا اپنی ذمہ داری پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور سرکاریں سیاسی فائدے نقصان کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرتی ہیں ۔پھر دہلی کے باہر سارے علاقے ہیں جو غیر منظور کالونیوں کی شکل میں آباد تھے سرکار نے انہیں غیر منظور قرار دے دیا اس سے وہاں بجلی پانی ،سڑک سیور،کا انتظام تو ہو گیا لیکن ان کی بناوٹ اس قدر ٹیڑھی ہے کہ وہاں فائر کی گاڑیاں پہنچنے میں بھی مشکل ہوتی ہے یہاں بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر کارخانے چل رہے ہیں جنہیں یہ مان کر چلنے دیا جاتا ہے کہ وہ نہ تو آلودگی پھیلاتے ہیں اور نہ ہی آگ لگنے پر بچاﺅ کر سکتے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ علاقہ میں فیکٹری محض دو سو گز رقبے میں بنی ہوئی ہے ان میں نہ تو فائر سیفٹی سے متعلق کوئی سسٹم کو لے کر سوال اُٹھ رہا ہے کہ اس آگ اور موتوں کا ذمہ دار کون ہے ؟دہلی سرکار یا ایم سی ڈی یا انتظامیہ ؟بے روک ٹوک چل رہی ان فیکٹریوں کا کون ذمہ دار ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ہر حادثے کے بعد ذمہ داری ڈیپارٹمینٹ ایک دوسرے پر ڈال کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔

(انل نریندر)

سی اے بی بل :کیوں چھڑاہے تنازعہ؟

مرکزی کیبنٹ کی جانب سے شہریت ترمیمی بل کو منظوری دینے کے بعد اس پر بحث چھڑ جانا فطری ہی ہے کیونکہ کئی اپوزیشن پارٹیوں میں پہلے سے ہی اس بل پر اختلاف تھا مودی سرکار نے یہ بل اب لوک سبھا پیش کر دیا اور رات بارہ بج کے دس منٹ پر لمبی بحث کے بعد 88کے مقابلے 311ووٹ سے پاس کر دیا لوک سبھا میں تو این ڈی اے کی اکثریت ہونے کی وجہ سے پاس ہو گیا ہے لیکین این ڈی اے سے الگ کچھ پارٹیوں کی اس بل پر خاموشی کو دیکھتے ہوئے راجیہ سبھا میں بھی اس بل کے پاس ہونے میں کوئی اڑچن نہیں ہوگی ۔شہریت قانون ترمیم بل کا مقصد پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان سے پناہ گزینوں کی شکل میں بھارت آئے غیر مسلم لوگوں کو شہریت دینا ہے حالانکہ اس بل کے سبھی پہلوﺅں کو ابھی پوری طرح سامنے نہیں لایا گیا ہے لیکن اسے لے کر اپوزیشن پارٹیاں سرکار پر اس لئے حملہ آور ہیں کہ وہ اس کے ذریعہ مسلم اقلتیوں پر اپنی پہنچ بنانے کی کوشش میں لگی ہیں اسی اختلاف کے سبب مودی سرکار کے پہلے عہد میں اس بل کو پارلیمنٹ سے منظوری نہیں مل پائی تھی شہریت ترمیمی بل یہ کہتا ہے کہ پڑوسی ملکوں خاص کر پاکستان ،افغانستان اور خاص کر بنگلہ دیش سے آئے اقلیتی فرقوں یعنی ہندو سکھ جین بودھ عیسائی پارسیوں کو کچھ شرائط کے ساتھ ہندوستان کی شہریت پانے حقدار ہوں گے اپوزیشن پارٹیوں کی مخالفت کی بنیاد یہ ہے کہ آخر پڑوسی دیشوں کے مسلمانوں کو یہ رعایت کیوں نہیں دی جا رہی ہے اس پر سرکار کی دلیل ہے کہ تینوں مسلم اکثریتی دیش ہیں وہاں مسلمان نہیں بلکہ دیگر طبقوں کے لوگ ازیت کے شکار ہوتے ہیں اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا باہری ملکوں کے لوگ شہریت دینے کے مجوزہ کارروائی بھارت کی وسودیو کٹو وکم اور سرو دھرم سدبھاﺅ والی مثال کے مطابق ہوں گے ؟یہ سوال اُٹھانے والے یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت وہ دیش ہے جہاں دنیا بھر کے لوگوں کو اپناتا ہے یہ بالکل صحیح ہے لیکن کیا اس کو نظر انداز کر دیا جائے کہ آسام اور نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں بنگلہ دیش سے آئے لاکھوں لوگوں نے جس طرح وہاں کے سماجی اور سیاسی ماحول کو بدل دیا ہے سرکار نے این آر سی لاگو کرنے کا قدم اس لئے اُٹھایا تھا کہ وہ ان تین دیشوں کے آئے پناہ گزینوں کی طرح گھس پیٹھ کرنے والوں میں کئی آتنکی بھی آجاتے تھے بنگلہ دیش پناہ گزینوں کی سرگرمیاں کئی موقعوں پر مشتبہ پائی گئی ہیں ۔وہیں دوسری طرف شہریت دینے کے سوال پر مذہب کی بنیاد صحیح نہیں ہے حالات کا بھی خیال رکھنا ہوگا اور اس کو اقوام متحدہ معاہدے کوبھی منظوری ہے لیکن اس میں ایک شرط کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارت میں پناہ لے یہ نہیں ہو سکتا۔آپ یہیں بس جائیں اور یہاں کی شہریت لے لیں ۔

(انل نریندر)

10 دسمبر 2019

نربھیا کانڈ کے قصورواروں کو 16دسمبر سے پہلے پھانسی دو

اپنی بھوک ہڑتال کے کئی دن گزرنے کے بعد دہلی مہیلا کمیشن کی چیر پرسن سواتی مالیوال نے صدر جمہوری کو خط لکھ کر 16دسمبر 2012گینگ ریپ کی شکار ہوئی نربھیا کے قصورواروں کو اس سال سولہ دسمبر سے پہلے پھانسی دینے کی اپیل کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا کوئی خاتمہ دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔اور نربھیا کے لے انصاف کاانتظار جاری ہے ۔صدر سے اپیل کی کہ وہ رحم کی عرضیوں کو فورا خارج کریں اور یقینی کیا جائے کہ وہ قصورواروں کو 16دسمبر آنے سے پہلے پھانسی دے دی جائے ہم ان کی مانگ کی پوری ہمایت کرتے ہیں ۔اور دیش کی بھی یہی مانگ ہے وزارت داخلہ نے رحم کی عرضی خارج کرکے صدر جمہوریہ کو بھیج دی ہے ،امید کی جاتی ہے کہ اگلے دو تین دنوں میں صدر ان قصوواروں کی پھانسی کا راستہ کھول دیں گے تہاڑ جیل کو صدر کے فیصلے کا انتظار ہے ۔رحم کی عرضی خارج ہوتے ہی تہاڑ میں بند چاروں قصورواروں کو جلد سے جلد پھانسی ہو سکتی ہے ۔پھانسی دینے کے لئے باہر سے 25ہزار روپئے بھیج کر جلاد کو بلانے کی تیاری ہے تہاڑ جیل میں پھانسی دینے کے لئے کوئی جلاد نہیں ہے جب افضل گرو کو پھانسی دی گئی تھی تو اس کے لے کوئی جلادنہیں ملا تھا تب جیل کے حکام میں سے ایک نے پھانسی دی تھی نربھیا کانڈ کے قصورواروں کو پھانسی کی سزا دینے کے لے ساﺅتھ انڈیا کی کسی جیل سے جلاد کو بلایا جا سکتا ہے واضح ہو کہ اکتوبر میں چاروں قصورواروں کو جیل انتظامیہ کی طرف سے رحم کی عرضی دائر کرنے کے لئے پیش کش کی گئی تھی تاکہ سزا کو آخری انجام تک پہنچایا جا سکے اس نوٹس کے بعد سے ہی تہاڑ جیل و منڈولی جیل کمپیلکس میں بند الگ الگ معاملوں میں پھانسی کی سزا سنائے گئے قیدیوں کی حفاظت بڑھا دی گئی ہے جیل انتظامیہ وقتاََ فوقتاََ ان قیدیوں پر گہری نگاہ بھی رکھ رہا ہے اور پل پل کی ان کی حالت کا بھی جائزہ لے رہا ہے تاکہ انہیں کسی طرح کی گھبراہٹ نہ ہو جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف جیلوں میں اس بات کو لے کر باتیں ہو رہی ہیں کہ جن قیدیوں کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے ان کے معاملے آخری فیصلے جلد آسکتے ہیں تمام ان باتوں کے درمیان سبھی کی نگاہیں تہاڑ کی جیل نمبر 3پر لگی ہیں ۔دہلی میں بھلے ہی تہاڑ کے علاوہ روہنی منڈاولی جیل بنی ہوئی ہیں لیکن پھانسی دینے کا انتظام صرف تہاڑ جیل نمبر 3میں ہی ہے ۔پھانسی گھر کھلی جگہ پر ہے ۔عام طور پر اس کے دروازے کو تبھی کھولا جاتا ہے جب پھانسی دی جانی ہوتی ہے ۔بتا دیں کہ تہاڑ میں پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جانے والا آخری مجرم افضل گرو تھا پچھلے قریب تین دہائی میں افضل گرو سے پہلے تہاڑ میں رنگا بلا،ستونت سنگھ،کھیہر سنگھ ،کرتار سنگھ،اجاگر سنگھ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جا چکا ہے تہاڑ جیل میں 35برس تک کام کر چکے سنیل گپتا بتاتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ پھانسی دینے کا کام جلا دہی کرے ۔نربھیا کے قصورواروں کو کب پھانسی ملتی ہے ؟اسکا پورے دیش کو انتظار ہے ۔

(انل نریندر)

مجھے بچا لو میں مرنا نہیں چاہتی،کوئی ملزم نہ بچے

لال آنکھیں ،آنسو بھرے ہوئے صفدر جنگ اسپتال کے برم ڈیپارٹمینٹ کے آئی سی یو کے باہر ماں جب بیٹی کو دیکھ کر آئی تو وہ اپنے آنسو نہیں روک پائی بیٹے کو کہتی ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہے بول بھی نہیں پا رہی ہے ،میری بیٹی کو کیا ہوگیا؟بھائی نے ماں کو تسلی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میری بہن بہت ہمت والی ہے ،اس حالت میں بھی وہ ہم سے یہی کہہ رہی ہے کہ کوئی بچنا نہیں چاہیے ۔بد فعلی کے کیس واپس لینے سے انکار کرنے پر مٹی کا تیل ڈال کر جلائی گئی بیٹی کی جمعہ کی رات 11:40پر موت ہوگئی 43گھنٹے تک اس نے زندگی کے لئے جنگ لڑی مگر ہار گئی ۔95فیصدی تک جل چکی متاثرہ جمعہ کو صبح سویرے قریب 4:30پر 25سالہ لڑکی بد فعلی کے معاملے میں عدالت میں اپنے معاملے کی سماعت کے لئے بریلی جا رہی تھی ،راستے میں چھ دن پہلے ہی ضمانت پر چھوٹا بد فعلی کا اہم ملزم شیوم ترویدی ملا اس نے لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر لال گنج میں رکھا ہوا تھا اس نے دوست شبھم کے ساتھ بد فعلی کی اور اس ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتے رہے شادی کا اقرار نامہ بھی کیا لیکن شادی نہیں کی۔شیوم اور شبھم اسی کیس میں نو مہینے رائے بریلی جیل میں رہ کر تیس نومبر کو چھوٹا تھا ۔باہر آتے ہی اس نے معاملہ واپس لینے کے لئے متاثرہ پر دباﺅ بنا یا اور انکار کرنے پر اس نے اور اس کے چار ساتھیوں نے مٹی کا تیل ڈال کر جلا ڈالا آگ کی لپٹوں میں گھری لڑکی آدھا کلو میٹر تک جان بچانے کے لئے دوڑی اس دوران وہ 95فیصد جل چکی تھی دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں لکھنﺅ کے اسپتال سے ائیر لفٹ کیا گیا جہاں اس نے آخر کار زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیا اس کی موت کے بعد سنیچر کو دیش بھر میں غصہ پھیل گیا اسے انصاف دلانے کے لئے لوگ سڑکوں پر اترے آئے انصاف کی مانگ کرنے والوں میں بچے بوڑھے اور جوان سب عمر کے لڑکے لڑکیاں مرد شامل رہے کوئی جلتی موم بتی ہاتھ میں لئے بیٹی بچاﺅ اور قصور واروں کو پھانسی دینے کی مانگ پر لکھی تختی اُٹھائے ہوئے تھا ۔لکھنو ہو یا دہلی کانپور ہو یا اناﺅ یا پھر دیش کے دوسرے حصوں میں سب جگہ سے ایک ہی آواز تھی اناﺅ کی بیٹی کو انصاف دو متاثرہ کے گھر والوں نے جہاں حیدرآباد کی ڈاکٹر کے قصورواروں کو سزا کی طرز پر ہی اپنی بیٹی کے قصورواروں کو سزا دینے کی مانگ کی تو کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا واڈرا متاثرہ کے گھر جا کر ان کے دکھ میں شامل ہوئیں اور انصاف دلانے کا وعدہ کیا اور واردات کے لئے یوگی سرکار کو ذمہ دار قرار دیا ۔وہیں یوپی سرکار کے وزیر سوامی پرساد موریہ اور علاقائی ایم پی ساکشی مہاراج بھی متاثرہ کے گھر پہنچے لیکن وہاں انہیں بھاری احتجاج کا سامنا کرنا پڑا وہیں اکھلیش یادو لکھنو میں انصاف کی مانگ کر تے ہوئے ودھان سبھا کے گیٹ پر دھرنے پر بیٹھے ۔کیا متاثرہ کو جلد انصاف مل پائے گا ؟

(انل نریندر)

08 دسمبر 2019

حیدرآبادآبروریزی فیصلہ آن دی اسپاٹ ہوا

جمعہ کی صبح جب میں سو کر اُٹھا تو خبر دیکھی کہ صبح اندھیرے میں حیدرآباد پولس نے سرخیوں میں چھائے ریپ کانڈ کے چاروں ملزمان کو انکاونٹر میں مار گرایا تو میرا دل میں پہلا رد عمل تھا شاباش،حیدرآباد پولس اپنے نہ صرف مہیلا متاثرہ کی آتما کو شانتی دی بلکہ پورے دیش میں آبروریزیوں کو سخت پیغام دیا ،کہ اب آپ کو اپنی حیوانگی کا فورا نتیجہ ملے گا ۔پولس نے چاروں ملزمان کو بھاگتے وقت ہی اُسی جگہ مار گرایا جہاں انہوںنے ویٹنری ڈاکٹر کے ساتھ درندگی کی تھی ،تلنگانہ پولس کے اے ڈی جی لاءاینڈ آرڈر نے بتایا کہ صبح تین بجے جب پولس والے چاروں ملزمان کو کرائم سین کی جانکاری لینے کے لے موقعہ واردات پر لے گئی تو پولس کے ہاتھوں سے ریوارلور چھین کر بھاگنے لگے تبھی پولس نے انکاﺅنٹر کر چاروں ملزمان کو مار گرایا تلنگانہ پولس کو لاکھ لاکھ بندھائی ۔اب ہمارے سامنے دہلی کا نربھیہ کیس بھی ہے جس میں سزا ہوئے سات سال گزر چکے ہیں اور آج تک قانونی داﺅں پیچ کے سبب پھانسی نہیں ہو پائی ۔ریررسٹ آف ریر کرائم کرنے والوں کا یہی حشر ہونا چاہیے دنیا کے کئی ملکوں میں فورا موت کی سزا پر عمل ہو جاتا ہے نہ کوئی اپیل نہ دلیل نہ وکیل ہاتھ کے ہاتھ معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے ۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اترپردیش کے خطرناک گینگ ریپ کیس میں ایک ملزم کو ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بیچاری اور بد قسمت عورت کو زندہ جلا دیا اور سنیچر کو اس کی موت ہو گئی ۔ایسے گھناونے جرائم پیشہ کو ہائی کورٹ پتہ نہیں ضمانت پر کیوں چھوڑ دیتی ہے تاکہ وہ جیل سے نکلتے ہی کوئی نہ کوئی گھناونا جرم کر ڈالیں ؟میں یہ بھی نہیں جانتا ہوں کہ اس کاﺅنٹر پر کئی طرح کے سوال اُٹھے بھی ہیں اور اُٹھیں گے بھی اور ملزمان کے انسانی حقوق کی بات اُٹھے گی پولس حراست میں انکاﺅنٹر پر بھی سوال اُٹھیں گے پولس کے ذریعہ انکاﺅنٹر کیسے ہوا اس پر بھی سوال اُٹھیں گے پولس کو اس طرح کے کھلے عام انکاﺅنٹر کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا اس کا بے جا استعمال بھی ہو سکتا ہے اگر انسانی پہلو کی نظر سے دیکھیں تو اسے متوفع کی آتما کو شانتی ملے گی اور اس کے خاندان والے چین کی سانس لیں گے ۔عصمتدری کرنے والوں کی انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو متاثرہ کے انسانی حقوق کی بھی فکر ہونی چاہیے جس پلیہ کے نیچے یہ انکاﺅنٹر ہوا اس کے اوپر سے گزرنے والی بسوں میں جا رہی عورتوں کی خوشی اور مسکرانے کی آوازیں ظاہر کرتی ہیں کہ عورتیں اس انکاﺅنٹر سے خوش ہیں ڈر اس کا بھی ہے کہ پولس بربریت کے لئے یہ انکاﺅنٹر راستے چوڑے کر رہا ہے پولس کل کو کسی کوبھی جرائم پیشہ بتا کر مڈبھیڑ میں مار دے گی اور لوگ تالیاں بجاتے رہیں گے ہمارا زور نیائے سسٹم کو مضبوط اور شفاف بنانے پر بھی ہونا چاہیے اور انصاف ملے اور جلدی ملے اس کے لے آواز اُٹھانی چاہیے ۔نہ کہ پولس مڈبھیڑوں میں ملزموں اور جرائم پیشہ کو مارنے کی خوشی منانی چاہیے معاملہ انسانی حقوق کا نہیں بلکہ قانونی کاروائی پر بھروسے کا ہے ۔بہر حال متاثرہ کو زندہ جلانے والوں کو ہر شخص چاہتا ہے کہ سخت سے سخت سزا ملے اور خلیجی ملکوں کی طرح چوراہے پر شار عام سولی پر لٹکا دیا جانا چاہیے ۔لوگ بھی اس کے ہماہتی ہیں اس سے ان جرائم پیشہ میں خوف پیدا ہو لیکن عوامی غصے کے پیش نظر پولس نے انکاﺅنٹر کر کے ایک نئی نظیر شروع کر دی اور یہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے ضروت تو اس بات کی ہے کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعہ گھناونے جرائم کے ملزما ن کو قصوروار قرار دے کر عدالتی حساب سے سزا دی جائے اس سے اس طرح کے شاطر درندوں کو موت ملے لیکن عدالت سے ۔

(انل نریندر)

جیل سے باہر آتے ہی چدمبرم کا سرکار پر حملہ

ایک د ن پہلے ہی 106دن تہاڑ جیل میں کاٹنے کے بعد باہر نکلتے ہی سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے مودی حکومت پر جم کر نکتہ چینی کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی ،باقاعدہ پریس کانفرنس کر سرکار کو اڑے ہاتھوں لیا ،چدمبرم پر کانگریس کی تعریف کرنا یا اسے سرکار کے خلاف کامیابی کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش یہ غیر متوقعی نہیں ہے حالانکہ یہ ضمانت ہے کہ الزام سے نجات نہیں ضمانت کے بارے میں سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ مقدمہ کے سلسلے میں اپنے یا معاون ملزمان کے بارے میں نہ کوئی بیان دیں گے یا انٹریو دیں گے چدمبرم نے کہا کہ کمزور ہوتی معیشت کی کوئی فکر نہیں ہے پیاز کے دام سو کے پار ہو گئے ہیں وزیر اعظم ہر طرح کے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں بازی گیری کرنے اور جھانسہ دینے کا کام انہوںنے اپنے وزراءپر چھوڑ دیا ہے ،نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی غلطی اور ہٹ دھرمی سے دیش کی معیشت بد حال ہو گئی ہے جموں و کشمیر کے سوال پر چدمبرم نے کہا کہ میں نے بدھوار کی رات آٹھ بجے آزادی کی ہوا میں سانس لی ہے میرا پہلا نظریہ اور پراتھنا کشمیر وادی میں 75لاکھ لوگوں کے لئے تھی انہوںنے کہا کہ مودی سرکار نے اچھے دن کا وعدہ کیا تھا پچھلے چھ سہہ ماہی کے اعداد وشمار کو دیکھیں تو آٹھ فیصد سے 7,6اور 5.5اور اب گھٹ کر 4.5فیصد رہ گئی ۔کیا یہی سرکار کے اچھے دن ہیں ؟اگرسال کے آخر میں اضافی پانچ فیصد کو سرکار چھوتی ہے تو ہم اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھیں گے صنعتکار راہل بجاج کو لے کر پوچھے گئے سوال پر چدمبرم نے کہا کہ خوف ہر جگہ ہے اور خوف نے میڈیا کو بھی جکڑ لیا ہے اورلوگ سرکار کی تنقید کرنے سے ڈرتے ہیں وہیں دیش کے بڑے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اروند سبرامینم نے پانچ فیصدی شرح نمو کو لے کر خبرادار کیا تھا لیکن اب حالت اس سے بھی خراب ہے ہر بار کی طرح پی ایم مودی اس مسئلے پر چپ ہیں انہوںنے اس مسئلے پر اپنے وزراءکو جھوٹ بولنے کی چھوٹ دے دی ہے ۔جیسا کہ ماہر اقتصادیات نے کہا سابق وزیر خرانہ نے کہا کہ وزیر کے طور پر میرا ریکارڈ بالکل صاف ہے جن افسران نے میرے ساتھ کام کیا ہے جو بجنس مین میرے رابطے میں آئے ہیں اور جن صحافیوں نے مجھ سے بات کی ہے وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں اگر آپ میرے کیس سے جڑے معاملوں کو لے کر کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیں آپ کی کافی بات صاف ہو جائے گی جمعرات کو پارلیمنٹ کی اجلاس میں شامل ہونے پہنچے چدمبرم نے کہا کہ سرکار پارلیمنٹ میں ان کی آواز نہیں دبا سکتی اور میں پارلیمنٹ میں آکر خوش ہوں اور اپنی آواز اُٹھاتا رہوں گا ۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...